قومی تعلیمی پالیسی 2020 کی روشنی میں ہندستانی اور علاقائی زبانیں،ثوبان سعید

March 3, 2026 0 Comments 0 tags

اردودنیا،مارچ 2026:

قومی تعلیمی پالیسی (NEP2020 ) ہندوستانی تعلیمی نظام میں ایک بنیادی فکری اور ساختی تبدیلی کی نمائندہ ہے، جس میں زبان کو محض ذریعہ تعلیم نہیں بلکہ تہذیبی شناخت، سماجی شمولیت، فکری ارتقا اور قومی یکجہتی کاستون قراردیاگیاہے۔ پالیسی مادری زبان اور علاقائی زبانوں میں ابتدائی تعلیم، سہ لسانی فارمولے میں لچک، اعلیٰ تعلیم میں مقامی زبانوں کے استعمال، ترجمہ و تالیف کے فروغ، اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمزپرہندوستانی زبانوںمیںموادکی تیاری جیسے اقدامات پر زور دیتی ہے۔ زیر نظر مقالہ NEP2020 کے لسانی وژن کا تجزیہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس امر کی نشان دہی کرتا ہے کہ یہ پالیسی کس طرح ہندوستانی اور علاقائی زبانوں کے فروغ کے لیے نئے امکانات پیدا کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عملی نفاذ کے چیلنجز، سماجی رویے، ادارہ جاتی رکاوٹیں، اور مستقبل کی حکمت عملی پر تنقیدی نظر ڈالی گئی ہے۔ مقالہ میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اگر NEP2020کو خلوص نیت، منظم منصوبہ بندی، اور سماجی تعاون کے ساتھ نافذ کیا جائے تو ہندوستانی زبانیں تعلیمی نظام میں اپنی کھوئی ہوئی مرکزی حیثیت دوبارہ حاصل کر سکتی ہیں اور عالمی علمی منظرنامے میں موثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔
ہندوستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں لسانی تنوع غیرمعمولی حد تک وسیع ہے۔ آئین ہندکے آٹھویں شیڈول میں بائیس زبانیں شامل ہیں اوراس کے علاوہ سیکڑوں علاقائی، مقامی اور قبائلی زبانیں مختلف ریاستوں اورخطوں میں رائج ہیں۔ یہ لسانی تنوع ہندستان کی تہذیبی دولت اور اجتماعی شناخت کا اہم جزو ہے۔ اس کے باوجود نوآبادیاتی دور کے بعدسے تعلیمی اور انتظامی نظام میں انگریزی زبان کو غیر معمولی بالادستی حاصل رہی، جس کے نتیجے میں مقامی زبانیں علمی، تحقیقی اور پیشہ ورانہ میدان میں پس منظر میں چلی گئیں۔ اس رجحان نے کئی منفی اثرات مرتب کیے۔ ایک طرف تعلیمی عدم مساوات میں اضافہ ہوا کیونکہ دیہی اور پسماندہ طبقات کے بچے انگریزی زبان میں تعلیم حاصل کرنے میں دشواری محسوس کرتے تھے، دوسری طرف مقامی زبانوں میں علم کی ترویج اور اشاعت کا عمل سست پڑ گیا۔ نتیجتاً زبان اور تعلیم کے درمیان فطری رشتہ کمزور ہو گیا۔
قومی تعلیمی پالیسی 2020 اس صورت حال کو بدلنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ یہ پالیسی زبان کو محض تدریسی وسیلہ نہیں بلکہ قومی شناخت، سماجی ہم آہنگی، اور فکری خود مختاری کابنیادی عنصرقراردیتی ہے۔ اس مقالے کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ NEP2020 کس طرح ہندوستانی اور علاقائی زبانوں کے فروغ کے لیے عملی امکانات فراہم کرتی ہے، اوران امکانات کو حقیقت میں بدلنے کے لیے کن اقدامات کی ضرورت ہے۔
NEP2020 کی بنیادی روح ہندوستانی تہذیبی جڑوں سے وابستگی پر قائم ہے۔ پالیسی اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ زبان ثقافت، ادب، تاریخ اور اجتماعی یادداشت کا آئینہ دار ہوتی ہے۔ لہٰذا زبانوں کے تحفظ اور فروغ کے بغیر کسی بھی قوم کی فکری خود مختاری ممکن نہیں۔ پالیسی کے مطابق مادری زبان میں ابتدائی تعلیم بچوں کی فہم و ادراک کو بہتر بناتی ہے۔اسی طرح کثیر لسانیت ذہنی نشوونما کے لیے مفید ہے اور بچوں میں تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دیتی ہے۔ اس کے علاوہ ہندوستانی زبانوں کو اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کی زبان بنانے کی ضرورت ہے تاکہ علم کی تخلیق مقامی سطح پر ہو سکے۔ پالیسی یہ بھی تسلیم کرتی ہے کہ گذشتہ چند دہائیوں میں ہندوستان میں دو سو سے زائد زبانیں معدوم ہو چکی ہیں اور یونیسکو کے مطابق تقریباً دو سو زبانیں معدومی کے خطرے سے دوچارہیں۔ اس تناظر میں زبانوں کے تحفظ کو تہذیبی بقا کا مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔
یہ پالیسی مادری زبان میں تعلیم اور تعلیمی شمولیت کی اہمیت کی قائل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ NEP2020 کم ازکم پانچویں جماعت تک اورترجیحاً آٹھویں جماعت تک مادری زبان یا مقامی زبان کو ذریعہ تعلیم بنانے کی سفارش کرتی ہے۔ یہ سفارش تحقیقی شواہدپر مبنی ہے جو ظاہر کرتے ہیں کہ بچے اپنی مادری زبان میںزیادہ تیزی سے اور گہرائی کے ساتھ سیکھتے ہیں۔ مادری زبان میں تعلیم کے فوائد اس صورت میں سامنے آتے ہیں کہ بچوں کے اندر سیکھنے کی فطری صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے، اس کے علاوہ پیچیدہ تصورات کی بہتر تفہیم ممکن ہوپاتی ہے۔ اسکول چھوڑنے کی شرح میں کمی آنے کا امکان ہے، نیز سب سے بڑھ کر یہ ہوگا کہ اس سے تعلیمی عدم مساوات میں کمی آئے گی۔
مادری زبان میں تعلیم دینے کے اقدام سے خاص طورپردیہی اور پسماندہ طبقات کے بچوں کے لیے مثبت نتائج مرتب ہوں گے، کیوںکہ انگریزی یا ہندی میں تعلیم کی دشواری کے سبب ایسے بچے تعلیمی نظام سے کٹ جاتے ہیں۔ مادری زبان میں تعلیم ان بچوںکو تعلیمی دھارے میں واپس لانے کا موثر ذریعہ بن سکتی ہے۔
NEP2020 سہ لسانی فارمولے کو برقرار رکھتے ہوئے اس میں لچک پیدا کرنے کی وکالت کرتی ہے۔ مثال کے طور پر پالیسی کے مطابق کسی بھی ریاست پر کوئی زبان مسلط نہیں کی جائے گی۔ اس کے علاوہ طلبہ کو کم از کم دوہندوستانی زبانیں سیکھنے کی ترغیب دی جائے گی۔ طلبہ کو جماعت ششم یا ہفتم میں زبان تبدیل کرنے کی آزادی ہوگی بشرطیکہ وہ تین زبانوں میں بنیادی مہارت حاصل کر لیں۔ اس لچک کا فائدہ اس طرح سے مرتب ہوگا کہ ہندوستان کے وفاقی ڈھانچے اورلسانی حساسیت کے پیش نظر مثبت فکر میں اضافہ ہوگا، اور زبانوں کی سیاست پر قابو پانے میں یہ اقدام مفید ہوگا، اس سے نہ صرف علاقائی زبانوں کو فروغ ملے گا بلکہ قومی یک جہتی بھی مضبوط ہوگی۔
پرائمری اور ثانوی تعلیم کے ساتھ ساتھ NEP2020 اعلیٰ تعلیم میں مادری اور علاقائی زبانوں کے استعمال کی بھرپور حمایت کرتی ہے۔ پالیسی دستاویز میں اس امر کو یقینی بنانے کی کوشش نظر آتی ہے کہ جامعات میں مادری یا علاقائی زبان میں تعلیم دینے کے لیے ذو لسانی پروگرام متعارف کرائے جائیں گے۔ نجی تعلیمی اداروں کو بھی ہندوستانی زبانوں میں تعلیم دینے کی ترغیب دی جائے گی۔ اسی طرح سائنس اور ریاضی کے مضامین کے لیے معیاری ذولسانی نصابی مواد تیار کیا جائے گا۔ یہ اقدامات خاص طور پر ان طلبہ کے لیے مفید ہوں گے جو انگریزی زبان کی کمزوری کے سبب اعلیٰ تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ اقدامات علم کی مقامی تخلیق کو فروغ دے سکتے ہیں۔
پالیسی میں ترجمہ و تالیف کے فروغ پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔ اس کے تحت مختلف ہندوستانی زبانوں میں معیاری نصابی کتب کی تیاری کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ عالمی ادب اور سائنسی مواد کا مقامی زبانوں میں ترجمہ کرنے کا نظم دیا گیا ہے۔ اس بات پر خاص طور سے زور دیا گیا ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ہندوستانی زبانوں میں تعلیمی مواد کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ ان اقدامات پر اگر کامیابی کے ساتھ عمل درآمد ممکن ہوسکا تو اس سے ہندوستانی زبانوں کو جدید علمی میدان میں داخل ہونے کے امکانات مزید روشن ہوں گے، نیزڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال سے ہندوستانی زبانوں میں علم کی ترسیل تیز اور وسیع ہو سکتی ہے۔
NEP2020 زبان کو ثقافت سے جدا نہیں کرتی بلکہ دونوں کو لازم و ملزوم قرار دیتی ہے۔ پالیسی سازوں نے اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی ہے کہ فنونِ لطیفہ اور ادب کو نصاب کا حصہ بنایا جائے گا۔ علاقائی زبان وثقافت کو فروغ دینے کے لیے مقامی فنکاروں اور ادیبوں کوماسٹر انسٹرکٹر کے طور پر تعینات کیا جائے گا۔ ہر تعلیمی ادارے میں آرٹسٹ اِن ریزیڈنس کا تصور اپنایا جائے گا۔ یہ اقدامات زبانوں کو عملی زندگی اور تہذیبی وراثت سے جوڑنے میں مدد دیں گے اور طلبہ میں ثقافتی خود اعتمادی کو فروغ دیں گے۔
NEP2020 کے تحت ہندوستانی اور علاقائی زبانوں کے فروغ کے لیے جو عملی امکانات نظر آتے ہیں، ان میں مادری زبان میں ابتدائی تعلیم کے ذریعے تعلیمی شمولیت میں اضافہ، اعلیٰ تعلیم میں ذو لسانی پروگراموں کا آغاز، ترجمہ و تالیف کے قومی مراکز کا قیام، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ہندوستانی زبانوں میں مواد کی دستیابی نیز علاقائی ادب اور ثقافت کو نصاب کا حصہ بنانا؛ جیسے عناصر شامل ہوں گے۔ یہ امکانات ہندوستانی زبانوں کو تعلیمی نظام کے مرکز میں واپس لانے میں مدد دے سکتے ہیں۔
ایسا نہیں ہے کہ قومی تعلیمی پالیسی میں امکانات ہی امکانات ہوں۔ اس میں اگرچہ امکانات روشن ہیں، لیکن عملی نفاذ میں کئی رکاوٹیں بھی ہیں۔ جن میں چند کا سرسری ذکر یہاں کیا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر معیاری اساتذہ کی کمی، ہندوستانی زبانوں میں سائنسی اصطلاحات کافقدان، والدین کی انگریزی نواز ذہنیت، نصابی مواد کی تیاری میں تاخیر نیز ریاستی حکومتوں کے درمیان ہم آہنگی کی کمی کا احساس ہوتا ہے۔ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے منظم منصوبہ بندی اور سرکاری و نجی شعبے کے اشتراک کی ضرورت ہے۔
اگرچہ NEP2020 ایک جامع لسانی وژن پیش کرتی ہے، مگر اس کی کامیابی کا انحصار عملی نفاذ پر ہے۔ ہندوستان میں انگریزی زبان کو سماجی حیثیت اور معاشی ترقی سے جوڑنے کی ذہنیت آج بھی مضبوط ہے۔ اس ذہنیت کو بدلنے کے لیے شعور بیداری مہمات، میڈیا کے ذریعے مثبت بیانیہ، اور تعلیمی اداروں میں مقامی زبانوں کے وقار کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی ریاستی حکومتوں کو اساتذہ کی تربیت، نصابی مواد کی تیاری، اور ترجمہ و تالیف کے مراکز کے قیام پر خاطر خواہ سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اس عمل میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ آن لائن کورسز، ای- کتب، اور تعلیمی ایپس کے ذریعے ہندوستانی زبانوں میں علم کی ترسیل کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
اس طرح اگر دیکھا جائے تو قومی تعلیمی پالیسی 2020 ہندوستانی اور علاقائی زبانوں کے فروغ کے لیے ایک تاریخی موقع فراہم کرتی ہے۔ اگر اس پالیسی کو خلوص نیت، منظم منصوبہ بندی، اور سماجی تعاون کے ساتھ نافذ کیا جائے تو ہندوستانی زبانیں نہ صرف تعلیمی نظام میں اپنی مرکزی حیثیت بحال کر سکتی ہیں بلکہ عالمی علمی منظرنامے میں بھی اپنا مقام بنا سکتی ہیں۔

Prof. Sauban Sayeed
Khawaja Moinuddin Chisti Language University
Lucknow (U.P)
Mob.:9411827716
E-mail: saubansayeed@kmclu.ac.in

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

پنج کوش فلسفہ اور ہمہ جہتی تعلیم: قدیم ہندوستانی حکمت کی عصری معنویت،مضمون نگار:پروفیسر نوشاد حسین

اردودنیا،مارچ 2026: تعلیم کا بنیادی مقصد صرف معلومات فراہم کرنا نہیں بلکہ انسان کی ہمہ جہت نشوونما اور اس کی فکری، اخلاقی اور روحانی تربیت ہے۔ حقیقی تعلیم وہ ہے

شمولیاتی تعلیم کی روشن دنیا،مضمون نگار: مظفر اسلام

اردو دنیا،دسمبر 2025 تعلیم انسانی ترقی اور سماجی انصاف کی سب سے بڑی بنیاد ہے۔ یہ نہ صرف فرد کی شخصیت کو نکھارتی ہے بلکہ ایک مہذب، روشن خیال اور

قومی تعلیمی پالیسی اور مادری زبان،مضمون نگار: ا یاز احمدخان

اردو دنیا،مارچ 2026: تعلیمی پالیسی کسی بھی قوم کی فکری، سماجی اور معاشی ترقی کی بنیاد ہوا کرتی ہے، جو اس بات کا تعیّن کرتی ہے کہ علم کو دوسرے