اردو دنیا،اپریل 2026:
یادش بخیر، 1987/88 کا زمانہ تھا۔ میں ان دنوں خدا بخش لائبریری میں بحیثیت ریسرچ فیلو لائبریری کے گیسٹ ہاؤس میں شعائر اللہ صاحب (رامپور) کے ہمراہ ایک کمرہ میں مقیم تھا۔اس گیسٹ ہاؤس میں باہر سے آنے والے اسکالرس کا اکثر قیام رہتا اور ہم لوگوں کو ان سے ملاقات اور گفتگو کا موقع ملتا۔وامق جونپوری،کیف بھوپالی، کلیم سہسرامی اور دیگر مشاہیرسے ملاقاتیں اور باتیں ہوتیں۔ان ہی دنوں پتہ چلا کہ امروہہ سے توفیق صاحب آنے والے ہیں۔ صبح ہی ان سے گیسٹ ہاؤس میں ملاقات ہو گئی۔ درمیانہ قد،قدرے فربہ بدن،گندمی رنگ،روشن چہرہ اور آنکھوں میں تلاش و جستجو کی چمک،ٹوپی ،قمیص پائجامہ میں ملبوس۔ یہ تھے توفیق احمد چشتی صاحب، بڑے تپاک سے ملے۔سلام و دعا کے بعد ہم رخصت ہوکر لائبریری کی تیاری میں مشغول ہو گئے۔کینٹین میں ناشتہ کے درمیان انھیں بھی تلاش کیا تو کیمپس میں موجود نہیں تھے۔چند گھنٹوں بعد ملے ۔ دریافت کرنے پر فرمایا کہ میں آپ کے شہر میں نوادر کی تلاش میںگھوم رہا تھا ۔آپ کے شہر کی خاک سے دو نواد ر نکال لایا ہوں۔ان میں ایک شاہی فرمان تھا اور دوسرا ایک تانبے کا کٹورا۔ہم اسے حیرت سے دیکھ رہے تھے۔ جب اس کی قیمت بتائی تو اور حیرت ہوئی۔توفیق صاحب اسے بھانپ گئے۔برتن میں پانی منگواکر انھوں نے فرامین کو ڈبو دیا اور چند منٹ بعد اسے واپس نکال کر فرمایا دیکھیے یہ مغلیہ فرمان ہے اور اسکی خوبی یہ ہے کہ اس سیاہی پر پانی اثر انداز نہیں ہوتا۔تانبے کے کٹورے کی خصوصیت یہ بتائی کہ اس پر کندہ عبارت سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اسے شاہ عالم ثانی کی تاج پوشی کے وقت بادشاہ کی نذر کیا گیا تھا۔یہ کٹورا انھوں نے ایک حلوائی سے حاصل کیا تھا۔یہ تھی میری توفیق صاحب سے پہلی ملاقات۔
توفیق صاحب 11؍دسمبر 1940کو امروہہ کے محلہ بساون گنج میں پیدا ہوئے اور 9؍اگست 2016کو ان کی کتاب زندگی مکمل ہوگئی۔درگاہ شاہ ولایت ان کی آخری آرام گاہ ہے۔
ابتدائی تعلیم والدہ کی سرپرستی میں گھرپر ہوئی۔ اس کے بعدکی تعلیم مرکز تعلیم اسکول میں حاصل کی اورپھر آئی۔ایم انٹر کالج میں زیر تعلیم رہے۔ انھوں نے آبائی پیشہ کاشت کاری سے ہٹ کر علمی کاروبار میں قدم رکھا ۔امروہہ میں 10؍اپریل 1959میں نیشنل بک ڈپو کے نام سے ایک ادارہ امرو ہہ کے گذری بازار میں قائم کیا جو ان کی کوششوں سے نوادرات کا ایک اہم مرکز بن گیا ہے۔ ہندوستان کے کتب خانے، میوزیم ان سے رجوع کر کے نوادر ات خریدتے اور اپنے ادارے کو ثروت مند بناتے۔اس کے علاوہ اساتذہ اور ریسرچ اسکالرز بھی ان کے ادارے میں آکر نہ صرف کتابیں خریدتے بلکہ معلومات بھی حاصل کرتے تھے۔نیشنل بک ڈپو مخطوطات اور مطبوعات کے خزانے کے ساتھ علمی مرکز بھی تھا۔ڈاکٹر شعائر اللہ خاں (رامپور) نے اسے روہیل کھنڈ میں مراجع کا سب سے عمدہ ذخیرہ بتایا ہے۔علامہ عبدالعزیز میمن نے افادات میمنی میں (اردو نامہ،ترقی اردو بورڈ ، کراچی، شمارہ 31/41، 1970 /1966) ایسے ہی ایک کتب فروش کا ذکر کیا ہے۔ انھوں نے بیان کیا ہے کہ دمشق میں احمد عبید کا مکتبہ تھا جو کتب فروشی کے ساتھ اہل علم کی ضرورتیں بھی پوری کرتا تھا۔
نیشنل آرکائیوز والے توفیق صاحب کے خصوصی خریدار تھے۔ ان کے فروخت کیے گئے ایک ذخیرہ کا تعارف کراتے ہوئے جاتی رام گپتا نے ایک مضمون Printed Papers: Taufiq Ahmad Chishti Collectionsکے عنوان سے تحریر کیا تھا جو نیشنل آرکائیوز کے رسالے Indian Archives میں شائع ہوا تھا۔گپتا صاحب لکھتے ہیں کہ:
” Its consists of 155 documents in persian and Urdu.covering the period of 1684-1922 A.d.Most of the documents are attested and bear seals. It throws a flood of light on the political ,social and economic conditions obtaining in Uttar Pradesh”(July-Dec 1972 , P41-42)
ان کا کام چونکہ نوادر و مخطوطات کی خرید و فروخت کا تھا لہٰذا جب لائبریری آتے تو ملاقات ہوتی۔گفتگو سے اندازہ ہوا کہ مخطوطات اور نوادر پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ گھوم گھوم کرعلم کے موتی تلاش کرتے اور کتب خانوں اور عجائب خانوں کے ہاتھوں فروخت کر دیتے۔ اس طرح یہ اثاثہ محفوظ ہو جاتا۔ توفیق صاحب کے لیے یہ کاروبار ہی نہیں ایک مشن بھی تھا۔لہذا اس مشن میں جب مخطوطات یادستاویزات ہاتھ آتے تو لائبریری کو مطلع کرتے یا خود تشریف لاتے۔ مخطوطات کی خصوصیات پر ایک جامع نوٹ ضرور تحریر کرتے۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کی انھوں نے اس پر کتنی تحقیق کی ہے۔مثلاً مثنوی عرفان بیدل(مرزا عبدالقادر بیدل) پران کا نوٹ ملاحظہ ہو:
’’ مثنوی عرفان بیدل 1130ھ کا مکتوبہ ہے۔ لیکن حوض کی تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نسخہ 1130ھ سے قبل کتابت کیا گیا ہے۔مرزا عبدالقادر بیدل کا سال وفات 1133ھ ہے۔ مرزا عبدالقادر بیدل کی صرف افغانستان ویب سائٹس پر ایک تصویر ہے۔اس کے علاوہ دوسری تصویرہمارے نسخہ میں موجود ہے۔‘‘
توفیق صاحب نے2007میں والیان بھوپال کی خط و کتابت کاتاریخی موادحاصل کیا تھا جس میں بیگمات بھوپال، سید سلیمان ندوی،لارڈ کرزن اور نواب حمید اللہ خاں وغیرہ کے خطوط شامل تھے۔ان دستاویزات کی تحقیق کے بعد انھوں نے اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ بھوپال پر لکھی گئی تاریخوں (تاریخ ریاست بھوپال، داستان بھوپال) میں ان دستاویزات کا ذکر موجود نہیں ۔لہٰذا تواریخ بھوپال ان دساویزات کی روشنی میں ناقص رہ جاتی ہیں۔ان میں پروانہ جات و دیگر خطوط کا کوئی بھی ذکر نہیں۔
’’ قاطع برہان بخط غالب‘ کا نسخہ انھوں نے حیدر آباد سے 2013میں دریافت کیا تھا۔ان دنوں پٹنہ آئے تو اس نسخے کی مجھ کو بھی زیارت کرائی تھی۔ انھوں نے تذکرہ سرور (فارسی)کا ایک مخطوطہ بھی دریافت کیا تھا جو دو سو سال پرانا تھا۔توفیق صاحب نے اسے کانپور کے ایک غیر مسلم سے خطیر رقم کی ادائیگی کے بعد خریدا تھا۔ راجہ ناگ بھٹ(828) کی تانبے پر لکھی ہوئی دستاویز سنبھل سے کھوج نکالی جس سے سنبھل اور گنّور کی قدیم تاریخ پر روشنی پڑتی ہے۔ان کے حاصل کردہ نوادرات نیشنل میوزیم ،نئی دہلی،نیشنل آرکائیوز،الہ آ باد میوزیم ، خدا بخش لائبریری وغیرہ میں محفوظ ہیں۔
توفیق صاحب نے یوں تو کئی نوادرمخطوطات خرید و فروخت کیے مگر جس مخطوطے کی دریافت سے شہرت حاصل ہوئی وہ ’’ دیوان غالب بخط غالب ‘‘ تھا۔ غالب صدی (1969) کے موقع پر جس کی دریافت کا اعلان کیا گیاتھا۔ اس نسخے کو انھوں نے بھوپال سے دریافت کیا ۔اس سلسلہ میں بی بی سی کے مشہور براڈ کاسٹررضا علی عابدی انکا انٹرویو لینے امروہہ تشریف لائے تھے۔یہ انٹرویو بی ۔بی۔سی سے نشر کیا گیا اور پھر کتب خانہ کے نام سے شائع بھی ہوا۔توفیق صاحب نے اس کی جو تفصیل بیان کی ہے وہ درج ذیل ہے:
’’ایک مخطوطہ نسخہ غالب بہ خط غالب 5اپریل 1969کومیںنے بھوپال سے گیارہ روپے کا خرید کیا تھا۔میں یہاں سے تقریبا سات آٹھ ہزار روپے کی پونجی لے کر بھوپال گیا وہاں جانے کے بعد وہاں کے کباڑیوں سے میری ملاقات ہوئی ایک کباڑی نے مجھ سے کہا کہ ہم آپ کو کتاب دلوائیں گے وہاں ایک پرانی کتابوں کا کاوباری ملا اس نے ہم کو اپنی کتابیں دکھائیں جب اس نے الماری کھولی تو بہت سی کتابیں تھیںدیوان غالب بھی نکلا اب ہم نے سب سے پہلے دیوان غالب پر ہاتھ نہیں رکھا بلکہ ہر کتاب کے بارے میں پوچھتے چلے گئے۔ یہ ہمارا تجارتی گر تھا اور آخر میں ہم نے ان سے پوچھا کہ اس کتاب کی کیا قیمت مانگتے ہیں۔ انھوں نے اولاًپچیس روپے طلب کیے۔ ہوتے ہوتے دس روپے پر سودا ہوا اور ایک روپیہ انھوں نے اور لیا ہم سے (کتب خانہ۔رضا علی عابدی)
اس نسخے کی اہمیت کے پیش نظر انھوں نے درج ذیل اشتہاردہلی کے ایک اردو روزنامہ میں ۷؍ اپریل 1969کو شائع کیا۔
’’ہر خاص و عام کو اور حکومت بہار، خصوصا حاجی عبدالحمید صاحب ، مالک ہمدرد دواخانہ دہلی اور وہ ادارے جو غالب کے لٹریچر یا اس کی تحریر سے دلچسپی رکھتے ہوں یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ میرے پاس مرزا غالب کی خودنوشت بیاض ،غیر مطبوعہ موجود ہے ۔اس کی خریداری کے لیے مجھ سے ملیں یا خط و کتابت کریں
نوٹ :اس بیاض کی قیمت کم سے کم چھ ہزار روپے ہوگی ۔‘‘
1969میں غالب کی صد سالہ تقریبات منائی جارہی تھی۔یہ اطلاع عام ہوتے ہی دھوم مچ گئی۔غالبیات کے ماہرین متوجہ ہوئے۔پروفیسر غلام رسول مہر نے نقوش(لاہور) کے غالب نمبر میں لکھا ہے کہ جو نسخہ پہلے مالک کے نزدیک محض پتھر کا ایک ٹکڑا تھا وہ دوسرے مالک کے ہاتھوں میں پہنچتے ہی کوہ نور بن گیا کیوں کہ وہ جوہری تھا یا جو جوہری ثابت ہوا۔پروفیسر نثار احمد فاروقی نے اس دریافت کے سلسلہ میںتحریر کیا ہے کہ
’’اس دریافت کے سلسلہ میں مجھے صرف یہ کہنا ہے کہ توفیق احمد صاحب نے اسے گوشہ گمنامی سے نکال کر اردو ادب پر عموماً اور غالب شناسوں پر خصوصاً عظیم احسان کیا ہے‘‘
یہ نسخہ امتیاز علی عرشی اور ان کے صاحبزادے عرشی زادہ تک پہنچا۔اوردیوان غالب نسخہ عرشی کے نام سے شائع ہو گیا ۔مگراس کے بعد یہ نسخہ پر اسرار طور پر ایک بار پھر دریافت ہونے کے لیے گم ہوگیا۔اس کی پوری تفصیل رضا علی عابدی کی کتاب ’’ کتب خانہ‘‘میں بعنوان ــ’’غالب کوئے ملامت میں‘‘ درج ہے ۔جسے پڑھ کر حیرت بھی ہوتی ہے اور عبرت بھی۔
نوادر کی تلاش میں جب بہار کا سفر ہوتا تو پٹنہ آتے پھر یہاں سے دوسری جگہ کا سفر کرتے۔فون سے آنے کی اطلاع دیتے ۔ ملنے جاتا تو حاصل کیے گئے مخطوطات دکھاتے اور اس کی اہمیت بتاتے۔نوادر ات کے حصول کے لیے آنے سے قبل مقامی اردو اخبارات میں اشتہارات دے کر ذاتی ذخیرے کے مالک کو متوجہ کرتے۔مجھ سے بھی دریافت کرتے۔ہمارے برادر عم سید آفتاب حسنین صاحب(گیا) کے پاس قرآن کا ایک قدیم قلمی نسخہ موجود تھا۔ حسنین بھیّا اس کی حفاظت کے سلسلہ میں فکر مند رہتے تھے۔ انھیں یہ خدشہ تھا کہ کہیں یہ ضائع نہ ہو جائے۔مجھ سے اس کی حفاظت اوراس کی اہمیت کے بارے میں بات ہوتی رہتی تھی۔میں نے اس کا تذکرہ توفیق صاحب سے کیا تو وہ گیا پہنچ گئے۔ قرآن کا نسخہ دیکھنے کے بعد انھوں نے خریداری کے لیے پیش کش بھی کی تھی مگربات طے نہ ہوپائی۔
توفیق صاحب کتابوں کے تاجر کے ساتھ صاحب تصنیف بھی تھے۔قاضی نور اللہ شوشتری کی تجاہل عارفانہ اور’’حضرت سید شاہ شرف الدین حسن سہروردی واسطی کی مذہب سنی حنفی ‘‘ ان کی مطبوعہ کتابیں ہیں۔ان کے علاوہ دو کتابیں’’ صوفیہ کادشمن کون ‘‘ اور ’’اقوام ہندوستان کا ایک غائر مطالعہ‘‘ زیر ترتیب تھیں(بحوالہ معارف اعظم گڑھ ستمبر 2016)۔
توفیق صاحب کو ان کی علمی خدمات کی بنا پر ’’گوجر رتن‘‘ــ ’’مینار علم‘‘اور’’ امروہہ گورو‘‘ سے نوازا جاچکا ہے۔ 1998 میں سابق وزیر اعظم چندر شیکھرکے ہاتھوں قومی ایوارڈ سے نوازے گئے۔
اس میدان میں مخطوطات و نوادر کے کاروباری تو آپ کو مل جائیں گے مگر ان جیسا صاحب نظر کم ملے گا۔ان کے قائم کردہ ادارے کی ذمہ داری اب ان کے صاحب زادوں پر آن پڑی ہے۔ ان کے ۲،۳ صاحبزادوں سے میری ملاقات رہی ہے۔ان میں انوار صمدانی توفیق صاحب کے ساتھ کئی بارپٹنہ تشریف لائے۔ انھیں مخطوطہ شنا سی کا ذوق وراثت میں ملا ہے۔
انوار صمدانی صاحب نے مخطوطہ کو بنیاد بناکر کئی مضمون تحریر کیے ہیں۔ان میں ’’دکھنی اردو کا گوہر آبدار مخطوطہ خزانہ عبادت ( معارف ،اعظم گڑھ جنوری 2015) ’’اصغر گونڈوی اور ان کا غیر مطبوعہ کلام ( معارف، اعظم گڑھ ،ستمبر 2013) قاطع برہان بخط غالب (معارف ، اعظم گڑھ اگست 2013 ) قابل ذکر ہیں۔ قاطع برہان میں انھوں نے غالب کی تحریرکے سلسلہ میں جو تحقیق کی ہے وہ قابل تعریف ہے۔ انھوں نے مخطوطہ کے طرز املا کی روشنی میں یہ ثابت کیا ہے کہ یہ نسخہ بخط غالب ہے۔ان کے اس نتیجہ کی تائید پروفیسر شریف حسین قاسمی اور خلیق انجم نے بھی کی ہے۔مطالعہ غالب کے سلسلہ میں یہ دریافت یقیناً بیش قیمت اضافہ ہوگی۔ انھوں نے بھوپال سے بدایوں کے صوفیا کا ایک غیر مطبوعہ تذکرہ ’’طبقات الاولیا فی مدینتہ الاولیا مصنف شیخ سعدالدین بصیر(م 1221ھ) بھی دریافت کیا تھا۔اس مخطوطہ پر ان کا تفصیلی مضمون فکر و تحقیق(نئی دہلی) 2019 میں شائع ہو چکا ہے نیز اس کا فارسی ترجمہ ایران کے رسالہ بساتین میں بھی طبع ہوا ہے۔
توفیق صاحب نے اپنی پوری زندگی علم کے موتی تلاش کرنے میں وقف کردی تھی۔وہ اس کام میں مشن کے طور پر لگے رہے۔ان کے انتقال کے بعد ہم ہی نہیں ان کی دریافت شدہ مخطوطات بھی سوگوار ہوں گے کہ ان کا غم گسار چلا گیا۔
توفیق صاحب کے انتقال کے بعداب ان کی علمی وراثت کو انوار صمدانی صاحب سنبھالے ہوئے ہیں۔جوتوفیق صاحب کے تربیت یافتہ ہیں اور جے این یو سے تعلیم یافتہ بھی۔ آج بھی مخطوطات اور قدیم مطبوعات کے متلاشی ان سے مستفید ہوتے رہتے ہیں۔
Dr.Syed Masood Hasan
603-B, Tower C,Aligarh Green Apptt
Manzoor Garhi Bypass Road
Aligarh-202122
Mob: 9430245803