تلخیص
دراصل غالب کی’ عصری معنویت ‘کی تفہیم و تعبیر کے لیے غالب کے دور اور عہد حاضر کو ایک صفحے پر رکھ کر غالب کی نئی قرات لازمی ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ غالب، اٹھارہویں،انیسویں صدی میں اردو دنیا کے ’نشاۃالثانیہ‘ کی پیداوارتھے۔ غالب نے مغلیہ سلطنت کے زوال اور برطانوی نو آبادیاتی (Neo Colonial) حکومت کے عروج کے دوران زندگی گزاری۔ اس لیے ان کی شخصیت اور شاعری میں تشکیک اور کنفیوزن ’ہر چند کہیں کہ ’ہے ‘،نہیں ’ہے ‘ کی جو کیفیت پیدا ہوئی،موت سے پہلے تک وہ اس سے نجات نہیں پا سکے
دراصل ’تفہیم غالب‘ کے باب میں، غالب کے جیتے جی ہی یہ تاثر قائم کردیا گیا تھا کہ غالب کا اردو کلام، فکر کے اعتبار سے پیچیدہ اور اسلوب کے لحاظ سے غیر مانوس اور دور ازکار ہے۔ کسی ستم گر نے یہ بھی کہا تھا کہ ؎
کلام میر سمجھے اور زبان میرزا سمجھے
مگر ان کا کہا یہ آپ سمجھیں یا خدا سمجھے
اور خود غالب بھی گرچہ یہ تسلیم کرنے لگے تھے کہ ان کا کلام مشکل ہے لیکن پھر بھی وہ اپنا انداز بیاں بدلنے پر راضی نہ ہوئے اور حاسدوں کو جواب دیا ؎
نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا
گر نہیں ہیں مرے اشعارمیں معنی نہ سہی
اور پھر اسی مشکل پسندی کو متاع ہنر قرار دیتے ہوئے حاسدوں کا منہ یہ کہہ کر بند کردیا کہ ؎
حسد سزائے کمال سخن ہے کیا کیجیے
ستم بہائے متاع ہنر ہے کیا کہیے
دراصل غالب کے یہاں مشکل پسندی،تشکیک، ابہام، لسانی ژولیدگی وغیرہ کے سارے معاملات کا تعلق روز مرہ کی زندگی کی طرح شاعری میں بھی روش عام سے ہٹ کر زبان کے غیر روایتی لسانی برتاؤ سے ہی ہے۔ زبان کا جیسا غیر معمولی ایجادی و اختراعی تخلیقی برتاؤ غالب کے یہاں ملتا ہے، ویسا انیس کے علاوہ کسی اور کے یہاں شاید کم ہی ملے۔ حالی، عبدالرحمن بجنوری، مجنوں،طالب کاشمیری، شمس الرحمن فاروقی، اور گوپی چند نارنگ سبھی نے غالب کے اس اختصاص کا اعتراف کیا ہے،لیکن، زبان کا غیر معمولی اور اجنبی لسانی برتاؤ، غالب کی شناخت بھی ہے اور غالب شناسی کا سب سے بڑا مسئلہ بھی۔
ہر چند کہ اردو میں غالب تنقید کے حوالے سے ہزاروں کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ پھر بھی، غالب کے حوالے سے،مختلف اور متضاد کلیوں (Statements) اور فتووں کے اژدہام کے باوجود صاف محسوس ہوتا ہے کہ’کہیں کچھ کمی ہے اور یہی احساس ناقدین کو غالب کی باز قرأت اور نئے زاویوں کی جستجو کے لیے آمادہ بھی کرتا ہے۔
کلیدی الفاظ
غالب، برطانوی نوآبادیات، نشاۃ ثانیہ، عصری معنویت، تفہیم غالب، مشکل پسندی، تشکیک، لسانی زولیدگی، لفظیاتی معنیاتی نظام، خود بینی، تعینات و تصورات، تخلیقیت، تصورات، غیریت، ذات حیات کائنات، غالب تنقید، پنشن، احساس محرومی، بازقرأت۔
————
تا ز دیوانم کہ سرمست سخن خواہد شدن
ایں مے از قحط خریداری کہن خواہد
ہوں گرمئی نشاط تصور سے نغمہ سنج
میں عندلیب گلشن ناآفریدہ ہوں
ادب’ تاریخ‘ کے آنگن میں ’کلچر ‘ کے بطن سے پیدا ہوتا ہے۔ اسی لیے کسی بھی ادبی تخلیق یا تخلیق کار کے تعین قدر کے لیے تاریخی، ثقافتی اور معاشرتی سیاقات اور فکری انسلاکات (Contexts & Discourses)کا لحاظ رکھنا از بس ضروری ہوتا ہے۔ متحدہ ہندوستان کی تاریخ اور کلچر کم و بیش پانچ ہزار برسوں پر محیط ہے۔ 1947سے قبل پاکستان کی،اور 1971سے پہلے بنگلہ دیش کی کوئی تاریخ نہ تھی لیکن ان دونوںخطوں کا بھی ایک کلچر ضرور تھا جس کی اکثر جڑیں آج بھی ہندوستان میں ہی پیوست ہیں۔ بر صغیر کے اس مشترکہ کلچر نے مختلف علاقوں اور زبانوں میں متعدد تاریخ ساز’ ادبی شخصیتیں‘ پیدا کی ہیں، ان میں غالب، سب سے منفرد ممتاز اور عظیم تصور کیے جاتے ہیں۔ دراصل آج 2025کی دہلیز تک آکر بھی، اَن گنت منفی اور مثبت، سیاسی و تہذیبی،علمی اور ادبی کروٹو ں کے باوجود متحدہ ہندوستان کی تاریخ اور کلچر کی طرح،غالب کی معنویت بھی اگر زندہ ہے تو اس وجہ سے کہ ہندوستان کی تاریخ، کلچر اور غالب تینوں کا مزاج وحدانی اور یکرخی نہیں،’تکثیری‘اور تہہ دار ہے۔اقدار و روایات اور فکر و دانش کی تہوں اور طرفوں کو جتنا کھولیں گے،ہندوستان کی تاریخ، کلچر اور غالب کی عظمت و انفراد کے اتنے ہی نت نئے نقطے اور زاویے روشن ہوتے چلے جائیں گے۔یہی متحدہ ہندوستان، ہندوستانی تاریخ و کلچر اور اردو فارسی کے غیرمعمولی شاعر غالب کی شناخت ہے جس کا اعتراف دنیا کرتی ہے۔ اسی کو غالب کی عصری معنویت کی بنیاد جانیے۔
دراصل غالب کی’ عصری معنویت ‘کی تفہیم و تعبیر کے لیے غالب کے دور اور عہد حاضر کو ایک صفحے پر رکھ کر غالب کی نئی قرات لازمی ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ غالب، اٹھارہویں،انیسویں صدی میں اردو دنیا کے ’نشاۃالثانیہ‘ کی پیداوارتھے۔ غالب نے مغلیہ سلطنت کے زوال اور برطانوی نوآبادیاتی (Neo Colonial) حکومت کے عروج کے دوران زندگی گزاری۔ اس لیے ان کی شخصیت اور شاعری میں تشکیک اور کنفیوزن ’ہر چند کہیں کہ ’ہے ‘،نہیں ’ہے ‘ کی جو کیفیت پیدا ہوئی،موت سے پہلے تک وہ اس سے نجات نہیں پا سکے ؎
ہاں کھائیو مت فریب ہستی
ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے
ایماں مجھے روکے ہے تو کھینچے ہے مجھے کفر
کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے
یہ توہم کا کارخانہ ہے
یاں وہی ہے جو اعتبار کیا
شمس الرحمن فاروقی او ر گوپی چند نارنگ دونوں ہی اگر اپنے اپنے قبیلے کی سرداری کا تاج غالب کے سر رکھنے پر اصرار کرتے ہیں تو اسی وجہ سے کہ غالب کی شاعری ہر دور کی تاریخ اور کلچر میں اپنے ہونے کا جواز رکھتی ہے۔شمس الرحمن فاروقی یہ مانتے ہیں کہ:
’’اردو شاعری پر غالب کے مسلسل بڑھتے ہوئے اثر کی زندہ مثال جدید شاعری کا ابہام ہے جو قدم قدم پر غالب کے کلام سے اپنا جواز ڈھونڈتا ہے۔استعارے کی پیچیدگی جو غالب کے کلام کی بنیادی صفت ہے، مختلف طریقوں سے اردو شاعری پر اثر انداز ہو رہی ہے،لیکن اس کا انتہائی اثر جدید شاعری پر ہی ملتا ہے۔‘‘
( شعر،غیر شعر اور نثر، ص378 )
گوپی چند نارنگ بھی ’کلاسیکیت سے جدیدیت اور مابعد جدیدیت‘ تک غالب کی جوازیت پر اصرار کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’غالب کے متن کی تعبیریں وقت کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتی ہیں۔ بجنوری کا غالب وہ نہیں ہے جسے حالی نے پڑھا تھا،اور حالی کا غالب وہ نہیں جسے شیخ محمد اکرام یا نظم طباطبائی یا سہامجددی نے پڑھا…کلاسیکیت پرستوں،اور رومانیت کے شیدائیوں کو اپنے اپنے غالب مل گئے تھے…ترقی پسندوں اور جدیدیت والوں نے بھی غالب کی اپنی اپنی تعبیریں کی تھیں،غالب نے خود کو گلشن نا آفریدہ کہا تھا ۔‘‘
(فلیپ:غالب :معنی آفرینی،جدلیاتی وضع،شونیتا اور شعریات)
دراصل اردو شاعری کی تاریخ میں، ولی، میر، سودا اور درد کے بعد غالب (27 دسمبر1797، 15 فروری1869) تک آتے آتے اردو غزل کے کلاسیکی مزاج و معیار میں ابتذال کے بھی آثار نمایاں ہوچکے تھے۔ استاد ذوق، داغ، شاہ نصیر،آتش اور ناسخ کے یہاں عمدہ شاعری کی مثالیں تو تھیں لیکن ان کی آپسی چشمک، مسابقت اور موضوعات کی یکسانیت صنائع بدائع کی بازیگری اور بعض صورتوں میں لذت پرستی کی روش کے سبب ایک طرف تو اردو غزل لسانی و فکری تقدیس و طہارت کے منصب سے محروم ہونے لگی تھی۔ وہیں دوسری جانب سیاسی، سماجی اور ثقافتی تغیرات کے سبب ہندوستانی معاشرہ اور شعرو ادب میں آفتاب تازہ کی روشنی بھی پھیلنے لگی تھی۔ خاص طور پر اس دور میں غالب نے آگے بڑھ کر جس طرح اپنے انداز بیاں کے کچھ سہل کچھ مبہم، سنگ و خشت سے اردو غزل کو جدید رنگ و آہنگ سے آراستہ کیا اس سے آج تک کے شعرا کسب فیض کر رہے ہیں۔ غالب کی غزل میں شور انگیزی کے ساتھ ساتھ مرمر کے جیے جانے کی جو حوصلہ مندی ہے وہ غالب کو اس کے عہد کی سیاسی اور ثقافتی صورت حال کی دین ہے،جو آج کی صورت حال سے بڑی مشابہت رکھتی ہے۔ واقعتاًاسد اللہ خاں کو،غالب بنانے میں ان کے عہد کی غیر یقینی صورت حال کا ہی کلیدی کردار رہا ہے ؎
گلشن میں بند و بست برنگ دگر ہے آج
قمری کا طوق، حلقۂ بیرونِ دَر ہے آج
آتا ہے ایک پارۂ دل ہر فغاں کے ساتھ
تارِ نفس، کمندِ شکارِ اثر ہے آج
اے عافیت کنارہ کر، اے انتظام چل
سیلابِ گریہ درپئے دیوار و در ہے آج
ضیاء الدین برنی نے، عالم میں انتخاب شہر دلی کو رشک بغداد، غیرت مصر، ہمسر قسطنطنیہ، اور ’موازئی بیت المقدس‘ جیسے القاب سے نوازا تھا وہی دہلی میر’ اور غالب کی آنکھوں کے سامنے ’اجڑے دیار‘ میں تبدیل ہو گئی۔
1857میں انگریزوں کے ہاتھوں دہلی کی بربادی نے غالب کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ غالب نے ان بربادیوں کی تصویریں خون دل سے کھینچی ہیں۔ غالب کا دل بھی آخر دل ہی تھا سنگ و خشت نہیں ؎
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت،درد سے بھر نہ آئے کیوں
روئیں گے ہم ہزار بار،کوئی ہمیں رلائے کیوں
اس لیے غالب بھی دل اور دہلی کا حال بیان کرنے پر مجبور ہو گئے۔ علاء الدین علائی کے نام ایک خط میں یہ قطعہ انھیں دنوں کی ٹیس ہے ؎
بس کہ فعال ما یرید ہے آج
ہر سلح شور انگلستاں کا
گھر سے بازار میں نکلتے ہوئے
زہرہ ہوتا ہے آب انساں کا
چوک جس کو کہیں وہ مقتل ہے
گھر بنا ہے نمونہ زنداں کا
شہر دہلی کا ذرہ ذرہ خاک
تشنۂ خوں ہے ہر مسلماں کا
کوئی واں سے نہ آسکے یاں تک
آدمی واں نہ جا سکے یاں کا
گاہ جل کر کیا کیے شکوہ
سوزش داغ ہائے پنہاں کا
اس طرح کے وصال سے یا رب
کیا مٹے دل سے داغ ہجراں کا
دراصل ’ برطانوی نو آبادیاتی‘ دور کی دہلی کا یہی و ہ ٹو ٹتا بکھرتا تاریخی اور ثقافتی (کلچرل ) سماجی و سیاسی اور معاشی منظر نامہ تھا جس نے اسد ا للہ خاں کو غالب بنایا۔ اور غالب نے انتشار و بحران کے اسی دور میں بڑی جرات مندی سے اپنی شاعری میں ماضی کی تہذیب کی مدح سرائی کی ’حال‘ کی تباہی و بربادی کے نوحے لکھے اور ’مستقبل کے حوالے سے امید و بیم کے ساتھ خوف اور خدشات کا اظہار بھی کیا ؎
رات دن گردش میں ہیں سات آسماں
ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا
گھر ہمارا جو نہ روتے بھی تو ویراں ہوتا
بحر گر بحر نہ ہوتا تو بیاباں ہوتا
ہوا جب غم سے یوں بے حس تو غم کیا سر کے کٹنے کا
نہ ہوتا گر جدا تن سے تو زانو پر دھرا ہوتا
مولانا شبلی نے ایرانی اور ہندوستانی (سبک ہندی) فارسی شاعری کے جن امتیازت کی نشاندہی کی ہے، بیدل کی اثر انگیزی کے سبب،ان کے آثار غالب کے ابتدائی دور کی شاعری میں ہی نمایاں ہوتے نظر آتے ہیں۔ 19سال سے کم عمر میں ہی غالب نے بیدل کی پیروی میں انھیں کو تضمین کرتے ہوئے پوری غزل کہہ ڈالی تھی اور آہنگ بیدل کے تتبع کا اعتراف کیا تھا، چار شعر دیکھ لیں ؎
قطع سفر ہستی و آرام فنا ہیچ
رفتار نہیں بیشتر از لغزش پا ہیچ
حیرت ہمہ اسرار پہ مجبور خموشی
ہستی نہیں جز بستن پیمان وفا ہیچ
گلزار دمیدن شررستان رمیدن
فرصت تپش و حوصلئہ نشوونما ہیچ
آہنگ اسد میں نہیں جز نغمۂ بیدل
عالم ہمہ افسانۂ ما دارد و ما ہیچ
3.4.25
اس کے علاوہ غالب نے فارسی کے ساتھ اردو کے رشتے کو تازہ دم کرنے کے لیے نت نئی تشبیہات و استعارات وضع کرکے جو نیا ’انداز بیاں ‘ایجاد کیا، وہ اردو شاعری اور شعریات میں بیش بہا اضافے کا حکم رکھتا ہے۔ لیکن اسی یقین کے اندرون سے یہ سوال بھی باہر آتا ہے کہ آج اکیسویں صدی کی تیسری دہائی میں مرزا ا غالب کی عصری معنویت کی دلیل کیا ہے؟۔ اس سوال پر کئی پہلوؤں سے گفتگو ہو رہی ہے،ہوتی رہے گی۔ ’’ تا قیامت کھلا ہے باب سخن‘ ‘۔
یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ غالب کا ہر عمدہ شعر محض کسی ایک زمانہ اور وحدانی معنی و مفہوم تک محدود نہیں ہوتا،بلکہ ہر زمانے میں نئی فکریات اور علمیات (Episteme) کے تناظرمیںمختلف ذہن اور ذوق کے حامل قارئین اور ناقدین کی شعر فہمی کا امتحان لیتا رہتا ہے، انھیں متحیر اور متحرک کرتا رہتا ہے بلکہ علامہ اقبال سے قطع نظر، غالب کی ہی شاعری ہے،جو آج اکیسویں صدی کی تیسری دہائی کے مخدوش ماحول معاشرہ میں بھی کسی بھی قماش کے انسان کے ساتھ چلنے کی قوت رکھتی ہے۔ زندگی جینے کے عمل میں جب کبھی کوئی مشکل مرحلہ آتا ہے،غالب کا کوئی نہ کوئی شعر ہمارا ہاتھ تھام لیتا ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ دو سوا دو سو برس گزر جانے کے بعد بھی اگر غالب پورے شاعرانہ جاہ و جلال کے ساتھ، دنیا بھر کی مختلف زبانوں اور تہذیبوں کے بڑے سے بڑے قلم کاروں کا ’ہم عصر‘ (Contemporary) بلکہ اکثر’میر کارواں ‘ثابت ہوتا ہے، تو یہ کوئی تعجب کی بات بھی نہیں۔ اس لیے کہ’ غالبیات ‘ میں ایسا بہت کچھ ہے جو ہر نئے دور میں انسانی زندگی کے بہت سارے گوشوں اور زاویوں کو مس کرتا ہے، جو غالب کے عہد میں بھی ’غیر تھا اور غیاب میں تھا۔
میر نے بھی اپنی ذات،زندگی اور زمانے کے درد و غم جمع کرکے ہی اپنا دیوان مرتب کیا تھا لیکن اس کے لیے میر نے الفاظ و تراکیب، تشبیہات و استعارات کے نادر و نایاب اظہار و بیان کا جو ایک منفرد اسلوب ایجاد کیا تھا،غالب بھی اس کے معترف تھے ؎
شاعری کے تمھیں استاد نہیں ہو غالب
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا
میر تقی میر کی شاعرانہ عظمت کے گواہ اس کی طبیعت کی روانی، بیان کی سلاست، مضامین کی صداقت، اور لب و لہجے کی متانت وغیرہ ہیں۔ میر نے جن کلیدی الفاظ و تراکیب کے وسیلے سے اپنی شاعری کو نایاب و کمیاب بنایا ہے ان میں سے چند ایک اس طرح ہیں۔ خرابہ، دیوار و در، جام خوں، تاج و تخت، بلائے دہر، جور و جفا، ویرانی، نگر، جام خوں، دیر و حرم، دشت و میداں،شیخ و برہمن، حشر، قیامت، مہہ وخورشید،آئینہ،بوئے خوں ۔۔۔۔۔وغیرہ۔ اسی طرح غالب کے انفراد و امتیاز کی عمارت بھی اصلاً ان کی نادر و نایاب تشبیہات و استعارات پر ہی ہے۔کیا عجب کہ غالب نے اس بنا پر بھی میر کی استادی کا اعتراف کیا ہو۔ شیخ محمد اکرام، مولانا حالی، مجنوں گورکھپوری، عبدالرحمن بجنوری سے لے کر شمس الرحمن فاروقی، گوپی چند نارنگ، مشکور حسین یاد اور وہاب اشرفی وغیرہ نے اپنی غالب شناسی کے مرکز میں غالب کی تشبیہ و استعارہ نگاری کو لازماً رکھا ہے۔
لیکن غالب نے زندگی اور زمانے کی ’غیریت ‘ کے پردے ہٹانے کی غرض سے اپنی اردو شاعری میں زباں سازی، تشبیہ و استعار ہ کی ایجاد و اختراع سے کام لے کر مضمون ومعنی آفرینی کا جو اجتہادی رویہ اختیار کیا، وہ اردو شاعروں میں غالب کا انفراد و امتیاز نمایاں کرنے کے لیے کافی تو ہے لیکن پھر بھی غالب کا کلام آج کے ناقدین سے یہ مطالبہ کرتاہے کہ’ ’کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے۔‘‘شمس الرحمن فاروقی اور گوپی چند نارنگ کی رحلت کے بعد، اردو تنقید کے سامنے آج یہ سوال کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے کہ ’’غالب کے یہاں وہ کون سی شئے ہے جو اس کے شعر کی قرات یا سماعت کے ساتھ ہی نور کے تڑکے کی طرح نمودار ہوتی ہے اور ہوش و خرد،قلب و جگر شکار کر لیتی ہے ؟ وہ کیسا تیر ہے جو نشانے پر تو بیٹھتا ہے لیکن جگر کے پار نہیں ہوتا اور( بڑے سے بڑے سخن فہم کے اندر ایک ’خلش سی باقی رہ جاتی ہے، یہی خلش غالب شناسی کی محرک (Motivation) ہے جو نقاد کو معنی و مفہوم، کیفیت و تاثر کی جستجو میں غالب کے اشعار کے ’غیاب‘، یعنی ’دشت امکاں‘ کی طرف قدم بڑھانے کا جواز پیدا کرتی رہتی ہے۔
دراصل ’تفہیم غالب‘ کے باب میں، غالب کے جیتے جی ہی یہ تاثر قائم کردیا گیا تھا کہ غالب کا اردو کلام، فکر کے اعتبار سے پیچیدہ اور اسلوب کے لحاظ سے غیر مانوس اور دور ازکار ہے۔ کسی ستم گر نے یہ بھی کہا تھا کہ ؎
کلام میر سمجھے اور زبان میرزا سمجھے
مگر ان کا کہا یہ آپ سمجھیں یا خدا سمجھے
اور خود غالب بھی گرچہ یہ تسلیم کرنے لگے تھے کہ ان کا کلام مشکل ہے لیکن پھر بھی وہ اپنا انداز بیاں بدلنے پر راضی نہ ہوئے اور حاسدوں کو جواب دیا ؎
نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا
گر نہیں ہیں مرے اشعارمیں معنی نہ سہی
اور پھر اسی مشکل پسندی کو متاع ہنر قرار دیتے ہوئے حاسدوں کا منہ یہ کہہ کر بند کردیا کہ ؎
حسد سزائے کمال سخن ہے کیا کیجیے
ستم بہائے متاع ہنر ہے کیا کہیے
چنانچہ اب تک اردو میں غالب پر ہزاروں کتابیں لکھی جا چکی ہیں،اور ہنوز لکھی جا رہی ہیں۔ جن میں غالب کے امتیازات کا ہر پہلو سے جائزہ لینے کی کوشش کی جا چکی ہے۔ چند ایک سے ہر شخص واقف ہے، مثلاً حالی کی ’’یاد گار غالب‘، عبدالرحمن بجنوری کی ’محاسن کلام غالب‘، مجنوں گورکھپوری کی ’غالب شخص اور شاعر‘،نند لال کول طالب کاشمیری کی ’جوہر آئینہ ؛جائزہ کلام غالب‘،شمس الرحمن فاروقی کی ’ تفہیم غالب ‘ اور گوپی چند نارنگ کی ’غالب ؛معنی آفرینی،جدلیاتی وضع،شونیتا اور شعریات ‘ وغیرہ۔ ان میں سے ہر تصنیف اپنی اپنی جگہ غالب شناسی کا شاہکار مانی جاتی ہے۔،پھر بھی، مختلف اور متضاد فتووٗں اور کلیوں کے اژدہام کے باوجود آج کی تاریخ میں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کہیں کچھ کم ہے؟۔ بجنوری کے اس قول کا ذکر ہر غالب شناس نے کیا ہے ’’ہندوستان کی الہامی کتابیں دو ہیں،وید مقدس اور دیوان غالب‘‘۔لیکن کئی ناقدین نے اس قول کو انتہائی مبالغہ آمیز بھی کہا ہے۔ گوپی چند نارنگ نے حالی کی ’’یاد گار غالب ‘‘کو ’’غالب کی شاعری پر سب سے معتبر تصنیف قرار دیا ہے (غالب معنی آفرینی، ص 29)، لیکن محمد علی جوہر کی رائے تھی کہ ’’ یادگارغالب،نہ تو غالب کے شایان شان ہے اور نہ خود حالی کے۔‘‘ (ایضاً، ص 60)
حالی سے لے کر فاروقی اور نارنگ تک سبھی بزرگوں کی ساری باتیں درست ہو سکتی ہیں۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ تنقید میں ’باب سخن‘ ہمیشہ کھلا رہتا ہے اس لیے کسی کا فرمایا ہوا وقتی طور پر تو مستند ہو سکتا ہے، مستقل اور دائمی نہیں ہو سکتا۔وقت کا سیل رواںشاعری کا مزاج بھی بدلتا ہے اور شاعر کا مقام و مرتبہ بھی۔غالب نے یوں ہی نہیں کہا تھا ’’ میں عندلیب گلشن نا آفریدہ ہوں ‘‘۔لہٰذا غالب کی شاعری بھی ’آج کے سماجی و سیاسی، معاشی و ثقافتی حالات و حقائق کے تناظر میں زیادہ معنی خیز ہو گئی ہے۔ آج کا انسان صرف زمانۂ حال کی منفی گردش کا ہی نوحہ خواں نہیں، بلکہ، امریکی مستقبل پرست دانشور ایلون ٹافلر(Alvin Toffler) کی طرح مستقبل کے متوقع صدمات (The Future Shocks) کے حوالے سے بھی ماتم کناں ہے۔یہ دوسری بات ہے کہ ظاہری طور پر آج کا ہر آدمی ’ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا‘ جیسا رویہ اوڑھے رہنے پر مجبور بھی ہے۔ غالب نے اپنے اکثر و بیشتر اشعار میں آدمی کی ایسی ہی مبہم اور غیر یقینی کیفیات کا اظہار اپنی منفرد زبان میں کیا ہے۔ غالب کے یہاں مشکل پسندی اور ابہام کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ جن بہت ساری باتوں کا بیان ان کے اشعار میں ہوا ہے،ان کے بارے میں غالب خود بھی ابہام کے شکار تھے۔ غالب کی شخصیت میں حوصلہ مندی بہت تھی،ایسانہ ہوتا تو ’پنشن‘ کی خاطر،مرتے جیتے دلی سے کلکتہ تک، تین ہزار میل کا سفر نہ کرتے۔ لیکن ان کے حالات نے شاعری میں ان کی ’خود اعتمادی(Determinatin)کو متزلزل کر دیا تھا۔ اس کا اندازہ غالب کے اکثر اشعار کے علاوہ مکتوبات، تقریظات اور دیگر نثری تحریروں سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ غالباً مرزا کو خود بھی اپنی اس کمزوری کا احساس تھا ؎
نہ جانوں نیک ہوں یا بد ہوں، پر صحبت مخالف ہے
جو گل ہوں تو ہوں گلخن میں،جو خس ہوں تو ہوں گلشن میں
دیر نہیں،حرم نہیں،در نہیں،آستاں نہیں
بیٹھے ہیں رہگزر پہ ہم غیر ہمیں اٹھائے کیوں
قیدحیات و بند غم،اصل میں دونوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی،غم سے نجات پائے کیوں
ایماں مجھے روکے ہے،جو کھینچے ہے مجھے کفر
کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے
ڈاکٹر سید یحییٰ نشیط نے اپنے مضمون ’غالب اور باندہ ‘ میں غالب کے مصلحت پسندانہ دوہرے پن کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’ غالب انگریزوں کی سائنسی ایجادات کے قائل تھے۔اور یہاں کی قدیم روایتوں پر انھیں ترجیح دیتے تھے۔ ۔۔جب مراد آباد کے نواب نے انگریزوں کی ایجاد کردہ دور بین کی اہمیت سے انکار کیا اور حضرت ابراہیم و موسی و عیسی علیہم السلام کی تعلیمات کو ان سائنسی ایجادات کے مقابلے میں ترجیح دی تو غالب نے نواب صاحب کی تردید نہیں کی،بلکہ خاموشی اختیار کی۔‘‘
بحوالہ’متعلقات غالب ‘( غالب،باندہ اور دیوان محمد علی کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ،تقدیم و ترتیب: پروفیسر سیما صغیر، ص130،ناشر خیابان ادب ۔علی گڑھ۔ 2023)
غالب کی نفسیات کی ایسی چند ایک گرہیں،ان کی ذاتی زندگی کے مسائل (بے اولادی، مفلسی، معاصرین اور مقربین کی منافقت اور ناقدری، خود سری، مثالیت پسندی،بے صبری، پنشن کے انقطاع اور قرض) وغیرہ کے دبائو کی پیدا کردہ تھیں۔ غالب کی شاعری پر،جزوی طور پراس صورت حال کے اثرات تو مرتب ہوئے لیکن بحیثیت مجموعی اس سے غالب کی شاعرانہ عظمت پر آنچ نہ آئی۔کیونکہ غالب بقول خود ’تلمیذ الرحمن ‘ تھے۔
دراصل غالب کے یہاں مشکل پسندی،تشکیک، ابہام، لسانی ژولیدگی وغیرہ کے سارے معاملات کا تعلق روز مرہ کی زندگی کی طرح شاعری میں بھی روش عام سے ہٹ کر زبان کے غیر روایتی لسانی برتاؤ سے ہی ہے۔ زبان کا جیسا غیر معمولی ایجادی و اختراعی تخلیقی برتاؤ غالب کے یہاں ملتا ہے، ویسا انیس کے علاوہ کسی اور کے یہاں شاید کم ہی ملے۔ حالی، عبدالرحمن بجنوری، مجنوں،طالب کاشمیری، فاروقی، اور گوپی چند نارنگ سبھی نے غالب کے اس اختصاص کا اعتراف کیا ہے،لیکن، زبان کا غیر معمولی اور اجنبی لسانی برتاؤ، غالب کی شناخت بھی ہے اور غالب شناسی کا سب سے بڑا مسئلہ بھی۔حالانکہ نظم طباطبائی اور یگانہ چنگیزی وغیرہ چند ایک بزرگوں نے یہ بھی الزام دھرا ہے کہ ’’مرزا غالب نے بعض اوقات،قواعدکے خلاف زبان لکھی ہے۔ لیکن بقول بجنوری:
’’جہاں مرزا نے الفاظ میں نادر اور شستہ تصرفات سے کام لیا ہے،وہیں تشبیہات اور استعارات میں بھی عام پابندی سے گریز کیا ہے۔مرزا نے ’خود آفریدہ تشبیہات اور استعارات کا اس بے تکلفانہ اندازسے استعمال کیا ہے کہ یہ معلوم ہوتا ہے گویا یہ ہمیشہ سے ہماری زبان میں موجودتھے اور ہزار بار کے سنے ہوئے ہیں۔‘‘
(محاسن کلام غالب۔عبدالرحمن بجنوری،ص16، انجمن ترقی اردو ۔(ہند) نئی دلی۔
فوٹو لیتھو پریس، دہلی1983)
اور غالب خود بھی اس پر فخر کرتے ہیں ؎
ہیں اور بھی دنیا میںسخنور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور
اور اس شعر کو تو غالب نے اپنے تخلیقی عمل کی بنیاد ہی قرار دیا ہے ؎
آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں
غالب صریر خامہ نوائے سروش ہے
دوسرے لفظوں میں غالب کی غزلیہ شاعری ( ایک بڑا حصہ )کا ’معنیاتی نظام ‘اردو غزل کی ’شعریات‘ سے جدلیاتی رشتہ رکھنے کے باوجود، تاریخی اورسماجی و ثقافتی زیر وبم (Historical & Socio Cultural Complications)کے حوالے سے ان کے عہد سے زیادہ عصر حاضر کی تاریخ، سماج اور کلچر کی شکست و ریخت کی صورت حال سے زیادہ قریب نظر آتا ہے۔ غالب کی شاعری،میں میر کے برعکس،اپنی ذات ( انسان ) کی تکریم کا جذبہ نمایاں ہے ؎
بندگی میں بھی وہ آزادہ و خود بیں ہیں کہ ہم
الٹے پھر آئے در کعبہ اگر وا نہ ہوا
بعض لوگوں نے غالب کی اس ’خود بینی ‘کو ان کی طبیعت کی ضد،غرور،اور انا پرستی قرار دیا ہے، جب کہ واقعتاً ایسے اشعار میں غالب نے انسان کے آزاد و خود مختار وجود کا اثبات کیا ہے۔ غالب کا اجتہادی فکری و معنیاتی نظام، ہر طرح کے جبر، استحصال، کٹر پن، کلیت پسندی اور آمر انہ رویوں کے خلاف احتجاج کا حکم رکھتا ہے۔ غالب کی فکر ان تمام رسوم و قیود، تعینات اور تصورات کی نفی کرتی ہے جو انسان کی فکر و نظر کی آزادی پر قدغن لگاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ غالب نے اپنے ’’تکثیری تاریخی شعور اور تہذیبی (کلچرل) وجدان سے کام لیتے ہوئے قدیم آریائی، ایرانی اور مغل جمالیات کے علاوہ اپنے عہد کے فلسفیانہ افکار و نظریات کو بھی اپنی تخلیقیت ‘‘کا حصہ بنایاہے ۔ غالب کی تخلیقیت کی یہ وسعت اور تکثیریت ہی غالب کی شاعری میں مشکل پسندی اور ابہام کی وجہ ہے۔،لسانی و ادبی کے علاوہ سماجی و ثقافتی شعور کے نئے تیور، اجنبی رخ یا ’دوسرے پن Othernessکی صفات کی حامل غالب کی شاعری کی جڑیں، خود بقول غالب:
’ حضور ‘سے زیادہ’ غیاب‘ میں پیوست ہیں جسے’الہام‘سے بھی تعبیر کیا گیا ہے۔ لیکن اسے پیچیدہ لسانی شعبدہ بازی (Language Game) ہرگز نہیں کہہ سکتے۔ اگر ہم غالب کے ’لفظیاتی نظام‘پر ان کی تشبیہات و استعارات،علامات، اصطلاحات اور تراکیب کی معنیاتی تہہ داریوں کے حوالے سے غور کریں تو اول تو ان کے ایجادی و اختراعی روایت شکن ذہن پر حیرت ہوتی ہے۔،دوئم یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ غالب کی تفہیم و تنقید کے لیے نقاد کو بھی غالب کی طرح شاعری میں، زبان کے تخلیقی لسانی برتاؤ کے اصول و قوانین سے متعلق مختلف علوم کی آگہی از بس لازمی ہے۔ مثلاً علم اللسان، علم الاصوات، علم العروض، علم معانی، صرف و نحو، فصاحت و بلاغت اور علم الاشتقاق وغیرہ۔ لیکن آج کے نقاد کو اتنے سارے علوم کو سیکھنے جاننے کی نہ فرصت ہے نہ وسائل،اور نہ اساتذہ۔ غالب کی شاعری کا ایک دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ غالب شدت احساس کے بھی شاعر تھے۔ 1757سے 1857 تک کشت و خون اور لوٹ مار کی جوگرم بازاری رہی غالب خود اس کے چشم دید گواہ تھے۔ غالب نے اس زمانے کے حالات اپنی فارسی کتاب ’دستنبو‘ میں لکھے ہیں،اردو میںبھی ایک قطعہ ہے جس کا ذکر آچکا ہے، اس کے یہ دو شعر پھر دیکھ لیں ؎
گھر سے بازار میں نکلتے ہوئے
زہرہ ہوتا ہے آب انساں کا
چوک جس کوکہیں وہ مقتل ہے
گھر بنا ہے نمونہ زنداں کا
اتنا ہی نہیں غالب نے اپنے سامنے کی زندگی اور زمانے کے تغیرات و تجربات، سماجی و سیاسی حالات، مذہبی و تہذیبی تعصبات اور توقعات کے زائیدہ’ڈسکورسیزاور بیانیوں‘ (Narratives)کو بھی بلاواسطہ یا بالواسطہ اپنے اشعار میں سمیٹنے کی کوشش کی ہے۔ ا س ضمن میں دوچاراشعار دیکھے جا سکتے ہیں ؎
ستائش گر ہے زاہد اس قدر جس باغ رضواں کا
وہ اک گل د ستہ ہے ہم بے خودوں کے طاق نسیاں کا
پئے نذر کرم، تحفہ ہے شرم نارسائی کا
بہ خوں غلتیدہ صد رنگ دعوی پارسائی کا
نہ لڑ ناصح سے غالب،کیا ہوا گر اس نے شدت کی
ہمارا بھی تو آخر زور چلتا ہے گریباں پر
غالب کے’لفظیاتی نظام‘ کی طرح غالب کا ’معنیاتی نظام ‘ بھی خصوصی توجہ چاہتا ہے۔ ’’غالب کی معنی آفرینی کے یوں تو کئی ابعاد،کئی پہلو ہیں، لیکن غالب کے جیتے جی ہی یہ فرض کر لیا گیا تھا کہ غالب کے یہاں نادر و نایاب تشبیہات و استعارات کے حوالے سے ایسے اشعار بھی ہیں جن سے ’ اخذ معنی، ناممکن کی حد تک دشوارہے۔ غالب کے اہم ترین پرانے اور نئے ناقدین بھی اس کی تصدیق کرتے نظر آتے ہیں، مثلاً، عبدالرحمن بجنوری نے1941میں اپنے طویل مضمون ’محاسن کلام غالب‘( مطبوعہ رسالہ اردو ) میں لکھا تھا:
’’دیوان غالب میں ایسے اشعار بھی ہیں،جن کا مفہوم پانے سے ذہن مطلقاً قاصر ہے۔تخیل عرصۂ امکاں میں ہر جانب پرواز کے بعد واپس آجاتا ہے ۔‘‘
(محاسن کلام غالب، ص11،مئی1952)
تقریباً سو سال بعد شمس الرحمن فاروقی اور گوپی چند نارنگ جیسے ناقدین بھی بجنوری کے ہی فقرے کو دہرا رہے ہیں لیکن اپنے اپنے طور پر مثلاً فاروقی ’شعر غیر شعر اور نثر‘ میں لکھتے ہیں:
’’…غالب کے بہت سے شعر حقیقتاً مشکل ہیں یعنی ان میں معنی کی کوئی بھی جہت نہیں ہے،صرف ایک دقیق خیال ہے جسے مشکل یا نامانوس زبان میں پیش کر دیا گیا ہے لیکن غالب کا زیادہ تر کلام ابہام کے زمرے میں آتا ہے۔‘‘
(شعر غیر شعر، ص 377,78، این سی پی یو ایل، 1973)
اسی طرح گوپی چند نارنگ نے لکھا ہے:
’’مبہم استعاروں اور ترکیبوں میں لپٹا ہوا،غالب کا کلام ’گرہ در گرہ ہے۔اس کی کوئی تعبیر مطلق نہیں،اور ہر تعبیر کچھ تشنہ رہ جاتی ہے۔ ‘‘
(غالب:معنی آفرینی،جدلیاتی وضع، شونیتا اور شعریات، ص 190-191)
آج کے قارئین کو اس طرح کی تشریح و تعبیر کاری کی زیادہ ضرورت ہے۔ لیکن پھر اردو تنقید میں اس عمل کو (فاروقی اور نارنگ سمیت ) کم ہی آگے بڑھا یا جا سکا ہے۔ ظاہر ہے کہ حاضر’ غیر‘ کی نشاندہی اور معنیاتی ’ غیاب‘ تک رسائی ہر کس و ناکس کے بس کی بات بھی نہیں۔ احتشام حسین، مسعود حسن رضوی ادیب، حامدی کاشمیری اور وہاب اشرفی وغیرہ نے غالب کی شاعری سے متعلق اپنی عمدہ اور قیمتی تنقیدی رائیں تو دی ہیں لیکن ان کے یہاں غالب کی تشبیہات و استعارات کے معمے حل کرنے کے باب میں پوری دلجمعی کم ہی نظر آتی ہے، ویسے بھی غالب کے کسی بھی مشکل شعر کو ہر قاری یا نقاد اپنے اپنے طور پر ہی ’معنی ‘ کا جامہ پہناتا ہے۔مثلاً غالب کے دیوان کے ا س پہلے مشہور شعر کو لیجیے، جسے ضرورت سے زیادہ ہی رپیٹا گیا ہے ؎
نقش، فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا
خود غالب نے اس شعر کے معنی و مفہوم کے بارے میں کہا ہے کہ:
’’نقش کس کی شوخئی تحریر کا فریادی ہے کہ جو تصویر ہے اس کا پیرہن کاغذی ہے۔یعنی ہستی اگر مثل تصاویر،اعتبار محض ہو، موجب رنج و آزار ہے۔‘‘ (رنج و آزار)
لیکن نظم طباطبائی سے لے کر شمس الرحمن فاروقی، گوپی چند نارنگ، اور مشکور حسین یاد وغیرہ نے اس کی الگ الگ تشریحیں پیش کی ہیں۔ غالب کے یہاں اور بھی متعدد اشعار ہیں جنھیں سمجھنا دشوار ہے اس لیے ہر قماش کے قاری یا نقاد نے ان سے الگ الگ معنی اخذ کیے ہیں۔ مثلا اس قبیل کے یہ ایک دو شعر اور دیکھیں ؎
فرش سے تا عرش واں طوفاں تھا موج رنگ کا
یاں زمیں سے آسماں تک سوختن کا باب تھا
ناگہاں اس رنگ سے خوں نابہ ٹپکانے لگا
دل،کہ ذوق کاوش ناخن سے لذت یاب تھا
تو کیا اس طرح کے مشکل،مبہم اشعار کو مہمل ‘ قرار دے کر ’نصاب سے باہر کر دیا جائے ؟۔۔۔۔۔۔۔ ظاہر ہے ا یسانہیں کیا جا سکتا۔ فاروقی بھی مانتے ہیں کہ ’’غالب کو مشکل یا جدت طراز کہہ کر نہیں ٹالا جاسکتا۔ غالب کے شعر کا بنیادی مقصد ایک ایسا لفظی ڈھانچہ خلق کرنا تھا جس کا تنائو اور توازن الفاظ کے صرف سطحی معنوں کا مرہون منت نہ ہو‘‘(؟)۔ گوپی چند نارنگ بھی کلام غالب میں پیچیدہ،طلسمی زبان کے برتائو کا یہ سبب بتاتے ہیں کہ ’’ان(غالب)کا ذہن حقیقت کو جس طرح انگیز کرتا تھا اور جس طرح سے تشکیل شعر کرتا تھا وہ عام روش سے بہت کچھ الگ تھا، وہ جس گلشن نا آفریدہ کی بات کرنا چاہتے تھے، سامنے کی روایتی زبان اس کی تاب نہ لا سکتی تھی۔۔۔۔ روایتی رسمی زبان معنی پر پردے ڈال دیتی ہے اور جہان معنی کے انچھوئے خطے یاان دیکھے جزیرے نظر ہی نہیں آتے۔ (؟)
غالب تنقید کا سفر فاروقی اور نارنگ کے بعد ختم ہو گیا ہو،ایسا بھی نہیںہے۔ ان کے بعد کے ناقدین شمیم حنفی، حامدی کاشمیری، وہاب اشرفی اور ابوالکلام قاسمی وغیرہ مرحومین نے غالب شناسی کے باب میں ایسی تنقیدی تحریریں لکھی ہیں جو یقیناً غالب شناسی کے عمل کو آگے بڑھا تی ہیں۔آج عتیق اللہ، محمد صادق، ناصر عباس نیر، قاضی افضال، انیس اشفاق اور شافع قدوائی سے لے کر کوثر مظہری اور سرورالہدی وغیرہ جس معیار اور مقام سے تنقید لکھ رہے ہیں، ان سے غالب تنقید کے حوالے سے بھی نئی نسل کے ناقدین رہنمائی حاصل کر سکتے ہیںویسے اردو تنقید( بالخصوص شاعری کی تنقیدکے عصری منظر نامے میں کئی نسلوں کے تین طرح کے ناقدین نظر آتے ہیں:
.1 پہلی قسم عام باذوق ناقدین کی ہے جو کسی بھی متن/ شعر/ نظم کو پڑھ کر اس کے سطحی اور فوری تاثراتی زیر وبم کی بنیاد پر اپنی ایک رائے قائم کرتے ہیں اور اس کا اظہار کر کے مطمئن ہو جاتے ہیں۔
.2 دوسری قسم قائل یعنی Convinced ناقدین کی ہے جو پہلے سے ہی کسی شاعر کو عظیم، اعلی یا ادنی مان چکے ہوتے ہیں،اور ’سخن فہمی‘ کے بجائے عموماًطرف داری کی بنیاد پر اس شاعر کی شاعری کے بارے میں اپنی طے شدہ رائے کا اظہار کرتے ہیں۔
.3 ناقدین کی تیسری قسم ان معتبر ناقدین کی ہے جنھیں ’’ تخلیقی ناقد( Ecrivian Critic ( کہا جاتا ہے، ایسا ناقد کسی بھی طرح کے تعصب،طرفداری سے ماورا، ہوتا ہے اور متن / شعر کی قرات بازقرات اور غور و فکر کر کے متن / شعر سے متعلق اپنی تنقیدی رائے قائم کرتا ہے لیکن اس بات کو بھی ذہن میں رکھتا ہے کہ وہ جو رائے قائم کر رہا ہے اس کی فنی و جمالیاتی لفظیاتی اور معنیاتی بنیادیں کیا ہیں؟۔ایسے ہی ناقدین سے غالب کے طلسم خانۂ شعر کے باقی ماندہ اسرار کو کھولنے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ ان کی تنقید میں بہرحال وہ قوت ہے جو نہ صرف اپنے معاصرین کو متاثر کرتی ہے بلکہ نئی نسلوں کی فکر وبصیرت اور تنقیدی شعور کو جلا بھی بخشتی ہے اور میری ذاتی رائے ہے کہ نئی نسل میںایسے چند ایک ہیںجو کوشش کریں تو غالب تنقید کے تنقیدی سرمائے میں اضافے کر سکتے ہیں، مستقل مطالعہ اور توجہ شرط ہے۔لیکن، اس ضمن میں ایک بات یاد رکھنی ہوگی کہ،غالب جیسے شاعر کے’ لفظیاتی ‘اور ’معنیاتی نظام‘ کے معیار، مرتبہ اور نوعیت کی تفہیم و تعبیر کے لیے قاری یا نقاد کی قماش، قرات کی نوعیت اورقاری نقاد کے ردعمل (Response) کی صورت کی بھی بڑی اہمیت ہے۔ کیونکہ آج بھی غالب کی شاعری کا تجزیہ ان مروجہ اور معمولہ روایات اور اصولوں کی مدد سے نہیں کیا جا سکتا جن اصولوں کی بنیاد پر عام شاعروں کا تنقیدی مطالعہ کیا جاتا ہے۔ غالب کی شاعری، نقاد سے سکہ بند اور وحدانی طریق کار کے بجائے نئے، آزاد، اور ’بین العلومی‘ تکثیری پیمانوں کو بروئے کار لانے کا مطالبہ کرتی ہے۔ آج جب کہ شاعری کے طلسم خانے میں داخل ہونے، اور متن میں معنی کے عمل سے متعلق مختلف اور متضاد اصول اور نظریات (Theories) سامنے موجود ہیں،اردو کا نقاد ایسا کوئی تازہ کار تنقیدی رویہ اور طریق کار اختیار کرکے ہی غالب کی شاعری میں ’حاضر‘ صاف اور سادہ ’کہی ’ باتوں کے علاوہ ’ان کہی ‘ باتوں یا علامتوں استعاروں کے ’ غیاب ‘ میں چھپے معنی و مفہوم کے ’دوسرے پن ‘ تک پہنچ سکتا ہے جسے عام طور پر الہام، ابہام، اشکال، القا، فریب نظر، خواب یا’ عدم وجود‘ وغیرہ کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے۔
در اصل غالب کی شاعری میں معنی و مفہوم کی پیچیدگی کا ایک اور بڑا سبب غالب کی تخلیقیت کا تہذیبی، نسلی اور لسانی ’الجھاؤ ‘ بھی ہے۔ترکی، ایرانی روابط پر فخر، اور شعر گوئی میں فارسی کو اردو پر ترجیح دینے نہ دینے کے حوالے سے غالب کی تخلیقیت‘ میں انتشار اور ’کنفیوژن نظر آتا ہے۔ غالب نے کہا تو ہے کہ ’’میری شاعری ایک باغ ہے جس کے دو دروازے ہیں، ایک اردو اور دوسرا فارسی، لیکن فخر وہ اپنی فارسی شاعری پر ہی کرتے تھے۔ اور سیانے بتا گئے ہیں کہ مرزا کی فارسی شاعری میں اتنے الجھاوے نہیں ہیں بلکہ مقابلتا سادہ بیانی ہے۔ اس کی بھی ایک وجہ یہ سمجھ آتی ہے کہ غالب ضدی تھے اور انھیں ’روش عام پر چلنا منظور نہ تھا اس لیے غالباً اپنے معاصرین کی شاعری اور خود پر ہونے والی نکتہ چینیوں کے رد عمل میں پیچیدہ طرز فکر و اسلوب اختیار کیا۔لیکن یہ سوال بھی اہم ہے کہ غالب کے اکثر اشعار کی تفہیم و تعبیر میں آج بھی دشواری کیوں پیش آتی ہے؟ کیا آج کے ناقدین تخلیقی زبان کے مضمرات سے آگاہ نہیں اور کیا وہ شعر فہمی کے ہنر اور طریقوں سے بہرہ ور نہیں۔ ؟(4-4-25)
کہا جاتا ہے کہ غالب کو روش عام پر چلنا منظور نہ تھا، اس لیے انھوںنے اپنے معاصرین کی شاعری کے رد عمل میں پیچیدہ اسلوب اختیار کیا۔ غا لب کا زمانہ،وہ تھا جب اردو غزل کے مزاج میں فساد پیدا ہو چلا تھا۔ شاہ نصیر اور ذوق،دہلی میں، لکھنؤمیں ناسخ اور آتش کی چشمک اور ان کے تلامذہ کی جانب سے شاعری کو زبان اور صنایع بدائع کی بازیگری بنانے کی روش غزل کے دامن کو داغدار کر رہی تھی، چنانچہ ا میر مینائی اور اسیر لکھنوی کے شاگردوں اور داغ دہلوی اور استاد ذوق کے پیرووٗں کی ابتذال پسندی کی مذمت کرتے ہوئے حالی نے تو ایسی ہی مبتذل غزلوں کو ’’سنڈاس سے بھی بدتر قرار دے دیا تھا۔ شیفتہ نے بھی اپنے تذکرہ ’گلشن بے خار‘ میں اس دور کی اردو غزل پرتنقید کرتے ہوئے، ہائے توبہ کی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو غالب نے اردو غزل کے اس ابتذال کے رد عمل کے طور پر ہی غزل کی پاکیزگی اور حر مت قائم رکھنے کے لیے وہ اسلوب بیان اختیار کیا جسے بجنوری ،مجنوں اور شمس الرحمن فاروقی سے لے کر گوپی چند نارنگ تک سب نے مبہم اور تعبیر و تشریح سے عاری قرار دیا ہے۔ جب کہ یہ پیچیدہ بیانی غالب کی خود اختیار کردہ، ’’تخلیقیت کی تمناکا دوسرا قدم ہے۔اصلاً، غالب نے اپنی پیچیدہ بیانی سے اردوغزل کی کتھارسس کی جو شروعات کی اسے شیفتہ،حالی،اور مومن نے اپنے اپنے انداز میں آگے بڑھایا۔ کیونکہ غالب خود بھی نہیں چاہتے تھے کہ ’’کوئی ان کی پیچیدہ طرز فکر اور ان کے معمول سے ہٹے ہوئے اسلوب ،زبان و بیان کو جوں کا توں اختیار کرے۔یوں بھی صرف بیدل ہی نہیں طرز غالب میں بھی ریختہ کہنا قیامت ہی ہے۔‘‘
غالب کی فارسی اور اردو شاعری میں لسانی، اسلوبیاتی،فکری اور فنی اعتبار سے مماثلت اور مغائرت کا تناسب بھی غالب کی’تخلیقیت‘ کے کنفیوزن، کجی اور دوسرے پن کی ہی نشاندہی کرتا ہے۔ اس زاویے سے بھی غالب کا مطالعہ کیا جانا چاہیے۔ غالب کی ’طبیعت ‘اور ’تخلیقیت ‘دونوں پر کنفیوژن حاوی تھا، غالب کے مزاج میں ایک کجی تھی( جسے ’پوربی بولی میں ’ٹیڑھ پن‘ کہتے ہیں) ’د لی کالج کی پروفیسری چھوڑنے جیسے واقعے اور کعبہ جانے کے لیے درواز کھلا ہونے کی شرط عائد کرنے جیسی باتوں سے اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ لیکن اردو تنقید کے شرفا نے غالب کی اس’کجی‘ کو، انانیت، انا پسندی، اور خود داری کا نام دے کر غالب کی توقیر کا تحفظ ہی کیا ہے۔ اسے اردو تہذیب کی برکت کہئے، لیکن’’ تخلیقی عمل ‘کے حوالے سے، قابل غور بات یہ ہے کہ غالباً طبیعت اور ’تخلیقیت ‘ کی ’کجی‘ اور کنفیوژن کے سبب ہی غالب نے اپنی فارسی اور اردو شاعری میں خود ہی فرق کیا ہے۔غالب اپنے اکثر و بیشتر اردو اشعار میں، مشکل تشبیہات و استعارات خلق کر کے اپنے مافی الضمیر،’مضمون و معنی ‘ کی تخم کاری(Dissemination) تو کرتے ہیں لیکن یہ تخم کاری کبھی غالب کی منشا سے زیادہ (Surplus) ہوگئی ہے اور کبھی کم، اس کا سبب خود غالب کی سمجھ میں بھی نہیں آسکا اور غالباً اسی لیے انھوں نے اپنے دل کے بہلانے کو گریز کا یہ پہلو نکالاکہ ؎
آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں
غالب صریر خامہ نوائے سروش ہے
حا لانکہ جب غالب بیدل اور دوسرے فارسی اساتذہ کے اثر سے باہر آتے ہیں تو اردو میں، ایسے سادہ اور سہل اشعار بھی کہتے ہیں ؎
دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے
موت کا ایک دن معین ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
یہ بھی ایک نکتہ ہے جو غالب کی تخلیقیت کے طلسم کو توڑ کر غالب کے مشکل اور پیچیدہ اشعار کے معنی و مفہوم اور ان کے انفراد و امتیاز کے گوہر نایاب کو ’غیاب ‘ سے حضور میں لانے میں کارگر ثابت ہوسکتا ہے۔ اس بات کا اندازہ ایک ہی بحر بلکہ ایک ہی موضوع پر،سودا، میر اور غالب کے درج ذیل عام سے اشعار سے بھی لگایا جا سکتا ہے، سودا کہتے ہیں ؎
ہے یہ دیوانہ مرید اس زلف چھٹ کس پیر کا
سلسلہ بہتر ہے سودا کے لیے زنجیر کا
میر کا شعر ہے ؎
سیر کے قابل ہے دل صد پارہ اس نخچیر کا
جس کے ہر ٹکڑے میں ہو پیوست پیکاں تیر کا
اور غالب کا یہ شعر تو ہر ایک کو یاد ہی ہوگا ؎
نقش فریادی ہے کس کی شوخئی تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا
ان شعروں میں مضمون آفرینی، معنوی پہلو داری، انداز بیان، الفاظ کی تقلیل و کفایت، حشو وزوائد، تشبیہ و استعارہ، اور علامت و پیکر کے برتاوء کی بنا پر ان تینوں شعرا کی جو الگ الگ انفرادیتیں نظر آتی ہیں اس کی وجہ بھی ان تینوں بڑے شعرا کی ’’تخلیقیت ‘ کا فرق ہی ہے۔ سودا کے کلام میں علامتی و استعاراتی طرز بیان کا فقدان ہے۔ میر کی تخلیقیت شکست ذات کے احساس سے عبارت ہے جب کہ غالب کی تخلیقیت عرفان ذات سے۔ میر کی تخلیقیت زندگی کی درد مندی کی کیفیات کا اظہار کرتی ہے، لیکن غالب کی تخلیقیت زندگی سے نبرد آزمائی کے جذبات پیدا کرتی ہے۔ میر کا شعر ہے،
بعد ہمارے اس فن کا جو کوئی ماہر ہووے گا
درد انگیز انداز کی باتیں،اکثر پڑھ پڑھ رووے گا
اور غالب کہتے ہیں ؎
غم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش از یک نفس
برق سے کرتے ہیں روشن شمع ماتم خانہ ہم
یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ میر ہوں یا غالب، اقبال ہوں کہ فیض کسی بھی شاعر کی شاعری کو مخصوص رنگ،مزاج کا نام دینے کی رسم نقاد ہی انجام دیتا ہے،کیونکہ نقاد ہی متن یا شعر کے معنی و مفہوم، کیفیت و تاثر کی گرہیں کھولنے اور حالیہ کا سابقہ سے رشتہ جوڑنے والا فن کار ہوتا ہے۔ لیکن یہ قطعی ضروری نہیں کہ ہر نقاد کو شعر سے ہمیشہ ایک ہی جواب ملے ؎
کیا شرط ہے کہ سب کو ملے ایک سا جواب
آؤ نہ ہم بھی سیر کریں کوہ طور کی
اور یہ بھی سچ ہے کہ ؎
یہ توہم کا کارخانہ ہے
یاں وہی ہے، جو اعتبار کیا
’ غالبیات‘ میں ایسا بہت کچھ ہے جو ان کے عہد میںبھی، انسان کی ذات،حیات اور کائنات کے حوالے سے پردہ خفا میں تھا ’’ غیر ‘تھا‘، جسے غالب نے اپنے غزلیہ اشعار میں غیر،غیریت، اور غیر پن Other,Otherness,Otherin& unsolved کے زاویوں سے پیش کیا ہے ؎
رشک کہتا ہے کہ اس کو غیر سے اخلاص حیف
عقل کہتی ہے کہ وہ بے مہر کس کا آشنا؟
وہ زندہ ہم ہیں کہ ہیں روشناس خلق اے خضر
نہ تم کہ چور بنے عمر جاوداں کے لیے
بوئے گل،نالۂ دل،دود چراغ محفل
جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا
شوق ہر رنگ رقیب سرو ساماں نکلا
قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا
ایسے اشعار میں غالب نے اپنے وقت کے حالات،شخصیات اور مروجہ Narratives یعنی ’غیر‘ پر علامتی، استعاراتی اسلوب میں جو طنز کیا ہے،نکتہ چینی کی ہے اسے شمس الرحمن فاروقی کے ذہن سے سمجھا جاسکتا ہے۔ فاروقی نے ’تعبیر کی شرح میں کہا ہے:
’’غزل کی شعریات کا بنیادی اصول یہ ہے کہ اس میں ایک متکلم بطور مرکزی کردار (یا عاشق کا ہوگا)اورایک ذیلی۔ لیکن بہت اہم کردار ’غیر‘ کا ہوگا۔ اس ’غیر ‘ کو رقیب، دشمن،غیر لوگ،سیاسی مخالف یا مخالفانہ سیاسی،سماجی کلام(Discourse) کسی بھی معنی میں پیش کر سکتے ہیں۔‘‘ (شمس الرحمن فاروقی: تعبیر کی شرح، ص 92)
غالب بھی بہر حال معاشرتی انسان تھے۔ ضروریات زندگی کے مسائل اور احباب اور اقتدار یعنی ’غیر‘ کی بے حسی اور بے رخی کے سبب مرزا اکثر اپنے آپ کو بے دست و پا بھی محسوس کرتے تھے ؎
آتا ہے داغ حسرت دل کا شمار یاد
مجھ سے مرے گنہہ کا حساب اے خدا نہ مانگ
گرنی تھی ہم پہ برق تجلی نہ طور پر
دیتے ہیں بادہ ظرف قدہ خوار دیکھ کر
تمنائے زباں محو سپاس بے زبانی ہے
مٹا جس سے تقاضا شکوہ بے دست و پائی کا
کس سے محرومئی قسمت کی شکایت کیجیے
ہم نے چاہا تھا کہ مر جائیں سو وہ بھی نہ ہوا
غالب کے یہا ں ’غیر، غیاب، خواب، حیات و کائنات،یزدان و اہرمن، حقیقت اور تماشہ ۔۔۔۔ وغیرہ سے متعلق تصور ات کو سمجھنے کے لیے،غالب کے’لفظیاتی اور معنیاتی نظام‘ کے ان گوشوں اور زاویوں تک بھی پہنچنا ہوگا، جو روشنی سے زیادہ تاریکی،غیاب میں رہ گئے ہیں اور جس کا احساس غالب کو پڑھتے ہوئے بار بار ہوتا ہے۔ اس پر شمس الرحمن فاروقی نے ’شعر،غیر شعر اور نثر‘ میں اور گوپی چند نارنگ نے ’غالب : معنی آفرینی،جدلیاتی وضع،شونیتا اور شعریات ‘ میں تفصیل سے بحث کی ہے۔ اس فرق کے ساتھ کہ فاروقی صاحب نے جہاں غالب کے شعری،جمالیاتی امتیازات کو اپنی تنقید کے مرکز میں رکھا ہے، فکری پہلوؤںپر زیادہ گہرائی سے توجہ نہیں دی ہے وہیں گوپی چند نارنگ،، صائب،کلیم اور غنی کاشمیری کے علاوہ بطور خاص بیدل سے غالب کی وابستگی بلکہ عقیدت مندی کا تجزیہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ:
’’غالب کا کلام ’جام جہاں نما ہے، غالب کے اشعار میں نہایت دقیق،دور رس اور پیچ در پیچ معانی کی حیرت زا اور عمیق دنیا آباد ملتی ہے ۔‘‘
غالب کی شخصیت اور شاعری کو ان کی مفلسی نے بھی بہت توڑا مروڑا تھا۔ ولی نے بہت پہلے کہا تھا ؎
مفلسی سب بہار کھوتی ہے
مرد کا اعتبار کھوتی ہے
اور غالب کی مفلسی کا یہ عالم تھا کہ ؎
گھر میں تھا کیا ؟ کہ ترا غم اسے غارت کرتا
وہ جو رکھتے تھے ہم اک حسرت تعمیر،سو ہے
حیراں ہوں دل کو روئوں کہ پیٹوں جگر کو میں
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں
مرزا قربان علی بیگ سالک کے نام اپنے ایک خط میں خود اپنی مفلسی و محرومی کا مذاق اڑاتے ہوئے خود اپنے آپ کے لیے ’غیر ‘ ہوجانے کا ذکر اس طرح کیا ہے:
’’ ۔۔۔۔۔اپنا آپ تماشائی بن گیا ہوں۔رنج وذلت سے خو ش ہوتا ہوں،یعنی میں نے اپنے کو اپنا ’غیر ‘ تصور کیاجودکھ مجھے پہنچا ہے، کہتا ہوں کہ، لو، غالب کے ایک اور جوتی لگی۔بہت اتراتا تھا کہ میں بڑا شاعراورفارسی داں ہوں آج دور دور تک میرا جواب نہیں۔لے، اب تو قرضداروں کو جواب دے… ایک قرضدار کاگریبان میں ہاتھ، ایک قرضدار بھوگ سنا رہا ہے ۔۔۔کوٹھی سے شراب، بزازسے کپڑا، میوہ فروش سے آم، صراف سے دام قرض لیے جاتا ہے،یہ بھی تو سوچا ہوتا کہ کہاں سے دوں گا‘‘
قرض کی پیتے تھے مئے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک د ن
احساس محرومی کی شدت کے سبب ہی غالب نے اپنا بہت سارا کلام رد بھی کیا اور ضائع بھی۔ کئی محققین نے غالب کے جو ’دیوان باہر( محذوف ) ‘ اشعار دریافت کیے ہیں ان میں سے بیشتر یادگار ہیں، غالب نے انھیں غالباً اپنے Frustration کے عالم میں ’ عاق‘ کر دیا ہوگا۔ ورنہ ’نسخۂ حمیدیہ‘ (بھوپال ) میں ایسے اشعار ہیں جو غالب کے مزاج اور معیار کے عین مطابق ہیں۔
غالب نے اپنی محرومیوں اور نارسائیوں کے اس ’غیر ‘ پر قابو پانے کی بھی ہر ممکن کوشش کی۔ ’پنشن‘ کے لیے سفر کلکتہ کی صعوبتیں اس کی مثال ہیں۔باندہ، بنارس،عظیم آباد سے گزرتے ہوئے غالب کو ’ہمیشہ غرق دریا ‘ہونے کی رسوائی کا دھڑکا لگا رہتا تھا۔ لیکن غالب خوف یا دھمکی سے مرنے والے بھی نہ تھے اس لیے ہاتھ پاؤں میں جنبش نہ ہو نے کے باوجود غالب، شب و روز اس ’غیر اور غیریت کے تماشے دیکھتے رہے اور ان ‘ پر دسترس پانے اور ’غیب ‘ کے امکانات کو حضور میں لانے کے لیے تصور و تخیل کی قوت کی بنا پر گلشن نا آ فریدہ میں نت نئی تراکیب، علامتوں اور استعاروں کی مدد سے ایک نئے انداز بیاں کے ساتھ معنی و مضمون کے گل بوٹے بھی کھلاتے رہے۔ حالانکہ غالب کی چاہت کے باوجود ’غیروںکی ستم گری کم نہ ہوئی، احباب انھیں بس غیب کی مہربانیوں کے خواب ہی دکھلاتے رہے ؎
میں نے چاہا تھا کہ زندان وفا سے چھوٹوں
وہ ستم گر مرے مرنے پہ بھی راضی نہ ہوا
بغل میں غیر کی آج آپ سوتے ہیں کہیں،ورنہ
سبب کیا خواب میں آکر تبسم ہائے پنہاں کا
غالب کے یہاں مضمو ن و معنی آفرینی کی جو گہرائیاں اور تہہ داریاں ہیں وہ زندگی جینے اور ہرکام کی دشواریوں کو کاغذ پر اتارنے کے عمل کی وجہ سے ہیں۔ لیکن یہ غالب کے انفراد اور عظمت کی تشفی بخش دلیل نہیں اور اردو تنقید کے سامنے آج بھی یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ:
’’ غالب کے یہاں وہ کون سی ’شئے‘ ہے جو شعر کی قرات یا سماعت کے ساتھ ہی نور کے تڑکے کی طرح نمودار ہوتی ہے اور ذوق و ذہن کو منور کرتی چلی جاتی ہے ؟ غالب کے شعر میں وہ کیسا تیر ہے جو نشانے پر تو بیٹھتا ہے لیکن جگر کے پار نہیں ہوتا،اور بڑے سے بڑے ’سخن فہم کے اندر غالب شناسی کے حوالے سے بہر حال ایک خلش باقی رہ جاتی ہے۔ لیکن یہی وہ خلش ہے جو اکثر غالب کے اشعار میں’ حاضر معنی‘ ہونے یا نہ ہونے کے باوجو د قاری /نقاد کو معنی و مفہوم اور کیفیت و تاثر کی جستجو میں بار بار غالب کے اشعار کے دشت امکاں کی طرف قدم بڑھانے کا جواز پیدا کرتی رہتی ہے۔ ‘‘
ابھی تک تو ایسے چند ایک ہی ناقدین سامنے آسکے ہیں جن کی تعبیرات و توضیحات کو غالب فہمی کے باب میں قول فیصل کی حد تک تشفی بخش قرار دیا جا سکتا ہے ہر چند کہ اردو میں غالب تنقید کے حوالے سے ہزاروں کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ پھر بھی، غالب کے حوالے سے،مختلف اور متضاد کلیوں (Statements) اور فتووں کے اژدہام کے باوجود صاف محسوس ہوتا ہے کہ’کہیں کچھ کمی ہے اور یہی احساس ناقدین کو غالب کی باز قرات اور نئے زاویوں کی جستجو کے لیے آمادہ بھی کرتا ہے۔
Prof. Quddus Jawaid
27, Green Hills Colony
Bathindi
Jammu-181152 (J&K)
Mob.: 9419010472
jawaidquddus@gmail.com