پروفیسر امرت لعل عشرت،مضمون نگار:وسیم حیدر ہاشمی

April 21, 2025 0 Comments 0 tags

تلخیص

پروفیسر امرت لعل عشرت کی ولادت لاہور کے کوچہ رادھاکرشن میں ہوئی۔ تلاش معاش کے سلسلہ میں موصوف نے بنارس کو اپنا وطن ثانی بنایا اور پھر بنارسی ہو گئے۔ موصوف کے ساتھ گزارے بیس برس راقم کی زندگی میں بڑی اہمیتوں کے حامل ہیں۔ اس مختصر مضمون کو پڑھ کر قارئین کو اس امر کا اندازہ ہو گا کہ بھارت اور ایران ہمیشہ سے ایک دوسرے کے لیے کس درجہ اہم رہے ہیں۔ ایرانی اور ہندوستانی، ایک جڑ سے نکلی دو شاخیں ہیں۔ زمانۂ قدیم میں جہاں ایک سمت ایرانیوں نے اپنے ملک کا نام ایران کیشتر رکھا وہیں ہندوستانی اس ملک کو آریہ ورت کہہ کر پکارنے لگے۔ ایران اپنے قیام کے آغاز سے آج تک ہندوستان سے جس درجہ متاثر رہا، اسی درجہ بھارت کے ساتھ اپنی قربت اور دوستانہ تعلقات کو بڑھانے کے لیے کوشاں رہا ہے۔ اس امر میں شاعری کے تحت ’سبک ہندی‘ کو اپنا کراس کے توسط سے ادب کے جو دریا ایرانی شعرا نے بہائے اور اس روشنی کو تمام ایران میں مقبول بنایاوہ بڑی اہمیتوں کا حامل ہے۔ ایرانی ادب میں رائج تین سبک، عراقی، خراسانی اور دورۂ بازگشت کے ساتھ سبک ہندی کو شامل کرنا ہندوستان کے لیے اعزاز ہے۔ پندرہویں صدی عیسوی میں ایرانیوں پر ہندوستان کی ایسی دیوانگی طاری تھی کہ ایران کے بیشتر ہنرمند ہندوستان کی ڈیوڑھی پر جبیں سائی کو اعزاز اور فخر گردانتے تھے۔ ایران کے شاہی خاندان کے ایک اہم فرد شیخ علی حزیں فروری 1734 میں بنارس آکر یہیں پر مستقل سکونت اختیار کرلی اور 1765 میں ان کا انتقال ہوا۔ بھارت اور ایران کے بادشاہوں نے ایک دوسرے کے ساتھ اپنے تعلقات استوار کرنے کے لیے اپنے بچوں کی شادیاں بھی آپس میں کرنا شروع کر دی تھیں جس کی اہم مثال ہمایوں، راجپوت راجہ باپادل، شنگل، بہرام گور، ایرانی امیر شیخ جام اور نوشیروان ہیں۔کھانے پینے اور پہننے اوڑھنے سے لے کر ہندوستانی موسیقی تک کا زبردست اثر آج بھی ایران کے عوام پر صاف نظر آتا ہے۔متذکرہ مضمون میں انھیں پر روشنی ڈالنے کی کوشش ہے۔کتاب’ ایران صدیوں کے آئینے میں‘کے علاوہ ان کی دیگرکتب ’مقالات عشرت، سخنوران بنارس اور یادگار عشرت‘ پر بھی اسی مضمون میں روشنی ڈالی گئی ہے۔

کلیدی الفاظ

سبکِ ہندی، چلو، شنگل، سولن، ماقوس، ہخامنشی، قزوین،گندھار، پہلوی، آریہ،اوِستا، ایرانِ کیشتر، آریہ ورت، زرتشت، منْتر، ساسانی، گردھ بیل، لرستان، پنچ تبتر، طہماسپ، پراکرت اور اَپ بھرنش، پرشپور، بھکشو، وادیٔ بامیان، بھیروی، دادرے، کہروے۔

پروفیسر امرت لعل عشرت (2نومبر1930، 18مئی 1989)نے اپنی حیات میں کل سات عدد کتابیں تحریر فرمائیں ہیں، جو راقم کے مختصر سے ذاتی کتب خانے میں محفوظ ہیں۔ راقم نے ان کی تمام کتب پر خامہ فرسائی کا ارادہ کیاتھا مگر چونکہ پیش نظر مضمون، رسالے کے لیے تحریر کیا گیا ہے اس لیے راقم نے موصوف کی سب سے اہم کتاب’ایران صدیوں کے آئینے میں‘ کے علاوہ دو دیگر کتب پر بھی خامہ فراسائی کا ارادہ کیا ہے۔

موصوف کے انتقال سے فارسی اور اردو ادب کا جو بڑا نقصان ہوا ہے اس خلا کا عنقریب پر ہوسکنا ممکن نظر نہیں آتا۔ ہر چند کہ موصوف کی تصنیفات پر خامہ فرسائی کے لیے جس علم و فضل کی ضرورت ہے، وہ تو راقم میں نہیں، پھربھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ موصوف کی تصنیفات پر کچھ روشنی ڈالنے کی کوشش کی جائے۔ موصوف کی اوّلین تصنیف ’ایران صدیوں کے آئینے میں‘ہے جو پہلی مرتبہ سن 1967 میں زیور طبع سے مزین ہوکر منظر عام پر آئی تو فارسی دنیا میں اس کتاب کا ویسا ہی خیرمقدم ہوا، جس پذیرائی کی یہ کتاب مستحق تھی۔ جن علمائے معنی تک اس کتاب کی رسائی ہوئی، ہر کسی نے اس کا خیرمقدم دل کھول کر کیا۔ ان کی اس بیش بہا تصنیف کے وجود میں آنے کے سلسلہ میں مختصر پیش لفط بعنوان ’گزارشِ احوال‘ میں موصوف فرماتے ہیں :

’’ایران صدیوں کے آئینے میں‘ راقم الحروف کے سفرِایران کی یادگار ہے۔ 1962 کی بہار میں شیراز کی ایک پرلطف صحبت میں جناب آقای علی اصغر حکمت (سابق سفیر کبیر ایران در ہند) نے اپنی مشہور تصنیف ’سرزمینِ ہند‘ مجھے عنایت فرمائی تھی۔ اس کتاب کو پڑھ کر موجودہ کتاب کی تالیف کا خیال آیا۔‘‘1؎

راقم کی معلوما ت کے مطابق موصوف کی نصف درجن سے زائد کتب زیور طبع سے مزین ہو کر منظر عام پر آچکی ہیں۔ ان کے عناوین مع سن اشاعت:ایران صدیوں کے آئینے میں (1967,1986)، اردو شاعری اور پنجاب (1988)، مقالات عشرت(2009)، بہار عشرت(2009)، مرتب ڈاکٹر عبدالسلام۔ سخنوران بنارس(2015)  بار دوم، یادگار عشرت(1994,2016)۔مرزا غالب کے مہتم بالشان چنندہ اشعار،1960۔ ان کتب کے علاوہ موصوف کی حیات اور ادبی خدمات پر مشتمل تحقیقی مقالہ برائے پی۔ایچ۔ڈی۔ از ڈاکٹر عبدالسلام و بنارس ایک تفصیلی اور معلوماتی کتاب ہے۔اس مقام پر پہلے ان کی ان کتب کا ذکر کرنا چاہوں گا، جس کا اردو اور فارسی ادب میں بہت علیٰ مقام ہے۔ موصوف کی مشہور زمانہ کتاب ’ایران صدیوں کے آئینے میں‘ کا ضمنی ذکر کرنے کے بعد ان دیگر کتب کا ذکر کروں گا۔

ایران صدیوں کے آئینے میں

اس کتاب کی اوّلین اشاعت 1967 میں ہوئی تھی۔ اس وقت یہ کتاب گیاوہ ابواب پر مشتمل تھی، جس کے آخری باب کا عنوان ’عہد پہلوی‘ تھا۔ اس باب میں خاص طور سے کرنل رضاخان پہلوی کا قاجار حکمرانوں سے ایران پر تسلط پانے کا ذکر ہے۔ اس سلسلے میں پروفیسر امرت لعل عشرت صاحب رقم فرماہیں:

’’1921 کے آغاز میں جب قاجار حکمران اپنی روز بروز گرتی ہوئی حالت کو سنبھالنے کے لیے ماسکو میں وہاں کی برف باری کی صعوبتیں برداشت کر کے روسی حکومت سے پیمان وفا باندھنے کی فکر میں تھے، ان کے اپنے گھر میں انھیں بے دخل کرنے کی سازش ہو رہی تھی۔ ایران اور روس کے دوستانہ معاہدے سے ٹھیک پانچ دن پہلے یعنی اخیر فروری 1921 کو کرنل رضاخان اپنے مٹّھی بھر سپاہیوں کے ساتھ قزوین سے تاخت کر کے تہران میں وارد ہوا،اور دن ڈھلتے ڈھلتے ایرانی سیاست کا نقشہ پلٹ دیا۔۔۔۔۔1926 رضاخان نے خاندان پہلوی کے بانی کی حیثیت سے رضاشاہ کا لقب اختیار کر کے ایرانی حکومت کی باگ ڈور سنبھالی‘‘2؎

11 فروری، 1079 میں جب ایران میں اسلامی جمہوریہ کے قیام کے بعد علمائے دین کی ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تو اس میں بنارس ہندویونیورسٹی کے شعبۂ فارسی کے ایک پروفیسر عالیجناب مولانا سید سلیمان عباس صاحب رضوی کو بھی مدعو کیاگیا۔ اس بین الاقوامی کانفرینس میں حصہ لینے کے غرض سے وہ ایران تشریف لے گئے تھے۔ وہاں سے واپسی کے بعد انھوں نے عشرت صاحب سے اس نئے ایران کی اتنی تعریفیں کی کہ انھوں نے بھی نئے ایران کو دیکھنے کامستحکم ارادہ ظاہر کیا۔ اس وقت تک ان کے ذہن میں اپنی متذکرہ کتاب کی توضیح کا خیال نہیںپیدا ہوا تھا۔ اسی صراحت کے تحت موصوف نے باقاعدہ یونیورسٹی سے چھٹی لے کر ایران جانے کی اجازت بھی طلب فرمائی اور حسب صراحت ایران کے لیے روانہ ہو گئے۔ اس مرتبہ چونکہ موصوف کا ارادہ نئے ایران کو دیکھنے پرکھنے کا تھا اس لیے انھوں نے وہاں زیادہ دن نہیں گزارے۔ تقریباً بیس روز تک نئے ایران کی سیر کرنے کے بعد ہندوستان واپس لوٹ آئے۔ موصوف کے وہاں سے واپس لوٹنے کے دوسرے روز میں ان سے ملاقات کی غرض سے سن بیم ہائوس پہنچ گیا۔

چند رسمی گفتگو کے بعد موصوف نے بتایا کہ ’’میںنے اس مرتبہ جو ایران دیکھا ہے اس کے ذکر کے لیے میں اپنی کتاب کے اخیر میں ایک اور باب کے اضافہ کا ارادہ رکھتا ہوں‘‘ اور اس نیک کام کی بسم اللہ موصوف نے فوراً کر دی۔ اس کام کو انھوں نے چند ہفتوں میں ہی مکمل کر نے کے بعد اسے اپنے شاگردرشید ڈاکٹر حفیظ الدین احمد صاحب کرمانی کو ’ایران صدیوں کے آئینے میں‘ کے دوسرے ایڈیشن کی اشاعت کی ذمہ داری سپردکر دی۔ چونکہ ڈاکٹر کرمانی صاحب کا مزاج کسی کام میں کبھی تاخیر کا نہیں ہوتا،چنانچہ انھوں نے چند ماہ کے اندر ہی اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن بنارس کے ’بھارگوپریس‘ سے شائع کروا دیا۔ اس کتاب کا سرورق انھوں نے نہایت جاذب و جالب طریقہ سے ڈیزائن کروایا جو عشرت صاحب کو بہت پسند آیا۔

فصل دوازدہم ’ایران نو‘

 اپنی اس کتاب میں موصوف نے اس ایران اور ہندوستان کے گزشتہ ساڑھے پانچ ہزار برسوں کے تعلقات کاذکر کیا ہے، جب دنیا میں اسلام آیا ہی نہیں تھا اور ایرانی عوام کی عبادت ’اگنی پوجا‘ یعنی آتش پرست تھی۔ اپنی اس کتاب کی بارہویں فصل میں ’بھارت ایران کے نئے پرانے تعلقات‘ میں موصوف نے جو کچھ بھی رقم فرمایا ہے، وہ سب لائق مطالعہ ہے۔ چونکہ ایران میں تعلیم حاصل کرنے کے تعلق سے موصوف نے ایران میں کافی طویل وقت گزارا تھا اس لیے تمام ذکر نہایت جاذب و جالب محسوس ہوتا ہے۔ موصوف کے پورے ذکر میں جابجا افسانوی کیفیت بآسانی محسوس کا جا سکتی ہے۔وہ اس باب کا آغاز ذیل الفاظ میں کرتے ہیں:

’’ایران اور ہندوستان کے تعلقات اتنے گہرے اور اتنے پرانے ہیں کہ تاریخ دانوں کی دور رس نگاہیں بھی ان کی ابتدا کا سراغ لگانے میں ناکام رہی ہیں۔ ہزاروں سال پہلے ایک ہی جڑ سے نکلی ہوئی دو شاخوں کی طرح آریہ لوگوں کے دو ایسے دستوں نے ان دونوں ملکوں کو آباد کیا تھا جو ایک ہی قسم کا کلچر رکھتے تھے اور جن کی زبان اور آداب و رسوم میں بہت معمولی فرق تھا۔‘‘3؎

اس کے بعد موصوف اپنی درج بالا کتاب کے صفحہ یکم کی یاددہانی کرواتے ہوئے مزید رقمطراز ہیں:

’’ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ ایران ’ایر‘ کی جمع ہے اور یہ لفظ آریہ سے مشتق ہے جس کا مطلب سنسکرت اور اوستا میں آزاد اور پاک نژاد ہے۔ ایران کا پرانا نام ’ایران کیشتر‘ تھاجو رفتہ رفتہ ایران شہر یعنی آریوں کا دیش ہو گیا۔ اس طرح ہندوستانی آریوں نے بھی اپنے ایرانی بھائیوں کے نقش قدم پر چل کر اپنی قیام گاہ کا نام ’آریہ ورت‘ رکھااور اپنے نئے جغرافیائی ماحول کے سانچے میں ڈھلنے لگے۔ آب و ہوا کے اختلاف اور دیگر مقامی ضرورتوں نے ایرانیوں اور ہندوستانیوں کو الگ الگ ضرور رکھا لیکن آریائی ذہن کا انداز فکر صدیوں تک نہ بدل سکا۔ زرتشت کی آتش پرستی، ہندوستانیوں کی اگنی پوجا سے مختلف نہ تھی۔ آوِستاکے شلوک، سنسکرت کے مقدس منتروں سے اِس حد تک ملتے جلتے ہیں کہ تلفظ کی بہت ادنیٰ سی تبدیلی سے ایرانی اور ہندوستانی یکساں طور پر ان سے فیض یاب ہو سکتے تھے۔ بدھ دھرم اور جین دھرم کی مقبولیت ایرانی عوام میں اس درجہ تک پہنچ چکی تھی کہ تیسری صدی عیسوی میں ظاہر ہونے والے مشہور ایرانی پیغمبر مانی کا مذہب دراصل عدمِ تشدّد یعنی ’اہنسا‘ ہی کا پرچار تھا۔‘‘4؎

 مصنف کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ایرانی عوام بدھ اور جین دھر م سے پہلے سے ہی بہت متاثر تھے اور اسی وجہ سے وہ ہندوستانیوں کو اپنے مذہب کے بہت قریب محسوس کرنے لگے تھے۔ اس مذہبی قربت کے سبب ان کی آپسی قربت بہت بڑھ گئی تھی۔ موصوف کے مطابق ایرانی اور ہندوستانی بادشاہوںنے رشتہ داریاں قائم کر کے آپسی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے غرض سے اپنے بچوں کی شادیاں بھی آپس میں کیں۔

فصل سیزدہم بعنوان ’ایران اور ہندوستان کے نئے پرانے رابطے‘ اس کتاب کے دوسرے ایڈیشن کا اہم ترین باب کہا جائے تو شاید مبالغہ نہ ہوگا۔ باب یازدہم کے درج بالا حصہ میں موصوف نے وہ تمام معلومات قارئین کے حوالے کی ہیں جن سے کماحقہ تاریخ کی سوجھ بوجھ رکھنے والے بیشتر لوگ واقف تو ہیں مگر ان میں کم افراد ایسے ملیں گے جو متذکرہ تمام واقعات کو مع حوالہ پیش کر سکیں۔ موصوف نے اس نئے باب میں شاہ طہماسب، باپادل، نوشیروان عادل اور مغلیہ سلطنت کے بادشاہ ہمایوں کے ساتھ ایرانی امیر شیخ جام کی بیٹی،حمیدہ بانو کی شادی کا اور ہمایوں کو ایرانی فوج عطا کرنے کا جو مہتم بالشان ذکر کیا ہے وہ آج کے تاریخ دانوں کے لیے معتبر حوالہ بن گیا ہے۔ چونکہ یہ باب کئی معنی میں بہت اہم ہے اس لیے بجامعلوم ہوتا ہے کہ اسی باب سے کچھ اور حوالے پیش کیے جائیں تاکہ اسلامی انقلاب ایران کے بعد کے ہندا ور ایران تعلقات پر بھی کچھ معلومات پیش کی جا سکیں۔ ملاحظہ فرمائیں:

’’۔۔۔۔۔فارسی، غزنویوں اور غوریوں کے ساتھ ہندوستان میں وارد ہوئی تھی اور تھوڑی ہی مدت میں یہاں سرکاری، دینی اور ادبی حیثیت سے بہت اہمیت حاصل کر گئی تھی۔ منگولی حملے کی قیامت میں شاعروں، ادیبوں، عالموں اور دوسرے بزرگوں کے ساتھ عوام کے مختلف طبقوں کی ایران سے ہندوستان کی طرف ہجرت نے اِس زبان کے قدم اور مضبوط کر دیئے۔ اور رفتہ رفتہ اسے ہندوستان میں وہی مرتبہ حاصل ہو گیا جو اس سے پیشتر سنسکرت، پراکرت اور اپ بھرنش کو مِل چکا تھا۔ سولہویں صدی میں فارسی کو مقبولیت اور قابل رشک ترقی کا سب سے بڑا سبب مغل بادشاہوں اور ان کے متعلقین کی سرپرستی ہے۔ شاعروں، ادیبوں اور عالموں کی حوصلہ افزائی میں ہندوستانی بادشاہوں نے ایسی فیاضی اور فراخ دلی کا ثبوت دیا کہ بیشتر فنکار ایرانی درباروں کو سونا کر کے ہندوستانی آستانوں پر آکھڑے ہوئے۔ جن ہنر مندوں کو با مجبوری لوٹنا پڑا وہ روتے ہوئے گئے۔ اور ان کی آنکھیں سارے راستے میں مڑ مڑ کر پیچھے کی طرف دیکھتی رہیں۔‘‘5؎

درج بالا اقتباس سے صاف ظاہر ہے کہ ہنداورایران کے باہمی تعلقات کی بناء پر دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے سے قریب تر ہوتے گئے۔ ایران کے بیشتر ہنرمندوں اور فنکاروں کا یہ عالم تھا کہ وہ ہندوستان کو اپنا وطن ثانی قرار دینے کو مجبور ہو گئے اور جن کو کچھ مجبوریوں کے سبب لوٹنا پڑا وہ لوگ اشکبار آنکھوں سے پیچھے مڑمڑ کر دیکھتے ہوئے واپس لوٹے۔ ان فنکاروں اور عالموں کے دلوں کی کیفیت اور ہندوستان سے محبت کا اندازہ موصوف کے درج بالا جملوں سے بخوبی لگایا جاسکتاہے۔ یہ غالباً وہی زمانہ تھا(سترہ ویں صدی عیسوی) جب شیخ علی حزین لاہیجی(اصفہانی) نے ہمیشہ کے لیے ایران کو خیرباد کہہ کر ہندوستان کو اپنا وطن ثانی قرار دے دیا تھا اور بنارس آنے کے بعد پھر پلٹ کرا پنے وطن عزیز کے بارے میں سوچا تک نہیں اور بنارس کے ہو رہے۔بنارس کے فاطمان (محلہ سِگرا)میں اپنے ہاتھوں اپنی قبر تیار کرلینے کا سیدھا مطلب ہی تھا کہ شیخ علی حزیں نے بنارس سے لوٹ کر واپس ایران جانے کے ارادے کو اپنے دل سے ہمیشہ کے لیے نکال دیا تھا۔ شیخ کی قبر آج بھی بنارس کے فاطمان میں اچھی حالت میں موجود ہے۔ کبھی کبھار ایران اِمبیسی اور ایران کلچر ہائوس، نئی دہلی کے بڑے افسران، علی حزیں کی قبر پر فاتحہ خوانی کے لیے آتے ہیں۔ شیخ کے حالیہ خوبصورت مزار کی تعمیر کا کام انھیں افسروں کے مالی تعاون اور کوششوں کا نتیجہ ہے۔ گزشتہ 7دسمبر2023 کو بھی ایران کلچر ہائوس اور شعبۂ فارسی، بنارس ہندویونیورسٹی کی کوششوں سے شیخ علی حزیں پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد بنارس ہندو یونیور سٹی کے اڈوپّا آڈیٹوریم میں کیا گیا تھا۔ اس کا نفرنس کے ناظم پروفیسر حسن عباس صاحب، صدر شعبۂ فارسی نے راقم کو تحقیقی مقالے کے ساتھ مدعو کیاتھا اور میں اس پورے پروگرام میں حاضر رہا۔

پروفیسر امرت لعل عشرت صاحب، شیخ علی حزیں اور بنارس کے تعلق سے رقم طراز ہیں:

’’الغرض ہندوستانیوں کی داد و دہش نے جب بڑے بڑے ایرانی فنکاروں کو اپنے آستانے پر جبیں سائی کے لیے مجبور کر دیا، فارسی ادب نے مستقل طور پر یہیں اپنا مرکز قائم کر لیا۔ اس مرکز کا قیام شیخ علی حزیں اصفہانی کے بنارس میں منتقل ہونے اور 1765 ہیں یہیں وفات پانے تک بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اور اس اہمیت کی روشن دلیل فارسی شعر و ادب میں اس تحریک کا ظہور ہے جسے جدید ایرانی ’سبک ہندی*‘ یعنی ہندوستانی اسٹائل کا نام دیتے ہیں۔ شیرازی، آملی، کاشانی، تبریزی اور اصفہانی شاعر ہندوستان میں آئے اور ’سبک ہندی‘ کو اپنا کر فصاحت اور بلاغت کے دریا بہانے لگے۔ ان میں بہت سے اسی خاک کے پیوند ہو گئے۔ جو ایران لوٹے انھوں نے اس روشنی کو سارے ایران میں مقبول بنادیا۔ اور یہی سبب ہے کہ آج بھی ایران میں سعدی اور حافظ کے بعد سبک ہندی کے نمائندہ شاعر صائب تبریزی کو بیحد مقبولیت حاصل ہے یا یوں کہیے کہ ہندوستانی انداز فکر نے فارسی ادبیات پر جو گہرے نقوش چھوڑے ہیں وہ آج بھی ایران میں قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیںاور ان عناصر کو مزاج فارسی کے اجزائے ترکیبی میں سے خیال کیا جاتا ہے‘‘6؎

* ’سبک ہندی‘ کی وضاحت کے تعلق سے چند باتیں کرنا چونکہ ناگزیر ہے اس لیے اس سلسلہ میں یہ بتادینا ضروری ہے کہ جدیدفارسی ادبیات کے چار اسلوب تسلیم کیے جاتے ہیں۔ خراسانی، عراقی، ہندی اور دورۂ بازگشت۔ضروری معلوم ہوتا ہے پہلے لفظِ ’سبک‘ کی وضاحت کر دی جائے۔ حقیقتاً سبک ’طرز یا اِسٹائل‘ کو کہتے ہیں۔’سبکِ ھندی یعنی ھندوستانی اِسٹائِل۔ ایرانی شعرانے جب ہندوستان کا سفر اختیار کیاتو ھندوستانی شعرا کے فارسی کلام سے آگاہ اور مستفیض ہوئے تبھی ’سبک ھندی‘ کی قدر و منزلت سے واقف ہوئے، اس لیے کہ یہ سبک خاص ہندوستانی تھا۔ پھر ہندوستان کے فارسی گو شعرا بھلا اس میدان میں پیچھے کیوں رہتے۔ انھوں نے بھی اپنی کمیت قلم کی عنان سے فارسی شاعری کے باغ میں جو نئی نئی قلمیں باندھیں اس سے ایرانی اتنے متاثر ہوئے کہ انھوں نے ’سبک ھندی‘ کو اس شد و مد کے ساتھ اپنایا کہ ’سبک ھندی‘ بھی سبک خراسانی، سبک عراقی اور دورۂ بازگشت کی ہم پلہ بن گئی، جسے فارسی ادب میں ایرانیوں کے لیے میل کا پتھر کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا۔ ویسے تو عام طور پر یہی سمجھاجاتا ہے کہ ہندوستانی فارسی گو شعرا کے کلام ہی سبک ہندی کے آئینہ دارہیں، جو درست نہیں ہے۔ ایرانی شعرا کلیم کاشانی، صائب تبریزی اور ایسے ہی متعدد شعرا کے کلام سبک ھندی کا بہترین نمونہ ہیں۔ علی قلی سلیم کا ایک وہ شعر ملاحظہ فرمائیںجس میں وہ صاف صاف کہتا ہے کہ شاعری میں کمال حاصل کرنے کے لیے ایران میں اس وقت تک کچھ حاصل نہیں ہوتا جب تک کہ ہندوستانی طرز سے استفادہ نہ کیا جائے۔ شعر ملاحظہ فرمائیں    ؎

نیست در ایران زمین، سامانِ تحصیلِ کمال

تا نیاید سوئی ھندوستان، حنا رنگین نہ شد

اور صائب تبریزی بھی علی العلان کہتا ہے کہ جب تک میں ’سبک ھندی‘ سے بیگانہ تھا، شہرت سے بھی بعید تھا۔ اس کا قول اسی کے شعر میں ملاحظہ فرمائیں      ؎

ھند را چون نہ ستایم کہ درین خاکِ سیاہ

شعلہ شہرتِ من جامۂ رعنائی یافت

 اس سلسلہ میں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ جدید فارسی کے مایۂ ناز اسکالر پروفیسر امرت لعل عشرت کے خیال پر بھی نظرثانی کرلی جائے تاکہ مفہوم کی وضاحت قدرے آسان ہو سکے۔ موصوف فرماتے ہیں:

 ’’یہاں ایک غلط فہمی کا ازالہ کرنا چاہتا ہوں۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ھندوستان کے فارسی گو شعرا کا کلام ہی سبک ھندی کا حامل ہے اور یہ کہ ایران میں یہ روِش نہیں اپنائی گئی۔ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ سبک ھندی کو فارسی ادب میں ایک ایسی تحریک سمجھنا چاہیے، جس کے اجزائے ترکیبی میں بیشتر ہندوستانی اندازفکر کارفرتھے۔مضمون اور زبان، دونوں لحاظ کی ہندوستانی چھاپ اس پر صاف نظرآتی ہے لیکن بحیثیت مجموعی، ہندوستانی شاعروں نے اس روِش کو پسند کیا۔ آملی کاشانی، تبریزی اور اصفہانی شاعر، ہندوستان میں آئے اور اسلوب ہندی کو اپنا کر فصاحت و بلاغت کے دریا بہانے لگے۔‘‘7؎

امید کی جاسکتی ہے اب ہندوستانی فارسی گو شعرا کے کلام میں’سبک ہندی‘ کی وضاحت بخوبی ہوگئی ہوگی۔پروفیسر امرت لعل عشرت اپنی مایۂ ناز کتاب ’ایران صدیوں کے آئینے میں‘ میں ہندوستانی کلچر کی ایرانیوں پر چھاپ کا ذکرکرتے ہوئے مزید رقم طراز ہیں:

’’ہندوستانی کلچر کی ایک اور گہری چھاپ جو اب تک ایرانیوں کے عارفانہ تصورات میں موجود ہے، رہبانیت اور فلسفۂ عرفان حق کی زبردست تبلیغ ہے۔ یہ ہندوستانی بدعت، بھگتی اور اپنشدوں کا پیغام ہی تھا جس نے ان صوفیانہ نظریات کی تشکیل میں حصہ لیا جو بعد میں تصوّف کے عنوان سے ایک مکمل نظام معرفت بن گئے۔ ایرانی صوفی انھیں عارفانہ نظریات کی وجہ سے آج بھی ہندوستان کے یوگیوں اور سنتوں سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ بدھ دھرم کے ماننے والوں کے لیے وہ زمانہ بھی ایک سنہری یادگار کی حیثیت رکھتا ہے۔ پرش پور یعنی پیشاور کے بِھکشو ایران ہوتے ہوئے دمشق تک جاپہنچے تھے اور مذہبی تبلیغات کے علاوہ ہندوستانی فکر و فن کے مختلف پہلوئوں پر بھی روشنی ڈالتے تھے۔ قدیم ایرانی وادی بامیان میں بودھی خانقاہوں اور مہاتما بدھ کے عظیم الشان مجسموں کا انکشاف ایران قدیم میں ہندوستانی مذاہب کی مقبولیت کی انکشاف کا ثبوت بھی ہے اور ’گندھارا‘ آرٹ کی ترقی کا مظہر بھی۔ فارسی زبان میں بت کا لفظ بدھ سے ہی نکلا ہے اور یہ اسی زمانے کی دین ہے۔‘‘8؎

مہمان نوازی میں ہندوستان جیسی اپنائیت

ہندوستانی عوام اپنے مہمانوں کو ’بھگوان‘ مانتے ہیںاور اسی لیے کہتے ہیں کہ ’اتِتھ دیوو بھوْ‘۔ اس کلمہ پر ہندوستانی عوام کو ناز ہے۔ ایرانیوں کے تعلق سے اس سلسلہ میں موصوف ان کا تقابل ہندوستانیوں سے کرتے ہوئے نہائت جاذب و جالب انداز میں ایرانی ماحول کا جائزہ لیتے ہوئے جو کچھ فرماتے ہیں، اس میں ان کا طرز تحریر اور افسانوی کیفیت ملاحظہ فرمائیں:

’’آج ایرانی زندگی کے ہر پہلو پر اگرچہ مغرب کی چھاپ بہت گہری دکھائی دیتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک ہندوستانی سیاح بہت دنوں تک اس ماحول میں اجنبیت محسوس نہیں کرتا۔ مغربی انداز کا رہن سہن اختیار کرنے کے باوجود ایرانی آداب و رسوم اور انداز فکر میں اب بھی وہی قدیم آریائی روح کارفرما نظر آتی ہے جو ایران اور ہندوستان میں ایک قدیم مشترک کی سی حیثیت رکھتی ہے۔ مغرب کے اثرات دوررس سہی لیکن وہ روایات ابھی زندہ و تابندہ ہیں جن کے مضبوط اور قدیم رشتے سیکڑوں سال پہلے کی مشترک تہذیت سے وابستہ ہیں۔ مغربی لباس اور مغربی زبان و آداب کے چاہنے والے کثرت سے ملتے ہیں لیکن بزرگوں کے سامنے مشرقی لباس ہی احترام کی نشانی ہے۔ اور دل کی بات اپنی ہی زبان میں کہی سنی جاتی ہے۔ دسترخوان پر بیٹھیے تو چِلو، پلو، بریانی، کوفتہ اور کباب کی موجودگی سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ آپ تہران میں نہیں بلکہ دہلی کے موتی محل ہوٹل میں تشریف رکھتے ہیں، جہاں مہمان داری کی لذیذ روایات قایم رکھتے ہوئے آپ سے باربار اصرار کیا جا رہا ہے کہ ہر چیز کو زیادہ سے زیادہ کھائیے۔ میزبان اور اس کے دوست خالص ہندوستانی انداز میں اپنے حصے کے کھانے میں سے اچھی اچھی چیزیں نکال کر آپ کو پیش کر رہے ہیں تاکہ مہمان کے احترام اور پذیرائی میں کچھ بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جاسکے۔ صاحبِ خانہ اور اس کے ساتھیوں کے نام اتنے جانے پہچانے ہیں کہ ہندوستانی مہمان اپنے آپ کو لکھنؤ یا دہلی کے حلقۂ احباب میں گھرا ہوا محسوس کرتا ہے۔ احمد، حسن، ناہید، نسرین، یاسمین، فاطمہ وغیرہ۔ سبھی ہندوستانی نام ہی تو ہیں۔ ان کے علاوہ بیسیوں الفاظ شب و روز ایسے سنائی پڑتے ہیں جو ہندی الاصل ہیںاور جن کی مفرد صورتیں بڑی آسانی سے پہچانی جا سکتی ہیں۔ پنکا، گاری، کرباس، برشگال، نارجیل، شیت وغیرہ۔ اسی قبیل کے الفاظ ہیں جن کے ہندوستانی روپ پنکھا، گاڑی، کپاس، ورشگال، ناریل اور چھینٹ ہیں۔‘‘9؎

موسیقی

ہندوستانی موسیقی کی ایرانیوں کے دلوں پر جو چھاپ ہے اس کا ذکر بھی موصوف مدلل کرتے ہوئے کہتے ہیں:

’’ہم ہندوستانیوں کی طرح ایرانیوں کو بھی موسیقی سے بہت دلچسپی ہے۔ گھر میں، بازاروں میں، ریسٹورانوں میں، خلوت میں، جلوت میں، غرض ہر جگہ موسیقی کی روح پرور لہریں ماحول کو سیراب و شاداب کرتی رہتی ہیں۔ ایرانی موسیقی کی عام دھنیں کچھ اس انداز سے پیش کی جاتی ہیں کہ ایک ہندوستانی سنگیت کار کو فوراً اپنے سنگیت کا وہ روپ یاد آجاتا ہے جس کو موسیقی کی اصطلاح میں بھیروی کا مصری انگ کہا جاتا ہے۔ لے کاری کا انداز بھی ہمارے یہاں کے دادرے اورکہروے سے مختلف نہیںبلکہ کئی دفعہ تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سنگیت خالص ہندوستانی ہے اور محض الفاظ فارسی کے۔‘‘10؎

ہندوستانی فلموں کا ایران پر اثر

اسی طرح ہندوستانی فلموں اور یہاں کے کلاکاروں کی جو چھاپ ایرانیوں کے دلوں پر موجود ہے، اس کا ذکر بھی موصوف جس انداز سے کرتے ہیں، وہ تمام لائق داد و تحسین ہے۔ یہ سب کچھ انھوں نے ایران میں رہائش کے دوران دیکھ اور محسوس کر کے لکھا ہے اس لیے اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں نظر آتی۔ ایرانیوں کے درمیان رہ کر جوکچھ انھوں نے محسوس کیا اور اس سے جس درجہ متاثر ہوئے، قارئین کو بھی اپنے تجربات سے متعارف کراتے ہوئے کہتے ہیں:

 ’’ایران میں ہندوستانی فلموں کو بہت مقبولیت حاصل ہے۔ ہندوستان کی فلمی شخصیتوں کے یہ لوگ اس حد تک عاشق ہیں کہ تہران کے خیابانوں میں اکثر ’نرگسِ راجکپورہ‘ کی صدائیں سنائی دیتی ہیں۔ پوچھنے پر معلوم ہوگا کہ کوئی لڑکا نرگس کے پھول بیچ رہا ہے اور ان پھولوں کو ’نرگسِ راجکپورہ‘ یعنی راج کپور کی نرگس کہہ کر گاہکوں کو متوجہ کر رہا ہے۔ ہندوستانی فلموں کے مکالمے اور گیت فارسی میں’ ڈب‘ کر لیے جاتے ہیں اور لیکن سنگیت ہندوستانی ہی رہنے دیا جاتا ہے۔ اس طرح گلی کوچوں میں ہندوستانی دھنیں گونجتی رہتی ہیںاور ہر خاص و عام کی دلچسپی کا باعث بنتی ہیں۔ فلموں کے ذریعہ ہی ہمارے رسم و رواج، آدابِ معاشرت اور لباس وغیرہ کی تفصیل ایران میں پہنچی ہے۔ ہندی لباس یعنی ساڑی اور ہندی رقص سے دل بستگی زیادہ تر فلموں ہی کی وجہ سے ہے۔‘‘11؎

ایرانی طرز حکومت اور تعلیم

’’ایران کا طرز حکومت ہم سے مختلف ہے لیکن عوام کی اکثیرت ہمارے جمہوری نظام کو احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ ادبی حلقوں میں دنیا کے بہترین شعراء کے مقابلے میں ٹیگور کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ایرانی محقق عربی کے ساتھ ساتھ سنسکرت تعلیم بھی ضروری سمجھتا ہے۔ لسانی تحقیق کے سلسلہ میں گم شدہ کڑیوں کا پتہ چلانے کے لیے عربی کی طرح سنسکرت کی ضرورت بھی پڑتی ہے اِسی لیے تہران یونیورسٹی میں سنسکرت کا ایک مستقل شعبہ قائم کیا گیا ہے جس کی صدارت کے لیے عام طور پر کسی برگزیدہ ہندوستانی عالِم کو مدعو کیا جاتا ہے۔‘‘12؎

جس حد تک راقم السطور اس کتاب سے واقف ہے، اس کے پیش نظر قارئین سے اتنا ضرور کہنا چاہوں گا کہ اگر انھیں بھارت اور ایران کے قدیمی اور باہمی رشتوں کے تعلق سے بہتر معلومات حاصل کرنی ہوں تو وہ اس کتاب سے استفادہ ضرور فرمائیں۔ جب میں نے اس کتاب کا بغائر مطالعہ کیا تو میرا دل چاہا کہ مجھے بھی زندگی میں کم از کم ایک مرتبہ ایران ضرور جانا چاہیے۔الحمدللہ میری یہ خواہش 2010 میں پوری ہوئی۔ ایران میں قدم رکھنے کے بعد میں نے وہاں پر وہی سب کچھ محسوس کیا جیسا عشرت صاحب کی مذکورہ بالا کتاب میں درج ہے۔حد تو یہ ہے کہ جب کسی ایرانی سے میری ملاقات ہوتی اور اسے یہ معلوم ہوتا کہ میں ہندوستانی ہوں تو وہ اپنی خوشی کا اظہار میرے ہاتھ پر بوسہ دے کر کرتا تھا، جومجھے بہت بھلا محسوس ہوتا تھا۔ اس سفر میں ایران میں میرا قیام بہت مختصر تھا۔ صرف چودہ دن، کیونکہ مجھے اس سلسلہ میں بنارس ہندو یونیورسٹی سے زیادہ دنوں کی چھٹی نہیں مل سکی تھی۔

سخنوران بنارس

’ایران صدیوں کے آئینے میں‘ کا ذکرنے کے بعد ان کی اس کتاب کا ذکر کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے جس کی تالیف موصوف نے بنارس ہندویونیورسٹی کے شعبۂ اردو کی ملازمت کے دوران کی تھی۔ اس کتاب کا نام ’سخنوران بنارس‘ ہے جس میں انھوں نے بنارس کے تعلق سے سلسلۂ مصحفی کے شعرا کا ذکر ان کے کلام پر تبصرے کے ساتھ کیا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:

’سلسلۂ مصحفی کے سخنوران بنارس‘:(متذکرہ کتاب کا اصل عنوان ’سخنوران بنارس‘ ہی ہے۔ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ یہ بتا دیاجائے کہ اس کتاب کے ساتھ’ سلسلۂ مصحفی۔۔۔۔۔ ‘کا لاحقہ کیوں ہے۔ معاملہ دراصل یہ ہے کہ انیسویں صدی کے اخیر اور بیسویں صدی کے آغاز میں بنارس میں جتنے شاعر ہوئے، وہ تمام مرزامحمدحسن فائز صاحب بنارسی(7جولائی1856۔13مئی1929) کے شاگرد تھے یا ان شاگردوں کے شاگر تھے۔ اس مقام پر یہ بتا دینا بھی ضروری ہے کہ بنارس ہندویونیورسٹی کے اولین صدر شعبۂ عربی و فارسی، مرزامحمد حسن صاحب فائز بنارسی خود مصحفی کے آخری شاگرد تھے۔ اس کے بعد سے اب تک بنارس کے جتنے بھی شاعر ہیں وہ تمام یا تو فائز صاحب کے شاگرد تھے یا ان کے شاگردوں کے شاگرد۔ اسی سبب اس کتاب کے نام کے ساتھ ’سلسلۂ مصحفی ۔۔۔۔۔‘کا لاحقہ ہے۔ مرزا فائز کو ان کی انھیں خوبیوں کی بنا پر استاذوں کا استاذ بھی کہا جاتا ہے۔

پروفیسر عشرت کی یہ کتاب کل 31ابواب کے ساتھ 398صفحات کا احاطہ کرتی ہے جس کا حال ذیل ہے:

مقدمہ از ڈاکٹر عبدالسلام، تعارف از ڈاکٹر علیم مسرور،عرض حال از ڈاکٹر امرت لعل عشرت۔ اس کتاب میں بنارس کے جن شعرا کو موصوف نے شامل کیا ہے، ان کے نام ذاکر بنارسی، فائز بنارسی، محشر بنارسی، غنی بنارسی، بیتاب بنارسی، فرخ بنارسی، آفاق بنارسی، ریاض بنارسی، اسد بنارسی، طاہر بخش طاہر، نذیر بنارسی، حفیظ بنارسی، بھولے بسرے لوگ، کلیم بنارسی، سعید بنارسی، خیر الدین حسن طاہر بنارسی، شوق بنارسی، ناصر بنارسی، ساجد بنارسی، جمیل بنارسی، افسوس بنارسی، فضا بنارسی، کامل بنارسی، کوکب بنارسی، اقبال بنارسی، علیم مسرور، مسلم بنارسی اور جوہر صدیقی۔

اس کتاب میں جن شعرا کے احوال درج ہیں، ان میں سب سے اہم نام چونکہ مرزامحمدحسن فائز صاحب بنارسی کا ہے اس لیے بجامعلوم ہوتا ہے کہ انھیں کے احوال و آثار پر اکتفا کیا جائے تاکہ مضمون کے صفحات حدسے تجاوز نہ کرنے پائیں۔ ملاحظہ فرمائیں:

فائز کا پورا نام مرزا محمد حسن اور فائز بنارسی تخلص تھا۔ فائزکے مورث اعلیٰ میر ولایتی اصفہان (ایران) سے ہندوستان آئے تھے۔ یہ خاندان ایک عرصے تک بہارکے بھاگل پور میں مقیم رہا۔ اس خانوادہ کے میرنوازش حسین، بنارس تشریف لائے اور اپنے زرخرید مکان واقع محلہ گوری گنج میں آباد ہوگئے۔یہ سلسلہ مولوی الطاف حسین رابط اور فائز بنارسی پر آکر ختم ہو گیاکیونکہ فائز کو کوئی نرینہ اولاد نہ تھی۔ ان کی صرف دوبیٹیاں تھیں، جن میں ایک بیٹی کی شادی مولوی الطاف حسین رابط سے ہوئی تھی۔ اس سلسلہ میں پروفیسر امرت لعل عشرت، سابق صدر شعبۂ فارسی، بنارس ہندویونیورسٹی، سخنوران بنارس میں فرماتے ہیں:

’’ان کے (مرزا فائز) ایک دامادمیر وزیر حسن عروج تھے جن کا شمار اپنے دور کے اچھے شعرا میں ہوتا تھااور جنھوں نے محلہ گوری گنج میں اپنا پرنٹنگ پریس قائم کر رکھا تھا۔ فائز کا دیوان ’تاج سخنور‘ اسی پریس میں عروج صاحب نے 1320ھ مطابق 1904 میں چھاپا تھا۔ بعد میں 1926 میں فائز کے دیوانے نواسے واجد حسین نے اس مطبع جلالی میں آگ لگادی تھی جس سے بہت سے قدیم ادبی ذخائز تلف ہو گئے۔ شاید خود فائز کے اردو و فارسی کلام کا ایک کثیر حصہ اسی آگ کی نذر ہو چکا ہے۔‘‘ 13؎

فائز کی علمیت کی بدولت ان کا حلقۂ احباب بہت وسیع تھامگر پنڈت مدن موہن مالویہ، ڈاکٹر بھگوان داس، آچاریہ رام چندر شکل اور جناب شیوپرساد گپت کا شمار ان کے خاص الخاص احباب میں ہوتا تھا۔ مرزا فائزبنارسی کی بیٹی کے صاحب زادے جناب کاظم رضوی صاحب راقم کو ایک انٹرویو میں بتاتے ہیں کہ جس دن جناب بھگوان داس کو مالویہ جی سے ملاقات کی غرض سے ہندویونیورسٹی جانا ہوتا،اس روز وہ فائزصاحب کو اطلاع بھیج دیتے کہ اگر مالویہ جی سے ملاقات کی غرض سے آج آپ کا یونیورسٹی جانے کا ارادہ ہوتو میراانتظار فرمائیے۔اور فائز صاحب انھیں کی بگھّی میں سوار ہو کر مالویہ جی سے ملنے اکثر جایا کرتے تھے۔

مادروطن ہندوستان کی محبت فائز کی شریانوں میں لہوبن کر گردش کرتی تھی۔ اس سلسلہ میں پروفیسر امرت لعل عشرت فرماتے ہیں:

 ’’ہندویونیورسٹی کی تعمیر و تشکیل میں ان بزرگوں (پنڈت مدن موہن مالویہ، ڈاکٹر بھگوان داس، آچاریہ رام چندر شکل اور جناب شیوپرساد گپت وغیرہ) کے ساتھ فائز کی حب الوطنی نے بھی کارہاے نمایاں انجام دیے۔‘‘14؎

موصوف نے انگریزی میں انٹر پاس کرنے کے بعد ’سگڑامشن اسکول‘ میں اردو اور فارسی کے مدرّسِ اعلیٰ کی حیثیت سے علمی خدمات کا آغاز کیا۔ کچھ عرصے بعد جے نرائن کالج میں مدعو کیے گئے جہاں پر انھوں نے تدریس کا کام شروع کر دیامگر وہاں بھی زیادہ عرصے تک نہیں رہے اور اپنے شاگردعزیز بھارتیندو ہریش چندر کی فرمائش پر موصوف نے ہریش چندر کالج، بنارس میں درس دینے کا کام شروع کیا۔

بھارت رتن مالویہ جی کی صا ئب نظری کو اگر ان الفاظ میں تعبیر کیا جائے تو کوئی مبالغہ نہ ہوگا کہ موصوف نے فائز بنارسی سے وقتاً فوقتاً ملاقاتوں کے درمیان اس جواہر کی پرکھ بہت پہلے ہی کر لی تھی چنانچہ بنارس ہندویونیورسٹی کے قیام اور اس میں شعبۂ عربی و فارسی کے آغاز(1918) کے ساتھ ہی موصوف نے فائز صاحب کا انتخاب اس شعبہ میں صدر شعبہ کی حیثیت سے کر دیا۔اس طرح فائز کو بنارس ہندویونیورسٹی کے شعبۂ عربی و فارسی کے اولین صدر ہونے کا فخر حاصل ہے۔ فائز یہاں سے تاعمر وابستہ رہ کر ہندویونیورسٹی کی خدمات انجام دیتے رہے۔

فائزبنارسی کی شاعری میں جو گہرائی اور گیرائی تھی اسی سبب ان کا چرچہ بنارس اور قرب و جوار ہی تک نہیں بلکہ دور دور تک پھیلا ہوا تھا۔ اسی سبب بیشتر علم دوست حضرات نے اپنے بچوں کو موصوف کی خدمت میں بھیجنا شروع کر دیا تاکہ وہ استاذالشعرا کے آگے زانوے تلمذ تہہ کریں۔ ان کے سیکڑوں تلامذہ اپنی غزلوں وغیرہ پر اصلاح پانے کی غرض سے موصوف کی خدمت میں ان کے دولت کدے(گوری گنج) پر حاضری دینے لگے۔ موصوف کے تلامذہ میں خاص نام ہندی ادب میں میل کا پتھر کہے جانے والے جگن ناتھ داس رتناکر، جے شنکر پرساد، بھارتیندو ہریش چند روغیرہ خاص الخاص تھے۔فائز صاحب اپنے تلامذہ میں جگن ناتھ داس رتناکر سے بہت قریب تھے۔کچھ لوگ تو رتناکر کو برج بھاشا کا آخری کوی بھی گردانتے ہیں۔رتناکر نے جب اردو میں شاعری کا آغاز کیا تو فائز کی صلاح پر اپنا تخلص ذکی رکھا۔رتناکر جی کی صلاحیتوں سے فائزصاحب حددرجہ متاثر تھے۔فائز نے اپنے اس چہیتے شاگرد کی شان میں ایک نہائت جاذب و جالب دعائیہ شعر کہا، جو ذیل ہے     ؎

بہ محفل شمعِ تاباں و بہ گلشن رنگ و بو باشی

الٰہی ہر کجا باشی، محیط آبرو باشی

ڈاکٹر سمپورنانند، جو کہ اردو میںبھی شاعری کرتے تھے، ان کا تخلص آنند تھا۔اردو شاعری کے تعلق سے انھوں نے بھی اپنا زانوے تلمذ فائز صاحب کے آگے تہہ کیا تھا۔ ان حضرات کے علاوہ ڈراموں کے معاملے میں ہندوستان کے شیکسپیئر کہے جانے والے آغا حشر کشمیری کے علاوہ منشی بیتاب بنارسی، جناب رام کمار چوبے(جن کے بارے میں مشہور تھا کہ انھوں نے 25زبانوں میں ایم۔اے۔کیا تھا۔ منشی غنی بنارسی (والد مسلم الحریری)، مرزا عباس بیگ محشرجیسی قدآور شخصیات کا نام ان کے تلامذہ میں شامل تھا۔ نظام حیدرآباد نے فائز کو اپنا درباری شاعر بنانے کے لیے دعوت نامہ بھیجا تھا مگرچونکہ موصوف کو بنارس از حد عزیز تھا اس لیے انھوں نے وہ عہدہ کسی بہانے سے قبول نہ فرمایا۔ بنارس اور قرب و جوار میں منعقد ہونے والے بڑے مشاعروں کی صدارت اکثر فائز صاحب کے حصے میں آتی تھی۔جے شنکر پرساد جب کبھی اپنے دولت کدے پر ’کوی گوسٹھی‘ کا انعقاد فرماتے تھے تو اس میں صدارت کے لیے اپنے استاد فائز سے ملتجی ہوتے۔ پرساد جی جب بھی انھیں صدارت کے لیے مدعو کرتے، وہ اسے خوش دلی کے ساتھ قبول فرماتے تھے۔نواب مرشدآباد سے بھی فائز کے گہرے اور نِجی مراسم تھے۔موصوف شیخ علی حزیں کے بڑے معتقد تھے۔

فائز صاحب کے دو نواسے تھے۔اپنے دونوں نواسوں، واجد حسین اور حامد حسین کی پرورش انھوں نے بڑے تزک و احتشام کے ساتھ کی تھی۔1926 سے بڑے نواسے واجد حسین پر دیوانگی کا دورہ پڑنے لگا۔کافی تگ و دو اور معالجے کے باوجود جب وہ صحتیاب نہ ہو سکا توخیراندیشوں کی صلاح پر اسے رانچی کے پاگل خانے میں داخل کروا دیا جہاں سے وہ لاپتہ ہوگیا۔ان کے دوسر ے نواسے، جسے موصوف جان سے بڑھ کر عزیز رکھتے تھے، اچانک 8مئی 1929 کو اس کا بھی انتقال ہو گیا۔اس سلسلے میں پروفیسر عشرت صاحب کچھ اس طرح رقمطراز ہیں:

’’آخری عمر میں فائز کو بہت صدمات سہنا پڑے۔ انھوں نے اپنے دونوں نواسوں واجد حسین اور حامد حسین کو اسی دلار سے پالا تھا جیسے مرزاغالب نے باقرعلی خاں اور حسین علی خاں کو۔ 1926 میں واجد حسین پر دیوانگی کا زبردست دورا پڑا اور انتہائی مجبوری میں فائز نے اس کو آگرہ کے پاگل خانے میں داخل کروا دیا۔ یہاں سے واجد حسین ایک دن ایسے گم ہوے کہ اب تک کوئی نشان نہیں مل سکا۔ دوسرے نواسے حامد حسین، جن کو اب فائز اپنی جان سے عزیز رکھتے تھے، 8مئی1929 کو اچانک انتقال کر گئے۔13مئی کی صبح کو کسی طرح فائز کو اس موت کی خبر مل گئی۔ ایسا صدمہ ہوا کہ اسی دن نواسے کے پیچھے پیچھے ملک عدم کی راہ لی۔‘‘15؎

1913 میں سید وزیر حسن عروج نے فائز صاحب کا ایک دیوان شائع کرایا تھا جس کا نام ’تاج سخنور‘ تھا۔یوں تو فائز صاحب کی شاعری کے بہترین نمونے ’سخنوران بنارس‘ کے علاوہ ان کے دیوان اور اس تحقیقی مقالے میں بھی دستیاب ہیں جو شعبۂ اردو میں برائے تفویض سند پی۔ایچ۔ڈی۔ داخل کیا گیا تھا۔ میں اس مختصر مضمون میں چند وہ اشعار سپرد قلم کر رہا ہوں جو فائز صاحب کے غیر مطبوعہ کلام کا حصہ ہیں۔ ملاحظہ ہوں       ؎

فائز کو ملی روشنیِ تاب ازل سے

تا شمع بنارس میں جلے قبر حزیں پر

مرنے کے بعد بھی نہ گیا بانکپن تِرا

تختے پہ بہر غسل لِٹایا، اکڑ گیا

کیوں دل جلوں کے لب پہ ہمیشہ فغاں نہ ہو

ممکن نہیں کہ آگ لگے اور دھواں نہ ہو

ہونا جسے سب کی نگاہوں میں ہو ذلیل

کہہ دے وہ عزیزوں سے مصیبت اپنی

پردے سے پوچھتے ہو، مِرا دل کہاں ہے اب

پہلو میں میرے آئو تو کہہ دوں یہاں ہے اب

حسرتِ دید مجھے کھینچ یہاں لائی ہے

کیوں نکالا مجھے، حسرت کو نکالا ہوتا

بعد راحت نہ خدا دے تکلیف

دھوپ بدلی کی کڑی ہوتی ہے

فائز صاحب کی آخری رسومات میںمع پنڈٹ مدن موہن مالویہ جی، شہر بنارس کے بیشتر شاعر، ادیب اور اکابِر شہر شامل تھے۔ موصوف کی قبر جمعہ شاہ گیانی کی مزار کے نزدیک(واقع محلہ ریوڑی تالاب،بنارس)میں آج بھی نہائت خستہ حال میں موجود ہے۔ جس زمانے میں ڈاکٹر سمپورنا نندجی آنند اترپردیش کے وزیر اعلیٰ تھے، انھوں نے فائزصاحب کے مزار کی مرمت کی پیشکش کی تھی مگر نہ جانے کس سبب یہ کام ممکن نہ ہو سکا۔

فائز کی زودگوئی اور خوش کلامی کا اندازہ ان کے اسی امر سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ موصوف چشم زدن میں تضمین کا مصرعہ کہہ لینے میں بڑی مہارت رکھتے تھے۔ کاظم رضوی صاحب نے راقم کو بتایا تھا کہ ایک مرتبہ پٹنہ کے ایک شاعرجناب شاد صاحب عظیم آبادی، فائز کے گھر مہمان ہوئے۔ رخصت کے وقت ان کی شیروانی کا دامن آنگن میں اگی گلاب کی جھاڑیوں میں الجھ گیا تو شاد عظیم آبادی نے فائز سے مخاطب ہو کر یہ مصرعہ کہا ’’دامنِ گل جو الجھ جائے کہیں خاروں سے‘‘ تو فائز نے توقف کے بغیر اس مصرعے پر فوری تضمین لگاتے ہوئے فرمایا کہ ’’بلبلیں آ کے چھڑا دیں وہیں مِنقاروں سے۔‘‘

عام طور پر اچھے شعرا کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے اشعار صاحب علم و فضل کی داد کا نشانہ بنیں۔ فائز بھی اس فطری امر سے مستثنیٰ نہ تھے۔ ویسے تو ایک باظرف شخص کی مانند اس شکائت کا اظہار انھوں نے کبھی اپنے حلقۂ احباب یا تلامذہ میں نہیں کیا مگر موصوف کی درج ذیل رباعی میں یہ شکایت صاف نظر آتی ہے     ؎

کس درجہ ہوں ناچیز و فقیر اے فائز

بات اپنی نہیں ہے دل پذیر اے فائز

گویا کہ زمانہ مولوی شبلی ہے

میں ہوں ہمہ تن نظم دبیر اے فائز

چونکہ اردو کے اساتذہ اور اکابِر ادب بہتر جانتے ہیں کہ اپنے اشعار کی خاطرخواہ داد نہ موصول ہونے کے تعلق سے فائز نے اس مقام پر علامہ شبلی نعمانی اور نظم دبیر کا ذکر کیوں کیا ہے، اس لیے راقم السطور کو اس سلسلہ میں مزید وضاحت کی ضرورت نہیں۔

فائز کے قلمرو کی وسعت نے ان کے نام نامی کو اتنی دور تک پہنچایا کہ ہر چہار سمت شعرا، ادبا اور اکابر کو انھیں کا پرچم لہراتا نظر آتا تھا۔ موصوف کی شاعرانہ خصوصیات میں ایک یہ بھی تھی کہ وہ ایک تلمیح کو مختلف طریقوں سے نظم کرنے میں بھی مہارت تھے۔ مثال کے لیے     ؎

ہو عزیزوں سے جو تکلیف تو غربت بہتر

بِک کے یوسفؑ یہی کہتے تھے کہ سستا چھوٹا

جان کی فکر نہ تھی، رنج تھا یہ یوسفؑ کو

باپ کا نام ڈبوتے ہیں برادر ہو کر

نرخِ بازار اب اے یوسفؑ ثانی یہ ہے

جان دیدیتے ہیں سب نام تمھارا لے کر

اگر سچ پوچھیے تو زر کا عالم میں یہ رتبہ ہے

کہ یوسفؑ سے بھی بڑھ کر اس کو اہل کارواں سمجھے

یوں تو فائز کے فارسی کلام کا ایک مختصر دیوان بعنوان ’چمنستان عجم‘ دستیاب ہے پھر بھی مضمون کی طوالت سے گریز کے پیش نظر یہاں موصوف کی ایک اور فارسی غزل پیش کی جا رہی ہے جسے موصوف کا شاہکار بھی کہا جاتا ہے، تاکہ جن شائقین کی رسائی متذکرہ دیوان تک نہ بھی ہو سکے وہ بخوبی اندازہ کر لیں کہ استاذالشعرا مرزامحمد حسن فائزبنارسی، فارسی کے بھی کیا خوشگو شاعر تھے     ؎

در مہر تجلی تو پیدا شدنی نیست

ہر دست کہ سوزد یدِبیضا شدنی نیست

گوہر بصفایت نرسد ایِ یمِ خوبی

این قطرۂ آبست کہ دریا شدنی نیست

بر میتِ مجنوں شدہ انبوہِ غزالاں

اکنوں گذرِ ناقۂ لیلیٰ شدنی نیست

این عرصۂ حشرست کہ کویِ تو ستمگر

عذری ز گنہگار پذیرا شدنی نیست

خون جوش عبث میزند ایِ نافہ آہو

خو بو صفتِ زلفِ سمن سا شدنی نیست

باشد دلِ من مسکن مخصوص کدورت

گنجائشِ این خاک بصحرا شدنی نیست

ہر چند کہ زود آمدنی نیست قیامت

چون صبحِ شبِ ہجر مگر نا شدنی نیست

مالید مسی و دھن از ناز خموش است

این غنچۂ گل ہست و بشب وا شدنی نیست

نزدیک بودْ مرگ و ز فائز تو بعیدی

ایِ جانِ جہان وصل تو آیا شدنی نیست

درج بالا غزل میں بیشتر شعری صنعتوں، الفاظ کی بہترین نشست اور ترتیب کا خیال بدرجہ اتم رکھا گیا ہے، جسے موصوف کی قادرالکلامی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ یہ غزل فائز کی کہنہ مشقی کے زمانے کی ہے،اس کا بیّن ثبوت اس غزل کا مقطع ہے، جس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ غزل موصوف کی عمر کے آخری زمانے کی ہے۔

فائز صاحب شیخ غلام ہمدانی مصحفی کے سلسلے کی آخری کڑی تھے جب کہ فائز کے زمانے سے اب تک بنارس کے بیشتر شعرا یا تو فائز کے شاگردتھے یا ان کے شاگردوں کے شاگرد۔ اسی سبب موصوف استاذالشعرا کے لقب سے یاد کیے جاتے ہیں۔انھوں نے علم و فن کی تسکین و تبلیغ کے پیش نظر کبھی آرام اور راحت کو فوقیت نہیں دی بلکہ ان کا زیادہ وقت درس و تدریس کے لیے وقف تھا۔ شاعری اور علم عروض کے فن میں مہارت کے ساتھ متون قدیم پر بھی موصوف کو زبردست عبور حاصل تھا۔ اسی سبب ان کی شہرت بنارس اور قرب و جوار کے علم دوستوں کے علاوہ دور دور تک پھیلی ہوئی تھی۔شاید اسی وجہ سے ان کا حلقۂ احباب بہت وسیع تھا۔

فائز کے شاگردوں کی کثرت کے سلسلہ میں پروفیسر عشرت صاحب: فرماتے ہیں:

’’فائز کا حلقہ تلمذ بہت وسیع تھا۔ شاگردوں کا ایک جم غفیر ان کے ساتھ رہتا تھا۔ اس شان سے وہ لوگ مشاعروں اور ادبی نشستوں میں شریک ہوتے تھے کہ مصحفی اور انشا کی معرکہ آرائیاں یاد آجاتی تھیں۔ اس ماحول میں مصحفی کے براہ راست نمائندے تو فائز بذات خود ہوتے تھے اور میر، انشا کی اتفاقیہ جانشینی کا افتخار قدرت نے اقبال بنارسی کو بخشاتھا۔‘‘16؎

فائز کی علمی اور ادبی صلاحیتوں سے کمہ حقہ واقفیت کے بعد قارئین حضرات کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ اِتنے بڑے شاعر کو فارسی اور اردو شعرا میں وہ مقام کیوں نہیں حاصل ہو سکا جس کے وہ مستحق تھے۔ اس سلسلہ میں کوتاہ نظر راقم کا کم مایہ خیال یہ ہے کہ موصوف اپنی سادہ مزاجی کی وجہ سے دنیاوی چمک دمک اورنمائش سے ہمیشہ کنارہ کش رہے۔ شہرت حاصل کرنے کے سلسلہ میں انھیں جو مواقع دستیاب ہوے، اس کی طرف بھی انھوں نے کبھی توجہ نہیں دی۔ کسی کی مصاحبت کو انھوں نے کبھی پسند نہیں کیا، جس کا بیّن ثبوت یہ ہے کہ موصوف نے نظام حیدرآباد کی پیشکش کو ٹال دیا تھا اور نواب مرشدآباد کی قربت سے فائدہ اٹھانے کے بجائے ان سے بھی صرف دوستی اور ہم نشینی کا ہی رشتہ استوار رکھا۔ بقول مرزا دبیر       ؎

نے مانگنا ہی آتا ہے مجھ کو نہ التجا

منت بھی گر کروں گا تو دیں گے بھلا وہ کیا

مقالات عشرت، مرتبہ ڈاکٹر عبدالسلام

کل 11 مقالات میں مقدمہ، ڈاکٹر عبدالسلام، غالب چراغ دیر کی روشنی میں،لالہ سری رام کے فارسی مخطوطات، میرزا ابوطالب خان لندنی، فارسی جدید کے چند دلچسپ پہلو، اردو ادب میں وطن کی محبت، حسرت بحیثیت ادیب و شاعر، بچوں کے ادیب: تلوک چند محروم، نذیر بنارسی ’جواہر سے لال تک‘، حفیظ بنارسی ’درخشاں‘ کی روشنی میں، کلیات سودا حصہ اوّل قابل ذکر ہیں۔

پروفیسر امرت لعل عشرت کی درج بالا کتاب کل گیارہ عدد پرمغز مقالات کا مجموعہ ہے۔ اپنے مضمون کے لیے راقم نے جس ایک مقالے پر خامہ فرسائی کا ارادہ کیا ہے وہ اس مجموعے کا اولین مقالہ’غالب : چراغِ دیر کی روشنی میں‘ ہے۔

عام طور پر یہی دیکھا گیا ہے کہ ناقدین حضرات جب کسی بڑے شاعر کے کلام پر گفتگو کرتے ہیں تو اس کے کلام کے محاسن کا حوالہ دیتے ہوئے بیشتر تعریفی الفاظ ہی استعمال کرتے ہیں مگر عشرت صاحب ایسا نہیں کرتے بلکہ شعرا وادبا کے کلام میں جہاں کہیں بھی ہلکا پن ہوتا ہے اسے نہایت سلیقہ سے اپنی بامحاورہ زبان میں بیان فرمادیتے ہیں۔ کلام کی کمیوں اور خوبیوں، دونوں کا محاکمہ نہایت پرلطف انداز میں کرتے ہیں۔ کسی بھی شاعر یا ادیب کے کلام کے تعلق سے موصوف کو پڑھیے تو ان کے کلام کی گہرائی و گیرائی ہر کسی کو صاف نظر آجاتی ہے۔ وہ تنقید کا اصل حق سلیقے سے ادا کرنے کے ماہر ہیں۔ کوتاہ نظر راقم الحروف نے اب تک چراغ دیر پر جتنے ناقدین کو پـڑھا ہے ان میں بیشتر نے غالب کی تعریف دل کھول کر کی ہے۔ ہاں پروفیسر مالک رام اور پروفیسر گیان چند جین صاحب نے چند مقامات پر کھل کر اس حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے کہ غالب نے بنارس کی تعریف نہیں کی بلکہ وہ بنارس میں کسی حسینہ کو دل دے بیٹھے تھے اسی سبب یہ مثنوی وجود میں آئی ہے۔ مثنوی کے ایک شعر کے نصف مصرعہ ’’غارت گرہوش‘‘ کو عنوان بناکر یہاں تک کہہ بیٹھے کہ اس غارت گر ہوش کو بنارس سے جانے کے بعد بھی نہیں بھولے مگر ان حضرات نے مثنوی کے کسی شعر کو ہلکا یا کمتر نہیں کہا مگر عشرت صاحب نے نقد کے تمام تقاضوں کو پورا کیا۔خوبصورت زبان اور شائستہ لہجے میں غالب کی چار دیگر مثنویوں کے حوالے کے ساتھ جس شان سے تبصرہ کیا ہے وہ قابل ذکر ہے:

’’صنم کدۂ بنارس کو انھوں نے ایک بار دیکھا اور بار بار دیکھنے کی تمنا لے کر گئے۔ اس کی یاد بڑھاپے تک ان کے دل و دماغ کومحسور کرتی رہی۔ احباب کو خط لکھتے وقت برسوں کے بعد بھی انھوں نے ہمیشہ کے لیے بنارس میں مقیم ہونے کی آرزو کا اظہار کیا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ’چراغ دیر‘ میں انھوں نے جس والہانہ جوش و خروش اور سرمستی و پاکوبی کا مظاہرہ کیا ہے، وہ اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ اس مثنوی کے روپ میں مرزا نے اس ’کعبۂ ہندوستان‘ کو اپنے دھڑکتے ہوئے دل کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ مرزا سے پہلے اور بعد میں بنارس اور صبح بنارس کی رومان آفرینیوں اور رنگینیوں کی تفسیر بہت سے شعرا نے کی ہے۔ یہ سلسلہ شیخ علی حزیں اصفہانی سے جاں نثار اختر، میر معزفطرت سے نذیر بنارسی تک چلاآیا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جو چراغ اس بتکدے میں مرزا غالب نے روشن کیا ہے اس کی روشنی میں اس کا ماحول اور بھی سحرانگیز نظر آنے لگا ہے۔ اس چراغ دیر کے سامنے کسی اور چراغ کا چلنا مشکل دکھائی دینا ہے‘‘17؎

غالب کی دیگر مثنویوں کا ذکر کرتے ہوئے موصوف نے جو اپنا تجزیہ پیش کیا ہے، وہ بھی قابل مطالعہ ہے:

’’مرزا بنیادی طور پر فارسی گو تھے۔ غزلیات اور قصائد کے علاوہ چھ مثنویاں بھی ان کلیات فارسی میں موجود ہیں۔ ان کے عنوانات ’’باد مخالف، رنگ و بو، درد و داغ، سرمۂ بینش، ابر گہربار اور چراغ دیر‘‘ ہیں۔ ان چھ کے علادہ پانچ چھوٹی بڑی مثنویاں اور بھی دکھائی دیتی ہیں، جو مختلف کتابوں کی تقاریظ اور تہنیت عید شوال سے متعلق ہیں۔ ’’باد مخالف‘‘ ہنگامہ کلکتہ کی یادگار ہے۔ اس میں مرزا نے اپنی غریب الوطنی کا واسطہ دے کر اہل کلکتہ سے دامن چھڑانے کی کوشش کی ہے۔ اس میں حقیقت حال زیادہ ہے اور شاعری کم، چناں چہ رومان، حسن اور شعریت سے یہ مثنوی یکسر عاری ہے۔ ’درد و داغ‘ کا موضوع وہی دقیانوسی خیال کہ آدمی لاکھ چاہے، نوشتۂ تقدیر کے سامنے دم نہیں مار سکتا‘‘18؎

موصوف نے غالب کی دیگر مثنویات کے حوالوں سے ہر مقام پر غالب کی کمزور رگ پر کچھ اس طرح ہاتھ رکھا ہے کہ ہر قاری بآسانی اسے محسوس کر سکتا ہے۔ جابہ جا غالب کی کمزور شاعری، مثنوی میں قصہ زیادہ اور شاعری کم ہونے کا شکوہ بھی موصوف بے دریغ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایسا اس لیے ہے کہ وہ چراغ دیر کی کمزوری قارئین کو بتانے کے لیے اس کے دماغ کو پہلے سے ہموار کر دینے کی کامیاب کوشش کرتے ہیں۔ اسی سلسلہ کی ایک اور عمدہ مثال ملاحظہ فرمائیں:

’سرمۂ بینش‘ میں غالب نے بہادر شاہ ظفر کی مدح کے ساتھ ساتھ تصوف و اخلاق کو بھی موضوع قرار دیا ہے لیکن یہ غیر واضح نقوش قاری پر چنداں گہرا اثر نہیں چھوڑتے۔ اسی طرح مثنوی ’رنگ و بو‘ بھی کسی غیر معمولی خصوصیت کی حامل نہیں۔ ایک بادشاہ کے مثالی کردار کے توسل سے یہ بات ثابت کرنے کی سعی کی گئی ہے کہ منزل حق تک پہنچنے کے لیے اس جہان گزراں میں صرف ہمت مردانہ ہی کام آسکتی ہے۔ اس کے مقابلے میں زر و مال اور رعب و اختیار سب ہیچ ہیں۔ ندرت خیال بعض مقامات پر بجلی کی طرح آنکھوں کے آگے کوند جاتی ہے، لیکن مجموعی طور سے رنگ و بو کو بھی مرزا کی مثنوی نگاری کا اچھا نمونہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ مثنوی ’ابرگہربار‘ مرزا کی آخری عمر کی یادگار ہے اور ان کی زبردست شاعرانہ صلاحیتوں کی مظہر ہے کہ تقریباً ہزار اشعار پر مشتمل اس مثنوی میں مرزا نے حمد و نعت، منقبت، ساقی نامہ، مغنی نامہ، معراج نامہ اور مناجات کے عنوانات قائم کر کے اپنے دینی معتقدات کا اظہار کیا ہے۔ سپاس گزاری اور مدح کے بعد مرزا نے مناجات ہی میں خدا سے اپنی بدبختیوں اور محرومیوں کے بارے میں گفتگو کی ہے۔ مثنوی کا یہ حصہ ہندوستانی فارسی شاعری کے شاہ کاروں میں شامل کیے جانے کے قابل ہے۔‘‘19؎

غالب کی دیگر مثنویوں کا ذکر کرنے کے بعد موصوف کافی عرصہ کے بعد اپنے قلم کی عنان کو ’چراغ دیر‘ کی طرف کچھ اس طرح پھیرتے ہیں کہ مقالے کی لذت دوبالا ہو جاتی ہے۔ وہ مثنوی کے آغاز کے چند بندوں کے ساتھ جو کچھ فرماتے ہیں وہ لائق داد و تحسین ہے:

’’مرزاکی طبع شرربار بنارس پہنچ کر اپنے دہلوی احباب کے شکوۂ تغافل میں شعلہ نوائی پر آمادہ ہوتی ہے۔ چراغ دیر کے ابتدائی بیس اشعار اسی ماحول کے ہیں، مرزا کی منفرد فکر نے اظہار و بیان اور تشبیہ و استعارہ کی انوکھی مثالیں تو حسب معمول پیش کی ہی ہیں، ایک خاص بات جو شروع ہی سے قاری کے ذہن پر اثرانداز ہوتی ہے مرزا کی ’بیدلانہ‘ترکیب و طرز تخیل ہے۔ مرزا بیدل کی یہ چھاپ اتنی گہری ہے کہ یہ نازک کاری اور باریک اندیشی تقریباً ہر مصرعے میں دکھائی دے جاتی ہے۔ ’سبک ہندی‘ کی یہ وہی فضا ہے جس کو ایرانی آج بھی ’خیلی ہندی است‘ کہہ کر اپنا دامن چھڑانے کی کوشش کرتا ہے اور ہزار کوشش کے باوجود اس دقیق النظری کی لطافتوں تک نہیں پہنچ سکتا۔چراغ دیر کے شروع کے اشعار ملاحظہ ہوں:

رگ سنگم شراری مینویسیم

کف خاکم غباری مینویسیم

(شرار نوشتن اور غبار نوشتن مرزا کا اجتہاد ہے)

دل از شور شکایت ہا بجوش است

حباب بی نوا طوفاں خروش است

(دل شور شکایت سے اس طرح جوش میں ہے گویا ایک بے صدا پانی کا بلبلہ طوفان کا سا خروش لیے ہوئے ہے)

درآتش از نوائی ساز خویشم

کباب شعلۂ آواز خویشم

(اپنی آواز کے شعلے کا کباب بن جانا طرز بیدل والی قیامت ہے)

نفس ابریشمِ ساز فغان است

بسانِ نی تپم دراستخوان است

(اپنے سانس کو ساز کے فریاد کے تار سے انوکھی تشبیہ دی ہے۔ فرماتے ہیں’’میری ہڈیوں میں بانسری کی طرح بخار کی آگ بھری ہوئی ہے‘‘تپ در استخواں بودن، یعنی بہت تیز بخاہونا)

بنارس میں جن دہلوی احباب کی فرقت بہت شاق گذری ہے مرزا ان کو یکے بعد دیگرے ان اشعار میں یاد کرتے ہیں       ؎

زاربابِ وطن جویم سہ تن را

کہ رنگ و روغن اندایں چمن را

(یعنی ارباب وطن میں سے مجھے ان تین آدمیوں کی تلاش ہے کیوں کہ یہ تینوں باغ وطن کے لیے باعث زینت ہیں)20؎

بنارس کی تعریف میں رطب اللسان ہوتے ہیں تو بے ساختہ منھ سے نکل جاتا ہے      ؎

تعالیٰ اللہ بنارس چشم بد دور

بہشت خرم و فردوس معمور

اب نادر اور انوکھی تشبیہوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوتا ہے اور مرزا کا اجتہاد اس انداز سے منظرکشی میں مصروف ہو جاتا ہے کہ پڑھنے والے کا ذہن اس طوفان رنگ و نور میں ڈوب کر روحانی مسرت محسوس کرتا ہے    ؎

بنارس را کسی گفتہ کہ چین است

ہنوز از گنگ چینش بر جبین است

فرماتے ہیں کہ یہ گنگا جو بہہ رہی ہے دراصل بنارس کی پیشانی کی شکن ہے اور اس شکن پڑنے کا سبب یہ ٹھہرایا ہے کہ ایک دفعہ کسی نے خوبصورتی میں بنارس گو نگارخانۂ چین سے تشبیہ دے دی تھی۔ بنارس نے اس مشابہت کو سخت ناپسند کر کے ماتھے پر شکن ڈال رکھی ہے      ؎

مگر گوئی بنارس شاہدی ہست

زگنگش صبح و شام آئینہ دردست

بنارس کی مثال ایک معشوق کی ہے جس نے صبح و شام گنگا کے روپ میں ایک آئینہ اپنے ہاتھ میں تھام رکھا ہے۔ بنائو سنگار کے لیے معشوق آئینہ لیے رہتے ہیں۔ بنارس کے لیے گنگا کا آئینہ قدرت کا عطیہ ہے۔

بگنگش عکس تا پرتو فگن شد

بنارس خود نظیر خویدتن شد

بنارس بے نظیر تھا لیکن جوں ہی گنگا میں اس کا عکس ہویدا ہوا، بنارس اپنی نظیر آپ بن گیا۔

چودر آئینہ آبش نمودند

گزندچشم رخم ازدی ربودند

یعنی بنارس اگر بے نظیر رہتا تو اس کو نظر لگ جانے کا خطرہ تھا۔ پانی کے آئینے میں ایک اور بنارس ظاہر ہو جانے سے یہ خطرہ جاتا رہا۔20؎

یادگارِ عشرت: (شعری مجموعہ)

 مرتب ڈاکٹر عبدالسلام چاپ اوّل 1994 اور بار دوّم 2016، ناشر جناب دیپک مدھوک، جواہر نگر کالونی، بھیلوپر، وارانسی۔ تعداد1000، قیمت: 200روپے۔

یہ کتاب ناگری ہندی اور اردو، دونوں رسم الخط میں شائع کی گئی ہے، جس میں عشرت صاحب کی کل 29 غزلوں اور 9 نظموں کے علادہ متفرقات بھی شامل ہیں۔ اس میں عرض مرتب کے ساتھ موصوف کا شرح حال و آثار اور تاثرات کے عناوین سے پہلا تاثر بنارس کے مایہ ناز شاعر نذیر صاحب بنارسی کا ہے۔ دوسرا تاثر پروفیسر حنیف صاحب نقوی، تیسرا تاثر پروفیسر قمر جہاں صاحبہ اور اخیر میں خانم عشرت کی جانب سے عشرت صاحب کو خراج عقیدت پیش کی گئی ہے۔

موصوف عام طور پر پانچ چھ اشعار کی غزلیں ہی کہا کرتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاں بھرتی کے اشعار ایک دم نہیں ملتے۔ شاعری کرتے وقت وہ اپنے کلام میں بیشتر شعری لوازمات کے ساتھ ہر شعر میں باطنی کیفیت کا خیال بدرجۂ اتم رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام میں غور و فکر کے بعد کمی یا شعری کجی نظر نہیں آتی۔

متفرقات

مے خانے کی توقیر جو منظور ہے ساقی

نا اہل کے ہاتھوں میں کبھی جام نہ دینا

ہمارے بعد اس محفل میں افسانے بیاں ہوں گے

بہاریں ہم کو ڈھونڈیں گی، نہ جانے ہم کہاں ہوں گے

غالب و میر کی میراث ہے اردو عشرت

ہند ٹھکرائے اِسے، ہم اِسے اپنائیں گے

عشرت صاحب کے منظوم کلام کے سلسلہ میں اتنا کہنا ضروری ہے کہ اگر ان کے کلام کا مطالعہ کیا جائے توکہا جاسکتا ہے کہ موصوف صرف اچھے نثر نگار ہی نہیں بلکہ بلا شبہ ایک اچھے شاعربھی تھے۔ غزل اور نظم،دونوں اصناف پر انھیں عبور حاصل تھا۔ ان کی غزلوں میں ایک بھی شعر ایسا نہیں ملے گا جس میں شاعرانہ لوازمات شامل نہ ہوں۔ موصوف کی غزلوں میں خاص طور سے داخلی کیفیت کا بہت عمدہ بیان ملتا ہے، جو معمولی غزل گویوں کے بس کی بات نہیں۔ موصوف کو سن 60کی دہائی سے 80 تک مشاعروں میں جانا بہت پسند تھا۔ اس کے بعد انھوں نے مشاعروں میں شامل ہونا تقریباً ترک کر دیا تھا۔ موصوف چونکہ ایک فطری شاعر اور نہایت رحم دل قسم کے انسان تھے، اس لیے کبھی کسی کے سوال کو ٹھکراتے نہیں دیکھا۔ وہ اپنے پرانے دوستوں کا بہت خیال رکھتے تھے۔

مصادر و مراجع

1            از پیش لفظ’ایران صدیوں کے آئینے میں‘

2            ایران صدیوں کے آئینے میں۔ ص340-41۔ بار دوم 1986 بھارگو آفسٹ، وارانسی۔

3            ایران صدیوں کے آئینے میں ص 416؍ باردوم 1986 بھارگو آفسِٹ، وارانسی۔

4            ایضاً 18019          5            ایضاً 420-21

6            ایضاً ص 421        7            ایضاً ص 80-81

8            ایضاًص 422          9            ایضاً ص 422-23

10          ایضاً ص423-24   11          ایضاً ص424

12          ایضاً ص 224        13          (سخنوران بنارس،ص 58)

14          (ایضاً ص59)         15          ایضاًص 58تا 59، بار دوم2015

16          ایضاًص53تا 54۔ بار دوم 2015

17          مقالات عشرت مرتب ڈاکٹر عبدالسلام۔ ص13-14، ناشر جے۔پی۔ انٹر پرائزز، بسنت وہار، پانڈے پور، وارانسی۔

18          ایضاً ص 14-15    19          ایضاً ص15-16

20          ایضاًص21-22

Waseem Haidar Hashmi

B.10/43, Krim-Kund (Shivala),

Varanasi-221001 (UP)

e-mail:whh55bhu@gmail.com

Mobile: 9451067040 & 9580698805.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

دارا شکوہ کی شاعری میں نفسیاتی مسائل،مضمون نگار:نیلوفر حفیظ

تلخیص موجودہ وقت میں انسان نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میںہزارہا حیرت انگیز انکشافات وایجادات کر کے دنیا کے پورے منظر نامے کو بدل کر رکھ دیا ہے لیکن

جُنگِ اشعارِ مولوی سبحان علی خاں میں دبستانِ عظیم آباد کے فارسی گو شعرا،مضمون نگار:سید نقی عباس

تلخیص مولوی سبحان علی خاں (1180-1264ھ/ 1766-1848)اپنے دور کے معتبراور صاحب مقام و منزلت علما میں سے تھے۔ مدتوں دربار اودھ سے وابستہ اور سلاطین و وزرائے اودھ کے مقرب

استادشاعرمرزا محمد فاخر مکین اوران کے ہندو تلامذہ ،مضمون نگار:عرشی بانو

تلخیص اس مقالے کا موضوع ’استادشاعر مرزا فاخر مکین اور ان کے ہندو تلامذہ ہے‘ جس میں استاد الشعرا مرزا فاخر مکین کے غیر مسلم شاگردوں کا ذکر ہے اور