جُنگِ اشعارِ مولوی سبحان علی خاں میں دبستانِ عظیم آباد کے فارسی گو شعرا،مضمون نگار:سید نقی عباس

April 1, 2025 0 Comments 0 tags


تلخیص


مولوی سبحان علی خاں (1180-1264ھ/ 1766-1848)اپنے دور کے معتبراور صاحب مقام و منزلت علما میں سے تھے۔ مدتوں دربار اودھ سے وابستہ اور سلاطین و وزرائے اودھ کے مقرب و مشاور رہے۔ قابل ذکر ہے کہ مرزا غالب (م: 1285ھ1869 ) نے اپنی مسلسل زبوں حالی میں دربار اودھ سے عنایت کی امید میں انھیں وسیلہ بنایا تھا۔ عالم دین ہونے کی وجہ سے سبحان علی خاں کی تصانیف اغلب مذہبی موضوعات سے متعلق ہیں جن میں الوجیزہ فی اصول دین، شمس الضحیٰ، رسالہ در شرح حدیث ثقلین، رسالہ لطافۃ المقال در کلام و امامت وغیرہ کا نام لیا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ ان کی بیشتر تصانیف غدر اور ان کے خاندان کے نقل و انتقال میں ضایع ہوگئیں۔ پیش نظر جُنگِ اشعار مولوی سبحان علی خاں،ان کی واحد ادبی کاوش ہے جس کا اب تک ان کی تصانیف میں ذکر نہیں آیا ہے۔ اس کا قلمی نسخہ کتب خانہ رضا رامپور میں محفوظ ہے۔ یہ ایک عمومی نوعیت کی بیاض ہے اور فارسی کے معروف و غیرمعروف ایرانی، افغانی، ماوراء النہری اور ہندوستانی شعرا کے منتخب کلام پر مشتمل ہے۔قابل توجہ ہے کہ اس بیاض میں دبستان عظیم آباد کے 12 فارسی گو شاعروں کا کلام بھی موجود ہے۔ اس میں کوئی تردید نہیں کہ دبستان عظیم آباد میں فارسی شعر و ادب کی بھی ایک قدیم روایت رہی ہے اور تذکروں میں یہاں کے فارسی گوشعرا کا ذکر پراکندہ ملتا ہے۔ اس مضمون میں بیاض سبحان علی خاں میں مندرج شعراے عظیم آباد کا کلام، ان کے مختصر احوال کے ساتھ پیش کیا گیا ہے تاکہ ارباب تحقیق کی توجہ ان کی جانب مبذول ہوسکے۔ بیاضوں کی اہمیت کے پیش نظر اہل علم کو ان پر توجہ دینی چاہیے جس سے بہت سے معروف اور غیر معروف شعرا کے کلام تک رسائی حاصل ہوسکتی ہے۔


کلیدی الفاظ
سبحان علی خاں، بیاض، جُنگِ اشعار، مجموعہ اشعار، انتخاب کلام، تذکرہ، فارسی شاعری، مخطوطہ شناسی، اودھ، دبستان عظیم آباد، کتب خانہ رضا رامپور
————
فارسی، اردو شعر و ادب میں جہاں تذکرہ نگاری کی ایک قدیم روایت موجود ہے، وہیں بیاض یا جُنگ یا مجموعۂ اشعار مرتب کرنے کی اس سے بھی قدیم روایت رہی ہے۔ دونوں روایتوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ تذکروں میں شعرا کے منتخب اشعار ان کے معلوم یا دستیاب احوال کے ساتھ مرتب کیے جاتے ہیں اور بیاضوں میں عموماً صرف شاعروں کے نام یا تخلص اور ان کے کلام درج ہوتے ہیں۔ اشعار کے انتخاب میں متفرق میزان و معیار اور مرتب بیاض کا ذاتی ذوق کارفرما ہوتا ہے۔
عموماً بیاضوں میں شاعروں کے ناموں یا تخلصوں کی الفبائی یا کبھی کبھی ابجدی ترتیب پائی جاتی ہے اور کبھی کوئی مخصوص ترتیب نہیں بھی پائی جاتی۔ لیکن بعض بیاضیں موضوعی بھی ہوتی ہیں اور ایسی بیاضوں میں مدنظر موضوع (مثلاًعشق و عاشقی، بہار، خزاں، ہجر، وصال وغیرہ) کے اعتبار سے اشعار مندرج ہوتے ہیں۔ ایسی بیاضوں میں شاعروں کے نام میں کوئی خاص ترتیب ملحوظ نہیں ہوتی۔
بعض بیاضیں معروف شعرا کے معروف اور پسندیدہ کلام پر مشتمل ہوتی ہیں۔بعض بیاضیں مشہورشعرا کی ایک ہی زمین میں لکھی گئی غزلوں یا اشعار کا مجموعہ ہوتی ہیں۔ یہاں مثال کے طور پر کتب خانہ خدابخش پٹنہ میں موجودفخری ہروی کی بیاض ’تحفۃ الحبیب‘ (نمبر 1993) کا نام لے سکتے ہیں جس میں ایک ہی زمین میں مختلف شعرا کی لکھی گئی غزلیں مرتب کی گئی ہیں۔ بعض بیاضیں کسی معروف خوشنویس یا خطاط یا نقاش کے خط، مرقعوں اور تصاویر سے مزین ہوتی ہیں۔ ایسی بیاضیں سلاطین و امرا کے لیے مرتب کی جاتی تھیں۔ مثلاً ’بیاض حمیدہ بانو بیگم‘۔نیشنل میوزیم نئی دہلی میں محفوظ یہ قلمی بیاض(نمبر 48.6/11) تیموری صفوی دور کے معروف خطاط میرعلی کاتب ہروی (1465-1544) کے خط میں ہے اور اس میں صفوی عہد کے معروف نقاش سلطان محمد کی بنائی ہوئی 6 تصاویر بھی شامل ہیں۔ یہ بیاض صفوی حکمراں شاہ طہماسپ (حک: 1524-1576) نے بادشاہ اکبر (حک:1556-1605) کی والدہ مریم مکانی حمیدہ بانو بیگم (1527-1604) کو تحفے میں دی تھی۔ ایسی ہی ایک دوسری بیاض ’مجمع الشعرا‘ ہے جس کا مرتب و کاتب، اکبری دور کا معروف خطاط کاتب الملک میر دوری ہروی ہے۔ یہ بیاض بھی مریم مکانی کے نام سے معنون ہے اور اس کا واحد قلمی نسخہ تہران یونیورسٹی لائبریری میں محفوظ ہے۔
بعض بیاضیں اصناف شعر کے اعتبار سے مرتب کی جاتی ہیں یا کسی مخصوص صنف سخن میں اشعار کا مجموعہ ہوتی ہیں۔ بطور مثال، ایران سے حالیہ شائع شدہ محمد بن یغمور کی بیاض ’سفینہ ترمذ‘۔ آٹھویں صدی ہجری کی اس بیاض میں 115 قدیم شاعروں کے کلام اصناف سخن کے اعتبار سے مدون کیے گئے ہیں۔ اسی طرح بیاضوں میں شعرا کے دواوین کا انتخاب بھی ہوتا ہے۔ ظاہراً بیاضوں کی اہمیت اس بات میں بھی پوشیدہ ہوتی ہے کہ ایسی بیاضوں میں ایسے بہت سے شعرا کا انتخاب کلام بھی مل جاتا ہے جن کے دوادین یا کلام کا کوئی مستقل مجموعہ عموماً دستیاب نہیں ہوتا یا ان کے دیوان میں وہ کلام یا اس کا کچھ حصہ شامل نہیں ہوتا۔
بعض بیاضیں کسی مخصوص عہد یا مخصوص علاقے کے شعرا اور حتی کہ مخصوص مذہب کے شعرا کے کلام پر مشتمل ہوتی ہیں۔ ایسی بیاضوں سے کم از کم ایک مخصوص عہد یا علاقے کے شاعروں کے نام اور ان کے کچھ اشعار مل جاتے ہیں جو ممکن ہے تذکروں میں مفقود ہوں۔ ایسی ہی کچھ بیاضیں معروف شاعروں کی ذاتی بیاضیں ہوتی ہیں جن میں وہ اپنے پسند کے اشعار درج کرتے ہیں اور ان میں انتخاب کے کچھ معیارات بھی ملحوظ ہوتے ہیں جیسے بیاض صائب تریزی، بیاض آزاد بلگرامی اور بیاض باسطی وغیرہ۔ بعض بیاضیں منتخب ادبی اور تاریخی نثر و انشا اور مکاتیب پر بھی مشتمل ہوتی ہیں۔ بعض بیاضوں میں طبی نسخے، ادعیہ و اوراد، سیاق و ہندسہ اور زایچے بھی ملتے ہیں۔
مختصر یہ کہ بیاضوں کی قسمیں ذوق اور ضرورت کے اعتبار سے بہت ہیں اور مشمولات متنوع اور اس موضوع پر ایک علیحدہ مبسوط مضمون لکھا جا سکتا ہے بلکہ لکھا جانا چاہیے کیونکہ بیاضیں جہاں اہم تاریخی، ادبی مآخذ ہیں، وہیں ان کی جانب سب سے کم توجہ کی گئی ہے۔ عربی اورفارسی زبانوں میں تو بعض اہم بیاضوں اور مجموعوں کی تصحیح و اشاعت عمل میں آئی بھی ہے جیسے ’بیاض تاج الدین وزیر‘ یا ’مجموعۂ لطایف و سفینۂ ظرایف‘ اور بہت سی بیاضوں کے قلمی نسخوں پر تعارفی مضامین بھی لکھے گئے ہیں، لیکن اردو میں اس جانب کم توجہ کی گئی ہے۔ سر دست چونکہ مقالے کا موضوع ایک مخصوص بیاض کا تعارف اور اس میں مندرج دبستان عظیم آباد کے شعرا کا کلام ہے اس لیے اس بحث کو کسی اور فرصت کے لیے اٹھا رکھتے ہیں اور آمدم بر سر مطلب:
بیاض سبحان علی خاں، ایک عمومی نوعیت کی بیاض ہے۔ یہ بیاض فارسی کے معروف و غیرمعروف ایرانی، افغانی، ماوراء النہری اور ہندوستانی شعرا کے منتخب کلام پر مشتمل ہے۔ اس کا قلمی نسخہ کتب خانہ رضا رامپور میں محفوظ ہے۔ نسخے کی ظاہری تفصیلات درجہ ذیل ہیں:
عنوان: مجمع الاشعارمسمّی بہ جْنگ اشعار مولوی سبحان علی خان ؛ نمبر: 5047ف؛ خط: نستعلیق خوش خط؛ عناوین: شنگرف؛ سطور: 13؛ اوراق: 186 (372 صفحات)؛ نام کاتب: منموہن لال؛ تاریخ کتابت: 1261ھ.ق (1845 )
آغاز: سید معین الدین اشرف سمرقندی
ای نام ہمایونت، سردفتر عنوان ھا
بی رقعۂ فرمانت باطل ہمہ فرمان ھا
انجام:یوسف بیگ شاملو
چون شمع ھر کہ سوختہ داغ نیاز تو
بالیدہ جامہ جامہ بہ خود از گداز تو
ترقیمہ:
المنت اللہ تعالی شانہ و جل کبریا و بیدہ ازہمۃالتوفیق کہ این جریدۂ رعنا و عروس زیبا اعنی بیاض ہذا کہ بہ اشعار دُر نثارش گوہر دریایی آبرو و بہ مضامین رنگین و آبدارش گلزار فصاحت پر از رنگ و بو، فرد ؎
اشعارِ دلفریب و لطیفش کشیدہ است
در گوش روزگار بسی دْرِّ شاہوار
حسب الارشاد واجب الانقیاد خدام ذوی الاحترام جناب مستطاب، ملایک مآب، پیر و مرشدِ بر حق، خداوند نعمت مطلق، جناب سبحان علی خان صاحب ادام اللہ اقبالہ و اجلالہ و افاض علی العالمین برہ و احسانہ، از دست این دست بہ دست کور سوادی وہیچ مدانی، کمترین فدویت آیین، منموہن لال، حلیہ اختتام پوشید،.1261ہجری
پیش نظر بیاض کے پہلے ورق سے قبل پیوست کاغذ پر اس قلمی نسخے کا تعارف ایک ناخوانا دستخط کے ساتھ فارسی میں کسی نے لکھا ہے۔ اس تعارف میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ یہ بیاض مولوی سبحان علی خاں کے منتخب کردہ اشعار پر مشتمل ہے اور اس کے پہلے صفحے پر ان کا نام انھیں کے خط میں مندرج ہے اور ساتھ ہی ان کے بیٹے کے ہاتھ کی لکھی ایک عبارت بھی درج ہے جس میں کاتب کا نام منشی پیارے لال آیا ہے جبکہ یہ بیاض منموہن لال نامی کاتب کی کتابت کردہ ہے۔ 1؎
مولوی سبحان علی خاں(1180-1264ھ/ 1766-1848) اپنے دور کے معتبراور صاحب مقام و منزلت علما ے تشیع میں سے تھے۔ ان کے والد کا نام علی حسین خاں کنبوتھا۔ سبحان علی خاں مدتوں دربار اودھ سے وابستہ رہے۔ سعادت علی خاں (حک: 1798-1814)، غازی الدین حیدر(حک: 1814-1827)، نصیرالدین حیدر (حک: 1827-1837)، معتمدالدولہ آغامیر(م: 1247ھ/ 1832) اورنواب روشن الدولہ (وزارت: 1832-1837) کے مقرب و مشاور تھے۔ ان کے احوال اودھ کی تاریخوں اور علما کے تذکروں میں ملتے ہیں۔ تذکرہ بے بہا فی تاریخ علما (ص170-173)کے مطابق:
وطن اصلی آپ کا بانس بریلی تھا، پھر لکھنؤ میں تشریف لائے۔ بغیر کسی کی سعی و سفارش کے بلکہ اپنی ذاتی قابلیت سے حضرت غازی الدین حیدر بادشاہ اودھ کی تعلیم پر مقرر ہو گئے اور عہد طفولیت سے سن رشد تک تعلیم دی۔ آپ کا خاندان سلاطین اودھ اور گورنمنٹ برطانیہ میں معزز و ممتاز رہا ہے… جناب غفران2؎ مآب اور رضوان مآب3؎ آپ کی نہایت عزت و احترام فرماتے تھے اور اکثر خاص صلاح و مشورہ میں شامل کیے جاتے تھے … کوئی ملکی عہدہ آپ نے قبول نہ فرمایا۔
مطلع انوار ( ص 251-52)کے مطابق:
…ان کے اجداد قائن (جنوبی خراسان) سے تعلق رکھتے تھے …ان کے تعلقات دربار سے عوام تک اور علما و ادبا سے لے کر بادشاہ اور گورنرجنرل تک سے تھے… وہ پہلے غازی الدین حیدر کے اتالیق تھے، پھر نصیرالدین حیدر کے زمانے میں نیابت وزارت اور کمپنی و حکومت کے درمیان سیاسی تعلقات کے نگراں تھے1243…ھ (1827-28) میں آغا میر کو سیاسی زوال ہوا تو سبحان علی خاں کے خلاف بھی انکوائری ہوئی مگر وہ بری ہوئے اور رپورٹ میں انھیں مخلص بتایا گیا لہٰذا دوبارہ مشیر حکومت بنائے گئے… علما کے زمرے میں وہ صدر نشیں تھے۔ منطق و کلام، ادب و فقہ و حدیث، فلسفہ و ریاضی و طب میں کمال رکھتے تھے اور تدبیر و انتظام، مشورہ و رائے میں ارسطو تھے… ان کی کتابیں کچھ تو غدر میں ضایع ہو گئیں، کچھ ان کے خاندان کے نقل و انتقال نے تلف کردیں۔ ان کی اولاد بھی عالم و فاضل تھی۔ احسان حسین، مظفر حسین، فدا حسین، پیارے صاحب، رضا حسین۔ ان میں سے کچھ حضرات اور ان کی اولاد کربلا عراق ہجرت کر گئی تھی۔ مولانا سبحان علی نے 1264ھ 1؎ میں رحلت کی اور حسب وصیت لاش کربلاے معلی 2؎ میں دفن ہوئی۔
صاحب مطلع الانوار نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’شیخ علی حزیں اور خان ِعلامہ تفضل حسین خاں (کشمیری، م: 1801)سے ان کے قریبی تعلقات تھے‘ (ص 251)۔ قابل غور ہے کہ سبحان علی خاں کا سال ولادت 1180ھ / 1766 ہے جبکہ یہی شیخ محمدعلی حزیں لاہیجی کی وفات کا سال بھی ہے۔ لہٰذا، اس بیان کوقبول کرنے میں تامل مانع ہے۔
مولوی سبحان علی خاں کی شہرت اوردرباراودھ میں ان کے اثر و نفوذ کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اپنی مسلسل زبوں حالی میں دربار اودھ سے عنایت کی امید میں غالب (م: 1285ھ/ 1869) نے انھیں وسیلہ بنایا۔ کلیات نثر غالب میں سبحان علی خاں کے نام غالب کے تین پرتکلف خطوط ملتے ہیں (ص 105، 111و 112)۔ پہلے خط کی ابتدا ایک رباعی سے ہوتی ہے جو ذیل میں درج کی جاتی ہے جس سے غالب کے نزدیک مولوی سبحان علی خاں کی اہمیت اور ان سے وابستہ توقعات کا اندازہ ہوتا ہے ؎
ای آن کہ ہما، اسیرِ دامت باشد
صافِ میِ خسروی، بہ جامت باشد
تسبیح بہرِ اسمِ الٰہی کہ بْوَد
آغاز، ز ابتدای نامت باشد
(ترجمہ:ے وہ جس کے دام میں ہما اسیر ہے/خالص مئے خسروی تیرے جام میں ہے
اللہ کے اسم کی جو تسبیح ہے/اس کا آغاز تیرے نام کی ابتدا سے ہے)
بیاض مولوی سبحان علی خاں میں غالب کا درج ذیل ایک شعر مندرج ہے(ورق 128ب) ؎
بہ بزم بادہ می خواہم کہ، طرح دیگر اندازم
می گلگون بریزم، خون دل در ساغر اندازم
(ترجمہ:میں بزمِ مے میں ایک نیا انداز رکھنا چاہتا ہوں/مئے گلگوں (سرخ مئے) گرا کر، دل کا خون ساغر میں ڈالنا چاہتا ہوں)
قابل ذکر ہے کہ مفتی محمد عباس (م: 1889)نے بھی مولوی سبحان علی خاں کی تعریف میں عربی میں ایک طویل قصیدہ لکھا ہے جو ان کے دیوان رطب العرب میں شامل ہے۔ 1؎
مولوی سبحان علی خاں کی تصانیف میں شمس الضحیٰ (کلام، فارسی)، مجموعہ رسائل، رسالہ در شرح حدیث، رسالہ در شرح حدیث ثقلین، رسالہ در شرح حدیث حوض، الوجیزہ فی اصول دین (مطبع نولکشور، لکھنؤ، 1279ھ/ 1862-63)، رسالہ لطافہ المقال در کلام و امامت، رسالہ در حدیث الاثر، جواب رسالہ مکاتیب حیدرعلی فیض آبادی، فیوضات سبحانی اور فضائح البخاری وغیرہ کے نام ملتے ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی لاہور کے کتاب خانہ مرکزی میں ایک قلمی کتاب ’مقاصد الحقیقۃ فی ترجمہ الخطبۃ الشقشقیہ‘ محفوظ ہے۔ نسخے میں مترجم کا نام ’سبحان علی‘ مندرج ہے اور فہرست نگار کا خیال ہے کہ شاید یہی مولوی سبحان علی خاں بن علی حسین خاں کنبو ہیں۔2؎
قابل توجہ ہے کہ اوّلاًسبحان علی خاں کے آثار میں کسی بیاض یا مجموعہ اشعار کا ذکر نہیں ملتا۔ اس لیے بھی زیر نظر بیاض ایک اہم دریافت قرار پاتی ہے۔ اور ثانیاً یہ ان کی دیگر کتابوں اور رسالوں سے ہٹ کر، جو کہ مذہبی تصانیف ہیں، یہ بیاض ایک ادبی کاوش ہے اور اس سے ان کے ذوق ادب کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ثالثاً، اس بیاض کی کتابت 1261ھ/1845، یعنی سبحان علی خاں کی وفات سے تین سال قبل ہوئی ہے اور اس کے پہلے ورق پر ان کے خط میں ان کے نام کی موجودگی اس بیاض کو نسخۂ مولف بناتی ہے اور چونکہ اس بیاض کا کوئی اور نسخہ نہیں ملتا، لہٰذا یہ نسخہ منحصر بہ فردبھی ہوا۔مزید، اس بیاض میں ان کے بعض معاصرین کا کلام بھی موجود ہے اور چند ایک ایسے شعرا کے کچھ شعر بھی ہیں جن کا ذکر تذکروں میں مفقود ہے۔ اس بیاض کا تجزیاتی مطالعہ ایک علیحدہ مضمون کا متقاضی ہے۔ سر دست، بہ خوف طوالت، مزید تفصیلات سے گریز کرتے ہوئے بیاض مذکور میں مندرج دبستان عظیم آباد کے چند فارسی گو شعرا کے کلام پر آتے ہیں جو کہ اس مضمون کا اصل موضوع ہے۔
دبستان عظیم آباد میں فارسی شعر و ادب کی بھی ایک قدیم روایت رہی ہے۔ تذکروں میں یہاں کے فارسی گوشعرا کا ذکر پراگندہ ملتا ہے اور صاحب دیوان شعرا کے مختلف کتب خانوں میں موجود دواوین ہماری توجہ کے منتظرہیں۔بیاض سبحان علی خاں میں اس دیارشعر و ادب کے بارہ فراموش شدہ فارسی شعرا کا کلام مندرج ہے۔ ذیل میں شعرا کے مختصر تعارف کے ساتھ ان کا کلام بیاض سے نقل کیا جاتا ہے تاکہ ارباب تحقیق کی توجہ ان کی جانب مبذول ہوسکے:
.1 الفت عظیم آبادی، لالہ اجاگر چند
سفینہ خوشگو (دفتر ثالث، ص 344-45) اور تذکرہ نشتر عشق (ج 1، ص110-11) کے مطابق لالہ اُجاگر چند، قوم کایستھ ماتھر، ساکن عظیم آباد، ابتدا میں غریب1؎ تخلص کرتے تھے اور بعد میں دام الفت میں گرفتار ہوکر الفت تخلص کرنے لگے۔ سادہ اور قانع مزاج انسان تھے اور بہت قلیل معاش میں بسر کرتے تھے۔ شاعری میں میر محمد علیم تحقیق عظیم آبادی(م: 1162ھ/1749) کے شاگرد تھے۔ پیش نظر بیاض میں بھی الفت کے نام کے ساتھ ’شاگرد تحقیق‘ مندرج ہے۔2؎ صاحبِ تذ کرہ روز روشن (ص 68) نے انھیں ’متوسل ملازمان نواب مہابت جنگ، ناظم بنگالہ‘ لکھا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ:
رسالہ معاصر، حصہ دوم، بابت دسمبر 1953میں پروفیسر سید حسن عسکری صاحب نے الفت پر ایک مقالہ شائع کیا ہے جس کو انھوں نے الفت کے ’انشاے غریب‘ کا نادر نسخہ دستیاب کرنے کے بعد لکھا ہے۔ اس مقالہ کی بدولت الفت کی ایک اردو غزل اول اول منظر عام پر آگئی اور اس مقالہ میں الفت کے ایک خط مورخہ 25شعبان 1142ھ بنام نواب فخرالدولہ، صوبہ دار بہار، کا بھی ذکر ہے۔ فخرالدولہ، سلطنت مغلیہ کے مقرر کیے ہوئے آخری صوبہ دار بہار تھے اور ان کے برطرف ہونے پر صوبہ بہار کی حکومت ناظم بنگالہ شجاع الدین محمد خاں کے سپرد ہوئی، اس لیے یہ خط بھی تاریخی اہمیت سے خالی نہیں۔ 3؎
پروفیسر حسن عسکری (م: 1990) صاحب کا مضمون تو سردست پیش نظر نہیں، لیکن فصیح الدین بلخی (م: 1962) کے مقالے سے معلوم ہوتا ہے کہ ’انشاے غریب‘ کا مخطوطہ مع ’دیوان الفت‘ کے۔ پی۔ جیسوال انسٹی ٹیوٹ، پٹنہ میں محفوظ ہے اور عسکری صاحب نے بھی اسی نسخے کاتفصیلی تعارف لکھا تھا۔ عسکری صاحب کی فہرست آثار سے البتہ یہ ضرور معلوم ہو سکا کہ ان کا یہ مضمون Insha-i Gharib and Insha-i Ulfat of Lala Ujagar Chand Ulfat کے عنوان سے تین قسطوں میں Hindustan Review، پٹنہ، 1938میں شائع ہوا تھا۔ بہرحال، مذکورہ نسخے کی ظاہری کیفیت بلخی صاحب نے اس طرح لکھی ہے:
دونوں کتابیں ایک ہی جلد میں مجلد ہیں جس کی تقطیع تخمیناً 8 انچ x7 انچ ہے۔ کاغذ دیسی ارولی ہے۔ انشا کی کتاب کے متعدد اوراق غائب ہیں اور دیوان کا بیشتر حصہ آتش زدہ ہے۔ معلوم ہوتا ہے جلے ہوئے اوراق پر دوسرا کاغذ چسپاں کردیا گیا ہے جس سے بہت سے مصرعے ناقص رہ گئے ہیں۔ اس کے علاوہ کاتب نے بھی بعض غزلیں ناتمام چھوڑ دی ہیں۔ اس مجموعے میں اول رقعات اور آخر میں دیوان ہے۔ پوری کتاب نستعلیق میں لکھی گئی ہے لیکن بعض جگہ شکست کی جھلک آگئی ہے… رقعات کی تعداد 140 ہے… دیوان الفت 138صفحوں پر خط نستعلیق میں لکھا ہوا ہے… اول صفحہ پر یہ عبارت ہے ’دیوان منشی اجاگر چند بیکنٹھ باشی، متخلص بہ الفت ابن لالہ مہابلی سرگ باشی، جد مادری راجہ پیارے لعل الفتی تخلص مد ظلہ تعالی۔ 1؎
کاتب نسخہ کا نام ’ہیرا لعل‘ ہے۔ بلخی صاحب کا کہنا ہے کہ الفتی کے بیٹے کنور ہیرا لعل (ضمیر تخلص) تھے، شاید وہی اس مجموعے کے کاتب ہوں۔ ’انشاے غریب‘ کے 59ویں ورق پر حسب ذیل ترقیمہ موجود ہے:
تمامی نسخۂ انشای غریب، تصنیف منشی اجاگر چند صاحب کایستھ ماتھر … بیکنٹھ باشی، بدست خام بندہ گمنام فقیر ہیرا لعل، یکی از طلبہ جناب قبلہ و کعبہ جناب راجہ پیارے لعل صاحب مد ظلہ تعالی، بتاریخ بست و یکم شہر ربیع الاول 1204ھ ہجری تمام شد۔ 2؎
’’ انشاے غریب، مصنفہ منشی اجاگرچند صاحب کایستھ ماتھر … بیکنٹھ باشی،کے مکمل نسخے (کی کتابت) بہ خط خام بندۂ گمنام فقیر ہیرالعل،شاگرد جناب قبلہ و کعبہ راجہ پیارے لعل صاحب مدظلہ تعالی، بہ تاریخ 21ربیع الاول 1204ھ کو مکمل ہوئی۔ )
قابل ذکر ہے کہ بلخی صاحب نے لالہ اجاگر چند الفت کی جوفارسی غزل بطور نمونہ کلام نسخے سے نقل کی ہے، بقول ان کے، الفت نے یہ غزل شیخ محمد علی حزین لاہیجی (م: 1180ھ/ 1766) کو اصلاح کے لیے بھیجی تھی اور مقطع میں ان کی شاگردی کا اعتراف بھی کیا ہے۔ 3؎ غزل کا مقطع حسب ذیل ہے:
تراود نکتہ ہای آبدار از خامہ ام ’الفت‘
کہر ساعت نظربرفیض استادِ حزیں دارم
(ترجمہمیر ے قلم سے آبدار نکات جھلکتے ہیں، الفت/ کہ ہر لمحہ میری نظر استاد حزیں کے فیض پر ہے۔)
لیکن بلخی صاحب کا یہ بیان قبول کرنے میں احتیاط سے کام لینا ہوگا، کیونکہ مندرج بالا مقطع میں ’استادِ حزیں‘ کی ترکیب سے یہ وضاحت نہیں ہوتی کہ الفت نے صراحتاً شیخ علی حزیں کی شاگردی کا اعتراف کیا ہے۔اگر ان کو یہ اعتراف کرنا مقصود ہوتا تو مصرع میں اتنی گنجائش ہے کہ وہ صراحت کے ساتھ ’استادِ حزیں‘ کے بجاے ’استادم حزیں‘ کہتے۔غزل کے دیگر قوافی (اندوہ گیں، کمیں، عنبریں وغیرہ)اور ردیف (دارم)کے پیش نظر’استادِ حزیں‘ ایک عام ترکیب معلوم ہوتی ہے جس میں شاعر نے اپنے استاد کی جانب اشارہ کیا ہے، لیکن صراحت سے کام نہیں لیا ہے۔ مگر یہ کہ ’استادِ حزیں‘ کی جگہ ’استادی حزیں‘ پڑھا جائے تب قطعاً کہہ سکتے ہیں کہ الفت نے شیخ علی حزیں کی شاگردی کا اعتراف کیا ہے۔
پیش نظر بیا ض سبحان علی خاں میں لالہ اُجاگر چند الفت عظیم آبادی کا صرف ایک شعر (ورق 20 ب) مندرج ہے جو ذیل میں نقل کیا جاتا ہے:
نمی دانم چہ افسون خواندہ بایک خندہ اش امشب
چو گل، رنگ تبسم می چکد از پردۂ گوشم
(ترجمہ:معلوم نہیں، آج کی رات اس کی ایک ہنسی نے کیاجادوکر دیا ہے /کہ پھول کی مانند، تبسم کا رنگ میرے کانوں کے پردے سے ٹپک رہا ہے)
.2 امین عظیم آبادی، خواجہ امین الدین
تذکروں کے مطابق، خواجہ امین الدین خاں، کشمیری الاصل تھے۔ تذکروں میں ان کے احوال کم ملتے ہیں۔تاہم جو کچھ تذکروں کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے وہ یہ ہے کہ انھوں نے عظیم آباد میں نشو و نما پائی (مسرت افزا، ص11-12 )۔اوائل میں منشی بلاس رائے اخلاص سے مشورہ سخن لیتے تھے1؎ اورفارسی کے صاحب دیوان شاعر تھے (تذکرۂ عشقی، ص 44)۔ان کی مشکل پسند طبیعت کبھی کبھی ریختہ گوئی پر بھی مائل ہوتی ہے، چار سو اشعار کہے ہوں گے (تذکرہ شورش، ص29-30)۔علی ابراہیم خاںخلیل (م: 1208ھ/1793)کے قریبی دوست تھے، 2؎ کچھ مدت نواب میر محمد رضا خاں مظفرجنگ بہادر1؎ کی مصاحبت میں رہے، آخر میں خانہ نشینی اختیارکرلی،2؎ ایک چھوٹا سا دیوان ریختہ میں ان کی تصنیف سے ہے (گلشن ہند،ص 28)۔ بلاد شرقیہ میں استاد مانے جاتے تھے (خمخانہ جاوید، ج 1، ص 449)۔
خواجہ امین عظیم آبادی کا دیوان ریختہ نہیں ملتا۔ خمخانہ جاوید (ص 449-51) میں ان کے اردو کلام کا ایک مختصر انتخاب مندرج ہے لیکن لالہ سری رام نے کسی نسخے یا ان اشعار کے منبع کا ذکر نہیں کیا ہے۔ البتہ بقول قاضی عبدالودود(تحقیقات ودود، ص 92):
امین کا ایک مختصر دیوان اردو میں مرتب تھا جو اب بالکل نایاب ہے۔ گلزار ابراہیم میں ان کے دیوان کا انتخاب دس بارہ صفحات میں ہوگا اور اب یہی یادگار ان کی باقی ہے۔
لہٰذا، یہ ماننے میں تامل نہیں ہونا چاہیے کہ لالہ سری رام نے گلزار ابراہیم میں سے ہی امین کے اشعار کا انتخاب پیش کیا ہے۔
امین کے فارسی دیوان کا ایک نسخہ خانقاہ عمادیہ3؎ میں تھا جو کہ اب کتب خانۂ خدابخش میں محفوظ ہے۔4؎ اس دیوان کو سید شاہ عطا الرحمن عطا کاکوی (م: 1998)نے مرتب کرکے ادارہ تحقیقات عربی و فارسی، پٹنہ سے 1385ھ/1966 میں شائع کیاہے۔ دیوان کا کاتب حافظ محمد یعقوب بھی شاعر تھا اور اس نے ترتیب دیوان کی تاریخ ’داد، دادِ سخن امین لاشک‘ سے نکالی جس سے سال 1180ھ (1766 ) برآمد ہوتا ہے۔
امین عظیم آبادی کی تاریخ وفات میں اختلاف ہے۔ تاریخ شعراے بہار (ص 4)کے مطابق 1240ھ (1824-25) تک زندہ تھے اورخمخانہ جاوید (ج1، ص 449)میں انھیں 1840(1255-56ھ) تک بقید حیات بتایا گیا ہے۔ لیکن دونوں تاریخیں ظاہراً نادرست ہیں۔
عطا کاکوی لکھتے ہیں کہ خواجہ محمد علی تمنا عظیم آبادی(م:1232ھ/1817) کی بیاض1؎ مملوکہ قاضی عبدالودود (م: 1984)میں ان کا سال وفات 1199ھ (1784-85)مندرج ہے۔ 2؎ قابل ذکر ہے کہ پیش نظر بیاض مولوی سبحان علی خاں میں بھی ان کا سال وفات ان کے نام کے سامنے 1199ھ ہی درج ہے (ورق 18 الف)۔
بیاض مولوی سبحان علی خاں میں خواجہ امین الدین امین عظیم آبادی کے 40 شعر مندرج ہیں(ورق 18الف-19ب)۔ اشعار کی الفبائی ترتیب سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مولوی سبحان علی خاں کے پیش نظر امین کا دیوان یا کوئی انتخاب ضرور رہا ہوگا۔ ذیل میں بیاض مذکور سے امین عظیم آبادی کے اشعار مطبوعہ دیوان سے مقابلہ و اختلاف نسخ کی نشاندہی کے ساتھ نقل کیے جاتے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ اس انتخاب کے 9 شعر مطبوعہ دیوان میں مفقود ہیں:
پیچیدہ ام بہ نامہ تنِ زارِ خویش را
بینم بدین بہانہ مگر یارِ خویش را3؎
(ترجمہ:میں نے اپنے نحیف و نزار بدن کو خط میں لپیٹ دیا ہے/ شاید اس بہانے اپنے یار کو دیکھ سکوں[جب نامہ بر خط اس کے ہاتھ میں دے گا])
*
بْوَد با غیر ربط آن نازنین را
ولی، ربطی کہ با کفر است دین را
نکردی چشمِ من گر ضبطِ گریہ
ندیدی ہیچ کس روی زمین را 4؎
(ترجمہ:اس نازنین کا غیر کے ساتھ تعلق ہے/لیکن وہی تعلق جوکفر کا دین کے ساتھ ہے
اگر مر ی آنکھوں نے گریہ کو قابو میں نہ رکھا/تو روے زمیں پر کچھ بھی باقی نہیں رہے گا )
*
بہ دلاسای کس تسلّی نیست
این دلِ بیقرار5؎ کشت مرا
(ترجمہ:اب کسی کی تسلی کی مجھے حاجت نہیں/کہ میرے دل بے قرار نے ہی مجھے مار ڈالا)
*
چشمِ خوبان ہمیشہ بیمار است
خوی بد را بہانہ بسیار است
خط مگر در رخش نمودار است
ماہ در جلوہ و شبِ تار است
دلِ صدچاکِ ما سلامت باد
شانہ زلفِ تو را چہ در کار است
بس کہ تیرِ تو دوخت سر تا پا
در برم جامہ قلمکار است1؎
(ترجمہ:حسینوں کی آنکھیں ہمیشہ خمار آلود رہتی ہیں/بری عادتوں کے لیے ہمیشہ بہت سے بہانے ہوتے ہیں
خط اس کے چہرے پر[ یوں]نمایاں ہے/ [جیسے] تاریک رات میں چاند جلوہ گر ہو
ہمارا دلِ صد چاک سلامت رہے/ تیری زلف کو کسی شانے کی حاجت نہیں
تمھارے تیر نے ہمیں سر سے پا تک چھید دیا ہے/اسی لیے میرے بدن پر قلمکار [منقش]جامہ ہے)
*
سرِ دیوانگان سلامت باد
سنگ در کوہسار نایاب است 2؎
(ترجمہ:دیوانوں کے سر سلامت رہیں/پہاڑوں میں اب پتھر نایاب ہیں)
*
در عاشقی چہ ہا نہ از این چشمِ تر گذشت
یک سر گذشتہ بود کہ آبم ز سر گذشت 3؎
(ترجمہ:عاشقی میں ان نمناک آنکھوں کے سامنے کیا کیا منظر نہ گزرے/ ایک[اپنا]سر ہی بچا تھا، اس پر سے بھی پانی گزر گیا)
*
دماغِ حرف رقیبان نداشتم4؎ چہ کنم 5؎
مگر6؎ بہ کوی تو دل بار بار شد باعث
(ترجمہ:رقیبوں کی باتیں [طنز و طعنہ] سننے کا حوصلہ نہیں رہا تھا، کیا کرتا/ سوائے اس کے کہ دل تیرے کوچے کا بار بار رخ کرتا [تیرے کوچے میں پناہ لیتا])
*
جان بہ لب آمد و آن یار نمی پرسد ہیچ
دل ز غم خون شد و دلدار نمی پرسد ہیچ 7؎
(ترجمہ:جان لبوں تک آ چکی ہے مگر وہ یار میرا احوال نہیںپوچھتا/ دل غم سے خون ہو گیا ہے اور وہ دلدار پرسانِ حال نہیں)
*
اندیشۂ مآل ضرور است ساقیا
بگذار در سبو دو سہ جامی برای صبح 1؎
(ترجمہ:انجام کا خیال [دوراندیشی] بھی ضروری ہے، اے ساقی/ سبو میں دو تین جام جام صبح کے لیے بچا کے رکھ)
*
عمرم بہ وعدہ ہای دروغِ تو می رَوَد
گہ در حسابِ شام، گھی در حسابِ صبح 2؎
(ترجمہ:میری عمر تیرے جھوٹے وعدوں میں گزر رہی ہے/ کبھی شام کے حساب میں، کبھی صبح کے حساب میں)
ز کاکلِ تو نہ تنہا دلم خطر دارد
کہ ترکِ چشمِ تو صد فتنہ زیرِ سر دارد
بہ ہر طرف بہ ہوایش رَوَم، خورم سنگی
نہالِ عشق کہ دیدم ہمین ثمر دارد 3؎
(ترجمہ:مر ے دل کو صرف تیرے کاکل سے خطرہ نہیں ہے/تیری خوبصورت آنکھوں میں بھی سیکڑ وں فتنے چھپے ہوئے ہیں
میں جس طرف بھی تیری چاہت میں جاتا ہوں، پتھر کھاتا ہوں/عشق کے درخت کا یہی پھل ہے)
*
چشمت بہ عزمِ4؎ رم کہ بہ آرام رام نیست
آہو شنیدہ ایم، ہماناہمین بْوَد
(ترجمہ:تیری آنکھیں جو عزمِ رم میں آرام نہیں پاتیں/آہو کے بارے میں سنا ہے، شایدیہ وہی ہیں)
*
رخسارِ تو از زلفِ سیہ فام برآید
این طرفہ کہ خورشید سرِ شام برآید 5؎
(ترجمہ:تیر ے رخسار سیاہ زلف سے ظاہر ہو رہے ہیں/عجب کہ سورج شام کے قریب طلوع ہو رہا ہے)
*
گردنِ مینا چو خم کردی بہ ساغر می بریز
تا بہ کی دل را بری ساقی بہ کج دار و مریز 6؎
’’مینا کی گردن جب خم کی ہے تو ساغر میں مئے ڈال/کب تک اے ساقی، کج کرنا اور کم ڈالنا؟‘‘
*
مگر بر روی جانان شد عیان خط
کہ می آید برای دوستان خط 1؎
’’کیاروئے جاناں پر خط ظاہر ہو رہا ہے/کہ دوستوں کے لیے خط آ رہے ہیں‘‘
*
نہ یارِ یوسفِ مصری، نہ پیرِ کنعان من
کہ بی مشاہدہ کردن ز پیرہن محظوظ 2؎
(ترجمہ:نہ میںیوسفِ مصر کا دوست ہوں، نہ پیر کنعاں/کہ جسے بغیر دیکھے،پیراہن سے محظوظ کیا جائے)
*
یکدم گر آبِ رویی شود روبہ روی تیغ
نی روی تیغ مانَد و نی آبروی تیغ 3؎
(ترجمہ: اگر ایک لمحے کے لیے چہرے کا آب تیغ کے مقابل آ جائے/ تو نہ تیغ کی دھار باقی رہے، نہ تیغ کی آبرو)
*
می برم دل ز سرِ کوی تو و می آرم
چہ کنم، جز تو خریدار ندارم، چہ کنم 4؎
(ترجمہ: دل کو تیرے کوچے سے لے کر جاتا ہوں اور پھر واپس لے آتا ہوں/ کیا کروں، تیرے سوا کوئی اس دل کا خریدار نہیں، کیا کروں؟)
*
خاک شدم بہ جست و جو،ہست ہنوزم آرزو
تا نبرد ز کوی او، بادِ صبا غبارِ من 5؎
(ترجمہ: جستجو میں خاک ہو گیا لیکن، اب بھی یہی آرزو ہے/ کہ تیرے کوچے سے باد صبا مر ی خاک کو اڑا نہ لے جائے)
.3 تائید عظیم آبادی، خواجہ عبداللہ
ان کے احوال بھی تذکروں میں کم ملتے ہیں۔تاریخ شعراے بہار (ص 7)کے مطابق تقریباً 1150 ھ (1737-38ھ) میں پیدا ہوئے۔ علی حسن خاں، تذکرہ صبح گلشن (ص 79)میں، رقمطراز ہیں کہ خواجہ تائید مجموعہ فضائل تھے اور عربی و فارسی نظم و نثر کے ساتھ ساتھ فن معما اور تاریخ گوئی پر بھی مسلّط تھے۔ مدتوں موتمن الملک، مبارک الدولہ بہادر، ناظم صوبہ بنگال (حک 1770-1793)کے اتالیق رہے۔ پھر نواب ابراہیم علی خان بہادر، ناظم بنارس، کی دعوت پر بنارس جاکر تذکرہ صحف ابراہیم کی تالیف میں سہیم و شریک ہوئے اور تذکرہ مذکور پر ایک بلیغ خطبہ بھی لکھا۔ آخرکار عظیم آباد لوٹ آئے۔
مولفین صبح گلشن اور نشتر عشق لکھتے ہیں کہ تائید 1186 ھ/1772میں عظیم آباد میں فوت ہوئے۔ محمد علی تمنا عظیم آبادی (م:1232ھ/1817) ان کے خلف الرشید تھے۔ تمنا نے ’از جہان عارف حق رفت‘ 1؎ سے اپنے والد کی تاریخ وفات نکالی۔ لیکن صاحب نشتر عشق 2؎ کے بقول ان کے بیٹے نے جو تاریخ نکالی ہے اس سے صحیح سال برآمد نہیں ہوتا، شاید سہو کاتب کی وجہ سے کوئی لفظ بدل گیا ہو، لہٰذا اس نے ’ز اھل سخن بود تائید، آہ‘سے تاریخ نکالی جس سے 1186ھ برآمد ہوتا ہے۔ لیکن اگر تاریخ شعرائے بہار (ص 7) کاقول کہ تائید تقریباً1150ھ (1737-38ھ) میں پیدا ہوئے تھے کو قبول کیا جائے تو 1186 ھ میں وفات کے وقت ان کی عمر 36سال قرار پاتی ہے جسے قبول کرنے میں تامل مانع ہے۔ ان کے بیٹے تمنا عظیم آبادی کے قطعہ تاریخ سے 1206ھ (1791-92) برآمد ہوتا ہے جسے صحیح ماننا چاہیے۔
تائید عظیم آبادی کے آثار سے متعلق تذکروں سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا دیوان فارسی مرتب تھا اور منشات کا ایک مجموعہ ان کے بیٹے نے مرتب کیا تھا۔ اس مجموعہ منشات کی تفصیل تاریخ شعراے بہار (ص 7-8) میں اس طرح آئی ہے:
ان کے مکتوبات کو ایک کتاب موسوم بہ ’زبدۃ المنشات‘ میں ان کے بیٹے خواجہ محمد علی تمنا نے جمع کیا تھا۔ انھیں میں ایک مکتوب بنام شہزادہ مرزا جواں بخت جہاندار شاہ (خلف شاہ عالم بادشاہ) بھی ہے، جس میں انھوں نے ’حسن اور شام سندر‘ کے عشق کی مشہور و معروف سچی داستان بیان کی ہے، جس کو میر تقی میر نے مثنوی ’شعلۂ عشق‘ میں مولانا شوق نیموی نے مثنوی ’سوز و گداز‘ میں نظم کیا ہے۔ یہ واقعہ پٹنہ میں محمد شاہ بادشاہ کے زمانے میں گذرا تھا۔چنانچہ میر صاحب ’شعلۂ عشق‘ میں فرماتے ہیں:
عجب کام پٹنہ میں اس سے ہوا
عجب ایک عالم کو جس سے ہوا
اس قصے کو منشی باقی علی خاں لکھنوی نے بھی نثر فارسی میں لکھا ہے جو ایک رسالے کی صورت میں 1264ھ (1848 )میں چھپا تھا۔
زیر نظر بیاض سبحان علی خاں میں تائید عظیم آبادی کے 27 شعر الفبائی ترتیب سے مندرج ہیں (ورق 31ب-32ب)اور ان اشعار سے اندازہ ہوتا ہے کہ امین عظیم آبادی ہی کی طرح، تائید عظیم آبادی کا بھی دیوان یا کوئی انتخاب مولوی سبحان علی خاں کے پیش نظر ضرور رہا ہوگا۔ ذیل میں بیاض مذکورمیں مسطور تائید عظیم آبادی کے اشعار نقل کیے جاتے ہیں:
یارب، بہ حقِّ گریۂ بی اختیارِ ما
صبری بدہ کہ داد ستانَد ز یارِ ما
بر مشتِ خاکِ ما چو رسیدی، گریستی
تا طرفِ دامنِ تو نگیرد غبارِ ما
چون کندنِ دل از تو میسّر نمی شود
جان کندن است در غمِ عشقِ تو کارِ ما
(ترجمہ:یارب، ہمیں، ہمارے بے اختیار گریہ کے بدلے میں/وہ صبر دے کہ یار سے انصاف طلب کر سکیں
جب میری مشتِ خاک قبر پر پہنچے تو رو پڑے/تاکہ ہمارا غبار تمہارا دامن نہ پکڑلے
جبکہ تم سے دل کو جدا کرنا میسر نہیں، ممکن نہیں/تو جاں سے جانا تیر ے غمِ عشق میں ہمارا کام ہے)
*
مکن ای باد در آشفتنِ زلفش تقصیر
در دلش تا گذرد یادِ پریشانیِّ ما
(ترجمہ:اے ہوا، اس کی زلفوں کو بکھیرنے میں کوئی کوتاہی نہ کر/شاید اس کے دل میں ہماری پریشانی کا خیال آجائے)
*
با غیر، میِ ناب زدی در نظرِ ما
خوردی پسِ ہر جام کباب از جگرِ ما
(ترجمہ:غیر کے ساتھ تم نے ہماری نظروں کے سامنے خالص شراب پی/ اور ہر جام کے بعد ہمارے جگر کا کباب کھایا)
*
شایستہ رفو نبوَد جیبِ چاکِ ما
جایی نماندہ است کہ سوزن فرو کند
(ترجمہ:ہمارے جیب کا چاک اب رفو کے قابل نہیں رہا/کہ اس میں سوئی داخل کرنے کی بھی جگہ باقی نہیں رہی)
*
بہ دشمن شست بگشادی و من از رشک جان دادم
تو بودی بر خطا، امّا خدنگت، بر نشان آمد
(ترجمہ:تم نے دشمن پر تیر چلایا اور میں رشک سے جاں بحق ہو گیا/ خطا تمھارے ہاتھوں سے ہوئی، مگرتیر نشانے پر جا لگا)
*
چہ سود نامہ نوشتن بہ یارِ بی پروا
امیدِ زیستنم نیست تا جواب آید
(ترجمہ:یارِ بے پروا کو خط لکھنے سے کیا حاصل/کہ جواب آنے تک مرے زندہ رہنے کی امید نہیں)
*
حکایتِ شبِ ہجران بہ یار می گفتم
بہ خواب رفت چو این قصّہ را تمام شنید
(ترجمہ:شبِ ہجراں کی حکایات یار کو سناتا رہا/لیکن وہ سو گیا جب یہ قصہ مکمل ہوا)
*
بر حالِ خود نظر چو منِ خستہ جان کنم
با چشمِ تر نگاہ سوی آسمان کنم
(ترجمہ:جب اپنے حال پر، میں خستہ جان نظر ڈالتا ہوں/آنسو بھری آنکھوں سے آسمان کی طرف دیکھتا ہوں)
.4 تحقیق عظیم آبادی، میر محمد علیم
ان کے والد کا نام میر محمد بدیع الدین سمرقندی تھا۔ تحقیق کی عرفیت ’میر میتن‘ تھی اور اختر اورینوی کا خیال ہے کہ پٹنہ کا محلہ ’میتن گھاٹ‘ غالباً انھیں کے نام سے موسوم ہے۔1؎ تحقیق1070ھ / 1659-60 میں پیدا ہوئے۔ ان کا مولد محلہ مغلپورہ عظیم آباد2؎ تھا۔ تحقیق نے 92سال کی عمر میں 1162ھ/1749 میں انتقال کیا۔تاریخ شعرائے بہار(ج1، ص9) کے مطابق:
معقولات و منقولات میں شہرۂ آفاق تھے۔ فن موسیقی و تیر اندازی میں کمال حاصل تھا۔ پیراکی میں ایسی مہارت بہم پہنچائی تھی کہ پانی پر چار زانو بیٹھ کر گنگا کے پار اتر جاتے تھے۔ خوش حالی اور بے فکری کے باعث مینڈھے، مرغ اور بٹیریں لڑانے کا بھی شوق تھا۔ ایک مدت تک دلی اور بنگال وغیرہ کی سیاحت میں مصروف رہے۔ پھر اپنے وطن مالوف واپس آگئے۔ زین الدین احمد خاں ہیبت جنگ کو ان سے بہت عقیدت تھی۔
شاعری میں میر معز الدین محمد موسوی فطرت مشہدی (م: 1101ھ/1690 ) کے شاگرد تھے۔ بیاض مولوی سبحان علی خاں میں ان کے نام کے آگے ’شاگرد فطرت‘ لکھا ہوا ہے۔ اس سلسلے میں اختر اورینوی لکھتے ہیں کہ:
فطرت 1082ھ/1671-72میں ایران سے ہندوستان آئے۔ اورنگزیب عالمگیر (حک 1658-1707) کا زمانہ تھا۔ عظیم آباد میں دیوانی پر مامور ہوئے۔ تحقیق نے بھی میرزا موسوی کے آگے زانوے شاگردی تہہ کیا۔ فطرت کے پٹنہ آنے سے پہلے مرزا بیدل (م:1133ھ/1721) دہلی جا چکے تھے، اور اس وقت تحقیق کا عنفوان شباب بھی شروع نہیں ہوا تھا۔ 1؎
تذکرہ روز روشن (ص 128) اور آفتاب عالمتاب (ج 1، ص 377) کے مطابق تحقیق دہلی جا کر فطرت کے شاگرد ہوئے تھے۔
اجاگر چند الفت عظیم آبادی، میر محمد علیم تحقیق کے شاگرد تھے۔ کے۔ پی۔ جیسوال انسٹی ٹیوٹ، پٹنہ میں محفوظ الفت کے مجموعۂ منشات میں تحقیق کے نام ایک خط مندرج ہے جس کے عنوان میں تحقیق کے نام کے ساتھ ’افصح الشعرا‘ لکھا ہوا ہے۔ اس سے تحقیق کی ’استادانہ‘ شخصیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس مجموعۂ منشات2؎ میں شامل لالہ بندرا بن داس خوشگو،مولف تذکرہ سفینہ خوشگو، کے نام ایک مکتوب سے معلوم ہوتا ہے کہ الفت نے پہلے اپنے استاد کے شعروں کا ایک انتخاب سفینہ خوشگو میں شامل کرنے کے مقصد سے خوشگو کو ارسال کیا تھا اور پھراپنے استاد کی وفات پر خوشگو کو ایک قطعہ تاریخ بھی بھیجا تھا۔3؎ ذیل میں الفت کا قطعہ تاریخ درج کیا جاتا ہے: ؎
آن میر علیم، رمزِ معانی جا کرد
در خلوتِ عرش، فوقِ چرخِ ارزق
افتاد ستونِ کاخِ فطرت4؎ افسوس
شد گلشنِ تحقیقِ خرد بی رونق
در ماتمِ او کرد سخن جامہ سیاہ
چون گریہ نمود خامہ ھچ دیدۂ شق
در خونِ جگر، دلِ سیہ پوش ز غم
زد غوطہ چو داغِ لالہ در رنگِ شفق
تاریخِ وصالِ او با الفت، ہاتف
فرمود کہ تحقیق شدہ واصلِ حق

1162ھ 5؎
مذکورہ مجموعۂ منشات میں دو خط میر محمد حسین کے نام کے بھی ہیں جو میر محمد علیم تحقیق عظیم آبادی کے بیٹے تھے۔
اختر اورینوی کے بقول فارسی کا ایک ضخیم دیوان تحقیق نے یادگار چھوڑا ہے لیکن انھوں نے دیوان کے نسخے یا نسخوں کا ذکر نہیں کیا ہے۔ 6؎
پیش نظر بیاض مولوی سبحان علی خاں میں تحقیق عظیم آبادی کا صرف ایک شعر درج ہے (ورق 32ب)جو ذیل میں نقل کیا جاتا ہے ؎
جان ببرد از بس بہ یادت جسمِ غم پروردِ ما
بوی نار آید چو برخیزد بہ محشر گردِ ما
(ترجمہ:تیری یاد میں ہمارے غم پرور جسم نے اس طرح جان کھوئی ہے /کہجب قیامت میں ہمارا غبار اُٹھے گا تو اس میں سے آگ[ جلنے] کی بو آئے گی)
.5 رنگین عظیم آبادی، منشی بلاس رائے
منشی بلاس رائے کے احوال بھی تذکروں میں کم ہی ملتے ہیں۔اس قدر مسلم ہے کہ وہ پیشے سے منشی تھے اور راجہ رام نراین موزوں عظیم آبادی (م: 1187ھ/1773)سے وابستہ تھے بلکہ ان کی ملازمت میں تھے۔ ان کے کسی دیوان یا انتخاب کا پتا نہیں چلتا لیکن تذکروں میں یہ ضرور منقول ہے کہ ریختہ میں ان کا ایک دیوان تھاجو اب نایاب ہے۔ بہرحال، جامع التذکرہ (ج 1، ص 200)، مرتبہ ڈاکٹر انصار اللہ، میں مختلف تذکروں سے ان کے حالات حسب ذیل ہیں :
لالہ بلاس رائے رنگین، راجہ مان رائے کا بیٹا ہے جو محمد علی روہیلہ (حک 1721-48) کے بیٹے کا مدارالمہام ہے۔ موزوں طبع ہے۔ ساکن چکلہ بریلی، خوبصورت، خوش سیرت، لیکن اونچی دکان پھیکا پکوان، نہایت بے فیض اور ناقدردان۔ دیوان ریختہ مرتب ہے۔ کلام،معانی اور شاعری کے لطف سے خالی ہے۔ منشی بلاس رائے فن انشا میں دستگاہ ہے۔ راجہ رام نراین، ناظم صوبہ بہار، کے تمام منشیوں میں فایق ہے۔ راجہ کے بعد کئی برس زندہ رہا (اور) 1190ھ (1776)میں مرا۔
واضح ہو کہ طبقات الشعرا (ص 591) اور تذکرۂ شعراے بریلی (ص 140) دونوں تذکروں میں رنگین کا نام ’ہلاس رائے‘ درج ہے۔ تذکرۂ شعراے بریلی میں رنگین کو ’تلمیذ حسن علی خاں شوق‘ لکھا گیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ طبقات الشعرا میں ’بلاس رائے‘ در واقع رنگین کے بڑے بھائی کا نام بتایا گیا ہے۔ اس کا تخلص مہاراجہ تھا اور اسے بھی ’از شاگردان حسن علی خاں شوق‘کہا گیا ہے۔
اجاگر چند الفت عظیم آبادی کے خطوط ان کے نام بھی پائے جاتے ہیں۔1؎ بیاض مولوی سبحان علی خاں میں منشی بلاس رائے رنگین کا صرف ایک شعر آیا ہے(ورق 77ب) جو ذیل میں نقل کیا جاتا ہے:
عشق از دلِ من سینہ پر از آبلہ دارد
فریاد کہ آتش ز سپندم گل دارد
(ترجمہ:عشق کا سینہ میرے دل کی وجہ سے[مر ی حالت دیکھ کر] پُرآبلہ ہے [جل رہا ہے]/ فریاد کہ آگ کو مرنے سپند سے شکایت ہے)
.6 عشقی عظیم آبادی، شیخ محمد وجیہ
عشقی، شاعر سے زیادہ ایک تذکرہ نگار کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ ان کا تذکرہ ’تذکرۂ عشقی‘ فارسی زبان میں اردو یا ریختہ کے 439 شاعروں کا ایک ضخیم تذکرہ ہے جسے انھوں نے 1215ھ/ 1800-01میں تالیف کیا۔ یہ تذکرہ کلیم الدین احمد نے ’دو تذکرے‘ میں ’تذکرۂ شورش‘ کے ہمراہ، مرتب کرکے دوجلدوں میں بالترتیب 1959 اور 1963میں پٹنہ سے شائع کیا ہے۔ عشقی کے حالات البتہ تذکروں میں نہیں ملتے ہیں۔ ان کے شاگرد حسین قلی خاں عاشقی عظیم آبادی (زندہ 1250ھ/ 1834)، مولف تذکرۂ نشتر عشق، نے اپنے تذکرے میں ان کے جو حالات درج کیے ہیں ذیل میں اس کا ترجمہ پیش کیا جاتا ہے(نشتر عشق، ج 2، ص1100-1101):
شیخ محمد وجہ الدین عظیم آبادی،سلمہ اللہ تعالی، خلف الصدق شیخ غلام حسین متخلص بہ’مجرم‘ (عظیم آبادی)ہیں۔ کلام ان کا شیرینی اور روانی میں آبِ کوثر اور زمزم سے سبقت لے جاتا ہے اور شفافیت اور صفائی میں آئینے سے رونمائی حاصل کرتا ہے۔ وہ خاص انداز میں بات کرتے ہیں اور ہمیشہ اچھی اورمرغوب باتیں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگرچہ انھوں نے عربی میں صرف و نحو سے زیادہ تحصیل نہیں کی، لیکن ان کی فارسی بہت اچھی ہے اور اس زبان کے اصطلاحات اور محاوروں پرعبور حاصل ہے۔ وہ صاف اور عاشقانہ غزلیں کہتے ہیں اور رنگین اور پسندیدہ انشالکھتے ہیں۔ وہ راقم السطور سے بہت محبت کرتے تھے اور اکثرمجھ سے ملنے میرے گھر تشریف لاتے تھے۔ میں بھی ان سے انسیت اور محبت رکھتا تھا۔ ابتدا میں میں نے انھیں اپنا استاد بنایالیکن ابھی چھ ماہ ہی کچھ فارسی کتابیں پڑھی تھیں اور ان کی صحبت سے فیضیاب ہواتھا کہ مجھے اپنے والد کے ہمراہ مغرب کا سفر درپیش ہوا۔ میں دس سال تک ضلع اٹاوہ 1؎ کے کھرور میں رہا (جہاں میرے والد)تحصیلداری پر مامور تھے۔میرے جانے کے دو سال بعد وہ بھی جہانگیر نگر(ڈھاکہ) چلے گئے۔ اس مدت کے بعد جب میں اپنی شادی کے سلسلے میں واپس عظیم آباد آیا تو دو تین ماہ بعد وہ بھی واپس عظیم آباد آگئے۔ اس کے بعد دو سال میں عظیم آباد میں رہا اور ہمارے درمیان ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ لیکن چوں کہ والد بزرگوار ان دنوں پرگنہ فیروزآباد میں مضافات صوبہ اکبرآباد کی تحصیلداری پر مامور تھے، جو ضلع علی گڑھ سے متعلق ہے، لہٰذا شوال1216 فصلی میں ایک بار پھر اس دلنواز دوست سے وداع ہوکر میں وہاں چلا گیا۔ اب سات سال ہو رہے ہیں اور اب بھی دوری وجدائی ہمارے بیچ حائل ہے۔ البتہ سننے میں آیا ہے کہ نزلہ کی وجہ سے ان کی بینائی میں کمی واقع ہو گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ انھیں ہر حال میں اپنے فضل سے خوش و خرم رکھے۔
صاحب تذکرہ نشتر عشق کے پاس ان کا دیوان موجود تھا جس میں سے اس نے ان کے کلام کا اچھا خاصا ردیف وار انتخاب اپنے تذکرے میں پیش کیا ہے(دیکھیے ص 1101 تا 1113)۔
واضح رہے کہ حسین قلی خاں عاشقی نے اپنے تذکرے، نشتر عشق، کی تالیف 1224ھ/1809میں شروع کی تھی اور تذکرے کی تکمیل 1233ھ/ 1818 میں ہوئی۔عشقی عظیم آبادی کے ترجمے میں وہ لکھتا ہے کہ 1216 فصلی میں وہ دوبارہ عظیم آباد سے اپنے والد کے پاس پرگنہ فیروزآباد چلا گیاتھا اور :
اکنون باز از عرصۂ ہفت سال، پای دوری و جدایی درمیان است. بالفعل شنیدہ شد کہ از نزول نزلہ دربینایی آن جناب قصوری واقع شدہ اللہ تعالی ایشان را بہ ہر حال و اوان بہ فضل خود خوش و خرم نگاہ دارد۔
’’اب پھر سات سال کا عرصہ گزر چکا ہے اور ہمارے درمیان دوری اور جدائی کی دیوار حائل ہے۔ حال ہی میں یہ خبر ملی ہے کہ نزلے کی وجہ سے ان کی بینائی میں کچھ کمی واقع ہوگئی ہے۔ اللہ تعالیٰ انھیں ہر حال میں اپنے فضل سے خوش و خرم رکھے۔‘‘
مذکورہ بیان سے واضح ہے کہ جب حسین قلی خاں عاشقی عظیم آبادی اپنے تذکرے میں عشقی عظیم آبادی کے احوال قلمبند کر رہا تھا تب اسے عظیم آباد چھوڑے ہوئے سات سال ہو چکے تھے۔ اس نے عظیم آباد سے اپنی روانگی کی تاریخ 1216 فصلی، یعنی 1220ھ/ 1806، لکھی ہے۔ اس حساب سے جب وہ عشقی کا ترجمہ لکھ رہا تھا تب عشقی بقید حیات تھے اور سال 1227ھ/1813 رہا ہوگا۔ لہٰذا، یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ عشقی عظیم آبادی کم از کم 1227ھ/ 1813تک ضرور زندہ تھے۔مصحح تذکرہ نشتر عشق، عشقی کے دیوان کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ ان کا دیوان ہنوز غیرمطبوعہ ہے اور وہ ’عشقی‘ کے علاوہ ’عروضی‘ بھی تخلص کرتے تھے۔ پیش نظر بیاض مولوی سبحان علی میں عشقی عظیم آبادی کا ایک شعر درج ہے(ورق 120ف) جو ذیل میں نقل کیا جاتا ہے ؎
وصلِ تو مرہمِ شفاست بہرِ دلِ فگارِ من
گر نکنی تلطّفی، وای بہ جانِ زارِ من
(ترجمہ:تمھارا وصل ہمارے دل فگار کے لیے مرہم شفا ہے/ اگر تم تلطف نہیں کرو، تو افسوس ہمارے جان زار پر)
واضح رہے کہ عشقی عظیم آبادی کا ایک واسوخت (9 بند کا) فارسی میں ادراک گوپال پور، شمارہ 2، ص90-91، 2002 ، میں شائع ہوا تھا جس کامطلع حسب ذیل ہے ؎
فغان کہ آن بتِ ناآشنا نمی آید
بہ جان رسیدم و باز از جفا نمی آید
(ترجمہ:افسوس کہ وہ بت ناآشنا نہیں آتا/میری جان لبوں پر آچکی ہے لیکن وہ جفا سے باز نہیں آرہا)
اس کی ہر بیت ہے ؎
خدا کند کہ ز ما عشق دست بردارد
دلی نماند کہ دیگر شکست بردارد
(ترجمہ:خدا کرے کہ ہم سے عشق دستبردار ہو جائے/اب دل کی حالت ایسی نہیں کہ مزید شکست برداشت کر سکے۔)
.7 غازی عظیم آبادی، خواجہ عاقبت محمود
خواجہ عاقبت محمود کشمیری الاصل ہیں۔عظیم آباد میں سکونت پذیری کی وجہ سے ’عظیم آبادی‘ معروف ہوئے۔ ان کے احوال تذکروں میں کم ملتے ہیں۔ سفینہ خوشگو، گل رعنا،صحف ابراہیم اور تذکرہ شعراے کشمیر سے اس قدر معلوم ہو سکا کہ خواجہ عاقبت محمود فن شعر و انشا میں ماہر تھے اور پہلے ’ناظم‘ تخلص کرتے تھے۔
پیش نظر بیاض سبحان علی خاں میں خواجہ عاقبت محمود غازی عظیم آبادی کا صرف ایک شعر درج ہے (ورق 126ب)جو ذیل میں نقل کیا جاتا ہے ؎
رویش از گرمیِّ می یک چمنِ گْل شدہ است
حسنش از بادہ کشی ہا قدح مل شدہ است
(ترجمہ:اس کا چہرہ مے کی حرارت سے پھولوں کا چمن ہو گیا ہے، سرخ ہوگیا ہے/ اس کا حسن شراب پینے سے جام شراب کی طرح روشن ہوگیا ہے۔)
غورطلب ہے کہ یہی شعر سفینہ خوشگو میں حسب ذیل طریقے سے مندرج ہے:
رویت از گرمی می یک چمن گل شدہ است
چشمت از بادہ کشی ہا قدحِ مل شدہ است
(ترجمہ:تیرا چہرہ مے کی حرارت سے پھولوں کا چمن ہو گیا ہے، سرخ ہوگیا ہے/تیری آنکھیں شراب پینے سے جام شراب کی طرح روشن ہوگئی ہیں)
.8 قیامت عظیم آبادی، حاجی احمد علی خاں
ان کا ذکر تذکروں میں نہیں ملا۔ لیکن ان کے بیٹے خادم حسین خاں خادم عظیم آبادی کا ذکر تذکروں میں موجود ہے۔ مثال کے طور پر تذکرۂ شورش (مرتبہ: محمود الٰہی و مترجمہ محمد عاصم اعظمی) میں بھی دو سطری تعارف اور تین شعر بہ طور نمونہ درج ہے (ص 174)۔ قابل ذکر ہے کہ حاجی احمد علی خاں قیامت اور ان کے بیٹے خادم عظیم آبادی، زین الدین مکی کی اولاد، ملا محمد نصیر کے بھائی سعادت علی خاں کی اولاد میں سے تھے۔ ان کی خاندانی تفصیلات کے لیے دیکھیں: کاروان رفتہ(عظیم آباد کے قدیم خاندانوں کا تذکرہ)، مولفہ نقی احمد ارشاد، خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ، 1995۔ ملا محمد نصیر، علی ابراہیم خاں کے نانا تھے۔ لہٰذا، وہ اپنے تذکرے گلزار ابراہیم (ص125) میں خادم عظیم آبادی کے ترجمے میں رقمطراز ہیں کہ:
خادم حسین خان، خلف حاجی احمد علی ’قیامت‘ تخلص. از منصب داران و عم زادگان مؤلّف اوراق است۔ بہ نسبت اجداد پدری از شیوخ بنی ہاشم و بہ نسبت اجداد مادری از سادات حسینی است۔
(ترجمہ:خادم حسن خان، خلف حاجی احمد علی، قیامت، تخلص۔منصب دار اور عم زاد مؤلف ہیں۔ والد کی طرف ہاشمی اور والدہ کی طرف سے سادات حسینی ہیں۔)
پیش نظر بیاض سبحان علی خاں میں حاجی احمد علی قیامت عظیم آبادی کے دو شعر منقول ہیں (ورق 140ب) جو ذیل میں نقل کیے جاتے ہیں۔ یہ دو شعر اس لیے بھی اہم ہیں کہ قیامت کے احوال اور اشعار تذکروں میں نہیں ملتے ؎
سرگشتگی بہ عشقِ تو شد سرنوشتِ ما
از خاک گردباد مگر شد سرشتِ ما
(ترجمہ:تمھارے عشق میں سرگشتگی ہماری تقدیر بن چکی/ گویا ہماری سرشت میں گردباد ]بگولہ[ کی خاک شامل ہے)
*
ای وای بہ عاشقان دوا نیست
گر کشتہ شوند، خون بہا نیست
(ترجمہ:افسوس، عاشقوں کے لیے کوئی دوا نہیں ہے/ اگر وہ قتل ہوجائیں، تو ان کا خوں بہانہیں ہے)
.9 مضموں عظیم آبادی، میر محمد ہاشم
میر معز الدین محمد موسوی فطرت مشہدی (م: 1101ھ/1690) کے شاگرد تھے۔ ابتدا میں ’مشربی‘ تخلص کرتے تھے اور میر عبدالجلیل بلگرامی (م: 1138ھ/1725)کے مقربین میں تھے۔ مضموں عظیم آبادی سے متعلق تذکروں میں یہی مختصر اطلاع ملتی ہے۔ البتہ قابل ذکر ہے کہ حالیہ ایران میں مضموں سے متعلق ایک بحث چلی۔ واقعہ یہ ہے کہ کتاب خانہ ملی تہران(ایران) میں ایک خطی مجموعہ اشعار (نمبر 594331) میں ایک فارسی نوحہ ’اے اشک پیش از این ہنری داشتی چہ شد‘ درج ہے جس کے مقطع میں ’مضموں‘ تخلص آیا ہے(مضمون غلام توست شہا چشم را مپوش)۔ اس مختصر نوحے نے ایرانیوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کی اور یہ سوال اٹھا کہ اس کا شاعر کون ہے۔ کئی مراسلے اور مضامین شائع ہوئے۔ آخر میں بعض ایرانی اسکالروں منجملہ حاج محمد کریمی نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ نوحہ مضموں عظیم آبادی کا ہے۔ بہرحال، پیش نظر بیاض سبحان علی خاں میں مضموں کا ایک شعر درج ہے(ورق 158ب) جو ذیل میں نقل کیا جاتا ہے۔ اس شعر کے سلسلے میں یہ بھی عرض کردیں کہ مضموں کا یہ شعر ’گنج بے رنج: تکملہ ضرب المثل ہاے مشہور فارسی‘ (ص 300) میں بھی آیا ہے ؎
تر دماغیہای بلبل از ملاقاتِ گل است
صحبتِ یاران رنگین، کارِ صہبامی کند
(ترجمہ:بلبل کی مستی، گل کی ملاقات کی وجہ سے ہے/رنگین دوستوں کی محفل، شراب کا کام کرتی ہے۔)
.10 مفتوں عظیم آبادی، علی بخش خاں
ان کے احوال بھی تذکروں میں کم ملتے ہیں۔ شورش عظیم آبادی اپنے تذکرے (ص 250)میں لکھتا ہے کہ:
ساکن عظیم آباد، شاعر فارسی، در محفل مشاعرہ تشریف می آوردند و غزل طرح گاہ بہ گاہ می فرمودند، گاہی فکر ریختہم می نمایند.
(ترجمہ:ساکن عظیم آباد۔ فارسی کے شاعر۔ مشاعرے میں شریک ہوتے ہیں اور طرحی غزل کبھی کبھی سناتے ہیں۔ ریختہ بھی کہتے ہیں۔ )
پیش نظر بیاض مولوی سبحان علی خاں میں مفتوں کا ایک شعر درج ہے(ورق 161ب) جو ذیل میں نقل کیا جاتا ہے ؎
گر صبا آرد ز زلفِ آن بتِ طنّاز بو
از گلستان، با پَرِ بلبل کند پرواز بو
(ترجمہ:اگر باد صبا اس بتِ طناز کی زلفوں سے خوشبو لے آئے/ تو گلستاں سے، بلبل کے پر لگا کر[شرم سے] خوشبو اڑ جائے)
قابل ذکر ہے کہ ایک اور مفتوں عظیم آبادی ہیں جن کا نام حاجی میرزا علی ہے اور ان کے والد کا نام میرزا ابوطالب عظیم آبادی ہے۔ یہ اپنے سفرنامہ ’زبدۃالاخبار فی سوانح الاسفار‘ کے لیے جانے جاتے ہیں۔ یہ سفرنامہ در واقع ان کے سفرحج کا روزنامچہ ہے جس کے مطابق وہ عظیم آباد سے 8 ربیع الثانی 1241ھ20/ نومبر 1825میں اپنا سفر شروع کرتے ہیں اور 5 جمادی الثانی 1245ھ 2/ دسمبر 1829میں واپس آتے ہیں۔ یہ سفرنامہ بہ تصحیح ڈاکٹر ذاکرہ شریف قاسمی، اسلامک وندرس بیورو، دہلی سے 2003میں شائع ہوا ہے۔
.11 موزوں عظیم آبادی، رام نراین
راجہ رام نراین موزوں عظیم آبادی(م: 1187ھ/1773)، نائب ناظم صوبہ بہار، فرزند رنگ لال بدایونی، شاعری میں شیخ محمد علی حزیں لاہیجی (م: 1180ھ/1766)کے شاگرد تھے۔ تذکروں میں ان کے حالات ملتے ہیں اور ان پرمفصل مقالات بھی لکھے گئے ہیں لہٰذا یہاں اختصار سے کام لیتے ہوئے صرف اس قدر کہنا ہے کہ راجہ رام نراین اوران کے ورثا کے احوال تفصیل سے کاروان رفتہ(عظیم آباد کے قدیم خاندانوں کا تذکرہ)، مولفہ نقی احمد ارشاد، خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ، 1995، میں مذکور ہیں اور یہ کہ موزوں کی ایک کتاب ’مفتاح الصفات‘ مطبع نولکشور، لکھنؤ سے 1869میں اور اس کا فارسی دیوان، مطبع محمدی پٹنہ اور مطبع نولکشور لکھنؤ سے 1288ھ/1871-72 میں شائع ہوا تھا۔
پیش نظر بیاض مولوی سبحان علی خاں میں راجہ رام نراین موزوں عظیم آبادی کے مندرجہ ذیل دو شعر درج ہیں(ورق 162ب) ؎
چہ خوش می گفت روزی ازہجومِ درد، عریانی
کہ دل را چاک باید زد، اگر نبوَد گریبانی
(ترجمہ:کیا خوب کہہ رہا تھا ایک دن درد کے ہجوم میں ایک عریاں شخص/ کہ دل کو چاک کر دینا چاہیے اگر گریبان نہ ہو۔)
*
قیامت دیدہ ام در خواب، باعث را نمی دانم
مگر دیروز وصفِ قامتِ دلدار می گفتم
(ترجمہ:میں نے خواب میں قیامت دیکھی ہے، وجہ نہیں جانتا/مگر کل میں اپنے دلدار کی قامت کی تعریف کر رہا تھا۔)
.12 مجرم عظیم آبادی، شیخ غلام حسین
شیخ غلام حسین متخلص بہ مجرم اور تقدیر، شیخ محمد وجیہ الدین عشقی عظیم آبادی مولف تذکرۂ عشقی کے والد تھے۔تذکرۂ عشقی کی تالیف کے وقت، یعنی 1215ھ/ 1800-01میں، بقید حیات تھے۔ بقول عشقی، میر عبدللہ سرشار کے شاگرد تھے۔ فارسی غزل سے خاص لگاؤ تھا اور تاریخ گوئی میں بے مثال تھے۔ فارسی میں ایک مختصر دیوان مرتب کیا تھا اور آخر میں ’تقدیر‘ تخلص کرنے لگے تھے۔ ریختہ کو نقش بر آب سمجھتے تھے لیکن اوائل مشق کے دوران ریختہ میں بھی شعر کہے ہیں(ص 268-69)۔
حسین قلی خاں عاشقی عظیم آبادی، مولف تذکرۂ نشتر عشق، نے اپنے تذکرے میں شیخ غلام حسین مجرم عظیم آبادی کا مختصر ذکر کیا ہے۔ اس کے مطابق، شیخ غلام حسین، شاہ محمد وفا دہلوی (م:1190ھ/ 1776)، مولف وقائع مہابت جنگی، کے شاگرد تھے۔ وہ ان سے ایک دو مرتبہ عظیم آباد میں ملاتھا۔ نشتر عشق میں ان کے احوال لکھے جانے تک وہ زندہ تھے اور جہانگیرنگر ڈھاکہ میں رہ رہے تھے۔ قابل توجہ ہے کہ نشتر عشق کی تکمیل 1233ھ/1818 میں ہوئی اور جیسا کہ عشقی عظیم آبادی کے ذیل میں ثابت کرچکے ہیں کہ مذکورہ تذکرے میں عشقی کے احوال 1227ھ/ 1813میں لکھے گئے اور اس وقت عشقی ڈھاکہ میں تھے۔ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ شیخ غلام حسین اس سال تک بقید حیات تھے اور ڈھاکہ میں رہ رہے تھے۔
پیش نظر بیاض سبحان علی خاں میں شیخ غلام حسین مجرم عظیم آبادی کا درج ذیل شعر آیا ہے(ورق 162الف) اور یہی ایک شعر تذکرۂ نشتر عشق میں بھی مندرج ہے ؎
بنواز بہ رخم تیغ ظالم
از آب مکن دریغ ظالم
(ترجمہ:ظالم، میرے چہرے پر تلوار کی نوازش کرو/اس کی دھار سے تکلف کی ضرورت نہیں۔)
اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ بیاضیں تاریخ شعر و ادب میں جتنی اہمیت رکھتی ہیں اتنا ان پر توجہ نہیں دی گئی ہے جب کہ یہ ہماری خصوصی توجہ کی مستحق ہیں۔


کتابیات
1 اختر اورینوی، سید اختر احمد؛بہار میں اردو زبان و ادب کا ارتقا، لیبل لیتھو پریس، پٹنہ، 1957
2 اختر ہوگلوی، قاضی محمد صادق خان؛ تذکرۂ آفتاب عالمتاب، 2ج، تصحیح: مرضیہ بیک وردی، انتشارات سفیر اردھال، تہران، 1392ھ.ش/2013
3 ادیب،سید لطیف حسین؛تذکرۂ شعرائے بریلی،اپلائڈ بکس، دہلی، 2020
4 ارشاد،نقی احمد؛کاروان رفتہ(عظیم آباد کے قدیم خاندانوں کا تذکرہ)، مولفہ نقی احمد ارشاد، خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ، 1995
5 امراللہ الہ آبادی، ابوالحسن امیرالدین احمد؛تذکرۂ مسرت افزا، مرتبہ: قاضی عبدالودود، تحقیق: سید شاہ محمد اسمعیل، خدابخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ،1998
6 امین عظیم آبادی،خواجہ امین الدین؛دیوان خواجہ امین الدین امین عظیم آبادی، مرتبہ: عطاالرحمن عطا کاکوی، سلسلہ انتشارات ادارہ تحقیقات عربی و فارسی، پٹنہ،1385 ھ.ق /1966
7 انصاراللہ،محمد؛معتمدالدولہ آغا میر-اسلاف و اخلاف، غالب انسٹی ٹیوٹ، نئی دہلی، 1988
8 انصاراللہ،محمد؛جامع التذکرہ، ج 1 و 2، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی، 2006، ج 3، 2007
9 حسن عباس،سید؛ادراک،ش 2، مرکز تحقیقات اردو و فارسی، گوپال پور، باقرگنج، سیوان (بہار)، 2002
10 خوشگو، بندرابن داس؛ سفینۂ خوشگو، دفتر ثالث، تنظیم: سید شاہ محمد عطا الرحمن عطا کاکوی، پٹنہ، 1959
11 خیام پور، عبدالرسول؛ فرہنگ سخنوران، انتشارات طلایہ، تہران، 1368ھ.ش/1989
12 راشدی، سید حسام الدین؛ تذکرۂ شعرائے کشمیر، 4ج، اقبال اکادمی، کراچی، 1346ھ.ش/1967
13 زور، محیی الدین قادری؛تذکرۂ گلزار ابراہیم مع تذکرۂ گلشن ہند، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ، 1934
14 شورش عظیم آبادی،سید غلام حسین؛تذکرۂ شورش، مترجمہ و مرتبہ: عطاالرحمن عطا کاکوی، سلسلہ انتشارات ادارہ تحقیقات عربی و فارسی، پٹنہ،1388 ھ.ق/1968؛ ایضاً، مرتبہ محمود الٰہی و مترجمہ محمد عاصم اعظمی، قومی کونسل براے فروغ اردو زبان، نئی دہلی، 2015
15 صبا، محمد مظفر؛ تذکرۂ روز روشن، مطبع شاہجہانی، بھوپال، 1296 ھ.ق/1879
16 عاشقی عظیم آبادی، حسین قلی خان؛ تذکرہ نشتر عشق، 2ج، تصحیح و تعلیقات: سید کمال حاج سید جوادی، میراث مکتوب، تہران، 1391ھ.ش/2012
17 عبدالودود، قاضی؛ تحقیقات ودود (متفرقات)، خدابخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ، 1995
18 عبرتی عظیم آبادی، وزیرعلی؛ ریاض الافکار، تصحیح: ذاکرہ شریف قاسمی، NMM، نئی دہلی، 2017
19 عزیزالدین بلخی؛تاریخ شعرائے بہار، دی قومی پریس لمیٹڈ، بانکی پور، پٹنہ، 1350ھ1931
20 عشقی عظیم آبادی،شیخ محمد وجیہ الدین؛تذکرۂ عشقی، مترجمہ و مرتبہ: عطاالرحمن عطا کاکوی، سلسلہ انتشارات ادارہ تحقیقات عربی و فارسی، پٹنہ، 1389 ھ.ق 1969
21 علی حسن خاں؛تذکرہ صبح گلشن، مطبع شاہجہانی، بھوپال، 1295 ھ.ق1878
22 غالب،مرزا اسد اللہ خاں؛کلیات نثر غالب، مطبع نولکشور، لکھنؤ، 1868
23 فصیح الدین بلخی؛ اْجاگر چند الفت عظیم آبادی، اشارہ،ص 49-53، جنوری -فروری 1960
24 فصیح الدین بلخی؛ تذکرۂ ہندو شعرائے بہار، نیشنل بک سنٹر، ڈالٹن گنج، پلامو، 1961
25 کریم الدین ؛طبقات الشعرا (طبقہ سوم)، مرتبہ: عطاالرحمن عطا کاکوی، سلسلہ مطبوعات دائرہ ادب، پٹنہ، 1387 ھ.ق/1967
26 کلیم الدین احمد؛دو تذکرے (تذکرۂ شورش و تذکرۂ عشقی)، ۲ج، لیبل لیتھو پریس، پٹنہ،1959 و 1963
27 لالہ سری رام، خمخانہ جاوید، ج 1، مطبع منشی نولکشور، لاہور، 1908
28 محمد حسین نوگانوی،سید؛تذکرۂ بے بہا فی تاریخ علما، جید برقی پریس، بلی ماراں، دہلی
29 مختارالدین احمد؛ قتیل دہلوی تھا یا فریدآبادی، نقوش، ادبی معرکے نمبر، ش 127، لاہور،ستمبر 1981
30 مرتضیٰ حسین صدرلافاضل،سید؛مطلع انوار،خراسان اسلامک ریسرچ سنٹر، کراچی، 1402 ھ.ق/1981
31 مفتوں عظیم آبادی، حاجی علی میرزا؛زبدۃالاخبار فی سوانح الاسفار، بکوشش: ذاکرہ شریف قاسمی، اسلامک وندرس بیورو، دہلی، 2003
32 منیر شکوہ آبادی؛منتخب العالم، مطبع سعیدی، رامپور، 1323ھ/1905
33 موزوں عظیم آبادی، رام نراین؛دیوان موزوں، مطبع محمدی، پٹنہ، 1288 ھ.ق/1871، و مطبع نولکشور، لکھنؤ، 1288 ھ.ق 1871
34 موزوں عظیم آبادی، رام نراین؛مفتاح الصفات، مطبع نولکشور، لکھنؤ، 1869
35 نوشاہی، عارف؛کتاب شناسی آثار فارسی چاپ شدہ در شبہ قارہ، 4ج، میراث مکتوب، تہران، 1391ھ. ش/2012
36 نوشاہی،عارف؛فہرست نسخہ ہای خطی فارسی کتاب خانہ مرکزی دانشگاہ پنجاب لاہور، ج 1، میراث مکتوب، تہران، 1390ھ.ش2012


Dr. S. Naqi Abbas (Kaifi)
Head, P.G. Department of Persian,
Langat Singh College,
B. R. Ambedkar Bihar University,
Muzaffarpur (Bihar)
(+91) 8860793679 / snabbaskaifi@brabu.ac.in

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

منتخب فرانسیسی ڈراموں کے اردو تراجم کا تنقیدی مطالعہ،مضمون نگار:محمد ریحان

تلخیص فرانسیسی ڈراما نگاری کی شاندار اور طویل روایت ہے، جس نے صدیوں سے تھیٹر کی دنیا کو اپنی تخلیقی جہات سے متاثر کیا ہے۔ فرانسیسی ڈرامے کا آغاز قرونِ

قاضی عبدالودود اور غالبیات، مضمون نگار: شہاب ظفر اعظمی

تلخیص:  اردو تحقیق کی دنیا میں قاضی عبد الودود ایک معتبر نام ہے جنھوں نے ادبی تحقیق کی روایت کو نہ صرف استحکام بخشا بلکہ اس روایت کی توسیع بھی

اصوات اور شاعری،مضمون نگار:مغنی تبسم

شاعری اور موسیقی فنکارانہ اظہار کے وہ ابتدائی طریقے ہیں جن سے زمانہ قدیم کے انسان نے اپنے جذبات کے نکاس اور ان کی بازیابی کا کام لیا۔ یہ دونوں