ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو صحافت کا کردار،مضمون نگار:صابررضارہبر

April 20, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،اپریل 2026:

ہندوستان کی سماجی، سیاسی، ثقافتی اور معاشی ترقی میں اردوصحافت کا انقلابی وتاریخی کردار رہاہے۔ اردو ہندوستان کی ایک اہم زبان ہے۔ یہ زبان اپنی توانا، ادبی اور صحافتی روایت اورفطری لسانی شیرینی کے سبب مختلف طبقات کے درمیان ربط باہم کاموثرذریعہ سمجھی گئی۔ تحریک آزادی سے لے کرعہد جدید تک اردو صحافت نے عوام کی آواز کو بلند کرنے، سیاسی ،سماجی اورتعلیمی شعور کو بیدار کرنے کے ساتھ ساتھ قومی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
برصغیرمیںاردوصحافت کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ یہ نہ صرف سماجی اور سیاسی اصلاحات کا اہم ذریعہ رہی ہیں بلکہ اس نے ملک کو آزادی کاپروانہ دلانے میں بھی انقلابی رول اداکیاہے۔ سرسید احمد خان کے رسالے تہذیب الاخلاق اور علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ نے تعلیمی بیداری اور سماجی اصلاحات کو فروغ دیا۔ تحریک آزادی کے دوران مولوی محمد باقرکے دہلی اردواخبار، مولانا ابوالکلام آزادکے رسائل الہلال اور البلاغ اور مولوی ظفرعلی خان کازمیندار کے علاوہ صادق الاخبار، سراج الاخبار، قیصر الاخبار، اودھ اخبار، تاریخ بغاوت ہند، منشور محمدی، اردوئے معلی، خم خانہ ہند، پیسہ اخبار، تیج، پرتاپ، ملاپ، ہندوستان ،انقلاب اور قومی آواز جیسے اخبارات نے برطانوی راج کے خلاف عوام کو متحد کیا۔ ان اخبارات نے نہ صرف سیاسی شعورکو اجاگر کیا بلکہ ہندوستانی شناخت اور اتحاد کو بھی مستحکم کیا۔ تحریک آزادی کومہمیز کرنے میں مولانا ابواکلام آزاد، مولانا محمد علی جوہر، مولانا ظفر علی خاں، مولوی محمد باقر، مولوی جمیل الدین، منشی نول کشور، ڈاکٹر مکند لال، مولانا حسرت موہانی اور منشی محبوب عالم جیسے صحافیوں کے نام ناقابل فراموش تسلیم کیے جاتے ہیں۔
آزادی کے بعد اردو صحافت نے ہندوستان کی نئی قومی شناخت کی تشکیل میں بھی قدم قدم پر اپنی ذمہ داری کا عملی ثبوت پیش کیا ۔ قومی آواز، روزنامہ انقلاب اور ہماری زبان نے ہندوستان کے متنوع معاشرے میں اردو بولنے والے طبقات کی نمائندگی کی اور ان کے مسائل کوپوری بے باکی کے ساتھ اجاگرکیا۔
دراصل صحافت کاکلیدی اوراہم کام ترسیل کے ساتھ رائے عامہ ہموار کرنا ہے اوریہ اتنا اہم اورچیلنجز سے بھراہے کہ ذراسی دیرمیں حالات کا نہ صرف رخ موڑا جاسکتاہے بلکہ سیاسی وسماجی جغرافیہ کا منظرنامہ بھی تبدیل کیاجاسکتاہے ۔
گلوبلائز یشن کے دورمیں صحافت ایک بڑی طاقت میں تبدیل ہوچکی ہے۔ صارفیت نے اس کے بال وپر کوکھلاآسمان عطا کردیا ہے ۔ایسے میں صحافت کا منفی استعمال بہت نقصان دہ ثابت ہوسکتاہے جبکہ اس کا مثبت کردار قومی رہنمائی اور رائے عامہ کی تعمیر وتشکیل میں خضرراہ ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ اس کا اثربراہ راست قوم پر پڑتاہے ۔ صحافی سماج کا ایک اہم رکن اور صحافت اس کی اہم ضرورت ہے۔ ذرائع ابلاغ کے سہارے ناقابل تسخیر میدان سرکیے جاسکتے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالسلام خورشیدکے بقول’’صحافت ایک عظیم مشن ہے،اس کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو تازہ ترین خبروں سے آگاہ کیا جائے۔عصر حاضر کے واقعات کی تشریح کی جائے اور ان کا پس منظر واضح کیا جائے،تاکہ رائے عامہ کی تشکیل کا راستہ صاف ہو۔صحافت رائے عامہ کی ترجمان اور عکاس ہوتی ہے اور رائے عامہ کی رہنمائی کا فریضہ سر انجام دیتی ہے،عوام کی خدمت اس کا مقدس فریضہ ہے۔اس لیے صحافت معاشرے کے ایک اہم ادارے کی حیثیت رکھتی ہے۔‘‘
ترقی یافتہ ملکوں نے ذرائع ابلاغ کامنفی استعمال کرکے کیسے لوگوں کے ذہن ودماغ کومسخر اور عوام کی سوچ وفکرکانہ صرف سوتاخشک کردیابلکہ انھیں اپنی نگاہوں میں بے وقعت بھی بنادیا۔ اس نے میڈیاکے سہارے ہرچمکتی شے کو سونا سمجھنے کی سوچ کوپروان چڑھانے کی حماقت کی۔ اس کی ایک مثال سید عبدالسلام زینی کی کتاب اسلامی صحافت سے پیش ہے:
’’ترقی پسند ممالک نے پسماندہ اور غریب قوموں کو ذہنی غلامی میں مبتلا کر کے ان کا استحصال کیا اور ان کی تہذیبی اور قومی روایات، نظریہ زندگی اور اقتدار حیات کو خود ان کی اپنی نظر میں بے وقعت بنا کر رکھ دیا اور اس طرح اس خطرناک ہتھیار سے وہ کام لیا جو بڑی سے بڑی فوجی قوت کے استعمال سے بھی ممکن نہ تھا۔‘‘
(اسلامی صحافت،صفحہ:32)
اردوصحافت نے قومی شعور،سیاسی بصیرت ،ثقافتی بیداری ،تعلیمی اور سماجی اصلاحات میں ناقابل فراموش کردار ادا کیا ہے جس کی ایک جھلک پیش کرنا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔
قومی شعور:اردو صحافت نے ہندوستان میں قومی شعور کو بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اخبارات اور رسائل عوام تک معلومات پہنچانے کا ایک اہم ذریعہ رہے ہیں۔ خاص طور پر دیہی علاقوں اور اردو بولنے والی آبادی کے درمیان، جہاں دیگر زبانوں کے میڈیا کی رسائی محدود تھی، اردو صحافت نے پل کا کردار ادا کیا۔ مثال کے طور پر، اردو اخبارات نے تعلیم، صحت، اور خواتین کے حقوق جیسے اہم موضوعات پر مضامین شائع کرکے سماجی بیداری کو فروغ دیا۔اردو صحافت نے ہندوستان کی کثیر لسانی اور کثیر ثقافتی شناخت کو بھی اجاگر کیا۔ اس نے ہندوستان کے مختلف طبقات، بالخصوص مسلم اقلیت کو قومی دھارے سے جوڑنے میں مدد کی۔ اردو اخبارات نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی، سیکولرزم، اور قومی یکجہتی کے پیغامات کو فروغ دیا، جو ہندوستان جیسے متنوع ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔
سیاسی کردار:اردو صحافت نے ہندوستان کی سیاسی ترقی کی سمت متعین کرنے میں ایک رہنما کردار نبھایاہے ۔ اس نے حکومت کی پالیسیوں کے تجزیہ و تنقیداورسیاسی مباحثے کواستحکام بخشنے کے علاوہ دوقدم آگے بڑھ کر عوامی حقوق کی حفاظت کی زمام سنبھالی ہے ۔ آزادی کے بعد جب ہندوستان اپنے جمہوری اداروں کو مضبوط کر رہا تھا، اردو اخبارات نے سیاسی جماعتوں اور لیڈروں کی کارکردگی پر نظر رکھی اور بدعنوانیوں کو بے نقاب کیا۔اردو صحافت نے اقلیتوں کودرپیش مسائل مثلاً تعلیمی پسماندگی، معاشی عدم مساوات، اور سماجی امتیازی سلوک کو اجاگر کرکے ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کی۔ اس کی مثال حساس مسائل کے دوران اردو صحافت نے معتدل آواز کو فروغ دیا اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی۔
ثقافتی کردار:اردو صحافت نے ہندوستان کی ثقافتی ترقی میں بھی اہم کرداراداکیا۔ اردوزبان اپنی شاعری، ادب، اور بھرپور ثقافتی ورثے کے لیے مشہور ہے۔ اردو اخبارات اور رسائل نے ادبی تحریروں، شاعری، اور ثقافتی تقریبات کو فروغ دیا، جس سے ہندوستان کی مشترکہ ثقافتی شناخت کو تقویت ملی۔ رسائل جیسے کہ شاعر، فنون، اور ساقی نے اردو ادب کو زندہ رکھا اور نئے لکھنے والوں کے لیے پلیٹ فارم فراہم کیا۔
اردو صحافت نے ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کو بھی اجاگر کیا، جوکہ ہندوستان کی کثیرثقافتی شناخت کی علامت ہے۔ اس نے مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے مضامین، کہانیاں، اور رپورٹس شائع کیں۔
تعلیمی اور سماجی اصلاحات:اردو صحافت نے ہندوستان میں تعلیمی اور سماجی اصلاحات کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ سرسید احمد خان سے لے کر آج تک، اردو صحافت نے تعلیم کی اہمیت پر زور دیا اور پسماندہ طبقات کو تعلیمی مواقع فراہم کرنے کی وکالت کی۔ اردو اخبارات نے خواتین کی تعلیم، صحت کے مسائل، اور سماجی برائیوں جیسے کہ جہیز اور بچوں کی شادی کے خلاف مہم چلائی۔حقیقت یہ ہے کہ اردو صحافت کی تاریخ محض خبروں کی ترسیل تک محدود نہیں، بلکہ یہ برصغیر پاک و ہند میں تعلیمی بیداری اور سماجی اصلاحات کی ایک طاقتور تحریک رہی ہے۔ انیسویں صدی کے آغاز سے ہی، جب اردو صحافت نے اپنے پیروں پر کھڑا ہونا شروع کیا، اس کا بنیادی مقصد معاشرے کی فکری آبیاری اور پسماندہ طبقات کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا تھا۔ اس سلسلے میں ’جام جہاں نما‘ سے شروع ہونے والا سفر جب دہلی اردو اخبار اور پھر سر سید احمد خان کے ’تہذیب الاخلاق‘ تک پہنچا تو اردو صحافت ایک باقاعدہ تعلیمی مشن بن گئی۔ سر سید احمد خان نے صحافت کو وہ ہتھیار بنایا جس کے ذریعے مسلمانوں میں جدید علوم کی اہمیت اجاگر کی گئی اور فرسودہ رسومات کے خلاف ایک علمی جنگ لڑی گئی۔ ان کے رسالے نے نہ صرف طرزِ تحریر میں سادگی پیدا کی بلکہ معاشرے کو یہ باور کرایا کہ تعلیم کے بغیر عزتِ نفس اور سیاسی بقا ممکن نہیں ہے۔ سماجی اصلاحات کے میدان میں اردو صحافت کا کردار ایک ’مصلح‘کا رہا ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد کے’الہلال‘ اور’البلاغ‘ نے جہاں سیاسی شعور بیدار کیا، وہاں اخلاقی اور سماجی اصلاح کو بھی دین کا لازمی جزو قرار دیا۔ اسی طرح مولانا ظفر علی خان کے ’زمیندار‘ نے کسانوں اور مزدوروں کے حقوق کی بات کر کے صحافت کو عوامی مسائل سے جوڑ دیا۔ ان اخبارات نے صرف مسائل کی نشاندہی نہیں کی بلکہ معاشرے کے سامنے ایک ایسا آئینہ رکھا جس میں وہ اپنی کوتاہیاں دیکھ سکیں۔ خواتین کی تعلیم کے حوالے سے ’خاتون‘ اور’عصمت‘جیسے رسائل نے جو کردار ادا کیا، اس نے مسلم گھرانوں میں تعلیمی انقلاب کی بنیاد رکھی اور خواتین کو سماجی دھارے میں شامل ہونے کا حوصلہ دیا۔جدید دور میں بھی اردو صحافت اپنی ان روایات کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے، اگرچہ اب اسے ڈیجیٹل میڈیا اورکمر شیلزم کے چیلنجز کاسامناہے۔ آج بھی اردو اخبارات میں تعلیمی صفحات، ادبی گوشے اور سماجی کالموں کے ذریعے نئی نسل کی ذہنی تربیت کا کام جاری ہے۔ اردو صحافت نے ہمیشہ یہ ثابت کیا ہے کہ زبان صرف رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ تہذیب کی محافظ اور سماج کی تعمیرِ نو کا آلہ ہوتی ہے۔ تعلیمی اداروں کا قیام ہو یا سماجی برائیوں کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنا، اردو صحافت نے ہر دور میں ایک ذمہ دار استاد اور ایک نڈر مصلح کا کرداراداکیا ہے۔ اس تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق اردو صحافت اپنے معیار کو بلند کرے اور ٹیکنالوجی کے دور میں بھی اپنے اصلاحی مقصد کو اوجھل نہ ہونے دے۔
ماحولیاتی تحفظ: ہندوستان اپنی جغرافیائی وسعت اور حیاتیاتی تنوع (Biodiversity) کے باعث ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے حوالے سے دنیا کے حساس ترین ممالک میں شامل ہے۔ یہاں صحافت محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک سماجی مشن رہی ہے اس نے ہمالیہ کی چوٹیوں سے لے کر بحیرۂ عرب کے ساحلوں تک ماحولیاتی بقا کی جنگیں لڑی ہیں۔ ہندوستان میں ماحولیاتی صحافت کی جڑیں 1970 اور 1980 کی دہائی کی عوامی تحریکوں میں پیوست ہیں۔ ماحولیاتی تحفظ کے لیے چھیڑی گئی چپکو تحریک کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر شناخت دلانے میں ہندوستانی میڈیا کا بڑا ہاتھ تھا۔ صحافیوں نے بتایا کہ کس طرح مقامی خواتین درختوں سے لپٹ کر جنگلات کو بچا رہی ہیں۔ بھوپال گیس سانحہ (1984) کے بعد صحافت نے’صنعتی حفاظت اورکارپوریٹ جوابدہی کے تصور کو جنم دیا۔ میڈیا نے سائنسی رپورٹس کے ذریعے ثابت کیا کہ کس طرح غفلت نے ہزاروں جانیں لیں۔ فضائی آلودگی نے شہری زندگی کو جہنم بنادیاہے۔دہلی، ممبئی اور کانپور جیسے شہروں میں ایٔر کوالٹی انڈیکس (AQI) کو روزانہ کی سرخی بنانا صحافت کا بڑا کارنامہ ہے۔ میڈیا نے اسے محض ایک موسمیاتی تبدیلی نہیں بلکہ ’ہیلتھ ایمرجنسی‘ کے طور پر پیش کیا، جس کے نتیجے میں حکومت کو برقی گاڑیوں (EVs) کی پالیسی اور پبلک ٹرانسپورٹ میں اصلاحات لانی پڑیں۔
آبی بحران اور دریائوں کے تحفظ کے لیے بھی اردو صحافت نے صدائے احتجاج بلندکرنے اورعوامی بیداری لانے میں اہم کردار اداکیاہے۔ہندوستان میں گنگا، جمنا اور کاویری جیسے دریاؤں کی حالت زارپر ’انوسٹی گیٹورپورٹنگ‘ نے بڑے اثرات مرتب کیے ہیں۔ صحافیوں نے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس (STPs) کی ناکامی کو بے نقاب کیا، جس سے ’نمامی گنگے‘ جیسے میگاپروجیکٹس کی شفافیت بڑھی۔ اتراکھنڈ میں زمین دھنسنے کے واقعات ہوں یا کیرالہ کے سیلاب، صحافت نے ’غیرپائیدار ترقی‘(Unplanned Development)کے خطرات کو سائنسی بنیادوں پر اجاگر کیا۔ میڈیا نے واضح کیا کہ پہاڑوں میں ڈیموں کی بھرمار اور ساحلوں پر کنکریٹ کی تعمیرات فطرت کے خلاف جنگ ہے۔
ہندوستان میں نیشنل گرین ٹربیونل (NGT) اور صحافت کے درمیان ایک مضبوط رشتہ ہے۔ اکثر صحافتی رپورٹ کو بنیاد بنا کرپبلک انٹرسٹ لٹیگیشن (PIL) کے توسط سے سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ میں مفادعامہ کی عرضیاں دائر کی جاتی ہیں،جس کے دوررس نتائج برآمدہوتے ہیں۔ کئی بار عدالت عظمیٰ نے مفاد عامہ کے تحت دائر کی گئی عرضیوں کی سنجیدگی کے ساتھ سماعت کی اور سخت احکامات صادرکیے ہیں۔ اسی طرح ہندوستانی صحافیوں نے RTI کا بھرپور استعمال کر کے جنگلات کی زمین کی غیر قانونی منتقلی اور صنعتی آلودگی کے چھپے ہوئے اعداد و شمار عوامی سطح پر لائے۔ جدید دورمیں صحافت کے ڈھانچے میں تبدیلی آئی ہے۔ اب گرافکس اور سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے جنگلات کی کٹائی اور گلیشیٔرز کے پگھلنے کو زیادہ موثر انداز میں دکھایا جاتا ہے۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ صحافت صرف ’تباہی کی خبریں‘ نہ دے، بلکہ حل بھی تجویز کرے۔اردو صحافت روایتی علم (Traditional Wisdom)جیسے بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے پرانے طریقوں کو فروغ دینے کے لیے عوامی بیداری میں مضبوط پیش رفت کرے اورشمسی توانائی اور متبادل ایندھن کے کامیاب ماڈل کو اجاگر کرے۔علاقائی زبانوں میں سائنسی معلومات فراہم کرنابھی عصرحاضرکااہم تقاضاہے تاکہ کسان اور دیہی آبادی بااختیار بن سکے۔ ہندوستان میں ماحولیاتی تحفظ کے لیے صحافت ایک ’اخلاقی قطب نما‘ کی حیثیت رکھتی ہے اور اس میں اردو صحافت بھی پیچھے نہیں ہے۔ اگرچہ چیلنجز بڑے ہیں، لیکن ہندوستانی صحافیوں کی جرأت اور ٹیکنالوجی کے امتزاج نے ماحولیات کو ملک کے سیاسی اور سماجی ایجنڈے کا لازمی حصہ بنا دیا ہے۔ اب یہ جدوجہد محض کاغذ تک محدود نہیں بلکہ زمین پر تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔
چیلنجز اور جدید دور: آج کے ڈیجیٹل دور میں، اردو صحافت کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ پرنٹ میڈیا کی مقبولیت میں کمی، مالی مسائل، اور ڈیجیٹل میڈیا کی بہتات سے اردو اخبارات کے لیے نئی مشکلات پیدا ہوگئی ہیں۔ تاہم، بہت سے اردو اخبارات اور پورٹل مثلاً انقلاب، سیاست، اور اردو نیوز نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اپنی موجودگی کو مضبوط کیا ہے۔ سوشل میڈیا نے اردو صحافت کو نئی زندگی دی ہے، جس سے یہ زیادہ وسیع پیمانے پر پھیل رہی ہے لیکن وہیں دوسری طرف جھوٹی خبروں، پروپیگنڈے، اور سنسنی خیزی کے رجحانات نے اردو صحافت کے معیارپرسوالات اٹھانے شروع کردیے ہیں۔ لیکن اس کے باوجودبھی بہت سے اردو صحافی اور ادارے معیاری صحافت کے اصولوں پر قائم ہیں اور سماجی بہتری کے لیے کام کر رہے ہیں۔
اردو صحافت ہندوستان کی تعمیر و ترقی میں ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس نے نہ صرف سیاسی اور سماجی شعور کو بیدار کیا بلکہ ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے اور تعلیمی اصلاحات کو فروغ دینے میں بھی اپنا غیرمعمولی کرداراداکیاہے۔ اگرچہ جدید دور میں چیلنجز موجودہیں لیکن اردو صحافت کی اہمیت ناقابل انکار ہے۔ اگر اردو صحافت اپنے معیار کو برقرار رکھتے ہوئے ڈیجیٹل دورکے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو جائے، تو یہ ہندستان کی ترقی میں اپنا کردار مزید موثر طریقے سے ادا کر سکتی ہے۔

Dr. Sabir Raza Rahbar
Assistant Professor BNMV Sahugadh
Madhepura-852113
Mob.: 8804542020
E-mail: sabirrahbar10@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

آکاش وانی کا 90 سالہ سفر،مضمون نگار:اختر آزاد

اردو دنیا،دسمبر 2025: آکاش وانی سنسکرت کے دو لفظوں کا مرکب ہے۔ آکاش +وانی۔ جس کے لغوی معنی ’آسمان سے آنے والی آواز‘ یا ’الہامی آوازہے‘۔’آکاش وانی‘ لفظ کا پہلی

قانونی صحافت میں روشن مستقبل کے امکانات،مضمون نگار: خواجہ عبدالمنتقم

اردودنیا،جنوری 2026: سنسی خیز صحافت یازردصحافت(Journalism Yellow) سے وہ صحافت مراد ہے جس میں خبروں کو بڑھا چڑھا کریا جذباتی انداز میں پیش کیا جاتاہے اور سنسنی خیز خبروں، اشتعال

ہندوستان میں اردو صحافت عہدرفتہ سے ڈیجیٹل انقلاب تک:محمد کیف حبیب اللہ

اردو دنیا، اپریل 2026: اردوصحافت محض خبر رسانی کا ذریعہ نہیں بلکہ برصغیر کی تہذیبی اور سیاسی تاریخ کا ایک متحرک باب ہے۔ اس نے نہ صرف سماج کی اصلاح