اردو دنیا،جون 2026:
زبان و ادب کا تعلق تہذیب و ثقافت سے بہت گہرا ہوتا ہے،یہ گہرائی دونوں کو دوام بخشتی ہے۔اردو زبان و ادب کی تشکیل ہندستانی تہذیب و ثقافت کے خمیر سے ہوئی ہے۔یہ ہندستان کی ایک ایسی جدید زبان ہے جس کی لسانی ساخت پر یوں تو اثرات عربی، فارسی، ترکی اور ہندستانی بولیوں کے ہیں مگر اس کی روح میں ہندستانی تہذیب وثقافت ہے۔ ہندستان کی تہذیب و ثقافت ایک ایسی رنگین اور متنوع تصویر ہے جو ہزاروں برسوں کے امتزاج، اختلاط اور ہم آہنگی سے بنی ہے۔ یہاں ویدک دور کی روحانی گہرائی، سندھ گھاٹی کی شہری تہذیب، بدھ اور جین مت کی اخلاقیات، صوفیانہ اور بھکتی روایات کا سنگم، اور پھر وسطی ایشیائی، ایرانی، ترکی اور مغلیہ اثرات نے ایک ایسی گنگاجمنی تہذیب تخلیق کی جو دنیا میں اپنی مثال آپ ہے۔ اس مشترکہ تہذیب کا سب سے خوبصورت اور زندہ آئینہ اردو زبان اور ادب ہے۔ اردو محض ایک زبان نہیں بلکہ ہندستان کی کثیر الثقافتی شناخت، بھائی چارے، رواداری اور مشترکہ ورثے کی ترجمان ہے۔اردو کی ابتدا ہندستان کی ہی مٹی سے ہوئی۔ یہ دہلی، لکھنؤ، دکن اور دیگر علاقوں کی بولیوں (کھڑی بولی، ہندوی، ریختہ، دکنی) سے پروان چڑھی۔ فارسی، عربی اور ترکی کے لفظوں نے اسے نئی وسعت بخشی مگر اس کی روح ہندستانی رہی۔ امیر خسرو سے لے کر ولی دکنی تک، یہ زبان ہندستان کی مشترکہ ثقافت کی پیداوار بنی۔ خسرو نے ہندی دوہے، پہیلیاں اور لوک گیتوں کو فارسی کے ساتھ ملا کر نئی راہیں کھولیں۔ قطب شاہ، وجہی اور دیگر دکنی شعرا نے اسے محلاتی اور عوامی دونوں سطحوں پر مقبول بنایا۔اردو ادب میں ہندستانی تہذیب کی عکاسی ہر صنف میں نظر آتی ہے۔امیر خسرو سے لے کر دیگر صوفیائے کرام اور دور جدید میں کبیر، نانک اور دیگر کی روح اردو میں جھلکتی ہے۔ یہ شاعری محبت الٰہی، انسانیت اور اتحاد کی بات کرتی ہے جو ہندستان کی روح ہے۔ نثر میں بھی اردو نے ہندستانی تہذیب کو پورے کمال و جمال کے ساتھ پیش کیا ہے۔
شاعری ہویا نثر، غزل ہویا نظم، ناول ہو یا افسانہ، ڈراما ہو یا طنز و مزاح یا پھر غیر افسانوی ادب کوئی بھی صنف ایسی نہیں ہے جوہندستانی تہذیب و ثقافت یعنی گنگا جمنی تہذیب کے عکس سے خالی ہو۔اس زبان نے اگر سب سے زیادہ کسی چیز کو فروغ دیا ہے تو وہ ہندستانی تہذیب و ثقافت ہی ہے۔ گزشتہ ایک ہزار سالہ اردو کی تاریخ میں تشکیل پائے ادبی متن کا اگر جائزہ لیا جائے تو غالب عنصر اسی تہذیب و ثقافت کا ہوگا۔
کلاسیکی غزل میں میر تقی میر، سراج اورنگ آبادی، غالب، مومن اور ذوق نے عشق، ہستی، فلسفہ زندگی کے ساتھ ساتھ ہندستانی معاشرت، بازاروں کی رونق، محلوں کی شان و شوکت اور روزمرہ زندگی کی جھلکیاں پیش کیں۔ نظیر اکبر آبادی نے تو دیہی ہندستان کی مکمل تصویر کھینچی، ہولی، دیوالی، میلے ٹھیلے، کھیتوں کی سرسبزی، بازاروں کی چہل پہل، حتیٰ کہ عام آدمی کی خوشی غمی کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔ صوفیانہ شاعری میں ہندستانی تصوف اور بھکتی روایت کا خوبصورت امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے۔
قصیدہ ایک کلاسیکی صنف سخن ہے جس کا تعلق امرا و روسا سے رہا ہے۔ مرزا محمد رفیع سودا اورذوق اس کے سرخیل ہیں، جنھوں نے اپنے قصائد میں ہندستان کی سرزمین اور فطرت کو پیش کیا ہے۔آب و ہوا، نہروں، باغوں، ندیوں اور موسموں کے ذریعے ہندستانی تہذیب وتمدن کو نمایاں کیا ہے۔ بعض قصائد میں ہند و مسلم اتحاد، تہواروں، ہولی دیوالی ،عید اور بسنت کا ذکر کر کے یہاں کی سماجی ہم آہنگی کی جانب اشارے کیے ہیں۔ سودا نے اپنے قصائد میں یہاں کی تہذیب و ثقافت ،بازاروں کی رونق اور ہندستانی طرز زندگی کا عکس دکھایا ہے۔ ان کا مشہور قصیدہ ’’تضحیک روزگار‘‘ ہے،جس میں ہندستانی معاشرے کی تبدیلیوں کو موضوع بنایا گیا ہے ۔ہندو موچی۔ کمہار اور دھوبی بھی ان کے فریم میں آگئے ہیں۔ایک جگہ وہ کہتے ہیں:
ہندو ہیں بت پرست، مسلماں خدا پرست
پوجوں میں اس کسی کو جو ہو آشنا پرست
مصرع اول میں ہندوؤں اور مسلمانوں کی طرز عبادت اور ان کے معبود کا ذکر کیا گیا ہے کیونکہ عام طور پر تہذیب وتمد ن کی جڑیں عقائد اور رسوم میں پیوست ہوتی ہیں مگر مرزا محمد رفیع سودا مصرع ثانی میں ان دونوں کا انکار کرکے آشنا پرست کی عبادت کی بات کرتے ہیں یہ آشنا پرست در اصل صاحب دل انسان ہے اور ہندستانی تہذیب نے اسی کو سب سے زیادہ اہمیت دی ہے۔ذوق نے اپنے قصائد خاص طور پر ان کی تشبیب میں ہندستانی پھول ،موسم اور ان سے متعلق تشبیہات و استعارات کا استعمال کرکے اسے زبان و ادب کا حصہ بنایا ہے۔ چونکہ ان کی تشبیب عام طور پربہاریہ ہوتی ہے اس لیے وہ بڑی جزئیات کے ساتھ یہاں کی آب و ہوا اور موسم وغیرہ کا بیان کرتے ہیں۔
محسن کاکوروی نے نعتیہ قصیدہ’’مدیح خیر المرسلیں‘‘ لکھا تو ہندستانی فضا ،اس کی تہذیب و ثقافت اورتاریخ و اسطور کو اس کی تشبیب کاحصہ بنا دیا۔یہ اشعار دیکھیے:
سمت کاشی سے چلا جانب متھرا بادل
برق کے کاندھے پہ لاتی ہے صبا گنگا جل
گھر میں اشنان کریں سرو قدان گوکل
جاکے جمنا پہ نہانا بھی ہے ایک طول امل
کالے کوسوں نظر آتی ہیں گھٹائیں کالی
ہند کیا ساری خدائی میں بتوں کا ہے عمل
دیکھئے ہوگا سری کرشن کا کیوں کر درشن
سینہ تنگ میں دل گوپیوں کا ہے بیکل
راکھیاں لے کے سلونوں کی برہمن نکلیں
تار بارش کا تو ٹوٹے کوئی ساعت کوئی پل
اسی طرح منیر شکوہ آبادی اپنے قصائد میں ہندستانی تہذیب و ثقافت کے علائم بڑی خوبصورتی کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔ ایک قصیدے میں وہ رامپور کی تعریف کرتے ہوئے یہاں کی بزم نشاط کی تعریف کرتے ہیں، اس میں یہ شعر دیکھیے۔
ادائیں کھینچیں جو مرلی بجانے کی تصویر
کرشن جاکے لے رادھاکی روح پرن
کدم کی چھاؤں بھی جمنا بھی سب یہیں دیکھیں
کبھی نہ گوپیوں کو یاد آئے بندرا بن
مندرجہ بالا اشعار میں کاشی، متھرا، گنگاجل، اشنان، گوکل، جمنا پر نہانا، کالی گھٹائیں، بت، سرکرشن، درشن، گوپی، تراکھی، برہمن، مرلی، رادھکا، کدم، برندابن وغیرہ ایسی لفظیات اور علامتیں ہیں جن کے توسط سے محسن کاکوروی نے ہندستانی تہذیب و ثقافت کو اردو زبان کا حصہ بنایا ہے۔
مثنوی بھی ایک قدیم صنف سخن ہے،جس میں واقعات ایک خاص انداز میں بیان کیے جاتے ہیں۔ عام طور پر اس صنف میں بیان کیے جانے والے واقعات ہندستان کی سرزمین سے تعلق رکھتے ہیں، مثنوی سحرالبیان اور گلزار نسیم میں سیکڑوں اشعار مل جائیں گے جو ہندستانی تہذیب کی عکاسی کرتے ہیں۔ مثنویوں میں ہندستانی تہذیب و ثقافت سے متعلق گوپی چند نارنگ اپنی کتاب ’’ہندستانی قصوں سے ماخوذ اردو مثنویاں ‘‘ کے مقدمے میں لکھتے ہیں:
’’اردو مثنویوں کی قدر و قیمت جاننے اور تاریخ ادب میں ان کا صحیح مقام متعین کرنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ان کا جائزہ تاریخی و معاشرتی پس منظر کے ساتھ لیا جائے ۔اردو ادب نے فارسی سے بہت کچھ لیا ہے ،اس میں ایرانی اور اسلامی روایات کا رنگ بھی گہرا ہے لیکن یہ ہندستان سے بیگانہ محض نہیں ہے۔ اس نے یہاں کے ماحول، معاشرت اور تہذیب و تمدن کے اثرات بھی قبول کیے ہیں۔ دوسری اصناف سخن کی طرح ہماری مثنویاں بھی اس اخذ و قبول، اختلاط اور اشتراک کا پتہ دیتی ہیں۔جو ہندوؤں اور مسلمانوں کے سابقے کے بعد یہاں تہذیبی اور معاشرتی سطح پر کارفرما رہا۔ہماری مثنویاں چونکہ مشترک تہذب اور ملی جلی معاشرت کے زیر اثر لکھی گئی ہیں اس لیے ان میں اسلامی قصے کہانیوں کے علاوہ ہندستانی لوک کتھاؤں اور عوامی روایتوں سے متاثر ہونے کا رجحان پایاجاتا ہے۔‘‘ (مقدمہ)
کدم راؤ پدم راؤ سے لے کر شوق لکھنوی کی مثنوی ’’زہر عشق ‘‘ تک کا اگر جائزہ لیا جائے تو ہندستانی معاشرت، اور اس کی تہذیب و ثقافت سے معمور ملیں گی۔ مثنویوں کے عام کرداروں کے اعمال و افعال کا اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو اس کا خمیر اسی ہندستان کی مٹی سے اٹھا ہوا معلوم ہوگا۔اردو مثنویوں اور قصائد کی تشبیب میں ہماری ہندستانی تہذیب کے متعدد پہلوؤں کی تصویر کشی ملتی ہے، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے ان دونوں اصناف سخن نے کس طرح سے اس تہذیب کو حرز جاں بنایا اور اسے پروان چڑھانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
مرثیہ کا تعلق حضرت حسین ؓ کی شہادت سے ہے، یہ واقعہ کربلا میںپیش آیا تھا اس کے باوجود اردو کے مراثی کی اگر قرات کی جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہیں آس پاس کوئی میدان واقع ہے جہاں یہ سب ہوا ہے، کیونکہ اس کے اکثر کرداروں کے اعمال و افعال اور ان سے مترشح ہونے والی تہذیب و ثقافت ہندستانی محسوس ہوتی ہے،جس کا سبب اس کے سوا کچھ نہیں کہ اردو کے مرثیہ نگاروں نے اس واقعہ کو ہندستانی فریم میں دیکھا اور بیان کیا۔اردو ادب کی تاریخ میں میر انیس ایک ایسے مرثیہ نگارہیں جنھوں نے مرثیہ کومعراج تک پہنچایا،ان کے بارے میں کہاجاتاہے کہ انھوں نے امام حسین کو لکھنؤ کا دولہا بنا دیا۔بیگم صالحہ عابد حسین اپنے مضمون ’’کلام انیس میں ہندستانی تہذیب ‘‘ میں لکھتی ہیں کہ ہندستانی تہذیب کو مرثیوں کا پس منظر بنانا محض انیس کا کارنامہ نہیں ہے ،ان سے پہلے اور ان کے ہمعصر شاعروں نے بھی اس روایت کو اپنایا تھا اور اس کے درد و اثر میں اضافہ کرنا چا ہا تھا۔آگے وہ لکھتی ہیں:
’’اسی ہندستانی تہذیب کے ہزاروں جلوے انیس کے یہاں آپ دیکھ سکتے ہیں اگر آپ اس پر سر سری بھی نظر ڈالیں اور پورا کلام نہ سہی منتخب کلام ہی پڑھ لیں یا سن لیں تب بھی آپ پر انیس کے جلوے کھلتے جائیں گے۔
(اردو مشترکہ ہندستانی تہذیب۔ڈاکٹر کامل قریشی۔صفحہ 175)
اس سے واضح ہوتا ہے کہ اردو مرثیے نے واقعات کربلا کو ہندستانی تہذیب و ثقافت کے پس منظر میں پیش کیا ہے، جس میں بلند حوصلگی کے ساتھ ہے گفتگو کا طریقہ، آمد و رفت،بہن کی بھائی سے محبت ،شوہر اور بیوی کے مابین الفت سب کچھ یہاں دیکھنے کو ملتا ہے۔ان مراثی کے قرات کے وقت ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ سبھی کردار جن کا پس منظر تو عرب ہے لیکن یہ سب یہیں کے رہنے والے ہیں۔
اردو نظم نے بھی ہندستانی تہذیب و ثقافت کو بہت خوبصورتی کے ساتھ برتا ہے۔نظیر اکبر آبادی سے لے کر میراجی ،اختر الایمان اور زبیر رضوی تک نے ہندستانی تہذیب کے ذریعے اپنے نظم کو گہرائی عطا کی ہے۔ نظم نگاروں میں اس حوالے سے سب سے اہم نظیر اکبر آبادی ہیں۔پروفیسر آل احمد سرور اپنے مضمون ’’اردو اور ہندستانی تہذیب‘‘ میں لکھتے ہیں:
نظیر اکبر آبادی کو میں نے ہندستانی تہذیب کا عاشق کہا ہے ۔ان کی نظموں میں نہ صرف اس دور کی ساری تہذیبی زندگی کا عکس نظر آتا ہے بلکہ آدمی نامہ ،ہنس نامہ اور بنجارہ نامہ جیسی نظموں میں اس تہذیب کی انسان دو ستی ،اخلاقی نقطہ نظر اور رواداری کا بھر پور عکس بھی۔آدمی نامہ تو ایک طور پر انسان دوستی کی ایسی دستاویز ہے جو یورپی ہیومینزم کے چارٹر سے پہلے وجود میں آئی۔لیکن قدرت کے ایک عجوبے کے مطابق انیسویں صدی کے آغاز سے ہی ہندستانی نشاۃ الثانیہ کی تحریک بھی شروع ہوئی جس کے نتیجے میں اپنی بنیادوں اپنی دھرتی،اپنی فضا اور ماحول ،اپنی تاریخ اور تہذیب کا بھی احساس بڑھا ۔جدید اردونظم نے حالی اور آزاد کی قیادت میں ارضیت ،واقعیت ،وطنیت کا رنگ گہرا کیا۔ اسماعیل میرٹھی، شاد عظیم آبادی، اکبر،چکبست،وحیدالدین سلیم، صفی لکھنوی، سرور جہان آبادی، محروم، اقبال، جوش،ساغر، اختر شیرانی، فراق ملا اور پھر ترقی پسند شعرا نے اس ہندستانی فضا اور تہذیب کی نقش گری کو آگے بڑھایا۔‘‘
(اردو مشترکہ ہندستانی تہذیب۔ڈاکٹر کامل قریشی۔صفحہ 91)
مندرجہ بالا عبارت میں پروفیسر آل احمد سرور نے جدید اردو نظم میں ہندستانی تہذیب و ثقافت کے نقش گروںکا اجمالی ذکر کرکے اس کی ثروت مندی کی جانب اشارہ کیاہے۔علامہ اقبال کی متعدد نظمیں ہندستانی تہذیب و ثقافت کی غماز ہیں ۔جب وہ کہتے ہیں :
مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
ہندی ہیں ہم وطن ہیں ہندوستاں ہمارا
تو وہ در اصل ہندستان کے تہذیبی و لسانی تنوع کی جانب ہی اشارہ کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ ہندستان کثیر مذہبی ملک ہے سب کو ایک ہی لڑی میں پروتا ہے ،اور یہ لڑی ہندستانی ہونے کی ہے۔
داستان گوئی کی روایت میں ’سب رس‘، ہزار داستان اورطلسم ہوش رباجیسی تخلیقات میں ہندستانی محلات، بازار، رسوم و رواج، طلسماتی کہانیاں، راجہ رانیوں کی داستانیں اور عوامی زندگی کی جھلکیاں بھری پڑی ہیں۔ فسانہ آزاد تو ایک نگار خانہ ہے جس میں لکھنوی تہذیب چلتی پھرتی نظر آتی ہے۔ایک جگہ لکھتے ہیں:
’’پھولوں سے لبریز گل چینوں کی جھولی ہے، باغبان کی آنکھوں میں سرسو پھولی ہے،حوض باغ آئینہ کی صورت صاف،پانی مثل بلو ر شفاف،روشیں صاف و پاک،پٹریاں بے خس و خاشاک،رنگیلے جوان نشہ گلگشت میں مخمور ،بادۂ مسرت سے چور ،لکھنؤ میں ہر گلی کوچہ زعفران زار ہے۔کیوں نہ ہو آخر بسنت کی بہار ہے۔ یوں تو ہر سمت طبلے پر تھاپ ،سارنگی کی چھیڑ چھاڑ اور نغمہ سرائی کا انتظام ہے مگر شاہ مینا صاحب کی درگاہ سب میں انتخاب زیارت گاہ خاص و عام ہے۔ اللہ اکبر گرد مزار کہیں تو جوانوں کی وہ دھوم دھام ہے کہ جس طرف دیکھے اژدہام عام ہے۔‘‘
(فسانہ آزاد حصہ اول (81))
مندرجہ بالا پیراگراف میں لکھنؤ میں بسنت کی بہار کے میلے کا ذکر ہے،جس میں شاہ مینا کا مزار مرکز ہے۔ ہندستانی تہذیب میں مذہبی رسوم و عقائد کو بڑی اہمیت حاصل رہی ہے مگر اردو زبان نے تعصب و نفرت کو بھی راہ نہیں دی بلکہ اس نے ہمیشہ محبت کو عام کیا یہی وجہ ہے کہ یہاں مزارات مرجع خلائق ہوتے ہیں جن میں ہندو مسلم کی کوئی قید نہیں ہوتی ہے اور مزاروں پر ہونے والا بسنت کا میلہ خالص ہندوانہ تہذیب و ثقافت کا عکاس ہے جس کا ذکر آزاد نے یہاں کیا ہے۔
ناول کوزندگی کا رزم نامہ کہا جاتا ہے، اردو ناول نے ہندستانی تہذیب و ثقافت کو جزیہ نگاری کے ساتھ خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس میں دیگر اصناف کے مقابلے تہذیب و ثقافت جزئیات نمایاں نظر آتی ہیں، اس حوالے سے پریم چند کا نام بھی اہم ہے۔ ان کا ہر ناول ہندستانی تہذیب و ثقافت کا عکاس ہے، جس کے ہر کردار زندہ انسان معلوم ہوتے ہیں جو اسی سماج کا حصہ ہیں۔ انھوں نے دیہی ہندستان کی تہذیب و ثقافت کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ان کے ناول میدان عمل،گوشہ عافیت،اورگئودان کی ہر سطر اس کی گواہی دیتی ہے۔ اسی طرح ان کے افسانے بڑے گھر کی بیٹی ،کفن اور ماں وغیرہ ایسے افسانے ہیںجن میں ہندستانی تہذیب و ثقافت ہر لفظ سے ٹپکتی نظر آتی ہے۔ لیکن اس تہذیب کو اس کی تبدیلیوں اور فلسفیانہ اساس کے ساتھ جس نے پیش کیا ہے وہ قرۃالعین حیدر ہیں۔ ان کاناول ’’آگ کا دریا‘‘ ہندستان کی تہذیب و ثقافت کی گہرائیوں کو کھول کر پیش کرتا ہے۔ یہ ناول محض ایک کہانی نہیں بلکہ ڈھائی ہزار سال (تقریباً 2500 سال) پر محیط ہندستانی تاریخ، فلسفہ، سماج اور مشترکہ ثقافت کا ایک زندہ آئینہ ہے۔ ناول گوتم بدھ کے دور سے شروع ہو کر تقسیم ہند (1947) اور اس کے بعد کے دور تک پہنچتا ہے، اور اس پورے سفر میں ہندستان کی گنگا-جمنی تہذیب (composite culture) کی خوبصورتی، تسلسل اور چیلنجز کو نمایاں کرتا ہے۔ قدیم دور (ویدک/بدھ مت کا عہد) کا آغاز ناول میں گوتم بدھ کے زمانے سے ہوتا ہے۔ یہاں ہندستان کی فلسفیانہ گہرائی، ویدک روایات، بدھ مت کی اخلاقیات، جین مت اور قدیم شہری تہذیب (جیسے پاٹلی پتر، ایودھیا، کپل وستو وغیرہ) کی جھلکیاں ملتی ہیں۔ کردار گوتم نیلمبر جیسے لوگ فلسفہ حیات، کرما، دکھ اور موکش کی تلاش میں دکھائی دیتے ہیں۔ یہ دور ہندستانی تہذیب کی بنیادوں کو واضح کرتا ہے۔ترکوں اور مغلوں کی آمد کے ساتھ ہندستان میں نئی ثقافتی لہریں آتی ہیں۔ ناول میں اس بات پر زور دیاگیاہے کہ باہر سے آنے والے کلچر ہندستان کی رنگا رنگی میں اضافہ کرتے ہیں، نہ کہ اسے مٹاتے ہیں۔ لکھنؤ اور اودھ کی ثقافت (جو گنگا-جمنی تہذیب کی علامت ہے) کو خاص طور پر خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ ’’آگ کا دریا‘‘ہندستان کی تہذیب کو ایک فلسفیانہ، تاریخی اور جذباتی سطح پر دریافت کرتا ہے۔ قرۃ العین حیدر اس ناول کے ذریعے یہ پیغام دیتی ہیں کہ ہندستان کی اصل طاقت اس کی کثیر الثقافتی شناخت میں ہے۔
اس کے علاوہ اردو افسانہ نے بہت ہی خوبصورت انداز میں ہندستان کی تہذیب و ثقافت کو موضوع بنایا۔ پریم چند ،کرشن چندر،علی عباس حسینی، اور غلام عباس وغیرہ نے شمالی ہند کی تہذیب و ثقافت کو،احمد ندیم قاسمی، راجندر سنگھ بیدی اور رتن سنگھ وغیرہ نے پنجابی تہذیب و ثقافت کو،الیا س احمد گدی اور غیاث احمد گدی نے بہار و جھارکھنڈ کی تہذیب کو اپنے متن کا حصہ بنایا۔اردو نے مشترکہ تہذیب و ثقافت کے فروغ میں زبان کے طور پر نمایاں خدمات انجام دی ہیں، حقیقت یہ ہے کہ اردو صرف ایک زبان نہیں ہے بلکہ وہ خود ایک تہذیب کا نام ہے اور یہ گنگا جمنی تہذیب ہے جسے مشترکہ تہذیب و ثقافت کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ جب تک اردو زندہ ہے، ہندستان کی یہ خوبصورت مشترکہ شناخت زندہ رہے گی۔
Prof. Mohd Ali Jauhar
Ex Chaiman Department of Urdu,
AMU Aligarh
Mob. 9412501173
Email: majauhar786@gmail.com