اردو دنیا،جون 2026:
خطہ جھارکھنڈ کاایک قبیلہ ’ہو‘ بھی ہے۔ جس کی آبادی جھارکھنڈ کی چوتھی سب سے بڑی آبادی ہے۔ یہاں سب سے بڑی آبادی سنتھال قبیلہ کی، دوسری اراؤں قبیلہ کی تیسری منڈا قبیلہ کی اور چوتھی ہو قبیلہ کی ہے۔ ہو زبان کو ہوڑو بھی کہاجاتا ہے ۔یہ عام بول چال کی زبان ہے۔ جھارکھنڈ ،آسام ،چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، اڑیسہ ،بنگال وغیرہ میں بولی جاتی ہے۔ لوک کہانی کے تحت ’ ہو‘ زبان لُوکُو کوڑا اور لُوکوکوُڑی (زوجین) کی وجہ سے وجودمیں آئی ہے۔ یہی ’ہو‘قبیلہ کے لوگوں کا ماننا ہے۔ ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگرا س زمین میں یہ دونوں نہ ہوتے تو ’ہو‘ زبان بھی نہ ہوتی۔لوگوں کے درمیان یہ رابطہ کی زبان ہے۔
ماہر لسانیات کے مطابق ’ہو‘ زبان آشٹروایشیا ٹک منڈا خاندانی زبان سے ہے۔ منڈاپریوار میں سنتھالی، ہو، منڈاری اور کَھریا بھی ہے۔ سنتھالی، منڈاری اور ’ہو‘ میں کافی مماثلت ہے۔ کوئی بہت خاص فرق نہیں ہے۔ یہ تینوں ایک ہی لسانی خاندان سے ہیں۔ اڑیسہ، کولہان، بنگال اورجھارکھنڈ میں اس کے بولنے والوں کی کافی بڑی تعداد ہے۔ آزادی سے پہلے تک یہ زبا ن صرف بولی جاتی تھی۔ عوامی بولی ہی تھی۔ 1947 سے1960 کی بات ہے کہ آدیواسی ،سنتھال لوگ زیادہ تعلیم یافتہ نہیں تھے۔ زبان کی اہمیت نہیں جانتے تھے۔ قانونی شکل میں ملک کے سبھی ذات اور قبائل کے لوگوں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ اپنی مادری اور مقامی زبان کی حفاظت کا ان کو پورا حق ہے۔ بچوں کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کریں اور تعلیم بھی دی جائے۔ لیکن اس کے لیے ضروری تھا کہ اس زبان کا رسم الخط بھی ہو۔ جب تک کسی زبان کارسم الخط نہ ہوگاتب تک اس زبان کا نہ ادب، خلق ہوگا اور نہ اس کے ذریعہ تعلیم ممکن ہوگی۔ اس وقت تک اس کا رسم الخط نہ ہونے کی وجہ سے اس کی کوئی پہچان نہ تھی ۔
1950-1960کے درمیان ’ہو ‘ زبان کی پہچان، اس کے وجود اور رسم الخط کے لیے لاکو بودار جی ؔکی جدوجہد ناقابل فراموش ہے۔ اس کے رسم الخط کانام ’وَرانگ چِیتی ‘ہے۔ اس کے حروف تہجی 32ہیں۔ لاکوبودرا جی کی فکر کا نتیجہ ہے کہ اس کا رسم الخط وجود میں آیا۔ ’ہو ‘ قبیلہ کے گاؤں کے پردھان کو منڈا کہا جاتا ہے۔ اس کے نائب کو ’ ڈَکوا ‘ کہا جاتا ہے۔ جب کبھی کوئی بیٹھک او رمیٹنگ ہوتی ہے تو اس کے (ڈَکوا) ذریعہ اطلاع پہنچائی جاتی۔ سات سے بارہ گاؤں مل کر جو مرکز بنتاہے اس کو ’ پَرہا ‘ بولتے ہیں۔ اس بارہ گاؤں کے پردھان کو ’مانکی ‘ کہا جاتاہے۔
’ہو‘ زبان کا رسم الخط انٹرنیٹ پر بھی موجود ہے۔ اس کا واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ 2012میں امریکہ سے اوریگن یونیورسٹی کی ایک ریسرچ اسکالر جو Lingustic Science کے ڈپارنمنٹ سے تھی وہ جھارکھنڈ آئی اور ایک مہینہ کے اندر ’ہو‘ زبان کا رسم الخطDr.Dobro Buriuli.سے سیکھ کر دوبارہ امریکہ گئی اور مائکل ایورسن کے ساتھ مل کر وارنگ چیتی یعنی ’ہو‘ زبان کارسم الخط تیار کرکے گوگل پر اپلوڈ کردی۔ اب جھارکھنڈ ریاست کے مختلف امتحانات میں بھی یہ زبان شامل ہے اور اس کی طرف لوگوں کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے۔ جمشید پور ریلوے اسٹیشن، اڑیسہ ریلو ے اسٹیشن، کیونجھر ریلوے اسٹیشن، چائباسہ ریلوے اسٹیشن اور آل انڈیا ریڈیو اسٹیشن سے ’ہو ‘ زبان میں بات چیت ہوتی ہے۔ اسکولوں کے علاوہ کولہان اوررانچی یونیورسٹی میں اس کی پڑھائی بھی ہوتی ہے۔
ایک موقع پر طلبا نےDr. Dobro Buriuei سے اس زبان کے غیرمفید اور فرسودہ ہونے کی شکایت کی کہ اس دور میں جب کہ انگریزی اور ٹکنالوجی کازمانہ ہے اس علاقائی زبان کے سیکھنے کا کیا فائدہ ۔اس میں نہ کوئی بڑی نوکری ملتی ہے نہ کوئی خاص اہمیت وغیرہ ۔ تب ڈاکٹر صاحب نے زبان اورعلاقائی زبان کی اہمیت پریہ بات کہی تھی کہ:
’’ انگریزی پڑھ کر آکاش تو چھولیں گے لیکن دھرتی چھوٹ جائے گی ‘‘
مطلب یہ تھا کہ انگریزی پڑھ لکھ کر بہت بڑا آدمی بن جائیں گے لیکن اپنی پرمپرا اور اپنی تہذیب وثقافت بھول جائیں گے اور ہم دوسروں کی تہذیب کو فروع دیں گے۔
ہوزبان کے ساہیتہ کار۔ ڈاکٹر دمیانتی سینکو۔ کانو رام دیو گم جی، ستِیش کمار بُڑاجی ، گُسائی دیو گم جی، لاکھو بودرا جی، بَلرام پاٹ، ڈاکٹر دُرگا پُرتی جی ، ڈاکٹر سونیا کمار تِیو جی ، دَنو سنگھ پُرتی جی، کمل لوچن کُڑاجی ، باگُن بودراجی، پروفیسر چندرامان،پردیپ بودراجی ، موراجی دیوگم، ڈاکٹر جنم سی سوئی جی، کچھ ادبی شخصیات جن کی لٹریچر پر خدمات دستیاب ہوئی ہیں ان کے او ر ان کی کتابوں کے نام اس طرح سے ہیں۔ اے نوٹروٹیٹ، گرامر آف دی کول۔ لِیونَل بارو، ہو گرامر ، 1915۔ ڈبلوجی آرچَر ، ہو لوک گیت۔ سَتیش کوڑا سنگل ، رُمُل۔ یہ ایک کتاب ہے جو ’ہو ‘ قبیلہ کے پہلے نوجوان نے لکھی تھی۔ جون ڈِینِی اور ایس جے، دونوں نے مل کر گرامر آف لغت اور ’ہو‘ انگریزی لغت تیار کی تھی۔ بَرَج بہاری، ہندی ’ہو‘ ڈکشنری ، 1982۔ کمل لوچن کوڑا ، اِٹا بَٹا لَنا بَسا، جوار، بِرُو بُرُو۔ بونگا بُرُو۔ مانگے مُونُو جَگر۔ مَہی پال بُڑؤلِی ،دوش اوکائی ، اوکاما بُگِینہ یہ ناٹک پر ہے ۔
ان کے یہاں تین طرح کی زمینیں ہوتی ہیں اور تینوں کے نام کچھ اس طرح سے ہیں ( ویڑو،وادی اور گوڑا) وِیڑو اس زمین یا کھیت کو کہتے ہیں جہاں فصلیں خوب اگتی ہیں۔ وادی پتھریلی زمین کو کہا جاتا ہے۔ اس کی خاصیت یہ ہے کہ وہاں موٹا موٹا اناج اُگتاہے جیسے باجرا، جواراور مکئی وغیرہ۔ گوڑا اس زمین سے اُگنے والی فصل کو گوڑا دھان بولتے ہیں۔ جب نیا اناج ہوتا ہے۔ ڈھیکی (لکڑی کی مشین) میں کوٹ کر اس کا پکوان تیار کرتے ہیں جس میں دہی کی ملاوٹ بھی ہوتی ہے اور آنے والے تمام مہمانوں کو یہ کھانا ضرور کھلاتے ہیں۔ اس کھانے کو ’ہو ‘ زبان میں جوم نوا بولتے ہیں ۔والد ان کے گھر کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ یہ سنگل فیملی (شوہر، بیوی اور بچے) میں رہتے ہیں۔ جوائن فیملی کا رواج ان کے یہاں نہیں ہے ۔ ان کے یہاں پریوار کی گنتی چولہے کے حساب سے ہوتی ہے ۔ بچوں کی شادی کے بعد والدین کا چولہا الگ ہوتا ہے ۔ جتنے چولہے ہوں اتنے پریوار شمار کیے جاتے ہیں۔ اسی کے مطابق انھیں سماجی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ مطبخ کے سامنے ایک خاص جگہ ہوتی ہے جسے اَڈِن کہتے ہیں۔ اس جگہ وہ لوگ اپنے پرکھوں کے نام سے پوجا کرتے ہیں۔ ان کی روح کو سکون دیتے ہیں۔اس سے وہ نیک بختی کاعقیدہ رکھتے ہیں ۔
ایسٹ انڈیا کمپنی کے دورحکومت میں جس جگہ ’ہو ‘ قبیلہ کے لوگ رہتے تھے اس جگہ کو ’ ہودِشُم ‘ کہاجاتا تھا ۔ دِشُم دیس کو کہتے ہیں اور ’ہو ‘ ایک قبیلہ کو کہاجاتاہے یعنی ’ہو ‘ لوگوں کا دیس ان کے رہنے اور بسنے کی جگہ ۔ ان کے یہاں جہاں پنچایت ہوتی ہے اور فیصلہ کی بیٹھک ہوتی ہے اُسے ’اِسٹے تُڑ تُڑ‘ کہتے ہیں ۔
ان کے یہاں عورتوں کو گھر کی چھپّر پر جانے نہیں دیا جاتا ان کے لیے میوزک کے آلات چھونا منع ہے۔ عام طورپر تِیر وکمان چلانا منع ہے لیکن کسی خاص اوراہم موقع پر اس کی اجازت ہے۔ بچے کی پیدائش کے چار پانچ دن کے بعد ’نَرتا سنسکار ‘منایا جاتاہے ۔ یعنی بچے کی پیدائش کے چار پانچ روز کے بعد اس بچے کو ’ہڑیا‘ چکھایا جاتاہے ۔ ہڑیا ایک دیسی شراب ہوتی ہے۔ ان کے یہاں محبوب غذا مانی جاتی ہے۔ اس ہڑیا (مشروب) کو ان کی زبان میں اِلِی کہتے ہیں۔ اس مشروب کی اہمیت اس لیے وہ مانتے ہیں کہ اس کے بنانے کا طریقہ خود ان کے دیوتا (ناگے اِرا) نے سکھایا ہے ۔
یہ ا س بات کو مانتے ہیں کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جاتا ہے لیکن اگر کسی کی طبعی موت نہیں بلکہ کسی حادثہ ،خودکشی ، اکسیڈنٹ، قتل، ڈوب کر ، جل کر ہوئی تو جب تک اس کی زندگی کامقررہ وقت پورا نہ ہوجائے تب تک اس کی روح بھوت پریت بن کر بھٹکتی رہتی ہے۔ ان کے یہاں سب سے بڑا دیوتا سِنگ بونگا ہے اسی کو وہ خالق مانتے ہیںاور ان کی اہلیہ کے روپ میںچاند بونگا کو مانتے ہیں اور یہ رحم وکرم کی دیوی ہوتی ہے۔ دیشاؤلی یہ برسات کی دیوی ہے۔ مَنِیتا بونگایہ امن وامان قائم رکھتا ہے۔ اس کے پجاری کو دیُوری کہتے ہیں۔ بَنِیتا بونگایہ سزادینے والا دیوتاہے۔ یہ غصے والا دیوتاہے اس کو منانے کے لیے پوجا کے وقت ہڑہا پیش کیا جاتاہے۔ گاؤں کی حفاظت کرنے والے دیوتا کو پاہُوئی دیوتا کہتے ہیں۔ دھرتی ماتا کو اورِی بوڑوم ، پہاڑدیوتا کو مارَنگ بُرُواور ناگ دیوتا کو ناگے دیوتا کہاجاتاہے ۔ ان کے یہاں کئی دیوتا ہوتے ہیں۔ سب الگ الگ مسائل کے حل کے لیے ہوتے ہیں۔ سب کی پوجا کرتے ہیں سب کے نام سے الگ الگ قربانی دیتے ہیں ۔اپنے اجداد کے نام سے پوجا پاٹ کرتے ہیں اور نذرونیاز بھی دیتے ہیں۔ ان کاماننا ہے کہ اس طرح پوجا پاٹ اور نذرونیاز سے بلائیں ٹل جاتی ہیں۔ گاؤں اور گھرمیں سکون کا ماحول رہتا ہے۔ اگر ایسا نہیں کریں گے تو ان کی روحیں ناراض ہوں گی اور ہم طرح طرح کی بیماریوں اور پریشانیوں میں مبتلاہوجائیں گے۔ بیماری سے شفا یابی کے لیے پہلے چھوٹے جانورکی قربانی دیتے ہیں اگر اس سے فائدہ نہیں ہوا تو اس سے بڑے جانور کی قربانی دیتے ہیں۔ اس طرح سے وہ پہلے مرغ کی قربانی دیتے ہیں ۔پھر بکرے کی ،پھر بھیڑکی ، بچھڑے کی ، گائے کی پھر بھی شفا نہیں ملی تو آخر میں بھینس کی قربانی دیتے ہیں۔ ہوسماج کے لوگ نظم نسق کو ’منڈا مانکی کہتے ہیں۔ مکتب یا آنگن باڑی جہاں زندگی کے بنیادی آداب واطوار، رہن سہن، سلیقہ ،بڑوں کی عزت اور اچھے برے کی تمیز سے متعلق تعلیم دی جاتی ہے اس جگہ کو دُھم کُڑیا بولتے ہیں۔
ہرسماج میں شادی ایک اہم سماجی اور مذہبی رسم بھی ہوتی ہے۔ اس سے دوخاندان کے درمیان مضبوط رشتہ قائم ہوتاہے۔ ’ہو‘ سماج میںشادی کو ’ اندِی ‘ کہتے ہیں۔ ایک شادی کی اجازت ہے۔ شادی میں لڑکے والے لڑکی والے کوپیسہ دیتے ہیں اور پورا خرچ اٹھاتے ہیں اور شادی میں دلہن کو دی جانے والی رقم کو ’گولونگ‘ کہتے ہیں۔ ان کے یہاں آندِی وِواہ زیادہ مشہور ہے۔ یہ والدین کی رضامندی سے ہوتی ہے اور اس شادی میں جو کھانا کھلایا جاتا ہے اس کو ’ جوم اِسِین ‘ کہتے ہیں۔
ان کے یہاں شادی کے کچھ اقسام ہیں۔مثال کے طورپر :
آندِی (Andi)
دِیکُوی آندی) (Deku Anadi
اوپورتِپِی Aportipi (Marriage by Capture)
راضی خوشی
اَنادِیر) (Anader
(آدیباسی تہذیب وثقافت ، عبدالباری ایم اے، مرکزی مکتبہ اسلامی ،دہلی ۔ جنوری 1992، ص : 85 )
اس کو آسانی کے ساتھ اس طرح سمجھ سکتے ہیں۔ آندِی اس شادی کو کہتے ہیں جس میں لڑکے والے لڑکی کے گھر رشتہ کے لیے جاتے ہیں۔ پھر دونوں کے گھر والوں کی منظوری اور پسند سے شادی ہوجاتی ہے اس کو آندِی وِواہ کہتے ہیں۔ دِیکُو اس شادی کو کہاجاتاہے جس میں ’ہو‘ ذاتی کے لوگ کسی دوسری ذات میں شادی کرتے ہیں اس کو دِیکُو آندِی کہتے ہیں۔ جب کسی میلہ یا گاؤں سے لڑکی کو لاتے ہیں پھر شادی کرتے ہیں اس کو ’اوپورتِپِی‘ کہتے ہیں۔ راضی خوشی یعنی محبت کی شادی کو راضی خوشی کہتے ہیں۔ جب لڑکی کسی لڑکے کے گھر میں اپنی مرضی سے گُھس کر اور زبردستی رہتی ہے اس کو اَنادیر،اَنا ہُت وِواہ، ڈُھکو چولکی وِواہ بھی کہتے ہیں۔ لیکن ان کے یہاں دوطرح کی شادی کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔ ایک ’اورایرا اندِی‘ دوسرا ’نِیر اندِی ‘۔اس کی ادائیگی کی رسمیں بھی مختلف ہیں۔ اورایرا اندِی میں کچھ رسومات ادا کی جاتی ہیں۔ جس کی ادائیگی کے بعد شادی مکمل ہوتی ہے۔ وہ رسومات اس طرح سے ہیں اور اس کے نام یہ ہیں۔ پہلا ’اوادُئیر نیل‘ ،دوسرا ’بالا‘ ،تیسرا ’ارے بونگ‘، چوتھا ’شادی ‘۔ ان کی مختصر تشریح اس طرح سے بتائی جاتی ہے۔ اوا دُئیر نیل یہ وہ رسم ہے جب لڑکے والے رشتہ کے لیے لڑکی کے گھر جاتے ہیں اوریہ لڑکے والے پہل کرتے ہیں۔ لڑکی والے بھی ان کا مان سمّان کرتے ہیں۔اس شروعاتی پہل کو جو دونوں طرف کے گھر والوں کی ملاقات ہوتی ہے اس کو ’دُتیم ‘ کہتے ہیں۔ لڑکے والے جب لڑکی والے کے گھر جاتے ہیں ۔جس میں کچھ قریبی رشتہ دار لوگ شامل ہوتے ہیں ۔اس میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ لڑکے سفید لنگی ،سفید بنیان اور کچھ لڑکے کمر یا سر پہ گمچھہ بھی لیے ہوتے ہیں۔ لڑکیا ںاور عورتیں اس وقت پیلے رنگ کی ساڑی ،سرخ رنگ کا بلاؤز پہنی ہوتی ہیں۔ دونوں گھرانے کی ملاقات کے بعد جب شادی کا پیغام دیا جاتاہے تو اس کے بعد لڑکی والے لڑکے کے گھر آتے ہیں۔ اس دیکھنے اور دکھانے کی رسم کو ’ اوا دُئیر نیل ‘ کہاجاتاہے۔
پرانے زمانے میں لوگ رشتہ جوڑتے وقت کھیت کھلیان، گائے بیل ، زمین دیکھ کر رشتہ طے کرتے تھے۔ بلکہ بڑے بوڑھے تو ان کے گھر میں موجود پُوال دیکھ کر ہی ان کی مالی حالت کا پتہ لگا لیتے تھے۔ یہ سب کچھ پہلی ملاقات اور بات چیت کے دورا ن ہی پتہ لگا لیتے تھے۔ دُوتیم کی رسم بہت ہی زیادہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ کیونکہ اسی میں شادی سے متعلق ساری کارروائی اور آگے کے لیے راستہ آسان ہوتاہے۔ یہ کہہ سکتے ہیں کہ شادی کی بات چیت سے لے کر رخصتی ہونے تک کی تمام باتیں کسی نہ کسی طرح سامنے آجاتی ہیں۔ اس میں اہم فیصلے لیے جاتے ہیں اس لیے اس رسم کے لیے کسی قریب اور بزرگ کو شامل کرتے ہیں ۔ لڑکی کی طرف سے لڑکی کے ماما کو جانا ضروری سمجھاجاتاہے ۔
ہر سماج کی طرح ان کے یہاں بھی مختلف طرح کے تہوار ہوتے ہیں۔اس میں پورے گاؤں والوں کی شرکت اور تعاون ہوتاہے۔دیوی دیوتاؤں اور پُرکھوں کی پوجا ہوتی ہے ۔ان کے تہوار کسی نہ کسی طرح فطرت او ر کھیتی باڑی سے جڑے ہوتے ہیں۔ ان کے کچھ تہواروں کے نام اس طرح سے ہیں ۔
(1) گئومارا تیوہار (Gaomara Festival) (2)اتیلی تیوہار (Oteilee Festival)(3)ماگھی پَرب) (Maghe(4)بَہا پَرب (Baha (Parab)(5) ہیرنگا پرب (Herangh Festival) (6) بورا بلنجی پَرب (Bora Balunji Festival) (7)ہیروانگا پَرب (Hero Anga Festival) (8)بٹاوالی اورجومناوا (Bataoli & Jomnawa) اس طرح سے ہر ایک تہوار کو مختصر طور پر سمجھ سکتے ہیں ۔ گئو مارا تہوار جانوروں کی حفاظت کے لیے مناتے ہیں۔ جنوری کے شروع میں ہوتاہے اور کائنات میں سب سے بڑی چیز سورج کو مانتے ہیں اس موقع پر سِنگ بونگا (سورج دیوتا)اورحاطوبونگا ( گاؤں کے دیوتا)کی پوجا کرتے ہیں اس سے ان کا یہی ماننا ہے کہ دیوتا خوش رہے اور سال بھر تک جانور صحیح سلامت رہے۔اتیلی تہوار زمین کی پیداوار کے لیے منایاجاتاہے۔ کیونکہ کھیتی باڑی اور اناج پر ہی زندگی کاگزر بسرہوتاہے ۔اس کی پوجا ہوتی ہے اس میںچڑھاوے کے طورپر زمین کو ہَڑیا (علاقائی شراب) پیش کرتے ہیں۔ اور یہ نیک خواہشات رکھتے ہیں کہ جس طرح اس سال ہڑیا ملااو ر پیداوار اچھی ہوئی آئندہ سال بھی اچھی رہے۔ ماگھے پَرب سب سے بڑا تہوار مانا گیاہے۔ اس تہوار کو تقریباً ایک مہینہ تک خوب اہتما م کے ساتھ مناتے ہیں ۔ یہ فصل کی کٹائی کی خوشی میں منایا جاتاہے۔ ایک طرح سے خوب فراوانی ہوتی ہے ۔ شادی بیاہ بھی رَچاتے ہیں۔ ناچ، گیت اور شراب سے مست ہوکر زندگی کا لطف اٹھاتے ہیں۔ بَہا پرب موسم بہار کے موقع پر مارچ کے مہینے میں مناتے ہیں۔ زمیندار اپنے مزدوروں سے سال بھر کے کام کے لیے معاہدہ کرتے ہیں۔ آلات مزدوروں کے حوالے کیے جاتے ہیں۔مزدورخوش ہوکر اپنے مالکوں کو کھلاتے پلاتے ہیں اور ہڑیا پلانے کا خاص اہتمام کرتے ہیں۔ ہیرنگا پَرب کھیت میں بیج ڈالنے سے پہلے یہ تہوارمناتے ہیں۔پہلے پنڈت پوجا کرتا ہے۔ اچھی فصل، اس کی نگرانی ،آسمانی اور زمینی بلاؤں سے حفاظت کے لیے زمینی دیوتاؤں سے پرارتھنا کرتا ہے۔ بُورابلنجی پرب تہوار میں یہ لوگ پہلے گاؤں کی صفائی کرتے ہیں۔ بدشگونی سمجھتے ہوئے ٹوٹے پھوٹے پرانے برتن اورچیزوں کو گھر سے باہر پھینک آتے ہیں۔ گھر کی صفائی کے ساتھ گوبر لِیپتے ہیں۔ اس دن گھر کے باہر ہی کھانا بنا کر کھاتے پیتے ہیں۔ شام کے وقت گھر لوٹتے ہیں اوراگلے دن کھیت بویائی کاکام کرتے ہیں۔ ہیرواَنگا تہوار میں بکرے کی قربانی دی جاتی ہے۔ کھیت بویائی کے ایک مہینہ بعدیہ تہوار مناتے ہیں اور کھیتی کے کام میں کسی طرح پریشانی نہ ہو اس کے لیے وہ اپنے دیوتا کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔بٹاولی اورجومناوا یہ تہوار اس وقت منایا جاتا ہے جب کھیتی کی کٹائی ہوجاتی ہے ۔سب کچھ اچھا سے اچھا ہواہوتاہے توپورے گاؤں والے جمع ہوتے ہیں اور شکریہ کے طور پر مناتے ہیں ۔
(جھارکھنڈ کی پَرمُکھ جَن جاتی ،لوک کتھائیں، ناشر وکلپ پرکاشن ،سونیا وہار ،دہلی ،ڈاکٹر آدتیہ پرسادسنہا، 2024، ص: 34 )
ہم کہہ سکتے ہیں کہ ’ہو‘ جھارکھنڈ کی بڑی تعدادمیں بولی جانے والی ایک زبان ہے۔ ریاستی سطح پر اس کے لسانی اور تہذیبی فروغ کے لیے ممکنہ طو رپر کوشش کی جا رہی ہے۔ ہو ادب کے گیتوں، کہاوتوں، لوک کہانیوں اور ان کی تہذیبوں سے ہم (بالخصوص اردوداں طبقہ ) ناآشنا ہیں اس لیے ان کو منظرعام پر لانے کی کوشش ایک بہترین کوشش ہوگی اور علاقائی تہذیب سے شناسائی کا اہم ذریعہ بھی ہوگی۔
Mohd Taiyib
Research Scholar, Center for Urdu Culture Studies
Room No. 07- Boys Hostel 04
Maulana Azad National Urdu University
Gachibowli, Hyderabad, Telengana- 500032
Mobile: 9567246590
Email: taiyib333@gmail.com