قومی اردو کونسل میں ‘ہندی پکھواڑا’ کی مناسبت سے ہندی میں مسابقۂ مضمون نویسی

September 29, 2023 0 Comments 0 tags

 کونسل کے ملازمین کی شرکت، پانچ کامیاب شرکا کو نقد انعام و توصیفی اسناد سے نوازا گیا

نئی دہلی: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے صدر دفتر میں ‘ہندی پکھواڑا’ کی مناسبت سے 21 ستمبر کو ہندی زبان میں مسابقۂ مضمون نگاری کا انعقاد کیا گیا تھا، جس میں کونسل کے مختلف شعبوں سے 16 ملازمین نے حصہ لیا ۔ آج کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر شیخ عقیل احمد نے اس مسابقے کے نتائج کا اعلان کیا اور اس موقعے پر پہلی،دوسری و تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے شرکا کے علاوہ دو شرکا کو تشجیعی انعامات سے بھی نوازا گیا۔ تشجیعی انعام پانچ سو روپے نقد اور سند توصیفی کی شکل میں محمد طاہر صدیقی اور ہریش لال کو دیا گیا، جبکہ محمد افروز نے پہلی، محمد شاداب شمیم نے دوسری اور نشاط حسن نے تیسری پوزیشن حاصل کی، تینوں کامیاب شرکا کو بالترتیب تین ہزار روپے، دو ہزار روپے، ایک ہزار روپے اور توصیفی اسناد سے نوازا گیا۔

اس موقعے پر پروفیسر عقیل احمد نے اظہار خیال کرتے ہوئے مسابقے میں کامیاب ہونے والے شرکا کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ جو لوگ کامیاب نہیں ہوسکے ،وہ بھی مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے اس مسابقے میں شرکت کی ۔ انھوں نے کہا کہ ہندی ہمارے ملک کی ایک اہم زبان ہے جس کے فروغ و اشاعت کے لیے ہم سب کو کوشش کرنی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان کی تمام زبانیں اہمیت کی حامل ہیں، ہم اردو والے اس ملک کی تمام زبانوں سے محبت کرتے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ اردو کے ساتھ ملک کی ساری زبانیں ترقی کریں۔انھوں نے کہا کہ آزادی کے طویل عرصے بعد بھی ہمارے یہاں زیادہ تر دفتری کام کاج انگریزی زبان میں ہوتا ہے، جس سے احتراز کرنے اور ملک میں ہندی زبان میں دفتری کام کا ماحول عام کرنے کے مقصد سے موجودہ سرکار متعدد اسکیمیں چلا رہی ہے، ’ہندی پکھواڑا‘ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ پروگرام اس لیے کیا گیا ہے کہ ہمارے یہاں ہندی کے حوالے سے عمومی بیداری پیدا ہو اور ہم اپنا دفتری کام ہندی  میں بھی  کریں۔اس موقعے پر کونسل کا تمام اسٹاف موجود رہا۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

خطبۂ پریم چند: ایک ادبی منشور: مضمون نگار

  نگارستان لکھنؤ میں واقع ’انجمن ترقی پسند مصنّفین‘ کے پہلے، منعقد کل ہند سطح کے اجلاس کی کارروائی شروع ہوا چاہتی تھی۔ ہال سامعین سے کھچاکھچ بھرا تھا،کیونکہ اس

صلاح الدین پرویز کی شاعری میں رادھا اور کرشن کا تصور، مضمون نگار: محمد شبلی آزاد

 ماہنامہ اردو دنیا، اگست 2024 صلاح الدین پرویزار دو شعروادب کی وہ شخصیت ہے جس کی شہرت و مقبولیت کی داستان اس پھلجڑی  کی سی ہے جو یکایک روشن ہوکراپنے

بلراج کومل اور رسالہ ’شاہراہ‘ مضمون نگار: نوشاد منظر

بلراج کومل اور رسالہ ’شاہراہ‘ نوشاد منظر رسالہ’ شاہراہ‘ کا پہلا شمارہ جنوری، فروری1949 میں منظرعام پر آیا۔ اس وقت تک ترقی پسند تحریک کا زور مدھم پڑگیا تھا مگر