شموئل احمد کی وفات اردو فکشن کا بڑا نقصان: پروفیسر شیخ عقیل احمد

December 28, 2022 0 Comments 0 tags

 

نئی دہلی: ممتاز فکشن نگار شموئل احمد کی وفات کو اردو فکشن اور مجموعی طورپر اردو زبان و ادب کا بڑا نقصان قرار دیتے ہوئے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائرکٹر پروفیسر شیخ عقیل احمد نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا ہے کہ شموئل احمد جیسے بے باک اور دلچسپ افسانہ نگار کی رحلت سے مجھے ذاتی طورپر شدید رنج ہوا ہے، کیوں کہ ہمارے ان سے ذاتی تعلقات تھے۔ وہ ایک عمدہ تخلیق کار ہونے کے علاوہ بہت محبت کرنے والے انسان بھی تھے۔ شیخ عقیل نے کہا کہ شموئل احمد اپنے تخلیقی اسلوب کے انفراد ، تیکھے اور دو ٹوک اندازِ بیان اور دلچسپ موضوعات کی وجہ سے ہم عصروں میں الگ پہچان رکھتے تھے۔ انھوں‌ نے خصوصاً جنسی نفسیات کو اپنی کہانیوں میں بڑی خوبی سے سمویا اور ساتھ ہی عصری مسائل کو بھی اپنی تخلیقات میں اجاگر کرتے رہے ۔ انھوں نے کہا کہ جس زمانے میں شموئل احمد نے افسانہ نگاری کا آغاز کیا ، وہ جدیدیت کےغلغلے کا عہد تھا اور بہت سے نئے فن کار اس کے زیر اثر علامتی و تجریدی افسانے لکھ رہے تھے، لیکن شموئل احمد نے کسی بھی رجحان کو قبول کرنے کے بجائے اپنی الگ راہ نکالی اور دیکھتے ہی دیکھتے ادبی دنیا پر چھا گئے۔ شیخ عقیل نے کہا کہ شموئل احمد نے بعض علامتی کہانیاں بھی لکھی ہیں، مگر ان کی اصل خصوصیت ان افسانوں میں مضمر ہے، جن میں انھوں نے براہِ راست کسی سماجی، ثقافتی یا سیاسی موضوع پر اپنی تخلیقی جولانیوں کا مظاہرہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ  وہ علمِ نجوم کے بھی ماہر تھے، جس کا فائدہ انھوں نے اپنی افسانہ نگاری میں بھی اٹھایا اور ان کی متعدد کہانیوں میں اس کے مختلف رنگ نظر آتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

انجم عثمانی: حیات اور فن، مضمون نگار: سید وجاہت مظہر

معروف افسانہ نگار اور ٹیلی ویژن پروڈیوسرانجم عثمانی کی ولادت 8 اکتوبر 1952 میں دیو بند کے ایسے دینی خانوادے میں ہوئی جس کا شمار دار العلوم کے بانیوں میں

اردو میں بچوں کا تحریر کردہ ادب – مضمون نگار: آفاق عالم صدیقی

  کچھ بچوں میں تخلیقی قوت زیادہ ہوتی ہے کچھ میں کم۔ لیکن ہوتی تمام بچوں میں ہے۔ بچے چونکہ کائنات کی تخلیق نو اور تسلسل کا دائمی حصہ ہوتے

بچوں کے صالح ادیب و شاعر: مرتضیٰ ساحل تسلیمی – مضمون نگار: پرویز اشرفی

   آج ادب اطفال کے میدان میں بے شمار شعرا اور ادبا نے بچوں کے لیے ادب تخلیق کیاہے لیکن اُن میں چند ہی ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو