ہمدردانہ حیوانی تحقیق،مضمون نگار:حکیم فخر عالم

June 29, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،جون 2026:

طبی تحقیق میں تجربہ کے لیے حیوانات کے استعمال کی روایت دوسری صدی عیسوی سے ملتی ہے،لیکن اس کا باقاعدہ رواج پچھلے ڈیڑھ سو برس سے ہے اوربتدریج اس میں وسعت آتی جارہی ہے۔ اخلاقیات کے حوالہ سے بیداری شعور کی یہ بڑی علامت ہے کہ اب زیر تحقیق حیوانوں کے باب میں ہمدرردانہ سوچ کا جذبہ پایا جانے لگا ہے،لیکن اس سلسلے میں ماضی اور حال کے رویوں میں دو انتہارہی ہیں،چنانچہ پہلے تحقیق کے نام پر حیوانوں کا بے دریغ استعمال ہورہا تھا ، اب اسے اتنامشروط کردیا گیا ہے کہ تحقیق کے ضروری کام بھی متاثر ہونے لگے ہیں ۔
اس وقت کئی ایسے ادارے ہیں جو تجربے میں حیوانی استعمال کے بجائے، ان کے متبادل کے بارے میں بڑی سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں ۔ڈاکٹر ہیڈوین ٹرسٹ(Dr. hadven trust) اس سلسلے کا ایک اہم نام ہے ۔ہمدردانہ تحقیق کے فروغ کے لیے یہ ادارہ نہ صرف خود مصروف عمل ہے،بلکہ اس باب میں ذہن سازی کر کے محققین کے درمیان رائے بھی ہموار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
1895 میں (neavs) the new england anti vivisection society قائم ہوئی تھی،یہ تنظیم ہر طرح کے حیوانی تجربوں کے خلاف تھی۔اس کے مطابق جب 1966 میں طبی اور سائنسی تحقیق میں استعمال ہونے والے حیوانات کے فلاحی ضابطے (awa) animal welfare act وضع ہورہے تھے،اس وقت چوہوں کو اس دائرے سے مستثنیٰ رکھا گیا تھا،نتیجۂ کار ان کابے تحاشا استعمال شروع ہوگیااور انھیں disposable living organismسمجھا جانے لگا،حالانکہ بہت سی مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ تشریحی ساخت اور منافع الاعضائی حالت میں یہ انسانوں سے بے حد اختلاف رکھتے ہیں ۔چنانچہ کئی ایسے تجربے جو چوہوں میں مفید اور مثبت نتائج کے حامل رہے،لیکن انسانوں پر تجربہ کے وقت ان کے بے حد نقصان دہ اثرات سامنے آئے۔مثلاً وجع المفاصل کی دوا flosint انسانوں کے لیے مہلک ہے،اسی طرح ڈپریشن دور کرنے والی دوا zimid انسانوں میں neurological damageکا سبب ہوتی ہے اور clioquinolجو اسہال کی دوا ہے،انسانوں میں blindnessاور paralysisکا باعث ہوتی ہے،جب کہ یہ سبھی دوائیں حیوانی تجربہ کے مرحلے سے گزرنے کے بعد انسانوں میں استعمال کی گئی ہیں۔ یہ ساری مثالیں حیوانی تجربوں سے حاصل تمام معلومات کی حتمی افادیت کی توثیق نہیں کرتی ہیں ، لہٰذا ان سے حاصل ہونے والی ایسی غیریقینی معلومات کے لیے ان پر تجربہ کی مشق کی سفارش نہیں کی جا سکتی ہے۔
انیسویں صدی کا ربع آخر حیوانات کے تعلق سے بیداری کا بڑا اہم زمانہ ہے۔ اس عہد میں عالمی سطح پر عوامی اور سیاسی حلقوں میں animal experimentation کے سلسلے میں اولاً گفتگو کا آغاز اس طرح ہوا کہ1874 برٹش میڈیکل ایسوسی ایشن (bma) کی سالانہ میٹنگ میں فرانسیسی سائنسداںDr. eugene magnan الکوحل کے منافع الاعضائی اثرات‘پر لکچر کے لیے مدعو تھے۔ لکچر کے بعد انھوں نے ایک کتے میں absinthe کے درون وریدی انجکشن کے ذریعہ experimental epilepsy کا demonstrationکیا۔یہ وہ زمانہ ہے جب ether اور chloroformجیسی general anaesthesia کی دوائیں معرض وجود میں نہیں آئی تھیں، اس وقت یورپ میں physiological research کے لیے animal experimentation کا عام رواج تھا،جب کہ برطانیہ میں یہ شاذ و نادر ہوتا تھااور محض چند سائنسداں ایسے تھے جو conscious animal پر invasive experimentsکے بارے میں سوچتے تھے۔ چنانچہ Dr.magnan کے واقعہ پر برطانیہ میں شدید احتجاج ہوئے،وہاں کے مشہور اخبارات اور رسائل و جرائد نے بھی اس معاملہ میں بے حد دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔بحث و مباحثہ کا یہ سلسلہ تقریباً دو برس رہا ،اسی دوران پہلی antivivisectionسوسائٹی کی تشکیل ہوئی،جس نے اس کے خلاف بل تک پیش کیا،۔دفاع میں ڈاکٹروں نے بھی مورچہ سنبھالا ،نتیجتاً حکومت نے اس کیس کی تفتیش کے لیے رائل کمیشن بنایا ،جس نے مفاہمت کے لیے درمیانی راہ نکالنے کی تدبیر کی۔
برطانیہ کے ساتھ امریکہ میں بھی اسی زمانہ میں اس بحث نے جنم لیا اور ہنری برگ نے american society for the prevention of cruelty to animals (aspca) کے تحت زندہ جانوروں کی چیڑ پھاڑ کے خلاف تحریک کا آغاز کیا۔اس نے نیویارک لیجسلیچر میں vivisectionکوجرم قرار دینے کا بل پیش کیا،مگر وہاں کی میڈکل سوسائیٹیز کی مخالفت کی وجہ سے اس بل کو سیاسی حمایت نہیں ملی۔1883 میں caroline earle white نے american anti vivisection society قائم کی تھی ،یہ امریکہ میں اپنی نوعیت کی پہلی تنظیم تھی،جو تحقیق میں حیوانی تجربوں کی روک تھام کے لیے بنائی گئی تھی۔
جنگ عظیم اول کے آغاز کے بعد یورپ اور امریکہ دونوں جگہوں پر حیوانات پر تجربوں سے متعلق بحث عملاً ختم ہو گئی،پھر اس کا احیا 1970 کے عشرے میں ہوا۔اس بار زندہ جانوروں کی چیڑپھاڑ کی مخالفت کرنے والی اور حیوانات کی فلاح و بہبود کے سلسلے میں کوشاں تنظیموں نے مشترکہ محاذ بنا کر حیوانی تحقیق و تجربہ سے متعلق قانون سازی کی تحریک شروع کی۔1980کے عشرے میں امریکہ کے اندر اس تحریک نے پر تشدد شکل اختیار کرلی۔مظاہرین کے ذریعہ Dr.edward taubs کے institute of behavioural researchکی لیبوریٹری پر حملہ اسی کا ایک نمونہ تھا۔
انگلینڈمیں اس وقت بھی اس مباحثہ کی گرم بازاری محسوس کی جا رہی ہے۔ antivivisection کی کچھ حمایتی تنظیمیں جو انیسویں صدی کے اواخر میں قائم ہوئی تھیں،اب بھی سرگرم عمل نظرآتی ہیں۔یہاں حیوانی تجربوں کی مخالفت کرنے والے لوگ تین حصوں میں بٹے دکھائی دیتے ہیں۔royal society for the prevention of cruelty to animals (rspca)جیسی جماعتیں کسی قدر عملی نقطہ نظر رکھتی ہیں۔یہ اس کو طویل مدتی سمجھتی ہیں اور مانتی ہیں کہ مستقبل قریب میں اس سلسلے کا موقوف ہونا ممکن نہیں ہے، لہٰذا جب تک تجربہ کے لیے غیرحیوانی (non-animal) طریقے متبادل کی صورت میں سامنے نہیں آجاتے سائنسدانوں کے ساتھ مل کر laboratory animals کی بہتری کے لیے کوشش کی جائے۔
antivivisectionاور animal-rightکی mainstreamسے تعلق رکھنے والے گروپ اپنے اہداف کے سلسلے میں بے حد متحرک نظر آتے ہیں ،لیکن ان کے یہاں حزم و احتیاط اور قانونی پاسداری بھی محسوس ہوتی ہے۔اس زمرہ کی بعض تنظیمیں سخت موقف رکھتی ہیں، ان کی دلیل ہے کہ سائنسی لحاظ سے حیوانی تجربوں کی معلومات غیر اہم اور طبی افادیت سے خالی ہوتی ہیں اور حیوانی تحقیق سے برآمد ہونے والے نتائج غیر تسلی بخش ہونے کے ساتھ ہمیشہ تکلیف دہ ہوتے ہیں۔
گذشتہ کچھ دہائیوں سے حیوانی حقوق کی نظریاتی سوچ کو بڑھاواملاہے اور یہ بنیاد پرستی کی طرف گامزن نظر آرہی ہے اور اپنے مطالبہ کے سلسلے میں ان کے حاملین کے مظاہرے پر تشدد ہوتے جا رہے ہیں۔
اس تاریخی منظرنامہ سے حیوانی تجربوں کی بابت عوامی رجحانات کے عوامل اور محرکات سے آگاہی ہوتی ہے۔ انیسویں صدی عیسوی میں برطانیہ میں احتجاج کا سبب لیب میں استعمال ہونے والے جانوروں کے ساتھ بے رحمانہ اور ظالمانہ برتاؤ تھا اور اب مباحثہ اس سوال پر مرکوز ہے کہ کیا حیوانی تحقیق ضروری ہے؟اور اس سے کیا طبی پیش رفت ہوئی ہے؟اور کیا اس کی جگہ کسی متبادل کااستعمال ہوسکتا ہے؟
اس تحریک کے خلاف رد عمل کے طور پر سائنٹفک کمیونٹی نے تنظیمی محاذ کے ذریعہ اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا ۔ physiological societyاس قسم کی پہلی تنظیم ہے،اس کا قیام برطانیہ میں 1876 میں عمل میں آیا تھا۔
گذشتہ ڈیڑھ صدی سے جاری حیوانی حقوق کی تحریک سے تجربہ میں استعمال ہونے والے حیوانات کے حقوق کی پاس داری کاجو شعور پیدا ہوا ہے، اسے ان تحریکوں کی ایک بڑی کامیابی قرار دینا چاہیے۔حالانکہ یہ سوال اپنی جگہ اب بھی قائم ہے کہ طبی تحقیق میں جانوروں کے استعمال کے علاوہ اور کیا کیا متبادل ہوسکتے ہیں؟،لیکن جب تک اس کے متبادل کی مناسب صورتیں سامنے نہیں آتیں، حیوانی تجربوں کی ناگزیریت بہر حال رہے گی،گرچہ تحفظات کے ساتھ۔
منسٹری آف سوشل جسٹس اینڈامپاورمنٹ نے animal act 1960 کے تحت حیوانی کاشت اور نگہداشت سے متعلق 15 دسمبر1998 کو جو گزٹ نوٹیفیکیشن کیا ہے اس میں تجربہ کے لیے استعمال ہونے والے animalsکے رکھ رکھاؤ سے متعلق درج ذیل رہنما ضابطے دیے ہیں:
1 animal houseایسے پرسکون مقام پر ہوکہ ٹریفک سے ماحول میں خلل نہ پڑے، جگہ صاف ستھری اور ہائیجینک ہو،خشک سالی اور موسمی شدت سے محفوظ ہو۔
2،3 چھوٹے جانوروں کے پنجرے اور بڑے جانوروں کے باڑے ایسے ہوں، جہاں یہ آرام سے رہ سکیں،زیادہ بھیڑ اور کھچ پچ نہ ہو،یہ مقامات متعینہ معیار کے مطابق ہوں۔
4 جانوروں کی خدمت پر مامور شخص آزمودۂ کار اور تجربہ کار ہوناچاہیے۔
5 تجربہ سے پہلے اور تجربہ کے بعد ماہر اور تجربہ کاراٹنڈنٹ کے ذریعہ جانوروں کی دیکھ بھال کی جائے۔
6 چھٹی کے اوقات میں بھی جانوروں کی دیکھ بھال کا معقول نظم ہو۔
7 جانوروں پر تجربہ سے پہلے کمیٹی سے پیشگی اجازت ضروری ہے۔اس کے حصول اور جانوروں پر کسی تجربہ سے پہلے منظور شدہ animal ethics committee سے باضابطہ اجازت لے لی جائے اور متعلقہ کمیٹی جانچ پڑتال کر کے ،اگر مطمئن ہوتو ،کس نوع کا جانور اور کتنی تعداد میں مطلوب ہے؟،اس تحدید کے ساتھ اجازت عطا کرے اور یہ مشروط کرے کہ جانوروں کو کسی بھی مرحلہ میں بلاوجہ درد اور تکلیف نہ ہونے پائے۔
تجربہ کے سلسلے میں یہ ملحوظ رہے کہ یہ عمل انجام دینے والا شخص یا جس کی نگرانی میں انجام دیا جائے وہ باضابطہ کوالیفائڈ ہو۔وہ Veterinary science یا laboratory animal scienceکی ڈگری یا ڈپلومہ رکھتا ہو۔
تجربہ کے وقت مناسب احتیاط برتی جائے اور انسانی اقدار کا پاس و لحاظ رکھاجائے۔
جن جانوروں پر تجربہ مقصود ہو انھیں تجربہ سے پہلے اور تجربہ کے بعد مناسب دیکھ بھال میں رکھا جائے۔
8 اگر تجربہ میں ایسا operative procedure شامل ہو جو ٹیکہ کاری اور superficial Venesectionسے بڑا ہو تو بہر صورت anaestheticکے زیر اثر ہونا چاہیے تاکہ جانور کو تکلیف نہ ہونے پائے اور anaesthesia دینے والا شخص اس عمل میں ماہر ہو اور تجربہ کے دوران وہاں موجود رہے۔جانور،جو ابھی anaesthesiaکے زیر اثرتجربہ کے مرحلہ میں ہو ،لیکن اس قدر زخمی ہوچکاہو کہ اس کی بحالی درد ناک اور تکلیف دہ ہوسکتی ہو تو مزید تجربہ کے بجائے اسے پُرسکون صورت میں ختم کر دیا جائے۔ایسے حیوانی تجربے ممنوع ہیں جو محض دستی مہارت کے لیے کیے جاتے ہیں ،تاہم اسکول، کالجز اور منظور شدہ ادارے اس سے مستثنیٰ ہیں۔محض تمثیل کے لیے یا عوامی نمائش کے لیے حیوانی تجربے نہیں کیے جا سکتے۔
9 urari،curariاور اس طرح کے دوسرے paralysinحیوانی تجربہ کے لیے استعمال نہیں کیے جا سکتے،اگر کیے جائیں تو اس کے ہمراہ اس قدر anaesthesia دیا جائے جو consciousness ختم کردے۔جانور کی آنکھ پر طبقۂ ملتحمہ یا طبقۂ قرنیہ سے انجذاب کے تجربہ کے لیے کوئی کیمیاوی مادہ استعمال نہ کیا جائے۔وہ کتے جو تجربہ کے لیے رکھے گئے ہوں،آزاد نہ چھوڑے جائیں۔
10 اگرحیوانی تجربہ کسی ادارہ میں انجام دیا جا رہا ہو تو اس کے سربراہ پر ذمہ داری عائد ہوگی، بصورتِ دیگر فرد ِمتعلق ذمہ دار ہوگا۔تجربہ کے جانوروں کی کاشت کرنے والاشخص (breeder) انھیں کسی ایسے ادارہ کو نہ دے،جو منظور شدہ نہ ہوں۔کوئی ادارہ صرف منظور شدہ بریڈر یا ادار ہ سے ہی جانور خریدے یاحاصل کرے ۔کوئی ادارہ جانورلینے کے بعد اسے کسی ایسے ادارہ یا فرد کو فروخت کرنے یا دینے کا مجاز نہیں، جو منظور شدہ نہ ہو۔ پروڈکشن یا بریڈامپرومنٹ پروگرام کے تجربہ کے جانور گھریلو استعمال کے لیے بھی دیے جاسکتے ہیں۔ ملک میں دستیاب جانور بریڈر یا اداروں کے ذریعہ درآمد نہیں کیے جاسکتے۔بریڈر اور اداروں کے لیے ضروری ہے کہ حیوانی تجربوں کے لیے مقررنگراں کمیٹی کی ہدایات پر عمل درآمد کریں۔
11 ادارہ جاتی animals ethics committee کو چاہیے کہ اپنے زیر ِتصرف اور تحویل کے جانوروں کے ریکارڈ کو مقررہ فارمیٹ میں محفوظ رکھے تاکہ بوقتِ ضرورت یہ اطلاعات مہیا کراسکے۔ یہ لیبوریٹریز کی ذمہ داری ہے کہ کمیٹی کے ممبر سکریٹری یا اس کے ذریعہ مقرر کردہ آفیسر کو متعینہ فارمیٹ میں جانوروں کی تعداد اور ان کی انواع کی تفصیل فراہم کریں۔
12 کوئی ادارہ دوسرے ادارہ کے لیے معاہدہ کی بنیاد پر تحقیق و تجربہ نہیں کرسکتا،اس لیے کہ یہ collaborative research کے زمرہ میں نہیں آتا۔
13 ادارہ جاتی animals ethics committee ایک بائیلوجیکل سائنٹسٹ، دو ایسے مزید سائنٹسٹ جو مختلف بائیلوجیکل ڈسپلن سے تعلق رکھتے ہوں ،ایک veterinarian جو جانوروں کی دیکھ ریکھ کرتا ہو،جانوروں کی سہولیات کے لیے مامور ادارہ کا سائنٹسٹ انچارج، ایک سائنٹسٹ جو ادارہ سے باہر کا ہو،ایک سماجی شعور رکھنے والا غیر سائنسی رکن، ایک ایسا شخص جسے کمیٹی نے نامزد کیا ہو،ان افراد کے علاوہ خاص پروجیکٹ جن میں مضر صحت ایجنٹ جیسے radio-active substances اورمہلک خورد بینی اجسا م کا استعمال ہو، ان کے ریویو کے وقت اس فیلڈ کا اسپیشلسٹ بھی ہونا چاہیے۔
منسٹری آف سوشل جسٹس اینڈامپاورمنٹ کے animal act 1960 کی طرح لیبوریٹری میں استعمال ہونے والے جانوروں کی بہتر سہولیات کے لیے CPCSEA گائڈلائن وضع کی گئی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ جانوروں پر good laboratory practicesکے اہتمام کے ذریعہ ان کی quality maintenanceاورsafetyکو یقینی بنایا جائے اوران کے ساتھ ہمدردانہ انسانی برتاؤ کیا جائے۔ CPCSEA گائڈلائن کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
جانوروں کی دیکھ بھال کے لیے مامور شخص یا veterinarianکی ذمہ داری ہے کہ ان کا مناسب خیال رکھے اور daily observationکے لیے ایک شخص الگ سے مقرر ہو۔ایسا میکانیہ اختیار کیاجائے کہ اگر جانوروں کو کوئی صحتی عارضہ پیش آجائے، ان کے رویے میں کسی قسم کی تبدیلی محسوس ہویا ان کی well-beingسے متعلق کوئی مسئلہ ہو تو ان کی خدمت پر مامور veterinarianکوفوری اطلاع دی جا سکے۔
جانوروں کے حصول کے لیے CPCSEA گائڈ لائن کے مقررہ ضوابط کی پاسداری کی جائے۔ نئے آنے والے جانوروں کے معیار کے جائزہ کے لیے صحتی نگہداشت کے اصول اختیار کیے جائیں۔ جانوروں کے نقل و حمل میں متعینہ معیار کا خیال رکھا جائے اور مناسب طریقے سے ان کو quarantine اورstabilizeکیا جائے۔ quarantine کا مطلب یہ ہے کہ نئے آنے والے جانوروں کو پہلے سے موجود جانوروں سے علاحدہ رکھا جائے تا آنکہ ان کی صحت اور ممکنہ حد تک ان کے microbial status کاپتہ چل جائے۔چھوٹے جانوروں کی ایک ہفتہ اور بڑے جانوروں (کتے،بلی ،بندر)کی چھ ہفتہ کے لیے quarantine کرتے ہیں، اس سے موجودہ جانوروں میں pathogens کی منتقلی کے امکانات کافی حد تک کم ہوجاتے ہیں۔ quarantine کی مدت سے قطعِ نظرنئے آنے والے جانوروں کو استعمال سے پہلے ایک وقفہ دینا چاہیے تاکہ وہ physiologic، psychologic اور nutritional لحاظ سے stabilize ہوجائیں۔
الگ الگ نوع کے جانوروں کو علاحدہ رکھا جائے تاکہ انھیں ایک دوسرے کی بیماریاں نہ لگنے پائیں اور باہمی تنازعہ سے ان میں physiological & behavioral changes اور anxiety پیدانہ ہو۔علاحدگی کی شکل یہ ہو کہ انھیں ایسے الگ کمروں میں رکھا جائے،جن کے cubicles،laminar flow units اور cagesکے لیے علاحدہ ventilation کا نظم ہو۔استثنائی صورتوں میں الگ الگ نوع کے جانوروں کو ایک کمرے میں بھی رکھا جا سکتا ہے، مثلاً دو الگ نوع کے جانور کا pathogen statusیکساں ہویا ان کے مزاجی رویوں میں ہم آہنگی پائی جارہی ہو۔
animal houseپرمتعینہ اسٹاف تمام جانوروں پر نظر رکھے کہ ان میں کوئی بیماری کی علامت یاان کے رویوں میں کسی قسم کی غیر طبعی تبدیلی تو نہیں ہو رہی ہے؟یہ عمل روز ہونا چاہیے، لیکن جانوروں کے بیمار ہونے اور postoperative recovery کی صورت میں اور زیادہ نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔بوقتِ ضرورت بیمار جانور کی دیکھ بھال اور بیماری کی تشخیص کے لیے مناسب طریقے اختیار کیے جائیں۔غیر متوقع موت واقع ہونے ،جانوروں میں بیماری کی علامات ظاہر ہونے یا کوئی غیر طبعی کیفیت محسوس ہونے پرفوراًاس کی رپورٹ کی جائے تاکہ بروقت طبی امداد پہنچائی جاسکے۔ اگر جانور میں کسی متعدی بیماری کی علامتیں دکھائی دیں تو اسے دوسرے صحت مند جانوروں سے الگ کر دیاجائے۔اگر ایک کمرہ کے سارے جانور کسی تعدیہ کا شکار ہوجائیں تو انھیں الگ رکھ کر طبی سہولت فراہم کی جائے۔
animal care programsکے لیے ایسے افراد کی ضرورت ہوتی ہے، جو اس سلسلے میں تکنیکی اور پیشہ ورانہ مہارت رکھتے ہوں۔جانوروں کی نگہداشت پر مامور اشخاص کو چاہیے کہ وہ اپنی صفائی ستھرائی کا ہر لحاظ سے مکمل خیال رکھیں اور اس کے لیے انھیں مطلوب ضروری اشیا فراہم کی جائیں۔ یہ ڈیوٹی کے وقت gloves, masks, head cover, coats, shoes cover کا استعمال کریں۔دھیان رکھیں کہ جانوروں کے رہائشی کمرہ میں بروئے کار لائی گئی چیزیں باہر استعمال میں نہ لائیں۔ ان کے لیے washingاور showering سے متعلق سہولیات کا نظم کیا جائے۔ جانوروں کے کمرہ میں خورد و نوش ،سگریٹ نوشی اور امور زینت کا استعمال نہ کیا جائے۔
تحقیقی اداروں کو چاہیے کہ مضر اور خطرناک اشیا (hazardous agents)کے تجربوں کی نگرانی کے لیے موثر نظام اختیار کریں۔biosafety committee ایسے تحقیقی منصوبوں کو امعانِ نظر سے دیکھے۔ان تحقیقی مطالعوں میں جانوروں کے استعمال کے سلسلے میں خاص احتیاط کی ضروت ہوتی ہے،لہٰذا ادارہ کی biosafety committeeاورanimal ethics committee دونوں بروئے کار لائے جانے والے proceduresا وردستیاب سہولیات کا review کریں۔
تجربہ و تحقیق کے دوران ایک ہی جانور پر متعدد surgical proceduresکے استعمال سے احتراز کیا جائے،ا لّاآنکہ پروٹوکال میں اس کی وضاحت ہو اور ادارہ کیanimal ethics committee نے اس کی منظوری دے رکھی ہو۔ساتھ ہی ایک جانور کا استعمال معقول جواز کے بغیر تین سال سے زیادہ نہ کیا جائے۔
لیب میں استعمال ہونے والے جانوروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے وقت mode of transport,containerاورcageمیں ان کی تعداد جیسے معاملات کو خاص طو پر دھیان میں رکھنے کی ضرورت ہے۔یہ خیال بھی ضروری ہے کہ اس دوران ان کے کھانے پینے کا معقول بند و بست ہو،انھیں کوئی تعدیہ ،چوٹ اور stressلاحق نہ ہو۔mode of transport کے انتخاب کے و قت راستے کی مسافت ،موسمی اور ماحولیاتی حالات کو پیش نظر رکھا جائے اور کوشش کی جائے کہ انھیں کسی قسم کا کوئی صدمہ نہ پہنچے۔containerاتنا بڑا ہوکہ جانور اس میں آرام سے رہ سکیں، انھیں کوئی گزند لاحق نہ ہواور cageمیں متعینہ تعداد سے زیادہ جانور نہ رکھے جائیں۔ ایک cageمیں mouse,rat اور hamster پچیس، guinea pig بارہ، rabbitدو،کتے اور بلی ایک سے دواور بندر ایک سے زیادہ نہ رکھے جائیں۔ mouse اور hamsterکی cage height بارہ سنٹی میٹر، ratکی چودہ سنٹی میٹر، guinea pig کی اٹھارہ سنٹی میٹر، rabbitکی چھتیس سنٹی میٹر،بندر کی بہتّر سنٹی میٹر اور لنگور کی نوّے سنٹی میٹر سے کم نہ ہو۔اسی طرح ایک mouse کے لیے65-100 sq.cm،rat کے لیے 100-150sq.cm، hamsterکے لیے90-120sq.cm،guinea pig کے لیے 300-600sq.cm،rabbitکے لیے3700-4600sq.cm،بلی کے لیے 2500-3500sq.cm،کتے کے لیے7000-12000sq,cm،بندر کے لیے 4000-6000sq.cmاور لنگور کے لیے6000-9000sq.cmفلور ایریا کی ضرورت ہوتی ہے۔
painful procedure والے حیوانی تجربوں کومناسب anaesthesiaکے زیر اثر کیا جائے اور یقینی بنایا جائے کہ اس پورے عمل کے دوران یہ اثرات قائم رہیں اورجانور ہوش میں نہ آنے پائے تاکہ اسے تکلیف کا احساس نہ ہو۔اگر تجربہ کے کسی مرحلہ میں investigatorکو لگے کہ اسے یہ عمل روک دینا چاہیے یا یہ کہ جانور کو ناقابلِ علاج زخم ہوگیا ہو تو euthanasiaکے مناسب طریقے سے اسےsacrificeکر دے اور اس کے disposalسے پہلے تیقن حاصل کر لے کہ اس کی clinical deathہوچکی ہے۔ euthanizedکیے گئے large animalکے dataکو محفوظ رکھے۔
euthanasiaکی ضرورت اس وقت ہوتی ہے جب experimentپورا ہوجانے کے بعد یا کسیethical reasonسے جانور کو sacrificeکرتے ہیں۔ یہprocedure بہ سرعت تمام اس طرح انجام دیا جائے کہ جانور کو تکلیف نہ ہو،اسے خوف و ہراس سے آزاد ماحول میں اور animal roomسے الگ کسی اور جگہ کیا جائے۔ euthanasia کے لیے ایسا طریقہ اختیار کیا جائے جو مرکزی نظامِ اعصاب (cns) کوافسردہ اور سست کرکے درد کے احساس کو ختم کردے۔ euthanasiaکے لیے کیا طریقہ اختیار کیا جائے؟ یہ اس پر منحصر ہوتا ہے کہ کس نوع کا جانور ہے؟ اور studyکاnatureکیا ہے؟۔دھیان رہے کہ اسے کرتے وقت جانور کو کم سے کم ذہنی اور جسمانی اذیت پہنچے۔اس مقصد کے لیے بندر،کتے اور بلی جیسے جانور کوایوتھینزیا سے پہلے tranquilizer دے دیتے ہیں۔
بسا اوقات جینیاتی مطالعہ کی غرض سے تجربہ کے جانور میں کسی دوسرے جانور کا gene داخل کردیتے ہیں(transgenic animals)یا اس کے کچھ مخصوص gene کو مختل کردیتے ہیں (knockout animals)،ان کی دیکھ بھال کے لیے زیادہ اہتمام کی ضرورت ہوتی ہے،اس لیے کہ جینیاتی تبدیلی اور اختلال کے نتیجہ میں ان کے اندربیماری کی استعداد بڑھ جاتی ہے،جب کہ ان کی نگہداشت سے متعلق امور جیسے housing, feeding, ventilation, ighting,sanitation l اور routine managementکا معاملہ ووسرے جانوروں جیسا ہی ہے۔
laboratory animalsکےeuthanasiaکے لیے مختلف طریقے بروئے کار لائے جاتے ہیں ۔مجموعی طور پر انھیں تین زمروں میں تقسیم کر سکتے ہیں:
physical method
inhalation of gases
drug administration
physical methodمیں lectrocution, exsanguination, decapitation, cervical dislocation، اسی طرحeuthanasiaکے لیے کاربن مونو آکسائڈ،کاربن ڈائی آکسائڈ،کلوروفارم،ہیلوتھین جیسی گیسوں کے inhalation کا طریقہ اپنایا جاتا ہے۔دوائیں دے کر euthaniseکرنے کا طریقہ یہ ہے کہ barbiturate, chloral hydrate, ketamine اورsodium pentotholکو زیادہ مقدار(overdose)میں دے دیا جاتا ہے۔
چھوٹے جانوروں پر تجربہ سے متعلق تمام اعمال ایسی جگہ انجام دیے جائیں جو عام جانوروں کی رہائش سے ہٹ کر ہو،جب کہ بڑے جانوروں کے experiment کا functional area ایسا ہو جس میں ضرورت کے تمام اسباب مہیا ہوں۔ وہاں prepration، operation،intensive care اور supportive treatmenکی معقول گنجائش ہو۔
laboratory animalsکے لیے سازگار رہائشی ماحول ضروری ہے۔اس سلسلے میں درجۂ حرات اور فضائی نمی کی تنظیم کے لیےair conditioningسب سے موثر ذریعہ ہے۔اس سے موسمی تبدیلیوں اور تغیرات کے تدارک میں مدد ملتی ہے۔ mouse، rat، hamster، g.pig،rabbit کے رہائشی کمرہ کادرجۂ حرارت بائس سے چوبیس ڈگری سیلسیس ،جب کہ کتے، بلی، بندر اور لنگور کے لیے air dried ماحول سازگار خیال کیا جاتا ہے۔
laboratory animalsکی رہائشی جگہوں پرventilationکا معقول انتظام ہو،اس کی ڈیزائننگ اس طرح کی جائے کہhuman occupancyکے لیے جانوروں سے علاحدہ ventilationکا نظم ہو۔جانوروں کے رہائشی کمرہ میں بہتر ماحول کے قیام کے لیے ventilation ،heatingاور air conditioningکے متبادل ذرائع کا بندو بست رہے تاکہ بلا انقطاع یہ سہولیات مہیا رہیں۔ جانوروں کی رہائش گاہ میں بجلی اور روشنی کی مناسب سہولت بہم پہنچائی جائے اور ایسا بندو بست ہو کہ animal roomمیں کام کرنے والے بآسانی اپنا کام کرسکیں اور روشنی کی شدت جانوروں پر گراں بھی نہ ہو۔fluorescent lightاس مقصد کے لیے مناسب ہوتی ہے۔ time controlled lighting systemکا استعمال کر کے ضرورت کے لحاظ سے روشنی کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ایسا نظم ہوکہpower failureکی ہنگامی صورت میں بھی بجلی اور روشنی کی فراہمی میں خلل واقع نہ ہو۔
جانوروں کی سہولت کے نقطہ سے شور و شغف سے آزاد ماحول کی کافی اہمیت ہے۔اس ضمن میں کنکریٹ سے بنی دیواریںبڑا موثر کردار رکھتی ہیں،اس لیے کہ ان کی density،sound transmissionکو کم کردیتی ہے۔
تحقیق کے جانوروں کو ایسا ماحول فراہم کیا جائے جس میں انھیں جسمانی آسائش کے ساتھ سماجی ماحول کا احساس بھی ہو۔well beingکے تقاضے کے ساتھ اس سے تحقیق کی ضرورتیں بھی جڑی ہوئی ہیں،اس لیے کہ اس سے experimental variableکم ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا ان کا caging اور housing systemایسا ہوکہ اس میں جانور کو آزادانہ نقل و حرکت میں دقت نہ ہو،ماحول آرام دہ ہو،کھانے پینے اور دیگر حوائج کے لیے ضروری سہولیات موجود ہوں۔
سطور بالا میں جانوروں کی رہائشی اور ماحولیاتی آسائش، نگہداشت،رکھ رکھائو، خورد و نوش اور تحقیقی تجربوں میں ان کے استعمال کے سلسلے میں حزم و احتیاط کی بابت جو قانونی اور اخلاقی ہدایات مذکور ہیں ،یہ اعلیٰ انسانی اقدار پر مبنی ہیں،یہ زیر تحقیق جانوروں کے ساتھ بہتر سلوک اور ہمدردانہ رویے کو لازمی بناتی ہیں اور تجربہ سے لاحق ہونے والی اذیت کوکم سے کم کرتی ہیں۔
طبی سائنس کی دستیاب سہولتوں کو مزید موثر اور محفوظ بناکر اسے بہتر اور اعلیٰ کارکردگی سے متصف کرنے اور نت نئے صحتی مسائل کے تناظر میں اس کے افادی دائرے کو وسیع کر کے عصری مسائل سے نمٹنے کا اہل بنانے کا عمل ہمیشہ تحقیق سے مشروط رہے گا۔اس کی ایک اہم کڑی حیوانی تجربہ ہے۔ڈرگ ڈیولپمنٹ اور بائیو میڈیکل ریسرچ جیسے مختلف تحقیقی مطالعوں میں حیوانی تجربوں کی کلیدی اہمیت ہے۔اب تک ایسےin-vitro altrenate methodسامنے نہیں آسکے ہیں جو حیوانی تجربوں سے دستبردار کر کے ان کا متبادل بن سکیں،لیکن بہتر یہی ہوگا کہ اس کے امکانات پر غور کیا جائے۔تاہم جب تک یہ ممکن نہیں ہو پارہاہے انسانی مفاد کے لیے طبی سائنس کے تحقیقی تجربوں میں حیوانی استعمال کی ناگزیریت کو تسلیم کرنا پڑے گا۔مگر طب کی پیشہ ورانہ شرافت اور عمدہ اخلاقی احترام کی روایت حیوانات کے ساتھ ہمدردانہ برتائو کا درس دیتی ہے اور تجربہ کے جانوروں کے سلسلے میں اصولی ضابطوں اور اخلاقی قدروں کا پابند بناتی ہے،لہٰذا ان کی پاسداری کا بہر صورت التزام ہونا چاہیے۔

ماخذ: طبی اخلاقیات، مصنف: حکیم فخر عالم، پہلی اشاعت: 2023، ناشر: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

ادب اطفال میں سوشل میڈیا کے اثرات ،مضمون نگار:کلدیپ راج آنند

اردو دنیا،مارچ2026: انسانی تاریخ میں ابلاغ ہمیشہ سے تمدن کی بنیاد رہا ہے۔ابتدامیں انسان نے غاروں کی دیواروں پر تصویری نشان بنائے، پھر خط و کتابت، اخبارات، ریڈیو اور ٹیلی

ہندوستان کی نوآبادیاتی تاریخ میں ماحولیاتی استحصال،مضمون نگار:جمیلہ خاتون

اردو دنیا،اپریل2026: ماحولیات (Environment) انسان اور فطرت کے باہمی تعلق کامظہر ہے، جس میں زمین، پانی، ہوا، جنگلات، حیاتیاتی تنوع اور قدرتی وسائل شامل ہیں۔ یہ عناصر نہ صرف انسانی

شیخ محمد غوث گوالیاری کا تصور یوگ(بحرالحیات کے تناظر میں)،مضمون نگار:محمد منہاج الدین

اردو دنیا،جون 2026: یوگا ایک قدیم اور ہمہ گیر ہندوستانی فلسفہ ہے جو انسان کی جسمانی، ذہنی اور روحانی صحت کو جسد خاکی کے لیے لازمی عمل تصور کرتا ہے۔