اردو دنیا،جولائی2026:
پس منظر
تعلیم و تدریس کے ابتدائی مراحل میں طلبہ کی جانچ کا مقصد صرف یہ دیکھنا ہوتا تھا کہ وہ کتنا مواد یاد کر سکتے ہیں۔ امتحانات زیادہ تر رٹنے (Rote learning) پر مبنی ہوتے تھے اور طلبہ کی کامیابی کا دارومدار تحریری پرچوں میں دیے گئے جوابات پر ہوتا تھا۔ اس طریقہ کار میں طلبہ کی سمجھ، تخلیقی صلاحیت اور عملی مہارتوں کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی تھی۔
وقت کے ساتھ ساتھ تعلیمی نظریات میں تبدیلی آئی۔ ماہرین تعلیم نے اس بات پر زور دینا شروع کیا کہ سیکھنے کا عمل محض معلومات یاد کرنے تک محدود نہیں بلکہ اس میں فہم، تجزیہ، اطلاق اور تنقیدی سوچ بھی شامل ہے۔ اسی وجہ سے تعلیمی جانچ کے طریقے بھی تبدیل ہوئے۔
جدید تعلیم میں تعلیمی جانچ کو ایک مسلسل اور جامع عمل سمجھا جاتا ہے، جو نہ صرف طلبہ کی کارکردگی کو جانچتا ہے بلکہ ان کے سیکھنے کی رفتار، دلچسپی، اور صلاحیتوں کو بھی سامنے لاتا ہے۔ اب جانچ کا مقصد صرف نمبرز دینا نہیں بلکہ سیکھنے کے عمل کو بہتر بنانا ہے۔
تعارف
تعلیمی جانچ ایک منظم اور باقاعدہ عمل ہے جس کے ذریعے طلبہ کے سیکھنے، سمجھنے اور مہارتوں کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ اس عمل میں مختلف طریقے استعمال کیے جاتے ہیں جیسے تحریری امتحانات، زبانی سوالات، عملی کام، پروجیکٹس اور مشاہدہ وغیرہ۔
تعلیمی جانچ کے دو بنیادی پہلو ہوتے ہیں:
1. طلبہ کی کارکردگی کا جائزہ لینا
2. تدریسی عمل کو بہتر بنانا
یہ ایک مسلسل عمل ہے جو تدریس کے آغاز سے لے کر اختتام تک جاری رہتا ہے۔ جدید تعلیمی نظام میں اساتذہ نہ صرف طلبہ کی کامیابی یا ناکامی کا تعین کرتے ہیں بلکہ ان کی بہتری کے لیے رہنمائی بھی فراہم کرتے ہیں۔
تعلیمی جانچ کی ضرورت
تعلیمی جانچ کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ تعلیم کے نظام کو مؤثر بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ اسی سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ طلبہ نے کتنا سیکھا اور کس حد تک تعلیمی اہداف حاصل کیے اور انہیں اپنی کمزوریوں اور مضبوط پہلوؤں کا علم ہوتا ہے اور انہیں محنت کرنے پر آمادہ رکھتی ہے اسی سے تدریسی عمل میں بہتری اور نہ صرف تعلیمی معیاربرقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے بلکہ ترقی درجہ بندی اور نصاب کی تبدیلی میں معاون ہوتی ہے-
درحقیقت اسسمنٹ تعلیم و تعلم کے مراحل میں ایک کلیدی رول ادا کرتا ہے یہ صلاحیتوں اور اہلیتوں کو پرکھنے اور جانچنے کا ایک معیار ہے بہت سے ماہرین تعلیم نے اس کی الگ الگ تعریفیں کی ہیں کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اسسمنٹ دراصل کسی شخص، گروپ کے بارے میں معلومات یا ثبوت اکٹھا کرنا ہے تاکہ ایک متعین فیصلے تک پہنچا جا سکے کسی کا کہنا ہے کہ یہ ایک متواتر اور مستقل عملی تجزیہ ہے جس کا نفاذ مختلف شعبہ جات میں کیا جاتا ہے جیسے تعلیم سائیکالوجی، ہیلتھ کیئر وغیرہ۔ اسسمنٹ کے مختلف مقاصد ہو سکتے ہیں تاہم مندرجہ ذیل مقاصد بہت ہی عام ہیں :
1. تشخیص: اسسمنٹ کسی صلاحیت یا ذاتی مجموعی ہنر، معلومات اور اہلیت کو جانچنے اور پرکھنے کے لیے کیا جاتا ہے یہ تعلیمی بھی ہو سکتا ہے جیسے ملازمت کے لیے یا دیگر شعبے بھی ہو سکتے ہیں۔
2. تاثرات : اسسمنٹ اس شخص یا گروپ کو اپنا تاثر دیتا ہے اور یہ اس شخص یا گروپ کو ان کی صلاحیت طاقت کو سمجھنے میں اور ان کی کمیوں کی نشاندہی میں مدد کرتا ہے جو ان کی نشو ونما و ترقی میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
3. فیصلہ سازی: اسسمنٹ کے ذریعے جو معلومات اکٹھا کی جاتی ہے اس کو فیصلہ سازی میں استعمال کیا جاتا ہے مثلا تعلیم کے میدان میں طلبہ کی پابندی ان کے گریڈ ان کی اگلی کلاس میں پروموشن دراصل اسسمنٹ کی مرہون منت ہے۔
4. شناخت یا نشاندہی: اسسمنٹ کسی خاص ضرورت، چیلنجز یا اہم جہات کے بارے میں نشاندہی یا شناخت کے لیے کیا جاتا ہے اس کی واضح مثال طبی امداد کا شعبہ ہے کیونکہ یہ اسسمنٹ میڈیکل کنڈیشن کو جانچنے اور پرکھنے اور اس کی تشخیص کرنے میں ایک اہم رول ادا کرتا ہے۔
5. تحقیق: بحث و تحقیق میں اسسمنٹ ایک لازمہ کی حیثیت رکھتا ہے، اس تحقیق کے ضمن میں محققین بہت سی ٹیکنیک اور ٹول کا استعمال کرتے ہیں تاکہ مطلوبہ معلومات حاصل کر کے اس کے نتیجے میں کسی حتمی فیصلے پر پہنچا جا سکے اس کے علاوہ یہ احساس ذمے داری کو متعین کرتا ہے۔ یہ ذمے داری اور جواب دہی ذاتی بھی ہو سکتی ہے طالب علم کی بھی ہو سکتی ہے یا خود ادارہ جاتی بھی ہو سکتی ہے اگر سارے عناصر شامل ہوں تو ایک اعلی ترین مقصد کے حصول میں یہ معاون ہوتے ہیں۔ ادارہ جاتی سطح پر یہ اسسمنٹ ، موجودہ نصاب کی بہتری میں معاون ہوتے ہیں اور یہ بہتری وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔
یہ اسسمنٹ طلبہ کی صلاحیت اور مواد کو سمجھنے میں ذہنی سطح کی نشاندہی کرتا ہے ان کی مشکلات حل کرنے میں ماہانہ ادارہ جاتی نظرثانی کے لیے راہ ہموار کرتا ہے یا دوسرے طریقہ کار کی ضرورت پر روشنی ڈالتا ہے۔
اسسمنٹ کے ذریعے بچوں میں حوصلہ افزائی کا ماحول پیدا ہوتا ہے اور ان کو یہ احساس ہوتا رہتا ہے کہ ان کی ذہنی نشو و نما کی پوری طرح دیکھ ریکھ کی جا رہی ہے۔
اسسمنٹ کے ذریعے تعلیمی خلا کی نشاندہی کی جاتی ہے یہ گیپ چاہے اس کی سمجھ میں ہو یا اس کی صلاحیت میں ہو اور ان خلا کو مدنظر رکھتے ہوئے متبادل طریقہ کار اور حکمت عملی اپنائی جاتی ہے تاکہ اس خاص نکتے پر نظررکھی جا سکے :
مسئلے کے حل میں تنقیدی تجزیہ و فکر: کچھ اسسمنٹ ایسے ہوتے ہیں جن میں سوالات کی کثرت ہوتی ہے جن سے مشکلات کو حل کرنے میں علمی صلاحیت کو نکھار ملتا ہے اور موجودہ طریقہ تدریس کی توثیق ہوتی ہے جس کو ہم Validated Teaching Method کہتے ہیں اگر اس طریقہ تدریس سے مستقل مثبت نتائج مل رہے ہیں تو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ طریقہ تدریس کارگر ہے۔
ذاتی آموزش کی سہولت کاری: یہ اسسمنٹ ذاتی آموزش کو بہتر بناتا ہے اور حا صل نتیجے کی بنیاد پر طلبہ کی ضروریات، ترجیحات اور سیکھنے کے طریقے سے جو تفصیلات ملتی ہیں اس کی بنیاد پر نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے۔
مستقبل میں آموزش کی تیاری: اس اسسمنٹ کی بدولت نشاندہی کی جاتی ہے کہ طلبہ اب مزید Advance کورس ورک کے لیے تیار ہیں اور یہ معلومات بچوں کے مستقبل کے لیے ایک رہنما خطوط کی حیثیت رکھتی ہیں اور مستقبل کے علمی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کا اہل بھی بنا تی ہیں۔
اسسمنٹ کے اقسام
اسسمنٹ کے مختلف اقسام ہوتے ہیں جیسے ٹیسٹ، ایگزام، کوئز، سروے،مشاہدہ ، انٹرویو وغیرہ ان اقسام کو پرکھنے اور تصدیق کرنے کے لیے اختیار کیا جاتا ہے اور یہ ذرائع Quantitative method، Numerical data یا Descriptive data بھی ہو سکتے ہیں اس کا مقصد استعمال کیے گئے تجربہ یا Tools کو مزید معتبر بنانا اور شفافیت کو برقرار ر کھنا ہے۔
اقسام:
تشکیلی جانچ (Formative assessment) : اس اسسمنٹ کا استعمال Learning Process کے دوران کیا جاتا ہے یہ دراصل طلبہ اور اساتذہ دونوں کے لیے ایک فوری تاثر ہوتا ہے اور یہ ٹیسٹ کی کمیوں کی نشاندہی کے ساتھ قوت آخذہ کو اجاگر کرتا ہے تا کہ تدریسی عمل میں فوری طور پر اضافہ کیا جا سکے اور متبادل حکمت عملی اپنائی جا سکے اس کی واضح مثال کلاس روم میں ڈسکشن ، کلاس روم ایکٹیوٹیز وغیرہ ہیں۔
احتسابی جانچ: یہ اسسمنٹ اس وقت کیا جاتا ہے جب ایک متعین /Instructional material تدریسی مواد بچوں کو پڑھا دیا جاتا ہے اور آخر میں بچوں کو ان کے عموعی تاثرات اور مواد میں ان کی مہارت کی جانچ کی جاتی ہے جیسے قصہ وغیرہ کو پرکھا جاتا ہے اس کی واضح مثال سالانہ امتحان، پروجیکٹ، انٹرویو اور مقالہ وغیرہ دیے جا سکتے ہیں۔
تشخیصی جانچ: دراصل یہ اسسمنٹ کسی کورس یا یونٹ کے شروع کرنے سے پہلے کیا جاتا ہے تاکہ بچوں کی سابقہ معلومات ،صلاحیت اور رجحان کو پرکھا اور جا نچا جاسکے اور اس بنیاد پر اساتذہ اپنے طریقہ تدریس پر عمل کر سکیں تاکہ بچوں کی خاص ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی مشکلات پر قابو پایا جا سکے اور ان کو ایک اچھا مواد فراہم کیا جا سکے۔
مسلسل جانچ: یہ دراصل ایک مستقل ٹیسٹ اور اسسمنٹ ہے جو کورس کے دوران سے لے کر آخر تک چلتا رہتا ہے تاکہ طلبہ کو سال بھر مصروف رکھا جا سکے اور ان کی علمی و فکری نشو ونما کی نگرانی کی جاسکے اس ضمن میں ہفتہ واری یا ماہانہ ٹیسٹ ، Assignment یا اسٹوڈنٹ ویبنار وغیرہ شامل ہیں۔
Performance Assesment: یہ اسسمنٹ دراصل طلبہ کی علمی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ ہے، جو کچھ بھی وہ سیکھ رہے ہیں اس کو عملی زندگی میں کیسے ناقذکر رہے ہیں اس کے لیے یہ ٹیسٹ کیا جاتا ہے اس کی واضح مثال پریزنٹیشن، پروجیکٹ، Hands-on Experiment, Portfolio وغیرہ ہے۔
اپنے درمیان جانچ (Peer Assessment) میں طلبہ خود کا احتساب کرتے ہیں اور اپنے کلاس فیلو، ساتھیوں کاجائزہ لیتے ہیں اس سے طلبہ کے اندر ایک تدقیقی تجزیے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے اور اس سے Coordination, Collaboration کی صلاحیت اور Communication skill میں نکھار پیدا ہوتا ہے اور اس میں سبجیکٹ پر عبور اور دسترس حاصل ہوتا ہے جیسے پریزنٹیشن کا گروپ، ریویو کا گروپ ،پروجیکٹ یا تحریری Assignment ایک مثال ہو سکتی ہے۔
Online or technology-based assessment : موجودہ دور میں ٹیکنالوجی کا استعمال ہر جگہ عام ہو گیا ہے اور تعلیمی اداروں میں بھی اس کا استعمال بہت عام ہے بہت سارے تعلیمی ادارے تکنیکی آلات کو اسسمنٹ کے لیے استعمال کرتے ہیں اس کی مثال آن لائن امنتحانات ، کوئز کمپٹیشن، Interactive simulation اور کمپیوٹر بیسڈ ایگزام وغیرہ ہیں۔
Feedback mechanism: تعمیری تأثربچوں کے علمی وفکری نشو ونما کے لیے بہت ہی اہم کردار ادا کرتا ہے یہ تاثر طلبہ کو مہمیز کرتا ہے ان کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور ان کے مستقل آگے بڑھنے اور صلاحیتوں کو نکھارنے میں مدد کرتا ہے ساتھ ہی ان کی کمیوں کوتاہیوں کی نشاندہی کرتا ہے جس سے ان کی نشو و نما میں غیر معمولی ترقی دیکھنے کو ملتی ہے اس کی مثال اسائنمنٹ پر تحریری رائے، کسی session یا rubric پر فوری تاثر وغیرہ ہیں۔
Portfolio Assessment: اس میں طلبہ کا مکمل اسسمنٹ اس کے متعینہ مدت میں کیے گئے اس کے کام پر ہوتا ہے جیسے کہ طلبہ کی تیار کردہ جرنل، مقالات، یا اسائنمنٹ ورک وغیرہ ۔موجودہ دور میں Digital portfolio کا چلن بہت عام ہے اور بہت سے ادارے اس کو بہت اہمیت دے رہے ہیں جس سے طلبہ اپنی مستعدی،اہلیت اورصلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں اور اسی بنیاد پر طلبہ کی جانچ کی جاتی ہے۔
خود احتسابی : اس میں طلبہ خود کا جائزہ لیتے ہیں اور اس اسسمنٹ میں طلبہ خود سے روبہ رو ہوتے ہیں جس سے ان کو اپنی صلاحیت اور علمی معیار کا پتہ چلتا رہتا ہے اور اپنی کمیوں کوتاہیوں سے واقفیت ہوتی ہے اس کی مثال جنرل انٹری، اور خود احتسابی سروے وغیرہ ہیں۔
مشاہداتی جانچ: اس اسسمنٹ میں طلبہ کا مشاہداتی اسسمنٹ کیا جاتا ہے اس میں اس کی علمی و فکری مہارت، سلوک اور کارکردگی کا مشاہداتی طور پر اندازہ لگایا جاتا ہے جیسے کہ کلاس روم میں طبی کارکردگی کی جانچ ہدایت پر مبنی جانچ وغیرہ۔
Rubric based Assessment: دراصل یہ Scoring toolہے جو ایک طے شدہ کسوٹی یا معیار کو آؤٹ لائن کرتے ہیں اور اس سے پرفارمنس کا جائزہ لیا جاتا ہے جیسے کہ مقالے کو گریڈ کیا جائے جس میں مواد ، Writing skills اور پرزنٹیشن وغیرہ۔
فعال جانچ: یہ اسسمنٹ طلبہ اور اساتذہ کے درمیان روبہ رو کیا جاتا ہے جیسے کہ انٹرویو جس سے ان کی مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت کی تشخیص کی جاتی ہے، اس طرح مشترکہ کام میں بھی ان کی اہلیت کی تشخیص کی جاتی ہے تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ ایک مشکل کام میں وہ کیا سیکھتے اور حاصل کرتے ہیں۔
جانچ پر مبنی منصوبہ: طلبہ کو ایک معینہ مدت اور معینہ کورس کے بعد ایک کام دیا جاتا ہے جس میں ان سے امید کی جاتی ہے کہ اسے پروجیکٹ میں اپنی مہارت جو انھوں نے سیکھی ہے اس کو کیسے اپلائی کریں جیسے انجینئرنگ کے طلبہ کو ایک بلڈنگ ماڈل بنانے یا ڈیزائن کرنے کا پروجیکٹ دیا جائے وغیرہ ۔
سروے اور سوالات: دراصل اس کے ذریعے طلبہ اور دوسرے Stakeholder سے بہت سارے سوالات کے ذریعے معلومات اکٹھا کی جاتی ہیں جیسے کہ طلبہ تشفی سروے ان کے حاصل تجربہ کے بارے میں والدین اور اساتذہ کا سروے، اور اسکول کا متوقع پروگرام وغیرہ۔ نیچے ان کی خوبیوں اور خامیوں کا تذکرہ کیا جارہا ہے۔
خوبیاں
1. اس سے طلبہ اور اساتذہ کو بالواسطہ تاثر ملتا ہے۔
2. صحیح وقت پر تعلیمی خلا کو پر کرنے کی تشخیص ہوتی ہے اور مسائل پر گفتگو کی جاتی ہے۔
3. استاد کو اپنی تدریسی حکمت عملی کو ضرورت کے مطابق بدلنے اور اختیار کرنے کا موقع ملتا ہے۔
خامیاں
1. اس میں بڑا وقت لگتا ہے۔
2. کچھ طلبہ ہمیشہ سیکھنے کے وقت ذہنی دباؤ میں رہتے ہیں۔
مجموعی جانچ کی خوبیاں
1. یہ اسسمنٹ پورے سیکھنے کے مرحلے کی ایک جامع جانچ کرتا ہے۔
2. موازنے کو بہت ہی معیاری بناتا ہے چاہے گروپ ہو یا فرد واحد یا کسی جماعت میں۔
3. پورے نصاب کی جانچ کرتا ہے۔
تعلیمی گیپ کی شناخت اور جانچ
4. طلبہ کی سابقہ معلومات کو پرکھتا ہے اور لرننگ گیپ کو متعین کرتا ہے۔
5. طلبہ کی خاص ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے خاکہ دیتا ہے تاکہ اس کی نشوونما جاری رہے۔
خامیاں
1. کسی پروگرام کے شروع میں تجزیاتی جانچ کرنے سے زیادہ وقت صرف ہوتا ہے۔
2. اعتماد اور اعتبار سے سمجھوتہ کرنا پڑ سکتا ہے اگر جانچ صحیح نہیں ہوئی تو مناسب اسسمنٹ نہیں ہوگا۔
حسن کارکردگی
خوبیاں
1. یہ اسسمنٹ دراصل اس بات کی رہنمائی کرتا ہے کہ حاصل شدہ معلومات کو صحیح طریقے پر کیسے استعمال کیا جائے۔
2. معلومات یا مہارت کی ایک جامع اور مکمل جانچ کرتا ہے ۔
3. مشکلات کو حل کرنے میں جدید طریقہ کار کو استعمال کرنا۔
خامیاں
1. اس میں کارکردگی کی جانچ کرنے کے لیے موضوع پر مبنی فیصلہ لینے پڑ سکتے ہیں۔
2. اس طرح کے اسسمنٹ میں بہت زیادہ وسائل کی ضرورت ہوتی ہے۔
خود احتسابی
1. اس طرح کی جانچ میں طلبہ کو ان کی ذاتی آموزش میں نمایاں ہونے کا موقع ملتا ہے۔
2. بچے کو سیکھنے کا حق اور جواب دہی کے احساس کو فروغ دیتا ہے۔
3. یہ اسسمنٹ علمی مہارت اور خود آگہی کو فروغ دیتا ہے۔
خامیاں
1. طلبہ اپنی صلاحیت اور مہارت کو برتر یا کمتر سمجھنے لگتے ہیں۔
2. اس میںخارجی اسسمنٹ کے بجائے موضوعیت کا فقدان ہوتا ہے۔
مشترکہ جانچ
خوبیاں
1. یہ اشتراک کو بڑھاوا دیتا ہے اور مواصلاتی مہارت کو فروغ دیتا ہے۔
2. ایک ہی عمل پر مختلف اور متنوع نقطہ نظر دیکھنے کو ملتا ہے ۔
3. اسسمنٹ کے بوجھ کو ہلکا کرتا ہے اور طلبہ کے درمیان اس کی تصحیح کر تا ہے ۔
خامیاں
1. غیر مساوی اشتراک سے کسی عمل کی شفافیت (Fairness) پر برا اثر پڑ سکتا ہے۔
2. اس طرح کے اسسمنٹ میں اعتماد اور اعتبار ایک مشکل ترین عمل ہے۔
حصول پذیری
1. یہ ایک لچکدار اور رسائی کے لیے آسان ترین اسسمنٹ ہے خاص طور سے دور دراز یادیہی علاقوں میں۔
2. یہ درجہ بندی کے عمل کو بہت آسان اور کاغذی کارروائی کے عمل میں تخفیف کرتا ہے۔
3. بہت سارے امور اور عمل میں فوری تاثر کا حصول ممکن ہو جاتا ہے ۔
خامیاں
1. تکنیکی خرابیاں اور وسائل اسسمنٹ جانچ کے عمل میں خلل ڈال سکتے ہیں ۔
2. دھوکہ دھڑی اور محفوظ اسسمنٹ کا خطرہ لاحق رہتا ہے۔
مختصر یہ کہ تعلیمی جانچ تعلیم کے نظام کا ایک لازمی جزو ہے جو نہ صرف طلبہ کی کارکردگی کو جانچتا ہے بلکہ سیکھنے کے عمل کو بہتر بنانے میں بھی معاون ہے۔ جدید دور میں یہ ضروری ہو گیا ہے کہ جانچ کے مختلف طریقوں کو متوازن انداز میں استعمال کیا جائے تاکہ طلبہ کی ہمہ جہت ترقی ممکن ہو سکے۔
ایک مؤثر تعلیمی نظام وہی ہوتا ہے جو صرف نمبروں تک محدود نہ ہو بلکہ طلبہ کی فہم، مہارت اور عملی زندگی کی تیاری پر بھی توجہ دے۔ لہٰذا، تعلیمی جانچ کا اصل مقصد صرف نتائج حاصل کرنا نہیں بلکہ سیکھنے کے عمل کو بہتر اور بامعنی بنانا ہونا چاہیے۔
Dr. A. Rahman
DeputyDirector
IGNOU Regiona Center Delhi-1, Periyar Centre,
2nd Floor, FC-33, Plot No-1 & 2.
Jasola Institutional Area, Jasola Vihar,
New Delhi – 110 025, India.
Emai: ataurrahman@ignou.ac.in