پریم چند: قلم کا سپاہی:چند مباحث،مضمون نگار:شہزاد انجم

July 6, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا، جولائی 2026:

پریم چند شناسی کے تعلق سے جن دو کتابوں کی حیثیت بنیادی ہے، ان میں پہلی کتاب پریم چند کی اہلیہ شیو رانی دیوی کی ’’پریم چند: گھر میں‘‘ اور دوسری کتاب پریم چند کے بیٹے امرت رائے کی ’’پریم چند: قلم کا سپاہی‘‘ ہیں۔ ان دونوں کتابوں کے مطالعے سے پریم چند کی ذاتی، خانگی، سماجی اور سیاسی زندگی کا بھرپور علم ہوتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ پریم چند کی بیوی اور بیٹے کی کتاب پر اعتراضات بھی کیے گئے کہ اِن دونوں کتابوں میں مصنفین نے جانبداری سے کام لیا ہے۔ انھوں نے پریم چند کی زندگی کے صرف روشن پہلوؤں کو دکھایا ہے اور پریم چند کو مثالی شخصیت اور ہیرو بنا کر پیش کیا ہے جبکہ پریم چند بھی ایک عام انسان تھے اور ان میں بھی بشری خوبیاں اور خامیاں دونوں ہی موجود تھیں۔ اِن اعتراضات کے باوجود یہ دونوں کتابیں پریم چند فہمی، ان کی تحقیق و تنقید میں بے حد معاون و مددگار ہیں۔ اس کی بنیادی اور بڑی وجہ یہ ہے کہ شیو رانی دیوی اور امرت رائے نے پریم چند کو اتنے قریب سے دیکھا، شب و روز ساتھ گزارا، پل پل ساتھ جیا، جتنا کسی دوسرے شخص کو موقع نہیں ملا۔ انھیں پریم چند کے محسوسات، خیالات، افکار و نظریات کو سمجھنے کا پورا موقع ملا۔ پریم چند تحقیق کے تعلق سے جن بنیادی ماخذ کی ضرورت تھی، وہ انھیں حاصل تھی۔
شیو رانی دیوی اور امرت رائے دونوں نے پریم چند کی سوانح عمری لکھی۔ یہ دونوں کتابیں کیا واقعی سوانح عمری ہیں؟ یہ الگ بحث کا موضوع ہے۔ ’’پریم چند: گھر میں‘‘ کے مترجم سید حسن منظر اس کتاب کو ’’اپنے پتی کے ساتھ گزارے ہوئے دنوں کی کتھا‘‘1 قرار دیتے ہیں جبکہ ڈاکٹر خلیق انجم اس کتاب کو سوانح عمری تسلیم کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
’’پریم چند: گھر میں اپنی نوعیت کی ایسی سوانح عمری ہے جس کی اردو میں دوسری مثال ملنا مشکل ہے۔ اس سوانح عمری میں ایک بے لوث اور وفادار بیوی نے اپنے اس شوہر کے حالات لکھے ہیں جس نے اپنی بیوی کو اتنا پیار دیا کہ وہ زندگی بھر اس کی گرویدہ رہی۔‘‘ 2
گویا یہ کہ بقول خلیق انجم یہ ایک بے لوث اور وفادار بیوی کی تحریر کردہ سوانح عمری ہے۔ خلیق انجم یہ بھی لکھتے ہیں:
’’اس سوانح عمری کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ شیورانی نے اپنے شوہر کے تمام حالات اور واقعات انتہائی ایمانداری اور سچائی سے پیش کیے ہیں۔‘‘ 3
ایک بے لوث اور وفادار بیوی کا اپنے شوہر کے تمام حالات و واقعات کو انتہائی ایمانداری اور سچائی سے پیش کرنا کیا ممکن ہے؟ شیورانی دیوی پریم چند کی دوسری بیوی تھیں۔ پہلی بیوی سے علیحدگی کے بعد پریم چند نے شیورانی دیوی سے دوسری شادی کی تھی۔ شیورانی دیوی بیوہ اور معمولی پڑھی لکھی گھریلو خاتون تھیں جن کی پریم چند کے ساتھ رفاقت تقریباً تیس برس رہی۔ پریم چند کی صحبت سے انھیں بھی پڑھنے لکھنے کا شوق پیدا ہوا، وہ کہانیاں لکھنے لگیں اور انھوں نے ہندوستان کی تحریک آزادی میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ،جیل بھی گئیں۔ پریم چند کے افکار و نظریات کا ان پر گہرا اثر تھا۔ بعض اوقات پریم چند اپنی زندگی کے حالات دوسروں کو لکھواتے رہتے تھے، پریم چند کو ان کی زندگی میں ہی ’’اپنیاس سمراٹ‘‘ کہا جانے لگا تھا اوران کی عظمت کے سبھی قائل تھے۔ پریم چند کو یہ احساس تھا کہ ان کے مرنے کے بعد یقینی طور پر ان کی سوانح عمری لکھی جائے گی۔ شاید اسی لیے وہ اپنی سوانح، شخصیت، سیرت اور زندگی کے مختلف واقعات دوسروں کو لکھواتے تھے۔ ممکن ہے یہ ساری تحریریں شیو رانی دیوی کے پیشِ نظر ہوں اور انھوں نے اس کتاب کے لکھنے کا بیڑا اٹھایا اور اپنی سادہ اور دلنشیں اسلوب میں پریم چند کی سوانح عمری لکھ ڈالی۔ بھلے ہی اس کتاب کا نام ’’پریم چند: گھر میں‘‘ ہو لیکن شیو رانی دیوی نے سوانح نگاری کا پورا خاکہ اور اصول اپنے پیشِ نظر رکھا اور پریم چند کے بچپن، نوکری، سماجی و معاشرتی سرگرمیوں، سیاسی صورتحال، گھریلو مسائل، بیماری اور انتقال تک کے واقعات و حالات کو نہایت ہی مؤثر اور دلنشیں انداز میں لکھا ہے جس میں شیو رانی دیوی کے اپنے شدید جذبات بھی امڈ آئے ہیں۔
امرت رائے کے سامنے اپنی والدہ کی تحریر کردہ پریم چند کی سوانح عمری موجود تھی۔ جو پہلے ہندی میں لکھی گئی تھی جس کا بعد میں اردو ترجمہ ہوا۔ امرت رائے نے بھی اپنی مایہ ناز تصنیف ’’پریم چند: قلم کا سپاہی‘‘ (1962) پہلے ہندی میں لکھی جس کا ترجمہ بعد میں انگریزی اور اردو زبان میں بھی ہوا۔ امرت رائے کو اس کتاب پر 1963 میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔ شیو رانی دیوی، پریم چند کی سوانح لکھ چکی تھیں، اُس کے بعد امرت رائے کے ذہن میں وہ کون سی باتیں آئیں جن کی وجہ سے وہ اپنے والد پریم چند کی سوانح لکھنے کے لیے خود بھی آمادہ ہوئے۔ شاید کئی ایسے اہم اور بنیادی نکات تھے جو اَن چھوئے رہ گئے تھے اور پھر پریم چند کی شخصیت اتنی پہلو دار، ہمہ گیر اور وسیع النظری کا اعلیٰ نمونہ تھی جس پر ابھی بہت کچھ لکھا جانا باقی تھا۔ یوں بھی مغربی زبانوں میں اکابرین کی کئی کئی سوانح عمریاں لکھے جانے کا عام رواج ہے۔ شیو رانی دیوی نے پریم چند کے بارے میں چند بنیادی معلومات ضرور فراہم کیں لیکن پریم چند کے افکار و نظریات، سیاسی و سماجی وابستگی، ادبی قد و قامت کا اس طرح بیان نہیں کیا جو شاید امرت رائے کے ذہن میں تھا۔ میرے پیشِ نظر امرت رائے کی تصنیف ’’پریم چند: قلم کا سپاہی‘‘ کا وہ نسخہ موجود ہے جس کا اردو ترجمہ حکم چند نیر نے نہایت ہی سلیس و رواں زبان میں کیا ہے اور جو ساہتیہ اکادمی سے 1992 میں شائع ہوئی ہے اور یہ 815 صفحات پر مشتمل پہلا ایڈیشن ہے۔
میں نے جب اس کتاب ’’پریم چند: قلم کا سپاہی‘‘ کا مطالعہ کیا تو پہلا سوال یہ ذہن میں آیا کہ یہ کتاب پریم چند کی سوانح ہے یا اُن کی زندگی پر مشتمل ایک ناول ہے؟ یا پھر پریم چند اور ان کے عہد کی ادبی، سماجی، تہذیبی و فکری دستاویز ہے؟ جس کا جواب اس کتاب کے ابتدائی صفحات میں خود امرت رائے نے دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’یہ میری ہی چیز ہے، جو میں لکھ رہا ہوں کہ یہ بھی ایک ناول ہی ہے جس کا ہیرو پریم چند نام کا ایک آدمی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہ آدمی میرے دماغ کی اُپج نہیں ہے، ہاڑ مانس کا ایک پتلا ہے جو اس دھرتی پر گھوم پھر چکا ہے اور وقت کی پگڈنڈی پر اپنے پیروں کے کچھ نشان چھوڑ گیا ہے۔‘‘ 4
اس اقتباس کے چند الفاظ توجہ طلب ہیں، مثلاً ناول، ہیرو، پتلا، پیروں کے نشان چھوڑ جانا وغیرہ۔ ایک عقیدت، احترام، عظمت، اعتراف سب کچھ موجود ہے۔ اور بھلا کیوں نہ ہو، وہ پریم چند جن کے معترف اُس عہد کے بیشتر ادیب تھے، جنھیں ان کی زندگی میں ’’اُپنیاس سمراٹ‘‘ تسلیم کیا گیا۔ جنھوں نے چودہ ناول، تقریباً تین سو کہانیاں، دو ڈرامے، تین سوانح عمریاں لکھیں، چھ کتابوں کا انگریزی سے اردو میں ترجمہ کیا اور سینکڑوں صفحات میں ادب، سیاست، سماج، تاریخ اور مختلف موضوعات پر مضامین لکھے، ادارت کی ذمہ داری نبھائی اور رسائل و جرائد کے ادبی مباحث میں شامل رہے۔ جن کا اوڑھنا بچھونا ادب ہی تھا۔ انھیں ادب کا ایسا چسکا تھا، فکشن و صحافت سے ایسی دلچسپی تھی کہ انھیں اپنے شب و روز کا کچھ پتہ ہی نہیں چلتا تھا۔ وہ پریم چند جس نے اردو فکشن کو ایک نیا اسلوب دیا۔ وہ اسلوب اور زبان جسے ہم خالص ہندوستانی اسلوب بھی کہہ سکتے ہیں، جہاں تصنع، تکلف، مرصع و مسجع عبارت آرائی کا کوئی گزر نہیں۔ ہاں، اُن کے ابتدائی دو ناولوں ’’اسرارِ معابد‘‘ اور ’’ہم خرما و ہم ثواب‘‘ اس سے مستثنیٰ ہیں۔
امرت رائے کا یہ بھی خیال ہے کہ اگر اس کام کو کسی اور نے کیا ہوتا تو زیادہ بہتر ہوتا۔مگر پریم چند کی اس سوانح کو لکھنے کے لیے پریم چند کے خطوط، مضامین، ڈائری، ناول، افسانوں اور دیگر تمام تحریروں سے استفادہ کرنا ہر کسی کے بس، ذوق اور دلچسپی کی بات نہیں۔ تقریباًپانچ برس کھپانے کے بعد یہ سوانح لکھی جا سکی، جسے ہم ایک ادبی شاہکار بھی کہہ سکتے ہیں۔
امرت رائے یہ بھی لکھتے ہیں:
’’سچ تو یہ ہے کہ اس کام کو ہاتھ میں لیتے ہی یہی چیز میرے لیے پہلا چیلنج بنی۔ یہ چیز کیا ہے؟ اس کا پتہ لگاؤ،جس سے یہ ازحد عمومی زندگی ایک خاص شخص کی زندگی بنتی ہے۔ یہاں کوئی چمک دمک نہیں، نہ کوئی ڈرامائی عنصر، نہ کوئی دلچسپ واقعہ زندگی، نہ کوئی عشق اور حوصلے کی ایسی کوئی داستان— بالکل بندھی ٹکی زندگی، ایک غریب اسکول ماسٹر کی، یا ویسے ہی غریب فن کار کی، مدیر کی۔ پھر بھی کچھ تو ہے، جو خاص ہے، وہ کیا ہے؟ اسی کو زندگی کے سلسلے میں دیکھ سکنے اور دکھا سکنے میں مجھے تخلیق کار کی سچی مسرت ملی ہے۔‘‘ 5
امرت رائے کے اسلوب میں بھی پریم چند کے اسلوب کی جھلک ملتی ہے، چھوٹے چھوٹے جملے، بے ریائی کے ساتھ دل کی باتیں کہہ جانا۔ مگر یاد رکھنا چاہیے کہ بزرگوں، رشی منیوں اور گاندھی جی کی زندگی بھی سادگی، بے ریائی، خدمتِ خلق اور مشکلات میں گھرے رہنے کی عمدہ مثالیں ہیں۔مگر امرت رائے پریم چند کو اپنی خاص نگاہ سے دیکھ رہے تھے۔ پریم چند کے ساتھ انھیں پل پل گزارنے، محسوس کرنے کا بھرپور موقع ملا ہے۔ اس کتاب کو لکھنے کا آغاز کیسے کیا جائے، تمام مواد کو کیسے پیش کیا جائے، اسے دلچسپ اور بے مثال کیسے بنایا جائے، امرت رائے کافی ادھیڑ بن میں رہے اور بالآخر انھیں ایک نکتہ مل ہی گیا:
’’اچانک یہ گُر میرے ہاتھ لگا کہ اِس انسان کی زندگی کو اُس کے ملک اور سماج کی زندگی سے جوڑ کر دیکھو، تب گویا سارے بند دروازے یکایک کھل گئے اور اس بے حد سیدھی سادی زندگی کو ایک نئے معنی، ایک نیا مفہوم مل گیا، اُسی کو دکھانے کا جتن میں نے کیا ہے۔‘‘ 6
ملک اور سماج کی زندگی سے پریم چند کو جوڑ کر دیکھنے کے امرت رائے کے ِاس عمل نے کتاب کو کافی بوجھل بنا دیا ہے۔ شاید جس کا اندازہ امرت رائے کو نہ ہو۔ کتاب پڑھتے وقت اکثر جگہ یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ کتاب پریم چند کی سوانح ہے یا ہندوستان کی تحریکِ آزادی کی تاریخی دستاویز۔ کتاب کا ایک بڑا حصہ مہاتما گاندھی، گوکھلے، تلک، جواہر لال نہرو، مختلف آزادی کے واقعات، جلیاںوالا باغ حادثہ وغیرہ کے بیانات سے اٹا پڑا ہے۔ اس موقع پر مجھے معاً خواجہ احمد عباس کے ناول ’’انقلاب‘‘ اور حیات اللہ انصاری کے ناول ’’لہو کے پھول‘‘ کی یاد آئی۔
امرت رائے نے پریم چند کی سوانح لکھنے کا ارادہ ضرور کیا مگر ان کے سامنے مختلف ناولوں کے نمونے بھی تھے۔ اس کتاب کو ہم سوانحی ناول بھی کہہ سکتے ہیں۔ جب ناول لکھنا ہو تا ہے تو ناول نگار خود کو کسی حد میں قید کرنا نہیں چاہتا۔ اس کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا جاتا ہے۔ اس سوانح کا کینوس بھی بڑا ہوتا گیا اور ایک بکھراؤ سی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
امرت رائے کتاب کا آغاز ایک خاص مشن کے ساتھ بڑے سلیقے سے کرتے ہیں یعنی یہ کہ پریم چند کو ہیرو، بہتر و برتر ثابت کرنا، جو کام حالی نے ’’حیاتِ جاوید‘‘ لکھتے وقت سرسید کے ساتھ کیا تھا۔ عظیم سے عظیم تر بنانا۔ ان کے افکار و نظریات کو غیر معمولی اور بالکل درست قرار دینا۔ بہرحال اپنے والد کی سوانح لکھتے وقت اگر امرت رائے نے ایسا کیا تو کچھ غلط بھی نہیں کیا مگر ایک خاص بات جو امرت رائے کے یہاں ہے وہ یہ کہ انھیں کسی بھی خوبی اور حسن کے بیان کا سلیقہ خوب سے خوب تر آتا ہے۔مثلاً وہ اس سوانح کا آغاز تین واقعات ’جنوبی ہند کے دوست چندر ہاسنی کا پریم چند سے ملنے کاشی آنا‘،’بستی کے تارا شنکر ناشاد کا پریم چند سے ملنے لکھنؤ آنا‘ اور’پریم چند کا پٹنہ ایک ادبی جلسے میں شرکت کی غرض سے سفر کرنا‘ ہے۔ ان تینوں واقعات میں پریم چند کی حد درجہ سادگی، شرافت، نیکی اور خلوص، کو نہایت ہی سلیقے سے پیش کیا گیا ہے، وہ اس لیے بھی کہ کتاب کے آغاز، پہلے صفحے سے ہی قاری پر یہ تاثر قائم ہو جائے کہ پریم چند کس قدر نیک اور شریف النفس انسان تھے۔
امرت رائے نے پریم چند کے افکار و نظریات خواہ وہ سیاست کے تعلق سے ہوں، سماج کے تعلق سے یا ادب کے تعلق سے، ان سب کی حفاظت و وکالت بڑی شد و مد سے کرتے ہیں ۔اس کی کئی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ میں صرف ایک مثال پیش کرتا ہوں۔ پریم چند کے نظریے کو امرت رائے اس خط کے ذریعے پیش کرتے ہیں جو دیا نرائن نگم، مدیر ’زمانہ‘، کانپور کو پریم چند نے آتش اور لکھنؤ کی شاعری کے تعلق سے لکھا تھا۔ خط کا ایک حصہ ملاحظہ ہو:۔
’’رسالہ زمانہ کا ماہِ نومبر کا پرچہ دیکھ کر چند خیالات پیدا ہوئے جنھیں عرض کر دینا میں اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ امید ہے کہ جناب کو ناگوار نہ ہو گا۔ اس زمانے میں جب کہ گوناگوں اخلاقی‘ سیاسی‘ معاشرتی اور اقتصادی ہماری تمام تر توجہ کے مستحق ہیں‘ مجھے یہ دیکھ کر افسوس ہوا کہ رسالہ ’زمانہ‘ کا قریب قریب ایک پورا نمبر محض آتش کے کلام کے تبصرے کی نذر ہو گیا۔ میں آتش کی استادی کا قائل ہوں۔ لکھنوی شاعری کا مذموم پہلو آتش کی شاعری میں مقابلتاً کم ہے۔ مگر پھر بھی اتنا زیادہ ہے کہ باستثنا ان حضرات کے جو لکھنوی شاعری کے رنگ میں رنگے ہوئے ہیں اور سبھی طبائع کو موجودہ معیار اور ذوقِ صحیح سے گرا ہوا نظر آتا ہے۔
لٹریچر کا موضوع ہے تہذیب، اخلاق، مشاہدۂ جذبات، انکشافِ حقائق اور واردات و کیفیاتِ قلب کا اظہار۔ جو شاعری حسن و عشق و آئنہ و شانہ، خنجر و محشر، بشرہ و خط، دہن و کمر کے تخیّل سے ملوث کرتی ہے، وہ ہرگز اس قابل نہیں کہ آج ہم اُس کا وِرد کریں جن کی افتادِ طبیعت اس رنگ کی ہے، انھیں اختیار ہے آتش یا ناسخ، رند اور امانت کا وظیفہ پڑھیں، لیکن زمانہ کے مختلف الطبع ناظرین کو اس ورد اور وظیفے میں شریک ہونے کے لیے مجبور کرنا کہاں کا انصاف ہے؟‘‘ 7
ادب اور سماج کے تعلق سے پریم چند کا جو نظریہ تھا اسے وہ سب پر مقدم تسلیم کرتے ہیں۔ امرت رائے کے یہاں بھی ان ہی نظریات و جذبات کی کارفرمائی نظر آتی ہے۔
امرت رائے نے اپنی اس کتاب میں پریم چند کو حد درجہ وطن دوست اور محبِ قوم ثابت کرنے کی نہایت خوبصورتی کے ساتھ کوشش کی ہے۔ پریم چند بلا شبہ حب الوطنی سے سرشار ادیب تھے جنھوں نے گاندھی جی کے نظریات و فلسفوں کو اپنے فکشن اور مضامین کے ذریعے عام کرنے کی کوشش کی۔ کسی بھی علم دوست کو اس سے انکار نہیں ہو سکتا ہے۔ ملک کی آزادی کے لیے پریم چند کی خدمات بھی ناقابلِ فراموش ہیں۔ امرت رائے لکھتے ہیں:
’’منشی جی نے 1907 میں اپنی پہلی کہانی لکھی، بالکل پہلی، ’دنیا کا سب سے انمول رتن‘ کیا ہے دنیا کا سب سے انمول رتن؟ ایک پھانسی پانے والے کے باپ کے دو آنسو؟ نہیں۔ اپنے شوہر کے ساتھ چتا پر ستی ہو جانے والی عورت کی راکھ؟ نہیں۔ خون کی وہ آخری بوند جو ملک کی آزادی کے لیے گرے، وہی دنیا کا سب سے انمول رتن ہے۔‘‘ 8
پریم چند کی وطن دوستی اور گاندھی جی سے عقیدت کا ذکر پوری کتاب میں کہیں براہِ راست تو کہیں رمز و کنائے میں موجود ہے۔
پریم چند اور ان کی بیوی شیورانی دیوی کی وطن دوستی لائق ستائش اور بے مثال ہے۔ امرت رائے نے جس حسنِ بیان کے ساتھ اسے پیش کیا ہے وہ ان کی باکمال ہنرمندی ہے۔
امرت رائے نے اس کتاب میں نہایت ترتیب و تسلسل سے پریم چند کے خاندان، پیدائش، بچپن، تعلیم، نوکری، احباب، اولاد، بیگم اور ان کے تمام ناولوں کا ذکر کیا ہے، بیوہ کی شادی، معرکہ سرشار و شرر میں ان کی شرکت، ہندو مسلم اتحاد، ہندی و اردو زبان کے مسائل اور تنازعے، رسالہ ہنس، جاگرن، سرسوتی پریس ، ذات پات، مذہبی منافرت، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ہندوستانی سبھا کا قیام، بمبئی کا سفر اور وہاں کی فلم کمپنی سے رشتہ، بنارسی داس چترویدی، جینندر کمار اور دیگر ادیبوں سے مراسم وغیرہ کے تعلق سے امرت رائے نے پریم چند کے اعلیٰ و پاکیزہ خیالات اور عملی کوششوں کا ذکر مفصل کیا ہے۔
بلا شبہ امرت رائے کی پیشِ نظر تصنیف ’’پریم چند: قلم کا سپاہی‘‘ ایک شاہکار، غیر معمولی نوعیت کی کتاب ہے جس میں تحقیق، تنقید، تخلیق، تاریخ، تہذیب سب کی گھلاوٹ ہے جس دقتِ نظر اور لگن و جستجو کے ساتھ یہ کتاب لکھی گئی اس کی جتنی بھی داد دی جائے کم ہے۔ امرت رائے نے اپنے والد پریم چند کی سوانح لکھی ہے، یہ درست ہے۔ مگر کتنے ادیب ایسے ہیں جنھیں امرت رائے جیسا بیٹا نصیب ہوا۔ پریم چند اس معاملے میں بھی خوش نصیب تھے کہ انھیں شیو رانی دیوی جیسی بیوی اور امرت رائے جیسا بیٹا ملا۔ یہ مقدر کس ادیب کا رہا ہے کہ بیوی اور بیٹے دونوں نے سوانح لکھ کر اپنے شوہر اور والد کی خدمات کو امر بنانے کی کوشش و کاوش کی ہو۔
اس پوری کتاب میں امرت رائے کی تخلیقیت کی جھلک موجود ہے جس کی وجہ سے بھی یہ کتاب بیش قیمت ثابت ہوئی۔ کتاب کے پہلے صفحے کا میں نے ذکر کیا تھا کہ تین واقعات کو پیش کرکے ابتدا میں ہی امرت رائے، پریم چند کی شرافت و حلاوت، خلوص و صداقت کو پیش کرتے ہیں۔ اب اس کے آخری صفحے کی آخری سطریں ملاحظہ ہوں جب پریم چند کا انتقال ہو جاتا ہے۔
’’ارتھی بنی، گیارہ بجتے بجتے بیس پچیس لوگ کسی گم نام آدمی کی لاش لے کر منی کرنی کا (شمشان گھاٹ) کی طرف پہنچے۔
راستے میں ایک راہ گیر نے دوسرے سے پوچھا؛
کے رَہل (کون تھا)؟
دوسرے نے جواب دیا، کوئی ماسٹر تھا۔
اُدھر بول پور میں رابندر ناتھ نے آہستہ سے کہا؛ ایک رتن (ہیرا)ملا تھا تم کو، تم نے کھو دیا۔‘‘1 1
کتاب کا اس قدر جذباتی اور بامعنی اختتام قابلِ رشک ہے۔ یادگار اور نادر تصانیف پر بحث کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔ ان کی خوبیوں اور خامیوں کا ذکر کیا جاتا ہے، یہ ذکر اُن کتابوں کی عظمت کی دلیل ہے۔ ’’پریم چند: قلم کا سپاہی‘‘ ان ہی بیش قیمت تصانیف میں سے ایک ہے۔ شاید اسی لیے اس کی اشاعت کے ساٹھ سے زیادہ برس گزر جانے کے بعد بھی پریم چند شناسی کے تعلق سے اس کتاب کی حیثیت بنیادی ہے اور اس کتاب کے مطالعے کے بغیر پریم چند کو پورا سمجھنا مشکل بھی ہے۔
حواشی
1 ۔ پریم چند گھر میں، شیورانی دیوی،مترجم سید حسن منظر، مطبوعہ انجمن ترقی اردو ہند، دہلی2007، ص21
2۔ ایضاً، ص 21
3۔ ایضاً، ص17
4۔ پریم چند : قلم کا سپاہی از امرت رائے، مترجم حکم چند نیر، مطبوعہ ساہتیہ اکادمی، نئی دہلی،پہلا ایڈیشن،1992، ص8
5۔ ایضاً، ص8-9
6۔ ایضاً، ص9
7۔ ایضاً، ص79
8۔ ایضاً، ص121
9۔ ایضاً، ص815

Prof. Shahzad Anjum
Deptartment of Urdu, Jamia Millia Islamia
New Delhi-110025
Mob: 8800863994
Email: shahzadanjum825@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

نیر مسعود کی تحقیقی خدمات،مضمون نگار: صالحہ عاصم

اردودنیا،جنوری 2026: نیر مسعود(1936-2017) کی بنیادی شناخت ایک اہم افسانہ نگار کی ہے۔ وہ فارسی زبان وادب کے استاد تھے، لیکن اردو زبان و ادب میں ان کی گراںقدر خدمات

دکن اور دیوان غالب کی شرحیں،مضمون نگار: ظہیر دانش عمری

اردو دنیا،دسمبر 2025: مرزااسداللہ خاں غالب ایک ایسے شاعر کا نام ہے جن کا نام اور کلام ہرزمانے میں غالب رہا ہے،کیا شمال اور کیا جنوب ان کی شاعری اور

کفن کی ایک اور قرأت،مضمون نگار:ارشاد نیازی

اردو دنیا،جولائی 2026: پریم چند نے دلت مسائل پر اس وقت لکھنا شروع کیا، جب دلت مسائل جیسی کوئی چیز سماج میں موجود نہیں تھی۔ اردو کیا اور ہندی کیا؟