اردو دنیا،جولائی 2026:
پریم چند نے دلت مسائل پر اس وقت لکھنا شروع کیا، جب دلت مسائل جیسی کوئی چیز سماج میں موجود نہیں تھی۔ اردو کیا اور ہندی کیا؟ یہ بیسویں صدی کی تیسری دہائی تک کا قصہ تھا۔ آج جب ہم اکیسویں صدی میں جی رہے ہیں، تو اس صدی کے اہم موضوعات میں سے ایک موضوع دلت بھی ہے۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ پریم چندکی کہانیوں میں دلت زندگی سے متعلق کئی طرح کی کہانیاں ہیں۔ ان میں سے ایک وہ، جن میں دلت مسائل کو راست طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔ دوسری وہ ہیں،جن میں دلت کرداروں میں دلت زندگی زندہ ہے۔ کچھ کہانیاں ایسی بھی ہیں ،جن میں اہم کردار دوسرے ہیں لیکن ایک دودلت کردار بھی موجود ہیں۔ ایسی کہانیاں دلت زندگی سے متعلق کہانیاں تو کہی جاسکتی ہیں لیکن دلت مسائل یا سوال سے ان کا کوئی سروکار نہیں ہے۔ ایسے میں کہا جاسکتا ہے کہ پریم چند کی تخلیقات میںدلت کردار اور زندگی کسی نہ کسی شکل میں موجود رہے ہیں۔
اس وقت میرے سامنے پریم چند کی لافانی کہانی ’کفن‘ ہے ، جو دس صفحات پر مشتمل ہے(پریم چند کے نمائندہ افسانے۔قمر رئیس) گذشتہ 90 سال سے اس کہانی پر کافی لکھا گیا ہے،لکھا جارہا ہے اور لکھا جاتا رہے گا۔ہر نسل کے لیے یہ کہانی چیلنج بن کر ابھرتی ہے، سوال قائم کرتی ہے اور ذہن کو جھنجھوڑتی ہے۔ کہانی بے شک لافانی، بے مثال اور ممتاز ہے مگر کیوں ہے؟ اسے مزید سمجھنا باقی ہے۔’کفن ‘کے سلسلے میں یہ بات آسانی سے کہہ دی جاتی ہے کہ یہ حقیقت کی بے رحم تصویر ہے۔ بات بھی سچی ہے۔ اس لیے کہ قارئین اور ناقدین کا یہی فیصلہ ہے۔ لیکن کہانی میں ترسیلِ الفاظ کے ساتھ ساتھ بافت و بنت اور اضمحلال کی مضبوط ساخت ہے، نیز احساسِ بے گانگی کے ضمن میں عمل کی جو الگ الگ مثالیں دی گئی ہیں۔انھیں سمجھنا بھی نہایت ضروری ہے۔ وہ اس لیے کہ انھیں میں کہانی کی عظمت کے نشانات قائم ہیں۔ لیکن ٹھہرئے اور سوچیے کہ کہاں پریم چند کی واشگاف حقیقت نگاری کا کھلااظہار اور کہاں بے گانگی کا احساس اور ملفوف بیان۔ بہرکیف!پہلے ہم احساسِ بے گانگی Alienationکے تصور کوسمجھیں، پھر دیکھیں کہ پریم چند کے ذریعے اس کہانی میں احساس بے گانگی کی تصویر فلسفیانہ اساس اور عمر انیاتی نظر یوں سے کم تو نہیں ہے۔
Alienationلاطینی لفظAlienusسے بنا ہے بمعنی متعلق بہ دیگر سے مشتق، لغوی سطح پر اس کے مطالب برگشتگی، بے گانگی، اجنبیت، منتقلی، ملکیت، روگردانی، انحراف اور علیحدگی وغیرہ کے لیے مختص ہیں۔‘‘ (ادبی اصطلاحات کی وضاحتی فرہنگ، عتیق اﷲ۔ج۔ اول،ص114)
Alienationیااحساسِ بے گانگی کے بنیاد گزار ہیگل ہیں۔ ہیگل نے اپنی کتاب ’’ فینومینولوجی آف مائنڈ ‘‘ (1807) میں انسان اور سماجی نظام کے تعلق کا جائزہ لیا اور پایا کہ سماجی نظام حاشیے پر جی رہے لوگوں کو ایک ایسی حالت میں ڈال دیتاہے، جس میں معاشرے کی اخلاقی قدروں سے ان کایقین اٹھ جاتا ہے۔نتیجتاً لاشعوری طور پر وہ انسانی سماج سے اپنا رشتہ منقطع کرلیتا ہے ۔ ہیگل کے لفظوں میں تاریخ کے دھارے میں چھوٹنے اور پیچھے رہ جانے کی بے بسی کا علم احساسِ بے گانگی ہے۔
ہیگل کے بعد مارکس نے ’’اکنامک اینڈ فلاسفیکل مینواسکرپٹ‘‘1844میں سرمایہ دارانہ نظام میں احساسِ بے گانگی کی تشریح وتعبیر پیش کی ہے۔ مارکس احساس بے گانگی کی وضاحت اس طرح کرتے ہیں کہ روزگار کے لیے نکلا مشقت کرنے والا محنتی انسان جب محسوس کرتا ہے کہ وہ سماجی کورم نہ ہوکر استحصال کا آلہ ہے تو اس کی عزتِ نفس کو چوٹ پہنچتی ہے۔ تب وہ طے کرلیتا ہے کہ اسے روزی روٹی دینے والے اسی کے جیسے اور دوسری طرح سے سارا کا سارا پیداواری نظام اس سے بالکل مختلف ہے۔ محنت کش انسان ایسے میں اپنے آپ سے اپنے مزدور ہونے سے اور وراثت میں ملی قدروں سے مستغنی ہوجاتا ہے۔ بقول قمر رئیس:
دنیا میں جس قدر ظلم ،تشدد،ناانصافی ہے، جس قدر عناد، حسد اور کمینگی ہے جتنی جہالت اور لاعلمی ہے۔ اس کا اصل راز یہی زہر ہے، جس کا نام ملکیت ہے، جب تک ملکیت پر شخصی قبضہ رہے گا اس وقت تک انسانی سماج کا بھلا نہیں ہوسکتا۔ (پریم چند فکر و فن۔53)
ہیگل اور مارکس کی تشریحات نے کئی دانشوروں کو متاثر کیا۔ نظریے الگ تھے مگر’وجود وعدم ‘ کا سوال سب کو چُبھتا رہا۔ ’’بینگ اینڈ نتھنگنیس‘‘ 1923میں سارتر نے یہ بتایا کہ احساس بے گانگی دراصل نفسیاتی و سعتوں کی تحقیق ہے۔ دوسرے یہ کہ نظامِ انسانی، شعوراور قوت ارادی کو اس حد تک کچلنے میں کامیاب ہوتا ہے، جیسے وہ ثابت کرنا چاہتا ہو کہ انسان تاریخ کا بے زبان قاری ہونے کے سوا کچھ ہوہی نہیں سکتا۔ تیسرے یہ کہ ’’محنت اور جسم سے انسانی رشتوں کا وہ تانابانا بنا جاتا ہے، جس میں نہ جسم، نہ محنت اور نہ پھل اپنا ہوتا ہے۔ادب میں پیش کیے ہوئے تصورات اور فلسفے بیشتر صورتوں میں دلچسپ، بامعنی اور برمحل ہوتے ہیں۔ تاریخی اسناد کے بارے میں اینگلس کے بلزاک متعلقہ ہیجان جگ ظاہر ہیں۔ سارتر کے ناولوں میں احساسِ بے گانگی کی جو نفسیاتی روشنی ہے وہ ان کی کتابوں میں کہاں ہے؟ انھیں دلچسپ سوالوں کے درمیان یہ سوال قائم ہوتا ہے کہ ’کفن‘ کہانی میں ایسا کیا ہے۔ جو ہر نسل کے مطالعات کو چیلنج ملتا ہے۔لیکن اس کو سمجھنے کے لیے عہدِ پریم چند کے ہندوستانی دیہات کو سمجھنا ہوگا۔ اس وقت کے ہندوستانی سماج بالخصوص دیہات کو سمجھنے کے بعد دلتوں کے خاندان میں رہنے والے لوگوں کے احساسِ بے گانگی کے ساتھ کہانی میں اظہار کو جاننا ضروری ہے۔ زمانہ پریم چند میں دوطرح کی غلامی رائج تھی۔ ایک غلامی تو یہ تھی کہ سارا ہندوستان انگریزی حکومت کا غلام تھا۔ دوسری غلامی یہ تھی کہ عورتیں اور دلت انگریزی حکومت کی غلامی کے ساتھ ساتھ ہندوستانی سماج میں موجود استحصالی نظام کے بھی غلام تھے، جس کا سلسلہ آج تک کسی نہ کسی صورت میں موجود ہے۔ پریم چند نے دونوں طرح کی غلامی کو اپنی تخلیقات کا موضوع بنایا دلت مسائل سے متعلق پریم چند کی کہانی ’’دونوں طرف‘‘ سے اس کاسلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ یہ کہانی 1911میں شائع ہوئی تھی۔ لیکن زندگی کے آخری حصے میں پریم چند نے نچلے طبقے اور پچھڑی ذاتوں کی طرف زیادہ دھیان دینا شروع کردیاتھا۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ وہی زمانہ ہے ،جب گاندھی جی اچھوتوں کی حالت سدھار نے کے لیے تحریک چلا رہے تھے اور بابا صاحب امبیڈکر ہندوستانی سیاست میں فعال ہوچکے تھے۔ ایسے میں انسان دوست پریم چند دلتوں اور عورتوں کے مسائل سے آنکھ موند کر کیسے بیٹھ سکتے تھے؟پریم چند جانتے تھے کہ دلتوں کی معاشی بدحالی کی بنیادی وجہ سماج کا استحصالی نظام اور وہ پابندیاں ہیں، جس نے ان کی حالت کو بد سے بدترکردیا ہے۔ دلت مسائل سے متعلق پریم چند کی بعض کہانیاں اس طرح ہیں۔ ’’صرف ایک آواز‘‘، ’’سواسیر گیہوں‘‘، ’’غریب کی ہائے‘‘، ’’مندر‘‘، ’’ٹھاکر کا کنواں‘‘، ’’جرمانہ‘‘، ’’دودھ کی قیمت‘‘ وغیرہ۔
یہ سچ ہے کہ افسانہ ہونے کے باعث ’کفن‘ کا کینوس چھوٹاہے مگر دانشورانہ اظہار کے رنگ تیز ہیں ، جس کے درون میں70 فیصدہندوستان کی زندگی سانس لیتی ہے۔ فکری تصویریں ملاحظہ ہوں۔
1۔ دلتوں کا کنبہ تھا اور سارے گاؤں میں بدنام۔
2۔ گاؤں میں کام کی کمی نہ تھی۔کاشتکاروں کا گاؤں تھا۔ محنتی آدمی کے لیے پچاس کام تھے۔
3۔ سماج میں رات دن کام کرنے والوں کی حالت ان کی حالت سے کچھ بہت اچھی نہ تھی اور کسانوں کے مقابلے میں وہ لوگ جو کسانوں کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھانا جانتے تھے کہیں زیادہ فارغ البال تھے۔
4۔ اب کوئی کیا کھلائے گا…اب تو سب کو کپھایت سوجھتی ہے…پوچھو، گریبوں کا مال، بٹور بٹور کر کہاں رکھو گے۔ مگر بٹور نے میں تو کمی نہیں ہے۔ ہاں کھرچ کپھایت سوجھتی ہے۔
5۔ ہم تو کہیں گے کہ گھیسو کسانوں کے مقابلے میں باریک بیں تھا اور کسانوں کی تہی دماغ جمعیت میں شامل ہونے کے بدلے شاطروں کی فتنہ پرداز جماعت میں شامل ہوگیا تھا۔ اسے یہ تسکین تو تھی کہ اگر وہ خستہ حال ہے تو کم از کم کسانوں کی سی جگر توڑ محنت تو نہیں کرنی پڑتی۔
6۔ چڑیل کا پھساد ہوگا اور کیا؟ یہاں تو اوجھا بھی ایک روپیہ مانگتا ہے۔
7۔ باپ بیٹے روتے ہوئے۔ گاؤں کے زمیندار کے پاس گئے۔ وہ ان دونوں کی صورت سے نفرت کرتے تھے۔کئی مرتبہ انھیں اپنے ہاتھوں سے پیٹ چکے تھے۔ چوری کی علت میں۔ وعدہ پر کام پر نہ آنے کی علت میں…پوچھا…کیا ہے بے گھیسوا! روتا کیوں ہے؟ اب تو تیری صورت ہی نظر نہیں آتی۔ اب معلوم ہوتا ہے۔ اس گاؤں میں رہنا نہیں چاہتے…زمیندار صاحب رحم دل آدمی تھے۔
8۔ جب زمیندار صاحب نے دوروپیے دیے، تو گاؤں کے بنیے مہاجنوں کو انکارکی جرات کیوں کر ہوتی؟
9۔ گاؤں کی رقیق القلب عورتیں آآکرلاش دیکھتی تھیں اور اس کی بے بسی پر دوبوند آنسو گرا کر چلی جاتی تھیں۔
10۔ مسکین اتنے کہ وصولی کی مطلق امیدنہ ہونے پر بھی لوگ انھیں کچھ نہ کچھ قرض دے دیتے تھے دنیا کے مکروں سے آزاد، قرض سے لدے ہوئے۔
مندرجہ بالا اقتباسات پریم چند کے مفکرانہ اظہار کی جھلک پیش کرتے ہیں۔ اس معنی میں ’کفن‘پریم چند کے دور (1880-1936)کے کسی ہندوستانی دیہات کی کہانی مانی جاسکتی ہے،مگر ہے وہ زندگی کی حقیقتوں کا ہی عکس۔اس عکس میں استحصال کے مختلف تانے بانے نظر آتے ہیں۔ کہانی کی ساخت میں ماحول اور نظام کا اندازہ ان عبارات سے ظاہر ہوتا ہے،’احساسِ بے گانگی‘ کے سیاق وسباق کی شکل میں۔
پہلا اقتباس اشارہ کرتا ہے کہ دلت گاؤں میں رہتے ہیں لیکن گاؤں کے حاشیے پر چھوت چھات کی وجہ سے انھیں الگ کنبہ میں رہنے پر مجبور تو کردیا گیا، مگر گاؤں کی حدِ اختیار میں ہی رکھا گیا ہے۔ ساتویں اقتباس میں وعدہ کے مطابق کام پر نہ آنے کے لیے، مار اور گالیاں کھانے کا بیان ہے۔ متن سے اندازہ ہوتا ہے کہ کئی بار گھیسو، مادھوزمیندار کے ہاتھوں سے پٹ چکے ہیں، اسی اقتباس میں زمیندار کہیں دکھائی نہ دینے کی وجہ سے (یعنی بیگار نہ کرنے کے لیے ) گاؤں سے نکالنے کی دھمکی دیتا ہے۔ اس اقتباس میں آگے پریم چند کہتے ہیں کہ ’صاحب‘ اتنا استحصال تو اس سماجی نظام میں عام بات تھی۔
دوسرا اقتباس گاؤںکے معاشی نظام کو پیش کرتا ہے۔گاؤں کسانوں کا تھا۔ گھیسو،مادھو جیسے بے زمین مزدور عوام تھے، صرف زمینداروں کے نہیں، ان سب کے جو بھوکوں کے کام آسکتے تھے اور گاؤں جن کا تھا۔ تیسرے اقتباس میں نظام کا پرامڈ سامنے آتا ہے۔ کسانوں سے اچھی حالت ان کی تھی جو کسانوں کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھانا جانتے تھے۔وہ حالات کے تھپیڑے سے بے حال کسانوں سے کہیں زیادہ کامیاب اور آسودہ تھے۔ یہاں دورِ پریم چند کے ہندوستانی دیہاتوں میں حالتِ زراعت پر بھی اشارہ ہے۔ جسے معاشی تاریخ کی کتابوں میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے ۔ بیسویں صدی کی پہلی چاردہائیوں میں ہندوستان میں فی آدمی فصل اور غلہ دونوں لگاتار کرتے گئے۔ 1929کی معاشی دقت نے اور بھی کمر توڑ دی تھی۔ ’کفن‘ جب شائع ہوا تھا تب ملک کی تقریباً 70فیصد زمین، زمینداروں کے ہاتھ میں تھی۔ سماجی تعلقات تناؤمیں تھے۔ کھیتی میں سرمایہ لگ نہیں رہا تھا، محنت کا استحصال کرکے کام چلایا جارہا تھا۔’بٹائی‘،’سود خوری‘،’ڈاکہ‘ اور مہاجنی تمدن کا بول بالاتھا۔ چوتھے اقتباس میں معاشی تکلیف سے خوفزدہ متغیر رجحان کی تفصیل ہے تو دسویں اقتباس میں قرضداری کا بیان ہے۔
پانچویں، چھٹے اور آٹھویں اقتباسات میں ہیجمینی (Hegemony) کی تفصیل ہے۔چھٹا ،اوجھا کی طاقت کا احساس دلاتا ہے اور آٹھواں، قابل تقلیدمہاجنی ہمدردی کا ہے۔ نواں اقتباس اس نظام میں خواتین کی’ایمپیتھی‘ کا خفیف اشارہ ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ عورتیں ایک دوسرے کے درد و غم سے کیسے جڑتی ہیں۔تھوڑے وقت کے لیے ہی سہی بدھیاکی لاش پر آنسو بہانے والی صرف عورتیں تھیں۔ جن دو مردوں کے لیے اس نے جان دی، انتھک محنت کی، وہ تو اس کے مرنے کے بعددوسری دنیامیں تھے۔ اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ہلکے ہلکے برش سے (دس پندرہ جملوں میں )’کفن‘ میں ہندوستان ، دیہات، عام۔ عوام، نظام کے ساتھ کہانی کے سماجی منظراور پس منظر کو پینٹ کیا گیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کس طرح یہ پس منظر ’احساسِ بے گانگی‘ کے احساس کو ابھارتا ہے۔
’احساسِ بے گانگی‘ کی تشریح و تعبیر میں فلسفیوں اور ادیبوں میں قدرے فرق پایا جاتا ہے۔ دونوں حقیقت کی تحقیق اور جستجو کرتے ہیں۔مگر ادب میں پیش کردہ ماحول سے اخلاق و اطوار کے امتیاز کی تشریح زیادہ ہوتی ہے۔ادیب کی تشریح کی سب سے نچلی سطح تو فلسفیانہ ہوتی ہے مگر سب سے نچلی سطح کے اوپر بتدریج عمرانیات اور نفسیات ہوتی ہیں۔ انسانی رشتوں کا شارح ادیب، علم و دانائی کی سطح پر باطن شناس اور اظہار کی سطح پر حسن کا جویاہوتاہے۔’کفن‘ افسانے میں حسن کی تحقیق اور خیر کے معاملات انسانی آزادی سے متعلق ہیں۔ اخلاقی امتیاز کی تشریح کے ذریعے ’گھیسو‘، ’مادھو‘ اور ’بدھیا‘ایک طرح کے گھریلو ماحول میں رہتے ہوئے بھی اخلاق واطوار کا الگ کورم ہیں۔انسانی آزادی کی ادبی تحقیق کو ہم سارتر کے قول سے سمجھ سکتے ہیںکہ سارا نظام جہاں انسان کو کچلنے اور ناپید کرنے میں لگا ہو، وہاں عالمی سچائی کی شکست تو اس کا مقدرہے ،مگر ہار کے اس مخالف دھارے میںجو الگ الگ لوگ جدوجہد کر رہے ہیں، ان کے اخلاق و اطوار،ادب کی حقیقت ہیں۔ اس معنی میں ’ کفن‘ احساس بے گانگی کے امتیازات کی تشریح ہے، جس میں ایک طرف گھیسو،مادھو ہیں ،تو دوسری طرف انھیں کی طرح ناکام لیکن فرض شناس بدھیا جو سیسی فس کی طرح عمر بھر برعکس دھارے میں ہر قدم پر جدوجہد کرتی رہی ہے۔
’جدوجہد‘ اور ہجرت ’احساسِ بے گانگی ‘ کی الگ الگ داخلی اور ہر قدم پر ’قسمت‘ کی نفی کرتی ہوئی، باطنی کیفیات ہیں۔ مگر احساسِ کم مائیگی کی منفی سوچ گھیسو، مادھو اور بدھیا کو جوڑتی ہے اور غیر واضح ہوکر بھی مضبوطی سے قارئین پر چوٹ کرتی ہے۔ ’دونوں بے غیرتوں کا دوزخ بھرنے والی‘ شوہر کے خاندان میں رشتوں کے نظام کی بنیاد ڈالنے والی اور کسی کو اپنا دکھ نہ سنانے والی، محنت کش بدھیا کا خاوند اس کے آخری وقت میں جن داخلی کیفیات سے گزرتا ہے وہ جگ ظاہر ہے۔ ’وہی عورت آج زچگی کی تکلیف سے مررہی تھی اور یہ دونوں شاید اس انتظار میں تھے کہ وہ مرجائے تو آرام سے سوئیں، ہوا بھی یہی۔آلوکھاکر پانی پینے کے بعد وہیں الاؤ کے سامنے اپنی دھوتیاںاوڑھ کر پاؤں پیٹ میں ڈالے سورہے تھے جیسے دو بڑے اژدھے کنڈلیاں مارے پڑے ہوں اور بدھیا ابھی تک کراہ رہی تھی۔’’کفن‘‘ افسانے میں بدھیا کے شوہر مادھو کے برتاؤ اور دلی تاثرات کو سمجھنا سب سے ضروری ہے۔ افسانے میں اس کے دلی تاثرات کو باریکی سے پیش کیا گیا ہے۔ دلی تاثرات کی تشریح باپ، بیٹے کے مکالمے سے ہوتی ہے۔ دونوں نکمے ، مطلبی، اور ناکارہ ہیں۔ بدھیا سے دونوں کو کوئی لگاؤ نہیں ہے، جس کا اظہار افسانے کے مکالمے سے ہوتا ہے۔ دوایک اقتباس ملاحظہ کیجیے:
1۔ گھیسونے کہا’’معلوم ہوتا ہے بچے گی نہیں۔ سارا دن تڑپتے ہوگیا۔ جا دیکھ تو آ۔‘‘مادھو دردناک لہجے میں بولا۔ ’’مرنا ہی ہے تو جلدی مرکیوں نہیں جاتی۔ دیکھ کرکیاآؤں؟‘‘
’’تو بڑا بے درد ہے بے۔‘‘سال بھر جس کے ساتھ جندگی کا سکھ بھوگا،اسی کے ساتھ اتنی بے وپھائی۔ ’’مجھ سے اس کا تڑپنا اور ہاتھ پاؤں پٹکنا نہیں دیکھا جاتا۔‘‘
2۔ مادھو کو اندیشہ تھا کہ وہ کوٹھری میں گیا تو گھیسو آلوؤں کا بڑا حصہ صاف کردے گا۔ بولا۔’’مجھے وہاں ڈر لگتا ہے۔‘‘
’’ڈرکس بات کا، میں تو یہاں ہوں ہی۔‘‘
’’تو تمہیں جاکر دیکھونا؟‘‘
پریم چند نے یہاں مفاد پرست زندگی کی بے رحمی کے ضمن میں اس بھوک کی تصویر کشی کی ہے، جس کی تڑپ میں انسان مفاد کی بے رحم سطح پر پہنچ جاتا ہے۔یہ وہ سطح ہے جہاں پہنچ کر خون کے رشتے بھی جھلس جاتے ہیں۔ کفن کے سلسلے میں یہ کہنا ضروری ہے کہ گھیسو اور مادھو جن حالات کی وجہ سے دردِ زہ میں مبتلا بدھیا کو نظر انداز کرکے آلو کھانے میں مگن ہیں،اس میں کسی بھی ذات برادری کا آدمی ہوتا تو وہی کرتا جو ان دونوں نے کیا۔ دوسری بات یہ کہ گھیسو اور مادھو دلت کردارکی شکل میں ہی کفن کے پیسے کوکھاپی کرسماج کے ٹھیکیداروں کی ٹھیکہ داری پرقبضہ کرتے ہیں ،یہ قبضہ ایک ساتھ دھرم کے ٹھیکے دار برہمنوں ،دولتمند ساہوکاروں اور زمینداروں بلکہ سارے سماج کے استحصالی نظا م کو چیلنج ہے۔ ایسا کرکے دونوں عوام، سماج اور مذہب سب کی اوقات بتاتے ہیں۔ یعنی انھیں نظر انداز کرتے ہیں۔ نظرانداز کرنے کا یہ عمل دراصل بغاوت کا ہی روپ ہے۔ ایسا اور اس طرح سے صرف دلت کردارہی کرسکتا تھاکیونکہ ہندوستانی سماج میں سب سے زیادہ استحصال اور تکلیف دلتوں کو ہی جھیلنی پڑتی ہے۔ یہ ہمارے سماج کی ایک بڑی حقیقت ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ شاید اس لیے گھیسو، مادھو، نسل درنسل ، بھوگ رہے ظلم و زیادتی کی وجہ سے سماج کے کسی بھی قاعدے قانون کو نہیں مانتے ہیں۔ اسی وجہ سے وہ زمین دار، ساہوکار، پنڈت اور بھگوان سب کے کنٹرول کو رد کرتے ہوئے چیلنج کرتے ہیں۔
گھیسواور مادھو استحصال پر پلنے والے دولتمند اور عزت دار لوگوں کی ذہنیت میں جینے والے ایسے غریب لوگ ہیں، جو محنت کش لوگوں کی بدحالی دیکھ کر پوری طرح مفت خور اور ناکارہ ہوگئے ہیں۔ ان کی مفت خوری سماجی نظریے سے اس بے گانگی کی دین ہے، جو زمیندارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کی دنیا ہے۔ غریب محنت کشوں سے ان کی بے گانگی انھیں امیروں کی طرح انسانی رشتوں کے لیے حساس بنادیتی ہے، استحصال شدہ معاشرہ کئی طرح کی بے گانگی کی وجہ بنتا ہے۔ یہ امیر، غریب کوہی نہیں بانٹتابلکہ غریب کو غریب سے بھی کاٹ دیتا ہے۔ ’کفن‘ میں بے گانگی کی سخت گیر حالت پر چوٹ ہے، جہاں سوال زندگی و موت کا ہے، اور رشتے۔ باپ بیٹے اور بیوی کے ہیں۔ کہانی میں باپ ، بیٹے کا اختلاف حصوں کو لے کر ہے، بھوک کی وجہ سے چرائے ہوئے آلوؤں کو لے کر ، تو بدکاری کے لمحات میں دبائے ہوئے‘کفن‘ کے پیسوں کے گل چھروں کاتفاعل ہے۔ دولتمند جس طرح دوسروں کا حق مار لیتے ہیں، اسی طرح گھیسو اپنے بیٹے کے حصے کے آلوؤں پر دانت گڑاتا ہے،امیر جس طرح دوسروں کے پیسوں پر عیش اُڑاتے ہیں،اسی طرح گھیسو بھی ’کفن‘کے لیے جمع کیے چندے کی رقم سے شراب خرید لیتا ہے اور مادھو اس کی پوری تائید کرتا ہے۔ کاہلی اور شیطنت میں، دونوں میںکوئی فرق نہیں۔ فرق ہے تو زندگی کے تجربے کا۔ مادھو کبھی کبھی تکلیف کے وقت گھبراجاتا ہے، وہیں گھیسو بالکل پریشان نہیں ہوتاہے۔ سماجی نظام کو تجربے کارباپ زیادہ بہتر جانتا ہے۔ ثبوت کے طور پر درج ذیل اقتباسات پیش کیے جاسکتے ہیں:
1۔ ’’میں سوچتا ہوں، کوئی بال بچہ ہوگیا تو کیا ہوگا؟ سونٹھ،گڑ، تیل، کچھ بھی تو نہیں گھر میں۔‘‘
سب کچھ آئے گا۔ بھگوان بچہّ دیں تو —جو لوگ ابھی پیسہ نہیں دے رہے ہیں، وہی تب بلاکر دیں گے۔ میرے نو لڑکے ہوئے۔ گھر میں بھی کچھ نہ تھا مگر اسی طرح ہر بار کام چل گیا۔
2۔ تو کیسے جانتا ہے کہ اسے ’کفن‘نہ ملے گا؟ تو مجھے ایسا گدھاسمجھتا ہے؟ ساٹھ سال کیا دنیا میں گھاس کھودتا رہا ہوں۔ اس کو کفن ملے گا اور اس سے بہت اچھا ملے گا۔‘‘مادھو کو یقین نہ آیا۔بولا’’کون دے گا؟ بتاتے کیوں نہیں؟‘‘
وہی لوگ دیں گے، جنھوں نے اب کی دیا۔ ہاں وہ روپے ہمارے ہاتھ نہ آئیں گے۔
3۔ مادھو بولا۔’’مگر دادا۔بے چاری نے جندگی میں بڑا دکھ بھوگا۔ کتنا دکھ جھیل کر مری۔ وہ آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر رونے لگا۔‘‘
گھیسو نے سمجھایا۔’’کیوں روتا ہے بیٹا، کھس ہو کہ وہ مایا جال سے مکت ہوگئی۔ جنجال سے چھوٹ گئی۔ بڑی بھاگوان تھی جو اتنی جلد مایاموہ کے بندھن توڑ دیئے۔‘‘
ایسے میں کوئی بھی سوال کرسکتا ہے کہ گھیسو اور مادھو جو بے حس اور بے ر س ہیں ، ان سے ہمدردی کی جائے یا نفرت؟ کہنا مشکل ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ایسے لوگ زیادہ نہیں تھے۔لیکن یہ عوامل اتنے غیر فطری ہیں کہ ان کی سچائی پر آسانی سے یقین نہیں ہوتا۔ اس شک و یقین کے درمیان سے جوبات نکل کر سامنے آتی ہے، وہ بتاتی ہے کہ گھیسو اور مادھو برے کردار نہیں ہیں۔ دراصل اپنے افعال سے اس بات کا اظہار کررہے ہیں کہ سماجی صورت حال کتنی بھیانک اور تکلیف دہ ہے کہ انسان کو اس کے انسان ہونے سے منحرف کردیتی ہے۔ شاید اس لیے پریم چند ان کرداروں کو کم گناہ گار مانتے ہیں۔
آخر میں یہ کہ پریم چند کے دلت کرداروں میں مردوں کے مقابلے میں عورتیں زیادہ باہمت اور جرأت مند نظر آتی ہیں۔ گنگی، ملیا، سُکھیا، دُنکھی اور کفن کی بُدھیا اس کی عمدہ مثالیں ہیں۔ (بدھیا) ’’جب سے یہ عورت آئی تھی اس نے تمدن کی بنیاد ڈالی تھی۔ پسائی کرکے، گھاس چھیل کر وہ سیر بھر آٹے کا بھی انتظام کرلیتی اور ان دونوں بے غیرتوں کا دوزخ بھرتی رہتی تھی۔‘‘شاید اسی لیے محنتی ،سگھڑ،گھیسو،مادھو کا پیٹ پالنے والی فرض شناس بدھیا میں احساسِ بے گانگی جنم نہیں لیتا۔ احساسِ بے گانگی کے لیے بھی مفت خور زندگی کی بنیاد چاہیے جو خود دار ، محنت کش اور دھن کی پکی بدھیا جیسی عورتوں میں نہیں پیدا ہوتا۔
Dr. Irshad Niazi
Associate Professor,
Dept. of Urdu University of Delhi, Delhi-110007
Mob: 9650467303
Email: niaziirshad@yahoo.com