سورداس،مضمون نگار:منشی پریم چند

July 10, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا، جولائی 2026:

سورداس ہندی بھاشا کے بزم سخن کا صدرنشین ہے۔ نقادوں نے اُسے ہندی شاعری کا آفتاب قرار دیا ہے اور گوسائیں تلسی داس کو ماہتاب۔ ان کا کلام پریم اور بھگتی کا ایک لازوال سرچشمہ ہے۔ ان کا ایک ایک پر معرفت کے رنگ میں ڈوبا ہوا ہے۔ وہ خود عارف کامل تھے۔ مکروہات روزگار سے الگ تھلگ۔ فکر دنیا سے دور برندابن میں جمنا ندی کے کنارے فقر و قناعت کی زندگی بسر کی۔ اور وہیں وہ آب حیات کی بارش کی جس سے آج تک ہندی بھاشا سر سبز ہے اور رہے گی۔ ان کی شاعری ان کی بھگتی کی ظاہری صورت تھی۔ جو کچھ اندر تھا اس کا ایک جزو باہر لفظوں میں ظاہر ہوا۔ معمولی شاعروں کی طرح حسن وعشق کے وہ جذبات نہیں ادا کیے جن کا کبھی حس ہی نہیں ہوا۔ ہم آج کل اپنی آرام کرسی پر بیٹھے ہوئے فکر سخن کرتے ہیں تکلفات اور آرائشات کے بیچ میں درد فراق اور صدمہ ہجر کا رونا روتے ہیں۔ یہی باعث ہے کہ ہمارے اشعار بے مزہ بے جان۔ خشک اور بے اثر ہوتے ہیں۔ ہم ہنستے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہنسی میں رونے کا درد پیدا کریں۔ شہر سے باہر ایک قدم نہیں رکھتے۔ مگر وادی و صحرا کی مصیبتیں بیان کرتے ہیں۔ سورداس کا کلام اس تصنع سے پاک ہے۔ اور یہی اُس کی تاثیر کا راز ہے۔ اس کی قبولیت کا یہ حال ہے کہ شاید ہی کوئی راگیا ہو جو ان کے پد نہ گاتا ہو ان کا پد زبان پر آیا اور اہل ذوق کے دلوں میں درد کا مزہ محسوس ہونے لگا۔ ایک شاعر نے ان کے کمال کا ان الفاظ میں اعتراف کیا ہے۔
اتم ید کب گنگ کے
اپما کے بربیر
کیسو ارتھ گنبھیرتا
سور تیں گن دھیر
یعنی گنگ کو پد میں کمال ہے۔ راجہ بیربر کو تشبیہات میں۔ کیشو داس کو معنی آفرینی میں۔ مگر سورداس کو ان تینوں باتوں میں کمال حاصل ہے۔ تان سین دربار اکبری کے ایک رتن تھے۔ فن موسیقی میں کوئی ان کا ثانی نہیں پیدا ہوا۔ سورداس سے یقیناً صحبتیں رہی ہوں گی۔ وہ ایک صاحب ثروت آدمی تھے۔ مگر سورداس کا کمال ان کی خدمت میں کھینچ لاتا تھا۔ ایک بار تان سین نے سورداس کو یہ دوہا سنایا۔
کدھوں سور کو سر لگیو
کدھوں سور کی پیر
کدھوں سور کو پد لگیو
تن من دھنت سریر
یعنی کسی دلاور کے تیر یا درد ریاح – یا سور کے پد۔ تینوں۔ تن اور من کو بے تاب کر دیتے ہیں۔ اس دوہے میں صنعت لفظی ہے۔ سور کو مختلف معنوں میں استعمال کیا ہے۔ سورداس نے یہ دوہا سنتے ہی معاً برجستہ کہا۔
بدھنا یہ جیہ جان کے
سیسہی دیئے نہ کان
دھرا میرو سب ڈولتا
تان سین کے تان
سیسناگ کی نسبت روایت ہے کہ وہ زمین کو اپنے پھن پر سنبھالے ہوئے ہیں۔ اور دوسرے سانپوں کی طرح ان کے بھی کان نہیں ہوتے۔ صانع قدرت نے سیسناگ کو محض اس لیے سامعہ نہیں عطا کیا کہ اگر وہ تان سین کے تان سنتے۔ تو عالم بے خودی میں جھومنے لگتے۔ اور اس سے زمین پر ایک زلزلہ آجاتا۔ مبالغہ ہے مگر کتنا لطیف۔ دونوں باکمال تھے۔ دونوں ایک دوسرے کے کلام کے معترف ، سورداس نے اپنے سارے پد مختلف راگنیوں کی دھن میں بنائے ہیں۔ اور یقیناً زمرہ عارفین میں کسی سایہ دار درخت کے نیچے اپنے بین پر اپنے پد گا گا کر سنائے ہوں گے۔
مگر کتنے افسوس کا مقام ہے کہ اس لاثانی شاعر کے حالات زندگی بہت کم معلوم ہوں۔ ان کا حسب و نسب اور مولد و مسکن بھی محتاج تحقیق ہے۔ بعض سوانح نگاروں کا خیال ہے کہ وہ ذات کے بھاٹ اور اُس چند بردانی کے خاندان میں تھے جو راجہ پرتھی راج کا رفیق جاں نثار اور سوانح نگار تھا اور جس کی تصنیف آج بھی اس کے کمال کی معترف ہے۔ مگر سورداس کے پیر زادے گوسائیں گوکل ناتھ نے بھی ان کے جو حالات لکھے ہیں۔ وہ اس روایت کی تصدیق نہیں کرتے۔ وہ سورداس کے معاصر تھے۔ اور اکثر ان سے لطف صحبت اٹھایا ہوگا۔ یہ غیر ممکن ہے کہ وہ ان کے حسب و نسب سے بھی آگاہ نہ ہوں۔ ان کے بیان کے مطابق وہ سارسوت برہمن تھے۔ ان کے باپ کا نام رام داس تھا۔ دلی کے قریب ایک موضع سیہی میں پیدا ہوئے۔ اور یہی بیان قرین قیاس بھی معلوم ہوتا ہے۔ ان کا سن ولادت تحقیقی طور پر 1540معلوم ہوا ہے۔ اور قیاساً سال وفات 1620 ہے۔ سوامی بلبھ آچاریہ بھی اس وقت کے مشہور ویشنو گرو تھے۔ سورداس اُن کے مرید ہوئے۔ بعد ازاں گوسائیں بٹھل داس جی سے تلقین حاصل کی۔
سورداس اندھے کیوں ہوئے یہ بھی معرض بحث میں ہے۔ ایک روایت ہے کہ وہ پیدائش سے اندھے تھے۔ مگر ان کے کلام میں مناظر اور رمز و کنائے اس واقعیت سے بیان کیے گئے ہیں کہ ایک نابینا شخص محض سامعہ کی بنا پر نہیں کر سکتا۔ انھوں نے ضرور دنیا دیکھی۔ اس کی دلچسپیوں اور بوقلمونیوں کا مشاہدہ کیا۔ اور نہایت پر ذوق نگاہوں سے۔ اس کے مقابلہ میں دوسری روایت زیادہ قرین قیاس ہے یعنی عالم شباب میں وہ کسی حسینہ کو دیکھ کر فاسد خیالات سے باز نہ رہ سکے۔ چونکہ خلقت پاک نفس تھے۔ نفس کی یہ سرکشی ناگوار گذری۔ اس کا قلق ہوا اسی وقت، سوئی سے دونوں پتلیاں نکال ڈالیں۔ کتنا رفیع۔ مافوق البشر اخلاقی احساس ہے۔ گناہ سے کیسی نفرت! نفس کشی کی ایسی اعلیٰ تمثیل مشکل سے ملے گی۔
سورداس ابھی دس ہی برس کے تھے کہ ان کے والدین زیارت کے لیے متھرا آئے۔ سورداس اُن کے ساتھ تھے۔ کئی دن کے بعد جب وہ واپس ہونے لگے تو سورداس نے اُن کے ساتھ جانے سے انکار کیا۔ ماں باپ رونے لگے اور کہا یہاں تمھیں کس کے آسرے پر چھوڑ جائیں؟ کون تمہاری خبر گیری کرے گا۔ سورداس نے کہا۔ جب یہاں خود کرشن چندر ہی ہیں تو مجھے کس کے سہارے کی ضرورت ہے؟ کتنا زندہ اعتقاد تھا۔ اور ابھی عالم طفلی ہی کے دن تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس بچے میں یہ وہبی خلقی وصف تھا۔ والدین جب لڑکے کو کسی طرح راضی نہ کر سکے تو روتے پیٹتے گھرلوٹ گئے۔ اس وقت سے تا دم مرگ سورداس متھرا اور برندا بن رہے۔ انھیں کنجوں میں ساری زندگی گذار دی۔ جس کا دل کرشن کے پریم سے سرشار ہو اس کے لیے اس سے زیادہ دلفریب مقام اور کہاں ہو سکتا تھا جس کی ایک ایک انگل زمین اُس کے قدموں سے پاک ہو گئی ہے۔ جس طرح خود اہل دنیا سے محترز رہے۔ اسی طرح اپنی شاعری کو دنیا اور ترغیبات سے بے نیاز رکھا۔ اس وقت بڑے بڑے راجے مہاراجے ان کے قدموں کے تلے آنکھیں بچھاتے۔ مگر عجب استغنا تھا۔ جو سر کرشن کے سامنے جھکا دیا اسے پھر کسی کے سامنے نہ جھکایا۔ کسی سے صلہ کی خواہش۔ نہ کسی کی خوشی ناراضی کی فکر نہ تعریف کی تمنا۔ ہندی شعرا میں بھی بجز گوسائیں تلسی داس کے ایسی استغنا کی مثالیں معدوم ہیں۔ اور اردو شعرا تو ہمیشہ رؤسا اور امرا کے دست نگر رہے۔ اس نورانی بزرگ کا دم آخر اس کی ساری زندگی کا خلاصہ تھا۔ اپنے معبود کی تعریف کرتے کرتے اس جہان سے رخصت ہو گئے۔
سورداس نے اپنے تئیں کرشن کی بھگتی پر وقف کر دیا تھا۔ وہ انھیں اپنا سچا معبود سمجھتے تھے۔ کرشن ان کی نگاہوں میں پرماتما کی عالمگیر محبت کے اوتار تھے۔ اور کسی صورت میں انھوں نے اُن کو نہیں دیکھا فلسفی کرشن مدبر کرشن، معرکہ آرا کرشن کا ان کے کلام میں کہیں ذکر نہیں۔ جس وقت کرشن برندا بن سے متھرا چلے گئے انھوں نے اُنکا ساتھ چھوڑ دیا۔ ہاں ان کے فراق میں اشک کے دریا بہایا کیے۔ وہ کرشن کو رادھا سے ، گوپیوں سے، گوالوں سے اور گایوں سے الگ نہیں دیکھ سکتے تھے۔ کیونکہ انھیں بساطوں پر کرشن نے اپنی محبت کی بازی کھیلی تھی۔ ان کی پر عقیدت نگاہ میں رادھا اور کرشن ایک ہی ہستی کی دو مختلف صورتیں تھیں۔ یہ وہ نازک میدان ہے۔ جہاں فلسفہ اور استدلال اور استقرا کو حیران ہو جانا پڑتا ہے۔ موٹی نگاہوں میں کرشن ایک عیش پسند انسان نظر آتے ہیں۔ اور ان کا پھر ایک عالم تبحر کی صورت میں ارتقا پانا بعید از قیاس معلوم ہوتا ہے اسی وجہ سے اس خیال کے ماننے والوں کی کمی نہیں ہے کہ یہ دو مختلف بزرگوں کی داستانیں ہیں اور کسی غیر معلوم طریقہ پر مخلوط ہوگئی ہیں۔ بعض اصحاب کا خیال ہے کہ ہندوؤں کے مخالفین نے کرشن کی عظمت اور احترام کو گھٹانے کے لیے یہ فرضی واقعے اُن کی ذات سے منسوب کر دیے ہیں۔ مگر سورداس کو ان مباحث سے کوئی سروکار نہ تھا۔ وہ پریم جو برندا بن کے ہر مرد و زن کے دلوں پر یکساں طور پر حاوی ہو۔ جس میں اتنی کشش اتنا جذبہ، اتنی لطافت ہو کہ اس کی ایک آواز پر ساری گوپیاں دوڑی ہوئی چلی آئیں۔ جو اس حسدا اور رقابت اور کینہ سے پاک ہو۔ جو ایسی حالت میں ہونا ضروری تھا۔ وہ پریم خواہ کسی رمز شناس شاعر کی رنگین بیانی ہو۔ خواہ محبت مجاز کی خیالی شاعرانہ پر کیف تصویر ہو۔ مگر اُس میں نفس کو کوئی دخل نہیں ہو سکتا۔ اگر یہ واقعہ نہیں ہے تو جس دماغ نے اس کرشن کو پیدا کیا وہ رموز الفت کا ماہر کامل تھا۔ وہ شرارت، وہ چر بانگین، وہ کھلاڑی پن، وہ دلآویز چوریاں۔ وہ خوشگوار شرر انگیزیاں جو بچپن میں کرش کی امتیازی خوبیاں تھیں کسی کا دل نہ دکھاتی تھیں۔ عورتیں جسورا کے پاس شکایتیں کرنے آتیں۔ مگر اس شکایت میں لذت ذوق کا مزہ ہوتا تھا۔ یہ بچہ جوان ہو کر وہی ہو سکتا تھا جو وہ ہوا۔ جب تک بچہ تھا سارا شہر اس کی شرارتوں پر جان دیتا تھا۔ جب وہ جوان ہوا۔ سارا شہر اس کی محبت میں متوالا ہو گیا۔ سورداس نے یہ سارے واقعات کرشن کے بچپن سے لے کر برندا بن سے روانگی کے وقت تک نہایت پر اثر دلآویز، رقت انگیز انداز سے بیان کیے ہیں۔ اس کے ایک ایک پر میں بھگت کی عقیدت اور محبت جھلکتی ہے۔ مگر اس کے ساتھ ہی وہ کرشن کو مخدومانہ نگاہ سے نہ دیکھتے تھے۔ ان کی بھگتی ہیں صوفیانہ پن تھا۔ تلسی داس رام کے بھگت تھے۔ مگر وہ اپنے تئیں رام کا خادم سمجھتے تھے۔ سورداس کی بھگتی میں دوستی غالب تھی۔ وہ کرشن کو اپنا محبوب سمجھتے تھے۔ اسی لیے انھوں نے بڑی بامزہ۔ رنگین شکایتیں کی ہیں گوپیوں کی زبان سے کرشن کو صلواتیں سنائی ہیں۔ انھیں برا بھلا کہا ہے۔ مگر اس طعن میں بھی عقیدت کا رنگ صاف جھلکتا ہے۔ تلسی داس بار بار یاد دلاتے رہتے ہیں کہ وہ ایشور کے اوتار کی داستان لکھ رہے ہیں۔ اس لیے جب رام چندر کی کوئی حرکت انھیں ناپسندیدہ معلوم ہوتی ہے تو وہ یہ کہ دیا کرتے ہیں کہ رموز قدرت میں ناقص الف انسان کو کیا دخل۔ مگر سورداس نے کبھی کرشن پر یہ پردہ نہیں ڈالا کبھی ان کی الوہیت کی یاد نہیں دلائی۔
سورداس فنافی العشق انسان تھے۔ اُن کے نزدیک ذات پات، دولت وثروت، علم و ہنر کی کوئی وقعت نہ تھی۔ جس شخص میں بھگتی نہ ہو اسے وہ چوپایہ سے بھی بدتر سجھتے تھے۔ بھگت انسان خواہ وہ کتنا ہی نیچی ذات اور ادنیٰ رتبہ کا ہو ان کی نگاہوں میں قابل تعظیم تھا۔ وہ مجاز اور حقیقت کے گورکھ دھندے میں نہیں پڑے۔ وجود مطلق کا تخیل اُن کے لیے غیر ممکن تھا۔ ایک پد میں کہا ہے:
روپ ریکھے گن۔ جاتی، جگت بن
نرا لب من چکرت دھاوے
سورداس کی شاعری کی دوسری صفت ان کی قادر الکلامی ہے۔ انھوں نے جس مضمون کو لیا ہے۔ انتہا تک پہنچا دیا ہے۔ کسی دوسرے کے لیے طبع آزمائی کی گنجائش نہیں رکھی۔ کرشن کا عالم طفلی ان کی شوخیاں اور شرارتیں۔ ان کا مچلنا اور روٹھنا۔ پھر ان کا شباب اور اس کی مستانہ کیفیتیں عشق و محبت کی کہاوتیں۔ راز و نیاز کے کرشمے گوپیوں کی بیقراریاں۔ اُن کی میٹھی میٹھی شکایتیں، ہجر و وصال، پھر کرشن کا متھرا کو جانا۔ اور گوپیوں کا ان کی محبت میں گھلنا۔ پھر کرشن کا اودھو کو گوپیوں کے پاس بیراگ کا پیغام دے کر بھیجنا اور گوپیوں کا اودھو سے اپنے دلی محرموں کی داستان بیان کرنا۔ ان تمام واقعات میں اس زندہ جاوید شاعر نے کمال سحر نگاری کی ہے۔ روایت ہے کہ سورداس نے پورے ایک لاکھ پد بنائے تھے۔ مگر اس وقت سورساگر کے جتنے نسخے موجود ہیں ان میں چار ہزار پد سے زیادہ نہیں ہیں۔ ان پدوں کو پڑھیے اور دیکھیے کہ یہ کتنا وسیع النظر شخص تھا۔ طفلی اور شباب اور بڑھاپا غرض زندگی کے ہر ایک دور میں ان کا خیال یکساں آزادی سے پرواز کرتا ہے۔ جسودا کرشن کو گود میں لے کر دل میں سوچتی ہے کب یہ گھٹنوں کے بل چلے گا۔ کب میرا آنچل پکڑ کر ساتھ ساتھ دوڑے گا۔ کب اپنے ہا تھوں کھائے گا۔ کبھی خوش ہوکر بلائیں لینے لگتی ہے کبھی انھیں انگلیاں پکڑ کر چلنا سکھاتی ہے۔ کرشن گرگر پڑتے ہیں۔ وہ انھیں اٹھا اٹھا لیتی ہے۔ پھر کرشن کو ٹھمک ٹھمک چلتے دیکھ کر پھولی نہیں سماتی۔ پھر کرشن دوسرے لڑکوں کے ساتھ کھیلتے ہیں بدن میں مٹی اور دھول لپیٹے دوڑتے ہیں۔ بچوں کی فوجداریاں نالشیں، بیانات، فیصلے جس واقعیت کے ساتھ انھوں نے ادا کیے ہیں اس کی نظیر ملنی دشوار ہے۔ ماں کی آرزوئیں اور خواہشیں اور حوصلے کیا بیان کیے ہیں تصویر کھینچ دی ہے۔ محض تصویر نہیں کھینچی۔ بلکہ تصویر میں جان ڈال دی ہے۔ دیکھیے ایک موقع پر کرشن اپنی ماں سے کیا شکایت کرتے ہیں۔
کھیلن اب میری جات بلیا
یعنی میری بلا کھیلنے جاتی ہے۔ مجھے لڑکے چڑھاتے ہیں۔
کرشن کی شرارت دیکھیے:
پانڈے نہیں بھوگ لگاون پاوے
بے چارہ جب کھانا پکا کر ٹھاکر جی کا بھوگ لگانا چاہتا ہے کرشن جاکر اسے چھو آتے ہیں۔
اس کے بعد زیادہ نقصاندہ شرارتوں کا دور آتا ہے۔ کرشن گوپیوں کے گھر جاتے ہیں اور ماکھن چرا کر کھا لیتے ہیں۔ گوپیاں حبسودا سے الہنے دینے آتی ہیں۔ ماں کو یقین نہیں آتا کہتی ہے کیا میرے گھر پر مکھن نہیں ہے۔ یہاں تو چھوتا بھی نہیں۔ تیرے گھر کیونکر کھا آتا ہے۔ گوپی کہتی ہے۔
سانور یہی برجت کیوں جو نہیں
کہا کروں دن پرت کی باتیں ناہیں پرت سہی
یعنی تو اپنے سانولے کو منع کیوں نہیں کرتی۔ روز روز کا نقصان نہیں سہا جاتا۔ ایک دن کی ہو تو کوئی در گذر کر جائے۔ جسودا جواب دیتی ہے۔
میرو گوپال تنک سوں کہا کری جانے د دھی کی چوری
یعنی میرا گوپال ننھا سا بچہ ہے۔ وہ دودھ چرانا گیا جانے میرے گھر کموریاں ماکھن سے بھری پڑی ہیں ہاتھ نہیں لگاتا۔ تیرے گھر چھینکے پرچڑھ کر کھا آتا ہے۔ جھوٹ موٹ بچے کی شکایت کرتی ہے۔ یہ واقعے اور یہ شرارتیں اس زمانہ کی یاد دلا دیتے ہیں جو ہماری زندگی کے بہترین دن تھے۔ اپنا بچپن آنکھوں کے سامنے پھر جاتا ہے۔ اور اس کی یاد شیریں دل کو بے قرار کر دیتی ہے۔
اس کے بعد گوالپن کا زمانہ آتا ہے۔ کرشن گائیں چرانے جاتے ہیں۔ گایوں کو بانسری بجا بجا کر سناتے ہیں شام کو گرد و غبار چہرے پر جمائے گھر آتے ہیں۔ گلہ بانی شعرا کی سادہ قانع، پراطمینان زندگی کا معراج ہے۔ دنیا کے بہترین شاعر اسی زندگی کی خوشیوں کا خواب دیکھا کیے ہیں۔
اس کے بعد شباب کی امنگوں کا دور آتا ہے۔ یہاں سورداس نے حسن اور عشق کے ایسے ایسے جذبات ایسے ایسے رموز بیان کیے ہیں جس سے یہ گمان ہوتا ہے کہ انھوں نے بھی اس دریا کی غواصی کی تھی۔ کنارے پر ایسے در بے بہا کہاں؟ گوپیوں سے زکوٰۃ حسن ما نگتے ہیں۔ ان کا رستہ روکتے ہیں پنگھٹ پر جاتے ہیں۔ اور انھیں چھیڑتے ہیں۔ وہ تیور بدلتی ہیں۔ منہ سے کوستی ہیں۔ آنکھوں سے ہنستی ہیں۔ خود بھاگتی ہیں۔ پر دل سینہ سے اُچھل کر ملتا ہے۔ رادھکا آتی ہے۔ کمسن، شوخ چلبلی چنچل عشق کے تیر چلتے ہیں۔ ایک پد میں رادھکا اپنی سکھی سے کہتی ہے۔
سن ری سکھی دشا یہ میری
جب تے ملے شیام گھن سندر
سنگہی پھرت بھئی جنو چیری
یعنی جب سے شام کا دیدار ہوا ہے اُن کے پیچھے پیچھے لونڈی بنی پھرتی ہوں۔
پھر کہتی ہے اگر میں قدرت کو اپنے بس میں کر سکتی۔ تو اپنے بدن میں ایک ایک روئیں کے بجائے آنکھیں بناتی۔ کبھی کہتی ہے۔
کو جانے ہری کہا کیو ری
من سمجھت مکھ کہت نہ آوت
کچھ ایک رس لوچن جو پیوری
یعنی معلوم نہیں شیام نے کیا جادو کر دیا۔ لطف دیدار کا مزہ دل سمجھتا ہے۔ زبان سے نہیں ادا ہوتا۔
اس طرح کے سیکڑوں پد ہیں محبت کے جذبات سے لبریز۔ مگر سورداس کا پد اکبر اگر دیکھنا ہو تو وہ پد پڑھیے جو انھوں نے کرشن کی متھرا سے روانگی کے وقت گوپیوں کی زبان سے ادا کرائے ہیں۔ ہجر کی کلفتیں۔ گذشتہ مسرتوں کی یاد شیریں۔ دل کو مختلف پہلوؤں سے سجانے کی کوششیں، تغافل کی ناکام تدبیریں۔ نہایت پر حسرت انداز سے بیان کی گئی ہیں۔ بالخصوص جسودا کا بلاپ تو دل کو ہلا دیتا ہے۔
میرے کمل نین پران تے پیارے
رو رو کر کہتی ہے برج میں ایسا نہیں کوئی ہے جو کرشن کو روک لے۔ دیکھو میں لڑکے کو گود میں کھلایا وہ کتنا نروئی ہوا جاتا ہے۔ میرا لڑکا ابھی بہولا نادان ہے۔ وہ متھرا کی ریت رسم کیا جائے۔ ہائے کہتی ہے۔
موہن اتنو موہے چت دھر یئے
جننی دکھت جان کے
کبہوں متھرا گمن نہ کرئیے
یعنی پیارے مجھ پر اتنی دیا کرو۔ میرے غم کو خیال کر کے متھرا نہ جاؤ۔ بے اُس عورت اس کے سوا اور کیا کہے !
کچھ دنوں کے بعد نند جی کرشن کو لوٹانے کے لیے متھرا گئے۔ اس اثنا میں کرشن نے کنس کو قتل کر دیا تھا اور امور سیاست میں مصروف تھے۔ نند سے کہا آپ میرے باپ ہیں۔ آپ کے سوا میں کسی کو نہیں جانتا۔ آپ نے میری پرورش کی۔ اس کے لیے ہمیشہ آپ کا مرہون رہوں گا۔ آپ کی مہربانیاں ہمیشہ یاد رہیںگی۔ مگر آپ بزرگ ہیں۔ جانتے ہیں دنیا میں کسی چیز کو قیام نہیں۔ مجھے ابھی دنیا میں بہت کام کرنا ہے۔ آپ لوٹ جائیے۔ غریب نامراد نند یہ فلسفیانہ تقریر سن کر رو دیا۔ بولا:
نِٹھُر بچن جن کہو کنھائی
تم ہنس کے بولت یہ بانی
میرے نین بھرت ہے پانی
پنتھ ن’یارت پشومتی ہوے ہے
تم بن مو کو دیکھ سوکھے ہے
کرشن ایسی بے رحمانہ باتیں مت کرو۔ تم یہ باتیں ہنس ہنس کے کہتے ہو۔ میری آنکھیں بھر بھر آتی ہیں۔ جسودا تمہارا راستہ دیکھ رہی ہوگی۔ مجھے اکیلے دیکھ کر سوکھ جائیگی۔ جب وہ دوڑی ہوئی آئے گی تو میں اُس سے کیا کہوں گا! اب پھر تمہارے منہ سے دادا کیونکر سنوںگا!
کرشن نے پھر سمجھایا۔ اس پر نند جی بولے:
میرے موہن، تمرے بنا نہیں جیہوں
آخر جب کرشن کسی طرح راضی نہ ہوئے تو نند اٹھ کھڑے ہوئے۔ آنکھوں سے جوے اشک جاری تھا۔ زبان سے بات نہ نکلتی تھی۔ پھر کچھ جواب نہ دیا۔ اصرار نہ کیا۔ مایوس ہو گئے۔ جب برندا بن پہنچے۔ اُس وقت کی داستان جگرخراش ہے۔ قادر الکلام شاعر وہ ہے جو ہر ایک جذبہ کو صداقت سے ادا کر سکے۔ ناظر اس کے مرکز میلان تک نہ پہنچے۔ اس کے ایک ایک رنگ کو دیکھ کر گمان ہو کہ یہی اُس کا اصلی رنگ ہے۔ سورداس میں یہی وصف تھا۔ کریش نے جب اودھو کو برج باسیوں کے پاس یوگ اور بیراگ کی تلقین کرنے کے لیے بھیجا۔ اس وقت گوپیوں کے دل میں جو جذبات وارد ہوئے ہیں۔ انھیں سورداس نے دو سو سے زائد پدوں میں بیان کیا ہے۔
ایک ایک پد حسرت اور رقت اور غم کا دفتر ہے۔ وہ نالہ محزوں۔ وہ فغاں پردرد۔ وہ پاس بے پایاں۔ سورداس کے پدوں میں جگر پر تیر کی طرح لگتا ہے۔ کرشن جانتے تھے کہ ان کے فراق میں گوپیوں کا برا حال ہے۔ ان کی تشفی کے لیے کسی کو بھیجنا ضروری تھا۔ یہ سمجھانا بھی ضروری تھا کہ وہ میرے غم میں نہ گھلیں۔ مجھے بھول جائیں۔ مجھے اب دوسری ہی صورت میں دیکھیں۔ اودھو سے کہا۔
اودھو اتنو کہیو جائے
ہم آویں گے دوؤ بھیا
میّا جنی اکٹاے(گھبرائے)
یدپی یہاں انیک بھانت سکھ
تدپی رہو نا جائے
اودھو کا رتھ جب برج میں پہنچا۔ دور سے دیکھ کر لوگوں نے خیال کیا کرشن آتے ہیں۔ خوشی سے متوالے ہو گئے۔ پیش قدمی کرنے دوڑے۔ جسودا روتی ہوئی گھر سے نکل آئی۔ گوپیاں دروازوں پر کھڑی ہو گئیں۔ گھر گھر خبر پھیل گئی۔ جب رتھ قریب آیا۔ خواب پریشاں ہو گیا۔ نند نے اودھو سے خط لے لیا۔ پڑھا۔ تب پوچھنے لگے کبھی شیام ہم لوگوں کو بھی یاد کرتے ہیں جسودا کہتی ہے:
ہمتے کچھ سیوا نہ بھئی
کتنی مادرانہ محبت ہے۔ کیسا سچا جذبہ کتنی حسرت !خط پڑھا گیا۔ مضمون سن کر گوپیوں کے دل بیٹھ گئے۔ مجاز کے متوالے حقیقت کیا جانیں۔ رنگ روپ کے عاشق یوگ کیا سمجھیں۔ اودھو پر طنز اور ملامت کی بوچھار پڑنے لگی۔ خوب! اچھا اُپدیش ہے! آپ تو داں کوبری کے ساتھ بھار کر رہے ہیں۔ نہیں لوگ کی صلاح دیتے ہمیں یوگ کی صلاح دیتے ہیں۔ اودھو تمھیں برج کی عورتوں سے یہ کہتے ہوئے شرم بھی نہیں آتی ہمیں تو یقین نہیں آتا کہ شیام نے یہ سندیسا کہا ہوگا۔ تم خود بھول رہے ہو۔ ایسے ہی لوگ بے شرم کہلاتے ہیں۔ سوچتے بچارتے نہیں۔ جومنہ میں آیا کہ ڈالتے ہیں۔ عورتوں سے یوگ بتاتے ہیں۔ جس دل میں شیام بس رہے ہیں وہاں برہم کے لیے کہاں جگہ ہے۔ ہم گنوار لوگ یوگ کیا سمجھیں! ایک گوپی کہتی ہے۔
اودھو ہو ہو آگے تے نیارے
تمھیں دیکھ تن اِدھک جرت
ارو نینوں کے تارے
اس پد میں کتنا عاشقانہ جذبہ ہے۔
اودھو ہم آج بھین بڑبھاگی
جن آنکھیں تم شیام یلوکے
تے انکھیاں ہم لاگی
اودھو جیسے پھول کی خوشبو سے بھری ہوا سے بھونرا مست ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ہم خوش نصیب ہیں کہ تمہاری ان آنکھوں کو دیکھ رہے ہیں جنھوں نے شیام کو دیکھا ہے۔ ایک پد اور ملاحظہ کیجیے۔
انکھیاں ہری درشن کی پیاسی
دیکھا چاہت کمل نین کو
نس دن رہت اداسی
اس پد میں سوتیا ڈاہ کا جذبہ بھرا ہوا ہے۔
اودھو سن سن آوت بانسی
کہاں وے برہمادک کے ٹھاکر
کہاں کنس کی داسی
ایک گوپی کہتی ہے:
اودھو من نہ بھئے دس بیس
ایک ہتو سو گئو شیام سنگ
کو اور ادھے ایس
یعنی دل ایک تھا۔ وہ شیام کے ساتھ گیا۔ اب ایشور کی عبادت کون کرے۔ آخر اودھو جی بھی اپنا گیان بھول گئے۔ پریم کے سیلاب میں نہ تھم سکے۔
ہم لکھ چکے ہیں کہ سورداس جس مضمون کو لیتے ہیں، انتہا تک نبھاتے ہیں۔ کرشن کی بنسی مشہور ہے۔ اسکا ذکر بیس پچیس پدوں میں ہوا ہے۔ سورداس آنکھ کے اندھے تھے۔ مگر سو سے زائد پد آنکھوں ہی کے متعلق ہیں۔ کہیں آنکھوں کا گن گایا ہے۔ کہیں اُن کی شکایت کی ہے۔ تشبیہ اور تلازمے اور استعارات پر یہ قادر تھے۔ ان کے تلازمے بڑے لطیف پر معنی رسیلے ہوتے ہیں۔ تشبیہوں میں یہ کالی داس کو نہیں پہنچتے۔ زیادہ تر پامال ہیں مگر ان کا استعمال ایسی خوبی سے کیا ہے کہ اُن میں اولیت کا مزہ آ گیا ہے۔ رادھکا کے سیندور کی سرخی کو طلوع آفتاب کی سرخی سے مشابہ کیا ہے۔ ناک کو دو کھنجنوں کے بیچ میں بیٹھے ہوئے ایک طوطے سے تشبیہ دی ہے۔ ان کے جذبات کے نمونے ہم اوپر دکھا چکے ہیں۔ ان کی روانی بیان بندش الفاظ سراپا وغیرہ کے نمونے اُردو میں نہیں دیے جا سکتے۔ ان کی تشریح تو ہو سکتی ہے مگر متن کا پڑھنا ہی دشوار ہے۔ اتنا لکھنا کافی ہے کہ ان اوصاف میں بھی ہندی کا کوئی شاعر ان سے سبقت نہیں لے گیا۔ حسن کی ایسی سجی ہوئی دلکش تصویریں بنائی ہیں۔ مناظر کے ایسے فرحت بخش مرقعے کھینچے ہیں کہ کوئی چار آنکھوں والا شاعر بھی اس سے بہتر نہیں کر سکتا تھا۔ ان کے تلازمے اپنی نظیر نہیں رکھتے۔ رادھکا کا سرا پا کھینچتے ہوئے ایک پد میں اسے ایک باغ سے ملایا ہے۔ اس میں کنول ہے۔ ساگر ہے۔ مست ہاتھی کلولیں کر رہا ہے۔ جھرنے ہیں کہساریں ہیں۔ روشیں ہیں۔ کنج ہیں۔ پھول ہیں۔ پھل ہیں۔ چاند ہے۔ سہانی چڑیاں ہیں۔ سب اپنے اپنے موقع پر اپنے اپنے دھن میں مست ہیں۔ اور ان کا مجموعہ حسین رادھکا ہے۔
سورداس کے معمے مشہور ہیں۔ مفہوم کو اتنا غامض اور تلمیح طلب بنا دیا ہے کہ بغیر شرح کے اُس کا سمجھنا مشکل ہے۔ ایسے پدوں کو انھوں نے چھانٹ کر یکجا کر دیا ہے۔ اس کا نام ہے ’’ساہتیہ لہری‘‘۔ ان پدوں کے بنانے میں غایت درجہ کی دقت نظری اور مشکل پسندی سے کام لیا گیا ہے۔ پہلے پد کو پڑھیے مہمل معلوم ہوتا ہے۔ مگر شرح دیکھیے تو آنکھوں کے سامنے سے پردہ سا ہٹ جاتا ہے اور معنی کی درخشاں شعاعیں نظر آنے لگتی ہیں۔ ان سے سورداس کے تبحر اور تحقیق کا خوب اندازہ ہوتا ہے۔
سورداس نے اوصاف نگاری میں بہت اونچا معیار پیش نظر رکھا ہے۔ اپنے کیرکٹروں کی زبان سے جو باتیں کہلائی ہیں۔ برجستہ با موقع کسی کو تہذیب سے نہیں گرنے دیا۔ جسودا کرشن پر جان دیتی تھی۔ مگر جب اسے یقین ہو گیا کہ اس کے خلاف شکایتیں بالکل بے بنیاد نہیں ہیں تو انھوں نے کرشن کو ایک اوکھلی سے باندھ دیا۔ یہ مادرانہ تادیب کی بہت اچھی مثال ہے۔ جب کرشن متھرا چلے گئے ہیں تو جسودا نے کرشن کی اصلی ماں دیوکی کو جو سند یسا کہلا بھیجا ہے۔ اس میں مامتا کا بہت شوخ، قدرتی رنگ ہے۔ کہتی ہے میں تمہارے لڑکے کی دایہ ہوں۔ مجھ پر ہمیشہ عنایت کی نگاہ رکھنا۔ تمہارے لڑکے کو صبح کے وقت مکھن روئی بہت بھاتی ہے۔ تیل ابٹن اور گرم پانی دیکھ کر بھاگ گیا ہے۔ پھسلا کر بہلا کر نہلاتی تھی۔ مجھے بڑی فکر ہے کہ کہیں میرا پیارا شرماتا نہ ہو۔
متھرا میں کرشن کبجا کے دام محبت میں اسیر ہوئے۔ جب اودھو یوگ کا پیغام لے کر چلنے لگے تو کبجا نے بھی گوپیوں کو سندیسا دیا۔ اس میں فیاضی اور شرافت بھری ہوئی ہے۔ مگر گوپیوں نے اُس کی توہین اور تخریب میں کوئی دقیقہ نہیں اٹھا رکھا۔ یہ بالکل فطری جذبہ ہے۔ جس کی دوکان چل رہی ہے وہ فیاض ہو سکتا ہے۔ اسے فیاض ہونا چاہیے مگر دیوالیہ فیاضی کہاں سے لائے۔
الغرض سورداس ہندی لٹریچر کا آفتاب ہے۔ حسن بیان، حسن جذبات، حسن اخلاق۔ یہی اس کے کلام کی خوبیاں ہیں۔ وہ صناع ہے مگر فطری مناسبت کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ ہاں اس میں ایک خامی ہے۔ خدم و حشم شاہی آداب و آئین۔ جدال و قتال کے تذکرے اُس سے ادا نہیں ہوتے۔ اس کی رقیق، گداز طبیعت ایسے کرخت مضامین کے لیے ناموزوں ہے۔ جو دل محبت اور عقیدت سے سرشار ہو۔ وہ خونیں داستانیں اور تیر و تفنگ کے ہنگامے کیا بیان کرے گا۔ اس کے کمالات کا خلاصہ یہی ہے کہ وہ شاعر ہے جذبات کا۔
مطبوعہ:’ترجمان‘ لاہور، مارچ 1917 ،ص 121 تا 130

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

عصری ٹیکنالوجی اور اردو زبان:مسائل،حل اور امکانات،مضمون نگار:ذاکر احمد کمار

اردو دنیا، مئی 2026: موجودہ عہد کو اگر کسی ایک نمایاں خصوصیت کے ذریعے بیان کیا جائے تو وہ بلا شبہ ’ڈیجیٹلائزیشن‘ ہے۔ ڈیجیٹلائزیشن محض ایک تکنیکی عمل نہیں بلکہ

اردو زبان و ادب کے فروغ میں تراجم کا حصہ،مضمون نگار:بلقیس مقبول

اردو دنیا،مئی 2026: اردو زبان و ادب کی ترویج میں ترجمے کی اہمیت ہمیشہ رہی ہے۔ ترجمہ زبان کو وسعت دیتا ہے، نئے مفاہیم سے روشناس کراتا ہے اور علمی

شریف احمد قریشی کی فرہنگ نویسی: زبان، ادب اور ثقافت کی زندہ میراث ،مضمون نگار:شہپرشریف

اردو دنیا،اپریل2026 ادب کی دنیا میں ایسے افراد بہت کم ہوتے ہیں جو اپنی تمام علمی و فکری صلاحیتیں محض اپنی زبان، معاشرے اور اپنی تہذیب کے تحفظ و فروغ