بیگم قدسیہ زیدی اور ان کا ہندوستانی تھیٹر،مضمون نگار:انیس اعظمی

May 27, 2026 0 Comments 0 tags

تلخیص
جب بھی دلی کے جدید تھیٹر اور اسٹیج کے ابتدائی دور کی تاریخ بیان کی جائے گی تب بے پناہ مضبوط ارادوں والی ذہین اور سخت جان بیگم قدسیہ زیدی کی خدمات کا اعتراف کیے بغیر یہ شروع ہی نہیں ہوسکے گی۔ بیگم زیدی دلی میں اعلیٰ معیاری تھیٹر کی بنیاد گزاروں میں صف اول پر قائم تھیں اور ہمیشہ رہیں گی۔ 1954 میں بطور پروڈیوسر ان کی پہلی پیش کش ’آگرہ بازار‘ (تحریر و ہدایت: حبیب تنویر) کی حیرت انگیز کامیابی کے ساتھ اپنی آخری سانس تک انھوں نے معیاری تھیٹر کی جس طرح آبیاری کی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔
یہ مضمون جو آپ تک رسائی کرسکا ہے، اس میں آپ کو بیگم زیدی کی غیرمعمولی خدمات کا مختصر ہی صحیح ایک بھرپور تعارف تو مل ہی سکے گا۔ ’آگرہ بازار‘ کی بے پناہ کامیابی کے بعد بیگم زیدی نے اپنے بہت سے ہم خیال دوستوں کو ساتھ لے کر ’ہندوستانی تھیٹر‘ کی بنیاد رکھی۔ اس وقت جو لوگ ان کے ساتھ آئے بعد میں تھیٹر کی دنیا میں انھوں نے خوب نام کمایا۔ بیگم زیدی نے نا صرف بچوں کے لیے ڈرامے لکھے (چچا چھکن) بلکہ دنیا کے بے شمار کلاسیکل ڈراموں کے تراجم کرکے انھیں اسٹیج پر پیش کیا۔ تھیٹر میں ان کی خدمات اس قدر ہیں کہ ان پر باقاعدہ ریسرچ ہونی چاہیے تاکہ حقیقت سامنے آسکے۔


کلیدی الفاظ
تھیٹر، ڈرامہ، اسٹیج، آگرہ بازار، جامعہ ملیہ اسلامیہ، رامپور، بیگم قدسیہ زیدی، حبیب تنویر، پطرس بخاری، موہنی ماتھر، ستیش سہگل، او پی کوہلی، جے این کوشل، کے کے کوہلی، شیلا بھاٹیہ، رضا علی خاں، چچا چھکن، امتیاز علی تاج۔
————
جب بھی دلّی تھیٹراور اسٹیج کے ابتدا کی تاریخ بیان کی جائے گی تین بے پناہ مضبوط ارادوں والی ذہین اور سخت جان خواتین کی خدمات کا اعتراف کیے بغیر یہ شروع ہی نہیں ہوسکے گی۔ یہ تینوں دلّی میں اعلیٰ معیاری تھیٹر کی بنیاد گزاروں میں صف اول پر قائم تھیں اور ہمیشہ رہیں گی۔ ان میں پہلا نام ہے بیگم قدسیہ زیدی کا جو ’ہندوستانی تھیٹر ‘کی روحِ رواں تھیں۔ 1954 میںان کی بطور پروڈیوسرپہلی پیش کش ’آگرہ بازار‘(تحریر وہدایت: حبیب تنویر) کی حیرت انگیز کامیابی کے ساتھ اپنی آخری سانس تک انھوں نے معیاری تھیٹر کی جس طرح آبیاری کی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔
دلّی کے باوقار تھیٹر کے خدوخال سنوارنے اور شروع تا آخر ڈرامے کے اعلیٰ معیار کو قائم رکھنے کا سہرہ بھی آپ کے سر جاتا ہے۔ ابراہیم القاضی کی دلّی میں آمد سے پہلے اور NSD کے قیام سے بھی پہلے بیگم قدسیہ زیدی تنِ تنہا کسی قومی ادارے کی طرح اتنا کام کر چکی تھیں کہ وہ ہندوستان میں اعلیٰ سطح کے پروفیشنل تھیٹر کی مثالی علمبردار تسلیم کی جاتی ہیں۔ تقریباً 30 برس پہلے ایک مرتبہ اردو اکادمی کے ثقافت سے متعلق سمینار میں خواجہ حسن ثانی نظامی صاحب نے ان کے متعلق ایک جملہ کچھ یوں کہا تھا ’قدسیہ سچ میں بڑے باپ کی بڑی بیٹی تھیں‘۔ تب میں ان کے اس جملے کا مطلب ٹھیک سے سمجھ نہیں سکا تھا۔
میں نے تھیٹر میں اپنے بزرگوں یا بزرگ ساتھیوں (حبیب تنویر، موہنی ماتھر، ستیش سہگل، او ۔ پی۔ کوہلی، جے۔این کوشل، کے۔ کے۔ کوہلی اور مسعود الحق وغیرہ ) سے بیگم زیدی کے کام کے تئیں ان کے جنون اور دیوانگی کے اتنے قصے سنے ہیں کہ مجھے ان سے غائبانہ عقیدت ہوگئی اورمیں کب کا اُن کی اعلیٰ ظرفی اور معیار بندی کا قائل ہوگیا۔ مجھے ان کی کئی باتیں حبیب تنویر صاحب ، مونیکا مشراجی، ریوتی سرن شرما اور شمع زیدی آپا نے بھی گاہے بہ گاہے بتائیں اور ان باتوں سے بھی میرے ذہن میں ان کا خاکہ ایک شکل اختیار کرتا رہا۔ کئی بار ارادہ کیا کہ قلم اٹھائوں … لیکن سرکاری نوکری اوردوسری مصروفیات نے موقع نہ دیا۔ غالباً دو سال قبل انڈیا انٹر نیشنل سینٹر میں ایک بہت سنجیدہ سمینار سیدہ سیدین صاحبہ نے منعقد کیا تھا ۔ جو خواتین کی غیر معمولی خدمات سے متعلق تھا ، مجھے بیگم قدسیہ زیدی کی خدمات پر پیپر پڑھنے کی دعوت دی گئی تھی۔ تب وقت کی قید تھی لہٰذا مختصراً ہی اظہار خیال کر پایا ۔اسی کی بھر پائی اب کررہا ہوں۔
اب جو یہ مضمون آپ تک رسائی کر سکا ہے، اس میں آپ کوبیگم قدسیہ زیدی کی غیر معمولی خدمات کا مختصر ہی صحیح ایک تعارف تو ضرور مل سکے گا۔ پہلے مختصراً دلّی تھیٹر کی ان دو خواتین کا ذکر بھی کرتا چلوں جن کے ذکر کے بغیر میری بات ادھوری رہ جائے گی۔
شیلا بھاٹیہ
شیلا بھاٹیہ بیگم قدسیہ زیدی کی ہم عصر تھیں اور ان کی بھی دلّی میں تھیٹر سے متعلق خدمات بہت زیادہ ہیں۔ پوری زندگی یکسوئی اور دیوانگی سے جس قدر اردو ۔پنجابی ،صوفیانہ اور حقیقت پسند (Realistic) تھیٹر شیلا بھاٹیہ جی نے کیا ہے کہ انھیں ہمیشہ احترام کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ وہ 5اکتوبر 1916کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئیں، لاہور کالج میں تعلیم پائی اور وہیں ڈراموں میں بطور فن کار شرکت کی، 1947 میں تقسیم کے بعد ہندوستان آگئیں ۔ ابتدا میں کشمیر میں رہ کر شیخ محمدعبداللہ کے اسرار پر سری نگر میں تھیٹر کرتی رہیں۔ بعد ازاں دلّی آگئیں۔ دلّی میں آپ نے اپنا ڈراما گروپ ’Delhi Art Theatre‘قائم کیا۔ وہ ڈرامہ نگار، ہدایت کار کے علاوہ پنجابی اور اردو کی شاعرہ بھی تھیں۔ انھوںنے اوپیرا بھی لکھے اور اسٹیج کیے اور جدید طرز کے ڈراموں سے دلّی والوں کا من موہ لیا۔
1956میں دلّی میں، آپ نے اپنے کامیاب ڈرامے’ہیر رانجھا‘ کی شاندار پیش کش سے خود کو متعارف کرایا۔ سارا شہر آپ کی صلاحیتوں سے واقف ہوگیا۔ 1966 میں آپ نے پنجابی فوک کا ایسا دھماکہ کیا کے ان کا ڈراما ’ چن بدلاں دا‘ نے پنجابیوں کو اپنا دیوانہ بنا لیا۔ 1969 میں غالب صدی کے موقعے پر ، غالب کی زندگی پر اسٹیج کیے گئے اس دور کے 15 ڈراموں میںسب سے کامیاب ڈرامے ’غالب کون ہے؟ ‘ ڈرامہ نگارسید محمد مہدی کی خوب صورت اور یادگار پیش کش کو حساس دلّی والوں نے دس دس بار ٹکٹ خرید کر دیکھا۔ غالب کا نا قابل فراموش کردار ایوب صاحب نے کچھ یوں نبھایا کہ لوگ ڈراما ختم ہونے کے بعد ان کے ہاتھوں کا بوسہ لینے دیر تک انتظار کرتے تھے۔ ڈرامے میں رقاصہ کا شاندار کردار نبھایا تھا اپنے زمانے کی سوپر اسٹار اور مشہور گلوکارہ مدن بالا سندھو نے۔دلّی اسٹیج کو ایسی خوب صورت اور کھنک دار آواز پھر نصیب نہیں ہوئی ۔جب وہ کلامِ غالب پیش کرتیں تو تماشبین سانس روک کر سُنتے اور جھومنے لگتے۔ اُن کی آواز کا جادو آج بھی مثالی ہے۔
اسی ڈرامے ’غالب کون ہے ؟ ‘ کی غیر معمولی کامیابی کے سبب شیلا بھاٹیہ کو 1971میں پدم شری سے نوازہ گیا۔ اور ’عمر خیام‘ کی کامیابی کے بعد آپ کو 1997میں ’کالی داس سمّان‘ سے سرفرزاکیا گیا ۔ ایس۔ ایم۔ مہدی کا ایک اور ڈراما ’جان غزل‘ بھی آپ نے بے حد کامیابی کے ساتھ پیش کیا ۔ آپ کے ایک سے ایک کامیاب ڈراموں کی طویل فہرست ہے۔آپ کے قریبی دوستوں میں آئی- کے-گجرال ، حالی وتس، ریوتی سرن شرما، بیگم اختر، کلدیپ نیّر، بھیشم ساہنی اور ابراہیم القاضی جیسے مشاہیر شامل تھے۔
شیلا جی نے ایک زمانے تک نیشنل اسکول آف ڈراما میں ’ڈراما ہدایت کاری‘ بطور گیسٹ فیکلٹی پڑھایاہے۔ آپ نے 1972میں قصہ عورت کا۔ ہوا سے ہپّی تک، 1977 میں نادر شاہ ، 1979میں درد آئے گا دبے پائوں(فیض کی زندگی پر مبنی یہ ڈرامہ جسے فیض دیکھنے دلّی تشریف لائے تھے) ، 1980 میںیہ عشق نہیں آساں، 1981 میں شہنشاہ اکبر، 1990 میں عمر خیام، 1993 میں ’مقدر‘ اور ’سلگتے دریا‘، 1997میں ’نصیب‘ جیسے کامیاب ڈراموں کے علاوہ اوربھی کئی کامیاب ڈرامے اسٹیج کیے۔ آپ نے نہ جانے کتنے اداکار اس شہر کو دیے، جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہے۔
جوائے مائیکل(Joy Michael)
دلّی اسٹیج کے اس دور کا تیسرا باوقار نام ہے جوائے مائیکل۔ قدسیہ زیدی نے جس قدر کم عمر پائی اس کے مقابلے شیلا بھاٹیہ اور جوائے مائیکل کو قسمت سے ایک طویل عمر تک کام کرنے کا موقع ملا۔ دونوں نے 90 سال سے زیادہ عمر پائی اور خوش قسمت رہیں کہ مسلسل ایک سے بڑھ کر ایک معیاری کام کرتی رہیں۔
جوائے مائیکل 1926 میں آسنسول میں پیدا ہوئیں ، اسکولی تعلیم کلکتہ میں پائی، بعد ازاں دلّی آگئیں۔ یہاں کے مشہور سینٹ اسٹیفنس کالج میں بی ۔ اے انگریزی میں داخلہ لیا۔ وہیں سے ایم۔ اے انگریزی کے دوران آپ کالج کی شیکسپیر ڈرامیٹکل سوسائٹی کی پہلی خاتون سیکریٹری منتخب ہوئیں ۔ یہیں سے ڈرامے کے تئیں ان کا شوق اور جنون انھیں لندن لے گیا۔ آپ نےLondon Academy of Music & Dramatic Arts سے ڈراما اور اسپیچ (بلند خوانی ) میں اعلیٰ سند حاصل کی،چند برس لندن میں پروفیشنل تھیٹر کیا، پھر دلّی لوٹ آئیں۔
واپس آنے پر عزم کیا کہ تھیٹر تو کرنا ہی ہے۔ انھیں دلّی کے مشہورلڑکیوں کے St. Thomas School میں پڑھانے کا موقع ملا ۔ ان کی صلاحیتوں، بچیوں کے درمیان بے پناہ مقبولیت اور دیگر سرگرمیوں کودیکھتے ہوئے مینجمنٹ نے بالآخر انھیں اسکول کے پرنسپل کی کرسی پر بٹھا دیا ۔ 1964میں جوائے مائیکل نے اپنے روشن خیال اور ذہین دوستوں، ساتھیوں مثلاً رتی بارتھالوموو، روشن سیٹھ، سُشما سیٹھ ، سلیما رضا، مارکس مُرچ وغیرہ کے ساتھ مل کر اپنے ڈراما گروپ ’یاترک‘ (Yatrik) کی بنیاد رکھی۔ آپ نے 40 برس تک اپنی جان سے عزیز ’یاترک‘ کی خونِ جگر سے آبیاری کی۔ بہت جلد یاترک معیاری اور کامیاب ڈراموں کے لیے ملک گیر سطح پر پہچانا جانے لگا۔
جوائے مائیکل کا ساتھ دینے یا ان کا ہاتھ بٹانے کے لیے ان کے جو ہم خیال اور باصلاحیت دوست ہر نئی پروڈکشن کے وقت ان کے ساتھ ہوتے ان میں سے چند کے نام ہیں: رتی بارتھالو موو، ابراہیم القاضی، علیک پدمسی، بیری جان، کُل بھوشن کھربندا ، سینیا دگل، تجیشور سنگھ، لولا چٹرجی، پرکاش بھاٹیہ، بھاسکر بھٹاچاریہ،سنیتاٹنڈن اور اوجیت دت وغیرہ ۔
جوائے مائیکل تاحیات’ یاترک‘ کی آرٹسٹک ڈائرکٹر رہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق تقریباً 200ڈراموں کے ساتھ آپ کی وابستگی رہی۔ وہ پندرہ برسوں تک St. Thomas Schoolکی پرنسپل رہیں۔ شروع شروع میں ان کے زیادہ تر ڈرامے Young Women’s Christian Association میں ہی اسٹیج ہوتے رہے۔ وہ YWCA کی انتظامیہ کمیٹی کی ممبر بھی تھیں۔ انھوں نے یاترک میں گریک المیہ سے لے کر اگاتھا کرسٹی کے ڈراموں تک، انگریزی ، ہندی اور اردو کے بے شمار ڈراموں کی ہدایت دی ہے اور ان کے پروڈکشن کی نگہبانی بھی کی ہے۔
خیال رہے کہ ہندستان میں جدید وقدیم ڈراموں کا یہ سنہرا دور تھا۔ 1944 میں بمبئی میں پرتھوی راج کپور نے پرتھوی تھیٹر قائم کیا۔ اسی کے ساتھ بمبئی میں ہی اِپٹا IPTA قائم ہوا۔ اِن دونوں نے بیشتر ڈرامے بازبانِ اردوپیش کیے۔ بعد ازاں دلّی میں NSD کا قیام عمل میں آیا۔ اِس کے علاوہ دلّی میں آئی۔ ایل۔ داس نے Litle Theatre Group قائم کیا۔ لکشمی نارائن لال نے ’سمواد‘ قائم کیا۔ اوم شیو پوری، رام گوپال بجاج اور رنجیت کپوروغیرہ نے ’دشانتر‘ شروع کیا۔ نیمی چند جین نے ’نٹرنگ‘ کی بنیاد رکھی۔ ریڈیو ڈراموںکے حوالے سے دینا ناتھ کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا ۔ ریوتی سرن شرما نے ’دلّی ناٹیہ سنگھ‘قائم کیا ۔جامعہ ملیہ اسلامیہ اپنے طور پر ڈرامے کی شمع روشن کیے ہوئے تھا۔ اس کے علاوہ دلّی کے مشہور ماڈرن اسکول کے فعال پرنسپل مہندر ناتھ کپور (والد: انورادھا کپور) بھی اپنے اسکول میں اعلیٰ سطحی پروفیشنل اردوڈرامے کا ماحول بنا چکے تھے ۔ اس طرح اُس دور میںدلّی جدید تھیٹر کے حوالے سے اپنی الگ شناخت بنا رہی تھی ۔ دلّی کی ان ثقافتی اور ڈرامائی کامیابیوں کے لیے سب نے جی جان سے اپنے اپنے طور پر خدمات پیش کیں۔
بیگم قدسیہ زیدی
بیگم قدسیہ زیدی کا تعلق ایک کشمیری خانوادے سے تھا جو کشمیر سے ہجرت کر کے لاہور میں آبادہوچکا تھا۔ان کے والد سیدمحمد عبداللہ وانچو، پہلے ہندوستانی تھے جو انگریزوں کے دور میںدلّی کے پولیس محکمے میں ’انسپکٹر‘ کے اعلیٰ عہدے پر فائز ہوئے ۔ اس سے پہلے یہ عہدہ صرف انگریزوں کو ہی نصیب ہوا کرتا تھا۔ CPO Building یعنی چیف پولس آفیسرس بلڈنگ ،کشمیری گیٹ ، دلّی میں ان کی تقرری 1913میں ہوئی۔ 1912میں 23دسمبر کے روز جب دلّی کے پولس چیف کمشنر مالکم ہیلی تھے اور خفیہ پولس محکمہ کے افسر اعلیٰ سرچارلس کلیولینڈ تھے ۔
اس وقت دلّی پولیس کا صدر دفتر کشمیری گیٹ پر سی پی او بلڈنگ(Chief Police Officers Building) میںواقع تھا۔ انگریزوں کے دورِ حکومت میں یہ ہندوستان کا پہلا پولیس اسٹیشن تھا۔ اس سے پہلے تھانہ اور کوتوالی ہوا کرتی تھی۔ اسی عمارت سے سب سے پہلے کوتوال کی جگہ انسپکٹر نامی لفظ 1872میں عوام کے کانوں تک آیا تھا۔ یہ عمارت وہی ہے جہاں اب اردو اکادمی اور سندھی اکادمی کے دفاترقائم ہیں۔ یہ نستعلیقی عمارت بہت خوبصورت بلکہ عالیشان اور وسیع بنگلے کی صورت میں آج بھی اپنی شان بیان کرتی نظر آتی ہے۔ اسی عمارت سے ملا ہوا ایک اور خوبصورت بنگلہ ہے جو اس وقت پولیس انسپکٹر صاحب کی رہائش گاہ ہوا کرتا تھا۔ اس وقت اس بنگلے میں NCC کا دفتر ہے۔ میں 2014میں شمع زیدی صاحبہ کو اس عمارت میں لے کر گیا تھا کہ وہ یہ دیکھ لیں کہ ان کی والدہ بیگم قدسیہ زیدی یہیں اسی عمارت میںپیدا ہوئی تھیں۔ قدسیہ زیدی کی پیدائش اسی بنگلے میں 23دسمبر 1914کو ہوئی تھی۔ ان کا نام رکھا گیا’امت القدوس‘۔ بعد میں انھیںقدسیہ کہہ کر پکارا جانے لگا۔ وہ اپنی تین بہنوں اور ایک بھائی کے بعد سب سے چھوٹی تھیں۔
قدسیہ کے والد کو دلّی سے کہیں زیادہ لاہور پسند تھا کیونکہ ان کی زندگی کا بیشتر حصہ وہیں گزارا تھا، سو انھوں نے کسی طرح اپنا تبادلہ لاہور کروا لیا۔ وہ وہاں اپنے پسندیدہ کشمیری محلے میں آباد ہوگئے ، جہاں بیشتر کشمیری خاندان بہت پہلے سے آباد تھے۔ ان کے گھر کے قریب ہی مشہور شاعر علامہ اقبال کا دولت کدہ بھی تھا۔ علاقے کے لوگ گھر وںمیں اور آپس میں پنجابی زبان میںہی بات چیت کیا کرتے تھے ، لیکن عبداللہ وانچو کے گھر میں اردو بولی جاتی تھی۔
لاہور میں قیام کے دوران، قدسیہ زیدی کی تینوں بہنوں کی شادیاں ہوئیں اور بھائی اللہ کو پیارا ہوگیا۔جب وہ محض دس گیارہ برس کی کمسن تھیں، ان کے والد کا بھی انتقال ہوگیا۔ نتیجتاً وہ اپنی بڑی بہن، زبیدہ کے ساتھ رہنے لگیں جن کی شادی ان کے رشتے کے بھائی احمد شاہ بخاری، المعروف پطرس بخاری کے ساتھ ہوئی تھی۔ ان کے ساتھ رہتے ہوئے قدسیہ نے اردو اور انگریزی زبانوں پر خاصی قدرت حاصل کر لی تھی اور اسی کے ساتھ ساتھ فنون لطیفہ یعنی Fine Arts اور Performing Arts کی جانب بھی فطری طور سے راغب ہوچکی تھیں۔
جامعہ ملیہ کی ابتدا تو قرول باغ دلّی میں ہوئی تھی ، جہاں 1937کے فسادات میں اسے خاصہ نقصان پہنچا یا گیا لہٰذا اسے گاندھی جی اور حکیم اجمل خان وغیرہ کی کوششوں سے قرول باغ سے اٹھا کر جولینا گائوں یعنی آج کے جامعہ نگر لے آیا گیا۔ جامعہ کا یہ وہ ابتدائی اور سُنہرہ دور تھا جب یہاں ایک ساتھ تین بہت قدآور شخصیات اسے قدیم روایات کے ساتھ ساتھ جدید طرز کے تعلیمی نظام کے مطابق ڈھال رہے تھے ۔ یہ تینوں ماہر تعلیم تھے ڈاکٹر محمد مجیب ، ڈاکٹر عابد حسین، اور ڈاکٹر ذاکر حسین۔ یہ تینوں جرمنی سے اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ہندوستان لوٹے تھے ۔ ان کے پاس قدیم ہندوستانی روایات کے ساتھ جدید یوروپیئن تکنیک بھی تھی ۔ یہاں جامعہ کے اس دور کے ذمہ داران نے بچوں کے ساتھ کچھ نئے تجربات شروع کیے ۔ اس میںتفریح کے ذریعہ تعلیم کا ایک موضوع بھی تھا جس کے تحت کمیونٹی تھیٹر اور ویک اینڈ تھیٹر کی داغ بیل ڈالی گئی ۔ جامعہ اسکول کے دو فعال اساتذہ (1) شاہد مدھولی صاحب اور دوسرے اطہر پرویز صاحب کے کندھوں پر ڈر امائی سرگرمیوں کی ذمہ داری سونپی گئی۔
اس زمانے میں جامعہ اسکول کے اساتذہ اور طلبا ساتھ ساتھ ہوسٹل میںرہتے تھے۔ اسی زمانے میں کمیونٹی تھیٹر ، بیت بازی، گروپ سانگ کے ساتھ ساتھ فٹ بال ، کھو کھو ، بیڈمنٹن ، کبڈی اوردوڑ جیسے کھیلوں کا آغاز بھی ہو چکا تھا۔دو چار سال گزر نے کے بعد سال کے آخر میں ’یوم تاسیس‘ کی تقریبات (Foundation Day Celebrations)کو سہ روزہ میلے کے طور پر منایا جانے لگا۔ رفتہ رفتہ اس کی مقبولیت بڑھتی گئی۔ اس میلے میں جامعہ نگر کی آبادی کے عام شہری بھی شریک ہونے لگے۔
جامعہ کے اس مقبولِ عام میلے کو اور بھی بہتر اور کامیاب کیسے بنایا جائے، اس ضمن میں جامعہ کے ذمہ داران نے قدسیہ زیدی کی خدمات او رمشورے حاصل کیے۔
قدسیہ زیدی کی ڈرامائی صلاحیتوں کے متعلق مختصراً جاننے کے لیے تھوڑا پیچھے مڑکر دیکھنا ہوگا۔ جیسا کہ آپ واقف ہی ہیں، قدسیہ کم سنی سے ہی اپنی بڑی بہن اور بہنوئی احمد شاہ بخاری یعنی پطرس بخاری کے ساتھ رہتی تھیں۔ بخاری صاحب کی ڈراموں اور ڈرامائی ادب سے خاصی دلچسپی تھی۔ جن کے قریبی دوستوں میں مشہور ڈراما نگار امتیاز علی تاج بھی شامل تھے جن کے ساتھ بیٹھ کر پطرس بخاری، شیکسپیئر، ابسن اور برنارڈ شا کے ڈراموں کے تراجم اور Adaptations یعنی ڈرامائی روپ تیار کر رہے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب قدسیہ زیدی لاہور کے Girls College کے ہاسٹل میں رہ کر B. A. کا کورس مکمل کر رہی تھیں۔ سننے میں آیا ہے کہ انھیں درسی کتابوں میں کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی، ہاں فکشن اور فنون لطیفہ سے متعلق کتابوں کا انبار ان کے پاس ضرور موجود رہتا تھا۔
بی اے کے امتحان سے فارغ ہوکر وہ بڑی بہن زبیدہ کے گھر لوٹ آئیں۔ اس گھر میں ان کی ملاقات کبھی مشہور پینٹر امرتا شیرگل سے تو کبھی فیض احمد فیض تو کبھی امتیاز علی تاج جیسے باکمال ادیبوں اور فن کاروں سے ہونے لگی۔ 1936میں بخاری صاحب آل انڈیا ریڈیو کے ڈائرکٹر جنرل مقرر ہوکر دلّی آگئے۔ دلّی کے ادیبوں ، فن کاروں کا ایک بڑا حلقہ پہلے سے ہی بخاری صاحب کا مدّاح تھا ۔ ان کی بزم یاراں میںکرنل بشیر حسین زیدی، بیرسٹر آصف علی ، ارونا آصف علی جیسے نہ جانے کتنے اعلیٰ تعلیم یافتہ حضرات شامل تھے۔ کرنل بشیر حسین زیدی نے اپنی بے پناہ خوبصورت منگیتر کے ناگہانی انتقال کے بعد ہمیشہ کے لیے شادی سے انکار کر دیا تھا۔ وہ خاصے بردبار ، سنجیدہ ، خاموش طبیعت اور باوقار انسان تھے اور رامپور ریاست کے وزیر اعظم بھی تھے۔ پطرس بخاری کی ادبی، ثقافتی محفلوں اور دعوتوں میں قدسیہ زیدی بھی موجود رہا کرتیں۔ ان کی ارونا آصف علی سے خوب بنتی تھی۔ سنا ہے کہ ایک دن کچھ ایسا ہوا کہ ارونا آصف علی نے کرنل زیدی کو قدسیہ سے نکاح کے لیے رضامند کرلیا ۔ یہ رشتہ بہر حال طے ہوا جب کہ عمر اور مسلک میں خاصہ فرق تھا۔ ان سب کے باوجود یہ ایک کامیاب شادی ثابت ہوئی۔
رامپور کے نواب رضا علی خان کی قیادت میں رامپور سے بارات ایک خاص پرائیویٹ ریل گاڑی کے ذریعے 12اکتوبر 1937کو دلّی کے کشمیری گیٹ پہنچی۔ نکاح کے بعد قدسیہ رامپور رخصت ہوئیں۔ نیا ماحول ، رامپور ریاست کی نئی فضا، لکھنوی تہذیب کا بول بالا، موسیقی، مشاعروں کی حسین محفلیں، کتھک کی مشہورِ زمانہ رقاصائیں اور ان کے لطیف رقص کی محفلیں، بیگمات کی محفلوں میں بھاری زیورات اور بھاری جاماوار لباس کے نت نئے جلوے، ایران سے بخارا تک کے عمدہ جلوے، روزانہ طرح طرح کی تفریحیں، تقریبیں اور دل لگی کے نت نئے نئے سلسلوں کے علاوہ وسیع شاہی مغلیہ طرز کے دسترخوان کے جلوے۔ شاعری ، شکار، شربت، شیرینی ، شعرگوئی او رشاندار ادبی محفلیں و زبان و بیان پر بحث و مباحثے۔
رامپور میں مصروفیات کم اور سہولیات زیادہ تھیں۔ اردو کے کئی اساتذہ وہاں موجود تھے جن کی وجہ سے ان کی زبان میں خاصہ نکھار آیا، یہاں انھیں پڑھنے لکھنے کا موقع بھی زیادہ میسر آیا۔یہی وہ زمانہ تھا جب دورانِ فرصت قدسیہ زیدی کے ذہن میں کلاسیکی ڈراموں کے تراجم اور ڈراما روپ تیار کرنے کا خیال آیا۔ رامپور کی عوامی زبان، محل کی بیگماتی زبان، شعرا اور ادیبوں کی با محاروہ و سلیس ادبی زبان اور آس پاس کی بندیلی بولیوں ٹھولیوں سے شناسائی نے لکھنے کے لیے بہتر ماحول بنایا اور انھوںنے بچوں کے لیے کہانیاں لکھنا شروع کیا۔ لہٰذا چوہے سے چینٹیوں تک جانے کتنے دلچسپ اور زندہ جاوید کردار کاغذ کے حوالے کر دیے ۔ ’البیلی بچھیا‘،’ بن کے باسی‘،’ گاندھی بابا‘یہ اور ایسی بہت سی تحریریں اردو اور دیوناگری دونوں زبانوںمیں تیار ہوئیں اور تصویروں کے ساتھ چھپنے لگیں۔ قدسیہ طبیعتاً بہت نیک تھیں وہ کسی پر بلاوجہ رعب نہیں ڈالتی تھیں اور نہ کسی سے مرعوب ہوتی تھیں۔ انھیں ہر بات میں اعلیٰ معیار کا خیال ضرور رہتا تھا۔ ان کی شخصیت آئینے کی طرح شفّاف تھی ، غالباً یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے دور کے ہر ایک اہم شخص کی نگاہ میں مقبول ہوجاتی تھیں۔
رامپور ریاست جب جمہوریۂ ہند میں شامل ہو گئی تو رامپور ریاست کے وزیر اعظم کرنل بشیر حسین زیدی رامپور سے اٹھے اور دلّی آن بسے۔ اب وہ پھول پور سے پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے اور اسی کے ساتھ وہ ہندوستان کی آئین ساز کمیٹی کے باعزت ممبر بھی بنے۔ قدسیہ زیدی نے چلڈرن بُک ٹرسٹ کے بانی شنکر (Keshav Shankar Pillai) کی مدد کے لیے ہاتھ بڑھایا اور نتیجتاً بچوں کے ڈراموں کے ایک فیسٹول کا انعقاد کیا۔ اسی زمانے میں امتیاز علی تاج کے ذریعہ فرانسیسی سے اردو میں ترجمہ کی گئی کہانیوں پر مبنی ’چچا چھکن‘ کی پوری ڈرامائی سیریز 1954 میں قدسیہ نے لکھی جو تب سے آج تک اتنی ہی مشہور اور مقبول ہے۔
1954 میں ہی جامعہ کے مڈل اسکول کی اردو درسی کتاب کے ایک سبق ’نظیر اکبر آبادی ‘ پر مبنی ڈراما روپ بنانے کی ذمہ داری جامعہ کے ذمہ داران کی جانب سے اطہر پرویز کو دی گئی ۔ اطہر پرویز اس وقت مڈل اسکول میں اردو کے استاد تھے جو بعد ازاں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں استاد ہوئے اور جو ’الفاظ‘ نامی اردو جریدے کے مدیر بھی رہے۔ اس ڈرامے کو تیار کرتے ہوئے اس کے آخری ایام میں اطہر پرویز کے دوست، حبیب احمد خاں بمبئی سے دلّی تشریف لائے۔ حبیب ان دنوں ’اپٹا‘بمبئی میں بطور اداکار، ڈرامانگار، شاعر، گلوکار اور ہدایت کار اپنی پہچان بنا چکے تھے۔ وہ اطہر پرویز کے گھر پر ٹھہرے ہوئے تھے جو جامعہ میںجمنا کنارے دھوبیوں کی بستی (دھوبی گھاٹ) میں موجود تھا، اسی علاقے کو اب مسجد خلیل اللہ کہا جاتا ہے۔
حبیب احمد خاں شام کے وقت، وقت گزاری کی غرض سے اطہرپرویز کے ساتھ جامعہ مڈل اسکول پہنچے ، جہاں ڈرامے کی ریہرسل آخری ایّام پر تھی۔ ریہرسل دیکھ کر، حبیب نے ڈرامے میں دسیوں غلطیاں نکال دیں۔ اطہر نے پریشان ہوکر کہا’’اب تم ہی اپنی استادی کے ہاتھ دکھائو اور جتنا ممکن ہوسکے اپنے حساب سے اسے قابل قبول اوربہتر بنادو۔ چند دنوں بعدجب یہ ڈراما اسٹیج پر پیش کیا گیا تو وہاں، پروفیسر مجیب صاحب ، عابد حسین صاحب،صالحہ عابد حسین صاحبہ اور ڈاکٹر ذاکر حسین صاحب کے علاوہ بیگم قدسیہ زیدی بھی موجود تھیں۔
ڈرامے کی بے پناہ معیاری اور شاندار پیش کش نے نہ صرف سب کو متاثر کیا بلکہ حیران بھی کر دیا۔ شروع تا آخر اس قدر سدھے ہوئے اور کسے ہوئے ڈرامے کو دیکھ کر سب حیران تھے کہ آخر اتنا زیادہ معیاری ڈراما بچوں نے کیسے کر دکھایا۔ پیش کش کے بعد اطہر پرویز گھڑی کی چوتھائی میں تماشبین کی نظروں میں ہیرو ہو گئے۔ لیکن ان کی خودداری کو سلام کہ انھوں نے فوراً عتراف کیا کہ یہ کمال میرا نہیں بلکہ میرے دوست’’حبیب احمد خاں‘‘ کا ہے جو چپ چاپ وہاں بیٹھے مسکرا رہے ہیں۔ انھوںنے مزید بتایا کہ’ حبیب کا تعلق تھیٹر سے ہے او رخاص طور پر اپٹا بمبئی سے ہے اور گزشتہ دو برسوں سے تھیٹر ہی ان کا اوڑھنا بچھونا ہے‘ ۔ اس طرح پورا مجمع ذرا سی دیر میں حبیب احمد خاں سے جو ڈراموں کے علاوہ بطور شاعر مشاعروں میں ’حبیب تنویر‘ ہوا کرتے تھے سے واقف ہو گیا اوراس شام ان کی خاصی پذیرائی ہوئی ۔
جیسا کہ عرض کیا جاچکا ہے کہ اس ڈرامے کی پیش کش کے دوران تماش بینوں میں بیگم قدسیہ زیدی بھی موجود تھیں، بقول جناب مسعود الحق (انھوں نے بعد میں حبیب تنویر اور قدسیہ زیدی کے ڈراموں میں اداکاری کی)یہی وہ لمحہ تھا جب قدسیہ زیدی کے ذہن میں اس ڈرامے کو بالغوں کے ساتھ اسٹیج کرنے کا خیال آیا اور وہ بھی اس طرح مختصر نہیں بلکہ Full Length Play کی شکل میں اور جس میں تجربے کار اداکار شامل ہوں۔ یہی سوچ کر بیگم صاحبہ نے حبیب صاحب سے اس ڈرامے پر ازسرنو سوچنے، لکھنے اور اس کے امکانات پر بات کرنے کی دعوت دی۔ مسعود الحق صاحب ان دنوںجامعہ کے طالب علم تھے آگرہ بازار کی پہلی پیش کش میںبطوراداکار شامل تھے جو آخری سانس تک حبیب صاحب کے قریبی دوستوں میں شامل رہے اور انھوںنے 2012میں حبیب صاحب پر بہت سے مضامین کومرتب کرکے ایک اہم دستاویزی کتاب’حبیب تنویر کا رنگ منچ‘ اور2013 میں’نیا تھیٹر اورحبیب تنویر کے چھتیس گڑھی کلاکار‘ کوشائع کیا اور کتابوں کی اشاعت کے چند دنوں بعد ہی اللہ کو پیارے ہوگئے۔ گزشتہ بیس بائیس برسوںمیں جب کبھی بھی مسعود الحق صاحب کا ذکر آتا حبیب صاحب ان کی مہمان نوازی اور ان کے لذیذ کھانوں کا ذکر خوش ہوکر ضرور کیا کرتے۔
بیگم زیدی کی دعوت پر حبیب تنویر نے پورے اہتمام کے ساتھ نظیر اکبر آبادی کی شخصیت ، شاعری اور آگرہ کی روزمرہ زندگی پر ایک کامیاب ڈراما لکھا، جس میں نظیر کا ذکر شروع تا آخر تھا پر کمال یہ کہ نظیر بذاتِ خودموجود نہیں تھے۔ حبیب صاحب نے دوسرا کمال یہ دکھایا کہ ڈرامے میںنظیر کی شاعری کو بطور کردار پیش کیا۔(بعد کے شوز میں حبیب صاحب نے نظیر کے کلام کو پیش کرنے کے لیے ’پر شوتّم بھٹ کا کا‘ کو دریافت کیا جس کی آواز کا جادو ڈرامے کو اور بھی بلندی پر لے گیا)۔ یہ ایک انوکھا تجربہ تھا، جو کامیاب رہا اور سر چڑھ کر بولا۔ یہی تجربہ حبیب صاحب نے اپنی زندگی کے آخری پڑائو پر اصغر وجاحت کے تاریخی ڈرامے’جس لہور نئی ویکھیا ‘ میں ناصر کاظمی کی شاعری کے ساتھ بھی بہت کامیابی کے ساتھ کیا۔ ڈراما آگرہ بازار کی پیش کش ، سیٹ، لائٹس، لباس، موسیقی، میک اپ، وغیرہ سب کچھ بہت اعلیٰ اور معیاری تھا۔ اس ڈرامے کی ریہرسل غالباً جامعہ کے گُل مہر ایوینیوکے ٹیپو محل میں ہوا کرتی تھی۔ جب یہ ڈراما اسٹیج پر پیش ہوا تو تماشبین پر جادو چھا گیا ، انھیں اپنی آنکھوں پر بھروسہ نہیں ہورہا تھا۔ حبیب صاحب نے ایک موقع پر مجھے بتایا تھا کہ اس پیش کش میں بطور کردار جامعہ دھوبی گھاٹ کے دو گدھے اور ایک چھوٹا سا پلّا بھی شامل تھا۔ ڈرامے کے بیشتر کردار جامعہ سے ہی تھے۔ اس ڈرامے کی کامیاب ترین پیش کش کے بعد پروڈیوسر بیگم قدسیہ زیدی اور ڈرامہ نگار وہدایت کار حبیب تنویردونوں کو بے پناہ مقبولیت ملی۔ 1954کی اس بے پناہ کامیاب پیش کش نے رائے پور کے پٹھان حبیب احمد خاں کو ہمیشہ کے لیے ’حبیب تنویر‘ بنا دیا ۔
’آگرہ بازار‘ کی بے پناہ کامیابی کے بعد بیگم قدسیہ زیدی نے اپنے بہت سے ہم خیال دوستوں کو ساتھ لے کر 1954میں ’ہندوستانی تھیٹر‘ کی بنیاد رکھی۔ اس وقت ان کے ساتھ تھیں بیگم نواب پٹودی، بیگم چرت رام، بابا نیاز حیدر، زہرہ سہگل، ارشاد پنجتن، ایس ایم سیتھو، او پی ڈھینگرا، کسم بہل (حیدر)، آشا ویلنٹائن، اطہر پرویز، او پی کوہلی، موہنی ماتھر، مسعود الحق، ستیش سہگل، راجندر ناتھ اور کے کے کوہلی وغیرہ۔ یہ ایک طویل فہرست ہے ۔ بیگم زیدی کو جب جب اپنے کسی ڈرامے میں بھیڑ کی ضرورت یعنی Crowd Scene میںزیادہ لوگوں کی ضرورت ہوتی تو کناٹ پلیس سے ریگل سنیما کے سامنے جوتا پالش کرنے والے چار لڑکوں کو بھی بُلا لیا کرتیں۔ کے کے کوہلی مرحوم نے بہت کوششوں کے بعد ان کے نام یاد کرکے مجھے اپنے انتقال سے چند روز قبل ہی بتایاتھا کہ ان کے نام تھے ڈیوڈ(جس کا ایک ہاتھ ٹوٹاتھا)، گھیسو اور پیارے، چوتھے کا نام انھیں یاد نہیں آیا۔
جب ہندوستانی تھیٹر کا کام چل پڑا اور اس نے اپنی ریپٹری کمپنی بنا لی تو اسے جامعہ کے علاقے سے نکل کر شہر کے قریب اپنے لیے ریہرسل کی معقول جگہ کی تلاش شروع کی۔ اس زمانے میں سپریم کورٹ کے سامنے ’Low Cost Housing Exhibition Complex‘ تھا جہاں اب سپریم کورٹ میٹرو اسٹیشن ہے، وہیں ہندوستانی تھیٹر کی ریہرسل ہونے لگی، یہ جگہ منڈی ہائوس اور کناٹ پلیس سے بھی بہت قریب تھی۔
ہندوستانی تھیٹر کے باقاعدہ وجود میں آجانے کے بعد بیگم زیدی کو کلاسیکل ڈراموں پرمبنی اردو، ہندوستانی اور ہندی میں معیاری Scripts کی کمی شدت سے محسوس ہونے لگی۔ وہ خود کاغذ قلم لے کر بیٹھ گئیں اور اپنے ساتھ بابانیاز حیدر جیسے باکمال جینیس کو بھی شامل رکھا۔ اس طرح بہت جلد سنجیدگی سے مسلسل رات دن اِسکرپٹ پر کام ہونے لگا۔ ابسن کے Dolls House کو ’گڑیا گھر‘ کے نام سے ، Bernard Shawکے Pygmalion کو ’آذر کا خواب‘، Bertolt Brecht کے مشہورِ زمانہ ’Caucasion Chalk Circle‘ کو ’سفید کنڈلی‘ ، اسی طرح Brandon Thomas کے Charley’s Aunt کو’ خالد کی خالہ‘ کے نام سے ترجمہ کیا۔ ان ڈراموں کے معیاری تراجم میں بیگم زیدی نے کرداروں کو ہندوستانی نام دے کر ، ہندوستانی تماشبینوں اور اداکاروںکے ساتھ بنیادی انصاف کیا۔اس کے علاوہ بیگم زیدی نے امتیاز علی تاج کی جن دلچسپ فرانسیسی کہانیوں کے اردو تراجم کو انھوںنے دلچسپ مختصر ڈراموں کا روپ دیاوہ’چچا چھکّن‘ کے نام سے آج بھی اتنی ہی مقبول ہیں۔ اس کے علاوہ انھوںنے بچوں کے لیے درجنوں کہانیاں لکھیں۔
قدسیہ زیدی یہیں نہیں رکیں، انھوں نے سنسکرت کے کلاسیکل ڈراموں کے تراجم شروع کیے۔ کالی داس کے ابھیگیان شکنتلا کو ’شاکنتلم‘ کے نام سے اور شودرک کے مرچھ کٹیکم کو ’مٹّی کی گاڑی‘ کے عنوان سے ایک نئی زندگی بخشی۔ اسی کڑی میں آگے چل کر ’مُدرا راکشس‘ اور رام چرترم کو بھی ڈراما ئی روپ دیا، اور پھر اسی کے ساتھ خاص و عام کے لیے انھوں نے مہاتما گوتم بدھ کے زمانے کی مشہور داستان امر پالی کو خوبصورت اور کامیاب ڈرامے کی شکل دی، اس ڈرامے امرپالی کو وہ پورے ملک میں گھوم گھوم کر دکھانا چاہتی تھیں اور ان کی خواہش کے مطابق یہ ڈرامہ اپنی نمائش کے لیے ریل میں سوار ہوکر نکل پڑا، افسوس یہ سفر مکمل نہ ہوسکا۔ قدسیہ زیدی کے ناگہانی انتقال کے ساتھ یہ ڈرامہ بھی آگے نہ چل سکا۔ امرپالی کے ڈراما روپ اورترجمے و پیش کش پر ہر طرف سے لوگوں نے انھیں داد و تحسین سے نوازا۔
جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے 1954میں قدسیہ زیدی کے ایماں پر حبیب تنویر نے ’آگرہ بازار‘ کو ازسر نو لکھ کر اور اس کی ہدایت دے کر خوب شہرت کمائی اور اس کے بعد ہی انھوںنے فیصلہ کیا کہ انھیں لندن جاکر ’راڈا‘ Royal Academy of Dramic Arts میں داخلہ لینا چاہیے اور آئندہ اسی میدان میں زور آزمائی کرنی چاہیے۔ انھوںنے قدسیہ زیدی سے دو سال کی رخصت لی اور لندن چلے گئے۔حیرت کی بات ہے کہ اس وقت ان کے پاس نا تو اس کورس کی فیس کے پیسے تھے اور نہ ہی لندن کے کرائے کے۔ سُنا ہے کہ جانے کے ٹکٹ کے پیسے ڈاکٹر ذاکر حسین صاحب نے دیے تھے۔ میں نے جب بھی حبیب صاحب سے اس سلسلہ میں بات کرنی چاہی وہ مسکرا کر بات ٹال جاتے تھے۔ وہاں سے وہ 1957میں کورس کو مکمل کیے بغیر یوروپ کی سیر کرتے ہوئے اور مقامی تھیٹر کو دیکھتے ہوئے بالآخر واپس آگئے۔ بیگم صاحبہ، شودرک کے سنسکرت ڈرامے مرچھ کٹیکم کو جس کا ترجمہ انھوں نے ’مٹی کی گاڑی‘ کے نام سے کیا تھا، اسے بے صبری سے اسٹیج کرنے کے فراق میں تھیں۔ حبیب صاحب کے لندن سے لوٹتے ہی انھیں فوراً کام پر لگا دیا۔
حبیب تنویر کی ہدایت میں ’مٹی کی گاڑی‘ کی ریہرسل شروع ہوگئی ۔ اس بار معاملہ بہت پروفیشنل تھا۔ ڈرامے میں زہرہ سہگل ، او پی ڈھینگرا، آشا ولنٹائین جیسے اہم اداکاروں کے علاوہ ایس ایم ستھیو ڈرامے کا سیٹ بنا رہے تھے، اور قدسیہ زیدی کی بیٹی اور ڈرامے کی دنیا کی اعلیٰ تعلیم یافتہ شمع زیدی کے ذمے فن کاروں کالباس تیار کرنا تھا۔
لندن جانے سے پہلے حبیب تنویر والدین سے ملنے رائے پورنہیں جاسکے تھے اور ڈھائی سال بعد واپسی پر بھی ملنے نہیں جاسکے ۔ریہرسل کے درمیان حبیب تنویر تین چار دنوں کے لیے چھٹی لے کر والدہ سے ملنے اپنے آبائی وطن رائے پور چلے گئے۔ واپسی پر اپنے ساتھ وہاں کے دو چھتیس گڑھی مقامی اداکاروں، مدن لال اور لالو رام کو لیتے آئے اور انھیں ڈرامے میں اہم کردار دے دیئے۔ بیگم قدسیہ زیدی جب ڈراما دیکھنے AIFACS پہنچی تو انھیں یہ بات سخت ناگوار لگی کے ان چھتیس گڑھی سیاہ رنگت والے اداکاروں کو شامل کرنے کا حبیب نے مجھ سے ذکر کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا۔ یہی بات انھیں اس قدر بری لگی کہ دونوں کے درمیان نا اتفاقی بڑھتی گئی اور دونوں اسی بات پرایک دوسرے سے ہمیشہ کے لیے علیحدہ ہوگئے ۔
ہندوستانی تھیٹر میں حبیب تنویر کا قصہ تمام ہوا۔ اب بیگم قدسیہ زیدی کو ’شکنتلا‘ کی ہدایت کے لیے کسی باصلاحیت ہدایت کار کی تلاش تھی۔ اس کام کے لیے ان کی نگاہِ انتخاب مونیکا مشرا تک پہنچی جو امریکہ سے تھیٹر کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے بمبئی میں ابراہیم القاضی کی تھیٹر اکادمی میں کام کر رہی تھیں۔ انھیں دلّی بلا کر ’شکنتلا‘ کی اسکرپٹ دے دی گئی ۔ 1957 میں 30 اداکاروں کے ساتھ ، تین ماہ تک مسلسل ریہرسل چلتی رہی، اب اس کے خد وخال نظر آنے لگے تھے۔ ڈرامے کے کاسٹیوم کی ذمہ داری شمع زیدی کے ذمے تھی، قدسیہ زیدی کرداروں کے زیورات ڈیزائن کر رہی تھیں۔ نرملا جوشی نغموں کی دھنیں بنا رہی تھیں، یعنی خاصے لوازمات اور اہم ماہرین کے ساتھ ڈراما اپنی شکل اختیار کر رہا تھا۔
اس ڈرامے کی ریہرسل کے لیے محترمہ چرت رام نے اپنی عالیشان کوٹھی کا ایک وسیع اور شاندار کمرہ بیگم قدسیہ زیدی کے حوالے کر دیا تھا۔ غالباً یہ دلّی اسٹیج کا پہلا ڈراما گروپ تھا جس کے تمام اداکاروں اور دیگر ذمہ داران کو ایک محدود رقم ریہرسل تک آمدورفت کے طور پر دی جاتی تھی۔ ساری تیاریوں کے بعد ڈراما ’شکنتلا‘ اسٹیج پر پیش ہوا لیکن تماشبین جانے کیوں توقع سے اس قدر کم آئے کے ہال کی آدھی کرسیاں خالی رہیں۔ ڈراما خاصہ خرچیلا ثابت ہوا۔ اس کے اردو ترجمے پر بھی کچھ لوگوں کو اعتراض تھا۔ اس کے بعد مونیکا مشرا سے ایک اور ڈرامے ’چارلیز آنٹ‘ یعنی ’خالد کی خالہ‘ کی ہدایت کے لیے کہا گیا لیکن ان کے کام پر کچھ غلط فہمی کی وجہ سے ان کا ہندوستانی تھیٹر سے ہمیشہ کے لیے رشتہ ناطہ ختم ہوگیا۔ مونیکا اس کے بعد دلّی کے ایک گیراج میں رہ کر چھوٹے پیمانے پر اسکولوں میں ڈرامے کرنے لگیں، بعد ازاں حبیب تنویر بھی ان کے ساتھ آن ملے۔ دونوں نے ساتھ ساتھ کام کرنا شروع کیا۔ دونوں نے مل کر اپنا تھیٹر گروپ ’نیا تھیٹر‘ قائم کیا۔ دونوں کو ایک دوسرے کی قربت راس آئی اور 1962میں ان کی شادی ہو گئی ۔تھیٹر کی دنیا میں اس جوڑی نے بہت نام کمایا اور کئی بین الا قوامی بلندیوں کو بھی انھوں نے سر کیا۔
حبیب تنویرکے ہندوستانی تھیٹر کو چھوڑ کر جانے کے بعد وہاں کچھ دنوں خاموشی رہی پھر ہندوستانی تھیٹر نے سنبھالا اور شاکُنتلم کو ازسرِ نو اسٹیج کیا ۔ چوں کہ ملک کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کو کرنل زیدی اور بیگم زیدی سے خاصی قربت تھی اور وہ بیگم زیدی کے سبھی ڈراموں کو دیکھنے آتے تھے ، سنا ہے وہ شکنتلا کو تین بار دیکھنے آئے اور تیسری بار مصر کے صدر ’جمال عبدالناصر‘ کے ہمراہ ہال میں تشریف لائے۔آج کے دور میں یہ باتیں ناقابل یقین ہیں۔
اس کے بعد امرپالی کی پیش کش کے لیے ایس ایم سیتھو نے کمان سنبھالی۔ اسی زمانے میں کرنل بشیر حسین زیدی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر مقرر ہوئے ، اور اس طرح بیگم زیدی کبھی علی گڑھ تو کبھی دلّی میں رہنے پر مجبور ہوئیں۔ نتیجتاً دو کشتیوں کی سواری کے سبب وہ ہندوستانی تھیٹر کے ساتھ پورا پورا انصاف نہیں کر پا رہی تھیں۔
اسی کے ساتھ انھوںنے بے شمار ارادوں ، منصوبوں اور خواہشات کو پورا کرنے کا کام اپنے اوپرمسلط کر لیا تھا۔ ان منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے انھوںنے اپنے آپ کو بہت زیادہ تھکا لیا تھا۔ ان کی خواہش تھی کہ وہ ہندوستانی تھیٹر کا اپنا آڈی ٹوریم بنائیں۔ دوڑ بھاگ کرکے انھوںنے نئی دہلی ریلوے اسٹیشن کے قریب ایک زمین بھی حاصل کرلی تھی۔ انھوںنے اس خیالی آڈی ٹوریم کا نام ’سردار ولبھ بھائی پٹیل تھیٹر‘ سوچ لیا تھا ۔ اس پروجیکٹ کو پورا کرنے کے لیے انھوں نے بہت سے ماہرین سے رابطہ قائم کیا۔ اب انھیں اس کام کو پورا کرنے کے لیے ایک بڑی رقم درکار تھی۔ اس سلسلے میں انھوںنے بیگم پٹودی ، بیگم چرت رام، میڈم جوائے مائکل اور نہ جانے کتنوں کو راغب کیا کہ وہ سب مل کر کچھ ایسی تدبیر کریں کہ یہ منصوبوں میں بسا آڈیٹوریم وجودمیں آسکے۔
بیگم قدسیہ زیدی کیا گئیں، اپنے ساتھ ہندوستانی تھیٹر کے سارے خواب اور سارے منصوبوں کو بھی سمیٹتی گئیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے آپ میں ایک انجمن تھیں، ایک ادارہ تھیں۔ اردو ڈرامے کے جو اعلیٰ منصوبے ان کے پاس تھے، وہ یقینا اردو ڈرامے اور ہندوستانی تھیٹر کی تاریخ کو کچھ کا کچھ بنادیتے۔ ان کے یوں اچانک چلے جانے سے اردو ہندی ہندوستانی تھیٹر کے بہت سارے حسین سپنے ہمیشہ کے لیے ادھورے رہ گئے ورنہ تھیٹر کی تاریخ کے صفحات پر آج قصہ یقینا کچھ اور ہی ہوتا۔


Mr. Anis Azmi
C-62, Nar Vihar – 1
Sector – 34, NOIDA – 201307
Mobile: 9891535053
Email: anisazmi1@yahoo.co.in

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

اکبر، اقبال اور حسن نظامی مضمون نگار: قمر جہاں

اکبر، اقبال اور حسن نظامی قمر جہاں اکبر نے اپنی شاعری کے دور شباب ہی میں ملک گیر شہرت حاصل کر لی تھی۔ ان کے اصحاب اور معتقدین ملک کے

دکنی ہندو اور اردو، ماخذ: دکنی ہندو اور اردو، مصنف: نصیرالدین ہاشمی

 اردو دنیا، اکتوبر 2024 اب ہم ایسے دور کا تذکرہ کرتے ہیں کہ جبکہ سرکار آصفیہ کی سرکاری زبان فارسی سے اردو ہوگئی تھی، اردو کے رسالے اور اخبار شائع

قومی یکجہتی کا نمائندہ شاعر: نظیراکبرآبادی:جواد حسین

  بہت سارے باصلاحیت اور صاحب کمال لوگ کسی لابی یا گروپ کا حصہ نہیں بن پانے کی پاداش میں گمنامی کی زندگی گزارتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو جاتے