اردو دنیا،جولائی2026:
ہندوستان میں ہند آریائی، دراوڑ، منڈا اور تبتی برمی خاندان کی زبانیں بولی جاتی ہیں۔ یعنی ان لسانی خاندان میں سے ہر خاندان میں کئی کئی بولیاں اور زبانیں شامل ہیں، جیسے ہندی، اردو، پنجابی، سندھی، گجراتی ، مراٹھی، بنگالی وغیرہ ہند آریائی خاندان کی زبانیں ہیں جب کہ ملیالم، کنڑ ، تلگو اور تمل دراوڑ خاندان کی زبانیں ہیں۔ اسی طرح سنتھالی ، منڈاری، ہو وغیرہ منڈا خاندان کی زبانیں ہیں ۔ تبتی برمی زبانوں کے خاندان میں بوڈو، منی پوری ، قابل ذکر بولیاں ہیں۔
قدیم دراویدی تہذیب
دراویدی تہذیب کی ابتدا موہن جو داڑو، سندھ اور پنجاب کی قبل آریائی تہذیب اور قدیم تمل ادب سے ہوتی ہے۔ موہن جو داڑو اور ہڑپارسم الخط مغربی اور ہندوستانی براہمی سے اس کی مشابہت ، دراویدی تہذیب کی عظمت کا احساس دلاتی ہیں۔ سندھ اور جنوبی پنجاب کی تہذیب اور دراویدی بولنے والوں سے اس کا امکانی تعلق اس بات کا ثبوت ہے کہ دراویدی تہذیب ایک قدیم تہذیب ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ آریائی اور دراویدی طور طریقوں میں تخالف کا پہلو نمایاں ہے۔ لسانی سطح پر بھی آریائی اور دراویدی زبانوں میں نمایاں فرق ہے کیونکہ دراویدی زبانوں کا تعلق دراویدی لسانی خاندان سے ہے۔ جب کہ ہندوستان کی آریائی زبانوں کا تعلق ہند آریائی خاندان سے ہے۔ یہ فرق آریاؤں اور در اودوں کے تصادم کا سبب بھی بنتا رہا۔ ان سب کے باوجود ہند آریائی زبانوں نے دراویدی زبانوں کے لسانی اثرات کو قبول کیا اور دراویدی زبانوں کے زیر اثر اس میں کئی ایسی لسانی خصوصیات پیدا ہو گئیں جو دراویدی تھیں۔ مثلاً آریائی زبانوں میں معکوسی آوازوں کا استعمال غالباً دراویدی اثرات کا ہی نتیجہ ہے۔ ہندوستان میں آریاؤں کی آمد سے پہلے آریائی زبانوں میں معکوسی آوازوں کا استعمال نہیں ملتا۔ مثال کے طور پر فارسی میں معکوسی آوازیں مستعمل نہیں ہیں ۔ آریاؤں کی مقدس کتاب ’رگ وید‘ میں بھی معکوسی آوازوں کا استعمال برائے نام ملتا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہند آریائی زبانوں میں معکوسی آوازوں کا استعمال دراویدی زبانوں کے زیر اثر شروع ہوا۔
آسٹرک تہذیب (منڈ السانی خاندان)
آریاؤں کی آمد کے وقت منڈا لوگ سادہ زندگی بسر کرتے تھے۔ چھوٹی چھوٹی بستیوں میں رہتے اور معمولی کاشت کاری کرتے تھے۔ ان کے یہاں خیر وشر کے الگ الگ دیوتا تھے، پتھر کے ٹکڑے یا بھونڈی شکلیں ان کا مظہر تھیں ۔ وہ قربانی کے جانوروں کا خون یا اس کے بدلے سیندور یا کوئی دوسرا سرخ رنگ ان پر چھڑکتے تھے ۔ سماج اپنی ابتدائی حالت میں تھا۔ اشیا کی افراط تھی۔ ان حالات میں ان لوگوں میں (جس کا اندازہ بعد کے ہندوستانی مزاج کی خصوصیات سے ہوتا ہے ) ایک خاص انداز کی رواداری پیدا ہوگئی تھی اور ’جیو اور جینے دو‘ کا فلسفہ عام طور پر تسلیم کیا جاتا تھا۔ اس نسل کے لوگ جنھیں عام طور سے ’ آدی واسی‘ کہا جاتا ہے ، آج بھی جھارکھنڈ اور چھتیس گڑھ کے علاقے میں رہتے ہیں اور منڈ السانی خاندان کی زبانیں بولتے ہیں۔
تبتی برمی تہذیب
دراویدی بولنے والے داس دسیو (Dasa-Dasyu) اور منڈا لسانی خاندان کی زبانیں بولنے والے نشاد (Nisada) لوگوں کے علاوہ آریاؤں کو کوہ ہمالہ کے خطے میں اور شاید ہندوستان کے مشرقی علاقوں میں منگول تبتی ، چینی بولنے والوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ ویدی عہد سے ہی آریا ان کو کرات (Kiratas) کہتے تھے ۔ ایک عام خیال یہ ہے کہ کرات یا منگول یعنی ہندوستان کے منگول لوگ آریاؤں سے پہلے ہی ہندوستان آئے تھے۔ مشرقی اور شمال مشرقی ہندوستان کی ہندو تاریخ اور تہذیب کے ارتقا میں ان کا بڑا ہاتھ ہے۔ لیکن چونکہ یہ اس علاقہ تک محدود رہے ، لہٰذا ان کے نام اور اثرات ہندوستان گیر نہ ہوسکے۔ آج بھی اس لسانی خاندان کی زبانیں ہندوستان کے شمال مشرقی علاقوں میں بولی جاتی ہیں۔
ہند آریائی تہذیب
ہندوستان میں ہند آریائی تہذیب کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ اس تہذیب کی ابتدا 1500 ق م اس وقت شروع ہوئی جب آریائی نسل کے لوگ پہلی بار وسطی ایشیا کے علاقے سے ہندوستان میں داخل ہوئے اور اپنے ساتھ ایک ایسی زبان لائے جسے سنسکرت کا نام دیا گیا۔ گویا آج سے تقریباً 3000سال قبل ہندوستان میں سنسکرت زبان بولی جاتی تھی۔ جس نے دھیرے دھیرے پراکرت کا روپ اختیار کیا۔ یہی پراکرت، اپ بھرنش کی شکل میں نمودار ہوئی۔ اپ بھرنش کے دور کے بعد جدید ہند آرائی زبانوں کا ارتقا شروع ہوتا ہے۔
آریاؤں کی آمد
ہندوستان میں آریاؤں کی آمد کا سلسلہ، تاریخ کا بہت پرانا واقعہ ہے۔ لہٰذا اس سلسلے میں کوئی حتمی رائے دینا خطرے سے خالی نہیں۔ لیکن یہ بات بعید از امکان معلوم ہوتی ہے کہ اس واقعہ کو 2000قبل مسیح کے زمانے سے منسوب کیا جائے ۔ بعض ماہرین کا خیال تو یہ ہے کہ یہ بات اور بھی بعد کی ہوسکتی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوستان میں آریاؤں کی آمد کے متعلق کوئی حتمی رائے قائم کرنا دشوار ہے۔ کسی بھی غلط فہمی سے بچنے اور ہندوستان میں آریاؤں کی آمد کی تاریخ کو بخوبی سمجھنے کے لیے ہندوستان کی تاریخ کو عالمی تاریخ کا ایک حصہ ماننا پڑے گا، جو بالخصوص مشرق قریب کے ساتھ گہرا تعلق رکھتی ہے۔ ہمیں یہ معلوم ہے کہ عہد قدیم کی مہذب قوموں سے آریاؤں کا سابقہ 2000 قبل مسیح سے پہلے نہیں ہوا تو ہندوستان میں آریاؤں کی آمد کو اس سے بھی زیادہ قدیم بتانا بالکل غیر تاریخی بات ہوگی ۔ بہر کیف مذہبی جذباتیت کی بنا پر ہندوستان میں آریاؤں کی آمد کی متعین تاریخ بتانا ناممکن محسوس ہوتا ہے۔ لیکن پھر بھی اندازہ یہ ہے کہ آریاؤں کے پہلے گروہوں کی پنجاب میں آمد کا زمانہ 1500 ق م کے قریب رہا ہوگا ۔ جب آریا ہندوستان آئے تو یہ ملک آباد تھا اس میں بعض ایسی نسلیں یا قو میں ( دراوڈ ، منڈا، تبتی برمی) آباد تھیں جو تمدن کی بلندیوں تک پہنچ چکی تھیں۔ جب پہلی بار یہ نظریہ پیش کیا گیا کہ قبل تاریخ مسیح میں آریائی نسل کے لوگ ہندوستان پرحملہ آور ہوئے تو ہندوستان کے تعلیم یافتہ طبقے نے اسے بخوشی اور بآسانی قبول کرلیا کیونکہ آریاؤں کے حملے کے نظریے سے ان کی خود پسندی کو ٹھیس نہیں لگتی تھی اور وہ خود کو وسطی ایشیا سے آنے والے ان سفید فام مہذب آریائی فاتحوں کا وارث سمجھتے تھے جو غیر آرپائی سیاہ فام لوگوں کی سرزمین پر تمدن کی روشنی لے کر آئے تھے۔ نیز وہ یہ بھی محسوں کرتے تھے کہ آریائی یعنی ہند یورپی زبانیں بولنے والی اقوام کے ساتھ ان کا رشتہ ہے۔ انگریز مورخین اور ماہرین لسانیات اور ہندوستان میں دوسرے لوگوں نے بھی اس نظریے کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھا اور ’ہمارے آریائی بھائی‘ کہہ کر ہندوستانیوں کی سر پرستی کی ۔ ہندوستان کے تعلیم یافتہ طبقے نے اس نظریے کو اتنی آسانی سے ایک تو اس لیے قبول کر لیا کہ ان کے ذہن جامد اصولوں سے آزادی حاصل کرنے اور کسی بھی معقول معلوم ہونے والے نظریے کو ماننے کے لیے تیار تھے۔ دوسرے ان نچلے درجے کے لوگوں پر فوقیت و برتری کا احساس بھی اس کا سبب تھا جو ذات پات کے فرق اور تہذیب کی اس رنگارنگی سے پیدا ہوئے تھے جس نے آبادی کے اجزائے ترکیبی کو ایک متحد جماعت نہیں بننے دیا تھا۔ کچھ وہ احساس کمتری بھی اس کا سبب بنا جو یورپی اقوام کے ہاتھوں بعض بڑے معاملات میں شکست کی وجہ سے پیدا ہوا تھا۔ بہر کیف اندازہ یہ ہے کہ آریائی نسل کے لوگ ہندوستان میں آمد کے وقت اپنی آریائی زبان بولتے تھے اور دیوتاؤں کے اور اپنے سور ماؤں کی تعریف کے گیت اسی زبان میں گاتے تھے ۔ یہی ہند آریائی زبان وادب کی تاریخ کا نقطہ آغاز تھا۔
لیکن اس کا یہ مفہوم نہیں کہ ہندوستانی تمدن کی تشکیل میں غیر آریاؤں کا کوئی حصہ نہ تھا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس دور میں ہندوستان کی ترقی میں غیر آریائی لوگوں کا بھی حصہ تھا بلکہ بڑاحصہ تھا۔ شہروں میں بسنے والے غیر آریائی لوگوں کے سامنے آریہ محض خانہ بدوش وحشی تھے اور ملک کے بعض حصوں میں غیر آریہ ، آریاؤں سے کہیں زیادہ ترقی یافتہ اور مادی تمدن کے حامل تھے۔ یہ بات اب واضح ہوتی جارہی ہے کہ ہندوستانی تمدن کے تانے بانے میں غیر آریاؤں کا حصہ کہیں زیادہ ہے اور ہندوستان کی مذہبی و تہذیبی روایات نیز قدیم تاریخ اور داستانوں کا بڑا حصہ غیرآریائی ہے جسے آریائی زبان میں منتقل کر دیا گیا اور اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ایک عرصہ سے آریائی زبان سنسکرت کو فوقیت حاصل ہے۔ اگر چہ غیر ہند آریائی عناصر بھی اس میں گھل مل گئے ۔ مثال کے طور پر ہند و پوجا کی رسم ، اور ہندو مذہب و فکر کی اور بہت سی چیزیں غیر آریائی نظر آئیں گی۔ پرانوں اور رزمیہ داستانوں کا ایک بڑا حصہ اور نیم تاریخی واقعات قبل آریائی ہیں۔ ہماری مادی تہذیب اور معمولات کا ایک بڑا حصہ مثلاً ہمارے بعض اہم پودوں (جیسے چاول ) سبزیوں اور پھلوں جیسے املی اور ناریل وغیر کی کاشت، ہندو زندگی اور ہندو رسوم میں پان یا ناریل کا استعمال، اور عوامی مذہب کا بیشتر حصہ غیر آریاؤں کی دین ہے۔ عوامی دست کاری کے طریقے بھی غیر آریائی ہیں۔
ہند آرائی بولیاں
آریاؤں کی ہندوستان میں آمد تک ’ آریائی ‘یا ’ہند ایرانی‘ بولیاں، ابتدائی ہند یورپی زبان یعنیProto Indo Iranian زبان سے دو منازل آگے بڑھ چکی تھیں۔ ’ہند ایرانی‘ لسانی خاندان در حقیقت غیر منقسم ’ہند یورپی‘ لسانی خاندان کی ایک ذیلی شاخ ہے، اس کی متعین صوتی اور لفظی خصوصیات ہندوستان میں آریاؤں کی آمد کے بعد ’ہند آریائی‘ بولی میں محفوظ رہ گئیں۔ ایک عام خیال یہ ہے کہ ہند ایرانی منزل تقریباً 2000 ق م میں شروع ہوگئی تھی ۔ اپنی تاریخ کی اس دوسری منزل میں ہند یورپی ہمیں 1400 ق م تک میسو پوٹامیا کی متنی (Mitanni) اور دوسری قوموں میں نظر آتی ہے یہ آریائی زبان تھی جو اس منزل میں ایران پہنچی۔ یہ کہنا ذرا مشکل ہے کہ اس زبان میں آریائی نغموں کی ترقی یافتہ شکل کب قابل اعتنا ہو گئی۔ لیکن قدیم متن میں آریائی دیوتاؤں مترا، ورونا، اندرا، ناستیا کے نام اور بابل کے آریائی فاتحین قصبوں (Kassites) میں سوریہ کا نام اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ ان دیوتاؤں اور دوسرے آریائی دیوتاؤں کے بھجن میسوپوٹامیا میں ٹھہرنے والے آریائی قبیلوں کے علم میں تھے ۔ یہ بات بہر طور طے ہے کہ ’گائتری‘ اور بعض دوسری بحروں کا ارتقا ایران میں ہوا یا شاید اس سے بھی پہلے میسو پوٹا میا میں اس کی ابتدا ہو چکی تھی۔ ہند یورپی کی مختلف زبانوں کے بعض کتبے اور فقرے جو بظاہر موزوں معلوم ہوتے ہیں اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ ہند یورپی لوگ کسی نہ کسی زمانے میں شاعری سے ضرور واقف تھے۔ بعض ماہرین لسانیات نے ویدی کلام کا یونانی ڈرامے سے مقابلہ کر کے ان کی شعر گوئی کی نوعیت معلوم کرنے کی کوشش کی ہے اور اس کوشش میں وہ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ یہ شعر گوئی ہونانی اختراع معلوم ہوتی ہے۔ مشہور ماہر لسانیات ایس کے چڑجی کا خیال ہے کہ سنسکرت (ویدی) اوستائی، قدیم نورس (Old Norse) قدیم آئرستانی(Old Irish) اور ابتدائی لتھوانی شاعری سے معلوم ہوتا ہے کہ ہند یورپی نظم گوئی ہومر کے مسلسل مسدسی انداز پر نہیں تھی بلکہ اس پر ہند آریائی اثرات نظر آتے ہیں۔ ویدوں کی زبان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابتدائی ہندی یورپی روایت کے تسلسل کے نتیجے میں آریائی نظم بھی بندوں میں ہی لکھی جاتی تھی۔ اس کی وضاحت کے لیے وہ مزید کہتے ہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آریاؤں نے اسور بابلی تہذیب کے بعض عناصر اختیار کر لیے۔ مثلاً نشانات شاہی میں چھتر کا استعمال، بعض تعمیری اور آرائشی تفصیلات جو بہار کے ترہت علاقے اور مدھیہ پردیش کے سانچی کے فن میں نظر آتی ہیں، جس میں قدیم ہندوستانی لکڑی کے فن کو مغربی ایشیائی خصوصیات کے ساتھ پتھر میں منتقل کردیا گیا۔ بعض اسور بابلی الفاظ جو آریاؤں نے اختیار کرلیے تھے ویدی زبان میں ملتے ہیں مثلاً لفظ منا (mana) ’ایک پیمانہ‘ جو سامی منہ (minah) سے لیا گیا ہے۔ بال گنگادھر تلک نے دکھایا تھا کہ کس طرح بابلی روایتوں میں مذکور سانپوں کے نام ذرا سی تبدیلی کے ساتھ اتھروید میں راہ پاگئے ہیں۔
آریاؤں کی اصل جماعت کچھ دن ایران میں رہی پھر ان کے قبائل دو گروہوں میں تقسیم ہو گئے ۔ آج یہ بتانا دشوار ہے کہ اس تقسیم کی بنیاد کس حد تک قبائلی اختلافات پر تھی اور کس حد تک مذہبی اختلافات پر لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ آریا نسل کے لوگ دو گروہوں میں تقسیم ہو گئے ۔ ایک دیو کے پجاری تھے اور دوسرے ’اسور‘ یا ’اہور‘ (Asura/Ahura) کے۔ بہر صورت دیو کے پجاری آریاؤں نے ہندوستان میں ترقی شروع کی۔ آریاؤں کو اس سفر میں شاید مشرقی ایران کے داس دسیو (Dasa-Dasyu) کے لوگوں سے پنجاب کے علاقے میں جنگ کر کے اپنا راستہ بنانا پڑا۔ جب آریا مشرقی ایران کے داس دسیو سے جنگ کرتے ہوئے افغانستان کی سطح مرتفع اور ہند افغانی دروں سے گزر کر و پنجاب کے میدانوں میں داخل ہوئے تو ملک کے اصلی باشندوں سے ان کا پہلا سابقہ جنگ کی صورت میں پڑا۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب ، ہندوستان میں آریاؤں کا مرکز بن گیا اور اس طرح وہ غیر آریاؤں سے اپنا رشتہ استوار کرنے لگے۔ غیر آریائی لوگوں سے ربط اور ارتقا کے فطری تقاضوں سے آریائی زبان میں بھی تبدیلیاں آئیں۔ دھیرے دھیرے یہ آریائی ہند ایرانی شکل سے ہند آریائی میں تبدیل ہوگئی جس کی ابتدائی شکل کی نمائندگی رگ وید میں ہوتی ہے۔
رِگ وید
رگ یاسک و ید ایک ایسی مقدس کتاب ہے جس کی تشریح کی کوششیں ہزاروں سال سے ہوتی چلی آرہی ہیں لیکن آج تک اس کی مکمل اور صحیح تشریح نہیں ہو پائی ہے۔ رگ وید کی تشریح کے سلسلے میں شارح ’یاسک‘ (تقریباً 500 ق م) کا نام سر فہرست آتا ہے جس نے رگ وید کے چند اشعار کی شرح لکھنے کی کوشش کی ۔ یہ صحیح ہے کہ یا سک ہی رگ وید کا پہلا شارح نہیں ہے اس لیے کہ اس کی شرح سے چند دوسرے شارحین کے نام بھی ہم تک پہنچے ہیں جو اس سے پیشتر گزر چکے ہیں۔ لیکن ان کی تشریحات محفوظ نہیں رہ سکیں البتہ ان کے متعلق تھوڑی بہت معلومات ہم کو یا سک کی شرح ہی سے حاصل ہوتی ہیں۔ ان میں سے ’کوتس‘ نامی ایک شارح نے تو رگ وید کو بالکل ہی مہمل قرار دے دیا ہے اور مہملات رگ وید کی مثال میں چند الفاظ بھی لکھے ہیں جیسے امیک، یاد ومگن، جاریائی کا نسکا، وغیرہ یا سک نے اپنی شرح میں رگ وید کے اہمال سے تو انکار کیا ہے البتہ ایک ایک لفظ کے اشتقاق میں کتنی ہی متبادل تجویزیں پیش کرنے کے بعد اسے بھی کچھ الفاظ کا مطلب سمجھنے میں اپنی نارسائی کا اعتراف کرنا پڑا اور ’کوتس‘ کے مہملات کی فہرست میں چند اور الفاظ مثلاً دروی ہومی، ورتتی، دمونا ، جاٹیہ ، آٹنار، جا گروک وغیرہ کا اضافہ کرنا پڑا۔ نارسائی و کم فہمی کا یہ سلسلہ اس وقت سے آج تک برابر جاری ہے جو دیسی اور بدیسی شارحین کے یہاں دیکھا جاسکتا ہے۔
تشریح ’رگ وید‘ میں ان دقتوں اور دشواریوں کے دو خاص اسباب ہیں ۔ اول یہ کہ اس ایک کتاب میں دو سو سے زیادہ شاعروں کے بھجن شامل ہیں اور یہ شعرا ہندوستان کے مختلف علاقوں کے رہنے بسنے والے تھے بلکہ ان میں سے کچھ تو ایک ہی خاندان کی تین تین پشتوں سے تعلق رکھتے تھے۔ مکان و زمان کے اس تفاوت کے ساتھ انھوں نے اپنے بھجنوں میں ایرانی زبان کے علاوہ اپنے علاقوں کی رائج الوقت زبانیں بھی استعمال کی ہیں اور یوں رگ وید میں اتنی زبانوں کے نمونے جمع ہو گئے ہیں کہ اس کا مکمل طور پر سمجھ لینا کسی ایک شخص کے بس کی بات نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس کے شارحین جگہ جگہ رکتے اور قدم قدم پر لڑکھڑاتے ہیں اور آخر میں اپنی ناکامی کا اعلان کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
دیسی شارحین و یدک زبان کو ’دیووانی‘ سمجھنے کے باعث کبھی یہ تصور بھلا نہیں سکے کہ اس پاک اور مقدس زبان میں آریوں کی آبائی زبان قدیم کے ساتھ ساتھ غیر آریائی زبانوں کا پٹ بھی شامل ہو سکتا ہے اور بعض ماہرین لسانیات بھی مفروضہ قدیم ہند یورپی زبان سے اپنے فطری تعلق خاطر کی بنا پر رگ وید کے دیسی جزو پر اچھی طرح دھیان نہیں دے سکے ۔ غرض رگ وید کی تشریح میں اس کی لسانی رنگا رنگی ہمیشہ سے سد راہ رہی ہے جس سے بعض مقامات پر یہ الجھن بھی پیدا ہو جاتی ہے کہ دو زبانوں کے ہم آواز لفظوں کو دیکھ کر ان کے اشتقاق اور معنوی اختلاف کے با وجود بعض محققین ایک زبان کو دوسری سے مشتق سمجھنے لگے ہیں ۔ مثال کے طور پر بعض لوگ ’ہم‘ (پراکرت اسھ)کو سنسکرت ’اہم‘ (معنی میں) سے یہ کہہ کر نکالتے ہیں کہ سنسکرت لفظ کا الف گر گیا ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ سنسکرت لفظ ’اہم‘ کا تلفظ اوستا میں ’ازم‘ اور فارسی قدیم میں ’اوم‘ ہوتا ہے، اور پھر وہ ضرورت اور وہ وجہ بھی نہیں بتاتے جو اس کے سقوط کا تلفظ بالکل اسی سہولت کے ساتھ کرتے چلے آ رہے ہیں جس آسانی سے درمیانی یا آخری الف کو بولتے رہتے ہیں۔ یعنی وہ لوگ ابتدائی الف کے تلفظ پر پوری طرح قادر ہیں۔ اس کے علاوہ یہ مسلمہ امر ہے کہ زبانوں سے آوازیں اس طرح کبھی نہیں اُتر تیں جس طرح کاغذ سے حرف مٹائے، اُڑائے، کاٹے یا بگاڑے جاتے ہیں۔ رگ وید کی تشریحی دشواری کا دوسرا سبب اس کی کتابت کا وہ اصول ہے جسے لسانیات میں تبادل حروف کا نام دیا گیا ہے اور یہ سبب پہلے سے بھی زیادہ اہم ہے۔ بعض اوقات رگ وید میں دو مختلف التلفظ اور مختلف المعنی الفاظ ایک ہی مکتوبی شکل میں نظر آتے ہیں۔ مثلاً اس میں ایک لفظ ’دکش‘ ملتا ہے جس کا ایک مقام پر ایرانی تلفظ ’دش‘ (عبادت کرنا) ہے اور دوسرے مقام پر ہندوستانی تلفظ لا کھ (سو ہزار) ہے۔ اب یہ بات کہ کسی مقام پر ویدک ’مرگ ‘ جسے کلاسیکی سنسکرت میں عام طور پر ہرن کے معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے فارسی لفظ ’ مرغ‘ کی مکتوبی شکل ہے لیکن دوسرے مقام پر فارسی لفظ ’مرگ‘ (موت) کی۔ اب یہ شارحین کی بے بسی ہے کہ موت کے مفہوم میں جہاں اس کے خوف کا بیان ہوا ہے وہ لوگ ’مرگ‘ کے معنی ’شیر‘ لکھ کر تشریح کی خانہ پری کردیتے ہیں۔
باب کا خلاصہ
1 ہندوستان میں ہند آریائی، دراوڑ، منڈا اور تبتی برمی خاندان کی زبانیں بولی جاتی ہیں۔
2 دراویدی تہذیب کی ابتدا موہن جوداڑو، سندھ اور پنجاب کی قبل آریائی تہذیب سے ہوتی ہے۔ موہن جوداڑو اور ہڑپا رسم الخط، مغربی اور ہندوستانی براہمی سے اس کی مشابہت، دراویدی تہذیب کی عظمت کا احساس دلاتی ہیں۔ دراویدی تہذیب ایک قدیم تہذیب ہے۔
3 ہند آریائی زبانوں نے دراویدی زبانوں کے لسانی اثرات کو قبول کیا اور دراویدی زبانوں کے زیراثر اس میں کئی ایسی لسانی خصوصیات پیدا ہوگئیں جو دراویدی تھیں۔
4 منڈالوگ سادہ زندگی بسر کرتے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی بستیوں میں رہتے ہیںا ور معمولی کاشت کاری کرتے ہیں۔ اس نسل کے لوگ جنھیں عام طور سے ’آدی واسی‘ کہا جاتا ہے، آج بھی جھارکھنڈ اور چھتیس گڑھ کے علاقے میں رہتے ہیں اور منڈا لسانی خاندان کی زبانیں بولتے ہیں۔
5 ایک عام خیال یہ ہے کہ کرات یا منگول یعنی ہندوستان کے منگول لوگ آریاؤں سے پہلے ہی ہندوستان آئے تھے۔ آج بھی اس لسانی خاندان کی زبانیں ہندوستان کی شمال مشرقی علاقوں میں بول جاتی ہیں۔
6 ہندوستان میں ہند آریائی تہذیب کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ اس تاریخ کی ابتدا 1500 ق م اس وقت شروع ہوئی جب آریائی نسل کے لوگ پہلی بار وسطی ایشیا کے علاقے سے ہندوستان میں داخل ہوئے اور اپنے ساتھ ایک ایسی زبان لائے جسے سنسکرت کا نام دیا گیا۔
ماخذ: اردو لسانیات، مصنف: علی رفاد فتیحی، دوسری طباعت: 2018، ناشر: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی