نامور سنگھ اور ہندوستانی ادب کا پرامیتھیو س پریم چند ،مضمون نگار:قدوس جاوید

July 6, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا، جولائی2026:

نامور سنگھ ایک مارکسی نقاد رہے ہیں۔ ’’قومی تحریک آزادی اور پریم چند‘‘ کے عنوان سے اپنے ایک خطبہ / لیکچر میں مارکس اور مارکسی جمالیات کے حوالے سے جس طرح  پریم چند کو مرکز میں رکھ کر معاصر تخلیقی و تنقیدی ادب سے متعلق اظہار خیال کیا گیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نا مور سنگھ نے ’پریم چند ادب‘ کے ان بہت سارے سیاقات و محرکات  Contexts and Motivesکی نشاندہی کی ہے جن پر اب تک زیادہ توجہ نہیں دی گئی ہے ۔ پریم چند کی دائمی معنویت کے کئی نئے اور نا دیدہ پہلوؤں کی نشاندہی کرتے ہوئے نامور سنگھ نے جس طرح دلائل کے ساتھ پریم چند کو ہندوستانی ادب کا ’’پرامیتھیوس‘‘ (PROMETHEUS)  قرار دیا ہے، وہ پریم چند کی تفہیم و توضیح کے باب میں ایک ’قول فیصل کا حکم رکھتا ہے۔ اپنے اس دعوے کی تائید میں نامور سنگھ نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ پریم چند کا ادب ’مارکسی جمالیات‘ کی غیر جانبدارانہ تعبیر سے عبارت ہے ۔
 کارل مارکس کے نظریہ ادب سے تفصیلی بحث کرتے ہوئے نامور سنگھ نے اول تو یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ:
(’’لینن نے مارکسیت کے تین ماخذوں:
1۔جرمن  فلسفہ۔2 برطانوی معاشیات اور3۔ فرانسیسی اشتراکیت کا ذکر کیا ہے
لیکن مارکسیت کا ایک چوتھا ماخذ بھی ہے اور یہ چوتھا ماخذ شعر و ادب سے متعلق ’’یونانی تصور المیہ (Tragedy)ہے‘‘)
نامور سنگھ نے مارکس کے ڈاکٹریٹ کے مقالے ’’فطرت کے ڈیموکریٹین اور ایپی کیورین فلسفہ کا فرق (The Difference between the Democritean and Epi curean Philosopy of Nature) کی بنیاد پر مشہور یونانی ٹریجڈی ’’پرامیتھیوس باونڈ ‘‘ (Prometheus Bond)کے حوالے سے، لینن کے اس مفروضے کو درست قرار دیا ہے کہ ’’مارکس دنیا کی تاریخ کا دوسرا پرامیتھیوس تھا‘‘۔ پرامیتھیوس وہ باغی تھا جس نے نوع انسان کے لیے ’آگ‘ چُرائی تھی۔ اور اس جرم کی پاداش میں اسے ایک بے آب و گیاہ مقام پر چٹان سے باندھ دیا گیا تھا اور ’گِدھ ‘اس کے جسم کو نوچ نوچ کر کھا رہے تھے ۔ لیکن پرامیتھیوس نے ہمت نہ ہاری، اور ’پیٹرزیوس‘ (اقتدار) کے سامنے گھُٹنے نہیں ٹیکے، اور سزا جھیلتا رہا۔ نامور سنگھ کہتے ہیں:
’’مارکس کو لینن نے جو’ دوسرا پرامیتھیوس‘ کہا ہے تو اس کا جواز کیا ہے ؟  وہ کون سی’ آگ تھی جسے مارکس نے چرایا تھا؟۔
وہ آگ ’گیان ‘( علم و آگہی)کی آگ تھی۔ اور جیسا کہ کہا گیا ہے ’’گیان ‘ہی ’مُکتی‘ ہے‘‘، ’گیتا‘ میں گیان کو ’اگنی ‘(آگ) کہا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ، اس گیان کی آگ سے اپنے وجود کو پاک، مصفا اور مکمل کرو۔‘‘
(حضرت موسی بھی اپنی قوم کے لیے جس آگ کی جستجو میں گئے تھے، وہ یہی علم و آگہی کی آگ تھی)۔ لیکن اس وقت اس گیان کی آگ عام لوگوں کے لیے نہیں تھی، مارکس عرفان و آگہی کی اس آگ کو ہر طرح کی حد بندیوں سے آزاد کرکے استحصال زدہ عام لوگوں/دلتوں تک لے آیا تھا ’’اگیان ‘‘(جہالت) میں پڑے ہوئے ایک بڑے طبقے کو جسے ’’پرولتاری ‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے اسے مارکس ہی منظر عام پر لایا تھا۔ اسی لیے تاریخ میں مارکس کو’’ دوسرا پرامیتھیوس‘‘ کہا جاتا ہے۔ ہندوستانی ادب میں یہی فریضہ پریم چند نے انجام دیا۔ گھیسو اور مادھو (کفن) ہوری اور دھنیا (گئودان) جیسے ہندوستانی پرولتاری کرداروں کے مسائل و معاملات کی آگ کو گرفت میں لینے کی جرأت مندی کا مظاہرہ کرنے والے پریم چند کو ’’پرا میتھیوس ‘‘ قرار دینا غلط نہیں۔ جنم جنمانتر سے بھوک کے مارے دبے کچلے گھیسو اور مادھو کا سارا وجود ’شکم پُری (پیٹ بھر کھانا) کی ’للک ‘کا استعارہ بن چکا تھا، ’’مادھو کو اندیشہ تھا کہ وہ اگر (’دردِ زہ‘ سے مرتی ہوئی بُدھیا کو دیکھنے)کوٹھری میں گیا تو گھیسو (باپ) آلوؤں کا بڑا حصہ صاف کر دے گا۔۔۔ دونوں آلو نکال نکال کر جلتے جلتے کھانے لگے۔ کل سے کچھ بھی نہیں کھایا تھا ۔اتنا صبر نہ تھا کہ انھیں ٹھنڈا ہوجانے دیں۔ کئی بار دونوں کی زبانیں جل گئیں۔ )گھیسو کو اس وقت  ٹھاکر کی برات یاد آئی، جس میں بیس سال پہلے وہ گیا تھا۔ اس دعوت میں اسے جو سیری نصیب ہوئی تھی، وہ اس کی زندگی میں ایک یادگار واقعہ تھی، اور آج بھی اس کی یاد تازہ تھی۔ وہ بولا ’’وہ بھوج نہیں بھولتا، تب سے پھر اس طرح کا کھانا اور ’پیٹ بھر ‘ نہیں ملا‘‘) (افسانہ۔کفن)
ہندوستان کی غلامی کی سب سے زیادہ مار غربت اور استحصال کے شکار ہوری (گئودان) جیسے ان پڑھ کسان جھیل رہے تھے۔ تحریک آزادی کی باگ ڈور ولایت کے تعلیم یافتہ ان رئیس زادوں کے ہاتھوں میں تھی ،جن میں سے اکثر لوگوں نے کبھی گائوں نہیں دیکھا ہوگا ،اور جنھیں اس کا اندازہ بھی نہیں ہوگا کہ ہندوستان کے ہزاروں لاکھوں، لمہی‘ اور ’بیلاری ‘ جیسے جھاڑ، اُجاڑ گائوںمیں ہوری جیسے ’کسانوں کے ’’گھر ‘‘ کہلانے والے ٹھکانے کیسے ہوتے ہیں؟ 
تیسری دہائی کے وسط سے، جب ’کفن ‘اور گئودان کی تخلیق ہوئی آج 2026 تک آکر آزادی کے 75 سال بعد بھی گھیسو اور مادھو ، ہوری اور دھنیا کی حالت نہیں بدلی ہے ۔ رائے صاحب جیسے زمیندار ، ماتا دین جیسے د ھرم کے ٹھیکیدار اور اور مسٹر کھنہ جیسے مِل مالک  کے سبب اپنے ہی کھیت میں مزدور کی طرح کام کرنے اور نا مساعد حالات سے مقابلہ نہ کر پانے کی صورت میں ’موت ‘ کو گلے لگانے پر مجبور ہوجاتا ہے ۔
ایک ذمہ دار ہندوستانی ادیب کی حیثیت سے، پریم چند نے برطانوی Colonoial Diplomacy کے دھدھکتے ’’الائو‘‘ سے ’’دیسی واد‘‘ Nativenes کی آگ کو گرفت میں لے کر، افسانہ اور ناول کی صورت عام عوام کے سپرد کردیا تا کہ وہ مِن حیث القوم (ہندوستانی) اپنے ’اجتماعی وجود ‘کو غلامی، غربت و استحصال، جہالت اور احساس کمتری سے پاک کر سکیں۔ کیونکہ اس کے بغیر آزادی کا کوئی مطلب نہیں رہ جاتا۔ تحریک آزادی، اور سوراجیہ کے ماحول میں اپنے زمانے کی سیاست سے آگے چلتے ہوئے پریم چند نے ’’گوشئہ عافیت‘‘ میں آزادی کا واضح مطلب پیش کرتے ہوئے لکھا کہ:
’’آزادی کا مطلب ہے قومی آزادی، سیاسی آزادی، اور اقتصادی آزادی،لیکن ان سب سے زیادہ ضروری ہے مکمل ذہنی اور نظریاتی آزادی،۔ جب تک کسان کو اس کے فرسودہ خیالات سے آزاد نہیں کیا جائے گا، تب تک سیاسی اور اقتصادی طور پر بھی کسان آزاد نہیں ہو سکتا‘‘۔   
اگر دیکھا جائے تو اندازہ ہوگا کہ اس طرح کے چیلنجنگ افکارو نظریات کے حوالے سے نامور سنگھ کا، پریم چند کو ہندوستانی ادب کا پرومیتھیوس قرار دینا غلط نہیں ہوگا ؟ ۔ نامور سنگھ نے اپنے خطبے کے آغازمیں ہی واضح کر دیا ہے کہ:
 ’’۔۔۔۔پریم چند ہماری جنگ آزادی کے انوکھے اورعظیم کہانی کار تھے۔ اور اس میدان میں پورے ہندوستانی ادب میں اپنا نظیر نہیں رکھتے تھے۔ 6،1905 کے’ بنگ بھنگ‘ (تقسیم بنگال ) سے لے کر 1936تک جب پریم چند کی وفات ہوئی اس پورے عرصے میں، ہندوستانی زندگی کی د ھڑکن ، دُکھ درد ، جدوجہد اور شکست و فتح کو پوری گہرائی اور وضاحت کے ساتھ اگر آپ کسی ہندوستانی ادیب کے یہاں ڈھونڈنا چاہیں تو رابندر ناتھ ٹیگور، شرت چندر، سُبرا منیہ سوامی اور وی ایس کھاندیلکر کے ہوتے ہوئے بھی میں پریم چند کا نام لوں گا۔کیونکہ یہی وہ واحد ادیب ہیں جن کے ادب میں جنگ آزادی کی داستان پوری تفصیل کے ساتھ بیان ہوئی ہے ۔
پریم چند نے ترقی پسند مصنفین کی پہلی لکھنؤ کانفرنس  (1936) میں ’’حسن کا معیار ‘‘بدلنے پر اصرار کرتے ہوئے، ادب کی اہمیت کے بارے میں ایک اور جملہ بھی کہا تھا کہ ’’ادب، سیاست کے آگے مشعل لے کر چلنے والی سچائی ہے‘‘۔ پریم چند کی کہانی ’’دنیا کا انمول رتن ‘‘میں معشوقہ اپنے عاشق سے کہتی ہے‘‘۔
’’میں اپنا پیار تمہیں اس وقت دوں گی جب تم مجھے ’دنیا کا سب سے انمول رتن‘ لا کے دوگے‘‘ ۔
عاشق جب واپس لوٹتا ہے ، تو تین چیزیں لے کر لوٹتا ہے ۔ ایک وطن کے لیے پھانسی پر چڑھے ہوئے آدمی کے’ آنسو‘ ۔ دوسری ,شوہر کے ساتھ جل جانے والی بیوی کی’ راکھ ،اور تیسری چیز شہید ہو جانے والے راجپوت کے’ لہو کی ایک بوند۔‘ یہی تین چیزیں پریم چند کی نظر میں ’’دنیا کے سب سے انمول رتن‘‘ ہیں‘‘ ۔
 نامور سنگھ نے ’حب الوطنی اور وطن کے لیے قربانیوں پر مبنی ابتدائی کہانیوں کے حوالے سے ایک اہم بات کہی ہے کہ:
’’جنگ آزادی کے اس دور کو بعض مورخین نے چند انقلابی لوگوں سے جوڑ  کرMilitant Nationalism,Revivalism کا نام دیا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ جدو جہد آزادی سے وابستہ مختلف اور متضاد فکر کے لوگ تھے مثلاً دادا بھائی نوروجی اور گوکھلے، جو مغرب کے جدید فکر و فلسفہ اور سیاسی نظریات کو اپنانے کے حق میں تھے (سر سید کا شماربھی ایسے ہی دانشوروں میں ہوتا ہے) دوسری جانب لوک مانیہ تلک تھے جو مغرب کے کٹر نقاد تھے۔ پریم چند کے ادب میں مشرقیت بنام مغربیت کا یہ تصادم نمایاں ہے، نامور سنگھ کہتے ہیں کہ:
’’پریم چند اپنے ادب میں ’’نشاۃ ثانیہ ‘‘کی توسیع کرنے والے مجاہد آزادی تھے ۔پریم چند اپنی ابتدائی کہانیوں میں کسی مخصوص قومیت پسندی یا اندھی قومیت پسندی کی حمایت نہیں کر رہے تھے بلکہ وہ اس دور کے عوام کے اندر کے تیاگ اور قربانی کے جوش و جذبے کی کہانیاں لکھ رہے تھے‘‘۔
1917کے روسی انقلاب کے بعد ہندوستانی سیاست کے ساتھ ساتھ ہندوستانی ادب میں بھی نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ پریم چند اس سے پہلے ہی ’سیوا سدن ‘ (بازار حسن) لکھ کر شہرت کی بلندیوں پر پہنچ چکے تھے۔ پریم چند نے ’بازار حسن ‘میں محض ایک طوا ئف (سُمن( کی کہانی نہیں پیش کی ہے بلکہ ان اسباب کو نمایاں کیا ہے جو عورت کو طوائف بننے پر مجبو ر کرتے ہیں۔ (اردو میں رُسوا کے ناول اُمرائوجان ادا سے لے کر منٹو کے، ’خوشیا، ’ہتک، اور کالی شلوار جیسے کئی افسانوں میں، ان اسباب کی گِرہیں کھولنے کی کوششیں نظر آتی ہیں)۔ بازار حسن میں ’سُمن کی بے راہ روی کے لیے اس کی اپنی کمزوریوں کی بھی نشاندہی کی ہے لیکن سُمن کے طوائف بننے کی اصل ذمہ داری  اس کے شوہر پر ہی ڈالی ہے۔ پریم چند ’عورت کے بارے میں ایک خوشگوار مثالی تصور رکھتے تھے، گئو دان کے مسٹر مہتہ کی زبانی پریم چند نے عورت کو ’ایثار کی مورت قرار دیا ہے۔ پریم چند کے ناول ’’گوشہ عافیت‘‘ کو اردو کا اولین ’’تانیثی ناول ‘‘ کہا جا سکتا ہے۔ 
پریم چند کا ادب  سیاست سے آگے تھا۔ 26جنوری 1930کو کانگریس کے لاہور اجلاس میں پنڈت جواہر لعل نہرو نے ’’مکمل سوراجیہ ‘‘ کے مطالبے کا اعلان توکر دیاتھا ۔ لیکن’ سوراجیہ کے خد و خال کیسے ہوں گے؟ آزادی کا مطلب کیا ہو گا؟ یہ سب طے کرنے میں کانگریس کو دس سال لگ گئے لیکن پریم چند ’’گوشہ عافیت ‘‘میں ہی یہ واضح کر چکے تھے کہ :
’سوراجیہ تمام سرمایہ دار سامنتی طاقتوں کو ختم کرنے کے بعد ہی حاصل ہو سکتا ہے‘‘۔
اسی طرح، حکومت کیا ہے؟What is Govt & State اس کی تعریف، عام کسان کی زبان میں پریم چند نے سیاست کی کتابوں سے الگ، بڑی سادگی سے طنزیہ (مز احیہ) انداز میں پیش کرتے ہوئے کہا :
’’پڑھے لکھے آدمیوں نے ایک تنظیم بنا رکھی ہے اسی کا نام حکومت ہے‘‘۔  
اکثر لوگوں کے لیے ’’جدو جہد آزادی‘‘ صرف غلامی کے خلاف ایک سیاسی آزادی کی جد و جہدتھی لیکن پریم چند نے  ایک قدم آگے بڑھ کر ’گوشہ عافیت ‘ میں لکھا کہ ’’آزادی کا مطلب ہے‘ قومی آزادی ،سیاسی آزادی، اور اقتصادی آزادی لیکن ان سب سے زیادہ ضروری ہے ذہنی اور مکمل نظریاتی آزادی‘‘۔ 
 پریم چند نے یہ سب اس وقت کہا جب کانگریس نے مطالبہ کیا تھا کہ بھوک سے مرتے کسانوں کا ’لگان‘ کم کیا جا ئے۔ پریم چند کا مو قف یہ تھا کہ، ’’کسانوں کا ’لگان‘ نصف ہوجانا ،ان کے لیے اتنا اہم نہیں ہے جتنا اہم کسانوں کی اندھی تقلید ،فرسودہ رسم و رواج ،نشہ کی لت، اور ٓاپسی تنازعہ سے نجات دلانا اور انھیں کارندوں، پٹواریوںاور دوسرے عملوں کے ظلم و ستم سے بچانا ہے۔‘‘ 
 پریم چند کو ابتدا میں اکثر ناقدین نے’ گاندھی وادی‘ بھی کہا تھا ۔لیکن یہ بات جُزوی طور پر ہی صحیح ہے۔ کیونکہ بحیثیت مجموعی آزادی کے حوالے سے گاندھی جی اور پریم چند کے تصورات میں قدرے فرق بھی محسوس ہوتا ہے۔ ’گوشہ عافیت ‘ سے اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔
پریم چند نے ’’طبقاتی عدم مساوات‘‘ کے علاوہ  اس دور کے ایک نہایت حساس مسئلہ ’’فرقہ وارانہ فسادات‘‘ پر بھی توجہ مبذول کی ہے۔ پریم چند نے بیسویں صدی کے مشہور اردورسالہ ’’زمانہ‘‘ میں ’’ آج کا زمانہ کیسا ہے ‘‘کے عنوان سے اپنے مضمون میں ’فرقہ پرستی کو جنگ آزادی کی راہ کی سب سے بڑی رُکاوٹ قرار دیاتھا۔
  پریم چند نے عام لوگوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ فرقہ واریت، انگریزی حکومت کی Divide & Rule کی حکمت عملی  کے تحت پھیلایا گیا ایک جال ہے۔
 پریم چند کے زمانے میں فرقہ پرستی کے علاوہ ’ہریجنوں (دلتوں)‘کا عام مندروں میں داخلہ بھی ایک بڑا مسئلہ تھا۔ پریم چند نے ’میدان عمل ‘ میں اس مسئلے کو بڑے دلچسپ انداز میں پیش کیا ہے
’’اُس دن  ہری جن مندر میں گھُس گئے، پُجاری  بہت خوش تھا کہ ’چڑھاوا  سب دن سے  بہت زیادہ ملا ‘‘
(لیکن پریم چند ہریجنوں اور اچھوتوں کے مسائل کا حل صرف مندروں میں ان کے داخلہ کو نہیں سمجھتے تھے۔ اس ضمن میں پریم چند کی ایک چھوٹی سی کہانی ’’ٹھاکر کنواں ‘‘ بے حد اہم ہے ۔ اس میں جوکھوں نامی ہریجن کسان اور اس کی بیوی ’گُنگی‘ کی کہانی پیش کی گئی ہے۔ بیمار کھوجوں جب پانی مانگتا ہے تو گُنگی دیکھتی ہے کہ گھر میں رکھا پانی گندہ اور بدبو دار ہے وہ جوکھوں کو وہ پانی پینے سے منع کرتی ہے اور اندھیرا ہونے کے بعد تازہ پانی لانے کے لیے ’ٹھاکر کے کنواں‘ تک پہنچ جاتی ہے۔ ’’اس نے پانی کھینچ لیا ۔ اسی وقت اچانک ٹھاکر کے گھر کا دروازہ کھُلا ۔۔۔گُنگی کے ہاتھ میں ڈور تھی، لوٹا تھا، (گھبراہٹ میں ) وہ چھوٹ گیا۔ بھاگتے ہوئے گھر آکے گُنگی نے دیکھا کہ ’جوکھوں وہی بدبو دار پانی پی رہاہے‘‘)
پریم چند ، ہریجنوں اچھوتوں کو ایسی تمام مجبور یوں سے نجات دلوانا چاہتے تھے ۔ پریم چند کا ادب تحریک آزادی کو ایسے ہی تعمیری سانچے میں ڈھالنے سے عبارت ہے ۔
نامور سنگھ کے مطابق، ’’تحریک آزادی کچھ کمزور ہوئی تو پریم چند نے چوگانِ ہستی ‘‘ لکھا ۔ اس ناول کا مرکزی کردار سور داس جان سیوک کسانوں کو متحد کرنے کی کوشش کرتا ہے اس وقت کے تناظر میں سورد اس جنگ آزادی کا ایک جری’ ہیرو ‘کے طور پر سامنے آتا ہے۔ پریم چند نے اس ناول میں اپنا نظریہ ادب واضح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:
’’ادب وہ مشعل ہے جو سیاست کے آگے چلتا ہے‘‘۔
  تحریک آزادی کے حوالے سے نامور سنگھ نے بجا طور پرکہا ہے کہ ’’1930کا سال بہت اہم سال ہے۔ اسی سال ’’سوراجیہ‘‘ کا اعلان کیا گیا ،اسی سال ’گاندھی۔ اِروِن‘ سمجھوتہ ہوا۔ انقلابیوں کی رہائی کے لیے  کارگر کوشش نہیں کی گئی اور عظیم مجاہد آزادی بھگت سنگھ کو پھانسی دے دی گئی اور کچھ ہی دنوں کے بعد الفریڈ پارک میں چندر شیکھر آزاد کو بھی گولی مار کر شہید کر دیا گیا۔ یہی وہ وقت ہے جب پریم چند ’’گاندھی واد ‘‘کے دائرے سے باہر آتے نظر آتے ہیں ناول’’ غبن‘‘ اسی زمانے میں منظر عام پر آتا ہے۔ 
نامور سنگھ اپنے اس خطبے کا اختتام اس  فیصلہ کُن جملے پر کرتے ہیں کہ، ’’1907سے 1936تک اس جنگِ آزادی میں کتنے رنگ اور کتنے دور آئے لیکن ہر ایک موقع پر پریم چند سیاست کے پیچھے نہیں، آگے ہی تھے پریم چند نے قومیت کا درس اسی طرح اپنے ادب میں دیا تھا۔‘‘
 دراصل نامور سنگھ نے  پریم چند کے ادب کے ہمہ جہت امتیازات اور ان کی عصری  معنویت کو جس طرح تہہ در تہہ کھولاہے اس سے و ا ضح ہو جاتا ہے کہ  پریم چند کا ادب صرف دیش بھکتی اور گاندھی واد کی تعلیم نہیں دیتا ،صرف جنگ آزادی کی کہانی  بیان نہیں کرتا بلکہ ان کا ادب  عام عوام  کے لیے کام کرنے والے رہنمائوں اور دانشوروں کو درس بھی دیتا ہے کہ کس طرح طبقاتی تفریق ، فرقہ واریت ، سرمایہ دارانہ نظام اور استحصالی رویوں کو ختم کر کے ایک آدرش آزاد  ہندوستان کی تشکیل کی جا سکتی ہے ۔  پریم چندنے اپنے ادب میں اسی کے لیے جدو جہد کی تھی ۔ اسی بنا پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ پریم چند ہندوستانی ادب کا ’’پرامیتھیوس‘‘ تھا اور مارکسی نقاد پروفیسر نامور سنگھ نے اس سچائی کو نہایت  خوبی سے  ثابت کیا ہے ۔ 
Prof. A. Q. Jawaid
Prof. Quddus Jawaid27, Green Hills Colony, BathindiJammu- 181152 (J&K)
Mob. 9419010472, 9018618504
Email: jawaidquddus@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

کفن کی ایک اور قرأت،مضمون نگار:ارشاد نیازی

اردو دنیا،جولائی 2026: پریم چند نے دلت مسائل پر اس وقت لکھنا شروع کیا، جب دلت مسائل جیسی کوئی چیز سماج میں موجود نہیں تھی۔ اردو کیا اور ہندی کیا؟

ماحولیاتی تنقید:مسائل و امکانات،مضمون نگار:محمد اویس ملک

اردودنیا،جنوری 2026: تنقیدروایتی سے جدید اور جدید سے مابعد جدید ہوگئی لیکن پھر بھی تنقید کا منصب وہی ہے، یعنی تنقید کا مقصد آج بھی فن پاروں کا تعین قدر

پریم چند: قلم کا سپاہی:چند مباحث،مضمون نگار:شہزاد انجم

اردو دنیا، جولائی 2026: پریم چند شناسی کے تعلق سے جن دو کتابوں کی حیثیت بنیادی ہے، ان میں پہلی کتاب پریم چند کی اہلیہ شیو رانی دیوی کی ’’پریم