بھوشن،مضمون نگار:منشی پریم چند

July 10, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا، جولائی 2026:

بھوشن ہندی شاعری کے خاقانی ہیں۔ انھوں نے اپنا سارا کمال مدح سرائی میں صرف کیا ۔ اس رنگ کے سوا انھوں نے کسی دوسرے رنگ میں فکر سخن نہیں کی۔ لیکن محض سیم و زر کی خواہش انھیں قصیدہ گوئی پر آمادہ نہ کرتی تھی۔ وہ حب وطن، شجاعت، کارہائے مردانہ، قومی غرور کے ثناگر تھے۔ اور جس کسی کو انھوں نے ان اوصاف سے آراستہ پا یا اُس کی ستائش دل کھول کر کی۔ وہ اورنگ زیب اور شیواجی کا زمانہ تھا کہیں ہندوؤں پر جزیہ لگتا تھا۔ کہیں ان کے مندروں کی بے حرمتی کی جاتی تھی۔ راجپوتانہ اور دکن میں ہندو سرکشی پر آمادہ تھے۔ ہندوؤں اور مسلمانوں میں مخالفت اور عناد کا شعلہ دہک رہا تھا۔ مظلوم ہندوؤں کا حامی اور معاون کوئی نہ تھا۔ صرف شیواجی ہی ایک ایسا بشر تھا جو اس طوفان میں ہندوؤں کو سنبھالے ہوئے تھا۔ اُس کے معرکوں کو غارتگری کہیے۔ قزاقی کہیے لیکن چونکہ وہ مسلمان بادشاہ کی مخالفت میں ہوتے تھے۔ اس وجہ سے ہندووں کی نگاہ میں وہ قوم پرور قوم پرست۔ قومی شہید بن رہا تھا۔ وہ ہندوؤں کی گرتی ہوئی دیوار کا ستون ڈوبتی ہوئی کشتی کا ناخدا سمجھا جاتا تھا۔ ہر ایک سچا شاعر اپنے زمانہ کا مرقع ہوتا ہے۔ وہی حرارت جو عوام کے دلوں میں ساری رہتی ہے۔ اس کے دل میں شعلہ زن ہو جاتی ہے۔ شیواجی اگر بھوشن کا ممدوح بنا تو یہ ایک قدرتی امر تھا۔ بھوشن نے شیوا جی کی تعریف اس لیے نہیں کی کہ وہ ایک صاحب ثروت راجہ تھا۔ اور شاعر کے کمال کی داد دے سکتا تھا۔ بلکہ اس لیے کہ وہ پامال ہندوؤں کا دوست اور ان کا سہارا تھا۔ قدیم شعرا میں جس قدر قومیت کا رنگ بھوشن کے کلام میں موجود ہے اتنا کسی دوسرے شاعر کے کلام میں نظر نہیں آتا صف اول کے ہندی شعرا میں یا تو بھگتی کا مذاق غالب تھا۔ یا حسن و عشق کا۔ سورداس، تلسی بھگتی کی طرف۔ جھکی بہاری کیشو دیو وغیرہ حسن و عشق کی طرف۔ فی الجملہ ہندی شاعری اس الزام سے بری نہیں ہے جو اُردو شاعری کے نام پر ایک بدنما داغ ہے۔ بیشتر اہل کمال نے ہجر و وصال اور خط و خال کے دائرے سے قدم باہر نہیں نکالا۔ لیکن بھوشن کی پر غرور طبیعت۔ ان کی مردانہ اسپرٹ عشق اور بھگتی کے رنگ میں جولاں پذیر نہ ہو سکی۔ جانبازی اور شجاعت کا رنگ ان کے لیے زیادہ موزوں تھا۔ اور اس رنگ میں وہ ہندی دنیا میں فرد ہیں۔ پرتھوی راج کا رفیق چندر بردائی بھی اس رنگ کا شاعر ہے۔ لیکن اس کا کلام اس قدر متروک الفاظ سے پر، اتنا ادق ہے کہ اس کی زبان کو ہندی بھاشا کہنا ہی نہ چاہیے ۔ آج کل کے معمولی ہندی جاننے والوں کے لیے ان کا کلام عربی سے کم نہیں۔
بھوشن کانیہ کبج برہمن تیواری تھے۔ ان کے باپ کا نام رتنا کر تھا۔ یہ چار حقیقی بھائی تھے ۔ ان کے بڑے بھائی کا نام چنتا من تھا۔ دو چھوٹے بھائیوں کے نام متی رام اور جٹا شنکر۔ ضلع کانپور تحصیل گھاٹم پور کے موضع تکوان پور میں رہتے تھے۔ کانپور سے ایک سٹرک گائم پور ہوتی ہوئی ہمیر پور کو جاتی ہے ۔ گھاٹم پور سے سات میل پر ایک مقام سیجتی پڑتا ہے سیجتی سے تکوان پور صرف دو میل پر واقع ہے۔ قیاساً یہ 1636 میں پیدا ہوئے ۔ اور 1715 میں انتقال کیا۔ اس خاندان پر ہمہ آفتاب کی مثل صادق آتی ہے ۔ باپ بھی شاعر اور چاروں بیٹے بھی شاعر ان میں متی رام اور بھوشن تو ہندی کی صف اولیں کے بیٹھنے والے ہیں۔ ایسے با کمال خاندان کم دیکھنے میں آتے ہیں۔ بھوشن کا اصلی نام معلوم نہیں تخلص نے اصلی نام کو مٹا دیا۔ لیکن یہ یگانہ روز گار شاعر بیس برس کی عمر تک لہو اور لعب میں مصروف رہا۔ یا تو کس نے تعلیم دینے کی فکر نہ کی۔ یا اس کی طبیعت خود نفور تھی۔ بڑے بھائی چنتا من کی کمائی پر بسر اوقات تھی۔ ایک روز یہ بیفکر نوجوان کھانے بیٹھا تو بھاوج سے نمک مانگا۔ بھاوج نے نمک تو نہ دیا۔ زخم پر نمک چھڑک دیا۔ نکھٹوؤں کی یہی گت ہوا کرتی ہے۔ بھوشن کی غیور طبیعت ان سخن ہائے تیز کی متحمل نہ ہو سکی۔ یہ اسی دن سے تحصیل علم میں محو ہو گئے۔ اور آٹھ دس سال کی ریاضت شاقہ نے انھیں عالم اور شاعر دونوں ہی بنا دیا۔ اب کسب معاش کی فکر ہوئی۔ قدرداں کی تلاش میں نکلے چتر کوٹ اس زمانہ میں بڑی ریاست تھی۔ ہر دے رام سولنکی وہاں کے راجہ تھے۔ بھوشن اُن کے دربار میں آئے۔ راجہ نے ان کی خوب خاطر و مدارات کی۔ اور بھوشن کا لقب عطا کیا۔ یہاں کئی سال تک بھوشن اُس کے دربار کے رتن بنے رہے۔
یہ روایت بیان کی جاتی ہے کہ چتر کوٹ سے بھوشن اورنگ زیب کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اور اسے راہ راست پر لانے کی کوشش کی۔ لیکن وہ ان کے ساتھ ایسی کج خلقی سے پیش آیا کہ یہ اسے برسر دربار نشانہ ملامت بنا کر وہاں سے چل کھڑے ہوئے۔ یہ روایت قرین قیاس نہیں معلوم ہوتی۔ جب ہندوؤں کی مخالفت کا خوف بلوے اور بغاوتیں اورنگ زیب کے لیے مصلح نہ ثابت ہو سکیں تو ایک شاعر کی کوشش کیا کارگر ہو سکتی تھی۔ وہ بھی ہندی شاعر کی۔ اور بالفرض اپنے کمال کے غرور میں بھوشن کو یہ جرات ہوئی بھی ہو تو اورنگ زیب ایسا شخص نہ تھا جو کسی شاعر کی ہرزہ درائی کا متحمل ہو سکتا۔ اور یہ تو ظاہر ہے کہ بھوشن شاہی دربار میں کوئی ذاتی تمنا لے کر نہ گئے ہوں گے۔ ہندوؤں پر اس وقت جو مظالم ہو رہے تھے انھیں دیکھتے کسی ہندو شاعر کو خواب میں بھی اورنگ زیب سے قدردانی کی امید نہ ہو سکتی تھی۔ غالباً بھوشن چتر کوٹ سے براہ راست شیواجی کے دربار میں پہنچے۔ اس وقت ان کا سن بتیس سال سے متجاوز ہو چکا تھا۔ کلام میں مہارت ہو گئی تھی۔ اپنے اوپر اعتماد تھا۔ کچھ شہرت بھی حاصل تھی۔ شیواجی سے ان کی ملاقات آداب دربار کے مطابق نہ ہوئی۔ یہ کسی مندر میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ شیواجی وہاں پوجا کرنے آیا۔ انھوں نے اسے پہچانا نہیں۔ لیکن اپنا تعارف کہ دیا شیواجی نے کچھ سننے کی خواہش ظاہر کی۔ انھوں نے شیواجی کی شان میں ایک کبت کہا تھا۔ اُسے پڑھا۔ شیواجی اس کبت سے ایسا محظوظ ہوا۔ کہ دوبارہ پڑھنے کی فرمائش کی۔ بھوشن نے دوبارہ پڑھا۔ تیسری بار فرمائش ہوئی۔ بھوشن نے پھر تعمیل کی۔ غرض شیواجی بار بار فرمائش کرتا تھا۔ اور بھوشن بار بار سناتے تھے لیکن انیسویں بار ان کے تحمل نے جواب دے دیا۔ انھوں نے کچھ جھنجلا کر انکار کر دیا۔ اگر معلوم ہوتا کہ یہی شیوا جی ہے تو شاید وہ زیادہ صبر سے کام لیتے ۔ انکار سن کر شیوا جی نے افسوس سے کہا تمہاری تقدیر میں اٹھارہ لاکھ روپے ہی بدے تھے۔ ورنہ میں نے تو ارادہ کیا تھا کہ جتنی بار یہ کبت سناؤ گے اتنے ہی لاکھ روپے اور اتنے ہی موضعے عطا کروں گا۔ غرض بھوشن کو اٹھارہ لاکھ روپے اور اٹھارہ موضعے ملے۔ اصل حقیقت روشن ہونے پر بھوشن یقیناً پچھتائے ہوں گے۔ معلوم نہیں یہ روایت کہاں تک صحیح ہے۔ لیکن اگر صحیح ہے تو شاید شاعرانہ قدردانی کی ایسی مثال دنیا میں اور کہیں نہ ملے گی۔ شیواجی جوان باہمت شخص تھا نام و نمود کی تمنا بھی رکھتا تھا۔ ممکن ہے اس فیاضی سے اس نے سارے فرمانروایان ہند کے لیے ایک حد مانع کھڑی کر دی ہو۔ بہر حال شیواجی نے بھوشن کے کمال کی قرار واقعی داد دی اور انھیں اپنے دربار کا راج کوی بنایا۔ بھوشن ابھی تک بھاوج کے طعنوں کو بھولے نہ تھے۔ تیغ زبان کا زخم کبھی پر نہیں ہوتا۔ کہتے ہیں انھوں نے ایک لاکھ روپے کا نمک لے کر بھاوج کے پاس بھیج دیا۔ دیگر اوصاف نیک کی طرح غیرت بھی اعتدال سے گذر کر بغض پروری میں جاملتی ہے۔
شیواجی کے دربار میں بھوشن چھ سات برس رہے۔ اور اپنا کمال ممدوح کی قصیدہ گوئی میں صرف کرتے رہے۔ ’’شیو راج بھوشن‘‘ ان کی بہترین تصنیف ہے۔ وہ انھیں کبتوں کا مجموعہ ہے۔ وہ اب سرمد شعرائے ہند تھے۔ ان کی شہرت ہر ایک دربار میں پھیل چکی تھی۔ شہرت کے ساتھ دولت اور ثروت بھی حاصل تھی۔ جس کا بالعموم شعرا ہمیشہ رونا رویا کرتے ہیں۔ ساتویں برس وہ وطن کو لوٹے۔ راستہ میں بندیل کھنڈ کے راجہ چھتر سال سے ملاقات کی جو شعر و سخن کا عاشق اور خود بھی خوش گو تھا۔ اُس کے دربار میں بڑے بڑے قادر کلام شاعر موجود تھے۔ بہاری کو بھی تمنائے دادرسی دربار میں کھینچ لائی تھی۔ شاعر کے نزدیک سخن شناس کی داد ناشناس کے سیم و زر سے کم نہیں۔ اگرچہ چھتر سال نے بھوشن کو وہ زر و مال نہیں دیا جو شیواجی کی سرکار سے ملا تھا۔ لیکن اس نے ان کی خاطر و تواضع بڑے فیاضانہ طریق سے کی۔ اور جب وہ چلنے لگے تو اُن کی پالکی کا ڈنڈا اپنے کندھے پر اٹھا لیا۔ ان کا یہ اخلاق کریمانہ شیواجی کے لاکھوں سے بدرجہا پر اثر ثابت ہوا۔ بھوشن نے چھتر سال کی شان میں جو کبت کہے ہیں وہ زور بیان اور اظہار عقیدت میں شیواجی کے تعریفی قصائد سے بھی بڑھے ہوئے ہیں۔
کچھ دنوں وطن میں رہنے کے بعد بھوشن کمایوں کے مہاراج کے دربار میں پہنچے اور قصیدہ گذرانا۔ مہاراج نے ان کی آو بھگت نہ کی۔ اگرچہ ایک لاکھ انعام پیش کیا۔ لیکن بھوشن ان کی سرد مہری سے ایسے چیں بہ جبیں ہوئے کہ انعام لینے سے انکار کر دیا اور روٹھ کر پھر شیواجی کے دربار میں حاضر ہو گئے۔ اس سے اُن کی نازک مزاجی کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ ایک وہ زمانہ تھا کہ جب شعرا کو ایک ایک کبت کے صلہ میں لاکھوں مل جاتے تھے۔ ایک ایک لاکھ روپیوں پر شعرا لات مار دیتے تھے۔ اور ایک زمانہ یہ ہے جب شاعر کا کلام پڑھنا تضیع اوقات سمجھا جاتا ہے۔ وہ جذبات کا دور تھا ۔ لوگ شجاع تھے ۔ قدردان تھے۔ ہنر شناسی کا مادہ موجود تھا۔ اب مادیات کا دور ہے۔ طبیتوں میں ذوق نہیں، درد نہیں۔ جذبہ نہیں۔ شاعر کی داد کون دے۔ اور یہ کچھ ہندوستان کی ہی کیفیت نہیں ہے۔ ساری دنیا میں یہی حال ہے۔ مادیات نے جذبات کا خاتمہ کر دیا ہے ۔ یہ ضرور صحیح ہے کہ اب ویسے شاعر نہیں رہے۔ لیکن شاعروں کو اسی مادی ناشناسی نے بگاڑا ہے۔ اس کا الزام اس کے سر ہے۔ اب کارآمد لٹریچر کا دور ہے۔ لوہے پر یا ربڑ پر تصانیف کی زیادہ قدر ہوتی ہے۔ کیونکہ اس سے ہمیں حصول دولت میں مدد ملتی ہے۔ ہوس زر نے جذبات حسنہ کا خاتمہ کر دیا ۔ اچھے خیال کا احساس باقی نہیں رہا تھیٹروں کا اب بھی لوگوں کو شوق ہے۔ گانا لوگ اب بھی شوق سے سنتے ہیں۔ لیکن یہ کیفیات مادی ہیں۔ ان سے حواس کو حظ ہوتا ہے۔ کسی نازک خیال کا مزہ لینا وجدانی کیفیت پر منحصر ہے۔ وہ اب سلب ہو گئی ہے۔ آیا یہ فقدان انسان کے لیے مفید ثابت ہوگا یا مضر یہ مسئلہ دیگر ہے۔ اس پر بحث کرنے کی یہاں گنجائش نہیں۔ لیکن یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ جذبات نفسیہ سے عاری قوم دولتمند بن جائے۔ طاقتور بن جائے۔ اعلیٰ دماغ نہیں بن سکتی ۔
شیوا جی کے دربار میں دوبارہ پہنچ کر بھوشن نے پھر وہی قصیدہ گوئی کا شغل اختیار کیا ۔ وقتاً فوقتاً کہتے رہے۔ لیکن وہاں مستقل قیام نہیں کیا ان سب کبتوں کا مجموعہ ’’شیوا باوونی‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔
شیواجی نے 1680میں انتقال کیا۔ بھوشن وطن لوٹ آئے۔ اب بجز راجہ چھتر سال کے ان کا کوئی قدردان نہ رہا کبھی کبھی انھیں کے دربار میں جاکر قصیدے پیش کرتے تھے۔ ان کبتوں کا مجموعہ ’’چھتر سال دسک‘‘ کہلاتا ہے۔ ایسے باکمال شاعر کی یادگار یہی باکمال تین مختصر مجموعے ہیں۔ حالانکہ وہ فکر معاش سے آزاد تھے۔ اور ان کے پرواز خیال میں کوئی امر مانع نہیں ہو سکتا۔ بعض سوانح نگاروں کا خیال ہے کہ اُن کی تصانیف اور بھی ہیں۔ لیکن متذکرہ بالا تین کتابوں کے علاوہ اب تک اُن کی دوسری تصنیف کا سراغ نہیں ملا۔
اورنگ زیب کی وفات کے بعد 1708میں راجہ ساہو جو شیواجی کے پوتے تھے۔ قید مغلیہ سے آزاد ہوئے غالباً بھوشن ان کے دربار میں بھی حاضر ہوئے۔ یہ راجہ شیوا جی کی بالکل ضد تھا۔ لیکن بھوشن نے اُسے بھی اُسی نگاہ سے دیکھا۔ اور اس کی شان میں بھی چند کبت کہے۔ اُس نے ان کی خوب قدر کی بے فکر عیش و عشرت کا بندہ شکار کا عاشق راجہ تھا۔ لیکن شان پر جان دیتا تھا۔ عرصہ دراز تک مغلوں کے زیر اثر رہنے کے باعث وہ مغل سلاطین کا حلقہ بگوش بننے میں اپنا فخر سمجھتا تھا۔ لیکن کبھی کبھی فتوحات کا جوش پیدا ہو جاتا تھا 1716میں اس نے شمالی ہند کا رخ کیا۔ اس وقت بھوشن نے یہ کبت کہا۔
بلخ بخارے ملتان لون ہے ہر پارے
کپی لون پکارے کوؤ دھرت نہ سار ہے
روم روند ڈارے۔ خراسان کھوند مارے
خاک کھادر لوں جھارے ایسی ساہو کی بہار ہے
ککر لوں ۔ بکرلوں ۔ مکرلوں چلے جات
ٹکر لیویا کوئی وار ہے نہ پار ہے
بھوشن سروج لوں پراونے پرت
پھیر دلی پر پرت پرندن کی چھار ہے
اس وقت بھوشن کی عمر 80 سال کے قریب تھی۔ اس کے بعد ان کے کلام کا کچھ پتہ نہیں۔ گمان ہوتا ہے کہ وہ اس کے بعد زیادہ نہ جیے۔ ان کی جیسی عزت اور ثروت کسی ہندی شاعر کو نصیب نہ ہوئی۔ لیکن ہمارے خیال میں اس کا باعث اُن کا کلام نہیں۔ بلکہ ان کی تملق سازی تھی۔ بہاری نے سات سو لاجواب دوہے کہے۔ لیکن چونکہ انھوں نے اپنے ممدوح راجہ جے سنگھ کی شان میں کوئی تعریفی دوہا نہ کہا۔ اس لیے ان کی ویسی قدر نہ ہوئی ۔
بھوشن دل کھول کر تعریف کرتے تھے۔ خوشامد پسند راجے اپنی تعریف سن کر پھولے نہ سماتے تھے ۔ ان پر زر وجواہر نثار کرتے ۔ بالخصوص شواجی کی قدرشناسی نے انھیں چمکا دیا۔ ان کا وقار قائم کر دیا۔ اس کے بعد وہ جس دربار میں گئے انھیں سر اور آنکھوں پر لیا گیا۔ اعزاز و اکرام کی بارش ہونے لگی ۔ اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ ان کے کلام میں محاسن نہیں۔ اپنے رنگ میں اُن کا کلام لاجواب ہے۔ مگر تعریفی کلام میں شاعرانہ جذبات نہیں ہوتے ۔ صرف مبالغہ اور لاف و گزاف کی بھرمار رہتی ہے۔ ہندی کے بیر رس کے کبتوں میں شوکت اور رعب قائم کرنے کے لیے کرخت اور ثقیل الفاظ کی کثرت رہتی ہے۔ جیسے خونی اور پُر ہیبت جذبات ہوتے ہیں۔ ویسے ہی سنگ خارا کی طرح الفاظ رکھے جاتے ہیں۔ یہ ایک صنعت ہے ۔ لیکن اس کے لیے جذبات کی اتنی ضرورت نہیں جتنی الفاظ کی۔ یہ ایک محدود میدان ہے اور بڑے سے بڑا شاعر بھی اس رنگ میں تاثیر نہیں پیدا کر سکتا ۔ جذبات کے ادا کرنے میں شاعر ساری دنیا کو خطاب کرتا ہے ۔ اس لیے ہر خاص و عام کو اس میں لطف آتا ہے۔ تعریفی کلام میں اس کا روئے سخن صرف اپنے ممدوح کی طرف ہوتا ہے اس لیے یہ ایک شخصی امر ہے ۔ اس محدود رنگ کو بھوشن نے اور بھی محدود کر دیا ہے ۔ انھوں نے زیادہ تر کتبوں میں شیواجی کی ہیبت اور دھاک ہی کی تعریف کی ہے ۔ مدحیہ کلام کا جو عام نقص ہے۔ اُس سے بھوشن کا کلام بھی نہیں بچا وہی ہے جو شیوا جی کی ۔ ساہو کا رعب داب وہی ہے ۔ جو شیوا جی کا ۔ صرف تبدیل نام کی ضرورت ہے۔ تعریفی کلام میں امتیاز اسی حالت میں پیدا ہو سکتی ہے ۔ جب شاعر ظاہر کو چھوڑ کر باطن کی طرف جھکے۔ بھوشن کے شیواجی، چھتر سال، ساہو، رو درام سولنگی میں کوئی تمیز نہیں ہے۔ لیکن تلسی کے رام اور لکشمن، اور بھرت یا سمترا کیکئی اور کوسلیا میں امتیازی خصوصیات موجود ہیں۔ ایک کو دوسرے کی جگہ پر رکھ دینے سے ساری داستان میں انقلاب ہو جائے ۔ تاہم بھوشن کے کلام میں قومیت اور بندوین کی ایسی گہری چاشنی ہے کہ وہ بالکل روکھا نہیں معلوم ہوتا ۔ اور ان کا ممروح بھی کوئی ایسا ویسا آدمی نہیں۔ یہ وہ ہے جس نے ایک بار ہندووں کو تباہی سے بچا لیا ۔ ہر ایک ہندو کے سینہ میں شیوا جی کا ایک خاص احترام اور اس سے ایک خاص عقیدت ہے۔ اس کی تعریف میں شاعر کتنا ہی مبالغہ کرے۔ اُسے کتنا ہی سرا ہے طبیعت پر گراں نہیں گذرتا۔ انھوں نے شیوا جی کی تعریف ذاتی حیثیت سے نہیں کی ۔ بلکہ قومی حیثیت سے ۔ اور شیوا جی ہی پر موقوف نہیں۔ ہر ایک ممدوح کو انھوں نے اسی ہندوانہ نگاہ سے دیکھا ہے۔ غرض بھوشن کے کبت بیشتر اس منافرت غصہ جذبہ انتقام قومی غرور اور خود داری سے مضمر ہیں جو اس وقت ہندوؤں میں پھیلی ہوئی تھی ۔ وہ ہندوؤں کے نعرہ ظفر ہیں ۔ وہ ہر ایک ہندو راجہ جس نے مسلمانوں کے ساتھ معر کے کئے ہوں ان کا ممدوح تھا ۔ یہ تقاضا زمانہ تھا ۔ بھلا یہ تو شاعر تھے مسلمانوں میں تو مورخین نے بھی ہندوؤں کی مٹی خراب کرنے میں کوئی دقیقہ نہیں اٹھا رکھا۔
بھوشن کی تصانیف کا کچھ ذکر اوپر آ چکا ہے۔ ان کی یادگار صرف چار کتابیں موجود ہیں (1) شیوراج بھوش (2) شیواا باونی (3) چھتر سال دسک (4) متفرق کبت ۔ ان میں اول الذکر ہی تصنیف کہلانے کی مستحق ہے۔ باقی تینوں کتابیں چھوٹے چھوٹے پمفلٹ ہیں۔ لیکن ہندی میں ان کی خاص عزت اور اہمیت ہے ۔ وہ ایک خاص رنگ اور خاص دور کے نمونے ہیں ۔ ہم ان میں سے دو ایک کبت نمونتاً ہدیہ ناظرین کرتے ہیں:۔
ڈاڑھی کے رکھئن کی ڈاڑھی سی رہت چھاتی
باڑھی مرجاء جس حد ہندوان کی
کڑھ گئی رعیت کے من کی کسک سب،
مٹ گئی ٹھسک تمام ترکان کی
بھوشن بھنت دلی پت دل دھک
دھکا سن سن دھاک سیو راج مردانے کی
موٹی بھئی چنڈی بن چوٹی کے چباے سیں
کھوٹی بھئی سمپت چکتا کے گھرانے کی
دان سمے دوج دیکھی میترہو
کبیر ہو کی سمپت لٹایے کوہیا للکت ہے
ساہی کے سپوت سیو ساہی کے بدن پر
سیو کی کتھان میں سینہ جھلکت ہے
بھوشن جہان ہندوان کے اُبارنے کو
ترکان مارنے کو بیر بلکت ہے
ساہن سوں لرنے کی چرچا چلت آنی
سرجا کے درگن اوجھا چھلکت ہے
کامنی کنت سوں ۔ جامنی چند سوں
دامنی پاوس میگھ گھٹا سوں
کیرت دان سوں ۔ صورت گیان سوں
پریت بڑی سنسان مہا سوں
بھوشن بھوشن سوں ترُنی
نلنی نو پوشن دیو پربھا سوں
جاہر چارہو اور جہان
لیے ہندوان ک’یمان سیوا سوں
نازنین کی شوبھا شوہر سے ہے۔ رات کی چاند سے۔ برسات کے گھٹا کی بجلی سے۔ نام کی سخاوت سے۔ بھگتی کی گیان سے۔ محبت کی عزت ہے۔ حسینہ کی زیور سے۔ کمل کی سورج سے۔ اسی طرح ہندو قوم شیواجی کی بدولت سارے جہان میں نامور ہو رہی ہے۔ 
مطبوعہ: ’ترجمان‘ لاہور، اپریل 1917 ،ص 161 تا 167

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

دھرم جی کی یاد میں،مضمون نگار: فرحان حنیف وارثی

اردودنیا،جنوری 2026: مجھےجوانی میں بالی ووڈ کے جن اداکاروں نے اپنی خوبصورتی اور اداکارانہ صلاحیتوں سے متاثر کیا، ان میںدھرمیندر کا نام سرفہرست ہے۔دھرم پاجی مجھے اس قدر پسند تھے

ادب اطفال میں سوشل میڈیا کے اثرات ،مضمون نگار:کلدیپ راج آنند

اردو دنیا،مارچ2026: انسانی تاریخ میں ابلاغ ہمیشہ سے تمدن کی بنیاد رہا ہے۔ابتدامیں انسان نے غاروں کی دیواروں پر تصویری نشان بنائے، پھر خط و کتابت، اخبارات، ریڈیو اور ٹیلی

شریف احمد قریشی کی فرہنگ نویسی: زبان، ادب اور ثقافت کی زندہ میراث ،مضمون نگار:شہپرشریف

اردو دنیا،اپریل2026 ادب کی دنیا میں ایسے افراد بہت کم ہوتے ہیں جو اپنی تمام علمی و فکری صلاحیتیں محض اپنی زبان، معاشرے اور اپنی تہذیب کے تحفظ و فروغ