پریم چند کے افسانوں میں نسوانی کرداروں کی احتجاجی آوازیں،مضمون نگار:عافیہ حمید

July 7, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا، جولائی 2026:

پریم چند کے افسانوں نے نسوانی کرداروں کی آبیاری کی اس میں تو کوئی شک نہیں، ہاں یہ الگ بات ہے کہ وہ آواز کہیں کمزور رہے تو کہیں بے حد مضبوط۔ پریم چند کے افسانوں کی ہیروئن ایک عام سی، سیدھی سا دی،بھولی عورت ہے جو کھیتوں میں کام کرتی ہے،اپنے شوہر کی خدمت کرتی ہے اور ہر رشتے کو نبھانے کی کوشش کرتی ہے۔ وہ اپنے رشتوں میں اس قدر با وفا ہے کہ وہ شوہر کی زندگی سے لے کر موت تک ساتھ دیتی ہے۔مگر پریم چند کا افسانہ خاص وہاں ہوتا ہے جب وہی عورت ظلم کے خلاف آواز اٹھاتی ہے۔ اور اپنے حق کے لیے ظالم سماج کے سامنے بے خوفی سے کھڑی ہو جاتی ہے۔
پریم چند کے ایسے بہت سے افسانے ہیں جس میں عورت سیدھی سادی تو ہے مگر بیوقوف نہیں۔ وہ صرف ایک حد تک برداشت کرتی ہے۔ اصل میں پریم چند ازدواجی زندگی کو جوڑے رکھنی اور سماج کی اصلاح کے لیے لیے اپنی ہروئین کو آخری دم تک برداشت کرنے پر آمادہ رکھنا چاہتے ہیں مگر پھر اُن کے اندر کا ترقی پسند آدمی بول پڑتا ہے بس اب اور نہیں۔ اور ان کے افسانوں میں نسوانی آواز صداے احتجاج میں بدل جاتی ہے۔ پریم چند کے افسانے اصلاحی ہونے کے ساتھ احتجاجی بھی ہیں۔اُن کے افسانوں میں نسوانی آواز کمزور ضرور ہے مگر بااثر اور فکر انگیز ہے۔
پریم چند نے ایسے بہت سے افسانے لکھے جس میں نسوانی قوت برداشت کا عکس ہے مگر وہیں سرد آہوں کے ساتھ گرم جذبات بھی ہیں۔ مثلاً۔ پوس کی رات، بوڑھی کاکی،نئی بیوی،دو بہنیں،شکوہ شکایت،گھاس والی،بیٹی کا دھن،ستی،اناتھ لڑکی،بے غرض محسن وغیر ہ۔
اردو افسانے کے آغاز سے ہی خواتین کے جملہ مسائل کو مختلف زاویوں سے پیش کیا گیا ازدواجی تعلقات کی پیچیدہ گتھیوں سے لے کر روز مرہ کے حادثات تک سب اس میں پیش کیے گئے جدید تعلیم کے اثرات کے سبب جو تبدیلیاں رونما ہوئیں ان کا اثر بھی اردو افسانوں پر پڑا۔ تہذیبی ٹکراؤ اور جدید طرز حیات کے نمونے بھی دیکھنے کو ملنے لگے۔ گھر یلو حادثات و واقعات اور خاتون خانہ کی حقیقی روداد بھی ہمارے افسانوں میں کثرت سے ملتی ہے۔
ہندوستانی عورت کو اطاعت اور اخلاص و محبت کی بھر پور تعلیم ابتدائی زندگی سے دی جاتی ہے۔ پریم چند اسی جذبے کے حامی تھے، انھوں نے اپنے افسانوں میں ایسی خاتون کی تصویر کشی کی جو ہندوستان کی مخصوص سماجی حالت میں گھریلو نظام کو بہتر طور پر چلا سکے اور ازدواجی زندگی میں مسرت پیدا کر سکے۔ وقار عظیم لکھتے ہیں:
”پریم چند کے اکثر افسانوں میں عورت کی فطرت میں قربانی کا جذبہ دکھایا گیا ہے۔ وہ اپنے شوہر، اپنے بھائی اور اپنے ملک کے لیے بڑی سے بڑی قربانی کو اپنا اہم فرض جانتی ہے۔ اس میں حسن ہے، نظر کا جادو ہے، اداؤں کا فریب ہے، موسیقی کا ترنم ہے لیکن ان سب سے زیادہ ایثار و قربانی ہے۔“
(فن افسانہ نگاری۔ وقار عظیم ص/ 329)
پریم چند نے اپنے افسانوں میں تقریبا عورت کے تمام تر روپ سے انصاف کیا ہے۔ نسوانی کرداروں کا دکھ پریم چند، مہدی، عصمت، منٹو، کرشن چندر کے یہاں صاف نظر آتا ہے۔ قریب قریب تمام ترقی پسند افسانہ نگاروں کے یہاں نسوانی کرداروں کی بہترین مثالیں موجود ہیں۔ اپنے افسانوں میں پریم چند نے ایسے مثالی نسوانی کردار پیش کیے ہیں جو ہر حا ل میں شوہر پرستی کا ثبوت دیتی ہیں۔ پریم چند اپنے فن اور کردار دونوں کے ساتھ مکمل انصاف کرتے ہیں۔ انھوں نے زندگی اور در پیش مسائل کو بہت اعتدال کے ساتھ بیان کیا ہے۔
افسانہ شانتی میں دیوناتھ کی بیوہ گوپا اپنی لڑکی سنی سنیتا کی شادی اپنے شوہر کے دوست مداری لال کے لڑکے کیدار ناتھ سے آپسی تعلقات کی بنا پر کر دیتی ہے۔ لیکن ذہنی اور فکری عدم مناسبت کے سبب ازدواجی زندگی میں بدمزگی رہا کرتی ہے۔ دونوں ہی اپنے والدین کے اکلوتے ہیں اور بے جا لاڈ پیار نے دونوں کے اندر ایسی انانیت پیدا کر دی ہے جو ازدواجی زندگی کے نشیب وفراز میں در گذر کو اپنی ہتک سمجھتے ہیں۔ دونوں ایسی تربیت سے محروم ہیں جو ازدواجی زندگی میں اخلاص و محبت کے لیے ضروری ہیں، اورآخر میں سنی اپنے شوہر کی بے وفائی سے تنگ آکر خود کشی کر لیتی ہے۔ پریم چند ازدواجی تعلقات میں جہاں کشیدگی کا انجام صلح ’آتشی پر نہیں ہو پاتا‘ اسی نسخے کو استعمال کرتے ہیں۔
پریم چند فکر مند ضرور ہیں کہ وہ جس مشرقیت کے حامی تھے اس سے دونوں ہی محروم تھے گو یا اپنی لڑکی کے دفاع میں کہتی ہے:
”لڑکا چاہتا ہے کہ میں چاہے جس راہ پر جاؤں سنی میری پوجا کرتی رہے۔ سنی بھلا اسے کیوں سہنے لگی تم اسے جانتے ہو کتنی خود دار ہے۔ وہ ان عورتوں میں نہیں ہے جو اپنے شوہر کو دیوتا بجھتی ہیں اور اس کی بدسلوکیاں برداشت کرتی رہتی ہیں اس نے ہمیشہ لاڈ پیار پایا ہے۔ باپ بھی اس پر جان دیتا تھا میں بھی آنکھ کی پتلی بھی تھی۔ شوہر ملا چھلا جو آدھی آدھی رات مارا مارا پھرتا ہے۔ دونوں میں کوئی گانٹھ پڑ گئی ہے۔ نہ وہ سنی کی پرواہ کرتا ہے اور سنی اس کی پرواہ کرتی ہے۔“
(شانتی مجموعہ واردات، پریم چند اص/ 67)
پریم چند کے افسانوں سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ اصلاحی نظریہ کے حامی تھے اور گاندھی جی سے کافی متاثر بھی تھے۔ وہ ستی جیسی بری رسم کے خلاف تھے وہ کم عمری کی شادی کو برا سمجھتے، نیز سماج میں رائج دیگر بے کار کی رسومات کے خلاف تھے۔ پریم چند نے اپنے افسانوں کے ذریعے اخلاص اور محبت کا پیکر نسوانی کردار تراشا ہے۔
پریم چند مغربی تہذیب کے مضر اثرات سے واقف تھے۔ اس لیے ان کے اکثر افسانوں میں مشرقی خاتون کا پیکر ملتا ہے۔ مغربی طرز سے ان کو لگتا تھا گھر یلو زندگی تنازعہ کی شکار ہو سکتی ہے۔
افسانہ’مس پد ما‘ بیوہ ماں کی دو ایسی لڑکیوں کی کہانی ہے جو مغرب زدہ معاشرے سے متاثر ہیں۔ ڈاکٹر جھلا پہلے تو رتنا سے شادی کرتا ہے لیکن کچھ عرصہ بعد اپنی آزادہ روی سے رتنا کی زندگی کی رنگینی چھین لیتا ہے رتنا کی چھوٹی بہن مس پدما سے اس کی قربت اس کے کردار کی سطحیت کو اجا گر کرتی ہے۔ لیکن ڈاکٹر جھلا اس وقت مس پدما کو تنہا چھوڑ کر فرار ہو جاتا ہے جب وہ بچی کی پیدائش کے مرحلے سے گزرتی ہے۔ رتنا نے جھلا کی تصویر اور اثاثے جلا کر اپنے دل کی بھڑاس نکالی۔
رتنا ڈاکٹر جھلا کے ساتھ اپنی ناکام شادی کے بارے میں کہتی ہے:
”یہی رونا ہے ہماری شادی بزرگوں کی طے کردہ نہ تھی ہم ایک دوسرے کے مزاج اور عادات سے خوب واقف تھے۔۔۔۔ ایک دوسرے کے عیب و ہنر پہچاننے کے جتنے مواقع ہمیں ملے بہت کم کسی کو ملے ہوں گے۔ اب معلوم ہوا کہ عورت کے لیے اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ شادی کو لعنت کا طوق سمجھے۔“
(افسانہ مس پد ما مجموعہ زادراہ۔ پریم چند، ص/143)
اس حادثے سے مس پدمانے کوئی سبق نہیں لیا اپنی بہن کے سابق شوہر کے ساتھ بغیر شادی کے ہی ازدواجی زندگی گزار نے لگی کیونکہ یہ تعلقات اخلاص پر مبنی نہ تھے۔ بلکہ ہوس کاری کا نتیجہ تھے۔ ان میں خلوص اور ایثار نہ تھا مس پدما ڈاکٹر جھلا کو اپنی کمائی سے پالتی ہے پھر بھی وہ اس کی محبت کی قدر نہیں کرتا:
جھلا: اب آپ کو ذرا میرا انتظار کرنے میں تکلیف ہوتی ہے۔۔۔ تو کیا چاہتی ہو کہ میں تمہارے آنچل سے بندھا دن رات بیٹھا رہوں۔
مس پدما: کچھ ہمدردی تو چاہتی ہوں۔
جھلا: میں اپنی عادتوں کو تبدیل نہیں کر سکتا۔
(افسانہ مس پد ما مجموعہ زادراہ۔ پریم چند ص/143)
پریم چند کے افسانوں میں اگر ترقی پسندی کی مکمل عکاسی دیکھنا ہو تو کفن دیکھیں۔ جہاں نسوانی کردار تمام تر ہمدردی کے ساتھ نظر آتا ہے کفن میں جہاں ایک طرف عورت کے درد کی تکلیف کا کرب ہے کہ وہ کتنی تکلیفوں کو برداشت کر کے اپنے شوہر اور سسرال والوں کی نسل کو آگے بڑھاتی ہے۔ وہیں دوسری طرف ایک بے حس سماج کا ذکر بھی موجود ہے جس سماج میں غربت اتنی زیادہ ہے کہ مادھو اور گھیسو کفن کا پیسہ تک شراب اور پوڑی میں اڑا دیتے ہیں۔ سماج کی بے حسی اتنی زیادہ ہے کہ انسان دوسرے انسان کا کفن تک بیچ کر کھا جائے۔ کفن کا یہ اقتباس ملاحظہ کیجئے:
ہاں بیٹا بیکنٹھ میں جائے گی کسی کو ستایا نہیں، کسی کو دبایا نہیں، مرتے وقت ہماری جندگی کی سب سے بڑی لالسا پوری کر گئی وہ نہ بیکنٹھ میں جائے گی تو کیا یہ موٹے موٹے لوگ جائیں گے جو گریبوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتے ہیں۔ اور اپنے پاپ کو دھونے کے لیے گنگا میں نہاتے ہیں اور مندر میں جل چڑھاتے ہیں۔
(کفن پریم چند، نقوش لاہور، افسانہ نمبر جلد دوم ص/ 360)
اسی طرح مشترکہ پریوار میں جو مسائل عورتوں کی وجہ سے ہوئے ہیں اور ان حالات میں ایک عورت

کو کیسا کردار پیش کرنا چاہیے وہ پریم چند کے افسانے بڑے گھر کی بیٹی میں بخوبی نظر آتے ہیں۔ جہاں آنندی اپنے دیور لال بہاری سنگھ کو منا کر گھر واپس لاتی ہے۔ اور گھر یلو جھگڑوں کا حل نکالتی ہے۔ جس کے جواب میں بینی مادھو سنگھ آنندی کا سسر آنندی کی تعریف کرتے ہوئے کہتا ہے:
”بڑے گھر کی بیٹیاں ایسی ہی ہوتی ہیں۔ بگڑا ہوا کام بنا لیتی ہیں۔“
(بڑے گھر کی بیٹی۔ دیہات کے افسانے۔ پریم چند ص۔100)
ایسا نہیں ہے کہ پریم چند کے یہاں نسوانی کردار صرف بہو، بیٹی، یا ماں کے روپ میں گھر کی چہار دیواری تک محدود ہیں بلکہ ان کے افسانوں میں نسوانی کردار آزادی کے جذبے سے سرشار جلسوں میں بھی شرکت کرتی ہیں لاٹھی اور گولیاں کھاتی ہیں۔ آزادی اور سوراج کے تصور سے واقف ہیں۔ افسانہ ”جیل کی روپ متی کہتی ہے:
”کم از کم میرے لیے تو سوراج کا یہ مطلب نہیں کہ ”جان کی جگہ گو بند آبیٹھے۔ میں سوسائٹی کی ایسی حالت دیکھنا چاہتی ہوں جہاں غریب سے غریب آدمی کو بھی پیٹ بھر کھانا میسر آ سکے۔“
(جیل۔ مجموعہ آخری تحفہ۔ پریم چندص / 108)
پریم چند کی پیش کش نے ہندوستانی عورت کے کردار کو انقلابی بنانے میں اہم رول ادا کیا اور خواتین کوملکی جدو جہد آزادی کے جذبے سے سرشار دکھا کر اس طبقہ کی نمایاں طور پر نمائندگی کی ہے۔ آزادی کی تحریک میں خواتین کی عملی شرکت پر مشتمل افسانے پریم چند کے علاوہ دوسرے افسانہ نگاروں کے یہاں نہیں ملتے۔ ضمنا تذکرہ البتہ ہوتا رہا ہے۔
پریم چند نے نسوانی کرداروں کی وہ تمام تصویریں ایک ایک کر کے سماج کے سامنے پیش کیں جس سے حقیقت میں اس وقت نسوانی کردار نبرد آزما تھے۔ ادیب اور مصنفین اپنے زمانہ اور دور کے گواہ ہوتے ہیں اور ادب اپنے زمانہ کا آئینہ۔ ٹھیک اسی طرح ہم ترقی پسند آئینے میں نسوانی کردار کے مختلف عکس تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس دور میں نسوانی کرداروں کو مختلف مسائل درپیش تھے۔ مثلاً معاشرتی زندگی میں بے حد کمزور ہونے کے باوجود ان کے کاندھوں پر خاندان بھر کی ذمہ دار تھی۔ گھر کی چہار دیواری سے لے کر باہر تک اس سے سخت محنت لی جاتی۔ مرد اور عورت دونوں ایک ساتھ معاشی ذرائع پیدا کرتے تھے۔ اس کے باوجود مرد اس پر بالا دست تھا۔ ان کے علاوہ کم عمری کی شادی، بیوہ کاستی ہونا گھر اور سماج میں برابر کا حق نہ ملنا، عصمت کا تقدس صرف عورت کے ساتھ مخصوص ہونا، مرد کے لیے کھلی آزادی، نیز عورتوں کو کو ٹھے پر بٹھانا وغیرہ وغیرہ۔ ان تمام موضوعات کو پریم چندنے بڑی چابک دستی سے اپنے افسانوں میں جگہ دی ہے۔ اور ہندوستان کے اس سلگتے ہوئے مسئلہ کو قلم برداشتہ اپنا موضوع بنایا۔ تقریباً ہر نمائندہ افسانہ نگار نے اپنے نمایاں افسانوں میں خواتین سے متعلق مسائل کو خاص اہمیت دی ہے۔ اور اپنے افسانوں کے ذریعے نسوانی کرداروں کی ترتیب و تشکیل پر پوری توجہ مرکوز کی ہے۔ ترقی پسندوں نے ہر آن نسوانی کردار کو مضبوط اور نڈر بنانے کی کوشش کی۔ مثال کے طور پر پریم چند کا افسانہ ’زادراہ‘جس میں ایک ماں اس وقت سارے زمانے کے سامنے اکیلی کھڑی ہو جاتی ہے جب بات اس کی بیٹی ریوتی پر آتی ہے جس سے بوڑھا سیٹھ جھا برمل شادی کرنا چاہتا ہے تب سوشیلا پتھر کی چٹان بن کر اپنی بیٹی کی راہ میں کھڑی ہو جاتی ہے۔ اور سوشیلا غصہ میں کہتی ہے:
”یہ پچاس سال کا کھوسٹ اور اس کی یہ ہوں۔۔ یہ احمق سمجھتا ہے کہ لالچ میں آکر اپنی پھول سی لڑ کی اس کے گلے میں باندھ دوں۔۔۔۔ نام کے لیے ساری جائیداد کھوئی، زیور کھوئے، مکان کھو یا لیکن لڑکی کو کنویں میں نہیں ڈال سکتی نام رہے یا جائے۔
(زاد راہ پریم چند، ص۔ 250)
اور جب سوشیلا کے سامنے پوری برادری کی کچھ نہ چل سکی تو سب نے مل کر جعلسازی کی اور سیٹھ جھا برمل کو یقین دلایا کہ روپ وتی کو اس کی بیوی ثابت کر کے رہیں گے سیٹھ کبیر داس کہتے ہیں:
”تم گھبراؤ نہیں جھا برمل اسے عدالت سے ٹھیک کروں گا، جاتی کہاں ہے“؟
باعزت زندگی سے مایوس روپ وتی سیٹھ جھابرمل کے خوف سے خود کشی کر لیتی ہے۔ پوری برادری ہاتھ مل کر رہ جاتی ہے۔ یتیم کی لاش پر چند آنسو بہانے کا سوال بھی کہاں، یہاں تو خراج عقیدت ان الفاظ میں ادا کیا گیا:
”چلو جھگڑا پاک ہوا۔ برادری کی بدنامی تو نہ ہوگی۔“ (ص 160:)
پریم چند کے دور میں بہت سے ایسے افسانے لکھے گئے جو افسانے کی تاریخ میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔ اردو میں عورتوں کی ترتیب و تشکیل اور ترقی کی فکر سب سے پہلے کامیاب انداز میں جس صنف میں پیش کی گئی وہ افسانہ ہے۔ اردو میں ترقی پسند تحریک کے باقاعدہ آغاز سے پہلے ہی روایتی فرسودہ سماج اور عورتوں کی ترقی وسماجی برابری کے خلاف صدائے احتجاج بلند ہوئی تھی۔ ترقی پسند تحریک نے اسے ایک سمت عطا کی۔ ترقی پسند تحریک کے دوران جن افسانہ نگاروں نے عورتوں کے مسائل، ان کی ارتقائی فکر کو اپنے افسانوں میں جگہ دی ان میں پریم چند، کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی، کے نام سرفہرست آتے ہیں۔ ان افسانہ نگاروں کے علاوہ سہیل عظیم آبادی، حیات اللہ انصاری، رضیہ سجاد ظہیر، خواجہ احمد عباس، جیلانی بانو وغیرہ جیسے افسانہ نگاروں نے اپنے افسانوں کے ذریعہ نسوانی کردار کے ارتقائی سفر کو بخوبی پیش کیا۔
پریم چند کے افسانے اگر چہ دیہاتی زندگی کی عکاسی کرتے ہیں مگر ان کے افسانوں کی ہروئین وفا کی مورت کے ساتھ ساتھ بیداری کا ثبوت بھی ہے۔ پریم چند کے افسانوں میں نسوانی کردار اگر چہ مذہبی اور روایتی ہیں مگر اس کے باوجود اُن کے یہاں نسوانی آوازوں میں احتجاج بھی موجود ہے۔ ان کے افسانوں میں نسوانی کردار کے یہاں ظلم کے خلاف فہم اور زبان دونوں موجود ہیں، پریم چند کا زمانہ وہ زمانہ تھا جب سماج ذہنی احتجاج کی اجازت بھی نہیں دیتا تھا۔مطلب اس وقت عورت کا سماج کے ظلم کے خلاف یا کسی روایت کے خلاف بولنا تو دور کی بات سوچنا بھی حرام تھا۔ایسے حالات میں ایک شخص اپنے قلم کے ذریعے لوگوں کے ذہن کو بیدار کرنے پر آمادہ تھا۔
ایسے بہت سارے افسانے پریم چند نے لکھے جو واقعی سماج و معاشرے کا عکس تھے۔کہیں زمینداروں کی بربرتا تھی تو کہیں ساہوکاروں کا ظلم،کہیں غربت کی انتہا تھی تو کہیں توہمات کا غلبہ،کہیں کسان کی خودکشی تھی تو کہیں فصلوں کے تباہ کن اثرات، کہیں کم عمری کی شادی، تو کہیں ستی پر تھا، گویا ہر طرف ظلم و ناانصافی۔ ایسے حالات کا جو سب سے زیادہ شکار تھیں وہ سماج کی عورتیں تھیں۔کبھی اُن کو دھرم کے نام پر قربانی کے لیے مجبور کیا جاتا تو کبھی مضبوط مرد سماج اُس کو دبانے کی کوشش کرتے۔ ایسے میں پریم چند جیسے حساس شخص نے اپنی کہانیوں کے ذریعے نسوانی ذہن کو بیدار کیا۔اُن کی سوچ کو زبان دی۔انھوں نے اپنے افسانوں سے ثابت کیا کہ عورت باوفا تو رہے مگر ہوشمندی سے بھی کام لے۔ انھوں نے کہا کہ عورت گھر میں تو رہے مگر باہر کی دنیا سے بے خبر نہ رہے۔ جس وقت پریم چند نے لکھنا شروع کیا اور جب تک لکھا۔ اس دوران بہت کچھ بدل گیا۔جس کا اثر اُن کے افسانوں پر صاف نظر آتا ہے۔ ابتدا کے افسانے میں عورت چار دیواری تک محدود تھی۔مگر بعد کے افسانوں میں وہی عورت گھر سے باہر، صداے احتجاج کرتی نظر آتی ہے۔ ظاہر ہے پریم چند کے آخر کے زمانے میں ترقی پسند تحریک کا آغاز ہو چکا تھا جس میں پریم چند نے خود کہا تھا کہ ”اب ہمیں حسن کا معیار بدلنا ہوگا۔“ اس حسن میں ادب کے ساتھ نسوانی آواز بھی موجود تھی۔
حوالہ
1۔ فن افسانہ نگاری، وقار عظیم ص 329:
2۔ واردات، پریم چند ص 271:
3۔ نقوش، لاہور افسانہ نمبر جلد دوم ص 360:
4۔ دیہات، کے افسانے، پریم چند ص 100:
5۔ آخری تحفہ، پریم چند ص108:
6۔ زادراہ، پریم چند ص 160:

Dr. Aafiya Hameed
Department of Urdu, Maulana Azad National Urdu University, Hyderabad-50032
Mob: 7897811988
Email:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

پریم چند کی کہانیاں

زبان اور اس کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس کے ادب کو سمجھنا، جاننا اور اس کی بازدید بھی ایک اہم عمل ہے، منشی پریم چند کا شمار اردو کے

جیلانی بانو: بحیثیت افسانہ نگار،مضمون نگار: فیضان الحق

اردو دنیا،اپریل2026: جیلانی بانو اردو ادب کی تخلیقی دنیا کاایسا نام ہے جس نے ایک لمبا سفر طے کیا۔ 14جولائی 1926کو بدایوں میں پیدا ہونے والی یہ تخلیق کار 1

پریم ناتھ در کے افسانوں کا علامتی و سماجی مطالعہ،مضمون نگار:سریش کمار

اردو دنیا، مئی 2026: کشمیروہ سرزمین ہے جہاں پہاڑ خاموشی سے آنسو بہاتے ہیں، اور جھیلوں کی لہریں صدیوں پرانے دکھ درد کی کہانیاں سناتی ہیں۔ یہ صرف خوبصورت نظاروں