اُردو ماس میڈیا کی تدریس اور پروفیسر محمد شاہد حسین ،مضمون نگار: شفیع ایوب

July 15, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا، جولائی 2026:

مئی 20سنہ 2026کو 77سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہونے والے پروفیسر محمد شاہد حسین کی شناخت کے کئی حوالے ہیں۔ بنیادی طور پر اتر پردیش کے تاریخی شہر گورکھپور کے رہنے والے محمد شاہد حسین جواہر لال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی میں تقریباً تین دہائیوں تک درس و تدریس سے وابستہ رہے۔ عوامی ترسیل اور اردو ڈراما کی تدریس کے حوالے سے خاصی شہرت رکھنے والے پروفیسر محمد شاہد حسین کی کتابیں ہندوستان کی مختلف جامعات میں شامل نصاب ہیں۔ ڈراما نگاری اور ڈرامے کی تاریخ کے ساتھ ساتھ انھوں نے ماس میڈیا کی تدریس کے لیے خود کو وقف کر دیا تھا۔ ابتدا میں انھوں نے اردو ڈرامے کی تاریخ پر کام کیا۔ اپنے زمانے کے مشہور ڈراما نگار ، نقاد اور دانشور پروفیسر محمد حسن کی نگرانی میں محمد شاہد حسین نے ڈراما اندر سبھا کی روایت کے موضوع پر مقالہ لکھ کر جواہر لال نہرو یونیورسٹی ، نئی دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ سنہ 1982میں پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے فوراً بعد وہ جے این یو کے ہندوستانی زبانوں کے مرکز میں تدریسی خدمات انجام دینے لگے۔ یو جی سی ریسرچ ایسو سی ایٹ، یو جی سی ریسرچ سائنٹسٹ ، ایسو سی ایٹ پروفیسر اور پروفیسر کے طور پر تدریسی خدمات انجام دیتے ہوئے انھوں نے کئی اہم کتابیں تصنیف کیں۔ وہ ہندوستانی زبانوں کے مرکز کے چیئرپرسن بھی رہے۔ کئی اہم پروجیکٹ پر کام کرتے ہوئے انھوں نے ماس میڈیا کی تدریس کو سہل بنانے اور اردو میں عوامی ترسیل کے ذرائع سے متعلق کتابیں تیار کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔
واضح رہے کہ جب ہم عوامی ترسیل کی تدریس کی بات کر رہے ہیں تو ہمارے ذہن میں صرف صحافت کی تعریف اور تاریخ کا تصور نہیں ابھرنا چاہیے۔ صحافت دراصل ’’ ماس کمیونیکیشن ‘‘ کے بہت بڑے دائرے کا ایک حصہ ہے۔ ابتدا میں ہمارے ملک ہندوستان میں جب صحافت کی تعلیم و تربیت کی اہمیت کو محسوس کیا گیا تو جو نصابات تیار ہوئے ان میں ماس کمیونیکیشن کے پورے نظام کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ صرف صحافت کی تاریخ اور فن پر بات کی گئی۔ لیکن جب ہم نے یورپ اور امریکہ کی جامعات میں پڑھائے جانے والے کورس کا مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ درون ذاتی ترسیل، بین شخصی ترسیل، جماعتی ترسیل اور طبقاتی ترسیل کے بعد عوامی ترسیل کا نمبر آتا ہے۔ اور جہاں تک ترسیل کے ذرائع کا تعلق ہے وہ صرف عوامی ترسیل کے لیے ہی ناگزیر ہیں۔ ترسیل کے باقی مراحل میں سورس ، میسیج اور ریسیور سے کام چل جاتا ہے۔ لیکن جب ہم عوامی ترسیل یعنی ماس کمیونیکیشن کے دائرے میں داخل ہوتے ہیں تو ایک چینل یعنی میڈیا کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ اور تب یہ معلوم ہوتا ہے کہ عوامی ترسیل کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ اس کے ڈانڈے سیاسیات ، سماجیات ، معاشیات اور نفسیات تک پہنچتے ہیں۔ انھی باتوں کو دھیان میں رکھ کر پروفیسر محمد شاہد حسین نے تقریباً سات برسوں کی تلاش و جستجو اور محنت کے بعد ایک کتاب لکھی جسے ہم ’’ ابلاغیات‘‘ کے نام سے جانتے ہیں۔ پروفیسر محمد شاہد حسین نے برسوں کی تحقیق اور اپنے تدریسی تجربات کو شامل کر کے ’’ ابلاغیات ‘‘ کی تخلیق کی۔ فروری 2014میں جے این یو سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی وہ عوامی ترسیل کی تدریس کے مسائل پر غور و فکر کرتے رہے۔ راقم السطور سے اکثر اس سلسلے میں ان کی بات ہوتی تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ آکسفورڈ اور کیمبرج کے نصاب میں شامل ماس کمیونیکیشن کی کتابوں کی طرح اچھی ، تحقیقی ، مفصل ، معیاری اور قابل مطالعہ کتابیں اردو میں لکھی جائیں۔ انھوں نے ’’ ابلاغیات ‘‘ کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے کچھ خاکہ بھی تیار کیا تھا۔ ماس کمیونیکیشن کی تدریس کو لے کر وہ فکر مند رہتے تھے اور اس کے مسائل کو دور کرنے کی شعوری کوشش بھی کرتے تھے۔
آج کے دور میں ماس میڈیا کی تدریس کی ضرورت اور اہمیت سے بھلا کون انکار کر سکتا ہے۔ ہمارے ملک ہندوستان میں بیشتر جامعات میںپہلے سے موجود شعبۂ اردو میں ماس میڈیا کے نئے کورس شامل کیے گئے۔ہری ہر دت بنگو نے سنہ 1822 میں کلکتہ سے ’’ جام ِ جہاں نما ‘‘ جاری کیا۔ یہیں سے اردو صحافت کا آغازہوتا ہے۔ بعد کے زمانے میں مولانا محمد باقر کا ’’ دہلی اردو اخبار ‘‘ ہو یا مولانا ابو الکلام آزاد کا ’’ الہلال ‘‘ ہو یہ تمام اخبارات کسی مشن کے تحت نکالے گئے۔ لیکن بیسویں صدی کی آخری دہائیوں میں نہ صرف ہندوستان میں بلکہ دنیا بھر میں یہ بات شدت سے محسوس کی گئی کہ صحافت کے تاجرانہ تقاضوں کو پورا کرنا بہت ضروری ہے۔ ’’ اطلاعات کی بمباری ‘‘ کا تصور پیش کرتے ہوئے مغربی ماہرین ابلاغیات نے صحافت کی تدریس کو مزید سائنٹفک بنانے پر زور دیا۔ پروفیسر محمد شاہد حسین کو ابتدا سے ہی ڈراموں میں دلچسپی تھی اور ڈرامہ چونکہ عوامی ذرائع ترسیل کی ہی ایک شاخ ہے، اس لیے انھوں نے اپنے آپ کو نہ صرف ڈراما نگاری اور ڈرامے کی تنقید تک محدود رکھا بلکہ عوامی ذرائع ترسیل کے تمام پہلوئوں پر غور و فکر کرتے رہے، تحقیق کرتے رہے اور لکھتے رہے۔یہ ایک حقیقت ہے اور آج دنیا کے تمام ماہرین ابلاغیات اس بات پر متفق ہیں کہ عوامی ذرائع ترسیل دنیا کی سماجی، سیاسی اور معاشی ترقی میں سب سے اہم رول ادا کررہے ہیں۔ پل پل بدلتی دنیا کو ماس میڈیا نے اس قدر متاثر کیا ہے کہ اس کی انتہا کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ پہلے کسی ملک کی ترقی کا معیار اس کی فوجی طاقت ہوا کرتی تھی، پھر اقتصادی طاقت کو دھیان میں رکھ کر کسی ملک کی ترقی، خوشحالی کا اندازہ لگایا جانے لگا، لیکن آج ان دونوں طاقتوں کی حیثیت ثانوی ہوگئی ہے۔ آج جس معاشرے میں ہم سانس لے رہے ہیں یہ معلوماتی معاشرہ ہے۔ آج کے دور میں وہی ملک ترقی کی بلندی پر ہوگا جس کا معلوماتی نظام ارفع و اعلیٰ ہوگا۔ اس سلسلے میں پروفیسر محمد شاہد حسین اپنی شہرہ آفاق تصنیف ’’ ابلاغیات ‘‘ میں لکھتے ہیں۔ :
’’ چالیس سال پہلے ولور شرم Wilbur Schrammi نے اپنی کتاب ماس میڈیا اینڈ نیشنل ڈیولپمنٹ میں پیشین گوئی کی تھی کہ ’’ عوامی ذرائع ترسیل دنیا کا نقشہ بدل سکتے ہیں۔ ’’آج اس پیشین گوئی کی صداقت کا اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں۔ البتہ عوامی ذرائع ترسیل جس تیزی سے دنیا کا نقشہ بدل رہے ہیں اس کی انتہا کا اندازہ لگانا ضرور مشکل ہے۔ آج کا معاشرہ معلوماتی معاشرہ ہے۔ ‘‘ (پیش لفظ، ابلاغیات، از : پروفیسر محمد شاہد حسین )
موجودہ دور کو اطلاعات اور ابلاغ کا دور کہا جاتا ہے۔ آج دنیا بھر میں خبروں، معلومات اور خیالات کی ترسیل میں ماس میڈیا اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اخبارات، ریڈیو، ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا نے انسانی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ ایسے حالات میں ماس میڈیا کی تدریس کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اور اس تدریسی ضرورت کو شدت کے ساتھ محسوس کرکے اردو میںمواد تیار کرنے میں پروفیسر محمد شاہد حسین کا نام بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ ماس میڈیا کی تعلیم طلبہ کو ابلاغ کے جدید ذرائع، صحافتی اصولوں اور معلومات کی درست جانچ کے طریقوں سے آگاہ کرتی ہے۔ اس کے ذریعے نوجوان یہ سیکھتے ہیں کہ خبریں کس طرح تیار کی جاتی ہیں اور عوامی رائے کی تشکیل میں میڈیا کا کیا کردار ہوتا ہے۔ مزید برآں، میڈیا کی تعلیم لوگوں میں تنقیدی سوچ پیدا کرتی ہے، جس سے وہ جھوٹی خبروں اور گمراہ کن معلومات کی پہچان کر سکتے ہیں۔
آج میڈیا انڈسٹری روزگار کے بے شمار مواقع بھی فراہم کر رہی ہے جس میں اردو میڈیا انڈسٹری بھی شامل ہے۔ صحافت، نشریات، اشتہارات، تعلقاتِ عامہ اور ڈیجیٹل میڈیا جیسے شعبوں میں تربیت یافتہ افراد کی مسلسل ضرورت رہتی ہے۔ اس لیے ماس میڈیا کی تدریس نہ صرف علمی اہمیت رکھتی ہے بلکہ پیشہ ورانہ ترقی کے لیے بھی مفید ہے۔اس حقیقت سے بھلا کون انکار کر سکتا ہے کہ مو جودہ عہد میں ماس میڈیا کی تدریس ایک ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔ یہ افراد کو باخبر، ذمہ دار اور مؤثر ابلاغ کا اہل بناتی ہے اور معاشرے کی فکری و سماجی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ’’ ابلاغیات‘‘ کے مصنف ڈاکٹر محمد شاہد حسین جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں ماس میڈیا کے طلبہ کو پڑھاتے رہے۔ اس دوران انھیں اردو ماس میڈیا کے طلبہ کی دشواریوں کا بخوبی اندازہ تھا۔اسی لیے انھوں نے ’’ ابلاغیات ‘‘ جیسی کار آمد کتاب لکھی۔ اب ذرا تفصیل سے اس اہم کتاب کے ابواب پر غور کر لیتے ہیں۔ ’’ ابلاغیات ‘‘ کل چار ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلا باب ’’ترسیل اور عوامی ترسیل‘‘ ہے جس میں ترسیل کی تعریف، اہمیت، اقسام، ترسیل اور عوامی ترسیل کا فرق، عوامی ذرائع ترسیل کے اجزائے ترکیبی اور ترسیل کا ارتقا عہد سنگ سے دور حاضر تک بڑے معروضی استدلالی ڈھنگ سے پیش کیا گیا ہے۔ اس میں زبان کی ابتدا تحریر کا ارتقا اور کاغذ کی ایجاد جیسے موضوعات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔تقریباً چالیس صفحات پر مشتمل اس پہلے باب میں پورے ترسیلی نظام کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔
تقریباً ایک سو پچاس صفحات پر مشتمل دوسرے باب کا عنوان صحافت ہے۔ اس میں صحافت کی ابتدا و ارتقا کے ساتھ ساتھ عہد حاضر تک اردو صحافت کا ارتقا اور خاص طور سے خبرنگاری، نامہ نگاری، اداریہ نگاری، کالم نگاری، فیچر نگاری اور اخباری انٹرویو کی ضروری تفصیلات کو بڑی جامعیت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔سرکولیشن کے پورے نظام کو بہت بہتر طریقے سے سمجھایا گیا ہے۔ سنڈیکیٹ اداروں کے کام کرنے کے طریقوں کو بھی اس باب میں موضوع بنایا گیا ہے۔
تقریباً پچاس صفحات پر مشتمل تیسرے باب میں ریڈیو کی تفصیلات دی گئی ہیں، جس میں ٹیلی گراف، ٹیلی فون وائرلیس ریڈیو اور ٹرانسسٹر کی ایجاد و ارتقا کو سمیٹا گیا ہے۔اس باب کا اہم حصہ وہ ہے جس میں ریڈیو کی تمام اصناف کا تعارف اور ان کے لکھنے کے طریقہ کار سے سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔ ریڈیو ٹاک، ریڈیو ڈراما، ریڈیو فیچر، ریڈیو ڈاکیومنٹری اور فون اِن پروگرام کا بھرپور تعارف اس باب میں موجود ہے۔ اردو سروس ، اردو مجلس ، سینٹرل مانیٹرنگ سروس اور نیشنل چینل کے بارے میں تمام اہم جانکاریاںیہاں دے دی گئی ہیں۔ تقریباً 80صفحات پر مشتمل چوتھے باب میں ٹیلی ویژن کا بیان ہے۔ اس میں ٹیلی ویژن کی ابتدا و ارتقا عالمی اور ہندوستانی تناظر میں اور ترسیلی سیٹلائٹ کی کارکردگی ارتقاء کے ساتھ ساتھ ٹیلی ویژن اصناف ڈاکومنٹری، ڈراما سوپ اوپیرا، فیچر، انٹرویو اور مباحثہ پر نہ صرف بحث کی گئی ہے بلکہ انھیں لکھنے کا طریقہ بھی بتایا گیا ہے، چنانچہ ٹیلی ویژن اسکرپٹ نگاری کی تفصیل بھی اس میں موجود ہے۔چونکہ پروفیسر محمد شاہد حسین خود ٹیلی ویژن کے لیے اسکرپٹ لکھا کرتے تھے اس لیے اسکرپٹ نگاری کے باب میں انھوں نے اسکرپٹ سے متعلق تمام باتوں کوبڑے سلیقے سے بیان کیا ہے۔ واضح رہے کہ بے پناہ مقبولیت کے سبب اس کتاب کے کئی ایڈیشن شائع ہوئے۔ بعد کے ایڈیشن میں فاضل مصنف نے فلموں کے حوالے سے ایک مکمل باب کا اضافہ کر دیا۔ چونکہ فلمیں بھی عوامی ترسیل کا ایک بڑا چینل ہیں۔ اس لیے فلم نگاری کے تمام اصولوں سے بحث کرتے ہوئے فلموں کی تاریخ پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔
کلاس روم لکچر ہو یا تحریر پروفیسر محمد شاہد حسین کا انداز بیان نہایت شستہ، رواں اور دل نشین تھا۔ معاملہ تصنیف و تالیف کاہو یا تقریر کا وہ جدید تحقیق کے اصولوں کو پوری طرح برتنے کے قائل تھے۔ ہر بات بہترین ترتیب و دلیل کے ساتھ بیان کرتے تھے اور مکمل حوالہ دیتے تھے۔ اسی لیے ان کے کلاس روم لکچر میں طلبہ دلچسپی لیتے تھے۔ ان کی تحریر یا تقریر میں الجھائو نہیں تھا۔ان کی باتیں طلبہ، اساتذہ اور عام قاری کے لیے یکساں مفید تھیں۔ ان کی تحریریں عوامی ذرائع ترسیل سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے تو ایک نعمت کا حکم رکھتی ہیں۔ 12فروری 1949کو گورکھپور کے ایک علمی و ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے محمد شاہد حسین اب اس دنیا میں نہیں ہیں لیکن ان کے سیکڑوں طالب علم ملک و بیرون ملک مختلف میڈیا ہائوسیز میں برسر کار ہیں۔ عوامی ترسیل کی تدریس کے حوالے سے پروفیسر محمد شاہد حسین کی خدمات پر ایک مکمل کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ انھوں نے نہ صرف اپنے کلاس روم لکچرز کے ذریعے طلبہ کی بڑی تعداد کی رہنمائی کی بلکہ ان کے لیے اردو زبان میں مواد بھی فراہم کیا۔ اردو میں ماس میڈیا کی تدریس کے حوالے سے پروفیسر محمد شاہد حسین کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔

Dr. Shafi Ayyub
(Shafiuzzama Khan)
Flat No. 304 B, 367 / B-1, Munirka, Opposite JNU Main Gate, New Delhi – 110067
Email: shafiayub75@rediffmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

یوگا: تاریخی، تہذیبی اور فکری منظرنامہ،مضمون نگار: محمد معین الدین

اردو دنیا، جون 2026: انسان نے ہر دور میں اپنے حالات، مسائل اور تقاضوں کے تحت نئے راستے تلاش کیے اور اپنی زندگی کو زیادہ متوازن، پرسکون اور بامقصد بنانے

سورداس،مضمون نگار:منشی پریم چند

اردو دنیا، جولائی 2026: سورداس ہندی بھاشا کے بزم سخن کا صدرنشین ہے۔ نقادوں نے اُسے ہندی شاعری کا آفتاب قرار دیا ہے اور گوسائیں تلسی داس کو ماہتاب۔ ان

یوگا کی عصری معنویت ،مضمون نگار:عبدالحافظ فاروقی علیگ

اردو دنیا،جون 2026: اکیسویں صدی کا انسان بظاہر ترقی کی معراج پر فائز ہے، مگر اس کی داخلی دنیا ایک اضطراب، بے اطمینانی اور فکری انتشار کا شکار دکھائی دیتی