فاروق سیّداور گُل بوٹے، مضمون نگار: فیروز بخت احمد

July 16, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا، جولائی 2026:

یوں تو بچوں کے رسائل کی تاریخ میں ایک سے ایک اعلیٰ مدیران رہے ہیں، مگر تین اعلیٰ ترین نام ہیں: الیاس دہلوی (ماہنامہ’کھلونا‘)، حسین حسّان ندوی (ماہنامہ’پیامِ تعلیم‘)، اور فاروق سیّد (ماہنامہ ’گُل بوٹے‘) ابھی تک ہم اللہ کے دربار میں فاروق سید صاحب کی صحت کے لیے دست دعا پھیلائے ہوئے تھے، اب ان کی مغفرت اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام کے لیے دعا گو ہیں۔ ادب اطفال کا شیدائی اور صحافت کا دلدادہ اپنے حصے کے گل بوٹے اور کیاریاں سجا، کھلا کر اپنے ابدی مسکن جنتی گل بوٹوں کے درمیان جاکر اپنے مالک حقیقی کے دربار میں سجدہ ریز ہو گیا۔
سید صاحب کا انتقال اردو دنیا، بالخصوص ادبِ اطفال کے حلقے کے لیے ایک نہایت ہی اندوہ ناک اور ناقابلِ تلافی سانحہ ہے۔ ان کی رحلت سے ایک ایسی شخصیت ہم سے جدا ہوگئی جو نہ صرف اپنے فن میں یکتا تھی بلکہ اپنی ذات میں ازحد ایمانداری، وضعداری، وفاداری، اخلاص، محبت، خلوص اور علمی سنجیدگی کا حسین امتزاج رکھتی تھی۔ راقم الحروف کو ان سے متعدد بار ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ ہر ملاقات میں ان کی ذرّہ نوازی، خندہ پیشانی، شفقت آمیز گفتگو اور خلوصِ دل کی جھلک نمایاں ہوتی تھی۔ وہ نہایت محبت سے ملتے، حوصلہ افزائی کرتے اور آپسی بھائی چارے، ملک میں اتحاد اردو زبان و ادب کے مستقبل کے حوالے سے اپنی فکرمندی کا اظہار کرتے رہتے تھے۔ جس وقت راقم مانو میں چانسلر تھا تو جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی میں فاروق نے ادب اطفال پر ایک قومی مذاکرہ اپنے دوست اور ادب اطفال کے رسیا، جناب سراج عظیم نجمی صاحب کی مدد سے منعقد کیا تھا، جس میں انھوں نے راقم کو بھی مدعو کیا تھا۔ جب کھانے کا وقفہ ہوا تو سبھی میز کرسیاں بھر گئیں تو راقم نے وہیں زمین پر بیٹھ کر کھانا کھا لیا۔ راقم کا یہ عمل فاروق صاحب کو اتنا پسند آیا کہ ہر محفل میں وہ یہ کہتے نہیں تھکتے تھے کہ بچّوں کے ادب کی محبت میں چانسلر صاحب نے زمین پر بیٹھ کر کھانا کھایا! اس وقت فاروق صاحب اور سراج عظیم صاحب بھی راقم کے ساتھ فرش پر ہی بیٹھے تھے۔
فاروق صاحب نہایت ہی شریف النفس اور ولی الصفت تو تھے ہی، کثیر خوبیوں کے مالک بھی تھے۔ ادبِ اطفال کے فروغ کے لیے ان کی خدمات نہایت وسیع، ہمہ جہت اور قابلِ قدر ہیں۔ ان کی ایک خاصیت یہ بھی تھی کہ انھوں نے بچوں کے ادب کو محض تفریح تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے اخلاقی تربیت، ذہنی بالیدگی اور فکری پختگی کا مؤثر ذریعہ بنایا۔ فاروق سیّد صاحب کی تحریروں میں سادگی بھی تھی، گیرائی اور گہرائی بھی، اور مقصدیت بھی، جو قاری کے دل میں اتر کر اپنا پائندہ اثر چھوڑتی تھی۔
فاروق سیّد کے قریبی دوست، انوار مرزا، ان کے تعلّق سے بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ کوئی زبان کسی انسان کی ترقی میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ بلکہ زبان زینہ ہے کامیابی کی طرف بڑھنے کا۔ نئی نسل کو مشورہ دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’’ تعلیم سے منہ نہ موڑو۔ کامیابی اور ترقّی کے لیے تعلیم اشد ضروری ہے۔ تعلیم کے بغیر ایک نوجوان میکینک تو بن سکتا ہے مگر انجینئر نہیں!‘‘ جڑوں میں کھاد ڈالنے کی ضرورت ہے جبکہ ہم پتّوں پر پانی چھڑک کر خوش ہورہے ہیں! تعلیم کا یہ جذبہ تھا اُن میں!
سب سے اہم بات یہ ہے کہ فاروق سیّد کی کوششوں سے ’گُل بُوٹے‘ مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ آج سے 21 سال پہلے محض250 کی تعداد میں شائع ہونے و الے ’گُل بُوٹے‘ کی موجودہ تعدادِ اشاعت 25 ہزار ہے جو ہر اعتبار سے کسی اُردو میگزین کے لیے ایک کارنامے سے کم نہیں ہے۔ اور25 ہزار کی یہ تعدادِ اشاعت محض دِکھاوے کے لیے، دوست احباب کو مُفت میں بانٹنے کے لیے یا میگزین شائع کرکے، بنڈل باندھ کر گھر یا آفس میں رکھنے کے لیے نہیں ہے۔ ’گُل بُوٹے‘ کے طے شدہ ماہانہ اور سالانہ خریدار ہیں اور پورے مہاراشٹر میں بُک اسٹالز کے علاوہ بہت سے اردو اسکول ہیں جہاں طلبہ کے لیے یہ میگزین ہر ماہ پابندی سے جاتا ہے۔ اِس کے علاوہ ’گُل بُوٹے‘ کامیابی کی منزلیں طے کرتے ہوئے اب دُبئی، شارجہ ، سعودی عربیہ، دوحہ، قطر، بحرین، ایران اور دیگر بیرونی ممالک تک پہنچ گیا ہے۔
فاروق سیّد کی رحلت سے ایک ایسی شخصیت ہم سے جدا ہوگئی جو نہ صرف اپنے فن میں یکتا تھی بلکہ اپنی ذات میں اخلاص، محبت، خلوص اور علمی سنجیدگی کا حسین امتزاج رکھتی تھی۔ مرحوم بے شمار خوبیوں کے مالک تھے۔ ادبِ اطفال کے فروغ کے لیے ان کی خدمات نہایت وسیع، ہمہ جہت اور قابلِ قدر ہیں۔ انھوں نے بچوں کے ادب کو محض تفریح تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے اخلاقی تربیت، ذہنی بالیدگی اور فکری پختگی کا مؤثر ذریعہ بنایا۔ ان کی تحریروں میں سادگی بھی تھی، گہرائی بھی، اور مقصدیت بھی جو قاری کے دل میں اتر کر اپنا اثر چھوڑتی تھی۔ ہر ملاقات میں ان کی نرمی، خندہ پیشانی، شفقت آمیز گفتگو اور خلوصِ دل کی جھلک نمایاں ہوتی تھی۔ وہ نہایت اپنائیت سے ملتے تھے۔ بقول جناب سراج الدین ندوی، مدیر، ’بچوں کا ساتھی‘، ان کی وفات کی خبر نے دل کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ادبِ اطفال کا سراج گل ہوگیا، مگر ان کی خدمات، ان کی تحریریں اور ان کی محبتیں ہمیشہ اہلِ علم و ادب کے دلوں میں زندہ رہیں گی۔
تمام زندگی مختلف اقسام کی قربانیاں دے کر انھوں نے ’بوٹے‘ کو اپنے خون پسینے سے سینچا۔ ممبئی کے روزنامہ ’اردو ٹائمز‘ میں بچوں کا صفحہ ترتیب دیا کرتے تھے اور وہیں سے تجربہ اور مہارت حاصل کرنے کے بعد اپنا رسالہ، ’گل بوٹے‘ شروع کیا۔ اس رسالہ کی بچوں کی طرح پرورش کی۔ ڈیجیٹل ترقی نے اس سورج کو بادلوں میں ڈھانپا تو اسی کو طاقت بنا کر ڈیجیٹلی’گل بوٹے‘ سے بچوں سے رِشتہ برقرار رکھا۔ فاروق سید کے رخصت ہوجانے سے ان گل بوٹوں کا کیا ہوگا، یہ تو وقت بتائے گا، مگر دل سے آواز آتی ہے کہ ا ن کی قربانیاں رائیگاں نہ ہونے پائیں۔
فاروق سید صرف ایک رسالے کے مدیر نہیں تھے بلکہ بچوں کے ادب کے ایک مخلص سپاہی، درد مند رہنما اور ایک ہمہ جہت شخصیت تھے۔ ان کی پوری زندگی بچوں کے لیے معیاری، اخلاقی اور تعمیری ادب کی ترویج و اشاعت میں گزری۔ وہ نہ صرف اپنے رسالے گل بوٹے کی ترقی کے لیے فکر مند رہتے تھے بلکہ ملک بھر میں شائع ہونے والے بچوں کے رسائل اور ادبِ اطفال سے وابستہ قلمکاروں کے مسائل کو بھی اپنا مسئلہ سمجھتے تھے۔
کورونا وائرس کے مشکل دور میں جب متعدد بچوں کے رسائل معاشی بحران کا شکار ہوئے اور کئی رسائل بند ہونے کے قریب پہنچ گئے، اس وقت فاروق سید نے غیر معمولی بصیرت اور اخلاص کا مظاہرہ کرتے ہوئے آل انڈیا سطح پر بچوں کے رسائل کے مدیران کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا۔ ان کی تحریک سے بچوں کے رسائل کی تنظیم قائم ہوئی اور مختلف رسائل کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں کی گئیں۔ یہ ان کے وسیع قلب، اخلاص اور ادبِ اطفال سے سچی محبت کا روشن ثبوت ہے۔
مرحوم بچوں کے ادب کو ایک نئی تحریک دینا چاہتے تھے۔ انھوں نے وقت کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے بچوں کے ادب کو ڈیجیٹل فارمیٹ میں پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی۔ اس کے علاوہ سمینارز، ادبی نشستوں اور جشنِ بچپن جیسے عالمی پروگراموں کے ذریعے بچوں کے ادب کو نئی جہت عطا کی۔ انھوں نے عالمی سطح پر بچوں کے ادیبوں اور قلم کاروں سے مضبوط روابط قائم کیے اور ادبِ اطفال کو ایک منظم تحریک بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ ایک ایسا کام تھا جو فاروق جیسے دِل گُردے والا اِنسان ہی کر سکتا تھا۔

Mr. Firoz Bakht Ahmed
A-202, Adeeba Market &Apts
Near Rahmani Masjid, Main Road
Zakir Nagar, Okhla, Road
New Delhi – 110025
Mob.: 9810933050
firozbakhtahmed08@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

عشق اورنگ آبادی کی شعری جہات،مضمون نگار: کلیم احمد

اردودنیا،فروری 2026: عشق اورنگ آبادی کا نام مرزا جمال اللہ تھا۔ یہ مرزا داؤد بیگ اور نگ آبادی کے بیٹے تھے۔ اورنگ آباد میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مرزا

ڈاکٹر راہی معصوم رضا— گنگا جمنی تہذیب کے امین،مضمون نگار: شاہ فیصل

اردو دنیا،دسمبر 2025: ادب کی دنیا میں بعض نام ایسے ہوتے ہیں جو عہد کی روح بن کر باقی رہتے ہیں۔ڈاکٹر راہی معصوم رضا بھی انہی میں سے ایک ہیں

خوشونت سنگھ اور ان کی فکشن نگاری ،مضمون نگار:نوشاد کامران

اردودنیا،فروری 2026: ہندوستان کی مٹی میں کچھ ایسی اعجا ز نمابات ہے کہ یہاں اتحاد و اتفاق، اخوت و ہمدردی کو تحفظ و فروغ دینے والی ہستیاں ہمیشہ رونما ہوتی