سائنسی متن کا اردو ترجمہ: مسائل و مباحث،مضمون نگار:تلمیذ فاطمہ نقوی

July 16, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا، جولائی 2026:

جن اقوام میں علم کی طلب اور شعور بیدار ہو ان کو بنیادی طور پر ترجمہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ زمانہ قدیم اور عہد وسطیٰ سے ہی علم کی طلب میں سیاح زندگی کا بڑا حصہ سفر میں گزار دیا کرتے تھے۔ علم کی طلب اور اخذ واکتساب کا عمل ترقی یافتہ اقوام میں نمایاں رہا ہے۔وہ اقوام جنھوں نے روحانی یا مادی ترقی کی متعدد منازل طے کیں انھوں نے دوسروں کے علوم و فنون کو جاننے کی کوششوں کو ہمیشہ اپنی ترجیحات میں رکھا ہے۔
ایک زمانے میں تراجم کے طفیل تہذیبوں میں تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ یونانی سے انگریزی کے تراجم نے معاشرہ کو تبدیلی کی طرف گامزن کیا اور یونانی زبان سے عربی میں ہونے والے تراجم عربی نشاۃالثانیہ کی ایک وجہ بنے۔جب بھی ترقی یافتہ قوم سے علم کی شمع کو کسی اور قوم نے لیا تو اس میں پہلا مرحلہ کتب کے ترجمہ کا یعنی علم کو اپنی زبان میں ڈھالنے کا تھا۔یونانی علم کو عرب سائنس دانوں نے اپنی زبان کے قالب میں ڈھال کر سائنس کے علوم کو عروج تک پہنچایا۔ اسی طرح اہل یورپ نے مسلمان سائنسدانوں کے کام سے استفادہ کیا ، پہلے علم کا اپنی زبان میں ترجمہ کیا اور پھر ترقی کی راہیں کھلتی گئیں۔ جدید علوم و فنون، نئی تکنالوجی اور سائنس کے نئے منکشف ہوتے ہوئے گوشے جدید دنیا کی ترقی کے لیے ناگزیر حقیقت بن گئے ہیں اور یہ علوم قوم کی ترقی کی راہیں ہموار کرنے میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔ ان شعبوں میں ہونے والی ترقی نے ان مضامین کے ترجمہ کی طلب میں بھی اضا فہ کیا ہے۔یہ بھی ایک اہم سوال ہے کہ کیا ان علوم سے ترجمہ کے بغیر کما حقہ فائدہ نہیں اٹھا سکتے ۔ ہمارے جیسے ممالک جو کہ غلامی کے ایک طویل دور سے گزرے ہیں جس کے نتیجے میں تہذیبی یلغار کے سبب ہماری زبانیں مقام ووقار کسی حد تک کھو چکی تھیں ۔ ترجمہ ان زبانوں کو اپنے منصب پر واپس لانے اور جدید علوم کو عام کرنے میں ایک آلہ کا کام کرتا ہے۔
یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ انگریزی کی ایک عالمگیر زبان کے طور پر پوری دنیا میں پہچان ہے اور سائنس سے متعلق نئے علوم و تحقیق انگریزی میں ہی دستیاب ہیں۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جدید علوم پر انگریزی زبان کی بالا دستی ہے۔ان کا اردو میں ترجمہ کرنے میں بہت سے امور سے نبردآزما ہونا پڑتا ہے۔ ان میں اردو انگریزی کے درمیان ساختی تغیرات، الفاظ و نحو، مترجمین کا دونوں زبانوں پر عبور ، وغیرہ شامل ہیں۔
بلاشبہ زبان کی ترجمہ نگاری ایک مشکل فن ہے ۔ ترجمہ نگاری محض لفظیات کو ایک زبان (S.L)سے دوسری زبان (T.L)میں منتقل کرنے کا نام نہیں ہے ۔ بلکہ متن (Text) کے قریب تر معنی کا ابلاغ ، ترجمہ نگاری کی مشکلات کے ضمن میں ، زبان کے لسانی، ثقافتی تخلیقی پیرایئہ اظہار کے ساتھ منسلک ہے۔ لسانی سطح پر ہر لفظ جو کہ اکائی کی حیثیت رکھتا ہے اس لفظ کا، ابلاغ، اظہار، معنی مطالب اور ادبی، لسانی، ثقافتی حوالوں سے کئی روشن، مبہم اور خوابیدہ پہلو رکھتا ہے اس لیے ترجمہ کے لیے ان لفظیات کا دونوں زبانوں میں ایک جیسے معنی مہیا کرنا مشکل تخلیقی جہت ہے ۔
سائنسی اور تکنیکی متن کو اردو میں پیش کرنے میں متعدد لسانی مسائل سے روبرو ہونا پڑتا ہے۔سینی (Seiney,1985) کے مطابق تکنیکی تراجم میں تقریباً 40 سے 60 فیصد غلطیاں اصطلاحات پر مبنی ہوتی ہیں اور مترجم کا بیشتر وقت متبادل اصطلاحات تلاش کرنے میں سرف ہوتا ہے۔اسی لیے سائنسی ترجمہ کو حقیقی عقلی چیلنجز (real intellectual challenge) سے موسوم کیاگیا ہے۔ اس کے علاوہ تراجم کے سلسلہ میں ایک بڑا مسئلہ اصطلاحات کے معیار کا ہے۔ فی الحال صورت حال یہ ہے کہ ایک ہی اصطلاح کا ترجمہ نہ صرف مختلف اداروں میں ایک ہی درجہ کے اسباق میں مختلف ملتا ہے۔ مثلاً ایک بچہ سائنس میں چھٹی درجہ میں جو اصطلاح پڑھ کر آ رہا ہے ساتویں درجہ میں اس کے لیے کوئی دوسرا لفظ استعمال ہوتا ہے کیونکہ ترجمہ کرنے والے افراد مختلف ہوتے ہیں اور وہ اپنی عقل وسمجھ کے مطابق ترجمہ کر دیتے ہیں۔اس لیے ضروری ہے کہ ایک معیاری سائنسی اردو اصطلاحات کی لغت تیار کی جائے جو قومی سطح پر منظور شدہ ہو۔ نئی یا غیر معروف اصطلاحات کے ترجمہ کے ساتھ وضاحت بھی شامل کی جائے تاکہ قاری کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ ایک قومی سطح کی ایجنسی کے ذریعہ شائع کردہ کتب میں اس طرح کی مثالیں دیکھنے کوملیں۔آٹھویں درجہ کی سائنس کی کتاب میں Bird Humming کا ترجمہ گنگنانے والی چڑیا کیا گیا جب کہ اردو میں اس کے لیے شیر خور اصطلاح مروِج ہے۔ ساتویں درجہ کی سائنس کی کتاب میں انگریزی میں موجود Idli Batter کا ترجمہ مترجم نے اڈلی مکھن کیا۔ غالباً مترجم مشرقی ہندوستان سے تعلق رکھتا ہوگا اور اڈلی میں استعمال ہونے والے آمیزہ سے ناواقف رہا ہوگا اسی لیے Batterاور Butter میں تفریق نہیں کر پایا ۔ اسی طرح ریاضی کی درجہ دسویں کی کتاب میں سال کے شروع ہونے کے لیے ہندی میں ’ورشارمبھ‘ درج تھا جس کا ترجمہ ’بارش کا آغاز‘ یعنی ’ورش‘ اور ’ورشا ‘ میں فرق نہ کرنے کی وجہ سے تصور کو ہی غلط -ملط کر دیا گیا۔ تھیوریز (2002) کے مطابق سائنسی مترجمین کا بنیادی مقصد معلومات کو واضح، جامع، اور درست طریقہ سے پیش کرنا ہوتا ہے۔ مترجمین کا کام آسان نہیں ہے ان کو اصل متن کی صحیح سمجھ بھی ضروری ہے اور ساتھ ہی ساتھ تحقیق بھی ضروری ہے تاکہ وہ نہ صرف متن کو بلکہ موضوع کو بھی سمجھ سکیں۔
یاویل اور لیٹن سویس (Yowell & Latanswish, 2000) نے تکنیکی اصطلاحات کی دو اقسام میں درجہ بندی کی ہیں۔ بین الثقافتی تسلیم شدہ اصطلاحات اور ثقافتی مخصوص اصطلاحات۔ بین الثقافتی اصطلاحات دراصل آفاقی یا عالمگیر اصطلاحات ہیں یعنی وہ جن کا کسی خاص ثقافت سے تعلق نہیں ہے۔ موخرالذکر اصطلاحات وہ ہیں جو مخصوص ہیں اور صرف ایک زبان سے تعلق رکھتی ہیں اور یہ ہی اصطلاحات ترجمہ میں مسئلہ بنتی ہیں ۔
ترجمہ میں متبادل یا مترادف کے نظریہ کے ظہور کے لیے ایک نئی بحث چھیڑ دی۔جب ترجمہ کرنے والی زبان میں وہ مخصوص اصطلاح نہیں ملتی ہے تو ہم اس کے مترادف کوئی لفظ استعمال کر لیتے ہیں ۔ یہ کہاوتوں، محاوروں ، صنعتی فقروں کا ترجمہ کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔ ایک قومی سطح کی ایجنسی کے ذریعہ شائع کردہ کتاب دسویں درجہ کی سماجی علوم کی کتاب میں انگریزی میں ایک جگہ Haves and Have nots کا ترجمہ ہے اور نہیں ہے، کیا گیا اور یہ وہ کتاب ہے جس کا ہر سال review کیا جاتا ہے۔
ترجمہ کرتے وقت مقامی تاثر (Colloquial expression) ثقافتی ماحول کی تلاش بہت مشکل مرحلہ ہے تاہم سماجی و معاشرتی مطالعہ اس سلسلے میں مدد گار ثابت ہوسکتا ہے۔ مگر اس کے باوجود بہت سے الفاظ جو مخصوص ثقافتی عمل کی پیدوار ہوتے ہیں ان کا نعم البدل کسی دوسری زبان (T.L) میں ممکن نہیں ہو سکتا۔ ترجمہ کے میدان کے ماہرین لینارڈو (Leonardo,2000) اور ڈاربیلنیڈس (Darbelneds,1958)کا ماننا ہے کہ ترجمے کے عمل میں مترجم کا کردار فیصلہ ساز کا ہوتا ہے۔ جب مترجم محسوس کرتا ہے کہ لسانی نقطہ نظر سے ترجمہ کرنا ممکن نہیں ہے وہ یا تو دوسری زبان سے الفاظ مستعار لیتا ہے یا ایک نیا لفظ ایجاد کرتا ہے۔کامیاب ترجمہ کے حصول کے لیے تین بنیادی تقاضے ؛فطری اظہار،قاری کو نظر میں رکھتے ہوئے مترادفات ، اور اصل متن کے روح و مصنف کے انداز کی ترسیل کرنا، ضروری ہیں۔ ترجمہ نگاری میں اس بات پر بہت زور دیا گیا ہے کہ ایک زبان سے دوسری زبان میں ترجمہ کرتے وقت ہم پلہ الفاظ تلاش کیے جائیں جس کے لیے لغت کی جانب رجوع کرنا پڑتا ہے لیکن ناکامی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ لفظوں کے باہمی تال میل کو مدنظر رکھا جائے اور الفاظ کی ترتیب عمدہ ہو۔
پروفیسرجیلانی کامران ’’اردو زبان میں ترجمے کے مسائل‘‘ کے حوالے سے لکھتے ہیں:
’’کوئی ترجمہ سو فیصد اصل متن کے مطابق نہیں ہوتا اور دوسری بات یہ نظر آتی ہے کہ خواہ گفتگو ہی کے جملوں کو دو مختلف زبانوں میں ترجمہ کیا جائے جہاں زبانیں ایک ہی لسانی گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں وہاں جملے کی ساخت قریباً یکساں ہوگی لیکن جہاں ایسے لسانی گھرانے موجود نہیں وہاں جملے کی ساخت میں رد و بدل کرنا ضروری ہوتا ہے ان دونوں باتوں کو ترجمے کے عمل کی بنیادی دشواری قرار دیا جا سکتا ہے‘‘۔
اگر ترجمہ ایک ہی لسانی خاندان کی دو زبانوں کے مابین ہو تو بہرحال ترجمے کے عمل میں آسانی میسر آجاتی ہے لیکن ترجمے کی اصل مشکل S.L اور T.L کا ایک لسانی گروہ سے نہ ہونا ہے۔ اس مشکل پر قابو پانا، اگرچہ اذیت ناک تخلیقی عمل ہے جس کے لیے مترجم کو صرف لفظی ترجمے سے گریز کرنا ہوتا ہے اور اسے اپنی دیگر صلاحیتوں کو آزمانا پڑتا ہے کیونکہ زبان میکانکی عمل نہیں ہے۔ مترجم کو چاہیے کہ وہ اپنی تخلیقی حِسیاّت کو بروئے کار لائے۔ جس سے کہ ’’زبان کے معنوی اور اظہاری جہتوں میں اضافہ ہوگا تو اس میں تنوع کے ساتھ اجنبیت بھی آئے گی اور اسی طرح زبان کا چٹخارہ لینے والوں کو اس میں کچھ نہ کچھ کھردرا پن بھی محسوس ہوگا اس لیے بعض لوگ تخلیقی ترجمے سے یہ مراد لیتے ہیں کہ ترجمہ شدہ تحریر ’’ترجمہ نہ معلوم ہو‘‘۔
سائنس کی اپنی کوئی زبان نہیں ہے بعض اصطلاحات اتنی عام فہم ہیں کہ کسی بھی زبان میں ان کو ڈھالا جا سکتا ہے۔ مگر بعض کا ترجمہ کرنا نسبتاً مشکل ہوتا ہے ۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ کچھ مکتب فکر ہر لفظ کا ترجمہ چاہتے ہیں جو کبھی کبھی زبان کو بہت ثقیل بنا دیتے ہیں۔ ہر سائنسی اصطلاح کو اپنی زبان میں ڈھالنا مناسب نہیں۔ کچھ ایسے مروج الفاظ و اصطلاحات ہوتی ہیں کہ ان کو بچہ بچہ جانتا ہے۔ مثال کے طور پر لفظ ایسڈ ترشہ سے زیادہ مروج ہے ۔ ترجمہ کرتے وقت اکثر مترجمین کا جھکاؤ عربی اور فارسی کے الفاظ کی طرف زیادہ ہوتاہے بالمقابل ہندی اور انگریزی جس کے نتیجے میں عام فہم اور زبان پر رواں الفاظ کے بجائے ثقیل الفاظ استعمال کر لیے جاتے ہیں۔ یہاں اس امر کی صراحت بھی ضروری ہے کہ ہر انگریزی اصطلاح بین الاقوامی اصطلاح نہیں ہے۔ دوسری قابل ذکر زبانوں میں ان کے لیے جو الفاظ مستعمل ہیں وہ املا اور صوتی اعتبار سے مختلف ہیں۔
سائنسی اصطلاحات میں ادب والوں اور ادبی ذوق رکھنے والے لوگوں کا زیادہ عمل دخل نہیں ہونا چاہیے بلکہ ان اصطلاحات کو وضع کرتے وقت سائنس سے متعلق ماہرین سے رائے مشورہ لینا ضروری ہے۔ اردو والوں کو یہ مغالطہ نہیں ہونا چاہیے کہ اردو ان کی مادری زبان ہے اور انگریزی وہ جانتے ہیں تو وہ کسی بھی علمی کتاب کا انگریزی سے اردو میں ترجمہ کرسکتے ہیں ۔ سائنسی علوم کے ترجمہ سے پہلے اپنی زبان پر عبور اورانگریزی کے الفاظ، محاوروں اور اسالیب بیان کو سمجھنے اوراس کے لیے مناسب و موزوں الفاظ کا ذخیرہ موجود ہونا چاہیے ۔ اس کے علاوہ سائنس کا علم بھی ایک لازمی شرط ہے۔ ساتویں جماعت ’دی ایئر‘، دیا گیا ہے ’زمین سورج کی توانائی کے 2,000,000,000 حصوں میں سے صرف 1 حاصل کرتی ہے‘۔ تاہم، اردو ترجمہ میں ’صرف 1‘ حصہ غائب ہے۔ موثر طریقے سے یہ بتانا کہ زمین سورج کی توانائی کے 2,000,000,000 حصے حاصل کرتی ہے۔ ترجمے میں صرف دو الفاظ کی عدم موجودگی نے حقیقت کو مکمل طور پر بدل دیا ہے۔ یعنی ترجمہ کے لیے محض دونوں زبانوں پر عبور ہی کافی نہیں بلکہ سائنس کی بھرپور جانکاری بھی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ علمی اصطلاحات کے لیے فرہنگ، قاموس، اورلغات سے رجوع کرنا ضروری ہے۔ منشی ذکا ء اللہ خاں اور عبدالحق کے کچھ ترجمے بھی موجود ہیں جن سے مستفید ہوا جا سکتا ہے۔
ہمارے ملک میں سائنسی علوم کو اردومیں ڈھالنے کا کوئی مربوط پروگرام نہیں ہے ۔ انفرادی سطح پر کام ہوتے ہیں۔اس کے لیے قومی سطح پر کام ہونا چاہیے ۔
S.L کے اصل متن سے ہم آہنگ ترجمہ اسی صورت میں ممکن ہے جب مترجم اصل متن کا بار بار مطالعہ کرے اور جمالیاتی سطح پر ترجمہ کے معنی و مفہوم کو اس طور سے باہم کر دے کہ قاری کو اجنبیت کا احساس نہ ہو۔ ترجمہ نگاری میں S.L اور T.L کے مابین ثقافتی عنصر بہت اہم جہت ہے اور مشکل ترین مرحلہ بھی۔ کیونکہ دونوں زبانوں کا تہذیبی ثقافتی میلان مختلف ہوتا ہے ایسے میں دو مختلف زبانوں کے درمیان ثقافتی ہم آہنگی تلاش کرنا بہت ہی نازک پہلوؤں کی طرف عرق ریزی کا مطالبہ کرتی ہے۔ کیونکہ ترجمہ کرتے وقت مترجم کو دوسری زبان کے مفہوم اور تہذیبی ثقافتی فضا کو بھی برقرار رکھنا پڑتا ہے۔
ترجمے کا اصل مدعا اور مقصد خیال اور مفہوم کی شفاف ترسیل ہے۔ اس مقصد کے لیے زبان اور بیان پر گرفت بہت ضروری ہے۔
اسی طرح قواعد اور جملہ سازی کی رُو Source Language-(S.L.) انگریزی میں (Subject, Verb) Object, جس سے فقرہ سازی کی جاتی ہے اس مماثلت کاLanguage-(T.L.) (Translated اردو میں جملہ کی ساخت کا انداز جدا ہوتا ہے۔
’اردو میں سب سے پہلی مشکل تو جملوں کی ہے۔ اردو دراصل چھوٹے چھوٹے جملوں کی زبان ہے اور بڑے جملوں کا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہے۔ انگریزی میں طویل جملے ہوتے ہیں۔ طویل جملے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لکھنے والا قاری کے ذہن میں جو تصویر بٹھانا چاہتا ہے اس کو وہ ٹکروں کی بجائے سالم کا سالم پیش کرنے کا خواہاں ہوتا ہے۔ اردو میں جب آپ ترجمہ کرتے ہیں تو طویل جملوں کو چھوٹے چھوٹے جملوں میں منقسم کرنا پڑتا ہے جس سے تحریر کا مجموعی تاثر و منطقی تسلسل قائم رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ اسی لیے فن ترجمہ نگاری میں زبان کے مزاج کو دریافت کرنا از حد ضروری ہے کیونکہ زبان کا ایک آلہ (Tool) کے طور پر استعمال ہونا، بہت سادہ عمل نہیں ہے۔
ترجمہ کی حکمت عملی میں اضافہ کر دینا ، حذف کرنا، اور متبادل پیش کرناOmission, (Addition, Substitution) and عام حکمت ہائے عملی ہیں جن کو مترجم لغوی یا عملی مسائل کو حل کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔نیو مارک (Newmark, 1988) نے بتایا ہے کہ مترجم کچھ ثقافتی، تکنیکی، اور لسانی عناصر کو واضح کرنے کے لیے اضافی معلومات شامل کرنے کا رجحان رکھتے ہیں یا غیر ضروری معلومات کو چھوڑنے کا رجحان رکھتے ہیں۔ اس طرح، ایسی تکنیکوں کے استعمال کی مترجم کو چھوٹ ہونا چاہیے۔
سائنسی اور تکنیکی متن کا اردو میں ترجمہ مشکل ہے، خاص طور پر اس وقت جب اصطلاحات کا مناسب مترادف نہ ملے۔ ترجمے میں بنیادی مشکلات لسانی ساخت، ثقافتی ہم آہنگی، اور اصطلاحات کے معیاری ترجمے سے متعلق ہیں۔ مترجمین کو دونوں زبانوں پر مکمل عبور کے ساتھ، موضوع کی گہری سمجھ اور تحقیقی مہارت بھی درکار ہوتی ہے۔ سائنسی اور تکنیکی اصطلاحات کے ترجمے میں ماہرین کی مدد ضروری ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، ایک معیاری لغت تیار کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ یکسانیت برقرار رہے۔ مترجم کا کام تخلیقی ہے، اور اس میں زبان کے مزاج کو سمجھنا لازمی ہے۔
ماخذ و مصادر
• جیلانی کامران، پروفیسر، مقالہ، شعری ادب کے تراجم کے مسائل اور مشکلات، مشمولہ روداد سیمینار، اردو زبان میں ترجمے کے مسائل، مرتبہ اعجاز راہی، مقتدرہ قومی زبان: اشاعت 1986
• سجاد باقر رضوی، ڈاکٹر، مقالہ، افسانوی ادب کے تراجم، مشمولہ اردو زبان میں ترجمے کے مسائل، مرتبہ اعجاز راہی، مقتدرہ قومی زبان، اشاعت 1986
• شاہد حمید، مترجم، فن شخصیت، انٹرویو، روزنامہ ایکسپریس ، اشاعت 19نومبر 2008
• جمیل جالبی، ترجمہ کے مسائل، مشمولہ ترجمہ کا فن اور روایت، مرتب، ڈاکٹر رئیس، ایجوکیشنل بک ہاؤس علی گڑھ: اشاعت 2004
• حامد بیگ مرزا، مغرب سے نثری تراجم، مقتدرہ قومی زبان، طبع اول 1988

Talmeez Fatma Naqvi
Associate professor CTE, MANUU
College of Teacher Education Bhopal
MANUU Shantinagar, Near Prakash Vidyalaya
Airport Road Bhopal
Email: naqvitalmeez@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

گمنام فلمی نغمہ نگار ،مضمون نگار: خلیق الزماں نصرت

اردو دنیا،اپریل 2026: 1931 میں جب پہلی بولتی فلم عالم آرا بنی تو اس سے پہلے کے فنکار ہی اس میں ایکٹنگ کرتے تھے اور گانے بھی گاتے تھے ہم

یوگا کی عصری معنویت ،مضمون نگار:عبدالحافظ فاروقی علیگ

اردو دنیا،جون 2026: اکیسویں صدی کا انسان بظاہر ترقی کی معراج پر فائز ہے، مگر اس کی داخلی دنیا ایک اضطراب، بے اطمینانی اور فکری انتشار کا شکار دکھائی دیتی

ہمدردانہ حیوانی تحقیق،مضمون نگار:حکیم فخر عالم

اردو دنیا،جون 2026: طبی تحقیق میں تجربہ کے لیے حیوانات کے استعمال کی روایت دوسری صدی عیسوی سے ملتی ہے،لیکن اس کا باقاعدہ رواج پچھلے ڈیڑھ سو برس سے ہے