حکیم آغا جان عیش دہلوی کی غزل گوئی – مضمون نگار: نوشاد منظر
حکیم آغا جان عیش کا تعلق اس مغل خاندان سے تھا جو عہد شاہی میں نواح بخارہ سے ہجرت کرکے ہندوستان آیا۔ پہلے اس کا قیام کشمیر میں ہوا
حکیم آغا جان عیش کا تعلق اس مغل خاندان سے تھا جو عہد شاہی میں نواح بخارہ سے ہجرت کرکے ہندوستان آیا۔ پہلے اس کا قیام کشمیر میں ہوا
ادب کی دنیا میں نازش پرتاپ گڑھی کی شخصیت کسی رسمی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ وہ ایک شہرت یافتہ شاعر تھے۔ وہ قصبہ سٹی(بیگم وارڈ) پرتاپ گڑھ کے ایک
زندگی اور موت کے فلسفے کو شعرائے اردو نے نہایت مؤثر اور بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔ یوں تو اس موضوع پر شعرا کے کلیات و دواوین میں
اردو ناول نگاری کی ابتدا نذیر احمد کے ناول سے ہو تی ہے۔ کسی نئی صنف کی شروعات یا پھر اس میں ایک بڑی تبدیلی کا تعلق زمانہ ماضی
کبھی کبھی کسی کام میں بے جا تاخیر کے سبب کچھ غلط فہمیاں پیدا ہوجاتی ہیں اور اس کے ذمہ دار ہم خود ہوتے ہیں، جس کا خمیازہ بھی
عالمگیریت ایک ایسا حقیقی اور لا محدود عمل ہے جس نے اس دنیا میں موجود ہر شخص اورہر فرد یہاں تک کہ دنیاکے مادّ ی اور غیر مادّ ی
ماضی سے عہد حاضر تک اردو کے بے شمارادبی و نیم ادبی رسائل و جرائد شائع ہوئے لیکن تجزیہ نگاروں اور علم و ادب کے پارکھیوں نے پہلے آگرہ اور
مرثیہ ایک زمانے تک مذہبی شاعری تک محدود رہا۔ اُنیسویںصدی تک آتے آتے اس کی ایک ادبی شکل بن گئی۔ اِس سلسلے میں میر ضمیر اور میر خلیق کی
سر زمینِ پنجاب ازل سے ہی مختلف نسلوں کے افراد سے آباد ہے اور مختلف مذاہب و عقائد یہاں کی رنگارنگ زندگی کا جزو ہیں۔یہاں تھوڑے فاصلے سے یا
ہندوستان مختلف مذاہب کی آماجگاہ رہا ہے،جہاں مذہبی عقائد کا عمل دخل دیکھا جا تارہا ہے، مذہب وہ شے ہے جس کی بنیاد پر حکومتیں تشکیل پاتی ہیں