حبیب تنویر: لوک تھیٹر کی بازیافت- مضمون نگار: محمد شاہ نواز قمر
ہندستان کے تہذیبی افق پر حبیب تنویر(1 ستمبر 1923 – 8 جون 2009) ایک ایسے روشن ستارے کی حیثیت رکھتے ہیں جس کی تابانی کا تمام تر دارومدار اس
ہندستان کے تہذیبی افق پر حبیب تنویر(1 ستمبر 1923 – 8 جون 2009) ایک ایسے روشن ستارے کی حیثیت رکھتے ہیں جس کی تابانی کا تمام تر دارومدار اس
جغرافیائی حالات، سماجی حالات اور سیاسی حالات میں جو تبدیلیاں نمایاں ہوتی ہیں۔ ان کا سیدھا اثر ہماری زندگی پر رونما ہوتا ہے اور اسی کے تحت ہماری زندگی
’’یقین نہیں آتا کہ کبیر اجمل ہمارے درمیان نہیں رہے‘‘ 29جون کو غالباً دوپہر 12بجے فیس بُک پر محترم یعقوب یاور کی یہ پوسٹ دیکھ کر دِل دھک سے
ترجمہ ایک ایسا فن اور ناگزیر امر ہے جس کے بغیر بنی نوع انسان کی مادی اور ثقافتی ترقی مکمل طور پراحاطۂ تصور میں نہیں لائی جا سکتی ہے۔ انسانی
خواتین شعرا نے اردو ادب کے ارتقا میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ ترقی پسند تحریک میں شاعرات ا پنی نظمیہ شاعری میں نسوانی آزادی کی بات کرتی ہیں۔
پروفیسرغلام مجتبیٰ انصاری کا تعلق ضلع ویشالی کی ایک مردم خیز بستی عطاء اللہ پور سے ہے۔وہ 18 مئی 1938 کو پیدا ہوئے۔ والد کا نام محمد نصیر الدین
اردو کی ادبی صحافت میں ’شب خون‘ کی حیثیت ایک رجحان ساز رسالے کی ہے۔ ’شب خون ‘کا پہلا شمارہ بابت ماہ جون، 18 مئی1966 کو منظر عام پر
مغربی ممالک میں ڈرامہ وہاں کی ادبی اور تہذیبی زندگی کا ایک اہم جز سمجھا جاتا ہے بلکہ یوروپ کے تمام ممالک میں اس فن کو ادبی و تہذیبی
انیسویں صدی کے شعری منظر نامے پر جو نام سب سے روشن و تابندہ ہے وہ شیخ محمد ابراہیم ذو ق (1789-1854) کا ہے۔ ذوق کی ابتدائی تعلیم حافظ
ہر عہد اپنے فکری رحجان، معاشرتی طرز زندگی، معاشی نظام، تہذیبی و ثقافتی خصوصیات، سیاسی تحریکات کے اثرات سے تشکیل پاتا ہے، انہی خصوصیات کی بنا پر و ہ