عالمی کتاب میلے میں قومی اردو کونسل کے زیر اہتمام اردو بلاگ نویسی اور ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو صحافت کے کردار پر مذاکرے

January 13, 2026 0 Comments 0 tags

نئی دہلی : عالمی کتاب میلہ ، بھارت منڈپم میں قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان کے اسٹال پر دو اہم اور عصری موضوعات پر مبنی مذاکروں کا انعقاد عمل میں آیا، جن میں صحافت اور ڈیجیٹل اظہار کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ دونوں مذاکروں میں اہلِ علم، صحافیوں اور اردو سے وابستہ افراد کی بڑی تعداد موجود رہی۔

پہلا مذاکرہ ‘ملک کی تعمیر و ترقی میں صحافت کا کردار’ کے عنوان سے منعقد ہوا، جس میں جناب شکیل شمسی، جناب شعیب رضا فاطمی اور ڈاکٹر مظفر حسین غزالی بطور پینلسٹ شریک ہوئے، جبکہ نظامت کے فرائض جناب نایاب حسن نے انجام دیے۔ جناب شکیل شمسی نے کہا کہ صحافت کا رنگ و روپ تیزی سے بدل چکا ہے اور ڈیجیٹل و سوشل میڈیا کے فروغ سے صحافت میں ایک انقلاب برپا ہوا ہے، جس کے باعث اب بات زیادہ کھل کر کہی جا رہی ہے۔ انھوں نے زور دیا کہ صحافت کے بنیادی اصولوں سے واقفیت نہایت ضروری ہے اور ایک صحافی کو ایڈیٹوریل، کالم اور خبر کی ترتیب و اہمیت کا مکمل علم ہونا چاہیے۔ انھوں نے مزید کہا کہ صحافی کا باکردار اور بااخلاق ہونا ازحد ضروری ہے اور پیشہ ورانہ فرائض سے کوتاہی کرنا صحافت کے وقار کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافت کے فنی اسرار و رموز سے واقفیت لازمی ہے اور جن افراد نے باضابطہ صحافتی تعلیم حاصل نہیں کی ہے، انھیں صحافت سے متعلق معیاری کتابوں کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔ جناب شعیب رضا فاطمی نے کہا کہ ماضی کے صحافی محض خبر نویس نہیں ہوتے تھے بلکہ وہ سیاسی اور سماجی میدان کے بھی شہسوار ہوا کرتے تھے۔ انھوں نے اردو مواد کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر دستیاب کروانے کے حوالے سے قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان کی خدمات کو خاص طور پر سراہا ۔ انھوں نے انٹرنیٹ کی افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آج ہم اپنی بات اور خبریں بآسانی دور دراز علاقوں تک پہنچا سکتے ہیں۔  ڈاکٹر مظفر حسین غزالی نے سوشل میڈیا کے مثبت اور منفی پہلوؤں پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جہاں سوشل میڈیا نے خبر رسانی کو آسان بنایا ہے وہیں غلط اور بے بنیاد خبروں کے پھیلاؤ کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔ انھوں نے صحافت میں باریک بینی، تحقیق اور ذمے داری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مستند معلومات کے بغیر خبر کی اشاعت معاشرے کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔

اس سے قبل “اردو میں بلاگ نویسی” کے عنوان سے ایک مذاکرہ منعقد ہوا، جس میں جناب سہیل انجم، جناب جاوید رحمانی اور جناب توحید حقانی بطور پینلسٹ شریک ہوئے، جبکہ نظامت کے فرائض جناب افضل حسین خان نے انجام دیے۔

جناب سہیل انجم نے کہا کہ ماضی میں اظہارِ خیال کے لیے اخبارات کا سہارا لینا پڑتا تھا، لیکن اکیسویں صدی میں انٹرنیٹ کے آنے کے بعد سوشل میڈیا اور بلاگنگ کا استعمال تیزی سے بڑھا ہے۔ انھوں نے بلاگنگ کو  مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں ہر فرد آزادانہ طور پر اپنی بات کہہ سکتا ہے، تاہم اس کا مثبت استعمال ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلاگنگ انفرادی سطح پر زیادہ مؤثر ہوتی ہے، جبکہ ادارہ جاتی سطح پر کئی پابندیاں ہوتی ہیں۔ انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ سوشل میڈیا کے فروغ کے بعد بلاگنگ کسی حد تک کمزور ہوئی ہے۔

جناب جاوید رحمانی نے کہا کہ آج بلاگنگ نے بڑی حد تک اخبارات کی جگہ لے لی ہے، کیونکہ اب لوگ اخبار کے انتظار کے بجائے بلاگ اور آن لائن پلیٹ فارم سے فوری طور پر خبریں اور معلومات حاصل کر لیتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ برصغیر کے مقابلے میں یورپ کے بلاگرز زیادہ متحرک اور فعال نظر آتے ہیں، جس سے ہمیں سیکھنے کی ضرورت ہے۔ جناب توحید حقانی نے بلاگنگ کو خیالات کے مثبت اظہار کا مؤثر ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلاگ کو ذاتی ڈائری کی جدید شکل کہا جا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بلاگ کسی ایک زبان یا موضوع تک محدود نہیں بلکہ ہر موضوع پر اظہارِ خیال کی گنجائش رکھتا ہے۔ انھوں نے بلاگ اور وی لاگ کے فرق کو واضح کرتے ہوئے سیٹیزن جرنلزم پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ ادارہ جاتی بلاگنگ زیادہ تر خبروں تک محدود رہتی ہے، جبکہ انفرادی بلاگ زیادہ مؤثر، آزاد اور بامعنی ہوتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

شعبہ اردو پٹنہ کالج و قومی اردو کونسل کے باہمی اشتراک سے یک روزہ سمینار

پریس ریلیز قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور شعبۂ اردو، پٹنہ کالج، پٹنہ کے باہمی اشتراک سے یک روزہ سمینار بعنوان ’بہار کی علاقائی زبانوں سے اردو کا رشتہ‘

چنار بک فیسٹیول کے پانچویں دن ’میرا تخلیقی سفر‘ کے تحت پروفیسر خالد جاوید اور جناب خورشید اکرم سے گفتگو

پریس ریلیز22جولائی 2026   سری نگر/دہلی: چنار بک فیسٹیول کے پانچویں دن ’میرا تخلیقی سفر:مصنفین ملاقات‘ کے عنوان سے ایک مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں پروفیسر خالد جاوید(مشہور

چنار بک فیسٹیول کا تیسرا ایڈیشن نہایت کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر

پریس ریلیز26جولائی 2026: سری نگر/ نئی دہلی: کتابیں کسی بھی مہذب معاشرے کی فکری بنیاد، تہذیبی شناخت اور روشن مستقبل کی ضامن ہوتی ہیں۔ یہی وہ وسیلہ ہیں جو انسان