اردو دنیا،مئی 2026:
اردو ادب میں ادبی معرکوں اور تنازعات کی ایک طویل روایت رہی ہے۔ یہ ادبی تنازعات تقریباً ہر عہد میں چشمکوں، مناظروں، رقابتوں، مناقشوں، مجادلوں، اور معاصرانہ چھیڑ چھاڑ کی شکل میں برپا ہوتے رہے ہیں۔ ظاہر ہے ان کے ذریعے شعرا ادبا اپنے مقابل پر اپنی علمی اور ادبی صلاحیت کا دبدبہ قائم کرنا چاہتے تھے۔ ان میں اکثر اپنے علمی دلائل اور فنی مہارتوں کے ذریعے اپنے مقابل کے دعوں کو رد کرتے تھے۔ جب کہ کچھ شعرا ایسے بھی ہوتے تھے جو محض اپنی حاضر جوابی یا دریدہ دہنی کے ذریعے اپنے حریف کو زیر یا ذلیل کرنے میں کامیاب ہوجاتے تھے۔ معرکوں اور تنازعات کی نفسیات پر اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ خواہ فنی ہوں یا تحقیقی و تنقیدی ہوں یا فن شاعری سے متعلق ہوں، وہ ہر مقام پر خود ستائی اور خود نمائی کا مظہر تھے اور ان کے ذریعے شعرا ادبا اپنے معاصرین پر اپنی برتری اور تفوق جتانے کے لیے ہر طرح کے حربے استعمال کرتے تھے اور کبھی کبھی تو ایسی صورت حال پیدا ہوجاتی تھی کہ معاملہ ادب سے نکل کر ذاتیات اور پھر مغلظات تک بھی پہنچ جاتا تھا۔ مگریہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض معرکے اور تنازعات خالص علمی، تحقیقی اور فنی نوعیت کے بھی ہوتے تھے۔ اس ضمن میں دونوں طرح کے معرکوں کی مثالیں ہمیں میر و سودا، آتش و ناسخ، انیس و دبیر، انشاء و مصحفی وغیرہ کے یہاں بہ آسانی مل جاتی ہیں۔ ان کے علاوہ بعد کے زمانے میں دیکھیں تو چکبست و شرر، فراق و اثر، عبد الماجد دریاآبادی و نیاز فتح پوری، کلیم الدین احمد و آلِ احمد سرور، عبادت بریلوی و احتشام حسین، رشید حسن خاں و وحید اختر، وہاب اشرفی و محمود ہاشمی وغیرہ کے معرکے بھی کم معروف نہیں رہے ہیں۔
’اردو کے ادبی معرکے‘ کے مصنف عابد پیشاوری نے صاحبانِ معرکہ و مجادلہ کی نفسیات کا مطالعہ کرتے ہوئے اسے صرف تین جملوں میں پیش کرنے کی سعی کی ہے۔ ان کے مطابق:
’’معرکوں اور مناقشوں میں عموماً دو طرح کے ادیب ملوث ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو خود دوسروں پر انگلی اٹھاتے ہیں اور جواباًہدفِ تعریض بنتے ہیں اور دوسرے وہ جو چھیڑے جاتے ہیں تو جواباً چھیڑنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ پہلا گروہ غالباً احساسِ برتری کا شکار ہوتا ہے اور دوسرا گروہ پاسِ خودی سے مجبور!‘‘
(اردو کے ادبی معرکے: عابد پیشاوری 1979،ص 15)
میری دانست میں یاس یگانہ چنگیزی اسی دوسرے گروہ سے تعلق رکھتے تھے جو ’پاسِ خودی‘ سے مجبور تھا۔ یگانہ کی پوری حیات تحفظِ ذات اور احساسِ خودی میں گزری۔ بالخصوص لکھنؤ میں سکونت کے دوران انھوں نے تحفظِ ذات کی خاطر معرکوں کو قصداً اپنا شیوہ بنایا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ لکھنؤ کے اپنے معاصر شعرا سے لڑتے لڑتے اس قدر سخت اور خود پسند ہوگئے کہ مقامی تنازعات میں خواہ مخواہ مرزا غالب کو بھی گھسیٹ لائے اور وہ بھی اس لیے کہ غالب ان کے مخالفین کے آئیڈیل تھے۔ حالانکہ ادب میں کسی فنکار کے ارتداد کے بل بوتے پر بڑا مقام حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ معرکے، تنازعات یا مناقشے ایک عہد کے ادبی ماحول کی تاریخ ہوتے ہیں۔ کچھ یہی یگانہ کے ساتھ بھی ہوا۔ وہ بھی ادبی معرکوں اور تنازعات کا تاریخی حوالہ بن کر رہ گئے، اور ان کی عمدہ شاعری کے نقش رفتہ رفتہ نظروں سے اوجھل ہوتے چلے گئے۔ حالانکہ آگے چل کر مجنوں گورکھپوری اور نیاز فتح پوری جیسے کچھ اہم ادیبوں اور نقادوں نے ان کی شاعری کو بطور خاص اپنا موضوع بنایا۔ مثال کے طور پر مجنوں گورکھپوری کا ایک اقتباس ملاحظہ کریں:
’’یگانہ پہلے شاعر ہیں جو ہم کو زندگی کا جبروتی رخ دکھاتے ہیں اور ہمارے اندر سعی و پیکار کا ولولہ پیدا کرتے ہیں۔ غزل جو اب تک صرف حسن و عشق کی شاعری سمجھی جاتی رہی ہے، یگانہ نے اسے زندگی کی شاعری بنادیا۔ ان کی سب سے نمایاں خصوصیت مردانہ عزم و اعتماد ہے۔ انھوں نے غزل میں واقعی بت شکنی کی ہے… یگانہ کی شاعری ایک جدلیاتی حقیقت ہے اور تصادم و پیکار اس کی نمو اور بالیدگی کے لیے ضروری ہے‘‘۔
(رسالہ نگار، معاصر غزل گویوں پر تنقید نمبر، مدیر نیاز فتح پوری، 1942)
یگانہ کو ’غالب شکن‘ اور ’شہرتِ کاذبہ‘ کی وجہ سے بہت شہرت یا بدنامی ملی۔ مگر ان تصانیف نے ان کو معاصرین کی اکثریت کی نظروں سے گرادیا۔ انھیں مغرور، خودسر، سرکش اور بدمزاج وغیرہ سمجھاجانے لگا۔ غالب کے پرستاروں نے ان کے خلاف ایک گروہ بنالیا اور دیکھتے دیکھتے ان پر حملے ہونا شروع ہوگئے۔ اس کی ایک ادنیٰ مثال یہ ہے کہ جب میکش اکبر آبادی کو یگانہ کی غالب شکنی کے متعلق معلوم ہوا تو انھوں نے لکھا کہ:
’’جب مجھے معلوم ہوا کہ یگانہ نے مرزا غالب پر بھی اعتراض کیے ہیں تو مجھے ان کے نام سے نفرت ہوگئی اور میں نے انھیں بھول جانے کی کوشش کی، اور بھول گیا۔‘‘
یگانہ نے گرچہ مختلف مقامات پر غالب کے اشعار کے عیوب اجاگر کیے، ان کی فکر اور خیال کو ہدف بنایا مگر وہ غالب کے کلیتاً منکر نہیں تھے۔ وہ غالب کی عظمت کے معترف تھے مگر ان کی کورانہ تقلید کے خلاف تھے۔ ان کے مطابق اگر غالب کے ان اشعار، جن میں منطق کی شوخیاں، پسندیدہ نزاکتیں اور قریب الفہم اشارے کنایے پائے جاتے ہیں، ان کی تقلید کی جاتی تو بے شک بہت اچھی بات ہوتی… ان کا یہ بھی ماننا تھا کہ تقلید ہنر کی ہونی چاہیے نہ کہ عیب کی! وہ غالب کی اندھی تقلید پر اس طرح نشانہ سادھتے ہیں ؎
تقلید کے پھندے ہیں گلے میں جن کے
واللہ قدم رکھتے ہیں کیا گِن گِن کے
رفتار میں تیزی ہے نہ پرواز بلند
شاعر تو نہیں، تو تے ہیں ادوائن کے
مگر اس اعتراف کے باوجود وہ غالب کے معاملے میں اکثر تضادات کا شکار رہے مثلاً یہ رباعی دیکھیں ؎
ہاں میر سے اعجاز بیانی سیکھی
گویا تلوار کی روانی سیکھی
اور قاطعِ برہان سے کیا فیض ملا
غالب کی طرح بد زبانی سیکھی
یگانہ اصل میں پسِ پردہ اپنے مخالفین سے برسرِ پیکار تھے۔ وہ انھیں ٹھیٹھ بولی میں ’غلیبچی‘ کہا کرتے تھے اور انھیں نیچا دکھانے کے لیے غالب کے رتبے کو گراتے رہتے تھے۔ حالانکہ حقیقت کچھ اور ہی تھی۔ انھوں نے ایک مضمون ’میرزا غالب اور میں‘ رسالہ ’مخزن ‘ 1918 میں غالب کے تعلق سے اپنی توضیح پیش کی ہے اور اسے ڈاکٹر نجیب جمال نے نقل کیا ہے۔ ملاحظہ کریں:
’’میں نے غالب مغفور پر جو کچھ لکھا، وہ بعض مقامی ضرورتوں سے مجبور ہو کر لکھا۔ جس سے محض لکھنؤ کے چند نافہموں کی چشم کشائی مقصود تھی۔ یہ بحث صفی و عزیز و ثاقب کی چشم کشائی کے لیے چھیڑی گئی تھی اور آج ختم ہوگئی۔‘‘(رسالہ مخزن، جون 1918، ص:52)
یگانہ کا مسئلہ یہ تھا کہ وہ اپنے دور میں بالکل علاحدہ مزاج اور سوچ رکھتے تھے۔ زبان دانی اور عروض دانی کے معاملے میں وہ لکھنؤ والوں کو کورا گردانتے تھے۔ ان کی نرگیسیت کا یہ حال تھا کہ وہ فرماتے تھے کہ ’’اس صدی میں یگانہ کے بجائے اور کسی کو شاعر سمجھنا محض خود فریبی ہے‘‘۔ یا ان کا یہ کہنا کہ ’’اس دور نے میرا کوئی حریف پیدا نہیں کیا۔ موجودہ دور کی لاشوں (یعنی معاصرین) سے ٹکرانا مجھے پسند نہیں۔ یا ’نشترِ یاس‘ کی اشاعت پر یہ لکھنا کہ لکھنؤ کے معاصرینِ حال اور آئندہ نسلوں پر فرض ہے کہ یگانہ چنگیزی کی زبان اور اجتہادی تصرفات سے سند لیں نیز یہ کہ انھیں استاد تسلیم کرکے ان کی پیروی کریں وغیرہ وغیرہ۔ پھر بھی، بات اگر یہیں تک رہتی تو کسی طرح برداشت کرلی جاتی۔ مگر انھوں نے اس سے آگے بڑھ کر مذہبی معاملات میں بھی دخل اندازی کی اور حد سے تجاوز بھی کیا۔ یہ وہ عوامل تھے جنھوں نے لوگوں کی نظر میں ان کو کانٹا بنادیا۔ دراصل یگانہ کے مخالفین نے انھیں قصداً ایسی ڈگر پر ڈال دیا تھا کہ وہ پوری طرح باؤلا ہوجائیں۔ اس بابت ڈاکٹر راہی معصوم رضا نے بھی لکھا ہے کہ ’’یگانہ کے پرستاروں نے انھیں دھکادے کر غالب شکنی کے کگار تک پہنچا دیا۔ وہ یگانہ کی رگِ چنگیزی کو بھڑ کاتے رہے، انھیں مسلسل اکساتے رہے تاکہ وہ اپنا آپا کھودیں اور ہذیان بکنے لگیں اور ہوا بھی یہی۔!
یاس یگانہ چنگیزی نے کلکتہ، لکھنؤ، لاہور، علی گڑھ اور حیدرآباد میں سکونت اختیار کی۔ مگر ’’جس شہر میں رہنا اکتائے ہوئے رہنا‘‘ کے مصداق انھیں کہیں قرار نہیں آیا۔ وہ پوری زندگی بیگانگی میں گزارتے رہے۔ چونکہ طبیعت میں کجی تھی اور احساسِ تفاخر عروج پر تھا اس لیے ان کی نظر میں نہ کوئی جگہ جچی اور نہ کوئی فنکار! وہ میر و غالب اور اقبال جیسے شعرا کے مقابلے میں خود کو کھڑا کرتے رہے اور اپنی اَنا کے لیے تسکین کا سامان فراہم کرتے رہے۔ کبھی خود کو لسان العصر، کبھی ابوالمعانی اور کبھی امام الغزل قرار دیتے رہے اور بہ بانگِ دہل کہتے رہے کہ ؎
کون ہوں، کیا ہوں، دیکھ لیں اہلِ نظر
آبروئے لکھنؤ، خاکِ عظیم آباد ہوں
اتنی تعلی تو خیر گوارا تھی۔ مگر ان کی خود پرستی اپنے معاصرین تک ہی محدود نہ رہی بلکہ بعد کے شعرا تک بھی جا پہنچی۔ انھوں نے اصغر گونڈوی، فانی بدایونی، حسرت موہانی، جگر مراد آبادی اور جوش ملیح آبادی وغیرہ کو بھی اپنی خشونت کا شکار بنایا۔ نیز یہ کہ انھوں نے مختلف ادبی رجحانات و تحریکات کو بھی مِسمار کرنے سے گریز نہیں کیا۔ وہ ترقی پسند ادیبوں کو ’ادبی غدار‘ اور ادب لطیف کو ’ادبِ خبیث‘ کہا کرتے تھے اور نثری شاعری کو تو وہ بکواس سے زیادہ اہمیت ہی نہیں دیتے تھے۔ اس کی تفصیل ان کے ایک مضمون میں ملتی ہے جو ماہنامہ آج کل جنوری 1945 کے شمارے میں شائع ہوا تھا۔
یگانہ چنگیزی نے 1903 میں کلکتہ یونیورسٹی سے انٹرنس کا امتحان پاس کیا۔ اس کے دو سال بعد 1905 میں لکھنؤ کا رخ کیا۔ اس وقت لکھنؤ میں صفی لکھنوی، عزیز لکھنوی اور ثاقب لکھنوی جیسے شعرا کا شہرہ تھا۔ ساتھ ہی نیاز فتح پوری، شاہد دہلوی، ماہر القادری اور عبدالماجد دریابادی جیسی موقر شخصیات بھی وہاں موجود تھیں۔ اس لیے یگانہ کو وہاں وہ جگہ نہیں مِل سکی جس کی وہ توقع رکھتے تھے۔ انھوں نے 1914 میں ’نشترِ یاس‘ شائع کیا۔ اس کتاب میں لکھنؤ کے اساتذہ شعرا جوکہ معتدل مزاج رکھتے تھے، انھوں نے مذکورہ کتاب میں اپنے تاثرات شامل کیے اور ان تاثرات کو بنیاد بنا کر یگانہ نے جو کچھ لکھا وہ کسی شعلے کی لپک سے کم نہ تھا۔ اس امر کی تفصیل بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر نجیب جمال نے تحریر کیا کہ:
’’… یگانہ نے ’ماہئیت شاعری‘ کے عنوان سے دیوان کا پیش لفظ لکھا… لکھتے ہیں کہ انھیں لکھنؤ کے اہل زبان نے، خاندانی شعرا نے اہل زبان مان لیا تو معاصرینِ حال اور آئندہ نسلوں پر فرض ہے کہ یاس کی زبان اور اجتہادی تصرفات سے سند لیں… مگر لکھنؤ کے اکثر نافہم دوسروں کے حقوق کو نہایت بے دردی سے پامال کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اہل انصاف کی نگاہوں میں خود ذلیل ہوتے ہیں‘‘۔
(یگانہ، نجیب جمال، بحوالہ ’نشترِ یاس‘عرشیہ پبلی کیشنز، دہلی 2014، ص128)
ظاہر ہے یگانہ کے اس فرمان نے آگ میں گھی کا کام کیا اور پھر سلسلہ شروع ہوا لسانی کشیدگی کا، متنازعہ بیانات کا اور مناقشانہ سرگرمیوں کا۔ جب معرکہ آرائی کا بازار اور گرم ہوا تو متعدد رسائل بھی اس میدان میں کود پڑے۔مشاعروں اور شعری نشستوں میں ہجویہ اشعار کھل کر سامنے آنے لگے۔ ایک مشاعرے میں ظریف لکھنوی نے یگانہ کے دیوان کی قیمت کا مذاق اڑایا اور ان پر ذاتی نوعیت کے مذموم حملے کیے۔ یہی نہیں، ان کے اشعار پر فحش مصرعے بھی چسپاں کیے۔ یہ دیکھ کر یگانہ چراغ پا ہوگئے اور انھوں نے بھی جواباً ان اساتذہ شعرا کو نشانہ بنایا۔یگانہ کو فنِ عروض ہی نہیں بلکہ زحافات پر بھی عبور حاصل تھا۔ وہ اکثر اپنے مخالفین کو اسی ہنر سے مات دیتے تھے اس کی ایک بہترین مثال یہاں دیکھ لیں ؎
آج وہ کیوں زیرِ خاک سوتے ہیں آرام سے
کانوں پہ رکھتے تھے ہاتھ جو موت کے نام سے
دنیا کی آرزو، نہ دیں کی آرزو
اڑتے ہیں ہوش ایسے اب گردشِ ایام سے
جلوۂ معنی کجا، دیدۂ حیراں کجا
باز آؤ یاس اس آرزوئے خام سے
اور اس پر مستزاد یہ کہ ان اشعار کو انھوں نے بطور چیلنج اپنے مخالفین کو بھجوا دیے کہ وہ ان کی تقطیع کرکے دکھائیں۔
یگانہ کلاسکی شعری روایت اور عصری آگہی دونوں پر مساوی درک رکھتے تھے۔ وہ ایک باخبرحساس اور زمانہ شناس فنکار تھے۔ انھوں نے ادب کے تبدیل ہوتے منظر نامے کو سمجھا اور انھیں اپنے مخصوص انداز اسلوب میں پیش کیا۔ ان کی خود اعتمادی غضب کی تھی اور اسی خود اعتمادی نے انھیں حددرجہ خود پرست اور کج رو بھی بنادیا تھا اور ان کی اسی ادا پر فریفتہ ہوتے ہوئے ان کے حامی ناقدین نے اسے یگانہ آرٹ کے نام سے موسوم کردیا۔
یگانہ کا مسئلہ یہ تھا کہ وہ ایک انحرافی مزاج لے کر دنیا میں آئے تھے۔ وہ کسی کے آگے سپر ڈالنا اپنی شان اور خود داری کے منافی تصور کرتے تھے۔ ان کے مزاج کی ترشی، کرختگی اور حد سے بڑھی ہوئی انانیت نے انھیں ضدی بنادیا تھا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک طرف مخالفین کی بڑی جماعت تھی تو دوسری طرف وہ تنِ تنہا’ون مین آرمی‘ کی طرح مورچے پر ڈٹے ہوئے تھے۔ وہ اپنے مخالفین کی دکھتی رگ کو پہچان گئے تھے، اس لیے اکثر و بیشتر ان کی زبان دانی اور عروض دانی کی گرفت کے بہانے ان کی دکھتی رگیں دباتے رہتے تھے۔ حالات دن بہ دن سنگین صورت حال اختیار کرنے لگے تھے۔ ان کی اس روش کے رد عمل کے طور پر مخالفین کے ترجمان رسالہ ’معیار‘ نے انھیں دھمکی دی کہ یا تو ہمارا مسلک یعنی غالب پرستی اختیار کرو یا شاعری چھوڑ دو۔ لیکن یگانہ تو یگانہ تھے۔ انھوں نے نہ صرف اس دھمکی کو خارج کیا بلکہ دھمکی دینے والوں کو مزید دہلانے اور جلانے کے لیے ایک رسالہ جس کا اوپر ذکر ہوچکا ہے ’غالب شکن‘ لکھ ڈالا۔ پھر کیا تھا چاروں طرف کہرام مچ گیا۔ اس وقت کے معروف رسائل معیار، سیارہ (لکھنؤ) نظارہ (کانپور) اور خیال (میرٹھ) کے صفحات ایک طرح سے جنگ کا میدان بن گئے۔
یہاں ایک بات غور کرنے والی ہے کہ یگانہ نے ہجویہ اشعار کے رد عمل میں خود بھی اشعار نہیں کہے بلکہ زیادہ تر اپنی دھار دار نثر کا سہارا لیا۔ غالباً وہ اپنی شاعری کو اس قضیے میں آلودہ نہیں کرنا چاہتے تھے۔
مختصر یہ کہ یاس یگانہ چنگیزی لکھنؤ کے اپنے مخالفین کے ساتھ دو دہائیوں کی جنگ میں کسی محاذ پر پست نہیں پڑے اور بالآخر ان کی موت بھی ایک طرح سے حالتِ جنگ میں ہی ہوئی۔
اب اخیر میں پروفیسر ممتاز حسین کے اس مختصر اقتباس پر اپنی باتیں سمیٹتا ہوں، جسے تمثیل احمد نے یہاں نقل کیا ہے:
’’یگانہ کی جنگ اس ماحول کے خلاف تھی جس میں ہنر، فن، شعرو ادب کی کوئی قدر نہ تھی۔ وہ اپنے مشن میں اتنے کامیاب رہے کہ آج میدان انہی کے ہاتھ ہے۔‘‘
(مرزا یاس یگانہ چنگیزی: حیات اور شاعری، تمثیل احمد، 2006، پٹنہ، ص:59)
Naseem Ahmad Naseem
Kali Bagh, Ward No: 10
Bettiah- 845438 (Bihar)
Mob.: 7011548240
ahmad.naseem7011@gmail.com