بچوں کے غالب اور شفیع الدین نیّر،مضمون نگار: عبدالناصر

May 22, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا، مئی 2026:

اردو شعرو ادب کا دامن سدا سے حسین غنچہ و گل سے آراستہ رہا ہے۔جس کا دنیا نے بھی اعتراف کیا ہے۔ ان میں شاعرو ادیب دونوں شامل ہیں۔ بچوں سے کس کو محبت اور ہمدردی نہیں ہوتی ہے۔ اس لیے کچھ شعرا و ادبا نے ـ ادب اطفال کا دامن نہایت کامیابی سے تھام لیا اور پوری زندگی نظم و نثر میں بچوں کے لیے برابر لکھتے رہے۔ انہی میں سے ایک شخصیت کا نام شفیع الدین نیر ہے۔
نیر صاحب جامعہ ملیہ اسلامیہ میں برسوں تک درس و تدریس کے فرائض انجام دیتے اور برابر لکھتے رہے۔ ان کی لکھی ہوئی نظمیں اور کہانیاں بچوں کے ماہنامہ کھلونا نئی دہلی سے برابر شائع ہوتی رہیں۔ اس کے علاوہ دیگر ماہنامے بھی ان کی نظمیں اور کہانیاں شائع کرتے رہے۔
بچوں کا ادب لکھنا بظاہر جتنا آسان معلوم ہوتا ہے حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ بلکہ یہ بھی دیگر اصناف ادب کی مانند ایک اہم صنف ہے۔ بچوں کا ادیب یا شاعر بننے کے لیے بچوں کی عمر ، نفسیات اور علمی صلاحیت کا خیال ہر لمحے رکھنا لازمی ہوتا ہے۔ تبھی ایک فنکار اپنے ہنر کا کامیاب مظاہرہ کر پا تا ہے۔ خدا نے یہ تمام خوبیاں نیّر صاحب کی ذات میں شامل کر دی تھیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وہ اس میدان میں ہمیشہ کامیاب رہے۔
شفیع الدین نیر نے سات آٹھ برس کے بچوں کے لیے بھی لکھا، آٹھ سے گیارہ برس کے بچّو ں کے لیے بھی لکھا اور گیارہ سے چودہ برس کے بچوں کے لیے بھی بہت کچھ لکھا۔ اس کے علاوہ انھوں نے اردو کے ایک بڑے شاعر مرزا غالب کی زندگی اور فن کے حوالے سے بھی ایک چھوٹی سی کتاب غالب کی کہانی کے عنوان سے بھی لکھ ڈالی۔
مرزا غالب کا اصل وطن تو آگرہ تھا لیکن جب وہ شادی کے بعد دارالخلافہ دہلی میں مقیم ہوئے تو اسی شہر کی ایک معروف شخصیت بن گئے۔ یہاں تک کہ آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کا استاد بننے کا شرف بھی انھیں حاصل ہوا۔ مرزا غالب بلا کے ذہین تھے۔ فارسی زبان پر انھیں دسترس حاصل تھی اور انھوں نے اپنا ایک دیوان فارسی میں بھی ترتیب دیا تھا ۔ بعدمیں وہ اردو کی جانب راغب ہوئے اور دیوان غالب اردو میں بھی ترتیب دیا۔ ان پر مشکل پسندی کا الزام بھی لگاجس کی انھوں نے وقت رہتے اصلاح بھی کر لی اور سہل الفاظ کا دامن تھام لیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ انیسویں صدی عیسوی میں تمام شعرا پر غالب آگئے۔
مرزا غالب ( 1797-1869) کی مقبولیت اور ہر دل عزیزی کو اس وقت چار چاند لگا جب ان کی وفات کے سو سال گزرنے پر ان کی صد سالہ جوبلی تقریب منانے کا خیال اردو ادب کے بہی خواہوں کے دل میں آیا۔ اس وقت اس ملک کے صدر ڈاکٹر ذاکر حسین تھے۔ انھوں نے مرزا غالب کی حیات و شاعری سے بچوں کو آگاہ کرنے کے لیے ایک کتابچہ لکھنے کا حکم شفیع الدین نیّر صاحب کو دیا جسے انھوں نے بحسن و خوبی انجام دیا۔اس کتابچے کا نام ’’غالب کی کہانی‘‘ رکھا گیا۔ آج میں اسی کتابچے کے حوالے سے آنے والی نسلوں کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں۔ یہ کتابچہ نہایت سلیس و سادہ زبان میں لکھا گیا ہے اور آج بھی اپنی مقبولیت اور اثر آفرینی کے ساتھ زندہ و باقی ہے۔ اس کتابچے کی زبان و بیان کا لطف لیجیے:
’’اردو میں ہزاروں شاعر اور ادیب ہوئے ہیں اور ہزاروں آج بھی موجود ہیں مگر اس زبان کی نظم ونثر میں جو مرتبہ مرزا غالب کا ہے وہ کسی اور شاعر یا ادیب کا نہیں ‘‘۔
آگے چل کر وہ لکھتے ہیں:
’’اب تو حال یہ ہے کہ جہاں بھی شعر و شاعری کا چرچا ہوتا ہے غالب ہی غالب نظر آتے ہیں‘‘۔
اب ذرا انصاف کی نظر سے دیکھیے تو نیّر صاحب نے کتنے سادہ و سہل انداز میں مرزا غالب کی حیات و شاعری کا نقشہ کھینچ کر رکھ دیا ہے جو کم سے کم الفاظ میں دوسروں سے ممکن نہیں۔اب ذراآگے چلیے تو پائیں گے کہ دہلی میں ان کے قیام کی اصل وجہ کیا تھی؟
’’شادی کے وقت ان کی عمر تیرہ سال تھی اور ان کی بیوی کی عمر گیارہ سال۔۔۔ کچھ اس رشتے کی وجہ سے ، اور کچھ دلّی کی دل لینے والی ادا کے سبب انھوں نے اس شہر میں مستقل سکونت اختیار کرلی۔‘‘
شروع میں مرزا غالب کی شاعری مشکل پسند تھی اور عوام کے لیے اس کا سمجھنا کافی دشوار تھا چنانچہ محمد حسین آزاد (آبِ حیات) کے مطابق مرزا آغا جان عیش نے ایک ادبی محفل میں یہ قطعہ کہہ کر ان کا مذاق اڑایا کہ :
اگر اپنا کہا تم آپ ہی سمجھے تو کیا سمجھے
مزا کہنے کا جب ہے ، اک کہے اور دوسرا سمجھے
کلامِ میر سمجھے اور بیانِ میرزا سمجھے
مگر اپنا کہا تم آپ سمجھو یا خدا سمجھے
پھر تو ان کا کلام ایسا ہو گیا کہ بہت سے شعر اپنی سادگی کی بنا پر سہل ممتنع میں شمار ہوتے ہیں یعنی ایسے کہ ان سے زیادہ سہل ممکن نہیں۔
مرزا غالب کی زندگی میں کافی نشیب و فراز بھی آئے۔ مغلیہ حکومت کے خاتمے پر گویا ان پر پریشانیوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ نیّر صاحب اس کا ذکر کس قدر سادہ و سہل الفاظ میں کرتے ہیں، ملاحظہ ہو۔
’’قلعہ معلی سے طویل تعلق ، سات سال تک تاریخ نویسی کی خدمت، تین چار برس بادشاہ کی استادی کا شرف آزادی کی پہلی جنگ کی ناکامی کے بعد ختم ہوا۔ مغلیہ حکومت کی بساط الٹ گئی۔ نہ قلعہ کی ملازمت رہی نہ مشاعرے، نہ قلعہ کی رنگا رنگ زندگی ۔۔۔ آں قدح بہ شکست و آں ساقی نماند۔‘‘
یوں تو دہلی کے گردونواح میں غالب کے سینکڑوں شاگرد اور مدّاح موجود تھے جن سے ان کا تعلق برابر قائم تھا لیکن
’’دہلی کی تباہی کے بعد نواب رامپور یوسف علی خاں ناظم، شعر و شاعری میں مرزا کے شاگرد بنے تو انھوں نے سو روپیہ ماہوار ان کا وظیفہ مقررکر دیا ۔ یہ وظیفہ نواب صاحب کی وفات کے بعد ان کے جانشین نواب کلب علی خان کی سرکار سے بھی مرزا کو تا دمِ حیات ملتا رہا۔ تین برس بعد پنشن بھی جاری ہو گئی۔کچھ آمدنی ادھر ادھر سے ہوتی رہی۔غرض کہ ان کی گزر بسر کا سامان ہو گیا۔‘‘
یوں تو مرزا غالب نے ساری عمر کرائے کے مکان میں بسر کی اور آخری مکان گلی قاسم جان کا مکان تھا جہاں انھوں نے اپنی زندگی کی آخری سانسیں لیں۔ اسے موجودہ وقت میں حکومت دہلی نے ’’مکانِ غالب‘‘ کے نام سے موسوم کر کے ایک بورڈ آویزاں کر دیا ہے اور اسے آثار قدیمہ کے سپرد کر دیا ہے۔
نیر صاحب نے کم سے کم الفاظ اور سہل انداز میں مرزا کی وفات اور جائے مدفن کا ذکر اس طرح کیا ہے۔
’’15 فروری 1869 عیسوی کو تہتر برس چار مہینے کی عمر میں مرزا صاحب نے اس دنیا سے کوچ فرمایا۔ حضرت نظام الدین اولیا کی درگاہ کے باہر جنوب مشرق کی طرف اپنے خسر جناب نواب الہی بخش کے قریب دفن کیے گئے۔‘‘
اب ان کی شاعری کی جانب ایک نظر ڈالتے چلیں۔ مرزا غالب ایک عظیم شاعر ہونے کے کے ساتھ ایک شگفتہ بیان شخصیت بھی تھے۔ان کی اس خوبی کی وجہ سے مولانا حالی نے انھیں ’’حیوانِ ظریف‘‘ کا لقب دیا تھا اور ان کی حیات و کارنامے پر سب سے پہلی سوانح ’’یادگار غالب‘‘ لکھی تھی۔
در اصل شاعری ایک فطری اور خدا داد ملکہ ہے اور اس میں مطالعہ فطرت کی رہنمائی میں روز افزوں ترقی ہوتی رہتی ہے۔ مرزا غالب بھی اس بات سے آگاہ تھے۔ چنانچہ وہ اپنے خیالات میں جدت و رنگا رنگی پیدا کرنے کو مناسب خیال کرتے تھے۔ وہ خود ہی لکھتے ہیں:
ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور
واقعی یہ شعر مرزا غالب کی پوری علمی و ادبی زندگی کا ایک روشن آئینہ ہے جس کا سبھی نے اقرار کیا ہے۔یہ بات ہم سبھی جانتے ہیں کہ تخیل و جذبات ہر انسان کے دل میں برابر اٹھتے ہیں اور کچھ دیر بعد غائب بھی ہوجاتے ہیں۔مرزا غالب اس کا اقرار یوں کرتے ہیں:
ہے آدمی بجائے خود اک محشرِ خیال
ہم انجمن سمجھتے ہیں خلوت ہی کیوں نہ ہو
ایک شاعر یا ادیب اس کی بدولت ہی اپنی شناخت پیدا کرتا ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ ہم ہر شخص کو شاعر یا ادیب نہیں مانتے۔ سچ تو یہ ہے کہ ایک حقیقی شاعر یا ادیب کا احساس اور تخیل عام لوگوں کے مقابلے میں کافی مضبوط اور جاندار ہوتا ہے۔ اس کے سینے میں ایک ایسا دل ہوتا ہے جو موم کی طرح پگھلنے کی خاصیت بھی رکھتا ہے اور پتھّر کی طرح سخت بھی ہوتا ہے۔ اس میں روانی کے علاوہ گہرائی اور گیرائی بھی ہوتی ہے۔مرزا غالب کی ذات میں یہ خوبی رب کائنات نے بدرجہ اتم ودیعت کر رکھی تھی جس کا اظہار وہ اپنی شاعری اور نثر نگاری میں برابر کرتے رہے اور میر تقی میر کے بعد اردو کے سب سے بڑے غزل گو شاعر کی حیثیت سے مشہور ہوئے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ میر کو عزت و شہرت ان کی زندگی میں پوری طرح نصیب ہو چکی تھی اور غالب کو ان کی وفات کے سو سال بعد قدر دان ملے۔ میر کا اسلوب آج بھی قابلِ ستائش ہے اور بیسویں صدی میں بھی اس اسلوب کی پیروی کرنا ہمارے شاعر پسند کرتے ہیں۔ میر نے خود لکھا ہے اور بالکل درست لکھا ہے کہ:
سارے عالم پر ہوں میں چھایا ہوا
مستند ہے میرا فرمایا ہوا
آج جب کہ ہم اکیسویں صدی کی ربع صدی پار کر چکے ہیں میر ہمیں آج بھی پیارے معلوم ہوتے ہیں۔ ان کی شاعرانہ عظمت آج بھی باقی ہے۔ دوسری جانب غالب بھی غالب ہیں۔ آ ج بے شمار ماہر غالبیات پیدا ہو چکے ہیں جو غالب کے فکر و فن کے اہم نکتے تلاش کرتے رہتے ہیں۔اس طرح غالب کی عظمت کا سکّہ آج بھی رائج ہے۔
مرزا غالب نے اپنے دلی جذبات کا اظہار نظم و نثر دونوں میں کیا ہے۔ساتھ ہی ادب کے قارئین کو یہ بھی درس دیا ہے کہ:
’’شاعری ایک فطری ملکہ ہے ، یہ ملکہ پیدائشی ہوتا ہے۔ فطرت ہی کی رہنمائی میں اس کی جلا ہوتی ہے۔
آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیا ل میں
غالب صریر خامہ نوائے سروش ہے
ایک بڑا شاعر اپنی فطری صلاحیت کی بنیاد پر نئے نئے خیالات و مضا مین اس جدت کے ساتھ پیش کرتا ہے کہ اس میں ایک خاص جاذبیت اور جان پیدا ہو جاتی ہے۔ہر کوئی اس کی شاعری پر دیوانہ اور فریفتہ ہوتا ہے۔ مرزا غالب نے غزلیں، قصائد ، مثنوی اور مرثیہ سب کچھ لکھا جو اپنی جگہ سب سے منفرد اور جدا ہیں اور جس کا اقرار ادب کے تمام قارئین آج بھی کرتے نظر آتے ہیں۔ خواجہ الطاف حسین حالی جو ان کے شاگرد بھی رہ چکے ہیں وہ ’’مرثیۂ غالب‘‘ میںاس خوبی کا ذکر کچھ اس طرح کرتے ہیں:
لاکھ مضمون اور اس کا ایک ٹھٹھول
سو تکلف اور اس کی سیدھی بات
بیسویں صدی میں علامہ اقبال نے بھی غالب کی شاعرانہ عظمت کا اقرار اس طرح کیا ہے:
لطفِ گویائی میں تیری ہمسری ممکن نہیں
ہو تخیّل کا نہ جب تک فکرِ کامل ہم نشیں
مرزا غالب کے متعلق ایک عام خیال ہے کہ انھوں نے صرف بڑے لوگوں کے لیے لکھا اور بچوں کے لیے کچھ نہیں لکھا۔ان کے کلام میں اخلاقی تعلیم بھی موجود ہے جو بڑے اور چھوٹے سب کے لیے یکساں ہے۔بچوں کے لیے بھی ان کا مطالعہ ضروری ہے۔ مثلا یہاں دو مثالیں دیکھیے۔
نہ سنو گر برا کہے کوئی
نہ کہو گر برا کرے کوئی
روک لو گر غلط چلے کوئی
بخش دو گر خطا کرے کوئی
ایک شعر اور دیکھیے:
جو مدعی بنے دیکھیے نہ مدّعی بنیے
جو نا سزا کہے ا س کو نہ نا سزا کہیے
غالب نے تقریبا دو صدی قبل کہا تھا۔
گرمی سہی کلام میں لیکن نہ اس قدر
کی جس سے بات اس نے شکایت ضرور کی
مرزا غالب کے کلام میں حق گوئی و بے باکی بھی موجود ہے جس کے متعلق نیر صاحب اس طرح لکھتے ہیں۔
نرمی کا مطلب یہ نہیں کہ آدمی اپنے دل کی سچی بات کہنے سے گریز کرے۔ پھر تو کسی کو حق بات کہنے کا موقع ہی نہ رہے گا۔ خدا کے بندے تو ایسے بھی ہوئے ہیں کہ جنھوں نے پھانسی کے پھندے پر حق بات کہی ہے۔ وقت کی مصلحت یا کسی بھی نوع کے خوف نے انھیں اپنے دل کی بات کہنے سے باز نہیں رکھا۔ مرزا غالب اسی حق گوئی اور آزاد خیالی کی تعلیم دیتے ہیں۔
جی ہی میں کچھ نہیں ہے ہمارے وگرنہ ہم
سر جائے یا رہے، نہ رہیں پر کہے بغیر
شاعری کے ذکر کے بعد نیر صاحب نے مرز ا غالب کی نثر نگاری کا ذکر کرتے ہوئے ان کی دو کتابوں کا نام لیا ہے۔ ایک کا نام ’’عودِہندی‘‘ اور دوسرے کا ’’اردوئے معلی‘‘ ہے۔ ان دونوں کتابوں کے متعلق و ہ یوںلکھتے ہیں:
’’ان کا کلام عام اردو شاعروں سے الگ اور ممتاز نظر آتا ہے۔ یہی حال ان کی نثر کا ہے۔ ان کی نثر سیدھی سادی ہے۔ آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے مگر ایسی دل کو لبھانے والی کہ کسی مزیدار کہانی کی طرح اسے بار بار پڑھنے کو دل چاہتا ہے۔یہ وصف ان کے نجی خطوں میں خاص طور پر نظر آتا ہے۔‘‘
خود مرزا غالب کا بھی اپنی خطوط نگاری کے متعلق بیان بھی ملاحظہ ہو۔ وہ اپنی تصنیف ’’پنج آہنگ‘‘ میں اس طرح لکھتے ہیں:
’’لکھنے کا میرا طریقہ یہ ہے کہ خط کا کاغذ اور قلم ہاتھ میں لے کر ، اور جس کو خط لکھ رہا ہوںاس کے مرتبے کا لحاظ رکھ کر مناسب لفظ سے اسے خطاب کرتا ہوں اور اپنا مدعا لکھنا شروع کر دیتا ہوں۔ وہ جو القاب و آداب اور خیریت و خیر و عافیت کا دستور ہے اور جس سے خط خواہ مخواہ طویل ہو جاتا ہے، نظر انداز کرتا ہوں۔ خط و کتابت میں جو لوگ پختہ ہوتے ہیں وہ ان فضول باتوں سے پر ہیز کرتے ہیں۔‘‘
اس کے علاوہ مرزا غالب کا ایک بیان اور بھی ملاحظہ ہو۔ وہ حاتم علی مہر کے نام لکھے گئے ایک خط میں یوں لکھتے ہیں:
’’مرزا صاحب، میں نے وہ انداز تحریر ایجاد کیا ہے کہ ہزار کوس سے بزبان قلم باتیں کیا کرو اور ہجر میں وصال کے مزے لیا کرو۔‘‘
درج بالا بیانات کا بہ غور مطالعہ کرنے کے بعد نیر صاحب غالب کی اردو نثر کے متعلق اپنی رائے کچھ اس طرح پیش کرتے ہیں:
’’مرزا صاحب کے ان خطوں کی وجہ سے اردو کی نثریں سادہ لکھی جانے لگیں۔ ان خطوں کی اشاعت نے اردو میں سلاست و سادگی اور لطافت و ظرافت کی ایک نئی راہ دکھائی۔ایسی راہ جس پر چل کر اردو نثر کہیں سے کہیں پہنچ گئی۔‘‘
نیر صاحب کا یہ تجزیہ حرف بہ حرف درست ہے۔ ان کی وفات کے بعد بھی جب غالب کے خطوط کو لوگوں نے تلاش کیا تو وہ بھی دستیاب ہو گئے جن کو مولانا امتیاز علی خاں عرشی نے ’’مکاتیبِ غالب‘‘ کے نام سے، مولانا غلام رسول مہر نے ’’خطوطِ غالب‘‘ کے نام سے ، آفاق دہلوی نے ’’نادراتِ غالب‘‘ کے نام سے، اور ڈاکٹر خلیق انجم نے ’’خطوطِ غالب‘‘ کے نام سے یکجا کر دیا ہے۔
اگر بہ نظر انصاف دیکھا جائے تو نیر صاحب نے بچوں کے لیے غالب شناسی کی ایک ایسی راہ ہموار کر دی ہے جو ان سے پہلے کسی شاعر یا ادیب کے حصے میں نہیں آئی تھی۔ اس لحاظ سے اگر غالب جیسے عظیم شاعر کی شاعری اور شخصیت پر کوئی پر اثر کتاب لکھی گئی ہے تو اس فہرست میں ’’غالب کی کہانی ‘‘ کا نام بھی شامل رہے گا۔

Abdul Naseer
At: Pakthoul, P.O: Khizer Chak
Distt: Begusarai (Bihar)
851112
Mob: 97189 41763
Email: abdulnaseer.jnu@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

سجاد مہدی حسینی کی علمی شخصیت،مضمون نگار:سرفراز جاوید

اردو دنیا،دسمبر 2025: ڈاکٹر سجاد مہدی حسینی 24اپریل 2021 کو سفر آخرت پر روانہ ہوگئے۔ وہ اپنے عزیز و اقربا کے خانہ ہائے دل میں گہرے رنج و ملال کی

توفیق احمد چشتی امروہوی کی علم دوستی،مضمون نگار:سید مسعود حسن

اردو دنیا،اپریل 2026: یادش بخیر، 1987/88 کا زمانہ تھا۔ میں ان دنوں خدا بخش لائبریری میں بحیثیت ریسرچ فیلو لائبریری کے گیسٹ ہاؤس میں شعائر اللہ صاحب (رامپور) کے ہمراہ

ڈاکٹر راہی معصوم رضا— گنگا جمنی تہذیب کے امین،مضمون نگار: شاہ فیصل

اردو دنیا،دسمبر 2025: ادب کی دنیا میں بعض نام ایسے ہوتے ہیں جو عہد کی روح بن کر باقی رہتے ہیں۔ڈاکٹر راہی معصوم رضا بھی انہی میں سے ایک ہیں