اسد رضا کی ادبی و فکری شخصیت ،مضمون نگار: محمد نوشاد عالم ندوی

May 22, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا، مئی 2026:

اردو ادب میں طنز و مزاح کی روایت ہمیشہ سے فکری گہرائی اور سماجی شعور کی حامل رہی ہے۔ مرحوم اسد رضا اسی روایت کے ایک اہم اور نمایاں نام تھے جنھوں نے اپنے منفرد اسلوب، شگفتہ بیانی اور باریک سماجی مشاہدے کے ذریعے طنز و مزاح کو محض تفریح نہیں بلکہ فکر و اصلاح کا ذریعہ بنا دیا۔ زیرِ نظر مضمون میں ان کی ادبی خدمات، صحافتی کردار اور شخصیت کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔
مراد آباد کے محلہ لاکڑی والان میں 2 جنوری 1952 کو پیدا ہونے والے اسد رضا اردو ادب کی ان نابغۂ روزگار شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے اپنی تخلیقی بصیرت، شگفتہ بیانی اور فکری گہرائی سے ادب کو وقار اور معاشرے کو شعور عطا کیا۔ وہ اردو ادب کی ہمہ گیر شخصیت تھے جنھوں نے شعر و نثر، سنجیدگی و شگفتگی، فکر و تفریح اور اصلاح و تنقید کو ایک خوبصورت توازن کے ساتھ یکجا کیا۔ وہ محض ایک شاعر یا مزاح نگار نہیں بلکہ ایک باخبر سماج شناس، باریک بیں نقاد اور حساس انسان تھے جن کی تحریر قاری کو ہنساتے ہنساتے سوچنے پر مجبور کر دیتی تھی۔ وہ بیک وقت شاعر بھی تھے، نثر نگار بھی اور ایسے مزاح نگار جن کا طنز قہقہوں کے پردے میں اصلاح کا پیغام لیے ہوتا تھا۔ ان کی وفات اردو ادب کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے، مگر ان کا ادبی سرمایہ آج بھی زندہ اور مؤثر ہے۔وہ ایک باشعور اور درد مند دل رکھنے والے انسان تھے۔ وہ اپنے عہد کے سماجی، اخلاقی اور فکری مسائل سے گہری آگاہی رکھتے تھے اور اپنی تحریروں کے ذریعے معاشرے کی اصلاح کی کوشش کرتے رہے۔ ان کا قلم نرم لہجے میں بھی سچ کہنے کی جرأت رکھتا تھا ؎
دیکھ کر یہ نمائش کی دنیا اسد
ہم نے محسوس کی سادگی کی طلب
مرحوم اسد رضا نے نمائش، دکھاوے اور بناوٹ سے بھری ہوئی دنیا کو غور سے دیکھا تو ان کے دل میں اس کے برعکس ایک احساس جاگا،یعنی سادگی کی طلب۔یہ شعر دراصل مادی اور مصنوعی زندگی پر ایک خاموش تنقید ہے اور ساتھ ہی ایک اندرونی خواہش کا اظہار ہے کہ انسان بناوٹ چھوڑ کر سچائی اور سادگی کی طرف لوٹے۔
انھوں نے صحافت کے میدان میں کئی دہائیوں پر محیط خدمات انجام دیں۔ وہ متعدد کتابوں کے مصنف تھے اور ان کا شمار ان صحافیوں میں ہوتا تھا جنھوں نے خبر، ادب اور طنز و مزاح کو وقار کے ساتھ برتا۔ خاص طور پر ان کا مقبول کالم ’تلخیاں‘ اردو صحافت میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے، جو مسکراہٹ کے ساتھ قاری کو فکر کی گہرائی میں لے جاتا تھا۔
نثر میں مرحوم اسد رضا کا اسلوب بے ساختہ، رواں اور دل نشیں تھا۔ ان کے مضامین اور تحریریں روز مرہ زندگی کے عام مشاہدات سے جنم لیتی ہیں، مگر معنوی سطح پر گہرے سماجی شعور کی عکاس ہوتی ہیں۔ وہ چھوٹے واقعات کے ذریعے بڑے مسائل کو اجاگر کرنے کا غیر معمولی ہنر رکھتے تھے۔ ان کی نثر میں سچائی، شائستگی اور ذہانت کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔
مرحوم اسد رضا کی شاعری احساس و ادراک کی آئینہ دار ہے۔ ان کے اشعار میں زندگی کے نشیب و فراز، انسانی کمزوریاں، سماجی تضادات اور داخلی کرب نہایت سلیقے اور سادگی کے ساتھ نمایاں ہوتے ہیں۔ وہ روایت اور جدت کے حسین امتزاج سے ایسی شاعری تخلیق کرتے ہیں جو بیک وقت دل کو چھوتی اور ذہن کو جھنجھوڑتی ہے ؎
ملتی ہے خموشی سے ظالم کو سزا یارو
اللہ کی لاٹھی میں آواز نہیں ہوتی
انھوں نے اپنی تحریر سے یہ کہنے کی کوشش کی ہے کہ خاموش معاشرہ مردہ نہیں ہوتا، وہ فیصلہ کر رہا ہوتا ہے۔ ان کا یہ شعر صبر، یقین اور عدلِ الٰہی پر اعتماد کا پیغام دیتا ہے ؎
اپنے پڑوسیوں کو بھی پہچانتا نہیں
محصور اپنے خول میں اب فرد فرد ہے
یہ شعر سماجی تنہائی کی بڑی گہری تصویر پیش کرتا ہے۔یعنی ہم ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہیں، مگر ایک دوسرے کے ساتھ نہیں جیتے۔یعنی معاشرہ بظاہر لوگوں سے بھرا ہوا ہے۔ مگر حقیقت میں ہر شخص تنہا ہے۔
انھوں نے اپنے اس شعر میں پڑوسیوں کے حقوق کی طرف اشارہ کیا ہے جو آج کے دور میں تقریباً معدوم ہو چکے ہیں۔یعنی انھوں نے اپنی شاعری سے سماج کی ہرممکن اصلاح کی کوشش کی ہے ؎
دین انسانیت کے جوہر سے
اے خدا ہم کو بھی مشرف کر
یہ شعر دعا، شکوہ اور تمنا تینوں کو سمیٹے ہوئے ہے۔ دین کی اصل روح انسانیت کا جوہر ہے۔ رحم، عدل، محبت، برداشت اور احترام۔ اے خدا، ہمیں بھی ایسا بنا دے کہ ہم دین کو انسانیت کے ذریعے جئیں۔اے خدا! ہمیں مذہبی نہیں، انسان بننے کی توفیق دے اور وہی اصل دینداری ہے۔ یعنی انسانیت کے بغیر دینداری محض خول رہ جاتی ہے۔
مرحوم اسد رضا کو طنز و مزاح کا بے تاج بادشاہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ ان کا مزاح نہ سطحی تھا اور نہ بے مقصد۔ وہ ہنساتے بھی تھے اور سوچنے پر مجبور بھی کرتے تھے۔ ان کا طنز مہذب، شائستہ اور کاری ضرب رکھنے والا تھا۔ وہ سماجی منافقت، فرسودہ روایات، ناانصافی اور انسانی خود فریبی کو اپنے طنز کا نشانہ بناتے، مگر کبھی اخلاقی حدود سے تجاوز نہیں کرتے تھے۔بلاشبہ طنزومزاح میں ہنسنے ہنسانے اور زندگی کی تلخیوں کو قہقہے میں اڑانے کی سکت بھی ہوتی ہے اور مزاح کے پہلو میں زندگی کی ناہمواریوں اورانسانوں کے غلط رویوں پر طنز کرنے کا موقع بھی۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ طنز اور مزاح کے پیرائے میں ایک تخلیق کار وہ سب کہہ جاتا ہے جس کے اظہار کی عام زندگی میں توقع بھی نہیں کی جاسکتی۔ طنزو مزاح نگاری زندگی کی ناہمواریوں اور مضحکہ خیز صورت حال کو دلچسپ انداز میں پیش کرنے کااسلوب ہے۔ طنز اورمزاح میں گہرا تعلق ہے۔ اردو ادب میں طنزومزاح کی کئی شکلیں پائی جاتی ہیں، جیسے نثر میں طنزیہ مزاحیہ افسانے، ناول، خاکے، سفرنامے، خطوط اور انشائیے وغیرہ۔ شعری طنزومزاح میں ہزل، تمسخر، استہزا، پیروڈی، تضمین، اور قطعات وغیرہ طنزومزاح کے میدان میں کئی شعرا اور ادیبوں نے نمایاں کردار ادا کیا ہے، جن میں اکبرالٰہ آبادی، علامہ اقبال، منشی سجاد حسین، رضا واہی نقوی، عادل لکھنوی اور ساغر خیامی وغیرہ نے طنزومزاح کو شاعری کے ذریعہ ایک نئی بلندی تک پہنچایا۔ طنز و مزاح ان کی شاعری میں محض دل لگی نہیں بلکہ ایک سنجیدہ فکری جہت رکھتا ہے۔
اسد رضا نے قومی اور بین الاقوامی سیاست اور حالات پر بہ کثرت مضامین تحریر کیے لیکن ان کے اندر مزاح اور طنز کی ایک زبردست حس موجود تھی جس نے ان سے مزاحیہ ادب تخلیق کرایا۔ یہ بھی کم ہی دیکھا گیا ہے کہ کوئی طنز و مزاح نگار بچوں کا ادب بھی تحریر کرے۔ اسد رضا کے اندر یہ دونوں خوبیاں موجود تھیں۔ ان کے قلم نے بچوں کے لیے مزاحیہ مضامین بھی لکھے، نظمیں بھی لکھیں اور کہانیاں بھی تحریر کیں۔ ان کا تخلیق کردہ بچوں کا ادب اتنا معیاری ہے کہ ساہتیہ اکادمی نے انھیں اس کے لیے انعام سے نوازا اور بچوں کے لیے تحریر کہانی ’چاند نگر کی سیر‘ کو مغربی بنگال حکومت نے چھٹی کلاس کے نصاب میں شامل کیا ہے۔ان کے طنز کی خاص بات یہ ہے کہ وہ چیختے نہیں، الزام نہیں لگاتے، بلکہ سادہ اور نرم جملوں میں گہری بات کہہ جاتے تھے۔وہ سماجی منافقت،فرد کی تنہائی اورخود غرضی وغیرہ پر طنز کرتے تھے۔ گویا ان کا طنزیہ کلام معاشرے پر ہنسی نہیں، معاشرے کے رویوں پر خاموش آنسو ہے۔
مرحوم اسد رضا طنزومزاح میں نئے نئے تجربے کرتے رہتے تھے۔ وہ آئینہ خاموشی سے سامنے رکھ دیتے ہیں۔ان کا طنز قہقہہ نہیں، ایک خاموش سوال ہے۔یہ طنزانچے کے موجد بھی رہے۔ ’طنزانچے‘ کے نام سے ان کی ایک کتاب بھی شائع ہوچکی ہے۔’تلخیاں‘ کے عنوان سے ان کا کالم کافی مشہور ومقبول ہوا۔ طنزو مزاح سے خاص دلچسپی کی وجہ سے اس میدان میں بھی انھیں خاصی شہرت ملی۔طنز ومزاح سے آراستہ ان کے کئی مجموعے اور کتابیں شائع ہوکر قبول عام حاصل کرچکی ہیں۔ان کی مطبوعات کی مجموعی تعداد 22 ہے۔ ان میں شوخیِ قلم، ننھے منوں کی سرکار، چاند نگر کی سیر،شہر احساس، شوشے، طنزانچے،کرکٹی مشاعرہ،ادبی اسپتال، آئینے احساس کے، اترپردیش میں اردو میڈیا-ماضی، حال اور مستقبل وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ عالمی سہارا کی خصوصی اشاعتیں خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ قومی وبین الاقوامی سمپوزیم وسمینارمیں سرگرم شرکت اور ریڈیو،ٹیلی ویژن پر نشریات نے بھی گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ ماہنامہ شگوفہ (حیدرآباد)نے ان پر خاص نمبر شائع کیا۔ میرٹھ یونیورسٹی میں ان پر ایم فل کا مقالہ لکھا گیا جو ان کی مقبول شخصیت کا گواہ ہے۔ 115ادبی وثقافتی تنظیموں اور اداروں نے انھیں انعامات واعزازات سے نوازا۔ وہ ایک خوش مزاج، ذہین اور وسیع المطالعہ انسان تھے، اپنے عملے کے ساتھ گھل مل کر رہتے تھے۔ راقم الحروف نے کافی دنوں تک ان کے ساتھ کام کیا ہے۔ وہ ہمیشہ شفقت اور محبت سے بلاتے تھے، ہمیشہ اپنے ماتحتوں کا خیال رکھتے تھے۔بڑی سے بڑی غلطی پر بھی ڈانٹ ڈپٹ نہیں کرتے تھے، بلکہ بہت ہی نرم لہجہ میں اور مشفقانہ انداز میں سمجھادیتے تھے۔ ایک بار ہم جب ڈیوٹی ختم کرکے ان کے ساتھ اسٹاف بس میں گھر جارہے تھے توراستے میں ایک بات پر میں نے کچھ عرض کیا تو وہ لمحہ بھر کے لیے الجھے ضرور، لیکن معاً بعد ایک بڑے بھائی کی طرح ہنس کر کہنے لگے ’مائی ڈیٔر‘ غصہ مت ہونا۔ اس وقت مجھے احساس ہوا کہ اتنے بڑے عہدے پر ہونے کے باوجود انھوں نے میری غلطی کو فوراً معاف کردیااور ناصحانہ انداز میں کہا ’ہمیشہ اپنے بڑوں کی عزت کرو، دوسروں کے بہکاوے میں نہ آئو‘ ان کی یہ بات آج تک یاد ہے، بلکہ جب بھی اپنے سے بڑوں سے کوئی ناراضگی ہوتی ہے، تو ان کایہ جملہ یاد آجاتا ہے اور پھر اس کو دماغ سے نکال دیتا ہوں۔ ان کی رحلت سے اردو صحافت اور ادب ایک ایسی قیمتی آواز سے محروم ہو گیا ہے جس کی گونج دیر تک محسوس کی جاتی رہے گی۔ وہ نہایت مخلص، اپنے ساتھیوں پر اعتماد کرنے والے انسان تھے۔ زندگی کی آخری سانس لینے سے محض ایک روز قبل انھوں نے اپنے گھر بلاکر راقم الحروف کو اپنی تازہ کتاب ’ظرافستان‘ تبصرہ کے لیے دی۔ اسی بہانہ میری ان سے آخری ملاقات ہوئی۔ ورنہ شاید دوسرے لوگوں کی طرح میں بھی ایک مخلص، رحم دل اور بے لوث مشفق انسان کے دیدار سے محروم رہ جاتا۔ انھوں نے آخری ملاقات میں ایک کتاب ترتیب دینے کی بات بھی کہی، جس پر میں نے کہاکہ سر! ’کہاں میں اور کہاں یہ نکہت گل‘ہم جیسے چھوٹوں کو بس تبصرہ تک ہی محدود رکھیے، لیکن انھوں نے برجستگی سے کہا، نہیں میاں، تم اس کام کو بخوبی کرسکتے ہو، میں تمھیں سہارا سے جانتا ہوں۔ خیر، یہ تھی ان کی شفقت اور چھوٹوں پر اعتماد۔
مختصر یہ کہ، مرحوم اسد رضا ایک ہمہ جہت ادبی شخصیت تھے جنھوں نے اردو ادب کو وقار، شگفتگی اور فکر کی دولت سے مالا مال کیا۔ ان کی تحریریں آج بھی قاری کو محظوظ کرنے کے ساتھ ساتھ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں۔ وہ جسمانی طور پر ہم میں موجود نہیں، مگر اپنے الفاظ، خیالات اور تخلیقات کے ذریعے ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ وہ کہنہ مشق شاعر اور طنز و مزاح کے باوقار قلمکار تھے جنھوں نے اردو ادب اور صحافت کو وقار بخشا۔اردو ادب میں ان کا نام بطور طنز و مزاح ہمیشہ احترام سے لیا جاتا رہے گا۔

Mohd Naushad Alam Nadvi
E-167, Shaheen bagh, Jamia Nagar, Okhla, New Delhi-110025
Email: mohdnaushad14@gmail۔com
Mob۔ 9015763829, 8826096452

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

قاسم خورشید:حیات اورادبی کارنامے،مضمون نگار:توقیرعالم

اردو دنیا،اپریل2026: قاسم خورشیداردوزبان کے نامور ادیب ، افسانہ نگار، مصور،ڈرامہ نویس، ناقد، براڈ کاسٹر ، اور شاعر خوش نوا تھے۔ وہ ہمہ جہت اوصاف کے حامل انسان تھے۔ عصر

جمال اویسی: پاسدارِ شعر وسخن،مضمون نگار:مشتاق احمد

اردو دنیا،اپریل،2026: موجودہ عہد میں جن شاعروں نے اپنی سنجیدہ فکر، تخلیقی بصیرت اور فنّی مہارت کے ذریعے اردو شاعری کو تازہ لہجہ عطا کیا، ان میں جمال اویسی (28؍

مولانا خیر رحمانی کے علمی وادبی نقوش،مضمون نگار:عبدالودود قاسمی

اردو دنیا، مئی 2026: دربھنگہ کی سرزمین زمانۂ قدیم سے علم و ادب کا گہوارہ رہی ہے،اس کی خاک سے بڑے بڑ ے جید علما، صوفیا، اطبا،شعرا وادبا پیدا ہوئے،