اردو اسٹیج کے زوال کے بعد سے اردو ڈراما تقریباً ادبی مشق ہی بنا رہا ہے، متعدد ڈرامانگاروں نے اسے اسٹیج اور ریڈیو یا ٹیلی ویژن سے الگ کرکے دیکھا، لکھا اور پڑھنے والوں نے اسے اپنے ڈرائنگ روم یا اسٹڈی کی خلوتوں میں ناول یا افسانے کی طرح پڑھا۔ یوں بھی ہوا کہ عام قاری ہر اس افسانوی تحریر کو ڈراما سمجھنے لگا جو مکالموں کی شکل میں لکھی گئی ہو، حقیقت یہ ہے کہ ڈراما مکالموں پر منحصر نہیں البتہ مکالمے اس فنی تخلیق کا ایک اہم حصہ ضرور ہیں جو پلاٹ، مکالمے اور کرداروں ہی کے سہارے وجود میں نہیںا ٓتے بلکہ رنگ، صوت، آہنگ، روشنی اور سایوں اور سکوت اور ساز سے مل کر بنتی ہے۔
اس مکمل تخلیق کانام ہے— ڈراما۔ یہاں ہم اس فنی تخلیق کے صرف اس حصے سے بحث کریں گے جو اس کے لکھے ہوئے یا بولے ہوئے الفاظ سے متعلق ہے یعنی ڈرامے کی تحریری شکل۔
سب سے پہلے یہ وضاحت ضروری ہے کہ آج اسٹیج ڈرامے کی تکنیک اتنی ترقی یافتہ ہوچکی ہے کہ ڈرامے کی کسی ایک مخصوص شکل پر اصرار کرنا غیرضروری سا ہوگیا ہے، وہ زمانے گئے جب روایتی سکہ بند اسٹیج پر پردے تھے، اسٹیج فرنیچر تھا، فلڈ لائٹ کی قطاریں تھیں اور دیکھنے والوں اور اداکاروں کے درمیان پڑوسی نیم کی حد فاصل قائم تھی لیکن آج اسٹیج ڈرامے کے بارے میں اتنے اور ایسے تجربے کیے جاچکے ہیں جن کی بنا پر یہ دیوار گرچکی ہے۔ اب اسٹیج تھیٹر کھلی فضا میں نکل آیا ہے، لاریوں اور ٹرک گاڑیوں کے پٹ کھول کر اسٹیج بنا دیا جاتا ہے اور اسٹیج پراپرٹی اور پردوں کا محتاج نہیں رہا ہے، تماشائیوں کی صف میں سے لوگ اٹھ اٹھ کر ڈرامے میں حصہ لینے لگتے ہیں اور پورا تھیٹر ہال بھی گویا اسٹیج بن جاتا ہے۔
غرض آج کی دنیا میں اسٹیج ڈرامے کا سکہ بند تصور قائم نہیں رہا ہے اور ڈرامانگار کے لیے تجربے کے نت نئے مواقع ہیں، ایسی صورت میں ڈرامانگار کے بعد ڈراما پروڈیوسر کی ذمے داریاں سب سے زیادہ ہوجاتی ہیں کیونکہ ڈرامے کی کامیابی یا عدم کامیابی کا دار و مدار اس بات پر ہے کہ ڈرامے کے مرکزی تاثر یا ترسیلی قدر کے بارے میں صحیح فیصلہ کیا گیا ہے یا نہیں ڈرامے کی صحیح توجیہ ہو تو ڈرامانگار اور ڈراما پروڈیوسر دونوں کے نقاطِ نظر میں اتحاد پیدا ہونا لازم ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہر کردار اور ہر مکالمہ اس توجیہ کی آب و تاب سے چمک اٹھے گا ورنہ ممکن ہے بعض مکالمے، کردار اور بعض واقعات تک بے موقع اور بے تکے معلوم ہوں یا ڈراما کچھ کا کچھ ہوکر رہ جائے۔
1. اقدار
ڈرامے کے ذریعے ہم جس قدر یا سلسلۂ اقدار کی ترسیل کا ذکر کرتے ہیں، اس کی نوعیت کیا ہے؟ قدر سے مراد وہ مرکزی تاثر ہے جو ڈراما دیکھنے والا قبول کرتا ہے اور جس مرکزی تاثر کو پیدا کرنا ڈرامانگار اور ڈراما پروڈیوسر اور اس کے تمام رفقا کا مقصود ہوتا ہے۔ عام طور پر مرکزی تاثر کو مقصد یا نظریہ وغیرہ کا مترادف قرار دیا جاتا ہے۔ درحقیقت مرکزی تاثر کو ان تصورات سے متمیز کرنے اور ان سے الگ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ نظریہ یا فلسفۂ زندگی ایک بسیط اور جامع اصطلاح ہے اور وہ کسی شخص کے (عام اس کے کہ وہ فنکار ہو یا نہ ہو) تمام افعال و افکار پر حاوی ہوتی ہے، اس کا ایک ہلکا سا عکس اس کی تخلیقات میں ملتا ہے ایسے کسی باشعور اور ذمے دار شخص کا تصور ہی ممکن نہیں جس کا کوئی نظریہ ہی نہ ہو یا شعوری یا غیرشعوری طور پر وہ کسی فلسفۂ زندگی کو اپناتا نہ ہو، یہ ضرور ہے کہ ہم میں سے اکثر حضرات تساہل کی بنا پر مروجہ فلسفوں میں سے کسی ایک فلسفۂ حیات کو شعوری یا غیرشعوری طور پر اپنا لیتے ہیں یا بے سوچے سمجھے ایسے نظریوں کی ترویج و اشاعت کرنے لگتے ہیں جو ان کی ذات کا حصہ نہیں ہیں بلکہ جن کا ورد وہ اوروں کی دیکھا دیکھی کرنے لگے ہیں۔
گویا نظریہ فلسفۂ حیات کا ایک جزو ہے اور اس نظریے کا ایک ہلکا سا عکس مرکزی تاثر میں نکھر کر اور سنور کو تخلیق پر اثرانداز ہوتا ہے مگر مرکزی تاثر یا قدر کو محض پیغام یا خیال سمجھنا درست نہیں ہے۔ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ مرکزی تاثر وہ تصور ہے جو ڈرامے کے مختلف واقعات اور کرداروں میں ایک فکری اور جمالیاتی مرکزیت اور ہم آہنگی پیدا کرکے ان کی شیرازہ بندی کرتا ہے۔
اس مرکزی تاثر کی کم سے کم چار واضح جہات کی نشاندہی ممکن ہے:
1. فکری اقدار
2. جذباتی اقدار
3. ڈرامائی اقدار
4. مجرد اقدار
فکری اقدار سے وہ خیال یا تصور مراد ہے جس کی بنا پر ڈراما لکھا گیا۔ ڈراما نگار اس مرکزی خیال یا تصور کو دیکھنے والوں تک پہنچانا چاہتا تھا اور اس مقصد کے لیے اس نے مختلف ذرائع سے کام لیا، واقعات کے خاکے بنائے، کردار ڈھالے، ان میں کشمکش پیدا کی، مکالمے لکھے اور پروڈیوسر اور اس کے رفقا نے صوت، آہنگ، نوراورسائے کے امتزاج سے جہانِ تمثیل سجایا مقصد یہ تھا کہ دیکھنے والے کی رسائی اس بصیرت یا فلسفیانہ معنویت تک ہو جو فنکار ناظرین تک پہنچانا چاہتا ہے۔ یہاں یہ بات ملحوظ رکھنے کی ہے کہ فن کی دیگر اصناف کے مقابلے میں ڈرامے میں یہ عمل کہیں زیادہ پیچیدہ اور بالواسطہ ہے اور اسی لیے زیادہ لطیف ہے۔ ڈرامانگار اپنی بات غزل گو یا نظم نگار یا مقالہ نگار کی طرح براہ راست نہیں کہہ سکتا، اسے کردار، واقعات اور ان کی باہمی کشمکش کا سہارا لینا پڑتا ہے اور ان کے تخالف اور تطابق سے اس منزل تک پہنچنا پڑتا ہے جب فنکار کے کہے بغیر ناظرین ڈرامے کی فضا، واقعات اور کرداروں سے اسی مجموعی تاثر یا فکری قدر تک پہنچ جائیں جو ڈرامانگار کا مقصود ہے۔
اسی لیے فن کے بارے میں سنسکرت کے ماہرین جمالیات بار بار اس پر زور دیتے آئے ہیں کہ الفاظ کے سیاق و سباق ان کی ترتیب اور تنظیم سے اکثر وہ مفہوم اور فضا پیدا ہوتی ہے جن کو براہ راست ظاہر کرنے والا ان میں کوئی لفظ بھی نہیں ہوتا۔ مثلاً عشق کے شدید جذبے کو ظاہر کرنے والے ایسے لاتعداد اشعار ہیں جن میں ’عشق‘ یا ’محبت‘ یا ان کا ہم معنی کوئی لفظ بھی استعمال نہیں ہوا ہے یا زندگی کی فنا پذیری اور ناپائیداری پر ہزاروں ایسے اشعار ہیں جن میں فناپذیری اور ناپائیداری کے مترادفات میں سے کوئی بھی لفظ نہیں برتا گیا ہے۔
لہٰذا ڈرامے میں استعمال ہونے والے الفاظ اور مکالمے پڑھنے اور ان کی تفسیر و توجیہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے متعلقہ ڈرامے کی مرکزی فکری قدر کو پہچانا جائے شاید اسی لیے ڈرامے کی دوسری قرأت ہی اس کی اصلی قرأت ہے، عام طور پر پہلی قرأت میں پڑھنے والے واقعات کے بہاؤ اور کرداروں کی کشمکش میں محو رہتا ہے اور عام قاری کی سطح سے اوپر نہیں اٹھ پاتا۔ دوسری بار پڑھتے وقت وہ ان واقعات کی ترتیب اور کرداروں کے باہمی تعلق کی باطنی معنویت اور اس کے ذریعے ترسیل پانے والی فکری قدر کے تانے بانے پہچان سکتا ہے اور اس کی روشنی میں ڈرامے کی توجیہ اور تفسیر کرسکتا ہے۔
فکر کا جذبے سے گہرا تعلق ہے بلکہ شاید یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ فکر اور جذبہ ایک دوسرے کے بغیر مکمل نہیں ہوتے، ان دونوں کو الگ الگ تصور قرار دے کر بصیرت کی ناقابل تقسیم اکائی کو غلط ٹکڑوں میں بانٹ دیا گیا ہے۔ دراصل جذبہ خود مختلف منازل اور مراحل سے ہوکر گزرتا ہے۔ پہلی منزل مشاہدے کی ہے دوسری احساس کی، تیسری جذبے کی۔ پہلے ہر انسان مختلف حواس کے ذریعے خارج کی اشیا کے تاثر سے دوچار ہوتا ہے، آنکھ سے دیکھے تو مشاہدہ کہلائے، دوسرے حواس سے خارجی اشیا سے دوچار ہو تو تجربہ یا تاثر، پھر دوسری منزل مشاہدات یا تجربات کی مختلف سطحوں سے مل کر احساسات میں ڈھل جاتی ہے، یہ احساسات مختلف سطح کے اور مختلف نوعیتوں، درجوں اور مدتوں کے ہوسکتے ہیں کچھ بالکل وقتی اور ہنگامی کچھ زیادہ دائمی اور پائیدار، پھر جب ان احساسات میں فکر کا جزو بھی شامل ہوجاتا ہے تو ان محسوسات کو جذبے کا درجہ ملتا ہے۔ اس لیے جن اقدار کو ہم فکری اقدار کا نام دیتے ہیں ان میں بھی درحقیقت جذباتی عنصر شامل ہوتا ہے مگر آسانی کے لیے ہم جذباتی اقدار کا الگ وحدت کے طور پر ذکر کرتے ہیں۔
ڈراما صرف کوئی نیا خیال یا نیا تصور ہی پیش نہیں کرتا وہ اس فکری قدر کو جذباتی قدر میں ڈھال کر پیش کرتا ہے۔ اکثر ڈراموں میں کرداروں کے اپنے تجربات میں ناظرین خود تخئیل میں شریک ہوتے ہیں، اس لیے صرف مرکزی خیال تصور یا فکری قدر پر ناظرین نظریں جمائے اور ان سے لو لگائے بیٹھے نہیں رہتے بلکہ بعض کردار کی باطنی کشمکش، کرب و نشاط اور جذباتی سرگذشت میں شریک اور ان کی زندگی میں خود شامل ہوجاتے ہیں۔ اس لیے یہ غور کرنا بھی ضروری ہے کہ ڈرامے کی مرکزی جذباتی قدر کون سی ہے اسی بنا پر ڈراموں کو المیہ اور طربیہ کے دو خانوں میں تقسیم کیا گیا ہے لیکن یہ محض ظاہری اور سطحی تقسیم ہے۔ دراصل جذباتی قدر کا تصفیہ اس بنا پر کیا جانا چاہے کہ انسان کے بنیادی جذبوں میں سے کس جذبے سے ڈرامے کا واسطہ ہے سنسکرت شعریات میں انسانی جذبے کی تقسیم نو رسوں یا نوبنیادی منطقوں میں کی گئی ہے جن میں بھگتی (مذہبی یا روحانی)، ہاسیہ (مزاحیہ)، شرنگار (رومانی)، کرونا (ہمدردی جگانے والے) جذبات و تصورات اہم ہیں۔
اس لحاظ سے ہر ڈرامے کی مرکزی جذباتی قدر کو پہچاننا بھی ضروری ہے۔ یہاں یہ اضافہ کرنا ضروری ہے کہ ڈرامے میں تخئیل کی سطح پر جذباتی شرکت ہمیشہ ناظرین کسی نہ کسی کردار کی حمایت میں یا اس کی جذباتی حالت ہمدردی ہی کے ذریعے نہیں کرتے بلکہ اکثر مختلف کرداروں سے جذباتی بے تعلقی کے ذریعے بھی ممکن ہے مثلاً اسٹیج پر اگر ایک کردار اور دوسرے کردار کا مذاق اڑا رہا ہو تو ضروری نہیں کہ دیکھنے یا پڑھنے والا مذاق اڑانے والے کردار کا ہم نوا ہوجائے بلکہ وہ ان دونوں سے جذباتی طور پر لاتعلق ہوکر ان دونوں پر ہنس سکتا ہے اور اس ڈرامے کی جذباتی قدر میں شریک ہوسکتا ہے۔
اقدار کی تیسری جہت ڈرامائی اقدار کے متعلق ہے۔ ان سے مراد وہ اقدار ہیں جو ڈرامے کے فنی حسن میں اضافہ کرتے ہیں یا فنی نقطۂ نظر سے ڈرامے کے لیے ضروری ہیں، ان میں حیرت و استعجاب کا عنصر واقعات کا قدرتی مگر کسی قدر غیرمتوقع ارتقا اور کرداروں کے ڈرامائی داخلے اور اخراج میں شامل ہیں اس کے علاوہ مکالموں اور کرداروں کے درمیان تخالف اور تطابق کے رشتے اور ڈرامے کے مختلف اجزا میں باہمی ربط و ترتیب کی نوعیتوں کو بھی دخل ہے جن پر زیادہ تفصیلی بحث درکار ہے، اکثر زبردست تصادم، آویزش اور کشمکش کے مناظر کی ابتدا نہایت ہی لطیف اور پرسکون قسم کے مکالموں سے ہوتی ہے جو آویزش کی شدت کو نمایاں کردیتے ہیں اس کی کلاسیکی مثالیں شیکسپیئر کے ڈرامے، میکبیتھ کے پورٹر سین یا ہیملٹ میں قبر کھودنے والے کے درمیان مزاحیہ مکالموں والے سین سے فراہم کی جاسکتی ہیں۔ ڈرامائی داخلے اور ڈرامائی اخراج کی مثالیں زیرنظر ڈراموں میں بھی ملیں گی۔
اقدار کی چوتھی جہت جمالیاتی ہے اور دراصل یہی اہم ترین اقدار ہیں ڈرامے میں فکر، جذبہ، ڈرامائیت سب کا وسیلہ اور مقصد یہی ہیں۔ جمالیاتی اقدار کی دو سطحیں ہیں ایک ظاہری دوسری باطنی۔ ظاہری اقدار وہ ہیں جو ڈرامے کی پیش کش کا حصہ ہوتی ہیں اور اسٹیج کی تزئین، لباس، موسیقی، نور اور پرچھائیوں کے استعمال اور اسی قسم کے دوسرے لوازم سے عبارت ہیں ۔ ان سب کی گنجائش ڈرامے کے مسودے میں کم و بیش موجود ہوتی ہے لیکن ان سے پورے طریقے پر فائدہ اٹھانا پروڈیوسر کے اپنے تخئیل پر منحصر ہے عشق و محبت ڈرامے کا عام موضوع ہے لیکن اس کا پس منظر شمشان بھی ہوسکتا ہے اور ایوان شاہی بھی، اور ان دونوں سے جمالیاتی اقدارمیں کام لیا جاسکتا ہے۔
جمالیاتی اقدار کی باطنی سطح وہ ہے جو ڈرامے کے مجموعی اثر سے مرتب ہوتی ہے اور اس میں آواز، سنگیت، رنگ و نور، آوازوں اور مکالموں کا اتار چڑھاؤ،واقعات کا نشیب و فراز اور کرداروں کی باطنی اور باہمی آویزش سبھی کچھ شامل ہوتا ہے اور ان سب کے مجموعی تاثر سے جمالیاتی اقدار پیدا ہوتی ہیں جو دیکھنے والوں کو کچھ لمحے کے لیے مادی دنیا کی بے رنگی اور بکھراؤ سے بلند کردیتی ہیں اور زندگی کو نئی بصیرت اور معنویت دیتی ہیں۔ ان اقدار کو زیادہ لطیف اور موثر بنانا ڈرامانگار اور پروڈیوسر دونوں کی کامیابی کی دلیل ہے۔
لہٰذا ڈرامانگار کے سامنے یہی سیدھا سادہ سوال نہیں ہوتا کہ وہ اپنے مافی الضمیر کو کس طرح اداکرے اپنے مافی الضمیر کو ادا کرنے کا اس کے پاس شاعری یا سنگیت کی طرح کوئی براہ راست وسیلہ نہیں، اسے ہر لفظ لکھتے وقت یہ سوچنا پڑتا ہے کہ مافی الضمیر کا بنیادی تاثر یا نقطۂ ارتکاز کیا ہے وہ کون سا تصور ہے جسے وہ اپنے ڈرامے کے ذریعے پیش کرنا چاہتا ہے اور اس تصور کو وہ واقعات کے نشیب و فراز، کرداروں کی کشمکش اور مکالموں کی روانی اور برجستگی کے ذریعے کس حد تک موثر اندازمیں پیش کرسکتا ہے پھر اس پیشکش کے دوران وہ مختلف اقدار کو کس حد تک ملحوظ رکھنے میں کامیاب ہوا ہے۔ گویا اس کی بنیادی کشمکش اپنی باطنی کیفیات کو کامیابی کے ساتھ خارجی شکل دینے کی ہے اور وہ بھی اس طرح کہ وہ محض تماشائیوں کی تفریح اور سستی تبلیغ کا آلہ کار نہ بن جائے بلکہ اپنے تجربات کی گرمی اور اپنے ’بے کل باطن‘ کے پورے سوز کو صداقت اور وفاداری کے ساتھ پیش کرسکے۔
2. طرز و آہنگ
اس اقدار کی ترسیل ڈرامے میں کس طرح کی جائے اس کا دار و مدار ڈرامے کے اپنے پیرایۂ بیان پر ہے تھیٹر کی اصطلاح میں اسے اسٹائل کہا جاتا ہے لیکن چونکہ اس اصطلاح سے طرزِ بیان پر اشتباہ پیدا ہوسکتا ہے اس لیے اسے پیرایہ کہنا شاید زیادہ مناسب ہوگا۔ زندگی کے تجربات میں ہم سب شریک ہیں لیکن طرز احساس کے اعتبار سے ہم سب مختلف طبائع رکھتے ہیں، کچھ کے نزدیک زندگی سے پایا ہوا ہر زخم پھول ہے ، کچھ کے نزدیک اس گلزار کا ہر پھول زخم ہے، بعض شفق کے رنگوں سے مدہوش ہوتے ہیں، بعض کو آس پاس کی گندگی، غریبی اور دکھ میں عرفانِ حیات کے جلوے نظر آتے ہیں۔ زندگی کی مادی حقیقتوں سے قربت اور بعد کی بنا پر نیلمس نے بجا طور پر مختلف پیرائے کے ڈراموں کی ایک گوشوارے کے ذریعے اس طرح درجہ بندی کی ہے:
اس خاکے کا خلاصہ یہ ہے کہ زندگی کی تصویرکشی جس حد تک اصل کے مطابق اور تخئیل کی رنگینی سے دور ہوگی اسی قدر ڈراما حقیقت پسندانہ ہوگا لوگوں کے لباس عام طرز کے ہوں گے اور کرداروں کے چہرے، مزاج اور کردار عمومی زندگی سے قریب تر ہوں گے، قصے میں عمومی رنگ کم اور تخصیص زیادہ ہوگی، فضا اور تفصیلات پر زور دیا جائے گا اور پس منظر کو اہمیت حاصل ہوگی۔
حقیقت پسندی کے اس سرے سے ڈراما جس قدر دور ہوتا جائے گا اسی قدر تخئیل کی رنگ آمیزی بڑھتی جائے گی۔ تخئیل کی رنگ آمیزی ہلکی ہوئی تو تھیٹریکل حقیقت پسندی کا پیرایۂ بیان ظہور میںا ٓتا ہے جس میں زندگی کی سنگینی اور جبر پر زیادہ زور دیا جاتا ہے اور تاریک پہلو پیش کیا جاتا ہے جس کی سب سے اچھی مثال گورکی کا ڈراما Lower Depths یا ’نچلی پستیاں‘ ہے۔
زندگی کی اس سنگین، تاریک اور بے دردانہ تصویرکشی میں تخئیل کی رنگ آمیزی کچھ اور زیادہ ہوجائے اور اس کی حقیقی یا معروضی شکل میں کچھ اور مبالغہ یا تحریف کی جائے تو (المیہ انجام ہو) میلو ڈراما اور (طربیہ انجام ہو تو) فارس یا مزاحیہ ڈراما وجود میں آتا ہے۔ اب گویا زندگی کی جوں کی توں شکل تخئیل کی تہہ در ہہ رنگینی سے کچھ کی کچھ ہوجاتی ہے۔
زندگی کی وفادارنہ عکاسی اور تخئیل کی رنگینی کے ان دونوں سروں کے درمیان ڈرامے کے مختلف پیرائے اور طرز ابھرتے ہیں، ان ہی دونوں سروں کو فنی اصطلاحوں میں کلاسیکی اور رومانی اصطلاحوں سے بھی بیان کیا جاسکتا ہے۔ کلاسیکی طرزمیں زیادہ وزن، وقار اور تہہ داری پائی جاتی ہے فکری حجم بھی زیادہ نمایاں ہوتا ہے، کرداروں میں بھاری بھرکم پن موجود ہوتا ہے اور ان کی باہمی اور اندرونی آویزش گویا زندگی کے بنیادی مسائل کی تہیں کھولتی معلوم ہوتی ہے، قدیم یونانی ڈراموں سے لے کر آج کے دور تک کے ایسے ڈرامے جو فکری حجم اور واقعات اور کرداروں کے وقار سے مزین ہیں کلاسیکی یا نیم کلاسیکی کہے جاسکتے ہیں، ان میں فکر کا عنصر تخئیل اور جذبے کو غلبہ حاصل کرنے نہیں دیتا بلکہ فکر ہی کو اور زیادہ نمایاں اور تیکھا بنا دیتا ہے یہی عناصر مجرد شکلوں میں اظہاریت اور Formalismکو جنم دیتے ہیں۔
اس کے مقابلے میں رومانیت جذبے کی آزادانہ سرمستی اور تخئیل کی بے محابا اڑان کی قائل ہے اسے رنگینی اور سرشاری عزیز ہے اسی لیے اس کے کردار گویا جذبے کے ابلتے ہوئے آتش فشاں ہوتے ہیں جن کی نظریں ستاروں میں کھوئی ہوئی ہیں اور جن کے قدم کسی خواب ناک دادی کے رہ نورد ہیں۔ مکالموں سے لے کرطرز عمل تک اور لباس سے لے کر فضا تک ہر شے پر رنگینی اور سرمستی کی لہر چھائی ہوتی ہے۔
یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہ تمام اصطلاحیں ادبی تنقید میں اضافی حیثیت رکھتی ہیں اور ان میں سے کسی اصطلاح کا کوئی قطعی اور حتمی تصور نہیں جسے سو فیصدی کلاسیکی اور رومانی کہا جاسکے، ان دونوں طرز کی سرحدیں ملتی ہیں اور ان دونوں میں کئی عناصر مشترک ہیں۔ کوئی ڈراما ایسا نہیں جسے سو فیصدی کلاسیکی یا سو فیصدی رومانی، مکمل طور پر معروضی یا مکمل طور پر داخلی کہا جاسکے لیکن اہم بات یہ ہے کہ کس ڈرامے پر بحیثیت مجموعی کس رنگ کا غلبہ ہے، ڈرامے کے واقعات، کرداروں اور مکالموں کی تفسیر اور توجیہ نہیں بلکہ تفہیم تک میں بنیادی اہمیت اسی پیرائے یا طرز کی ہے کہ طرز کی تبدیلی سے الفاظ کے معنی اور ڈرامے کا مفہوم تبدیل ہوجاتا ہے حتیٰ کہ لفظوں کے معنی اور واقعات کی اہمیت تک بدل سکتی ہے۔ اس کی ایک مشہور اور معمولی سی مثال تو یہ ہے کہ:
’’کیسے مزاج ہیں؟‘‘
کے الفاظ کو کم سے کم چار پانچ طریقوں سے ادا کیا جاسکتا ہے اور ادائیگی کے طریقے کا دار و مدر ڈرامے کے سیاق و سباق اور پیرائے پر منحصر ہوگا۔ مثلاً:
’’کسے مزاج ہیں؟‘‘ (رسمی طور پر مزاج پرسی کی جس میں خلوص اور دوستی کی گرمجوشی نہیں ہے)
’’کیسے مزاج ہیں؟‘‘ (پوچھنے والا بہت فکرمند تھا اور دردمندی اور دلسوزی سے بیمار کا حال دریافت کررہا ہے)
’’کیسے مزاج ہیں؟‘‘ (آپ ’’آپ سے مل کر خوشی ہوئی‘‘ کے معنوں میں)
’’کیسے مزاج ہیں؟‘‘ (طنزیہ، یعنی اب تو مزاج ٹھکانے آگیا) وغیرہ وغیرہ۔
اسی طرح امتیاز علی تاج کے ڈرامے ’انارکلی‘ کو پیش نظر رکھیے اگر اسے رومانی طرزمیں کنیز ’انارکلی‘ کی نارسائی کے المیے کی شکل میں پیش کیا جائے تو اس میں شہنشاہ اکبر کا کردار بڑی حد تک دو چاہنے والے دلوں کو جدا کرنے والے ’ولین‘ کا کردار بن کر ابھرتا ہے اور اس کے مکالموں میں سازش اور مکاری کا رنگ ابھارا جاسکتا ہے لیکن اگر اسی ڈرامے کو شہنشاہ اکبر کے خواب کی شکست کی شکل میں پیش کیا جائے جس کا مرکزی خیال یہ ہو کہ اکبر ہندوستان میں اپنے خاندان کی حکومت مستحکم کرنے کے خیال سے ایک ایسے جانشین کی تربیت کرنا چاہتا تھا جو اس کے تصورات اور آدرشوں کی تکمیل کرسکے گا تو اس صورت میں اکبر ہیرو کی حیثیت اختیار کرلیتا ہے اور شہزادہ سلیم اور انارکلی کا رومان اس جبر مشیت کا ایک جزو بن جاتا ہے جو اکبر کے خواب کو ٹکرے ٹکڑے کر ڈالتا ہے، اس شکل میں اکبر کے مکالمے کلاسیکی المیے کے عناصر سے خالی نہ ہوں گے اس قسم کی مثالیں زیرنظر ڈراموں سے بھی پیش کی جاسکتی ہے۔
مکالموں کا طرز، آہنگ اور زبان اس لحاظ سے محض واقعات اور کرداروں سے متعین نہیں ہوتے بلکہ خود واقعات اور کردار اور ان کے ساتھ مکالمے بھی ڈرامے کے پیرائے سے متعین ہوتے ہیں ’’ہر ڈرامے کے مکالموں کی زبان لازمی طور پر دوسرے ڈرامے کے مکالموں کی زبان سے مختلف ہوگی لیکن یہاں جو بات خاص طور پر عرض کرنی ہے وہ یہ ہے کہ ہر پیرائے میں الفاظ کے معنی جداگانہ ہوجاتے ہیں، اسی لیے الفاظ کو محض لغوی معنی کے دائرے میں نہ برتا جاسکتا ہے نہ سمجھا جاسکتا ہے جس طرح شاعری میں ہر لفظ میں ’ماورائے سخن بھی ہے ایک بات‘ ہے اسی طرح ڈرامے میں بھی لفظ محض تخئیل کو جگانے اور اسے برسرکار لانے میں معاون ہوتا ہے۔ ڈرامے میں الفاظ اور جملوں کا مفہوم اسی میزان میں تولنا اور پرکھنا چاہیے۔
3. شرائط
بلاشبہ ڈراما تحریری شکل میں ہدایات اور مکالموں پر مشتمل ہوتا ہے، اسی بنا پر اکثر مکالموں کے مجموعے کو ڈراما سمجھ لیا جاتا ہے اور اسی غلط فہمی کی بنا پر اکثر لکھنے والے مرکزی خیال کو مکالموں کے طرزمیں ادا کرنے کو ڈراما سمجھنے لگتے ہیں۔
اسی غلط فہمی سے طویل مکالموں والے ڈرامے وجود میں آئے جنھیں مکالموں کی شکل کے افسانے یا ناول کہا جاسکتا ہے مگر ڈرامے کے ذیل میں انھیں شمار نہیں کیا جاسکتا۔
دراصل مکالمے تین صورتوں سے خالی نہیں ہوتے اور اگر وہ ان تینوں میں سے کوئی شرط بھی پوری نہ کرتے ہوں تو ڈرامے میں ان کی گنجائش نہیں۔
یا تو مکالمہ کہانی کو آگے بڑھاتا ہو۔
یا کردار کے کسی پہلو کو واضح اور اس میں تبدیلی یا ارتقا ظاہر کرتا ہو۔
یا فضا پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہو۔
یہ معیار ہر مکالمے کے ہر ٹکڑے کے لیے برتا جاسکتاہے۔ لفاظی یا شاعرانہ تقریروں کی گنجائش اس طرح ختم ہوجاتی ہے۔
یہ بات تو ہر شخص جانتا ہے کہ ہر مکالمہ ہر کردار کے منہ پر نہیں پھبتا۔ بلکہ ذرا مبالغے سے کام لیا جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ہر شخص کی ایک نجی زبان ہوتی ہے اور اس کے الفاظ مخصوص ہوتے ہیں، ڈرامانگار کا کمال یہ ہے کہ وہ ہر کردار کو قدرتی زبان یا نجی الفاظ تک رسائی حاصل کرسکے جس طرح ہر شخص کا طرز عمل مختلف ہوتا ہے اسی طرح اس کا لب و لہجہ، الفاظ اور محاورات، پیشہ ورانہ اصطلاحیں اور جملے بھی الگ الگ ہوتے ہیں۔ ڈرامے میں ہر شخص اپنے الفاظ اور اعمال سے پہچانا جاتا ہے، یہی حال کچھ عملی زندگی میں بھی ہے مگر ڈرامے کی چھوٹی سی دنیا میں یہ شناخت زیادہ بے محابا اور جلد ہوجاتی ہے۔
اس لحاظ سے غور کیجیے تو ہر مکالمے کا رشتہ چار جہتی ہے ایک طرف تو اسے اس کردار کے مطابق ہونا چاہیے جو اسے بول رہا ہے۔ دوسرے اس صورت حال کے مطابق ہونا چاہیے جس میں اسے ادا کیا جارہا ہے، تیسرے اس کا تعلق ڈرامے کے پیرائے سے ہونا چاہیے جس کا تذکرہ پہلے آچکا ہے چوتھے اپنے ڈرامے کے مکالموں کے مجموعی رنگ و آہنگ کی کڑی ہونا چاہیے۔
اس آخری شق کی وضاحت ضروری ہے۔ یوں تو پورا ڈراما ہی بظاہر مکالموں سے عبارت ہوتا ہے لیکن درحقیقت ان مکالموں کو مختلف حصوں یا ابواب میں تقسیم کیا جاسکتا ہے جنھیں Sequence کہا جاسکتا ہے۔ یہ ٹکڑے اپنا ایک مستقل بالذات مجموعی تاثر رکھتے ہیں اور یہ تاثر آگے چل کر پورے ڈرامے کے مجموعی تاثر میں ضم ہوجاتا ہے۔
ہر مکالمہ رنگ و آہنگ، لہجے اور فضا کے لحاظ سے گویا ایک مسلسل اور مربوط نظم کے مصرعے کی طرح ہے اور جس طرح تغیر، تبدل اور رنگا رنگی سے موسیقی ترتیب پاتی ہے اور سنگیت کا لطف لَے، تان، مُرکی کے تنوع سے دوبالا ہوجاتا ہے، اسی طرح مکالموں کا باہمی تعلق ان کے آہنگ، بلندی اور رفتار سے قائم ہوتا ہے مثلاً فرض کیجیے دو کردار آپس میں گفتگو کررہے ہیں ایک کا مکالمہ آہستگی سے شروع ہوتا ہے، دوسرا اس کا جواب تیزی سے اور بلند آواز سے دیتا ہے مخاطب شخص کا دوسرا مکالمہ اس تیزی کے مقابلے میں آہستہ رفتار بھی ہے اور نیچی آواز یں بھی۔ اب ان مکالموں سے ایک متنوع قسم کی صوتی تصویر تیار ہوجاتی ہے، مکالموں کے کسی مخصوص سلسلے یا Sequence میں اس قسم کی متعدد اور رنگارنگ تبدیلیوں کی گنجائشیں نکالی جاسکتی ہیں جن سے مکالموں کا صوتی تنوع سنگیت کی سی جمالیاتی اقدار کی کم و بیش ترسیل کرسکتا ہے۔
مکالموں کو خوبصورت بنانے کے کئی طریقے ہیں یہاں ان کا ذکر یوں بھی ضروری ہے کہ مکالمہ لکھتے وقت بھی ان طریقوں کو پیش نظر رکھنا مفید ہوسکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہاں ان طریقوں سے بحث کرنا مناسب نہیں جن کا تعلق ڈرامے کی تحریری شکل کی بجائے تھیٹر یا ڈرامے کی پیشکش کے آرٹ سے ہے مثلاً مکالمے بولتے وقت سانس کا صحیح استعمال، مکالمے کو صحیح جگہ پر توڑنے کا ہنر، سانس روکنے اور مکالموں کے درمیان سانس لینے کا طریقہ یا مکالمہ بولتے وقت حلق تالو اور زبان کی مدد سے صحیح مخارج کا تعین یہاں صرف دو باتوں کی طرف اشارہ کرنا مناسب ہوگا۔
پہلی بات یہ ہے کہ ہر مکالمے میں ایک لفظ کلیدی اور مرکزی حیثیت رکھتا ہے، شاذ و نادر ہی ایسے مکالمے ہوتے ہیں جن میں دو الفاظ کلیدی یا مرکزی کے لیے مناسب ہے کہ ہر مکالمے میں کلیدی اور مرکزی لفظ کی نشاندہی کسی نہ کسی شکل میں کردے۔ ظاہر ہے کہ ایک ہی ڈرامے کی تفسیر، توجیہ اور پیش کش مختلف ڈھنگ سے کی جاسکتی ہے اور اسی اعتبار سے ہر مکالمے کے کلیدی لفظ کا تصور بھی بدلتا جائے اس لیے ڈرامانگار ہر مکالمے کے کلیدی لفظ کو نشان زد نہیں کرسکتا ورنہ وہ پروڈیوسر کے حقِ توجیہ میں غیرضروری طور پر خلل انداز ہوگا، ہاں اتنا ضرور کیا جاسکتا ہے کہ جہاں تک ہوسکے، ہر مکالمے کا ہر لفظ اس ایک کلیدی لفظ کی طرف رہبری کرے اور اس کا اندازہ عام قاری سے لے کر پروڈیوسر تک لگا سکے۔ مثال کے طور پر ایک جملے کو لیجیے اس جملے کو جذبات یا کسی قسم کے تاثر کے بغیر ادا کرتے ہوئے بھی صرف مختلف کلیدی لفظ پر زور دینے سے جملے کا مفہوم مکمل طور پر بدل جائے گا۔ جملہ یہ ہے:
کل رات ایک زلزلہ آیا
(یعنی آج یا پرسوں نہیں آیا تھا، کل آیا تھا)
کل رات ایک زلزلہ آیا
(یعنی کل دن میں نہیں، رات کو زلزلہ آیا تھا)
کل رات ایک زلزلہ آیا
(یعنی زلزلہ صرف ایک بار آیا تھا، دو بار نہیں)
کل رات ایک زلزلہ آیا
(یعنی زلزلہ آیا تھا، طوفان نہیں تھا)
اس طرح ہر جملے میں کون سا لفظ ایسا ہے جس پر زور دیا جانا ہے۔ یہ بات لکھنے والے کے ذہن میں بھی واضح ہونی چاہیے اور پروڈیوسر اور اداکار کے ذہن میں بھی، اس وضاحت کا ایک ضمنی فائدہ یہ بھی ہے کہ مکالموں کی ادائیگی میں زیادہ وضاحت اور صفائی پیدا ہوجائے گی اور جملے کے باقی تمام الفاظ بھی زیادہ صراحت اور قطعیت کے ساتھ ادا ہوں گے، اس سلسلے کی دوسری بات یہ ہے کہ مکالمے کی تحریری شکل کسی نہ کسی حد تک اس کی ادائیگی پر اثرانداز ہوتی ہے مثلاً عشقیہ اور خوابناک مکالمے بہت اونچی آواز میں نہیں بولے جاسکتے ہیں یہ صورت رجز یا یارزمیہ مکالموں کی ہے جن کو نرمی اور آہستگی سے ادا نہیں کیا جاسکتا، اس لیے مکالمہ نویس کے ذہن پر بات واضح ہونی چاہیے کہ وہ ان مکالموں کی ادائیگی کس اندازمیں چاہتا ہے،مکالموں کی ادائیگی کے تین بنیادی عناصرہیں:
Tone لہجہ
Pitch آہنگ
Volume سر
اور اسی ضمن میں آخری عنصر رفتار کا بھی ہے جو شاید پہلے تین عناصر کے مقابلے میں کم پیچیدہ ہے۔
لہجے کی بات پہلے ہوچکی ہے لہجے کی تبدیلی واقعات اور کردار کے مطابق ہوتی ہے اور اس کا تعلق بڑی حد تک پروڈیوسر کی اپنی سوجھ بوجھ اور اداکار کی ذہانت اور تجربہ کاری سے ہے لیکن اکثر Volume اور Pitch کو تھیٹر کے باہر کے لوگ ایک ہی چیز سمجھ لیتے ہیں درحقیقت یہ دونوں بالکل الگ تصورات ہیں۔
آواز کی بلندی اور آہستگی وہ ہے جس کے ذریعے سے آوازکا سر اونچا ہوتا ہے لیکن مکالمے کا دور تک سنائی دیا جانا یا نہ دیا جانا صرف اونچے سر پر منحصر نہیں ہے۔ اس طرح موسیقی میں پنجم سُر بھی استعمال ہوتے ہیں اور مدھم بھی سنائی دیتے ہیں، البتہ دونوں کی آواز میں فرق ہے۔ اس کے برخلاف Pitch کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ سرگوشی میں بولے ہوئے الفاظ تھیٹر ہال کے آخری کونے تک سنے جاتے ہیں اور سنے جانے چاہئیں۔ ظاہر ہے کہ سرگوشی میں آواز دھیمی اور سُرمدھم ہوگا مگر مکالمے کا Pitch ایسا ضرور ہوگا جو آواز کو آخری صف کے دیکھنے سننے والوں تک پہنچا دے۔ اسی لیے تھیٹر کی دنیا میں سبھی کام کرنے والوں کے لیے پہلا سبق بھی ہوتا ہے کہ وہ ’’اس بہری عورت تک اپنی بات پہنچانے کی کوشش کریں جو ہال کی آخری صف میں بیٹھی ہے۔‘‘ آواز صرف اونچے سر سے ہی نہیں پہنچائی جاسکتی، ہر اداکار کی سرگوشی کی بھی رسائی اس آخری صف والی بہری عورت تک ہونی چاہیے۔
مکالموں کے ضمن میں اب دو باتیں اور رہ گئیں۔ ایک مکالمے یا مکالموں کے درمیان لہجے، آہنگ اور سر کی تبدیلی سے متعلق ہے اور دوسری مکالموں کے درمیان خاموشیوں کے استعمال سے۔مکالمہ محض ایک سر نہیں آرکسٹرا بھی ہوسکتا ہے اور وہ مختلف آہنگوں اور سروں سے عبارت ہوتا ہے۔ ہر انسان کی آواز میں لاتعداد نشیب و فراز، مدھم اور پنجم کی ان گنت طرزیں ہوتی ہیں لیکن عام طور پر بے سوچے سمجھے ہم میں سے ہر ایک شخص صرف، ایک آواز یا آہنگ ہی کو زندگی بھر استعمال کرتا رہتا ہے اور اپنی آواز اور آہنگ کے دوسرے طرزوں کو نہیں برتتا اس کے برخلاف اداکار ہی کو نہیں مکالمہ نویس کو بھی شعوری طور پر کوشش کرنی چاہیے تاکہ مکالمے تنوع سے مالامال اور رنگینی سے آراستہ ہوسکیں، ان کی کلاسیکی مثال شیکسپیئر کے ڈرامے ’جولیس سیریز‘ میں انٹونی کی تقریر ہے جو ایک آہنگ سے شروع ہوتی ہے کیونکہ وہ مخالف مجمع کو خطاب کررہا ہے اور بمشکل انھیں اپنی بات سننے پر راضی کرپارہا ہے اور آہستہ آہستہ جب مجمع اس کی تقریر کے سحر میں آجاتا ہے تو تقریرکا آہنگ بدلتا جاتا ہے اور آخر میں پورے ڈرامائی عروج پر پہنچ جاتا ہے بلا تشبیہ اس کی چند مثالیں زیرنظر ڈراموں میں بھی ملیں گی یہاں طوالت کے خیال سے ان کا ذکر حذف کیا جاتا ہے۔
مکالموں میں سب سے اہم عنصر بلیغ خاموشیوں کا ہوتاہے یہ خاموشیاں مکالموں کے درمیان مختصر وقفے کی شکل میں بھی آسکتی ہیں اور خود مکالموں کی ادائیگی کی رفتار میں بھی ظاہر ہوسکتی ہیں۔ اس لحاظ سے رموز و اوقات ڈرامے کے مکالموں میں نہایت ضروری ہیں، خاموشیوں کے لیے مناسب جگہ یا مکالموں میں مناسب جگہ پر توڑنے یا اس کے لہجے میں تبدیلی کرنے یا اسے وقتی طور پر ادھورا چھوڑنے یا کسی دوسرے کے مکالمے کو بیچ سے کاٹنے کے لیے بھی اشارات کا استعمال لازم ہے لیکن اس شکل میں تحریری ڈراموں کے مسودے شائع کیے جائیں تو شاید پڑھنے والوں کو مزہ نہ آئے۔ البتہ اسٹیج کے لیے مسودات تیارکرنے میںان کا اہتمام ضروری ہے، مکالمہ لکھنے والوں کے ذہن میں اس قسم کی بلیغ خاموشیوں کا محل وقوع اور ان کا مناسب استعمال واضح ہونا چاہیے تاکہ مکالموں کے اسلوب و آہنگ کے تعین میں بھی انھیں پیش نظر رکھا جاسکے۔
4. اظہار اور ترسیل
مکالموں کے بارے میں کسی قدر تفصیل اس لحاظ سے بھی ضروری تھی کہ تحریری ڈرامے کے بنیادی عناصر یہی ہیں۔ ان کے ذریعے ڈراما اپنے بنیادی مقصد ترسیل میںکامیاب ہوتا ہے، شاید ڈرامے سے زیادہ فن کے کسی دوسری صنف کے لیے ترسیل اس قدر واضح اور لازمی شرط کی حیثیت سے سامنے آئی ہو۔ کوئی معقول ڈراما نگار ڈرامے کو محض اپنے باطن کا ’اظہارِ محض‘ کہہ کر مطمئن نہیں ہوجاتا۔ یہاں اظہار اور ترسیل کا لازمی رشتہ ہے اور ترسیل کی کامیابی کے ساتھ سرانجام پانے کے لیے مختلف وسائل اظہار، واقعات، کردار، مکالمے، فضا استعمال کیے جاتے ہیں۔
دراصل اظہار، ترسیل اور ابلاغ کی تینوں اصطلاحوں کے غلط مبحث کی بنا پر مختلف غیرمتعلق اور پیچیدہ بحثیں پیدا ہوئی ہیں۔ ڈرامے میں ان تینوں کی شکلیں زیادہ واضح طور پر سامنے آجاتی ہیں، اظہار شاعری میں براہ راست ممکن ہے کیونکہ وہاں شاعر اپنے تصورات کو براہ راست داخلی لب و لہجے کے ساتھ آپ بیتی کے انداز سے بیان کرسکتاہے وہ زندگی کے مخصوص واقعات کو بھی تعمیم کے ساتھ مجرد تصورات کی شکل دے سکتا ہے اس دوران اسے یہ خیال ہوسکتا ہے کہ وہ خاص اپنے دل کی بات کہہ رہا ہے اور وہ اپنے پڑھنے اور سننے والوں سے بڑی حد تک بے نیاز ہے وہ اپنی دنیا آپ ہے۔
ڈرامے کی دنیا میں یہ بھرم قائم نہیں رہتا۔ ڈراما آپ محض اپنے لیے نہیں لکھتے قلم اٹھاتے ہی آپ کو مختلف کرداروں کو ڈھالنا پڑتا ہے اوران میں سے اکثر کردار آپ کی تخلیق ہونے کے باوجود آپ کی ذات سے الگ اپنا ایک وجود بھی رکھتے ہیں۔ اس لیے اظہار کو ترسیل کا پیرایہ دینا لازمی ہے، ڈرامے میں براہِ راست ابلاغ کی گنجائش کم ہے اور براہ راست ابلاغ کے لیے اظہار اور ترسیل کے وسیلے عمل میں لانا ہوتے ہیں۔ یہی فن کا بنیادی رمز بھی ہے۔ ڈراما نگار زندگی کے عملی تجربات کی روشنی میں کسی ایک تصور یا مرکزی خیال تک پہنچتا ہے جو اس کے مجموعی نظریۂ حیات کا جزو ہوتا ہے لیکن وہ اس تصور یا مرکزی خیال کو جوں کا توں پیش کرنے کے لیے ڈرامے کا وسیلہ اختیار نہیں کرسکتا، اسے اس مرکزی خیال کو بنیادی اقدار کی شکل دینی ہوگی اور پھر واقعات، کردار اور فضا اور ڈرامائی کشمکش کے ذریعے ان اقدار کی ترسیل کرنی ہوگی۔ ڈرامے کا مرکزی خیال کیا ہے اس کا فیصلہ کسی کردار کے کہے ہوئے الفاظ یا مکالموں سے نہیں بلکہ ان مکالموں کے پیچھے سموئی ہوئی بنیادی کشمکش اور آویزش سے ابھرتے ہوئے تاثر سے ہوگا۔
اظہار اور ترسیل— اور ابلاغ (بشرطیکہ اسے محض پروپیگنڈے کا مترادف نہ سمجھا جائے) ان تینوں اصطلاحوں کا سنگم ڈرامے کے فن میں جس خوبصورتی سے ہوتا ہے اس کی نظیر شاید ہی کسی دوسری صنف میں ملے، اس ترسیلی عمل کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ترسیل کی نوعیت کو واضح طور پر ذہن نشین کرلیا جائے۔ عام خیال ہے کہ ترسیل محض کسی خیال یا نظریے کی ہوتی ہے اور اس کی نوعیت ابتدائی درجوں کی نصابی کتابوں کے ان سوالوں کی سی ہوتی ہے جن میں کہانی سے حاصل ہونے والے سبق کے بارے میں استفسار کیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ڈرامے میں مجرد خیال یا نظریے کا وجود نہیں خیال، واقعات، کردار اور فضا کی شکل اختیار کرتا ہے۔ لہٰذا یہ کہنا درست نہیں کہ ان وسائل کے ذریعے خیال یا نظریے کی ترسیل کی جارہی ہے بلکہ خیال اور نظریہ ڈرامے کی دوسری تمام تر اقدار کا ایک جزو بن کر سامنے آتا ہے اس لیے ترسیل کسی خیال کی نہیں بلکہ اقدار کی ہوتی ہے اور یہ اقدار ایک مرکز پر مجتمع ہوتی ہیں۔ جمالیاتی قدر کی ترسیل ہی ڈرامے کا مقصد ٹھہرتی ہے اور اس جمالیاتی قدر میں ڈرامانگار جس حد تک گہری بصیرت اور فکری، جذباتی اور ڈرامائی اقدار کو کامیابی سے سمو سکے گا اس کا آرٹ اتنا ہی بالیدہ اور بلند ہوگا۔
وقت کے ہاتھوں جو تبدیلیاں آتی ہیں ان کے دائرے میں صرف باہری دنیا ہی نہیں بلکہ اندرونی دنیا بھی آتی ہے اور اس تبدیلی کی نوعیت ارتقا کی بھی ہوسکتی ہے۔ انسان ہر لمحہ ترقی یا تنزلی کی گرفت میں ہے اور یوں بھی ہوتا ہے کہ ایک زمانے کے ہمارے عقیدے اور اعمال کچھ مدت بعد بے محل اور مہمل معلوم ہونے لگتے ہیں اور انسان اپنے ماضی کی اپنی ہی شخصیت سے دست و گریباں نظر آتا ہے جیسے کسی نے آئینے کو الٹ دیا ہو اور سارے عکس الٹے ہوگئے ہوں اس ارتقاکے ہاتھوں کرداروں میں عجیب و غریب پھر سمبالزم کا استعمال اور تمثیلی رو بھی ڈرامے کی ظاہری کہانی کے ساتھ ساتھ چلتی ہے جس کی وضاحت اس لیے نہیں کی جاتی کہ بقول شاعر:
کہا جو کچھ تو ترا حسن ہوگیا محدود
کوئی تحریری ڈراما مکمل اور حتمی نہیں ہوتا۔ ہر ذریعۂ اظہار کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں اور کوئی تحریر بھی ان تمام ذرائع یا ان میں سے کسی ایک ذریعے کے تمام تقاضوں کو پورا نہیں کرسکتی۔ ہر ڈراما ریہرسل میں نکھرتا اور سنورتا ہے، ہر مکالمہ ادائیگی کے ساتھ زیادہ سڈول اور رواں ہوتا جاتاہے ، واقعات اور کرداروں کے اعمال و حرکات میں جھول لکھنے میں محسوس نہیں ہوتا، عملی پیشکش کے وقت صاف، ظاہر ہوجاتا ہے اس کے علاوہ یہ بھی ہے کہ ہر ڈراما گروپ کی اپنی کمزوریاں اور خوبیاں ہوتی ہیں، اور ان ہی کے پیش نظر ڈرامے کی شکل میں رد و بدل ناگزیر ہوجاتا ہے۔ یہ ڈرامے بھی اس قسم کی ترمیموں سے مستثنیٰ نہیں ہیں اس لیے یہ ڈرامے محض پڑھنے والوں ہی کی نہیں بلکہ خصوصیت کے ساتھ ڈراما پیش کرنے والے اور تھیٹر میں کام کرنے والوں کی نذیر ہیں۔
ماخذ: ڈراموں کا انتخاب، مرتب: محمد حسن، سنہ اشاعت: اپریل تا جون 1998، ناشر: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی