غالب بحیثیت رباعی گو،مضمون نگار: ساجد ذکی فہمی

June 16, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،جون 2026:

مرزا اسداللہ خاں غالب کا شمار ان نابغہ شخصیات میں ہوتا ہے جنھوں نے نظم و نثر دونوں سطح پر اردو ادب کے دامن کو وسیع کرنے کا کارنامہ انجام دیا۔ وہ بنیادی طور پر غزل گو شاعر تھے لیکن شاعری کی دیگر اصناف پر بھی انھوں نے طبع آزمائی کی ہے۔ ابتدا میں انھوں نے جس قسم کا پیرایۂ بیان اختیار کیا وہ فارسی زدہ تھا۔ دور دراز کی تشبیہات و استعارات کے استعمال کے ساتھ ان کے کلام میں بیان کی پیچیدگی بھی نمایاں تھی۔ ان کے اسی انداز سے متاثر ہو کر ان کے ہمعصروں نے کہا تھاع
مگر ان کا کہا یہ آپ سمجھیں یا خدا سمجھے
لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہ اردو کے سبک اور رواں الفاظ کی طرف راغب ہوگئے۔ غالب کا شاعرانہ کمال یہ بھی ہے کہ سلیس اور آسان لفظوں کو برتنے کے باوجود ان کے اشعار میں معنی کی ایک دنیا آباد دکھائی دیتی ہے۔
گنجینۂ معنی کا طلسم اس کو سمجھیے
جو لفظ کہ غالبؔ مرے اشعار میں آوے
غالب کی رباعیات پر گفتگو سے قبل صنف رباعی کے متعلق چند باتوں کا ذکر ناگزیر معلوم ہوتا ہے۔ اوّل یہ کہ ’رباعی‘ عربی زبان کے لفظ ’ربع‘ سے ماخوذ ہے جس کے معنی چار کے ہوتے ہیں۔ یعنی رباعی چار مصرعوں یا دو بیتوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس کے پہلے، دوسرے اور چوتھے مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں۔ بعض اوقات تیسرا مصرع بھی ہم قافیہ ہوتا ہے ، لیکن اس سے رباعی کی صحت پر کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ دوم رباعیات غیر مردف بھی کہی جاسکتی ہیں۔ سوم رباعی میں اوزان کی پابندی کا نظام اس قدر سخت ہے کہ کسی دوسرے وزن میں نظم کی جانے والی شاعری خواہ چار مصرعوں پر مشتمل ہو، کو رباعی سے موسوم نہیں کیا جاسکتا۔ چہارم رباعی کے لیے موضوع کی کوئی قید نہیں اس لیے اس کا شمار ہیئتی صنف میں کیا جاتا ہے۔
غالب نے صنف رباعی (اردو) پر بہت زیادہ طبع آزمائی نہیں کی لیکن جو بھی لکھا اس میں اپنے منفرد انداز بیان کا اظہار یا انفرادیت قائم رکھی۔ ان کی رباعیات کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان میں پیش کردہ بیشتر بیانات کا تعلق براہ راست غالب کی شخصی یا ذاتی زندگی سے ہے۔ اب خواہ اس میں شکایت اہل دنیا ہو یا شکوۂ دوستاں، عشق کا بیان ہو یا درد و غم کااظہار، اپنی حاجت و ضرورت کا رونا ہو یا قرض سے چھٹکارے کی بات وغیرہ۔ علاوہ ازیں انھوں نے رباعی میں اپنے ظریفانہ انداز اور شوخیٔ بیان کا بھی سہارا لیا ہے۔ مثال کے طور پر ان کی طبیعت کی شوخی کا ایک منظر ملاحظہ فرمائیں۔ کہتے ہیں:
ہم گرچہ بنے سلام کرنے والے
کرتے ہیں درنگ کام کرنے والے
کہتے ہیں کہیں خدا سے اللہ اللہ
وہ آپ ہیں صبح و شام کرنے والے 1
یہاں غالب کی شوخی اپنے منتہا پر دکھائی دیتی ہے۔ کہتے ہیں ہم تو عام سلام کرنے والوں کی طرح ہی سلام کرنے والے ہیں یعنی دربار کے بااختیار لوگوں کو جھک جھک کر سلام کرتے ہیں تاکہ ان کی نظر کرم ہم پر جمی رہے اور حاجت روائی ہوتی رہے، لیکن وہ تمام بااختیار حضرات مجھ سے دامن بچا کر نکلنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ لہٰذا جب ان سے ایک طرح کی مایوسی ہاتھ آتی ہے تو دل میں خیال پیدا ہوتا ہے کہ چل کر خدا ہی سے اپنے مسائل کا تذکرہ کیا جائے۔ لیکن پھر یہ سوچ کر قدم رک جاتے ہیں کہ وہ تو خود ہی صبح شام کرنے والا ہے۔ خدا کا کام چونکہ صبح کو شام میں اور شام کو صبح میں تبدیل کرنا ہے اس لیے خدا کی نسبت یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ صبح و شام کرنے والا ہے۔ لغت میں ’صبح و شام کرنا‘ کے ایک معنی لیت و لعل کرنا، ٹال مٹول کرنا، بہانے بنانا، آج کل کرنا وغیرہ کے آتے ہیں اور شاعر کی مراد اسی معنی سے ہے۔ اب غالب کی اس رباعی پر غور کریں تو اندازہ ہوگا کہ انھوں نے کس قدر شوخی بیان سے کام لیا ہے۔
شوخی بیان کے متعلق غالب کی ایک اور رباعی ملاحظہ فرمائیں جس میں انھوں نے اپنا رشتہ شیعوں کے بجائے سنیوں سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ خواجہ الطاف حسین حالی اپنی کتاب ’یادگار غالب‘ میں لکھتے ہیں:
’’ایک بار مرحوم بہادر شاہ ظفر نے دربار میں کہا کہ ہم نے سنا ہے کہ مرزا اسداللہ خاں غالب شیعی المذہب ہیں ۔ مرزا کو بھی اطلاع ہوگئی۔ چند رباعیاں لکھ کر حضور کو سنائیں۔ جن میں تشیع اور رفض سے تحاشی تھی۔۔۔
جن لوگوں کو ہے مجھ سے عداوت گہری
کہتے ہیں مجھے وہ رافضی اور دہری
دہری کیوں کر ہو جو کہ ہووے صوفی
شیعی کیوں کر ہو ماوراء النہری‘‘2
جیسا کہ ہم جانتے ہیں دہری اور صوفی دونوں ایک دوسرے کے بالکل متضاد ہیں۔ اوّل الذکر کے یہاں خدا کا تصور سرے سے موجود ہی نہیں جب کہ آخر الذکر کے نزدیک خدا ہی موجود ہے اس کے علاوہ کسی چیز کی اہمیت نہیں۔ غالب کہتے ہیں کہ ان تمام باتوں کو ان لوگوں نے ہوا دی ہے جو مجھ سے حسد اور عداوت رکھتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو مجھے رافضی اور دہری گردانتے ہیں۔ حالانکہ صوفی اور دہری میں بُعد کا بھی رشتہ نہیں ہوتا ہے۔ رباعی کے آخری مصرعے میں انھوں نے ماوراء النہر کا ذکر کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ غالب کا خاندانی سلسلہ واراء النہر سے تعلق رکھتا ہے اور ماوراء النہر یعنی ترکستان کے لوگ کٹّر سنی ہونے میں اپنی مثال آپ ہیں۔ مختصر یہ کہ جب غالب کو رافضی اور دہری کہا گیا تو انھوں نے خود کو صوفی ثابت کرنے کی کوشش کی اور جب کسی نے شیعی المذہب کہا تو انھوں نے خود کو ماوراء النہری ثابت کردیا۔ اس قسم کے بیانات یا خیالات کا اظہار ان کی حاضر دماغی اور ظریفانہ طبیعت پر دال ہے۔
غالب لذیذ اور اچھے کھانے بالخصوص گوشت کے بہت شوقین تھے۔ اخیر عمر میں جب نقاہت اور کمزوری بڑھ گئی تھی اس وقت بھی گوشت بدستور ان کے دسترخوان پر موجود ہوتا تھا۔ حالی نے ’یادگار غالب‘ میں لکھا ہے:
’’مرزا کی نہایت مرغوب غذا گوشت کے سوا اور کوئی چیز نہ تھی۔ وہ ایک وقت بھی بغیر گوشت کے نہیں رہ سکتے تھے۔ یہاں تک کہ مسہل کے دن بھی انھوں نے کھچڑی یا شولہ کبھی نہیں کھایا۔‘‘ 3
حالی کے بیان سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ غالب گوشت کے کس حد تک شوقین تھے۔ گوشت کی تعریف میں اگر غالب نے رباعی کہی ہوتی تو مضائقہ نہ تھا، لیکن انھوں نے گوشت کے برعکس دال اور سیم کی تعریف میں رباعی کہی ہے۔ پہلے رباعی ملاحظہ فرمائیں اس کے بعد ہم اس کی علّت پر غور کریں گے۔
بھیجی ہے جو شاہِ جمجاہ نے دال
ہے لطف و عنایت شہنشاہ پہ دال
یہ شاہ پسند دال بے بحث و جدال
ہے دولت دین و دانش وداد کی دال 4
ان سیم کے بیجوں کو کوئی کیا جانے
بھیجے ہیں جو ارمغان شہ والا نے
گن کر دیویں گے ہم دعائیں سو بار
فیروزے کی تسبیح کے ہیں یہ دانے 5
اول الذکر رباعی میں غالب نے اس دال کی بے انتہا تعریف کی ہے جو بادشاہ کے یہاں پکا کرتی تھی۔ یہ دال مونگ کی ہوتی تھی اور بادشاہ پسند کہلاتی تھی۔ بادشاہ نے جب غالب کو اپنی پسند کی دال بھجوائی تو یہ ممکن ہی نہ تھا کہ غالب اس کی تعریف نہ کرتے، کیوں کہ وقت کا تقاضا بھی یہی تھا اور اصول فطرت بھی۔ لہٰذا غالب نے دال کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا کر رکھ دیے۔ کہتے ہیں کہ شاہ جمجاہ یعنی بادشاہ کی رعایا پروری کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ان کے لطف و کرم اور عنایتوں کی پوری خلق شاہد ہے۔ رعایا پروری کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگا یا جاسکتا ہے کہ ’شاہ پسند دال‘ جو بالخصوص بادشاہ کے لیے بنائی جاتی تھی اور جس کا چکھنا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں، میرے لیے بھجوائی گئی ہے۔ یعنی یہ کہ وہ اپنی پسندیدہ اشیا کے استعمال میں بھی رعایا کو نظر انداز کرنے کے قائل نہیں۔ وہ شاہ پسند دال کی تعریف میں مزید لکھتے ہیں کہ اس دال کا بحث و جدال سے دور کا بھی رشتہ نہیں ہے کیوں کہ فقط مقدار میں کمی و زیادتی کے علاوہ ہر شخص کی رکابی میں اس کا ذائقہ اور اس کی شکل و صورت یکساں دکھائی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آخری مصرعے میں غالب نے اس دال کو دولت دین و دانش اور وداد یعنی دوستی اور اتحاد کا نشان کہا ہے۔
آخری الذکر رباعی میں بادشاہ کی طرف سے بھیجی گئی سبزی کی تعریف کی ہے ۔ کہتے ہیں کہ سیم کے بیجوں کی سبزی جو بادشاہ سلامت نے مجھے تحفۃً بھیجی ہے ، میں اس کے عوض انھیں صرف دعائیں ہی دے سکتا ہوں۔ سیم کے بیجوں کو غالب نے اس رباعی میں فیروزے سے تشبیہ دی ہے۔ فیروزہ ایک قسم کا پتھر ہے جس کے دانے سیم کے بیجوں سے مشابہ ہوتے ہیں۔ سیم کی سبزی غالب کو کس قدر مرغوب تھی اس کا ذکر کہیں نہیں ملتا ، لیکن بادشاہ کی طرف سے بھیجی گئی سبزی کی تعریف کرنا غالب کے لیے ناگزیر تھا۔
مندرجہ بالا رباعیوں کے علاوہ غالب کی اور بھی ایسی رباعیات ہیں جن میں انھوں نے اپنی شخصی اور ذاتی زندگی سے متعلق خیالات کا اظہار کیا ہے۔ اگرچہ غالب کی رباعیات ان کے منفرد انداز بیان کی حامل ہیں لیکن جو انفرادیت یا بلندآہنگی ان کی غزلوں میں دیکھنے کو ملتی ہیں وہ ان کی رباعیات میں مفقود ہیں۔ چند رباعیات کی تفصیل اوپر گزر چکی ہیں۔ ذیل میں چند مزید رباعیات کی وضاحت درج کی جارہی ہیں ملاحظہ فرمائیں:
مشکل ہے زبس کلام میرا، اے دل!
سن سن کے اسے، سخن ورانِ کامل
آسان کہنے کی کرتے ہیں مجھ سے فرمایش
گویم مشکل، وگر نگویم، مشکل 6
درج بالا رباعی میں غالب نے اپنے مخصوص انداز بیان کے متعلق اظہار خیال کیا ہے۔ غالب کی مشکل پسندی یا مشکل گوئی کے تعلق سے اس زمانے کا عام رجحان یہی تھا کہ ؎
اگر اپنا کہا تم آپ ہی سمجھے تو کیا سمجھے
مزا کہنے کا جب ہے اک کہے اور دوسرا سمجھے
کلام میر سمجھے اور زبان میرزا سمجھے
مگر ان کا کہا یہ آپ سمجھیں یا خدا سمجھے
یہی وجہ تھی اکثر لوگ ان سے آسان کہنے کی فرمائش کرتے تھے۔ مذکورہ رباعی کی جان چوتھے مصرعے میں پوشیدہ ہے۔ اس مصرعے میں دو باتوں کی جانب اشارہ ملتا ہے۔ اوّل یہ کہ لوگوں کی خواہش کے پیش نظر اگر آسان شعر کہا جائے تو اپنی طبیعت کے خلاف جانا پڑے گا اور اگر طبیعت کی پیروی کی جائے یعنی مشکل شعر کہے جائیں تو لوگ برا مانتے ہیں۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اگر صاف صاف بات کہہ دی جائے تو سخن وران کامل کی کند ذہنی ظاہر ہوتی ہے اور اگر پیچیدگی اختیار کی جائے تو خود کو مورد الزام ٹھہرانا پڑتا ہے، یعنی ہر طرح سے مشکل ہی مشکل ہے۔
دکھ جی کے پسند ہوگیا ہے غالبؔ!
دل رک کر بند ہوگیا ہے غالبؔ!
واللہ کہ شب کو نیند آتی ہی نہیں
سونا سوگند ہوگیا ہے غالبؔ!7
رباعی پر گفتگو سے قبل اس کی وضاحت کرتا چلوں کہ دیگر نسخوں یا شرحوں مثلاً ’شرح دیوان اردوئے غالب‘ (مولوی سید علی حیدر نظم طباطبائی)، ’نسخۂ عرشی‘ (امتیاز علی خاں عرشی) اور ’نقش چغتائی‘ (محمد عبدالرحمن چغتائی) میں دوسرا مصرع ’’دل رک رک کر بند ہوگیا ہے غالب‘‘ درج ہے۔ دوسرے مصرعے میں ’’رک رک‘‘ کی تکرار پر اظہار خیال کرتے ہوئے نظم طباطبائی رقم طراز ہیں:
’’اس رباعی کے دوسرے مصرعے میں دو حرف وزن رباعی سے زائد ہوگئے ہیں اور ناموزوں ہے۔ مختلف چھاپہ کے سب نسخوں میں بھی اور جس نسخہ کی کاپیاں خود مصنف مرحوم کی صحیح کی ہوئی ہیں اس میں بھی یہ مصرع اسی طرح ہے، اوزان رباعی میں سے جس وزن میں سبب خفیف سب سے زیادہ ہیں وہ یہ مصرع مشہور ہے: ’’یامی گویم نام تو یامی گویم‘‘ اس وزن پر اگر اس مصرع کو کھینچیں تو یوں ہونا چاہیے: ’دل رک رک کر بند ہوا ہے غالب‘ اور اس صورت میں زمین بدل جاتی ہے۔ غالباً اسی فارسی مصرع نے مصنف کو دھوکا دیا۔اب خیال کرو غالب سا موزوں طبع شخص اور ناموزوں کہہ جائے۔‘‘8
اس ضمن میں امتیاز علی خاں عرشی لکھتے ہیں:
’’اس رباعی کے دوسرے مصرع میں مرزا صاحب نے از راہ سہو ایک رکن بڑھا دیا ہے۔‘‘ 9
مالک رام نے اسے کتابت کی غلطی قرار دیتے ہوئے ایک ’’رک‘‘ کو حذف کردیا ہے۔ مذکورہ رباعی چوں کہ مالک رام کے نسخے سے نقل شدہ ہے اس لیے متن میں ایک ہی ’’رک‘‘ کا اندراج کیا گیا ہے۔ یہاں اس بحث کی گنجائش نہیں کہ اسے غالب کی غلطی قرار دی جائے یا کاتب کی۔ راقم کے نزدیک رباعی کے دوسرے مصرعے کے متعلق اس کی وضاحت ضروری سمجھی گئی اس لیے اس جانب اشارہ کردیا گیا۔
بہرحال مذکورہ رباعی میں شاعر نے عشق سے پیدا ہونے والی بے چینی، بے کیفی اور اضطراب کا ذکر کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں۔ معاملات عشق میں انھیں اس قدر مصائب و مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کہ وہ تمام مصیبتیں اور مشکلات ان کے لیے حرز جاں کی صورت اختیار کرگئیں۔ یعنی ان تکالیف میں انھیں لذت محسوس ہونے لگی۔ اس قسم کے خیالات کا اظہار غالب نے غزلیہ اشعار میں کئی جگہ کیا ہے۔ مثال کے طور پر ایک شعر میں کہتے ہیں ؎
رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج
مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہوگئیں
دوسری جگہ کہتے ہیں ؎
واحسرتا کہ یار نے کھینچا ستم سے ہاتھ
ہم کو حریص لذت آزار دیکھ کر
بہرحال چوتھے مصرعے جسے رباعی کی جان بھی کہا جاتا ہے میں ’’سونا سوگند‘‘ محاورے کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ لغت میں اس کے معنی نیند اڑجانا، نیند غائب ہوجانا کے آتے ہیں۔ یہاں نیند نہ آنے کی دو وجہیں ہوسکتی ہیں ایک عشق کی وجہ سے۔ یعنی عام طور پر دیکھا بلکہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ عاشق کی شب کروٹیں بدلتے ہی گزرتی ہیں۔ نیند آنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان کا دل اور دماغ پرسکون ہو۔ Parasympathetic Nervous System معمول کے مطابق کام کر رہا ہو۔ Melatonin کا اخراج بھی حسب معمول ہو رہا ہو جب ہی انسان پرسکون نیند لے سکتا ہے۔ مگر عاشق کے دل اور دماغ میں ہمہ وقت ایک بے چینی کی سی کیفیت نمایاں رہتی ہے جس کی وجہ سے نیند کا نہ آنا واضح ہے۔ نیند نہ آنے کی دوسری وجہ معشوق کا ایذا نہ پہنچانا بھی ہوسکتا ہے۔ اسے ہم شاعرانہ تعبیر کہہ سکتے ہیں۔ مطلب یہ کہ ان دنوں معشوق کی جانب سے بے التفاتی، بے مروتی، جفاکشی اور بے وفائی میں کمی ہی دراصل نیند نہ آنے کی کلید ہے۔ ورنہ معشوق کی جانب سے جب تک آزار پہنچانے کا سلسلہ بدستور تھا، عاشق مطمئن اور پرسکون تھا۔ رویے کی تبدیلی ہی کم خوابی یا بے خوابی کا ذریعہ بنی ہے۔
کہتے ہیں کہ، اب وہ مردم آزار نہیں
عشاق کی پُرسش سے اسے عار نہیں
جو ہاتھ کہ ظلم سے اٹھایا ہوگا
کیونکر مانوں کہ اس میں تلوار نہیں 10
آخر الذکر رباعی کی طرح مندرجہ بالا رباعی میں بھی معشوق کی عادت اور خصلت کی طرف اشارہ موجود ہے۔ شاعری میں معشوق کا کام عاشق کو تکلیف میں مبتلا کرنا یا اسے آزار پہنچانا ہوتا ہے۔ ایسا کرنے کی اصل وجہ یہ ہے کہ عاشق کی تکلیف میں معشوق کے لیے راحت کے سامان پوشیدہ ہوتے ہیں۔ لیکن کسی وجہ سے اب معشوق کے رویے میں تبدیلی پیدا ہوگئی ہے۔ وہ اب نہ تو کسی کو ایذا پہنچانے کا خواہاں ہے اور نہ ہی اپنے چاہنے والوں سے ملنے میں کوئی عار محسوس کرتا ہے۔ رباعی کے تیسرے مصرعے میں ایہام کی کیفیت نمایاں ہے۔ ’’ظلم سے اٹھایا ہوگا‘‘ کے ایک معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ ظلم کرنے کے لیے اٹھایا ہوگا۔اس لیے عاشق تذبذب کے عالم میںگرفتار دکھائی دیتا ہے۔
سامان خور و خواب کہاں سے لائوں؟
آرام کے اسباب کہاں سے لائوں؟
روزہ مرا ایمان ہے، غالبؔ! لیکن
خسخانہ و برفاب کہاں سے لائوں؟ 11
مذکورہ رباعی میں بے سروسامانی کا نوحہ بیان کرنے کے ساتھ مذہبی عقیدے کا اظہار بھی موجود ہے۔ یعنی وہ روزے کو حکم خداوندی اور فرض تو گردانتا ہے لیکن روزہ رکھنے کے لیے جن لوازمات یعنی سحری و افطار اور آرام کے لیے خسخانہ و برفاب کی ضرورت ہے وہ میسر نہیں، لہٰذا روکھے سوکھے ٹکڑے کھا کرچلچلاتی دھوپ میں روزہ رکھنا نہایت دشوار عمل ہے۔ یہاں غالب نے نہ بھوک کا ذکر کیا ہے اور نہ ہی گرمی کی شدت کا لیکن اشعار میں استعمال کیے گئے الفاظ سے قاری اس کی تہ تک بآسانی پہنچ جاتا ہے۔
مضمون میں درج شدہ رباعیات کے علاوہ اردو میں غالب کی چند اور رباعیاں موجود ہیں، جن پر طوالت کی وجہ گفتگو نہیں کی جاسکی۔ مذکورہ مضمون کے پیش نظر مجموعی طور پر غالب کی رباعی گوئی کے متعلق یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگرچہ انھوں نے اردو میں بہت زیادہ رباعیاں نہیں کہیں ، لیکن اگر اس میدان میں طبع آزمائی کرتے تو یقینا یہاں بھی ان کے فن کا بھرپور مظاہرہ دیکھنے کو ملتا۔
حواشی
1: دیوان غالب (صدی ایڈیشن، بار اوّل)، مالک رام، آزاد کتاب گھر کلاں محل، دہلی، ص280
2: یادگار غالب مع فارسی متن و ترجمہ، مولانا الطاف حسین حالی، فارسی متن کے مترجم: نسیم احمد عباسی، غالب اکیڈمی، دہلی، 2011، ص 80
3: ایضاً، ص 73
4: دیوان غالب (صدی ایڈیشن، بار اوّل)، مالک رام، آزاد کتاب گھر کلاں محل، دہلی، ص279
5: ایضاً، ص280
6: ایضاً، ص 278
7: ایضاً، ص278
8: شرح دیوان اردوئے غالب، مولوی سید علی حیدر نظم طباطبائی، رضوی پرنٹرس، حیدر آباد ص 334-337
9: دیوان غالب نسخۂ عرشی(نوائے سروش)، امتیاز علی خاں عرشی، انجمن ترقی اردو ہند، نئی دہلی، 1958، ص 340
10: دیوان غالب (صدی ایڈیشن، بار اوّل)، مالک رام، آزاد کتاب گھر کلاں محل، دہلی، ص279
11: ایضاً، ص280

Dr. Md. Sajid Zaki Fahmi
Assistant Professor
Department of Urdu, Hiralal Bhakat College
Nalhati, Birbhum-731220
Mob: 9990121625
Email: sajidzakifahmi@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

اردو ادب وسط انیسویں صدی تک/سید احتشام حسین

تیرہویں صدی کے اختتام تک بابا فرید گنج شکر اور ہمہ گیر شاعر امیر خسرو کی نظمیں اردو ادب کی داغ بیل ڈال چکی تھیں۔ امیر خسرو کی زبان دہلی

اردو شاعری میں برسات مضمون: عمرانہ خاتون

   اُردو شاعری میں دیگر موضوعات کے علاوہ موسم برسات کے موضوع پر بھی شاعروں نے اظہارِ خیال کرکے اپنی فنّی دسترس اور تخلیقی قوتوں کا ثبوت فراہم کیا ہے۔

اردو ادب اطفال پر دیگر زبانوں کے اثرات،مضمون نگار:مظفر حسین غزالی

اردو دنیا، مئی 2026: بچوں کا ادب ہر زبان کی تہذیبی و اخلاقی شناخت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ کسی بھی معاشرے میں بچوں کے لیے تخلیق کیا جانے والا