اردو دنیا، جون 2026:
انسان نے ہر دور میں اپنے حالات، مسائل اور تقاضوں کے تحت نئے راستے تلاش کیے اور اپنی زندگی کو زیادہ متوازن، پرسکون اور بامقصد بنانے کی کوشش کی۔ اگر آج دنیا پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالی جائے تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ جدید ترین سائنسی ترقیات اور سہل ترین طبی وسائل کی فراوانی کے باوجود پوری دنیا ایک بار پھر نیچر اور فطرت کی طرف رجوع کر رہی ہے۔ یہ رجوع محض ایک عارضی رجحان نہیں بلکہ ایک فکری تبدیلی کی علامت ہے، جس میں انسان مصنوعی سہولتوں اور مادی ہنگاموں سے نکل کر اپنی اصل اور داخلی توازن کی بازیافت کی کوشش کرتا دکھائی دیتا ہے۔اسی پس منظر میں جب ہم عالمی سطح پر یوگا کے روز افزوں فروغ کا مشاہدہ کرتے ہیں تو یہ محض ایک جسمانی مشق کی مقبولیت کا مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ فطرت سے ہم آہنگ زندگی کی اسی عالمی جستجو کا تسلسل محسوس ہوتا ہے۔ درحقیقت یوگا جدید انسان کی اُس داخلی ضرورت کا اظہار ہے جو ذہنی سکون، روحانی توازن اور جسمانی ہم آہنگی کی تلاش میں اسے دوبارہ فطری اصولوں کی طرف واپس لے جا رہی ہے۔
یوگا کی جامع تعریف پیش کرنا آسان نہیں۔ مختلف ادوار میں اہلِ فکر نے اسے اپنے اپنے فہم اور تجربے کی روشنی میں بیان کیا ہے۔ عام طور پر یوگا کو ایک ایسے ہمہ گیر نظام کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس میں فن، علم اور فلسفہ باہم مدغم ہیں۔ بنیادی طور پر یہ خالص ہندوستانی فکر کی پیداوار ہے، جس کا مقصد انسان کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ اپنی داخلی اور خارجی کیفیات کو سمجھ سکے اور ان پر کسی حد تک قابو پا سکے۔ اس اعتبار سے یوگا محض مشق نہیں بلکہ ایک شعوری اور فکری عمل ہے، جو انسان کو اس کی ذات کے ساتھ بامعنی ربط عطا کرتا ہے۔
یوگا کی معنوی اورفکری جہات کو سمجھنے کے ساتھ اس کے لفظی پس منظر پر بھی ایک نظر ضروری معلوم ہوتی ہے۔ لغوی اعتبار سے عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ لفظ یوگا سنسکرت لفظ’’یوگ‘‘سے ماخوذ ہے، یوگ کی مشق کرنے والے کو عموماً ’’ یوگی‘‘ کہا جاتا ہے۔ یوگ کے معنی اتحاد، اتصال یا وحدت کے ہیں، یعنی ایسی کیفیت جس میں انسان اپنی ذات کے مختلف پہلوؤں میں ہم آہنگی پیدا کرسکے۔تاہم بعض اہلِ قلم نے اس سلسلے میں ایک مختلف زاویہ بھی پیش کیا ہے۔ شکیل شمسی نے اپنی تحریر’’ یوگا پر مباحثہ‘‘ میں اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اصل لفظـ’’یوگــ‘‘ہے، جسے بعد میں انگریزی اثرات کے تحت’’یوگا‘‘ کی شکل دے دی گئی۔ ان کے بقول ’’جس طرح ’ اشوک‘کو ’ اشوکا‘، ’ رام‘ کو ’راما‘ اور’ کرشن‘ کو ’ کرشنا‘ کہا جانے لگا، اسی طرح’’ یوگ‘‘ بھی’’ یوگا‘‘ بن گیا‘‘1۔ یہ نکتہ اپنی جگہ قابلِ توجہ ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف لفظی تغیر کا پہلو سامنے آتا ہے بلکہ یہ حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ تہذیبی اور لسانی تعاملات کس طرح الفاظ کی ہیئت اور اس کے تلفظ کو متاثر کرتے ہیں۔
یوگا کے تاریخی آغاز و ارتقا کا قطعی تعین اگرچہ آسان نہیں، تاہم اس کے ابتدائی نقوش قدیم تہذیبوں کے آثار میں تلاش کیے جا سکتے ہیں۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے مطابق وادیِ سندھ کی تہذیب سے ملنے والی بعض مہروں میں مراقبہ نما نشستوں اور کیفیتوں کی جھلک دکھائی دیتی ہے، جنھیں اس روایت کی ابتدائی صورتوں سے تعبیر کیا جا تا ہے۔ یہ تہذیب اپنی قدامت اور تہذیبی ارتقا کے اعتبار سے دنیا کی اہم ترین تہذیبوں میں شمار ہوتی ہے، جس کا عروج تقریباً ساڑھے چار ہزار برس قبل تھا۔ فکری سطح پر بعض اہلِ علم یوگا کے ابتدائی تصورات کو یاجناوالکیا (Yajnavalkya)2۔ سے منسوب کرتے ہیں، جن کے افکار میں باطنی تربیت اور روحانی ارتقا کے عناصر نمایاں ہیں۔ بعد کے دور میں خصوصاً دوسری صدی قبل مسیح میں پتنجلی(Patanjali) نے ان منتشر افکار کو ایک منظم فلسفیانہ نظام کی صورت میں پیش کیا۔ ان کی تصنیف’’ یوگا سُوتر‘‘ اس حوالے سے بنیادی اہمیت رکھتی ہے، جس میں یوگا کے اصول کو پہلی مرتبہ مرتب کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان میں آٹھ اصولی مراحل (AshtangaYoga) شامل ہیں۔ اس سے قبل چھٹی اور ساتویں صدی قبل مسیح کے درمیان مرتب ہونے والے اپنشدوں میں بھی یوگا سے متعلق فکری اشارے ملتے ہیں، جہاں انسان کے باطنی شعور اور کائنات کے باہمی ارتباط پر غور و فکر کیا گیا ہے۔ یہ نقوش اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یوگا محض ایک عملی مشق نہیں بلکہ قدیم ہندوستانی فکر و فلسفے کا ایک اہم جزو رہا ہے۔3
تاریخی شواہد سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یوگا محض ایک مقامی یا وقتی روایت نہیں بلکہ انسانی فکری جستجو کا ایک تسلسل ہے۔ اگرچہ اس کی منظم صورت قدیم ہندوستانی فکر میں ملتی ہے، تاہم روحانیت اور باطنی ارتقا کی جستجو کے آثار فارس، مصر، میسوپوٹامیا اور یونان جیسی قدیم تہذیبوں میں بھی دکھائی دیتے ہیں۔ اس اعتبار سے یوگا کو ایک وسیع تر انسانی تجربے کا حصہ بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔
ابتدائی ادوار میں یہ علم عام افراد کی دسترس سے باہر رہا اور مخصوص روحانی حلقوں، سادھوؤں، سنتوں اور اعلیٰ طبقات تک محدود تھا۔ یہی محدودیت ایک طرف اس کی فکری گہرائی کا سبب بنی تو دوسری طرف اس کے زوال کا اندیشہ بھی پیدا ہوا۔ وقت کے ساتھ جب قدیم روایتوں کے امین کم ہوتے گئے تو یوگا بھی ایک مرحلے پر فراموشی کے دہانے تک جا پہنچا۔تاہم اس کی بقا اُن افراد اور حلقوں کی مرہون منت ہے جنھوں نے اسے محض نظری علم کے طور پر نہیں بلکہ ایک عملی تجربے کے طور پر زندہ رکھااور اسے نئی نسلوں تک منتقل کیا۔بعد کے ادوار میں یوگا کی باقاعدہ تعلیم و تدریس کا اہتمام ہوا، ادارے قائم کیے گئے اور اسے ایک منظم علمی و عملی نظام کی حیثیت دی گئی۔ یہاں تک کہ ہندوستانی تعلیمی اداروں میں بھی اسے ایک مستقل مضمون کے طور پر شامل کیا گیا۔اسی تدریجی عمل کے نتیجے میں یوگا اپنی جغرافیائی حدود سے نکل کر عالمی سطح پر متعارف ہوا اور آج ایک ایسے فکری و ثقافتی مظہر کی صورت اختیار کرچکا ہے جو مختلف تہذیبوں میں اپنی معنویت کے ساتھ موجود ہے۔
یہ سوال فطری ہے کہ موجودہ یوگا اور قدیم یوگا کی صورتیں کیایکساں ہیں؟ یا ان میں کوئی بنیادی فرق پایا جاتا ہے؟اس سلسلے میں معروف امریکی اسکالرDavid Gordon white کے مطابق آج دنیا بھر میں رائج یوگا کی بیشتر شکلیں قدیم فلسفیانہ یوگا، خصوصاً ’’یوگا سوتر‘‘ اور دیگر کلاسیکی متون سے براہِ راست مطابقت نہیں رکھتیں۔ان کے نزدیک موجودہ تصورات زیادہ تر گزشتہ ڈیڑھ صدی کے دوران تشکیل پائے ہیں جب کہ اس کی بعض عملی صورتیں بارہویں صدی عیسوی سے پہلے واضح طور پر نہیں ملتیں۔تاہم یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ یوگا کی تاریخ میں ازسرِنو تشکیل کا عمل کوئی نئی بات نہیں۔ تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ دو ہزار برسوں کے دوران یوگا مختلف صورتوں میں سامنے آتا رہا ہے۔ ہر عہد اور ہر فکری حلقے نے اپنے سماجی اور ثقافتی تناظر میں اس کی نئی تعبیر پیش کی اور اسی کے مطابق اس کی عملی صورت متعین کی۔اس طرح یوگا کو ایک جامد روایت کے بجائے ایک زندہ اور ترقی پذیر فکری و عملی سلسلہ قرار دینا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے، جو وقت کے تقاضوں کے ساتھ خود کو ڈھالتا رہا ہے۔4
یہ امر بھی خاص طور پرقابل توجہ ہے کہ مختلف سماجی و سیاسی تغیرات کے باوجود یوگا کی روایت مختلف صورتوں میں برقرار رہی۔ حتیٰ کہ سلطنت مغلیہ کے زوال اور برطانوی اقتدار کے آغاز کے زمانے میں بھی یوگا کی مختلف شکلیں ہندوستانی معاشرت اور فکری زندگی میں موجود رہیں۔سیاسی تبدیلیوں کے باوجود یوگا کی یہ روایت کبھی منقطع نہیں ہوئی۔ ایک روحانی اور عملی نظام کے طور پر یہ نسل در نسل منتقل ہوتی رہی۔ در حقیقت مختلف ادوار میں متعدد روحانی شخصیات سامنے آئیں، جن میں بعض نے مقامی سطح پر، بعض نے ملکی اور بعض نے عالمی سطح پر شہرت حاصل کی۔ آج ان کے افکار و نظریات علمی و تحقیقی مطالعے کا موضوع ہیں۔ اگرچہ وقت کے ساتھ ان میںسے کئی نام عوامی حافظے سے اوجھل ہو گئے۔یوں جدید دور میں بھی یوگا نے نہ صرف اپنی قدیم روایت کو برقرار رکھا بلکہ بدلتے ہوئے عالمی تناظر میں ایک نئے فکری اور ثقافتی مفہوم کے ساتھ خود کو منوایا۔اسی فکری و تاریخی تسلسل کے تحت بعض مقدس شخصیات کی زندگی اور خدمات کا مختصر جائزہ لینا ضروری معلوم ہوتا ہے جنھوں نے یوگا اور ہندوستانی روحانیت کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان میں رام کرشن پرم ہنس کا نام بطورِ نقطۂ آغاز خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔
رام کرشن پرم ہنس
جدید دور میں رام کرشن پرم ہنس کو ان اولین ہندوستانی روحانی شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے جن کی شہرت ہندوستان سے باہر تک پہنچی۔ وہ 1836 میں مغربی بنگال کے ایک روایتی برہمن گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی عمر ہی سے ان میں غیر معمولی روحانی میلان اور باطنی کشش کے آثار نمایاں تھے۔ انھوں نے ہندو مذہبی ادب کا گہرا مطالعہ کیا اور جلد ہی روحانی حلقوں میں ایک ممتاز حیثیت اختیار کر لی۔وہ فنونِ لطیفہ خصوصاً گائیکی، اداکاری اور رقص سے بھی فطری مناسبت رکھتے تھے۔اسی ذوق کے تحت انھوں نے رامائن اور مہابھارت کے واقعات کی ڈرامائی پیشکش کا سلسلہ بھی شروع کیا۔ بعد ازاں وہ دکشنیشور کالی مندر کے پجاری مقرر ہوئے، جو بنگالی بھکتی روایت کا اہم روحانی مرکز تھا۔ان کے انتقال (1886) کے بعد ان کے شاگردوں بالخصوص سوامی وویکانند کی قیادت میں، ایک ایسی فکری و روحانی تحریک کی بنیاد رکھی گئی جس نے آگے چل کر عالمی سطح پر نمایاں اثرات مرتب کیے۔
سوامی وویکانند
جدید دور میں یوگا اور ہندوستانی روحانیت کو عالمی سطح پر متعارف کرانے میں سوامی وویکانند کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اپنی غیر معمولی ذہانت، خطیبانہ صلاحیت اور فکری وسعت کے باعث وہ ویدانتی افکار اور یوگا کے مؤثر ترجمان کے طور پر ابھرے۔ وویکانند 1863میں کلکتہ کے ایک معزز گھرانے میں پیدا ہوئے۔ دورانِ تعلیم ان کی ملاقات رام کرشن پرم ہنس سے ہوئی جنھوں نے ابتدا ہی میں ان کی فکری صلاحیت کو پہچان لیا۔ وہ اپنے استاد کی روحانیت شخصیت سے بہت متاثر ہوئے اور انہی کی تربیت میں روحانی اور ریاضت کے تمام مراحل طے کیے۔ رام کرشن پرم ہنس کی وفات کے بعدا نھوں نے کچھ عرصہ ہمالیہ میں خلوت اختیار کی اور پھر ہندوستان کے مختلف علاقوں میں اپنے استاد کے افکار کی تبلیغ کی۔ 1893 میں شکاگو میں منعقدہـ’’ مذاہب کی عالمی پارلیمنٹ‘‘ میں ان کی شرکت فیصلہ کن ثابت ہوئی، جہاں ان کے خطابات نے غیر معمولی توجہ حاصل کی اور وہ مغربی دنیا میں ہندوستانی روحانیت کی نمایاں آواز بن گئے۔ بعد ازاں امریکہ اور یورپ میں ان کے لیکچرز نے یوگا اور ویدانت کے لیے وسیع فکری دلچسپی پیدا کی۔ جدید دور میں یوگا کی عالمی مقبولیت کی فکری بنیادوں کو مضبوط کرنے والوں میں ان کا نام نمایاں ہے، جبکہ بعد کے مفکرین مثلاً رَمَنا مہارشی اور اروبندو گھوش نے اس روایت کو مزید فکری گہرائی اور وسعت بخشی۔
رمنا مہارشی
رمنا مہارشی 30 دسمبر 1879 کو تمل ناڈو میں ایک برہمن خاندان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد کم عمری ہی سے ان میں روحانی رجحان نمایاں ہونے لگا۔ نوجوانی میں وہ خاموشی سے گھر چھوڑ کر اروناچل پہاڑی کے دامن میں واقع’’ ترونّا ملائی‘‘ پہنچ گئے، جو ہندو روایت میں ایک مقدس مقام سمجھا جاتا ہے۔وہاں انھوں نے طویل عرصہ خلوت، مراقبے اور خاموش ریاضت میں گزارا۔ ابتدا میں وہ مکمل طور پر خاموشی اختیار کیے رہے، تاہم ان کی روحانی کیفیت اور سکون آمیز شخصیت لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی رہی۔ بعد میں انھوں نے اپنے معتقدین کے سوالات کے مختصر تحریری جوابات دینا شروع کیے، جو ان کے افکار و تصورات کی بنیاد بنے۔ان کی تعلیمات کا مرکزی نکتہ’’خود شناسی‘‘ اور’’ باطن کی دریافت ‘‘‘تھا۔ انھوں نے فلسفیانہ پیچیدگی کے بجائے داخلی شعور اور روحانی تجربے پر زور دیا، جس نے جدید تعلیم یافتہ طبقے کو متاثر کیا۔رمنا مہارشی 1950 تک اروناچل میں مقیم رہے، تاہم اس دوران ان کی تعلیم و تلقین بیرون ہند بھی متعارف ہو چکی تھی۔ ان کی تعلیمات کو عمومی طور پر’’گیان یوگا‘‘ کی قدیم روایت کا سادہ اور مؤثر اظہار قرار دیا جاتا ہے۔
اروبندو گھوش
اروبندو گھوش کا تصورِ یوگا، رمنا مہارشی کے تجرباتی اور خاموشی پر مبنی رجحان سے مختلف تھا۔ وہ 15؍ اگست 1872کو لکاتا میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ایک روشن خیال طبیب تھے، جنھوں نے انھیں ابتدائی تعلیم کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلینڈ بھیج دیا، جہاں انھوں نے مغربی فلسفے، ادب اور سیاسی افکار کا گہرا مطالعہ کیا، تاہم ان کا رشتہ ہندوستانی تہذیب اور قومی شعورسے مضبوط رہا۔وطن واپسی پر وہ تحریکِ آزادی سے وابستہ ہوئے، مگرجلد ہی ان کی توجہ روحانی ریاضت اور یوگا کی طرف مبذول ہوگئی۔ 1904 کے بعد انھوں نے باقاعدہ یوگا کی مشق شروع کی، خصوصاً’’پرانایام‘‘ کو اپنی ریاضت کا حصہ بنایا۔ بعد ازاں’’ وشنو بھاسکر للی‘‘ کی رہنمائی میں باطنی تجربات نے ان کی فکر و روحانیت کو مزید نکھارا۔ اروبندو نے یوگا اور ہندوستانی روحانیت کوجدید فکری تناظر میں پیش کیا۔ ان کی تحریروں نے تعلیم یافتہ طبقے اور مغربی علمی حلقوں کو بھی متاثر کیا۔ ان کی شخصیت میں روحانیت، فلسفہ اور انسانی ارتقا کا تصو ر اس طرح یکجا نظر آتا ہے کہ انھیں مشرق و مغرب کے فکری امتزاج کی ایک اہم علامت سمجھا جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یوگا کے قدیم و جدید مطالعے سے اس روایت کی وسعت اور فکری گہرائی کا اندازہ ہوتا ہے۔ اگرچہ اس کی عملی صورتیں مختلف رہی ہیں، تاہم اس کا بنیادی مقصد انسان کو داخلی سکون، روحانی بالیدگی اور اعلیٰ شعور سے آشنا کرنا ہے۔ اسی لیے یوگا کے کئی تصورات دنیا کی مختلف روایتوں سے قریب محسوس ہوتے ہیں، جو باطنی تطہیر اور روحانی ارتقا پر زور دیتی ہیں۔
عصرِ حاضر میں یوگا کی عالمی مقبولیت کا ایک نمایاں اظہار اُس وقت سامنے آیا جب اقوامِ متحدہ نے 21جون کو’’عالمی یومِ یوگا‘‘ قرار دیا۔ اس سلسلے میں 27ستمبر 2014 کو اس وقت ایک اہم پیش رفت ہوئی جب ہندوستان کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 69 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یوگا کے لیے ایک عالمی دن مختص کرنے کی تجویز پیش کی، جسے 193 میں سے 177 رکن ممالک کی حمایت حاصل ہوئی۔ اپنے خطاب میں وزیرِ اعظم نے یوگا کو ہندوستان کی قدیم تہذیبی روایت کا ایک قیمتی عطیہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جسم و ذہن کی ہم آہنگی، فکر و عمل کے توازن اور انسان و فطرت کے باہمی ربط کی نمائندگی کرتا ہے۔ ان کے مطابق یوگا محض جسمانی ورزش نہیں بلکہ ایسی مشق ہے جو جدید دور کے ذہنی دباؤ اور ماحولیاتی بحران کے درمیان انسان کو داخلی توازن اورفطرت سے ہم آہنگ طرز زندگی کی طرف متوجہ کرتی ہے5۔ بعد ازاں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 21جون کو عالمی یومِ یوگا قرار دینے کی قرارداد منظور کی۔ اُس وقت کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا کہ یہ دن یوگا کے ہمہ جہت فوائد کی جانب عالمی توجہ مبذول کرانے کا ذریعہ بنے گا۔ ان کے مطابق یوگا نہ صرف ذہنی دباؤ اور اضطراب میں کمی لاتا ہے بلکہ مختلف طبقات کے درمیان باہمی احترام اور سماجی ہم آہنگی کو بھی فروغ دیتا ہے 6۔اس لیے اسے محض جسمانی مشق تک محدود کرنا مناسب نہیں، بلکہ اسے ایک وسیع تہذیبی، فکری اور روحانی روایت کے طور پر سمجھنا زیادہ قرین حقیقت معلوم ہوتا ہے۔
اسی تناظر میں ہندوستان کی جانب سے یوگا اور دیگر روایتی علوم کو عالمی سطح پر فروغ دینے کی منظم کوششیں بھی قابل توجہ ہیں۔ انڈین کونسل فار کلچرل ریلیشنز (ICCR) نے وزارتِ آیوش کے اشتراک سے تعلیمی سال 2026-2027 کے لییـ’’ آیوش اسکالرشپ اسکیم‘‘ کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت غیر ملکی، خصوصاً عرب ممالک کے طلبہ کو آیوروید، یوگا، یونانی، سِدّھا اور ہومیوپیتھی جیسے روایتی علوم میں اعلیٰ تعلیم و تحقیق کے مواقع فراہم کیے جارہے ہیں۔ سعودی عرب، مصر، شام اور دیگر عرب ممالک میں قائم ہندوستانی سفارت خانوں کی جانب سے اس اسکیم کی تشہیر اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ ہندوستان اپنی تہذیبی وراثت اور روایتی علوم کو عالمی علمی و ثقافتی منظرنامے میں ایک موثر فکری و ثقافتی قوت کے طورپر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
درحقیقت یہ پیش رفت ہندوستان کی ایک اہم تہذیبی کامیابی کی علامت ہے۔ یوگا، جو کبھی ایک محدود روحانی روایت سمجھا جاتا تھا، آج عالمی جامعات اور تحقیقی اداروں میں ایک باقاعدہ علمی موضوع کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ آیوش اسکالرشپ جیسے اقدامات اس امر کی دلیل ہیں کہ ہندوستان نے اپنی قدیم فکری روایتوں کو جدید دنیا کے لیے ایک قابلِ قبول علمی و ثقافتی ماڈل کے طور پر پیش کرنے میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔اس تناظر میں یوگا اور دیگر ہندوستانی روایتی علوم اب محض صحت یا روحانیت تک محدود نہیں رہے، بلکہ تہذیبی سفارت کاری اور ’’سافٹ پاور‘‘ (Soft Power)کے ایک مؤثر وسیلے کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جن کے ذریعے ہندوستان اپنی ثقافتی شناخت کو عالمی سطح پر مستحکم کر رہا ہے۔
بطور حاصل بحث یہ کہا جا سکتا ہے کہ عصرِ حاضر میں یوگا ایک محدود روحانی روایت سے نکل کرعالمی طرزِ حیات کا حصہ بن چکا ہے۔ آج اسے مذہبی اور نظریاتی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر ایک سائنسی اور معروضی نظام کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ مختلف نسلوں، مذاہب اور معاشرتی طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد نے اسے اختیار کیا۔ نوجوانوں، بزرگوں، گھریلو خواتین اور پیشہ ور طبقات میں ا س کی مقبولیت اس بات کی دلیل ہے کہ یوگا اب کسی مخصوص خطے یا طبقے تک محدود نہیں رہا۔امریکہ اور یورپ میں لاکھوں افراد کی باقاعدہ مشق ؍پریکٹس اس امر کی غماز ہے کہ یوگا ہندوستان کے ایک اہم تہذیبی عطیے کے طور پر عالمی شناخت حاصل کرچکا ہے۔
تاہم یوگا کی اس عالمی مقبولیت نے بعض فکری سوالات کو بھی جنم دیا ہے۔ خصوصاً یہ کہ آیا یوگا اپنی اصل روحانی معنویت کو برقرار رکھ پایا ہے یا محض ایک طرزِ زندگی اور تجارتی صنعت بن کر رہ گیا ہے؟ مغربی دنیا میں اس کی پذیرائی نے اسے صحت، ذہنی سکون اور توازن کے ایک مؤثر ذریعے کے طور پر متعارف کرایا، لیکن اس کے ساتھ یوگا ایک وسیع تجارتی دائرے میں داخل ہوا، جس میں مختلف کورسز، مراکز اور مصنوعات شامل ہیں۔ بعض ناقدین کے نزدیک اس عمل نے یوگا کی اصل روحانی بنیادوں کو کسی حد تک متاثر کیا ہے۔ یہ بحث اپنی جگہ اہم ہے، کیونکہ ہر وہ روایت جو اپنی جغرافیائی حدود سے نکل کر عالمی سطح پر پھیلتی ہے، وہ لازماً تغیر کے عمل سے بھی گزرتی ہے۔ یہ پہلو مزید علمی تحقیق اور سنجیدہ مکالمے کا متقاضی ہے۔
یوگا اب محض ایک قدیم روایت نہیں رہا بلکہ انسان کی ایک اہم ضرورت بنتا جارہا ہے، اور یہی ضرورت اس کے عالمی عروج کے بنیادی اسباب میں شامل ہے۔
تاہم یوگا کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے صرف جسمانی ورزش یا تجارتی سرگرمی کے محدود دائرے میں نہیں دیکھا جانا چاہیے، بلکہ اس کے تاریخی، تہذیبی اور فکری پس منظر کو بھی پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یوگا کی اصل قوت اس کی اسی جامع فکر میں مضمر ہے، جو انسان کو اپنے باطن، معاشرے اور فطرت کے ساتھ متوازن تعلق قائم کرنے کی دعوت دیتی ہے۔اسی بنا پر یوگا آج بھی انسانی تہذیب کے اُن زندہ مظاہر میں شمار ہوتا ہے، جو وقت گزرنے کے باوجود اپنی معنویت اور افادیت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
حواشی و حوالے
ا۔ روزنامہ انقلاب، نئی دہلی، 10جون 2015ء۔
2- Benjamin walker, Hindu World (An Encyclopedic Survey of Hinduis), Volume II, (M-Z), PP: 616-17.
3- The New Encyclopedia Britannica, Volume 12, 15th Edition, New Delhi, 2010, P 846.
4- David Gordon white: Yoga: Brief History of an idea, PP 2-3.
5- Speech of the Prime Minister of India at the 69th Session of the UN-General Assembly, delivered on 27/9/2014.Official website of the Government of India: (pib.nic.in) accessed on 27/09/2014.
6- Al-Riyadh Newspaper, published by Al-Yamamah Press, Riyadh, Issue No.16971,dated12/2014.
Dr. Mohammad Moinuddin
Flat No. 706, Ostwal Garden, Near Galaxy Hospital, Kanakai Road, Laxmi Park, Mira Road, Bhayander, Thane Maharashtra-401107
Emai: drmoinjnu@gmail.com