شیخ محمد غوث گوالیاری کا تصور یوگ(بحرالحیات کے تناظر میں)،مضمون نگار:محمد منہاج الدین

June 17, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،جون 2026:

یوگا ایک قدیم اور ہمہ گیر ہندوستانی فلسفہ ہے جو انسان کی جسمانی، ذہنی اور روحانی صحت کو جسد خاکی کے لیے لازمی عمل تصور کرتا ہے۔ یہ علم روح، جسم اور ذہن کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرتا ہے تاکہ انسان قلبی سکون کے ساتھ مکمل صحت حاصل کر سکے۔ قدیم ہندوستانی علوم اور علمی روایت میں یوگا کی تاریخی اہمیت مسلم ہے۔ آج یوروپ امریکہ ، جاپان اور روس جیسے ممالک میں یوگا ایک مقبول ترین ورزش ہے۔
یوگا کی تعلیمات کو انگریزی سے پہلے عربی اور فارسی میں منتقل کیا گیا۔ گیارہویں صدی عیسوی میں البیرونی نے پاتنجلی کی ’’یوگ سوترا‘‘کو پہلی بار عربی زبان میں ترجمہ کرکے پیش کیا۔یوگا کی ایک اہم اور تاریخی کتاب ’’امرت کنڈ‘‘ ہے،جو ہندوستانی علمی روایت کی اہم کتاب مانی جاتی ہے۔ اس کتاب میں یوگا کے فوائد اور طریقۂ کار بیان کیے گئے ہیں۔ ’’امرت کنڈ‘‘ کو تیرہویں صدی عیسویں میں’شیخ رکن الدین سمرقندی ‘نے’’حوض الحیاۃ‘‘ کے نام سے عربی زبان میں منتقل کیا۔ اسی کو سامنے رکھ کر مشہور صوفی عالم ’شیخ محمد غوث گوالیاری (1500-1562) نے سولہویں صدی میں ’’بحرالحیات‘‘ کے نام ے پہلی بار ’’امرت کنڈ‘‘ کا فارسی میں ترجمہ کیا۔
شیخ محمد غوث گوالیاری شطاری سلسلے کے صوفی تھے۔ والد کانام سید علی تھا۔ حضرت شیخ ظہو رحاجی حمید کے مرید تھے۔ وہ عالم دین تھے، ہندو مذہب کی کتابوں کا مطالعہ بھی ان کا عمیق تھا۔ عربی، فارسی کے ساتھ سنسکرت زبان پر بھی ان کو دسترس حاصل تھی۔ انھوں نے کئی اہم کتابیں لکھی ہیں جو ہندوستان کی صوفیانہ روایت میں اہم اور معتبر سمجھی جاتی ہیں۔ ’’بحر الحیات‘‘ کے علاوہ ان کی دوسری اہم کتاب ’’جواہر خمسہ‘‘ہے جو فارسی میں تصوف پر لکھی گئی ضخیم کتابوں میں شمارہوتی ہے۔ انھوں نے کل سات کتابیں لکھی ہیں، ’’بحر الحیات‘‘ ، ’’جواہر خمسہ‘‘، ’’اوراد غوثیہ‘‘، ’’معراج نامہ‘‘، ’’ضمائر اور بصائر‘‘، ’’ کلید مخازن‘‘ اور ’’کنزالوحدہ‘‘۔ ان کے متعلق مشہور ہے کہ اپنے پیر و مرشد حضرت شیخ ظہور حمید کے حکم پر چونار کے پہاڑی علاقے میں چلے گئے۔ جہاں تقریباً 13برس سے زیادہ رہے اور اسی دوران یہاں کی پہاڑیوں میں رہنے والے یوگی، سادھو، سنتوں سے گہرے تعلقات قائم ہو ئے جس کا اثر ان کی زندگی پر بھی پڑا۔ یوگ سے رغبت یہیں سے پیدا ہوئی اور اس کی تحقیق کی طرف راغب ہوئے۔
’’بحر الحیات‘‘ شیخ غوث گوالیاری کی شاہکار تصنیف ہے جو کامروپ (بنگال) کے یوگیوں کی تعلیمات اور یوگ آسنوں پر مشتمل ہے۔ اس میں ہندو سادھو سنتوں اور یوگیوں کے شغل ،ان کی طرز زندگی کو موضوع بنایا گیا ہے۔ کتاب کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ یوگا کی تعلیمات اور طریقوں پر مشتمل پہلی تصویری کتاب ہے۔ اس میں ایک یوگی سادھو کے بائیس(22) مختلف آسن کی تصویریں ہیں۔ان تصاویر کے ساتھ آسنوں کے نام اور طریقۂ کار بھی بیان کیے گئے ہیں۔ اس کتاب کی تاریخی اور ادبی دونوں لحاظ سے اہمیت ہے۔ تاریخی اعتبار سے دیکھیں تو ہندوستانی علمی روایت کی ایک اہم کتاب ہے جس میں اچھی صحت کے لیے یوگا کی افادیت اوریوگا کے طریقۂ کار سے لوگوں کو واقف کرایا گیا ہے اور ادبی اعتبار سے دیکھیں تو اس کتاب کو فارسی میں یوگا کے موضوع پر تحریر کردہ پہلی کتاب کا درجہ حاصل ہے۔اس کتاب کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ ’’امرت کنڈ‘‘ کا کوئی نسخہ دستیاب نہیں ہے اور غوث گوالیاری کی یہ کتاب’’ امرت کنڈ‘‘ کی تعلیمات کو جس قدر سلیقے سے سمیٹ کر لکھی گئی ہے ہندوستانی علمی روایت میں یہ ’’امرت کنڈ‘‘ کی بہترین نمائندگی کرتی ہے، بلکہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کتاب نے قدیم ہندوستانی نظام تعلیم کی اہم تاریخی کتاب کو معدوم ہونے سے بچا لیا، ’’بحر الحیات‘‘ کی اہمیت اس لحاظ سے بھی ہے کہ ایک مسلم صوفی بزرگ شیخ محمد غوث گوالیاری نے شریعت اور طریقت کی روشنی میں جسمانی صحت مندی کے ساتھ باطنی توانائی کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے تزکیہ نفس، تصفیہ قلب اور ریاضت کے لیے ہندو فلسفہ -یوگ کی افادیت اور اس کے طریقۂ کار پر تصویر کے ساتھ کتاب تحریرکی ہے۔
شیخ محمد غوث گوالیاری ’’بحرالحیات‘‘ کی تالیف کا بنیادی مقصد اس میں موجود پوشیدہ رموز واسرار کو اپنے مریدوں اور تمام صوفیا کے لیے واضح کرنا تھا۔ ان کے نزدیک یوگیوں کے افکار جنھیں وہ علم جسد(جسم کا علم) کہتے ہیں ، ایسے نتائج تک پہنچاتے ہیں جو مسلمان صوفیوں کے لیے بھی انتہائی مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ آپ یوگا کی مشقوں اور اشغال پر اس قدر زور دیتے ہیں کہ اسے اپنے مریدوں پر واجب قرار دیتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ :
’’جوگی سدھ کہتے ہیں کہ ہم ماہیت روح میں درویشوں کے ساتھ متفق ہیں۔ جب کہ اشیا ء تنزل و طلعت ترقی کرتی ہیں، حق ہے۔مگر یہ حقیقت کو پہچانتے ہیں وسیلہ کو چھوڑتے ہیں۔ جوگیوں کی جماعت وسیلے کو پا کر نگہبانی و تتبع کرتی ہے۔ کیونکہ جسد سے معرفت حقیقی پیدا ہوتی ہے۔‘‘ 1
یوگیوں نے جسم کی توانائی پر خاص زور دیا تاکہ اسے محفوظ رکھ کر حقیقت تک پہنچ سکیں اور معرفت حاصل کر سکیں۔یوگا کے ذریعے یوگیوں نے جسد خاکی کو توانا و تندرست رکھنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ یوگی سِدھ کے مطابق روح کی توانائی کے ساتھ جسم کی تندرستی بھی لازمی ہے۔ صرف روح سے معرفت حقیقی لاحاصل ہے۔ صوفیوں کو معرفت حاصل کرنے کے لیے جسم کی حفاظت کوبھی فرض سمجھنا چاہیے جس کے لیے یوگا مفید عمل ہے۔
شیخ محمد غوث گوالیاری ہندو یوگی اور مسلمان عارفین کے اقوال میں یکسانیت پر اصرار کرتے ہیں۔ ان کے مطابق جو کچھ ہندو یوگیوں نے دریافت کیا ہے وہ صوفیا کے حال کے عین مطابق ہے، اگرچہ مذاہب اور زبانیں مختلف ہیں لیکن بیان ایک ہی حقیقت کا ہے۔ کئی جگہ وہ یوگیوں کی تعلیمات اور اسلامی عقائد کے درمیان فرق کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں لیکن اس تفریق کے بیان میں بھی ان کی کوشش ہوتی ہے کہ اختلافات کی صحیح تاویل کریں اور دونوں مذاہب کے درمیان ایک تعلق قائم کریں۔
’’بحرالحیات‘‘کے متن کی بات کی جائے تو کتاب کا آغاز حمد باری تعالیٰ اور درود و سلام محمدؐ سے ہوتا ہے ،اس کے بعد مقدمہ ہے۔ مقدمہ ایک تمثیلی سفر سے شروع ہوتا ہے ، جس میں مختلف خیالی صورتوں ،نفس کے دس دروازوں ، پانچ ظاہری اور پانچ باطنی (ظاہری۔ لمس، بینائی، سمع، ذوق اور شم؛ باطنی۔حس، خیال، وہم، فکر اور حافظہ )کے رازوں کا ذکر کرتے ہوئے تصوف کے فلسفہ کے راز افشاں کر الٰہی مراتب تک پہنچنے کے مراحل کا ذکر ہے۔اس کے بعد اصل باب کا آغاز ہوتا ہے۔ کتاب مختلف عنوانات کے تحت دس ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلا باب۔ عالم صغیر کی معرفت: دوسرا باب۔عالم کی تاثیرات کی معرفت: تیسرا باب۔ دل کی معرفت اور تخیلات و واردات کی ماہیت: چوتھا باب: معرفت ریاضت اور اس کی کیفیت: پانچواں باب۔ معرفت ایجاد انسان انواع دم اور اس کی ماہیت اور کیفیت: چھٹا باب۔ معرفت چگونکی جسد اور اس کی ماہیت: ساتواں باب۔ وہم کی معرفت: آٹھواں باب۔ معرفت فسادجسد اور ظاہر ہونے کی علامت: نواں باب۔ تسخیرات: دسواں باب۔ ایجاد عالم کے بیان پر مشتمل ہے۔
باب اول (عالم صغیر کی معرفت) میں آفتاب کو مرکز میں رکھ کرنظام شمسی سے آدم کی تخلیق اور سرشت کو تعبیر کیا گیا ہے۔یہ اقتباس دیکھیں:
’’دو سوراخ بینی مثل آفتاب و ماہتاب۔اور یہ آیت من آیات اللہ ہے اور نور من نوراللہ ہے۔ عالم ضیا میں ماہتاب آفتاب سے فیض حاصل کرتا ہے۔اگر آفتاب نہ ہو تا تو تمام عالم ظلمات ہوتا اگر ماہتاب نہ ہوتا تو اٹھائیس منزلیں بیکار ہوتیں اور ان میں کوئی تاثیر نہ ہوتی۔‘‘2
اس باب میں طویل صوفیانہ گفتگو کے بعد وہ یہ معنی خیز جملہ بیان فرماتے ہیں کہ ــ’’جس نے اپنے کو پہچانااس نے اپنے رب کو پہچانا‘‘۔ باب دوم (عالم کی تاثیرات کی معرفت) میں سانس کے نظام کا ذکر کچھ اس طرح سے ہے:
جاننا چاہیے کہ آفتاب اور ماہتاب جیسے عالم کبیر میں ہیں بمعنی خاص عالم صغیر میں بھی موثر ہیں۔چناچہ عالم صغیر میں آفتاب و ماہتاب دو سوراخ بینی ہیں۔ آفتاب جانب راست ماہتاب جانب چپ۔ اور سانس کبھی جانب راست اور کبھی جانب چپ سے چلتا ہے نوبت نبوبت اس واسطے دو چند جمع نہیں ہوتے دوسرے دونوں جہت سے باہر نہیں جاتے مگر حالت خوف اور وقت جماع یا بلندی پر چڑھنے یا ورزش کرنے یا بھاری بوجھ اٹھانے یا کھانے میں۔‘‘ 3
اس باب میں سانس کی ورزش اور اس کے فوائد بیان کیے گئے ہیں۔ جس طرح یوگ میں روح کو جسم پر فوقیت دی جاتی ہے اسی طرح شیخ محمد غوث گوالیاری نے روح کو عالم صغیر مانا ہے اور سانس کو قابو میں رکھ کرسانس کی ورزش کے مختلف جسمانی علاج بھی بتائے ہیں۔ طاقت و قوت حاصل کرنے کے اشغال کا بھی ذکر کیا ہے۔
تیسرے باب میں علم نجوم کے فلسفیانہ مباحث ہیں جنھیں صوفیانہ فکر سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔چوتھا باب یوگ اور ریاضت کی اہمیت اور اشغال سے تعلق رکھتا ہے۔اس میں کسب و ریاضت کی تلقین کی گئی ہے تاکہ جسم خراب نہ ہو۔جب انسان غفلت، شوق مباشرت اور لذت دنیوی میں پڑ جاتا ہے تو جسمانی اور روحانی دونوں طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرتا ہے۔ جو انسان اپنے جسم کی حفاظت نہیں کرتا ہے تو کئی بیماریوں میں مبتلا ہو کر قبل از وقت ضعیف ہو جاتا ہے۔ اللہ کے فرمان کا حوالہ دے کر ورزش اور یوگ کو جسد خاکی کی توانائی کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے۔ کہتے ہیں کہ انسان کو حق نہیں کہ وہ خود کو برباد کرے بلکہ اسے چاہیے کہ تن کو ریاضت میں اور فکر کو تصور باطن پر متعین کر دے۔ اس باب میں یوگ کے مختلف آسنوں کے طریقۂ کار کاتصویروں کے ساتھ بیان ہے۔ یہ تنبیہ بھی کی گئی ہے کہ ان آسنوں کو خالی پیٹ خلوت میں کرنے اور بلا ناغہ روز وقت مقررہ پر کرنے سے ہی اس کا فائدہ حاصل ہو سکتا ہے اور نتائج حیران کن ہو سکتے ہیں۔ بدن کی صفائی اور لطافت ان چلوں(آسنوں) سے حاصل ہوتی ہے جن کی تعدادچوراسی (84) ہے ، ہر ایک آسن کے فوائد الگ الگ ہیں ، مگر اس کتاب میں چند مخصوص آسنوں کا بیان ہوا ہے جن کو عمل طور پر برتنے سے مقصد حاصل ہو جاتا ہے۔ یہاں یوگ کی انہیں تئیس(23) اہم آسنوں کا بیان ہے۔ یہ آسن ہیں…. ذکر ہنس،طریقہ چلہ، ذکر الکھ، ذکر کھکتی، ذکر نرنجن، ذکر چکری، ذکر بنولی، ذکر گورکھی، ذکراکوجن، ذکر الندسبد، ذکر نصبد، ذکر سیتکی، ذکر بھونکم، ذکر بورکھ، ذکرتراوت، ذکر کنجری، ذکر ملیکا، ذکر کھنبہ، ذکر یہاں آسن، ذکرجگر آسن، ذکر تھینسہ، ذکر بحیر آسن اور ذکر سن آسن۔مثال کے طور پر یہاں صرف ایک آسن کاطریقۂ کاردیکھیں:
’’طریقہ چلّہ‘‘ اس کرم کو سہج آسن کہتے ہیں۔ ترکیب اس کی یہ ہے کہ سر اور کمر اور پشت برابر رکھے اور ساق پر ساق رکھے۔ ٹخنا پائے چپ زیر انتہائے زانوئے راست اور ٹخنا پائے راست انتہائے زانوئے چپ پر رکھے دونوں ہاتھ باہم ملا کر مشغول ہو۔ جو سانس آئے اس کو ہنسو کہتے ہیں۔ حن سے مراد رب روحی ہے اور سو سے مراد نفس کا اندر کھینچنا ہے۔ اس کو رب الارباب کہتے ہیں۔ جب رب روحی رب الارباب کی صورت قبول کر لیتا ہے اس وقت وہ محل تجلی و مشاہدہ و مکاشفہ و معاینہ کا بن جاتا ہے۔ چاہیے کہ اس ذکر کی مواظیت کرے کہ فتح باب غیب الغیوب حاصل ہو۔‘‘ 4
پانچویں باب میں انسان کی تخلیق اوررحم مادر میں لڑکالڑکی کی تخلیق کے متعلق صوفیانہ تعلیمات اور جوگیوں کے علم کو ایک ساتھ بیان کیا گیا ہے اور دکھایا گیا ہے کہ دونوں میں ایک قسم کی مطابقت ہے۔دونوں کے نزدیک انسان کی تخلیق کا مقصد معرفت الٰہی ہے۔ سانس محض زندگی کی علامت نہیں بلکہ انسان کی تخلیق کی اصل پہچان ہے جو روح کی پاکیزگی اور تزکیہ نفس کا ذریعہ بھی ہے۔چھٹا باب جسم کی حقیقت اس کی ساخت اور روحانی پہلوؤں کی پہچان سے متعلق ہے۔ دراصل یہ خود شناسی کا پہلا قدم ہے جو انسان کو معرفت الٰہی تک لے جاتا ہے۔ ساتواں باب وہم کی معرفت کے بیان میں ہے، جس میں وہم کی حقیقت بیان کرتے ہوئے معرفت حاصل کرنے کے سات درجات کا ذکر کچھ اس طرح سے ہے کہ اہل تصوف کے مراقبے اور جوگیوں کے دھیان میں مماثلت ظاہر ہوتی ہے اور اختلاف کی گنجائش ختم کرنے کے لیے دھیان کی مروج اصطلاحات کے تصوف پر مبنی متبادل بھی پیش کیے گئے ہیں۔آٹھواں باب جسم کی خرابی اور اس کے بگاڑ کی پہچان کے سلسلے میں صوفیانہ تحریر پر مشتمل ہے اور نواں باب تسخیرات کے بیان میں معرفت کے اس درجے کا بیان ہے جہاں انسان کو اس کی تخلیق کا مقصد معلوم ہو چکا ہوتا ہے اوراس باب میں اسے معرفت حاصل کرنے کا طریقہ بتایا گیا ہے۔ دسویں باب میں ایجاد عالم کابیان اسلامی تصوف اور جوگیان سِدھ دونوں تعلیمات کا موازنہ کرتے ہوئے بیان کیا گیا ہے۔مجموعی طور پر دیکھیں تو متن میں انسانی روح کے ارتقا کا سفر صوفیانہ لہجے میں ہے تو جسم کی توانائی کا درس جوگیوں کی تعلیمات پر مبنی ہے۔ تصوف اور یوگ کے امتزاج سے معرفت الٰہی کے لیے پاکیزہ روح کے ساتھ توانا جسم بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔
’’بحر الحیات‘‘ کے مطالعے کے بعد ایک اہم نکتہ واضح ہوتا ہے کہ کتاب کا مرکزی موضوع ’’ہٹھ یوگ‘‘ ہے جس کا بنیادی مقصدجسم کو صحت منداور دل و دماغ کو متوازن رکھ کر روحانی ترقی حاصل کرنا ہے، اس لئے’’بحر الحیات‘‘ کوبرصغیر کی روحانی اور علمی تاریخ میں منفرد مقام حاصل ہے۔ یہ کتاب یوگا اورتصوف کے امتزاج پر مبنی قدیم فارسی کتاب ہے۔ یہ کتاب محض ترجمہ نہیں اصل کتاب ’’امرت کنڈ‘‘ کی محافظ بھی ہے اور شرح بھی، بلکہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شیخ محمد غوث گوالیاری نے تصوف خاص طور پر سلسلۂ شطاریہ کے تناظر میں ’’امرت کنڈ‘‘ کی از سر نو تشکیل کی ہے۔ یہ کتاب محض ایک کتاب نہیں بلکہ صوفیانہ تصورات اور ہندوستان کے قدیم یوگ نظریات کے درمیان ایک فکری پُل کا بھی درجہ رکھتی ہے۔
جیسا کہ مذکور ہے کہ ’’بحر الحیات‘‘ میں صوفیانہ روایات اوریوگا کے اعمال کا ایک سادہ امتزاج موجود ہے۔ اس متن کا بڑا حصہ’’ ہٹھ یوگ‘‘ کے مضامین پر مشتمل ہے۔ اس میں حبسِ دم(سانس روکنا)، خاص قسم کے مراقبے، کائناتی تشریحات اور چکروں کی تفصیل شامل ہے لہذاکتاب کے یوگا متن میں موجود ہندو مت کے عناصرکو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔یہ عناصر چاہے تصوراتی اور فلسفیانہ لحاظ سے ہوں یا عملی تشریحات اور اصطلاحات کے اعتبار سے اس میں واضح طور پر یوگا کے عناصر دیکھے جا سکتے ہیں۔ شیخ محمد غوث گوالیاری کی کتاب اور یوگا کے متعلق ان کی تعلیمات کا واضح پیغام ہے کہ یوگا صرف ورزش نہیں ہے بلکہ زندگی کو بہتر بنانے کا ایک آرٹ ہے۔یہ ہندوستانی علمی روایت کا وہ تحفہ ہے جو ملک و مذہب سے بالاتر ہو کر نسل انسانی کے لیے جسمانی صحت کادرس دیتا ہے۔اگر اسے روزمرہ کی زندگی کا حصہ بنا لیا جائے تو یہ نہ صرف بیماریوں سے بچاتا ہے بلکہ توانائی کے ساتھ ایک پرسکون زندگی گزارنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
حواشی
1 ایضاً ؛ ص۔38,37
2 ایضاً ؛ ص۔7,6
3 ایضاً ؛ ص۔9
4 ایضاً ؛ ص۔24

Dr. Md Minhajuddin
(Assistant Professor)
Department of Urdu, Gaya College, Gaya Ji, Bihar.
Mob.: 9304720184,
Email: khanminhaj762@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

مستشرق اردو لغت نویس،مضمون نگار: مزمل سرکھوت

اردودنیا،فروری 2026:  ہمارےتعلیمی نظام میں شاعری اور نثر کی مختلف اصناف کے مطالعے اور تحقیق کا چلن تو موجود ہے ، مگرترجمہ اور اس کے انسلاکات، اصطلاح سازی، محاورات، ضرب

گمنام فلمی نغمہ نگار ،مضمون نگار: خلیق الزماں نصرت

اردو دنیا،اپریل 2026: 1931 میں جب پہلی بولتی فلم عالم آرا بنی تو اس سے پہلے کے فنکار ہی اس میں ایکٹنگ کرتے تھے اور گانے بھی گاتے تھے ہم

اردو زبان و ادب کے فروغ میں تراجم کا حصہ،مضمون نگار:بلقیس مقبول

اردو دنیا،مئی 2026: اردو زبان و ادب کی ترویج میں ترجمے کی اہمیت ہمیشہ رہی ہے۔ ترجمہ زبان کو وسعت دیتا ہے، نئے مفاہیم سے روشناس کراتا ہے اور علمی