قومی تعلیمی پالیسی 2020 اور زبان کی تعلیم،مضمون نگار: امتیاز احمد

August 5, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا، اگست 2026:

قومی تعلیمی پالیسی 2020 زبان کی تعلیم و تدریس کے لیے ایک بنیادی نظریاتی خاکہ پیش کرتی ہے جو کثیر لسانیت، ثقافتی تحفظ اور قومی یکجہتی پر مبنی وژن کی جانب حکمت آمیز پیش قدمی کا اعلامیہ معلوم ہوتا ہے۔ پالیسی زبان کی تعلیم کو روایتی یادداشت اور استحضار کے طور طریقوں سے ہٹا کر ایک جامع، تجرباتی اور ثقافت حساس تعلیم پر زور دیتی ہے اور کثیر لسانیت کو عقدہ لا ینحل کے بجائے ایک تدریسی وسیلہ کے طور پر استعمال کرنے کی وکالت کرتی ہے۔ یہ زبان کو اظہار و ابلاغ سے بڑھ کر اسے ثقافتی شناخت اور علمی ترقی کا ایک بنیادی ذریعہ تصور کرتی ہے اور اس کی تعلیم و تدریس کے مناسب نظم و نسق کے لیے اسکولی نظام میں ضروری اصلاحات کی سفارشیں پیش کرتی ہے۔
پالیسی ملک کی لسانی تکثیریت کے تحفظ اور فروغ کے لیے ذریعۂ تعلیم کو سب سے اہم قرار دیتی ہے اور اس پر سنجیدگی و پابندی سے کاربند ہونے کی وکالت کرتی ہے۔ پالیسی ابتدائی مراحل تا درمیانی/وسطانوی مراحل تک گھر کی زبان/مادری زبان/مقامی زبان/ علاقائی زبان کو ذریعۂ تعلیم بنانے کی سفارش پیش کرتی ہے۔ علاوہ ازیں ان زبانوں میں تعلیمی وسائل اور مواد کی تخلیق و تشکیل پر بھی زور دیتی ہے۔ پالیسی کے نقطہ 4.11 میں مرقوم ہے:
’’جہاں تک ممکن ہو کم سے کم درجہ پنجم تک لیکن بہتر یہ ہوگا کہ یہ درجہ ہشتم اور اس سے آگے تک بھی ہو، ذریعۂ تعلیم گھر کی زبان/مادری زبان/مقامی زبان/ علاقائی زبان ہوگی۔ اس کے بعد گھر کی زبان/ مقامی زبان کو جہاں بھی ممکن ہو زبان کے طور پر پڑھایا جائے گا، عوامی اور نجی دونوں طرح کے اسکولز اس کی پابندی کریں گے۔سائنس سمیت تمام مضامین میں اعلیٰ ترین معیار والی نصابی کتابوں کو گھر کی زبان/مادری زبان میں دستیاب کرایا جائے گا۔‘‘
(قومی تعلیمی پالیسی 2020، نقطہ 4.11، ص 18)
مذکورہ اقتباس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پالیسی زبان کی تعلیم و تدریس کے حوالے سے نہ صرف سنجیدہ ہے بلکہ اس سے منسلک تمام سفارشات اور اقدامات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے متفکر بھی ہے۔ مزید برآں اس نے نہ صرف مرکزی و ریاستی اسکولوں کو گھر کی زبان/مادری زبان/مقامی زبان/ علاقائی زبان کو ابتدائی تا وسطانوی مراحل تک ذریعۂ تعلیم بنانے کا مکلف بنایا ہے بلکہ نجی اور ذاتی نوعیت کے اسکولوں کو بھی اس کی پابندی کرنے کی ہدایت دی ہے۔ مقامی اور علاقائی زبانوں کی زبوں حالی کی ایک اہم وجہ تعلیمی مواد اور نصابی کتابوں کی عدمِ دستیابی ہے، پالیسی نے اس حوالے سے بھی رہنما سفارش پیش کی ہے اور تعلیم و تدریس سے منسلک تمام اداروں، ماہرین اور ذمہ داران کو ان زبانوں میں اعلیٰ معیار کے تعلیمی مواد، وسائل اور کتابوں کی فراہمی کو یقینی بنانے کا پابند بنایا ہے۔ ان کے علاوہ پالیسی گھر کی زبان اور اسکولی زبان کے درمیاں حائل رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے کثیر لسانیت کا نظریہ پیش کرتی ہے اور اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت کے پروگرامس میں اس کو شامل کرنی کی تجویز دیتی ہے تاکہ اساتذہ تربیت حاصل کرنے کے بعد اپنے تدریسی عمل کو موثربنا سکیں اور ان طلبا کے ساتھ دو لسانی طریقہ کار استعمال کر سکیں جن کی گھر کی زبان ذریعۂ تعلیم سے مختلف ہے۔ اساتذہ کے اس عمل سے نہ صرف زبان کی تعلیمی صورتِ حال بہتر ہوگی بلکہ طلبہ بھی گھر کی زبان/ مقامی زبان کی آموزش کی طرف مائل ہوں گے اور اپنی لسانی معذوریت کو دور کر سکیں گے۔
اسکولی نظامِ تعلیم میں زبانوں کی صورتِ حال اسی شکل میں بہتر ہوگی جب انھیں تعلیم و تدریس کا باضابطہ حصہ بنایا جائے۔ طلبہ ابتدائی مراحل میں ذریعۂ تعلیم کی وجہ سے گھر کی زبان/مقامی زبان کا اکتساب کر لیتے ہیں البتہ ان مراحل کے بعد تعلیمی مواد کی کمی، لسانی پالیسی اور ملازمت کے خوف سے ان زبانوں کو بطور مضمون پڑھنے پر آمادہ نہیں ہوتے یا اسکول میں ان زبانوں کے انتخاب کا کوئی نظم نہیں ہوتا۔ لسانی پالیسی کی خستہ حالی کے ازالہ، آئینی دفعات، عوام، علاقوں اور یونین کے امنگوں و توقعات کی تکمیل، قومی یکجہتی کی ترویج اور کثیر لسانیت کے فروغ کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے پالیسی ریاستوں کو سہ لسانی فارمولے کے نفاذ، اساتذہ کی بحالی اور تکنیکی وسائل کے استعمال کی سفارش پیش کرتی ہے۔ اپنے اس منشا کو حقیقی شکل دینے کے لیے سہ لسانی فارمولے کا نظرثانی شدہ اور زیادہ لچکدار ورژن پیش کرتی ہے اور نقطہ 4.13 میں اس کو درج ذیل الفاظ میں بیان کرتی ہے:
’’بچوں کے ذریعے سیکھی جانے والی تین زبانوں کا انتخاب ریاستوں، علاقوں اور یقینی طور پر طلبہ کے خود کے اختیار میں ہوگا۔ جن میں سے کم سے کم تین میں دو زبانیں ہندوستانی زبانیں ہوں، خاص طور پر جو طلبہ تین میں سے ایک یا ایک سے زیادہ زبانوں کو بدلنا چاہتے ہیں، وہ ایسا درجہ ششم یا ہفتم میں کر سکتے ہیں، لیکن ایسا کرنے کے لیے انھیں تین زبانوں میں سے کم از کم ایک ہندوستانی زبان کو ادب کی سطح پر پڑھنا ہوگا اور ثانوی درجات کے آخر تک بنیادی مہارت حاصل کر کے دکھانا ہوگا۔‘‘
(قومی تعلیمی پالیسی 2020، نقطہ 4.13، ص: 18-19)
پالیسی سہ لسانی فارمولہ میں شامل تینوں زبانوں کے انتخاب کا اختیار ریاستوں، علاقوں اور طلبہ کی صواب دید پر چھوڑتی ہے اور زبانوں کے انتخاب میں کسی قسم کے تعصب، امتیاز اور جبر کی ممانعت کرتی ہے۔ البتہ زبانوں کے انتخاب میں دو مقامی زبانوں کا خیال رکھنا بنیادی شرط ہے۔ اس کے علاوہ طلبہ کو درجہ ششم اور ہفتم میں اپنی منتخب کردہ ایک یا ایک سے زیادہ زبانوں کو تبدیل کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ تاہم یہ گنجائش ایک واضح تعلیمی ہدف سے منسلک ہے جو طلبہ کے لیے ثانوی درجات کے اختتام تک تین زبانوں میں بنیادی مہارتوں کے مظاہرہ کرنے اور ملک کی ایک زبان کو ادبی سطح پر پڑھنے کو ضروری قرار دیتی ہے۔
قومی تعلیمی پالیسی 2020 زبان کی تعلیمی صورتِ حال کی بہتری، لسانی طبقات کے امنگوں کی تکمیل اور طلبہ میں زبان کے تئیں مثبت رجحانات اور میلانات کی ترویج کے لیے قابلِ عمل تدابیر کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ پالیسی زبان کو ذریعۂ تعلیم بنانے سے لے کر اس کے نصاب، تدریسی طریقۂ کار، اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی اور درس و تدریس میں ٹیکنالوجی کے انضمام جیسے عوامل میں ضروری اصلاحات اور ترمیمات کرنے کی راہ ہموار کرتی ہے اور زبان کی تعلیمی اثرپذیری، طلبہ میں لسانی دلچسپی اور تنقیدی و تخلیقی مہارتوں کی ترویج کے لیے نصابی کتابوں کے مواد میں تخفیف کرنے اور انھیں عصرِ حاضر کے تقاضوں، سماجی امنگوں اور لسانی ضرورتوں کے عین مطابق بنانے پر زور دیتی ہے اور ان میں بامعنی اصلاحات کی تجویز پیش کرتی ہے۔ پالیسی نصابی کتابوں کے مواد میں تخفیف کرنے کے حوالے سے بتاتی ہے:
’’نصاب کے مواد کو ہر موضوع میں کم کر کے اس کو بے حد بنیادی چیزوں پر مرکوز کیا جائے گا تاکہ تنقیدی فکر اور جستجو، مباحثہ اور تجزیہ پر مبنی جامع تعلیم پر ضروری توجہ دی جا سکے۔ یہ نصابی مواد اب بنیادی تصورات، افکار، تجربات اور مسائل کے حل پر مرکوز ہوں گے۔ تعلیم و تعلم کا کام اب زیادہ تعاملی طریقہ سے انجام دیا جائے گا، سوال پوچھنے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی اور درجات میں باقاعدہ طور پر زیادہ پُر کشش، تخلیقی، باہمی تعاون کے ساتھ اور تحقیقاتی سرگرمیاں ہوں گی تاکہ گہرا اور زیادہ تجرباتی علم یقینی بنایا جا سکے۔‘‘
(قومی تعلیمی پالیسی 2020، نقطہ 4.5، ص16-17)
نصابی کتابوں کے مواد میں تخفیف جہاں ایک طرف طلبہ کو ذہنی طور پر پر سکون بنائے گی، انھیں زبان کے اکتساب پر آمادہ کرے گی، وہیں دوسری طرف زبان کو عصرِ حاضر کے جدید تقاضوں، مطالبات اور سماجی امنگوں سے ہم آہنگ کرے گی اور زبان کی تعلیم کے امکانات کو مزید فروغ دے گی۔ پالیسی نصابی کتابوں کے مواد میں تخفیف کے علاوہ اسے قومی تعلیمی مقاصد، سماجی مطالبات، ثقافتی روایات و اقدار اور ملازمتی مہارتوں اور استعداد کے مطابق ڈھالنے کی تاکید کرتی ہے تاکہ زبان کا تدریسی عمل زیادہ پر لطف، سرگرم، موثر اور نتیجہ خیز بن سکے اور طلبہ زبان کی آموزش و اکتساب میں پورے انہماک، تندہی اور دل بستگی کا مظاہرہ کر سکیں۔
پالیسی زبان کی تعلیم کی ترقی کے لیے نصابی کتابوں کے مواد میں تخفیف اور قومی و مقامی مواد کی شمولیت کے علاوہ اسکول کے تمام مضامین کے لیے دو لسانی نصابی کتابوں کی تخلیق اور تشکیل کی سفارش پیش کرتی ہے۔ سائنس، ریاضی، سماجی علوم، مدنیت وغیرہ کے درسی مواد کی دو زبانوں میں تشکیل و ترتیب نہ صرف زبان کے اساتذہ کو آسانیاں فراہم کرے گی بلکہ طلبہ کے تعلیمی اضطراب اور آموزشی پسماندگی کو بھی دور کرے گی اور ان میں زبان کے تئیں ایسے رجحانات اور میلانات پیدا کرے گی جن سے آئندہ نسلیں بھی متاثر ہوں گی اور زبان کی تعلیم اور آموزش پر آمادہ ہوں گی۔ پالیسی اس ضمن میں لکھتی ہے:
’’ریاضی اور سائنس کے لیے اعلیٰ ترین معیار والی دو لسانی نصابی کتابوں اور درسی مواد کو تیار کرنے کی سبھی کوششیں کی جائیں گی تاکہ طلبہ دونوں مضامین پر سوچنے اور بولنے کے لیے اپنے گھر کی زبان/مادری زبان اور انگریزی زبان میں اہل ہو سکیں۔‘‘
(قومی تعلیمی پالیسی 2020، نقطہ 4.14، ص19)
قومی تعلیمی پالیسی 2020 نے زبانوں کی نصابی کتابوں اور درسی مواد کی تخفیف، تشکیل اور تنظیم پر سیرِ حاصل مباحث کے علاوہ تدریسی طریقوں اور تدابیر پر بھی مبسوط روشنی ڈالی ہے۔ نیز تدریس کے روایتی طریقوں، حکمت عملیوں اور استحضاری رویوں کی جگہ جدید اختراعی، تجرباتی، انہماکی، تعاونی طریقوں اور تنقیدی، تخلیقی اور تفہیمی مہارتوں کے انضمام اور اطلاق پر زور دیا ہے۔ مزید برآںپالیسی نے زبان کی تدریس کے روایتی طریقوں کو اس کے تعلیمی انحطاط اور طلبہ کی زبان بیزاری کا اہم سبب قرار دیا ہے۔ چنانچہ پالیسی زبان کی موثر تدریس کے حوالے سے لکھتی ہے:
’’موثر طریقہ پر سیکھنے کے لیے ایک وسیع نظریہ کی ضرورت ہوتی ہے جس میں مناسب نصاب، پُر کشش تدریس، پائیدار تشکیلی جائزہ اور طلبہ کا مناسب تعاون شامل ہوتا ہے۔ نصاب دلچسپ اور مربوط ہونا چاہیے اور اس میں وقتاً فوقتاً تجدید ہونی چاہیے جس سے تعلیم کی جدید ضروریات اور اس کے مطلوبہ نتائج کو حاصل کیا جا سکے۔ اعلیٰ معیار کا تدریسی علم طلبہ تک درسی مواد کی کامیاب رسائی کے لیے لازم ہے۔ تدریس کے ان طریقوں سے طلبہ کے سیکھنے کے تجربات طے ہوتے ہیں جو سیدھے طور پر سیکھنے کے نتائج پر اثر انداز ہوتے ہیں۔‘‘
(قومی تعلیمی پالیسی 2020، نقطہ 12.1، ص1:)
پالیسی نے زبانوں کے تعلیمی انحطاط کے سدباب اور اس کی تعلیم کو ملک کے تعلیمی مقاصد، سماجی توقعات، طلبہ کی نفسیات اور ضروریات کے مطابق موزوں، مناسب اور موثر بنانے کے لیے کئی کلیدی سفارشات پیش کی ہے۔ ان بنیادی سفارشات میں مسرت آمیز تدریس، تجرباتی آموزش، کھیل مرکوز تدریس، سرگرمی اساس تدریس، ماحصل مرکوز تدریس، کثیر لسانیاتی تدریس اور استعداد مرکوز تعلیم وغیرہ جیسے تدریسی طریقے شامل ہیں۔ پالیسی زبان کی تدریس کے طریقۂ کار کے حوالے سے لکھتی ہے:
’’ سبھی زبانوں کی تدریس کو اختراعی اور تجرباتی طریقوں مثلاً گیمیفیکیشن اور ایپس کے انضمام سے بہتر بنایا جائے گا۔ زبانوں کے ثقافتی پہلوؤں جیسے فلموں، تھیٹر، کہانیوں، شاعری اور موسیقی کو مختلف متعلقہ موضوعات اور حقیقی زندگی کے تجربات سے منسلک کر کے سکھایا جائے گا۔ اس طرح زبانوں کی تدریس تجرباتی آموزش پر مبنی ہوگی۔‘‘
(قومی تعلیمی پالیسی 2020، نقطہ، 4.21، ص 23)
زبان کی تعلیم و تدریس میں جدید اور اختراعی طریقوں جیسے تجربات، کھیل اور ایپس مرکوز طریقے تدریسی عمل کو دلچسپ بنانے کے علاوہ طلبہ میں زبان کے تئیں مثبت تبدیلی بھی پیدا کریں گے۔ ان کے علاوہ تعاون و اشتراک، منصوبہ اور حل مسائل پر مبنی تدریسی تدابیر طلبہ میں باہمی احترام، اجتماعی عمل، انفرادی تفاوت کی قدر، ثقافتی اتحاد اور لسانی بیداری جیسی مہارتوں کو فروغ دیں گی۔
عصرِ حاضر کو ٹیکنالوجی کے دور سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس دور میں معلومات و اطلاعات کا جہانِ ناپید کنار انسان کی انگشت کی ایک جنبش سے سامنے حاضر ہو جاتا ہے۔ اب معلومات تک رسائی کے لیے لائبریری کی خاک چھاننے کی ضرورت نہیں پڑتی ہے بلکہ بیٹھے بٹھائے دستیاب ہو جاتی ہیں۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی برق رفتار ترقی اور زود افزا شہرت نے انسانی زندگی کے تمام شعبوں کو اپنا اسیر بنایا ہے۔ تعلیم و تربیت کا شعبہ بھی اس کے اثرات سے متاثر ہوا ہے اور اس کے محیر العقول آلات و وسائل کے انضمام اور استعمال سے خود کو نکھارا ہے۔پالیسی نے ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی ضرورت اور اس کے وسیع استعمال کے پیش نظر زبان کی تعلیم و تدریس کو ٹیکنالوجی مرکوز بنانے پر زور دیا ہے۔پالیسی ٹیکنالوجی کے انضمام اور استعمال کو طلبہ کے آموزشی طرز، تعلیمی حصولیابی اور تعلیم کے جملہ شعبوں کی بہتری کا سب سے اہم ذریعہ سمجھتی ہے اور اسے تعلیم کے تمام مراحل میں نافذ کرنے کی وکالت کرتی ہے۔ پالیسی کے نقطہ 23.3 میں ذکر ہے:
’’تعلیم کے مختلف پہلوؤں کو بہتر بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کے سبھی طرح کے استعمال اور انضمام کی حمایت کی جائے گی اور انھیں اپنایا جائے گا بشرطیکہ بڑے پیمانے پر اس کو نافذ کرنے سے پہلے ان کا متعلقہ سیاق و سباق میں ٹھوس اور شفاف طریقہ سے جائزہ لیا گیا ہو۔ اسکولی تعلیم اور اعلیٰ تعلیم دونوں شعبوں میں تدریس، تشخیص/جائزہ، منصوبہ بندی، انتظام و انصرام وغیرہ میں اصلاح کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال پر مختلف افکار و نظریات کے آزادانہ اظہار کو ایک اسٹیج فراہم کرنے کے لیے ایک خودمختار باڈی کی شکل میں قومی تعلیمی ٹیکنالوجی فورم کا قیام ہوگا۔‘‘
(قومی تعلیمی پالیسی 2020، نقطہ، 23.3، ص 78 )
ٹیکنالوجی مرکوز آلات اور وسائل زبان کی تعلیم کو نئی بلندیوں پر لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دکشا (DIKSHA) جیسے پلیٹ فارم زبان کے اعلیٰ معیار کے وسائل کے لیے ایک قومی ذخیرے کے طور پر کام کرتا ہے جس سے معیاری مواد تک رسائی ممکن ہو پاتی ہے۔ ٹیکنالوجی محض ایک ترسیلی آلہ نہیں ہے بلکہ یہ ثقافتی روایات کے تحفظ، مذہبی متون/ادب کی بقا اور قومی یکجہتی کے فروغ کا ایک بنیادی محرک ہے۔ یہ زبان کے تعلیمی عمل کو پر لطف، موثر اور طلبہ کو منہمک، مستعد اور قابلِ عمل بنانے نیز ان میں لسانی ذوق اور ادبی رجحان پیدا کرنے کے علاوہ ہندوستان کی مخدوش زبانوں کے ثقافتی و ادبی سرمایوں کے تحفظ اور ہندوستانی ادارہ برائے ترجمہ نگاری و ترجمانی (IITI) کے لسانی خدمات کی تشہیر اور توسیع میں بھی اہم رول ادا کرے گا۔
قومی تعلیمی پالیسی 2020 کی زبان کی تعلیم کے متعلق سفارشات محض تعلیمی اصلاحات کی کلید نہیں ہیں بلکہ لسانی تکثیریت، قومی یکجہتی اور ثقافتی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ پالیسی زبان کی تدریس اور آموزش کو ثقافتی سیاق سے جوڑتے ہوئے طلبہ کو لسانی، تعلیمی اور معاشی طور پر خود مختار بنانے اور انھیں اپنے مذہب، ثقافت، ملک اور سماج کی فلاح و بہبود اور خدمات کے لیے تیار کرنے پر زور دیتی ہے۔ پالیسی سفارشات کی کامیابی کا انحصار پالیسی سازوں اور منتظمین کے مشترکہ عزم، پائیدار سرمایہ کاری اور شناخت شدہ مسائل کے سدباب پر ہے۔ مقامی/ علاقائی اور مادری زبان کو تعلیمی نظام کا حصہ بنانا صرف لسانی طبقات اور برادریوں کا لسانی حق نہیں ہے بلکہ طلبہ کا تعلیمی حق بھی ہے- زبان نسلوں کو ان کی جڑوں سے جوڑتی ہے، تعلیم و تعلم کو فطری بناتی ہے اور شناخت کو مضبوطی عطا کرتی ہے۔ پالیسی اگرچہ ایک روشن مستقبل کا راستہ دکھاتی ہے لیکن اس راستے پرکامیابی کے ساتھ چلنے کے لیے ہمیں ذہنی تیاری، سماجی تبدیلی، تعلیمی جدت اور ادارہ جاتی و تدریسی افرادی قوت وغیرہ کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایسے موزوں اور مؤثر تدریسی طریقے متعارف کرانا ہوں گے جو مکمل طور پر ایک زبان پر انحصار کے بجائے کثیر لسانیت کو فروغ دیتے ہوں۔ استاد ان طریقوں کے ذریعے ایک سے زائد زبانوں کو بیک وقت استعمال کر سکتا ہو، تصورات اور اصطلاحات کو مقامی زبان میں سمجھا سکتا ہو اور مختلف زبانوں میں مشق کرا سکتا ہو۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ ریاستی جامعات، تربیتی کالجز اور ادارے علاقائی زبانوں میں تدریسی مہارتوں پر مبنی خصوصی تربیت کا اہتمام کریں۔ آن لائن کورسز، تدریسی ماڈیولز اورمقامی لسانی برادریوں کی شرکت کے ذریعے نہ صرف بہتر تعلیمی مواد بنایا جا سکتا ہے بلکہ زبان کے ساتھ وابستگی کو بھی مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ والدین کی ترجیحات کو بدلنے کے لیے کہانیوں، میڈیامہمات، کامیاب شخصیات کی مثالیں، اسکول پروگرام، ریڈیو اور کمیونٹی اجلاس وغیرہ کا سہارا لیا جا سکتا ہے۔ مواد کی تخلیق اور تشکیل کے لیے مصنوعی ذہانت، مشینی ترجمہ اور اوپن سورس پلیٹ فارمز وغیرہ کی مدد لی جا سکتی ہے۔ اگر ان سفارشات پر عمل کیا جائے تو ہندوستان کا لسانی تنوع ایک انتظامی مسئلہ کے بجائے اکیسویں صدی میں علم کی تخلیق کا سب سے بڑا اثاثہ بن سکتا ہے۔
مآخذ و مصادر
1۔ فریدی، س م ع (2020)، قومی تعلیمی پالیسی 2020، پٹنہ: شعبۂ نشر و اشاعت، امارت شرعیہ، پھلواری شریف۔
2۔ وزارتِ تعلیم (2020)، قومی پالیسی برائے تعلیم 2020، نئی دہلی، وزارتِ تعلیم، حکومتِ ہند۔

Imtiyaz Ahmad
Department of Educational Studies,
Faculty of Education, Jamia Millia Islamia,
New Delhi-110025
Mob.: 9911752717
Email: imtiyaz7262@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

شمولیاتی تعلیم کی روشن دنیا،مضمون نگار: مظفر اسلام

اردو دنیا،دسمبر 2025 تعلیم انسانی ترقی اور سماجی انصاف کی سب سے بڑی بنیاد ہے۔ یہ نہ صرف فرد کی شخصیت کو نکھارتی ہے بلکہ ایک مہذب، روشن خیال اور

اس سمندر میں بہت لعل وگہر،مضمون نگار:غضنفر

اردو دنیا،جون 2026: جو لوگ زبانوں کو قریب سے دیکھتے ہیں اور ان کی ساخت اور ماہیت کو سمجھتے ہیں وہ اس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہیں کہ زبانیں

انڈین نالج سسٹم اور موجودہ تعلیمی نظام کا تقابلی مطالعہ،مضمون نگار: کے ایم عظمت النساء

اردو دنیا،دسمبر 2025 ہندوستان دنیا کی ان قدیم ترین اور ہمہ گیر تہذیبوں میں سے ایک ہے جس نے نہ صرف انسانی فکر و شعور کی تشکیل میں اہم کردار