اردو صحافت کا معمار اوّل مولوی محمد باقر مجتہد،مضمون نگار: عبدالعزیزعرفان

August 6, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا، اگست 2026:

ہندوستان کی اردو صحافت نے دنیائے صحافت میں وہی کردار ادا کیا ہے۔ جو کردار انقلاب فرانس میں وہاں کے دانشور طبقے کا رہا ہے۔ اسی پر فرانس کے عظیم مفکر والٹیر کو اپنی مہرثبت کرنی پڑی اور اقرار کرنا پڑا۔
”The writing and propoganda of the philosophers made excellent gun powder for destroying the monarchy of france.” Voltair.
یہی قول ہمارے مجاہدین آزادی ہند پر صادق اترتا ہے۔ واقعی اردو کی یہ بڑی خوش نصیبی ہے کہ اردو کے کئی عظیم ممتازصحافی جنگ آزادی کے سپہ سالار بھی تھے جو بیک وقت ایک ادیب، ایک صحافی، ایک دانشور، ایک عالم، ایک شاعر،ایک مفکر اور ایک عظیم مجاہد آزادی بھی تھے۔ میں چند عظیم اور معروف صحافیوں کانام لوں گاجو خداداد صلاحیتوں کے مالک تھے۔ان کی شخصیت ہمہ جہت اور مختلف اوصاف کی حامل تھیں۔ ان میں مولانا محمد باقر 1857 مکندلال آگرہ، سردار امرسنگھ منصور، شیر پنجاب، مولانا حسرت موہانی، مولانا محمد علی جوہر، مولانا ابوالکلام آزاد،مولانا ظفرعلی خاں کے نام قابل ذکر ہیں۔ ان لوگوں نے اپنی زندگی کا آغاز صحافت سے کیا اور ادب وصحافت سے سیاست میںداخل ہوئے۔
میں اپنے اس مقالہ میں اردو صحافت کے معمارِ اوّل مولوی محمدباقر دہلوی کے متعلق سرسری جائزہ پیش کروں گا، جو دہلی کے معروف عالم دین اورمعلم قرآن اور مولانا محمدحسین آزاد کے والد محترم تھے۔ موصوف نے مستقبل کی اردو صحافت کو وطنی کردار سے سرفرازکیا۔
مولوی محمدباقر حضرت سلمان فارسی کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ موصوف کے جدامجد مولانا شکوہ عالم کے عہد میں ایران سے دہلی آئے تھے۔ ان کے فرزند ارجمند محمد اشرف تھے اور ان کے صاحبزادے محمد اکبر تھے۔مولانا محمدباقرانہی کے فرزند تھے۔ ان کی پیدائش کے بارے میں اختلاف پایاجاتا ہے۔ عموماً 1780 تاریخ پیدائش خیال کیاجاتا ہے۔ مولوی صاحب نے ابتدائی تعلیم مولوی عبدالرزاق کے یہاں حاصل کی۔ دہلی کالج میں داخل ہونے کے بعد ممتازطالب علم رہے۔ 1831 میں لارڈ ولیم بنٹنگ نے کالج کا معائنہ کیا۔ولیم نے ان کی صلاحیتوں سے متاثر ہوکر انھیں بطور انعام خلعت سے نوازا۔ بعدازاں مولانا دہلی کالج میں بحیثیت مدرس بھی خدمات انجام دیتے رہے۔ اس کے بعد سررشتہ دار،منصرم اورتحصیلدار وغیرہ کے عہدے پر بھی فائز ہوئے۔ ملازمت کے زمانے میں دہلی اردو اخبارشائع کرنا شروع کردیاتھا۔
بقول ڈاکٹر انیس صدیقی ’’مولوی محمدباقرکی ادارت میں دہلی سے 1836میں منظر عام پر آنے والے۔ ’دہلی اردو اخبار‘ کا نام سرفہرست رکھاجاسکتا ہے۔‘‘
(جنگ آزاد ی میں اردو صحافت کا کردارگھومتا آئینہ، گلبرگہ، کرناٹک، 2025)
جی ڈی چندن اپنے مقالہ میںیوں رقمطراز ہیں:
’’1834میں مولوی محمدباقر نے دلّی کالج سے اس کا ایک فاضل لیتھوپریس خریدا اور پہلے مطبع جعفریہ اور پھر مطبع اثناعشری کے نام سے اس سے طباعت کاکام کیا۔پھر جب نئے اخبار کے نام سے ایک ہفت روزہ جاری کیاجو اردو کا اولین مطبوعہ اخبار ہونے کی حیثیت سے اپنے وقت کا عجوبہ عظیم تھا۔‘‘
ڈاکٹر محمد سعد اللہ اپنی تصنیف میں رقمطراز ہیں:
’’مولوی محمد حسین آزاد کے والد محترم مولوی محمد باقر تھے۔ جنھوں نے دہلی کا پہلا اردو اخبار 1836میں دہلی اردو اخبار کے نام سے جاری کیا تھا۔ وہ اپنے زمانے کے فاضل اور اہل قلم تھے۔ ان کے دوستانہ مراسم اپنے زمانے کے فضلا سے تھے۔ استاد ذوق سے خصوصی تعلقات کی بنا پر انھوں نے آزاد کو ذوق کی تربیت میں دے دیاتھا۔ 1857کا ہنگامہ شروع ہوا تو ابتدا میں انگریزوں کو بر ی طرح شکستیں ہوئیں۔ ان سے متاثر ہوکر مولوی محمد حسین آزاد نے فتح افواج شرق ،کے عنوان سے ایک نظم کہی جو دہلی اردو اخبار، مورخہ 24مئی 1857 میں شائع ہوئی تھی۔‘‘
(نیشنل آرکیوزدہلی اور شہر آشوب آغاز ،ارتقا و اہمیت، ڈاکٹر محمد سعد اللہ ، صدر شعبہ اردو فارسی، ایس کے کے کالج، جلگاؤں جامود،بلڈانہ، ص 389)
اس نظم کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں ؎
کو ملک سلیمان وکجا حکم سکندر
شایان اولی العزم سلاطین جہاں دار
کام آئے نہ علم وہنر وحکمت وفطرت
پورب کے تلنگوں نے لیا سب کو وہیں مار
یہ سانحہ وہ ہے کہ نہ دیکھا نہ سنا تھا
ہے گردش گردوں بھی عجب گردش دوار
اس واقعے کی چاہی جو آزاد نے تاریخ
دل نے کہا ’قل فاعتبرویا اولی الابصار‘
(شہر آشوب390) ڈاکٹر سعد اللہ جلگاؤں جامود (1273ھ)
1857کایہ واحداخبار،دہلی اردو اخبار، نے اپنی اردو صحافت کووطنی کردار سے سرفرازکیاتھااور مستقبل کی اردو صحافت کی بھی راہ ہموارکردی تھی۔
بقول ڈاکٹر انیس صدیقی:
’ صحافت اطراف واکناف کے حالات وواقعات سے راست آگاہی کانام ہے۔ یعنی صحافت اطلاع کا نام بھی ہے، یہ ابلاغ ہے۔ یہ بھی کہاجاتا ہے کہ صحافت نہ صرف انسانی فکر وشعور میں بالیدگی پیداکرنے بلکہ ان عوامل سے واقفیت حاصل کرنے میں بھی معاونت کرتی ہے۔ اسی لیے اخبار اور صحافی کو سماج کا آئینہ دار اور آئینہ سازکہاجاتا ہے۔صحافی انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اُجاگر کرتا ہے۔ ہر صحافی اپنے اخبارات ورسائل کے مقاصد کو مدنظر رکھتے ہوئے صحافت کا سفر طے کرتا ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے ’الہلال‘کے مقاصد میں’مسلمانوں میں مذہبی وسیاسی شعور وعرفان پیدا کرنا‘ہندومسلم اتحاد اور استخلاص وطن‘کو شامل کیا تھا۔ 1857کا سال انقلابیت سے بھر پور تھا۔ انگریزوں نے ہندوستانیوں پرظلم وستم اور سماجی، اخلاقی، تہذیبی، معاشی اور سیاسی قدروں کو متاثر کیا۔ ان کا تسلّط اور جبر وظلم ہندوستانیوں کے لیے واقعی باعث عار تھا۔ اس لیے ہندوستانیوں نے ملک کی آزادی کے لیے تحریک کا آغاز کیا۔ انقلاب 1857میں اردو صحافت نے اہم رول ادا کیا۔ چونکہ مولوی باقر اس دور کے مجاہدین کے حامی اور ہم نوا تھے۔ مولوی صاحب صحافی اور عالم دین کے ساتھ فوجی کارنامے بھی انجام دیتے تھے۔ جیون لال نے اپنے 16مئی کے روزنامچے میںلکھا ہے کہ ’’آج کے دن بادشاہ نے مولوی محمد باقر اور مولوی عبدالقادر کو باریاب ہونے کی عزت بخشی کیونکہ انھوں نے اپنے فرائض منصبی کو نہایت ذہانت اور بہادری سے انجام دیا تھا۔ بادشاہ نے مولوی محمد باقر کو خلعت عطا کیا۔17مئی کو مولوی باقر نے پیدل فوج کی دوپلٹنوں اور سوار ی کے ایک دستہ کو حکم دیا کہ خزانہ کی حفاظت کریں۔‘‘
(صاحب سیف وقلم مجاہد وطن۔مولانا محمدباقر، ڈاکٹر محمد صہیب، الہ آباد، انقلاب 1857نمبر 165)
گویا مولوی صاحب جذبہ حب الوطنی اورحق گوئی سے سرشارتھے۔ سیف وقلم کا ذہنی جذبہ سرفروشی کے لیے ہمیشہ تیار رہتا ہے۔ مولوی صاحب صحافتی بصیرت کا جذبہ رکھتے تھے۔ جذبہ حب الوطنی پیدا کرنا،جہادِ آزادی کی حمایت،سرکار برطانیہ کے ظلم وستم اور حکام پر تنقید کرنا اور بڑی بیباکی سے حق گوئی کا اعتراف کرنا ان کی صحافت میںشامل تھا۔
مولوی صاحب کے اردو اخبار میں ذوق، بہادر شاہ ظفر،غالب،غلام رسول، مرزا جیون بخت، مرزا نورالدین کے علاوہ ادبی گروہوں کی نوک جھونک کی خبر یںبھی شائع ہوتی تھیں لیکن سیاسی پہلو بھی جاندار تھا یعنی انگریزدشمنی ،وہ انگریزکی غلامی کرنا پسندنہیںکرتے تھے اور ملک کی آزادی کے بڑے شدت سے آرزومند تھے۔ مولوی صاحب نے اسباب بغاوت ہند، کارتوسوں پر گائے اور سور کی چربی کا لگانا ، ہندوستانی سپاہیوں پر روزانہ گولی چلانا،بہادر شاہ ظفر سے مہمانوں کی آمد و رفت ،راہ ورسم کے بنیادی حقوق چھیننا،روضہ لال باغ کی قبریں اکھاڑنا،ہزارہالوگوں کی جاگیریں ضبط کرلی گئی تھیں۔
(امدادصابری: تاریخ صحافت اردو جلد اوّل، ص184-87، انقلاب 1857نمبر، نیادور لکھنو اپریل مئی 2007، جی ڈی چندق ،نئی دہلی ص156)
انقلاب 1857کا سال جنگ آزادی کااہم سال تھا۔ مولانانے اپنے سیف وقلم سے وطنی خدمات انجام دیں ۔چنانچہ جی ڈی ٹنڈن اپنے مضمون میںرقمطراز ہیں :
’’جب یہ بغاوت 10مئی کو کھلم کھلا شروع ہوگئی تو مولوی محمد باقر نے اپنی ذات اور اپنے اخبار دونوں کو اس کے لیے وقف کردیااپنے اخبار کو ایک مجاہد وطن بنادیا تھا۔ اس کے آغاز کی رپورٹنگ کا اخبار کا 16مئی 1857کا شمارہ اس کے مہتمم مولوی محمد باقرکی آنکھوں دیکھی روداد تھی جوایک کیمرہ کی آنکھوں دیکھی روداد تھی۔ تاریخ آزادی کے مورخین کے لیے یہ ایک نہایت نادر دستاویز ہے۔ یہ بھی کہاجاتا ہے کہ مولوی صاحب نے اپنے اثر ورسوخ سے اپنے ذرائع سے رابطہ قائم کیا اور اپنے اخبار میں مختلف درباروں ، ریاستوں اور شہروں کی خبریں شائع کیں۔ اخبار 17مئی 1857کا مکمل شمارہ انھوں نے بغاوت نمبر کی شکل میں شائع کیا۔ اس میں دہلی شہر، میرٹھ،سہارن پور اور روڑکی کے حالات احتجاج بیان کیے گئے۔
مولوی محمدباقر نے حسب معمول رپورٹر کاکام پردے میں کیا اور راقم آثم کے نام سے ایک طویل روداد شائع کی جو اس عظیم جنگ آزادی کی چشم دیدرپورٹ کی تاریخی یادگار ہے۔ موصوف محبان وطن کی ہمت بڑھانے کے لیے قومی اپیلیں، نصیحتیں، دلیلیں اور بزرگوں کے اقوال بھی شائع کرتے تھے۔ 6مئی 1857کے شمارے میں ان کے صاحب علم وادب فرزند مولوی محمد حسین آزادکی نظم ’تاریخ انقلاب‘بھی شائع ہوئی ان کی عمر 27سال تھی۔‘‘(انقلاب 1857نمبر ۔نیادورلکھنو۔اپریل مئی2007، ص162)
مختصراً یہ کہاجاسکتا ہے کہ مولوی محمدباقر، وطنی صحافت کا معمارِ اول اردو صحافی تھا اور ’دہلی اردواخبار‘کو تمام اخبارات میں اردو کا پہلا سیاسی اور وطنی اخبار ہونے کا شرف حاصل ہے۔جس نے 1857کی جنگ آزادی میں نمایاں کردار ادا کیا تھا۔ اگرچہ کہ ’جام جہاں نما‘کلکتہ کو اردو کا پہلااردو اخبار قرار دیا جاتا ہے۔ (مارچ 1822) لیکن ان میں سے بیشتر اخبارات کوکمپنی کی پشت پناہی حاصل تھی جس سے صحافت میں انگریز سرکار پر تنقید نظر نہیں آتی تھی ۔ان اخباروں نے کمپنی کے نقطہ نظر کو ہی اپنی پالیسی بنایا تھا۔ ’دہلی اردو اخبار‘نے آزادی ہند کو ہی اپنا نصب العین بنا لیا تھا اور جنگ آزادی کو پروان چڑھانے میں ہی حصہ لیاتھا اور آزادی کے متوالوں اور جیالوں میں جذبہ حب الوطنی اور جوش وولولہ پیدا کرنا ہی اہم مقصد تھا۔ مولوی محمد باقر کو اسی جہادِ آزادی کی حمایت اور انگریزوں کی مخالفت کی پاداش میں شہید کیاگیا۔ان کی شہادت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ایک روایت یہ ہے کہ باغیوں کو دلّی کالج کے انگریز پرنسپل ٹیلر کے قتل کی ترغیب دینے کے شبہ میں فرنگی حکام نے انھیں گولی ماردی ۔ گوپی چند نارنگ اپنی تصنیف میں ہندوستان کی تحریک آزادی اور اردو شاعری میں اس کی تائید کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں۔ انھیں انگریزوں نے غدر کے بعد اس الزام کی بنا پر گولی سے اڑادیا کہ دہلی کالج کے پرنسپل ٹیلر کو ہلاک کرانے میں انھوں نے باغیوں کی مدد کی۔
ایک روایت جو محمد حسین آزاد کے نبیرہ آغا محمدباقر نے بیان کی یہ ہے کہ :
’’وسیع و عریض گرفتاریوں کے ایام میں انگریز حاکموں نے 16ستمبر 1857کو مولوی محمد باقر کو گرفتارکرلیاتھا اور 17ستمبر کو انھیں کیپٹن ہڈسن کے سامنے پیش کیاگیا۔ ان کے حکم سے انھیں اسی دن دہلی دروازے کے باہر خونی دروازے کے سامنے میدان میں گولی سے شہید کردیا گیا۔ان کے فرزند محمد حسین آزاد اپنے والد کے ایک دوست کرنل سردار سکندر سنگھ کی مدد سے بھیس بدل کر اور ان کا سائیس بن کر دہلی دروازے کے باہر کے میدان کے کنارے سے ان کے آخری دیدار کے لیے گئے۔ والد محترم کا دیدار کیا اور ان کا اشارہ ملنے پر کرنل سکند ر سنگھ نے اپنا گھوڑا موڑلیا۔ فرنگی کپتان نے توپ کا گھوڑا دبایا اور 77سالہ مولوی محمدباقر حق تعالیٰ سے جاملے۔ ‘‘
(ایضاً، ص 219)
اس عہد کی صحافت نے اپنے ہم وطنوں کو ملک کے معاشی، سماجی ،ادبی اور سیاسی حالات سے آگاہ کیا اور ناقابل فراموش کارنامے انجام دیے۔ مولوی محمدباقر نے جہادِ آزادی کی حمایت اورانگریزوں کی مخالفت کی پاداش میں خوشی خوشی اپنی جان نچھاور کردی اسی لیے ان کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ مولوی محمدباقر ہندوستان کی کسی بھی زبان کے اولین صحافی تھے جنھوں نے ملک کی آزادی کے لیے اپنی جان نچھاور کرنے سے بھی گریز نہیں کیا۔ ان سب کی بنا پر انھیں اولین شہید صحافی ا ور وطنی صحافت کا معمار اول کہنا غلط نہ ہوگا۔

Dr. Abdul Aziz Irfan
Opp. Maulana Azad College, National Colony, Plot no. 34, Sambhajinagar,
(Aurangabad) 431001 Maharashtra
Mob. 9890204715
Email: shaikhaziz1948@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

ماہنامہ نیا دور کا ادبی اور صحافتی سفر،مضمون نگار: رفیق احمد

اردو دنیا،نومبر 2025 مرکز علم وفن، شہر شعر و ادب اور علمی و تہذیبی تمدن کے گہوارے سر زمین لکھنؤ کو اردو زبان و ادب کے فروغ میں بڑی اہمیت

ہندوستان میں اردو صحافت عہدرفتہ سے ڈیجیٹل انقلاب تک:محمد کیف حبیب اللہ

اردو دنیا، اپریل 2026: اردوصحافت محض خبر رسانی کا ذریعہ نہیں بلکہ برصغیر کی تہذیبی اور سیاسی تاریخ کا ایک متحرک باب ہے۔ اس نے نہ صرف سماج کی اصلاح

آکاش وانی کا 90 سالہ سفر،مضمون نگار:اختر آزاد

اردو دنیا،دسمبر 2025: آکاش وانی سنسکرت کے دو لفظوں کا مرکب ہے۔ آکاش +وانی۔ جس کے لغوی معنی ’آسمان سے آنے والی آواز‘ یا ’الہامی آوازہے‘۔’آکاش وانی‘ لفظ کا پہلی