اردو دنیا، اگست 2026:
مولاناحسرت موہانی کا نام آتے ہی ان کی کئی حیثیتیں ایک ساتھ ذہن میں ابھرتی ہیں۔ وہ جہاں ایک طرف ہندوستان کی جنگ آزادی کے ایک مضبوط سپاہی تھے تو وہیں دوسری طرف بے باک صحافی، صاحب طرز ادیب، نقاد اورممتاز شاعر بھی تھے۔ ان کی ذاتی زندگی پر نظر ڈالیے تو ان کے فقیرانہ طرز حیات اور بوریا نشینی کے قصے سراٹھاتے ہیں۔ وہ ہمہ جہت اور ہمہ صفات شخصیت کے حامل ایسے انسان تھے جن کی زندگی سے بہت کچھ سیکھا جاسکتا ہے۔انھوں نے ہندوستان کو انگریز سامراج کے چنگل سے آزاد کرانے کے لیے لازوال قربانیاں پیش کیں اور ہمہ وقت اس جدوجہد میں سرگرم رہے۔ انھوں نے آزادی کے متوالوں کے دلوں میں ایک صور پھونکا اور ’انقلاب: زندہ باد ‘ کا نعرہ ایجاد کیا جو آج بھی دنیا بھر میں حریت پسندوں کا سب سے محبوب نعرہ ہے۔انھوں نے ہی سب سے پہلے ہندوستان کی مکمل آزادی کا مطالبہ کیا۔ ان کا انتقال 1951 میں ہوا اور اس اعتبار سے ان کے یوم وفات کو 75برس پورے ہورہے ہیں۔
مولانا حسرت موہانی جذبہ حریت سے سرشار ایک بے مثال رہنما تھے۔ انھوں نے ہندوستان کی جدوجہد آزادی میں جو لازوال قربانیاں پیش کیں، ان کا اعتراف جہاں ایک طرف گاندھی جی، سبھاش چندر بوس اور مولانا محمد علی جوہر نے کیا تو وہیں دوسری طرف پنڈت جواہر لال نہرو، مولانا ابوالکلام آزاد، ڈاکٹر راجندر پرشاد اور ڈاکٹر ذاکرحسین بھی ان کے معترف تھے۔ مولانا حسرت موہانی جدوجہد آزادی کے ہراول دستے کے کام آنے والی تحریکوں کے بانی ہی نہیں تھے بلکہ وہ ہندوستان کی مکمل آزادی کے علمبرداروں میں سرفہرست بھی تھے۔ سول نافرمانی اور عدم تعاون جیسی تحریکوں کا خیال بھی سب سے پہلے حسرت موہانی کے ذہن میں آیا تھا۔ پروفیسر مظفرحنفی کے الفاظ میں :
’’ انڈین نیشنل کانگریس کے قیام کے دس پندرہ برسوں کے اندر ہی ہندوستان کی جنگ آزادی میں جوچند افراد اپنے جوش عمل اور حریت پسندی کی وجہ سے صف اوّل کے قومی رہنماؤں میں ممتاز سمجھے گئے ان میں بال گنگا دھر تلک، شری اربندو گھوش اور مولانا حسرت موہانی جیسے انقلابی اور گرم دل سے تعلق رکھنے والے مجاہدین آزادی سرفہرست تھے۔یہ لوگ ابتدا ہی سے ہندوستان کی مکمل آزادی کے علمبردار تھے۔حسرت نے بیسویں صدی کی پہلی دہائی سے ہی اپنی تحریروں اور تقریروں کے ذریعہ ہندوستان کی مکمل آزادی کا مطالبہ شروع کردیا تھا اور آخر وقت تک یہی نعرہ بلند کرتے رہے۔ کم لوگ جانتے ہیں کہ سول نافرمانی اور عدم تعاون جیسی تحریکوں کا خیال سب سے پہلے حسرت موہانی کے ذہن میں آیا تھا ، جس کا اعتراف گاندھی جی نے اپنی خودنوشت سوانح عمری میں بھی کیا ہے۔سودیشی اشیا کے استعمال اوربرطانوی مال کے بائیکاٹ کی تجویزیں بھی سب سے پہلے حسرت موہانی نے ہی پیش کی تھیں اور ان تحریکوں کے عام ہونے سے بہت پہلے انھوں نے 1913 میں سودیشی اسٹور قائم کیا تھا۔ ‘‘
(’حسرت موہانی: مظفرحنفی ، این بی ٹی 1989 ،ص 11)
مولانا حسرت موہانی کا اصل نام سید فضل الحسن تھا۔ شاعری سے گہرے شغف کی بنا پر انھوں نے حسرت تخلص اختیار کیا تھا۔ ان کی پیدائش اترپردیش کے ضلع انّاؤ کے قصبہ موہان میں ہوئی تھی اور اسی مناسبت سے وہ اپنے تخلص کے ساتھ موہان کا لاحقہ استعمال کرتے تھے۔ آپ کے والد کا نام سید ازہر حسن اور والدہ کا سیدہ شہر بانو تھا۔ حسرت موہانی کی پیدائش 1881میں ہوئی تھی۔ انھوں نے پرانے طرز کی ابتدائی تعلیم فتح پور ہسوہ میں پائی۔ آپ نے قرآن شریف نیز اردو اور فارسی کی ابتدائی کتابیں میاں جی غلام علی اور میاں جی بلاقی موہانی سے پڑھیں۔ بعد میں موہان کے مڈل اسکول میں داخل ہوئے جس کے ہیڈ ماسٹر پنڈت لچھمن نرائن حسرت پر بہت مہربان تھے۔ حسرت نے 1894میں وہیں سے مڈل کا امتحان پاس کیا اور پورے صوبے میں اوّل آئے ۔1898میں گورنمنٹ ہائی اسکول فتح پور سے میٹرک کے امتحان میں بھی فرسٹ ڈویژن میں کامیابی حاصل کی اور وظیفہ یاب ہوئے۔ اس کے بعد آپ علی گڑھ تشریف لے گئے، جہاں سے آپ نے 1903میں گریجویشن کیا، اس میں ریاضی اور عربی آپ کے خاص مضامین تھے۔آپ کے قابل اساتذہ میں مولانا سید ظہور الاسلام، مولانا نور محمد، مولانا حبیب الدین، علامہ نیاز فتح پوری کے والد محمد امیر خاں، پروفیسر جے سی چکرورتی، صاحبزادہ آفتاب احمد خاں، ڈاکٹر ضیاء الدین اور خلیل احمد اسرائیلی کے نام قابل ذکر ہیں ۔
آپ کی شادی 1901میں محترمہ نشاط النساء سے ہوئی جن کا برصغیر کی سیاسی زندگی میں نمایاں مقام تھا۔ شاعری کی طرف رجحان ہوا تو سب سے پہلے سید فخرالحسن فطرت موہانی سے اصلاح لی۔بعدازاں آپ امیراللہ تسلیم لکھنوی کے شاگرد ہوئے۔ آپ کا سلسلہ سخن شاہ حاتم دہلوی سے ملتا ہے ۔پہلی غزل 1893میں کہی جو کلیات حسرت میں شامل ہے ۔حسرت کا قد چھوٹا، رنگ گندمی اور آنکھیں بڑی تھیں اور چہرے پر چیچک کے داغ نمایاں تھے۔ جو وضع انھوں نے اوّل دن اختیار کی اس پر آخر تک قائم رہے۔ عموماً شیروانی ، ترکی ٹوپی اور پا جامہ پہنتے تھے۔ آواز باریک تھی اور جوانی میں کافی مترنم تھی۔جوانی میں داڑھی مونڈوایا کرتے تھے مگر ایک بار ان کے مخلص دوست عبدالباری خاں وفا نے ان سے وعدہ لیا کہ داڑھی کبھی نہیں منڈوائیں گے۔ اس کے بعد انھوں نے جو داڑھی رکھی اسے کبھی نہیں منڈوایا۔رات کو سوتے وقت کوئی کپڑا سر پرباندھ کر سوتے تھے۔ صبح سویرے بیدار ہوتے ، جلد ناشتہ کرتے۔ کھانا اوّل وقت ہی کھالیتے تھے۔کھانے پینے کی کسی چیز کے پابندنہیں تھے جو مل گیا اسے بخوشی کھالیتے البتہ کھٹی چیزیں یہاں تک کہ دہی تک استعمال نہیں کرتے تھے۔ پان تو کھالیتے تھے لیکن تمباکو سگریٹ وغیرہ سے انھوں نے ہمیشہ پرہیز ہی کیا اور سرمہ لگانا کبھی نہیں چھوڑا۔ اخبار پابندی سے اور شروع سے آخر تک پڑھتے تھے۔ زیادہ باتیں کرنے کے عادی نہیں تھے۔ سیاسی امور پر جب مباحثہ ہوتا اور ان کو جوش آجاتا تو بات دیگر تھی۔
حسرت کی سیاسی زندگی کا آغاز علی گڑھ میں طالب علمی کے دور میں ہی ہوگیا تھا۔ ان کی حق گوئی اور بے باکی اور حریت پسندی کے جوہر بھی اسی دور میں کھل کر سامنے آئے۔ علی گڑھ سے فارغ ہوکر اگر وہ چاہتے تو کوئی اچھی ملازمت انھیں مل سکتی تھی۔ گریجویشن کرتے ہی گوالیار کے وکٹوریہ کالج میں انھیں ریاضی اور عربی کے پروفیسر کی ملازمت کا آفر بھی ملا، لیکن ان کی حریت پسندی اور قومی حمیت نے اس قسم کی ملازمت کو اپنے لیے مناسب نہیں سمجھا اور ملک وقوم کی خدمت کو انھوں نے اپنا نصب العین بنالیا۔بی اے سے فراغت کے بعد ہی انھوں نے علی گڑھ سے ’اردوئے معلی‘ کے نام سے ایک ماہنامے کا ڈکلیریشن داخل کردیا ، جس کا پہلا شمارہ جولائی 1903میں منظرعام پر آیا۔علی گڑھ کالج کی انجمن ’اردوئے معلی‘ کے سیکریٹری کی حیثیت سے انھیں قومی وادبی موضوعات پر اپنے خیالات کے اظہارپر قدرت حاصل ہوچکی تھی ۔حسرت نے اپنی صحافت کے ذریعہ اس دور کے مسلمانوں کا مذاق درست کرنے اور ان میں آزادی کا جذبہ پیدا کرنے کی نہایت کامیاب کوشش کی اور ’اردوئے معلی‘ کے ذریعہ عام ہندوستانیوں بالخصوص مسلمانوں میں سیاسی شعور بیدار کیا۔ یہ وہ دور تھا جب قدامت پسند مسلمانوں کے ساتھ علی گڑھ تحریک سے متاثر روشن خیال اور تعلیم یافتہ مسلم طبقہ کانگریس سے بدظن تھا۔حسرت نے مسلمانوں کے دلوں سے کانگریس سے بدظنی کے جذبات دور کیے۔کالج سے نکلتے ہی حسرت موہانی کانگریس میں شریک ہوگئے اور 1904سے1907تک اس کے ہر اجلاس میں شریک ہوئے۔وہ ’اردوئے معلی‘ کے ذریعہ مسلسل آزادی کی تحریک کو تقویت پہنچاتے رہے۔ انھوں نے دسمبر 1904 کو منعقدہ کانگریس کے بیسویں اجلاس میں بطور مندوب شرکت کی اور1905میں آل انڈیا انڈسٹریل کانفرنس منعقدہ بمبئی میں حصہ لینے کے بعد سودیشی کے مبلغ بن گئے۔اس مسئلہ پر دیگر کانگریسی لیڈروں کے برعکس ان کا رویہ زیادہ حقیقت پسندانہ تھا۔ان کا خیال تھا کہ صرف چرخے کی مدد سے پورے ہندوستان کی ضرورت پوری نہیں ہوسکتی، اس لیے ہندوستانی ملوں میں بنائے جانے والے کپڑوں کو بھی سودیشی سمجھنا چاہیے۔ بدیشی مال کے بائیکاٹ سے متعلق ان کا معرکۃ الآرا مضمون ’سودیشی اور بائیکاٹ‘ جنوری 1907 کے ’اردوئے معلی کے شمارے میں شامل ہے۔ اگست، ستمبر 1907 کے مشترکہ شمارے میں اپنے مضمون میں حسرت نے پہلی بار دفاعی مزاحمت کا لائحہ عمل پیش کیا۔اس معاملے میں حسرت کی دور اندیشی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ تقریباً بارہ برس بعد گاندھی جی نے ان ہی اصولوں پر کاربند رہ کر سول نافرمانی اور ترک موالات کی تحریک چلائی اور اپنی خودنوشت میں یہ اعتراف بھی کیا، یہ راہ انھیں حسرت موہانی نے دکھائی تھی ۔
حسرت موہانی کی انقلابی ذہنیت ، بلند ہمتی اور پرجوش طبیعت چاہتی تھی کہ ہندوستان کو جلد ازجلد برطانوی سامراج کی غلامی سے آزاد کرایا جائے۔یہی وجہ ہے کہ انھوں نے نرم دَل کی بجائے گرم دَل کے لیڈروں بال گنگا دھر تلک ، اربندو گھوش اور سبھاش چندر بوس جیسے لیڈروں کا ساتھ دیا۔ ’اردوئے معلی‘ میں حسرت کی جوشیلی تحریریں ہندوستانی مسلمانوں میں آزادی کا جذبہ پیدا کرتی تھیں جو حکومت کو سخت ناپسند تھا۔ حسرت کی سیاسی سرگرمیاں اور انقلابیوں کے ساتھ ان کے تعلقات برطانوی اقتدار کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹک رہے تھے۔ آخرکار حسرت کو ’اردوئے معلی‘ کے شمارے اپریل 1908 میں شائع شدہ ایک مضمون کی اشاعت کے جرم میں گرفتار کرلیا گیا اور22جون 1908 کو حسرت پر بغاوت کے الزام میں مجسٹریٹ علی گڑھ کی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا جہاں 4اگست 1908کو انھیں دوبرس کی قید بامشقت کی سزا اور پانچ سوروپے جرمانے کی سز ا سنائی گئی۔ ابھی حسرت قید بامشقت کی سزا بھگت ہی رہے تھے کہ ان کے والد کا انتقال ہوگیا۔ ’اردوئے معلی‘ حسرت کی عدم موجودگی میں بند ہوگیا تھا۔رہائی کے بعد انھوں نے اسے دوبارہ جاری کیا اور قید وبند کے دوران پیش آنے والے واقعات کی تفصیل اس رسالے میں ’مشاہدات زنداں ‘ کے عنوان سے قسط وار شائع کی جسے پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ بعد کو یہ اسی عنوان سے 1958 میں کتابی شکل میں بھی شائع ہوئی۔
حسرت موہانی کو جیل میں استعمال کے لیے وہی لباس پہننے کو ملا جو چور اور ڈاکوؤں کو دیا جاتا ہے۔یعنی ایک لنگوٹ ، ایک جانگھیا ، ایک کرتا اور ایک ٹوپی۔لیٹنے کے لیے انھیں جوٹ کا بوریا اور پھٹا پرانا کمبل دیا گیا۔پہننے کے کپڑے چونکہ سال میں ایک بار ملتے تھے۔اس لیے حسرت انھیں احتیاط کے ساتھ صرف صبح اور شام کے وقت پہنتے تھے اور دن بھر جیل کا سخت کام لنگوٹ پہن کرانجام دیتے تھے۔جیل میں پہنچتے ہی انھیں ہاتھ سے چکی پیسنے کے کام پر لگادیا گیا اور ایک جیل سے دوسری جیل میں تبدیل ہونے کے باوجود حسرت کو اس کام سے اسیری کی پوری مدت میں نجات نہیں مل سکی۔ انھیں ایک من غلہ روزانہ پیسنا پڑتا تھا۔ ایک جیل سے دوسری جیل میں منتقلی کے وقت حسرت کو بھوکا رکھا جاتا تھا۔نینی جیل کا جیلر انھیں دھمکیاں دیتا رہتا کہ ٹھیک برتاؤ نہ کرنے میں انھیں بیماری کے حیلے سے اسپتال بھیج کر زندہ جلا دیا جائے گا۔برطانوی راج کے ظلم کی انتہا یہ تھی کہ حسرت کو رمضان کے زمانے میں روزہ رکھنے کے دوران بھی چکی کی مشقت سے چھٹکا را نہیں مل سکا۔ اس مشقت کا تذکرہ انھوں نے اپنے ایک مشہور زمانہ مطلع میں یوں کیا ہے ؎
ہے مشق سخن جاری، چکی کی مشقت بھی
اک طرفہ تماشہ ہے حسرت کی طبیعت بھی
1857کی پہلی جنگ آزادی کے بعد حسرت موہانی پہلے مسلمان اور بال گنگا دھر تلک کے بعد دوسرے ہندوستانی رہنما تھے جنھیں سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے انگریزوں کی قید میں رہنا پڑا۔ حالانکہ ہندوستان کی مکمل آزادی کو کانگریس نے1929میں اپنے مطالبات میں شامل کیا۔لیکن حسرت موہانی یہ قرارداد آٹھ برس پہلے 1921 کے کانگریس سیشن میں پیش کرچکے تھے۔ ہندوستان کے پہلے صدر جمہوریہ ڈاکٹر راجندر پرشاد کا بیان ہے :
’’احمدآباد میں کانگریس کا اجلاس بڑی شان کے ساتھ ہوا۔ دیش بندھوداس گپتا صدر منتخب ہوئے ، لیکن چونکہ وہ جیل میں تھے اس لیے حکیم اجمل خاں نے صدارت کے فرائض انجام دیے۔۔ احمدآباد میں سب سے پہلے کانگریس کا اجلاس ہوا۔ ایک بڑے معرکے کی تجویز جس میں بڑی سرگرمی کے ساتھ بحث ہوئی، مولانا حسرت موہانی کی تھی، جس میں انھوں نے برٹش سامراج سے الگ ہوکر ہندوستان کے آزاد ہونے کو کانگریس کا مقصد بنائے جانے پر زور دیا تھا۔مہاتما جی نے اس تجویز کی شدت سے مخالفت کی تھی۔ ان کی مخالفت کی وجہ سے وہ تجویز نامنظور ہوگئی تھی۔‘‘
(’باپو کے قدموں میں :ڈاکٹر رجندر پرشاد، ص252)
حسرت موہانی اودھی تہذیب ومعاشرت میں پلے بڑھے انتہائی نستعلیق انسان تھے۔ ان کے والد اظہرحسین اگرچہ ایک جاگیر دار تھے لیکن حسرت کی طبیعت ’طرفہ تماشا‘ سے کم نہیں تھی۔ ان کا بچپن ننہیال میں گزرا۔کہا جاتا ہے کہ اودھی تہذیب کے پروردہ حسرت جب علی گڑھ میں وارد ہوئے تو کچھ اس طرح کہ ایک ہاتھ میں پاندان تھا، بدن پر نفیس انگرکھا اور پیروں میں قدیم طرز کے جوتے۔پہنچتے ہی انھیں علی گڑھ کے لڑکوں نے ’خالہ اماں ‘ کے خطاب سے نوازا۔یہاں تک کہ سجاد حیدر یلدرم نے ان پر ’مرزا پھویا‘ کے عنوان سے ایک نظم لکھ ڈالی، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اپنی خداداد صلاحیتوں کی وجہ سے وہ جلد ہی علی گڑھ کے ادبی حلقوں میں مقبول ہوگئے۔اپنے انقلابی خیالات کی وجہ سے علی گڑھ سے نکالے بھی گئے ، لیکن اپنے موقف پر اٹل رہے۔
حسرت موہانی ایک انتہائی سادہ طبیعت کے انسان تھے۔ پارلیمنٹ کا ممبر ہونے کے باوجود انھوں نے ہمیشہ ٹرین کے تھرڈ کلاس ڈبہ میں سفر کیا اور بحیثیت ممبر پارلیمنٹ ملنے والی سہولتوں سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔ وہ اکثر رکشہ پر بیٹھ کر پارلیمنٹ پہنچتے تھے۔وہ دہلی میں اخبار’وحدت‘ کے دفتریا ایک مسجد کے حجرے میں قیام کرتے۔ انھوں نے دستور ساز اسمبلی کے ممبر کی حیثیت سے75 روپے یومیہ لینے سے انکار کردیا تھااور اس پر احتجاج کیا تھا کہ ممبروں کے لیے اتنی بڑی رقم یومیہ بھتہ لیناہندوستان کے غریب اور فاقہ کش عوام کے ساتھ بڑا ظلم ہے۔ راولپنڈی کے ایک مشاعرے میں ایک بار انھیں پانچ سو روپے کا جو نذرانہ ملا تھا ، وہ انھوں نے ایک مقامی یتیم خانے کو عطیہ کر دیا تھا۔اسی طرح لکھنؤ ریڈیو اسٹیشن کے ایک پروگرام میں شرکت کے عوض انھیں جو نذرانہ پیش کیا گیا تھا، اسے انھوں نے یہ کہہ کر واپس کردیا کہ اتنی رقم لے کر وہ کیا کریں گے۔ ریڈیو والوں کے بے حد اصرار پر انھوں نے اس میں سے صرف تین آنے لینا منظور کیا۔اس واقعہ کی تفصیل شوکت تھانوی نے کچھ اس انداز میںبیان کی ہے ۔
’’میں آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ تھا اور لکھنو اسٹیشن پر تعینات تھا۔ اس زمانہ میں آل انڈیا ریڈیو لکھنو کے اسٹیشن ڈائرکٹر مسٹر سوم ناتھ چب تھے۔ معلوم نہیں یہ شوق خود چب صاحب کو ہوا یا آل انڈیا ریڈیو کے ہیڈ کوارٹرکی ہدایت تھی کہ جس طرح بھی ممکن ہو مولانا حسرت موہانی کو ریڈیو میں لاکر خود ان ہی سے ان کی ایک آدھ غزل پڑھواکر ریکارڈ کرلی جائے۔ چب صاحب نے یہ خدمت میرے سپرد کی کہ میں کانپور جاکر مولانا حسرت کو جس طرح بھی ہو لکھنؤ لے آؤں۔ کانپور پہنچ کر میں سیدھا اس سڑک پر پہنچا جو حسرت روڈ کہلاتی تھی۔ خیال تھا کہ اپنے نام کی اسی سڑک پر کہیں نہ کہیں مولانا رہتے ہوں گے۔مگر وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ سڑک تو بے شک ان کے نام کی ہے مگر اس سڑک پر اس نام کا کوئی شخص نہیں رہتا۔پتہ چلا کہ ایک اور محلے میں ایک مسجد کے پاس مولانا حسرت کا مکان ہے۔ پوچھتا ہوا اسی پتے پر پہنچا اوراسی مسجد سے ایک شخص کو پانی کا بھرا ہوا گھڑا لے کر نکلتے ہوئے دیکھا اور غور سے دیکھ کر پہچان لیا کہ مسجد کے نل سے پانی بھرنے والا یہی وہ شخص ہے جس کو سیاسی دنیا رئیس الاحرار کہتی ہے اور دنیائے شعر میں یہی شخص رئیس المتغزلین کہلاتا ہے۔مولانا حسرت موہانی نے گھڑا گھر میں پہنچانے کے بعد ایک ٹوٹی ہوئی چارپائی پر مجھے بھی بٹھایا اور خود بھی بیٹھ گئے۔مگر جب میں نے حاضری کا مقصد بیان کیا تو ریڈیو کا نام سن کر چونکے۔مگر اس سے پہلے کہ وہ انکار کرنے کے بعد اپنے انکار پر اڑ جائیں، ‘میں نے ریڈیو پر جاکر اپنی آواز محفوظ کرادینے کو ان کی اتنی بڑی ادبی خدمت ثابت کیا کہ میری خوش گفتاری نہ سہی مگر خوش نصیبی تھی کہ وہ آمادہ ہوگئے اورآمادہ بھی ایسے ہوئے کہ مجھ سے فرمایا کہ بہتر ہے ابھی چلتا ہوںآپ کے ساتھ‘ رات کی ٹرین سے واپس بھیج دیجیے گا مجھے۔ کچھ نہ پوچھیے میری خوشی کا عالم۔ معلوم ہوتا تھا کہ نہر شیریں لے جارہا ہوں باغ خسرو میں۔ کانپور کے اسٹیشن پر پہنچ کر میں تو تانگہ والے کو کرایہ دیتا رہ گیا۔مولانا نہ جانے کہاں غائب ہوگئے۔ اِدھر اُدھر ڈھونڈھا توآپ تھرڈ کلاس کی بکنگ کی کھڑکی سے واپس آتے نظر آئے۔ میں نے لپک کر کہا کہ یہ آپ نے کیا کیا ؟ ٹکٹ تو میں لینے جارہا تھا۔آپ نے نہایت بے پروائی سے فرمایا ’’ جی ہاں اپنا ٹکٹ آپ لے لیجیے میں تواپنا ٹکٹ لے آیا ہوں ‘‘ مجبوراً مجھے بھی تھرڈ کلاس کا ٹکٹ لینا پڑا۔میں مولانا کو لکھنو ریلوے اسٹیشن سے لے کر سیدھا سوم ناتھ چب صاحب کے بنگلے پر پہنچا اور چب صاحب سے باقاعدہ تعارف کرایا یعنی مولانا کو بتادیا کہ ان کا نام سوم ناتھ چب ہے ظاہر ہے کہ یہ نام کسی مسلمان کا نہیں ہوسکتا۔مگر یہ نام سننے کے باوجود مولانا نے چب صاحب سے کہا کہ مغرب کی نماز پڑھ لوں ، ذرا جانماز منگائیے۔ میں ہنسی کو ضبط کرکے رہ گیا کہ چب صاحب کے ہاں بھلا جانماز کا کیا کام ؟ اور دوڑ کر میں ایک دھلی ہوئی تولیہ اٹھا لایا جس پر مولانا نے نماز پڑھ لی۔اس کے بعدمولانا چب صاحب سے بولے ’’ شوکت صاحب کہتے ہیں کہ میرا اپنے کلام کو ریکارڈ کرانا اردو کی خدمت ہے۔آپ کے خیال میں میرے لیے ریڈیو پر جانا مناسب ہے یانہیں۔چب صاحب نے بھی اسی قسم کی باتیںکیں کہ ریڈیو سے آپ کی آواز یہ اعلان کرتی رہے گی کہ جس ملک کا یہ ریڈیو ہے ،اس ملک کی زبان وہی ہے جس میں آپ شعر کہتے ہیں۔ مولانا یہ سن کر بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے کہ ’’یہ تو بڑی اچھی بات ہے تو پھر کہاں ہے وہ ریڈیو ؟ ‘‘
اس عرصہ میں ریڈیو اسٹیشن پر یہ خبر پہنچ چکی تھی کہ مولانا حسرت تشریف لارہے ہیں۔عشرت رحمانی ان کی غزلیں جمع کرتے پھر رہے تھے کہ نہ جانے مولانا کون سی غزل ریکارڈ کرنا چاہیں۔ کوئی صاحب کنٹریکٹ فارم تیار کرتے پھر رہے تھے۔کوئی اسٹوڈیو ٹھیک کررہا تھا کہ چب صاحب میرے ہمراہ مولانا کو لے کر اسٹیشن پہنچ گئے۔کنٹریکٹ ان کے سامنے پیش کیا گیا تو بولے ’’ یہ کیا ہے ‘ خیر کچھ ہوگا ‘‘ اور دستخط کردئیے۔ عشرت صاحب نے ان کی غزلیں ان کے سامنے پیش کیں تو کہنے لگے ’’ جی نہیں۔ یہ واہیات ہیں اور یہ غزل تو شاید میری ہے ہی نہیں۔ میں ایک اور غزل پڑھتا ہوں‘‘ اور یہ کہہ کر شروع ہوگئے۔ بمشکل ان کو روکااور کہا ابھی نہیں جس وقت اسٹوڈیو کی لال بتی آئے آپ شروع کر دیجیے گا اور جب لال بتی آئی تو مولانا نے جو غزل طے کی تھی اس کے علاوہ کوئی اور ہی غزل شروع کردی۔
غزل ریکارڈ ہوگئی۔ اپنی آواز خود سن کرپہلے تو حیران رہے، پھر خود ہی خوش ہوگئے کہ ٹھیک تو ہے مگر اب سب سے سخت مرحلہ یہ درپیش تھا کہ مولاناکو چیک کیسے دیا جائے؟آخراسٹیشن ڈائرکٹر نے ہمت کی اور سوروپے کا چیک پیش کیا تومولانا سوکا ہندسہ پڑھ کر بھڑک اٹھے ’’سوروپے ‘‘ یہ کس بات کے ہیں ؟ میں اسی لئے تو آتا نہیں تھا کہ مجھ کواسی قسم کے خدشے تھے ‘‘لاکھ کہا گیا کہ یہ خصوصیت صرف آپ کے ساتھ نہیں ہے ریڈیو پر جو بھی آتا ہے اس کو معاوضہ ملتا ہے اور آپ کے لیے تو یہ معاوضہ بھی نہیں بلکہ نذرانہ ہے۔مگر وہ کسی طرح اس چیک کو چھونے کو تیار نہ تھے۔ بمشکل تمام اس بات پر راضی ہوئے کہ کانپور سے لکھنو تک تیرہ آنے لکھنو سے کانپور تک تیرہ آنے ایک روپیہ دس آنے تویہ ہوئے۔ باقی رہا یکہ کا کرایہ لہٰذا دوروپے دے دیجیے۔ اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ ہر کوشش جب ناکام ہوگئی تو مجبوراً کنٹریکٹ کو آنریری کرنا پڑا ۔چیک کینسل کیا گیا اور دوروپے کسی نے اپنی جیب سے دے دیے۔ میں ٹرین میں بٹھانے لکھنو اسٹیشن تک گیا، اور جب تک گاڑی روانہ نہیں ہوئی، مولانا یہی کہتے رہے کہ ’’خدا نے مجھ کو بچایا ، ورنہ آپ نے تو مجھ کو فروخت ہی کردیا تھا۔ ‘‘
ایسی قلندرانہ زندگی گزارنے والے اس عظیم انسان نے 13مئی 1951لکھنؤ میں وفات پائی اور وہیں کی خاک کا پیوند بھی ہوئے ؎
جہاں میں سوگ ہے، ماتم بپا ہے مرگ حسرت کا
وہ وضع پارسا اس کی، وہ شوق پاکباز اس کا
Masoom Moradabadi
Z-103, Taj Enclave
Geeta Colony
Delhi-110031
Mob.: 9810780563
Email: masoom.moradabadi@gmail.com