حیات اللہ انصاری کے افسانوں کا انفراد و اختصاص – مضمون نگار: نذرالاسلام
حیات اللہ انصاری (1912-1999) نے ایک ایسے عہد میں لکھنے کی شروعات کی،جب اردو افسانے کی روایت پر طویل عرصہ نہیں گزرا تھا۔ اس لیے اس عہد میں داستان
حیات اللہ انصاری (1912-1999) نے ایک ایسے عہد میں لکھنے کی شروعات کی،جب اردو افسانے کی روایت پر طویل عرصہ نہیں گزرا تھا۔ اس لیے اس عہد میں داستان
شاد عظیم آبادی کے بعد بہار میں اردو شاعری کے حوالے سے تین نام خصوصی اہمیت کے ساتھ لیے جاتے رہے ہیں، پرویز شاہدی (1919تا 1968)، جمیل مظہری(1904 تا
’رثا‘ سے لفظ مرثیہ بنا۔ اصطلاح میں مرثیہ اس نظم کو کہتے ہیں جس میں کسی کی موت پر رنج و الم کا اظہار ہو۔ اس کی وضاحت میں
جموں و کشمیر کے دیہی علاقوں کی معاشی و سماجی ترقی میں ماحولیاتی سیاحت (ایکوٹوریزم) کا کردار سیاحت دنیا کے بڑے معاشی شعبوں میں سے ایک اہم شعبہ ہے۔ اس
نذیر بنارسی کی شاعری کا مطالعہ کرنے سے ایک بات پورے طور پر واضح ہو جاتی ہے کہ ان کے شعری تخیل کا مرکز و محور عام انسان کی
اکیسویں صدی کے اوائل میں شائع ہونے والے ناول ’کئی چاندتھے سرآسماں‘ نے گزشتہ دوصدیوں یعنی اٹھارہویں اورانیسویں صدی کی ہندوستانی تہذیب وثقافت اورفکری نہج کواپنے پیمانے میں سمیٹ
کرشن چندر کی پیدائش بھرت پور راجستھان میں ہوئی مگر ان کا بچپن جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ میں گزرا۔ وہیں انھوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔وہ بچپن
شمس الرحمن فاروقی ناول نگار سے زیادہ نقاد کی حیثیت سے معروف ہیں لیکن ان کی ناول نگاری کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ان کا ناول
ناول ادب کی ایک مقبول عام صنف ہے۔ اردو ادب میں اس کی تاریخ تقریباََ ڈیڑھ سوسال سے ذیادہ عرصے کو محیط ہے اورمغرب میں ناول کی تاریخ کم
ممتاز مؤرخ اور معروف آرکایولوجسٹ پروفیسر سید اکبرعلی ترمذی 8؍جون 1924 کو ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ 1948 میں بمبئی یونیورسٹی سے فارسی، اردو اور انگریزی کے ساتھ