جدیدیت: آغاز، عروج و زوال- مضمون نگار: محمد توقیر عالم
جدیدیت ادب کی ایک مسلمہ اصطلاح ہے۔ لیکن اس کے مضمرات، نقطۂ آغاز، صحیح مفہوم، سیاق و سباق اور نتائج کے متعلق اختلافات ہیں۔جدیدیت کے سلسلے میں سرسری گفتگو
جدیدیت ادب کی ایک مسلمہ اصطلاح ہے۔ لیکن اس کے مضمرات، نقطۂ آغاز، صحیح مفہوم، سیاق و سباق اور نتائج کے متعلق اختلافات ہیں۔جدیدیت کے سلسلے میں سرسری گفتگو
سید شاہ سراج حسینی اورنگ آبادی کی تاریخ پیدائش 11مارچ 1712( 13 صفر 1124ھ) ہے۔بعض کے نزدیک ان کا سنہ پیدائش 1715بھی ہے۔ ان کی شاعری کا کل
ہندستان کے تہذیبی افق پر حبیب تنویر(1 ستمبر 1923 – 8 جون 2009) ایک ایسے روشن ستارے کی حیثیت رکھتے ہیں جس کی تابانی کا تمام تر دارومدار اس
جغرافیائی حالات، سماجی حالات اور سیاسی حالات میں جو تبدیلیاں نمایاں ہوتی ہیں۔ ان کا سیدھا اثر ہماری زندگی پر رونما ہوتا ہے اور اسی کے تحت ہماری زندگی
’’یقین نہیں آتا کہ کبیر اجمل ہمارے درمیان نہیں رہے‘‘ 29جون کو غالباً دوپہر 12بجے فیس بُک پر محترم یعقوب یاور کی یہ پوسٹ دیکھ کر دِل دھک سے
ترجمہ ایک ایسا فن اور ناگزیر امر ہے جس کے بغیر بنی نوع انسان کی مادی اور ثقافتی ترقی مکمل طور پراحاطۂ تصور میں نہیں لائی جا سکتی ہے۔ انسانی
خواتین شعرا نے اردو ادب کے ارتقا میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ ترقی پسند تحریک میں شاعرات ا پنی نظمیہ شاعری میں نسوانی آزادی کی بات کرتی ہیں۔
پروفیسرغلام مجتبیٰ انصاری کا تعلق ضلع ویشالی کی ایک مردم خیز بستی عطاء اللہ پور سے ہے۔وہ 18 مئی 1938 کو پیدا ہوئے۔ والد کا نام محمد نصیر الدین
اردو کی ادبی صحافت میں ’شب خون‘ کی حیثیت ایک رجحان ساز رسالے کی ہے۔ ’شب خون ‘کا پہلا شمارہ بابت ماہ جون، 18 مئی1966 کو منظر عام پر
مغربی ممالک میں ڈرامہ وہاں کی ادبی اور تہذیبی زندگی کا ایک اہم جز سمجھا جاتا ہے بلکہ یوروپ کے تمام ممالک میں اس فن کو ادبی و تہذیبی