اعظم اثر کی غزل گوئی: مقبول احمد مقبول
ریاستِ کرناٹک کے شاعروںمیں اعظم اثر کانام ہمیشہ نمایاں رہا ہے۔وہ چھ دہائیوں سے بھی زائد مدت تک گلستانِ شعرو سخن کی آبیاری کرتے رہے۔اعظم اثر کا اصل نام
ریاستِ کرناٹک کے شاعروںمیں اعظم اثر کانام ہمیشہ نمایاں رہا ہے۔وہ چھ دہائیوں سے بھی زائد مدت تک گلستانِ شعرو سخن کی آبیاری کرتے رہے۔اعظم اثر کا اصل نام
منموہن تلخ جدید اردو غزل کے ایک اہم شاعر ہیں۔ ان کا شمار دہلی کے نمائمدہ شاعروں میں ہوتا ہے۔ کمارپاشی،اور منچندہ بانی جیسے متعدد شعرا نے ان سے مشورۂ
حق بات تو یہی ہے کہ مضطر نے آج ت اک شعر بھی خلافِ حقائق نہیں کہا راجستھان میں بیسویں صدی کی چھٹی دہائی میں شعری افق پر اُبھرنے
محی الدین قادری زور(25 دسمبر 1905- ستمبر 1962) ایک ایسے ادیب ہیں جنھوں نے مختلف اصناف ادب پر طبع آزمائی کی ہے۔انھوں نے تحقیق جیسے خشک موضوع پر اہم
اردو دنیا کی ایسی زبان ہے،جس کی سادگی، شیرینی اور لطافت نے نہ صرف عالمی ادب پر اپنے ناقابل فنا نقوش چھوڑے،بلکہ اس ہر دل عزیز زبان نے ہر
دور جدید مسابقت کا دور ہے۔ تعلیم کا مقصد طلبا کو صرف نصابی کتابیں پڑھانا نہیں بلکہ ان میں جدید سوچ، تخلیقی ماحول اور خود کفالت کو فروغ دینا ہے۔اسی
انسائیکلو پیڈیا برٹا نِکا کے مطابق ’’سوانح نگاری کسی انسانی روح کی مہمات حیات کی ہو بہو تصویر ہے۔‘‘ اردو زبان میں اس صنف ادب کا چلن انگریزی ادب
اردو ادب کی دیگر اصناف کی طرح،اردو نظم میں بھی خواتین نے اپنی تخلیقی استعداد کی بنیاد پر قابل قدر اضافے کیے اور یہ اضافے روایتی یا تقلیدی قسم
زندگی ایک نامیاتی اور سیال حقیقت ہے۔ یہ ہر لمحہ تغیر پذیر ہے۔ اس میں ٹھہراؤ نام کو نہیں۔ کائنات سے ہر لمحہ مختلف النوع لہریں اٹھ اٹھ کر
پڑھنے کے عمل کو قرأت کہتے ہیں۔ قرأت کے ذریعے ہی متن کی اہمیت طے کی جاتی ہے کیونکہ متن اپنے آپ میں کچھ بھی نہیں ہوتا۔ وولف ایزر نے