قومی اردو کونسل کے زیر اہتمام ‘اردو فکشن میں تقسیمِ ہند کا بیانیہ’ کے عنوان سے آن لائن مذاکرہ
سماجی منافرت کو دور کرنے میں ہمیشہ تخلیق کاروں نے اہم کردار ادا کیا ہے:پروفیسر شیخ عقیل احمد نئی دہلی:قومی اردو کونسل کے زیر اہتمام ‘اردو فکشن میں تقسیم
سماجی منافرت کو دور کرنے میں ہمیشہ تخلیق کاروں نے اہم کردار ادا کیا ہے:پروفیسر شیخ عقیل احمد نئی دہلی:قومی اردو کونسل کے زیر اہتمام ‘اردو فکشن میں تقسیم
اردو تنقید کی روایت ہمیں بتاتی ہے کہ ادب کے لیے کوئی موضوع نہ پرانا ہوتاہے اور نہ مقامی۔ہر موضوع اپنے برتاؤکے اعتبار سے نیا اور ہر مسئلہ اپنی اہمیت
سارن کمیشنری ارضِ بہار کا وہ خطہ ہے جہاں سیاست،ادب،ثقافت اور تہذیب و تمدن کی کرنیں سب سے پہلے روشن ہوئیں۔جہاں سیاست میں مولانا مظہرالحق، ڈاکٹر راجندر پرساد، بابو
ہندوستان دنیا کا ایک ایسا ملک ہے جہاں مختلف دھرم و مذہب کے ماننے والے، مختلف زبانیں بولنے والے اورمختلف رنگ و روپ رکھنے والے لوگ رہتے ہیں۔ ہمارا ملک
ادب سماج کا آئینہ ہے اور انسانی سماج مختلف سماجی، سیاسی اور معاشی تبدیلیوں اور انقلابات کی آماجگاہ ہے ہر دور میں سماج کی عکاسی کا بہترین نمونہ اس وقت
رضوان خان: بدنام نظر صاحب آپ اپنے اور والدین کے بارے میں کچھ بتائیے۔ بدنام نظر: میرا اصلی نام عالمگیر نظر ہے۔ سید منظر حسن
قدرت نے اپنے دست سخاوت سے وادی کشمیر کو جس خوبصورتی اور رنگینی سے سجایا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ یہ بے نظیر وادی جہاں اپنی دلکش رنگینیوں عجیب
اردومیں کالم نگاری کا آغاز بیسویں صدی کے وسط میں ہوا۔ د ستیاب تاریخ کے مطابق اس کی ابتداسنجیدہ کالم کی شکل میں ہوئی مگراسے شناخت طنزیہ اورمزاحیہ کالم کے
دیویندراِسر ایک باکمال صحافی، ایک بڑے مفکر، اعلیٰ نقاداورممتاز فکشن نگار کی حیثیت سے نامور دانشمندوں کی فہرست میں شمار کیے جاتے ہیں۔ ادب کی دنیا میں انھیں بڑی عزت
19ویں صدی کا ابتدائی زمانہ برطانیہ میں انگریزی شاعری کی ترقی اور فروغ کے لحاظ سے بڑااہم مانا جاتا ہے۔اس دور کو انگریزی شاعری کے رومانی عہد سے بھی منسوب