یہ کیسے ممکن ہے کہ رسم الخط کے بغیر اردو زندہ رہ جائے گی: حبیب کیفی
سوال زبانوں کی موت کی وجوہات کیا ہیں ؟ جوابمیرا یہ خیال ہے کہ بات کی شروعات منفی پہلو سے نہیں ہونی چاہیے۔ تاہم سوال جب سامنے ہے تو اس
سوال زبانوں کی موت کی وجوہات کیا ہیں ؟ جوابمیرا یہ خیال ہے کہ بات کی شروعات منفی پہلو سے نہیں ہونی چاہیے۔ تاہم سوال جب سامنے ہے تو اس
تقابل انسان کے وجود میں پنہاںہے۔ انسان ہر شے کو تقابل کی نظر سے دیکھنے اور موازنہ کرنے کی جبلت رکھتا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ انسان ہمیشہ سے خوب
’جدیدیت کی فلسفیانہ اساس‘ پروفیسر شمیم حنفی کی وہ شاہکار کتاب ہے جس سے انھیں اردو کے ادبی منظرنامے پر وقار و اعتبار حاصل ہوا۔یہ کتاب دراصل ان کے ڈی
اردو ادب میں اسلوب احمد انصاری کی حیثیت ایک مستند ناقد کی ہے۔ وہ شاعری کے ہی نہیں فکشن کے بھی معتبرناقد ہیں نیز ان کی ادبی صحافت کسی
ستیہ جیت رے ایک فلم ساز ہی نہیں تھے بلکہ ایک اعلیٰ پائے کے مصور، خاکہ نگار(اسکیچر)، قلم کار، ڈیزائنر اور موسیقار تھے جن کی شخصیت اور فن دونوں پر
ماضی قریب میں اردو تنقید کو جن لوگوں نے اعتبار بخشااوراس کے سبب اپنی شناخت مستحکم کی، ان میں شمس الرحمن فاروقی اور شمیم حنفی کے نام بہت نمایاں
جناب منظر اعجاز سے میری دید شنید کا وقفہ کوئی تین دہائیوں پر مشتمل ہے۔ یہ تب کی بات ہے جب میں سائنس کا طالب علم تھا اور منظر
شفیق جونپوری 1902کو جونپور میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد انیق جونپوری ممتاز صوفی عالم دین آسی جونپوری کے پاس گئے۔جنھوں نے شفیق کا نام ’ولی الدین‘ رکھا۔ شفیق جونپوری
اردو ادب میں انشاء اللہ خاں انشا (1752-1817) کا شمارایک تجرباتی تخلیق کارکے طور پر ہوتا ہے۔ انھوں نے جتنے بھی ادبی کارنامے انجام دیے ہیں ان میں سے
شعر گوئی نئے انداز کی تجدید خیال دیکھنا چاہے تو ناطق مرا دیوان اٹھا مذکورہ بالا شعر کے خالق ناطق گلاؤٹھی نے ہمیشہ فکری تجدید ،نئی جہت کے فروغ