ماہیا، ثلاثی اور تروینی ایک جائزہ: شیخ احراراحمد
اردو کی تین مصرعی نظموں میں سب سے زیادہ مقبولیت ماہیا کو ملی، ثلاثی بھی زیرِ بحث رہی بعد میں تروینی معروف تو ہوئی لیکن اول الذکر دونوں صنفوں
اردو کی تین مصرعی نظموں میں سب سے زیادہ مقبولیت ماہیا کو ملی، ثلاثی بھی زیرِ بحث رہی بعد میں تروینی معروف تو ہوئی لیکن اول الذکر دونوں صنفوں
اس کائنات میں سب سے متحرک اور فعال کوئی چیز ہے تو وہ تخلیقی عمل ہے۔قدرت نے اس کائنات کا نظام ہی تخلیقی عمل پر رکھا ہے۔ اگر ہم پوری
ممتاز قلمکارمدن لال منچندہ جو پچھلی 7 دہائیوں سے اردو، انگریزی اور ہندی تینوں زبانوں میں تصنیف و تالیف کا قابل ستائش کام کرتے آرہے تھے، اچانک ایک مئی 2021کو
کسی اہم شاعر، ادیب، سماجی کارکن، مصلح قوم، سیاست داں اور صاحب حیثیت شخصیت کا انتقال ہوجائے اور جس سے شاعر کے خصوصی وذاتی تعلقات ہموار ہوں، اس کی موت
تقریباً دوسو سال پہلے دہلی کالج میں اردو تعلیم کا ذریعہ تھی اور تمام عصری سائنسی مضامین اردو میں پڑھائے جاتے تھے۔جیسا کہ مولوی عبدالحق نے اپنی کتاب مرحوم دہلی
اتر پردیش کے مشرق میں راپتی ندی کے کنارے پر واقع ضلع گورکھپور اپنے وسیع دامن میں ادبی تاریخ کے انمول جواہرات چھپائے کہکشاں کی صورت ادبی افق پر
آشفتہ چنگیزی اپنی مختلف آواز اور لب و لہجے کے ساتھ جانے جاتے ہیں۔ آشفتہ چنگیزی نے غزل اور نظم دونوں صنفِ سخن میں طبع آزمائی کی۔ لیکن یہاں آشفتہ
ندوۃ المصنّفین کی تاریخ رسالہ برہان کے ذکرکے بغیر ادھوری ہوگی۔جس طرح برہان کا ذکر مولانا سعید احمد اکبر آبادی کے بغیر ناقص ہے۔ ندوۃ المصنفین محض ایک اشاعتی ادارہ
صبح آٹھ بجے کا وقت ہے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کی صبحِ نشاط کا سحر انگیز سماں ہے، پوری فضا سرشار ہے، طلبہ کچھ تنہا، کچھ چھوٹی ٹکڑیوں اور
ڈاکٹر زور نے حیدرآباد میں علمی و ادبی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ایک ادبی ادارے کی ضرورت محسوس کی اور 1931 میں ادارہ ادبیات اردو کی بنیاد پنچ گٹہ