اردو شاعری میں تصوف کی رنگارنگی: نظیر احمد گنائی
یہ مضمون تین ذیلی عنوانات میں منقسم ہوا ہے: )الف) صوفی اور تصوف کی تعریف (ب) تصوف کے درجے (ج)اردو شاعری میں تصوف کی رنگارنگی )الف)
یہ مضمون تین ذیلی عنوانات میں منقسم ہوا ہے: )الف) صوفی اور تصوف کی تعریف (ب) تصوف کے درجے (ج)اردو شاعری میں تصوف کی رنگارنگی )الف)
رومانیت کا لفظ رومان سے نکلا ہے۔رومان کو فرانسیسی زبان میں رومانس اور لاطینی زبان میں رومانکا کہتے ہیں۔عربی و فارسی زبان میں اس کے الگ الگ مفاہیم نظر آتے
پریم چنداردو فکشن کی دنیا میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔اصل نام دھنپت رائے،قلمی نام نواب رائے پھر بمبوق اور آخر میں پریم چند کے نام سے ادب
دورِ قدیم سے ہی سر زمینِ ہند ایسے صوفی سنتوں کا مسکن رہی ہے جو انسانی تعصبات و تفریقات کو مٹانے کی غرض سے وقتاً فوقتاً دُنیا میں آتے رہے۔
تیرہویں صدی کی ابتدا میں مسلمانوں کی سلطنت قائم ہونے کے بعد شمالی ہند میں بھکتی کے لیے اور بھی سازگار ماحول پیدا ہوا۔ رامانج کے سلسلے کے مشہور
(1) ایفل ٹاور کس شہر کی نشاندہی کرتا ہے؟ (2) سکھر بیراج (سندھ) دنیا کے سات جدید ترین عجائبات میں سے ہے۔ صحیح یا غلط (3) کس عمارت کو دنیا
میں فن ہوں میری انگلیاں ہیں زندگی کی نبض پر قدم مرا زمین پر تو کائنات پر نظر وامق جونپوری کا اصل نام سید احمد مجتبیٰ تھا۔ 23 اکتوبر 1909
مصحفی کی تعلیم وتربیت اور عنفوان شباب تک کا زمانہ اپنے آبائی وطن امروہے میں ہی گزرا۔ پھر رہین ستم ہائے روزگار ہوکر دہلی، لکھنؤ، ٹانڈہ اور دیگر مقامات کی
اردو رسائل میں عموماً ان ادبی مباحث اور مسائل پر زیادہ ارتکاز ہوتا ہے جن سے عوام یا معاشرے کا زیادہ گہرا رشتہ نہیں ہوتا۔ اردو زبان کے تعلق سے
داستان چاہے کوئی بھی ہو/ حروف اور الفاظ نہایت آسانی سے صدیوں کی کہانی بیان کرتے چلے جاتے ہیں جن کے نشیب و فراز میں انسان گردش کرتا ہوا زبان