ادھو مہاجن بسمل کا شاعرانہ اختصاص،مضمون نگار:شیخ عمران

August 12, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،اگست 2026:

اردوزبان کے فروغ میں جہاں مسلم شعرا نے اہم کردار ادا کیا وہیں غیر مسلم شعرا نے بھی اردو کے فروغ اور اس کی آبیاری میں بڑھ چڑ ھ کر حصہ لیا ہے۔ غیر مسلم شعرا نے بھی اردو کی مختلف اصناف شاعری میں طبع آزمائی کی۔ ان شعرا میں ادھو مہاجن بسمل کا نام اہمیت کا حامل ہے۔ بسمل ایک اچھے شاعر ہونے کے ساتھ ایک نیک آدمی تھے ۔اردو میں ایسے شعرا کی تعداد کم ہے جنھوں نے اردو کے ساتھ دیگر زبانوں کویکساں طور پر متاثر کیا ہے۔ بسمل کواردو کے علاوہ ہندی اور مراٹھی زبانوں پر کامل دسترس حاصل تھی۔ مراٹھی ان کی مادری زبان تھی لیکن کبھی انھوں نے اس کا احساس نہیں دلایا۔ اردو سے ان کی محبت اس بات کا بین ثبوت ہے کہ وہ اردو کے سچے عاشق تھے۔ بسمل ہماری گنگا جمنی تہذیب اور یکجہتی کی مثال کہے جاسکتے ہیں۔ 25جنوری 2026کو وہ اس دنیا سے رخصت ہوئے جو بلاشبہ اردو کے حلقے کے لیے ایک خسارہ ہے۔
زمانہ ہمیشہ ایک رفتار پر برقرار نہیں رہتا۔ لوگ آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں لیکن وہی لوگ گہرے نقوش چھوڑ جاتے ہیں جو خلوص و ایثار ،عزم و عمل اور جدوجہد کا پیکر ہوتے ہیں۔ ایسے ہی اشخاص کے کارناموں سے لوگ تاریکی میں رہبری حاصل کرتے ہیں۔ بسمل ایک روشن دماغ،وسیع النظر،فراخ دل،کسی بھی قسم کے بھید بھائو سے دور ،علاقائی اور مذہبی حد بندیوں سے بے نیاز اردوکے سچے شیدائی تھے۔ان کی زندگی کابیشتر حصہ ایثار و قربانی ،خلوص و محبت اور بے لوث خدمت خلق میں صرف ہوا۔ انھوں نے اپنے اعلی اخلاق اور خلوص و محبت سے سب کو اپنا گرویدہ بنالیا تھا۔ بسمل نے یقین محکم،عمل پیہم،جہد مسلسل اور عزم مصمم کی روشوں کو اپنا کر علم و ادب کے میدان میں عظمت و سربلندی حاصل کی۔
بسمل کی پیدائش 17فروری 1950کو جلگائوں کے ایک چھوٹے سے گائوں میں ہوئی۔گھر کا ماحول تعلیم سے رچا بسا تھا۔ حسب روایت تعلیم حاصل کی۔ عالم شباب سے ہی وہ شعر و سخن کا ذوق رکھتے تھے ۔بسمل کواردو زبان سے بے حد محبت تھی ۔رفتہ رفتہ ان کے اندر اردو ادب سے دلچسپی پیدا ہوئی اور اس دلچسپی نے انھیں اردو کا ایک نامور شاعر بنادیا۔بسمل کے متعلق ایک بات اہم ہے، جس کا ذکر کرناضروری ہے، مراٹھی ان کی مادری زبان رہی ہے۔ہندی ان کے پیشہ کی زبان اور اردو سے ان کی محبت بے پناہ ہے۔انھوں نے کل 18کتابیں سپرد قلم کیں۔اردو تصانیف میں ’غزل کے ساتھ‘، ’حرف غزل‘، ’محمد ؐ سب کے لیے‘، ’لفظوں کے حصار میں‘، ’مناظر عاشق ہرگانوی سے مصاحبہ‘، ’میری خامہ فرسائیاں‘، ’دشت امکاں سے پرے‘وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ جو بسمل کے ادب نواز ہونے کی دلیل ہے۔
اردو کی کم و بیش سبھی اصناف میں انھوں نے طبع آزمائی کی۔ جن میں نعت، منقبت، نظم، گیت، غزل خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔ غزل ان کی محبوب صنف رہی ہے ۔جس میں انھوں نے کئی اہم تجربے کیے ہیں۔ غزل ہماری تہذیبی اورجذباتی زندگی کی شریک بھی رہی ہے اور ترجمان بھی۔ شعرا نے گل و بلبل ،ساغر و مینا کے رمزیہ اشاروں سے زندگی کے اتار چڑھائو کو اس طرح پیش کیا ہے کہ غزل زندگی کی تمام تر کیفیتوں سے مملو ہوگئی ہے۔ بسمل کے یہاں ایسی ہی کیفیات پائی جاتی ہیں۔ زیادہ تر شعرا نے جذبات و احساسات کی ترجمانی کے لیے غزل کا سہارا لیا۔ اردو کے ایک اچھے غزل گو کی حیثیت سے بسمل پہچانے جاتے تھے۔ ان کی غزلیں فنی تقاضوں پر پوری اترتی ہیں۔ اشعار ملاحظہ ہوں ؎
غزل کہوں تو میں اپنی غزل کے ساتھ رہوں
سخن کی راہ میں پیہم عمل کے ساتھ رہوں
بکھیرتا رہوں خوشبو ہر ایک محفل میں
گلاب چمپا چنبیلی کنول کے ساتھ رہوں
بنوں سہارا میں دنیا میں بے سہاروں کا
ترے کرم سے خدایا میں بل کے ساتھ رہوں
لڑائی کرنے سے بہتر ہے صلح کرتا رہوں
اسی امید سے میں آج کل کے ساتھ رہوں
ان اشعار سے اندازہ ہوتا ہے کہ نہایت روانی کے ساتھ انھوں نے غزلیں کہی ہیں۔جس سے بسمل کی قادرالکلامی کا احساس ہوتا ہے۔ حْسن و عشق کے راز و نیاز کا بیان بسمل کی شاعری کا امتیاز ہے، جسے بڑی خوبی سے انھوں نے ادا کیاہے۔ اچھے شاعر کی یہ پہچان ہے کہ اس میں خیال کی بلندی ،مشاہدے کی گہرائی، تجربے کی کثرت اور اظہار کی صداقت فن کی سرپرستی میں پروان چڑھتے ہیں۔ ادھو مہاجن بسمل میں یہ خوبیاں کوٹ کوٹ کر بھری تھیں۔ انھوں نے اپنی شاعری میں موضوعات اور تراکیب کو اپنے مخصوص انداز میں برتا اور اس میں نئی معنویت پیدا کی۔ اشعار پیش ہیں ؎
تصور میں ہمارے بھی کسی کا حسن پلتا ہے
تغزل کا چراغ اس واسطے آنکھوں میں جلتاہے
ہمارے دل میں اْٹھتی ہیں ہوائیں درد کی جس دم
ہمارے دل میں تخلیقات کا طوفاں مچلتاہے
زمانہ ہے نہ جانے کب یہ رخ اپنا بدل ڈالے
ہوا پر اختیار آخر کہاں انساں کا چلتا ہے
شاعر اپنے عہد کا نباض ہوتا ہے۔ اس کا دائرہ فکر وسیع ہوتاہے ۔بسمل نے اپنی غزلوں میں اپنے دور کے حادثات و واقعات، زندگی کے تجربات، مشاہدات ،محسوسات کو شعری پیکر میں ڈھال کر پیش کیا ہے۔ان کی شاعری کی ایک خاص خوبی یہ ہے کہ انھوں نے بندھے ٹکے انداز میں شاعری نہیں کی ، نہ تو سماج سے انحراف کیااور نہ ہی روایت سے۔ بلکہ سماج اور اس کے مسائل کو شعر کے قالب میں ڈھال کر جدید لب و لہجے میں پیش کیا ہے۔ان کی شاعری میں انسانی زندگی کے اعلی اقدار کے خیالات کا اظہار جس انداز میں ہوا ہے وہ لائق توجہ ہے جیسے ؎
مری غزلوں سے مرے اشعار سے
ہورہے ہیں لوگ اب بیدار سے
حسن سے اخلاق سے اور پیار سے
خود کو اونچا کیجیے کردار سے
آیئے جام صلح کا لطف لیں
فائدہ کیا آپسی تکرار سے
بسمل نہ صرف غزل کے فن سے واقف تھے بلکہ غزل کے بیرون و اندرون سے کما حقہ ہم آہنگی بھی رکھتے تھے۔انھوں نے غزلیں کہیں اور بھر پور کہیں۔ غزل کے مختلف پہلوئوں کو بحسن خوبی برتااور اپنے پیغام کو سامعین وقارئین تک موثر کن انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی۔ بسمل کی ادب دوستی سے متاثر ہوکر ڈاکٹر عظیم راہی لکھتے ہیں:
’’ وہ اردو زبان و ادب کے عشق میں ایسے فریفتہ ہوگئے ہیں کہ اب اپنا خاندانی شجرہ بھی بھول گئے ہیں اور اپنا ادبی شجرہ بنالیا ہے۔جو ابراہیم ذوق سے داغ دہلوی اور کالی داس گپتا رضا سے ہوکر ان کے استاد محترم نذیر فتح پوری تک پہنچتا ہے۔‘‘
شاعری میں استاد اور شاگرد کا رشتہ بڑا پرانا ہے۔ تخلیقی فن کار کو شاعری کے فن ،تکنیک سے واقفیت کے لیے استاد کی ضرورت ہوتی ہے۔ تبھی وہ اپنی فطری صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر شاہکار تخلیقات سپرد قلم کرتا ہے۔ شعرا کی صلاحتیں ان کے کلام کی خوبی یا عیب کا باعث ہوتی ہیں۔استاد کا کام ان کی فطری صلاحیتوں کو جلا دینا ہوتا ہے۔انھوں نے معروف اردو شاعر و محقق نذیر فتح پوری کی شاگردی قبول کی۔ نذیر فتح پوری نے انھیں شاعری کے رموز و اوقاف سکھانے کے ساتھ ساتھ شاعری کے بہت سے اہم نکات بھی بتائے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بسمل ایک اچھے شاعر کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ۔نذیر فتح پوری بسمل کے متعلق لکھتے ہیں:
’’بسمل صاحب اپنے آپ کو میرا شاگرد تسلیم کرتے ہیں اس طرح کے دوسرے کچھ لوگ پہلے بھی آئے اور مقصد حاصل ہوتے ہی چشم زدن میں ایسے روپوش ہوئے کہ تلاش کے لیے کوئی نشان نہیں چھوڑا۔ بسمل صاحب 25سال پہلے میرے پاس آئے اور پھر دل و جان سے میرے ہی ہوکر رہ گئے۔بہکائے گئے، ورغلائے گئے۔ دوسرے راستے ،شجر اور سائے کی نشان دہی کرکے اس طرف کوچ کرنے کا اشارہ کیا۔دلیلیں پیش کیں۔تاویلیں بتائیں۔اسباب سماعت میں اتارے گئے۔ لیکن یہ بندہ اپنے اس قول پر قائم رہا۔ ابتدا میں ہاتھ جوڑ کر وعدہ کیا تھا۔’’استاد میں آپ سے کبھی نہیں بدلوں گا۔‘‘ اور اپنے وعدہ کو سچ کردکھایا۔آج ہم دونوں ہی زندگی میں ناگہانی راستوں سے گزر رہے ہیں۔ عمرمیں وہ مجھ سے دو تین برس ہی پیچھے چل رہے ہیں لیکن ان کا قلم ،مجھ سے بھی آگے نکلنے کے لیے حدیں پھلانگنے کی کوشش کررہا ہے۔قلم اپنی ذات میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا،بس جس ہاتھ میں جتنی قوت اور جس ذہن میں جتنی طراوت ہوتی ہے اس کے سبب قلم رفتار پکڑتا چلا جاتا ہے۔ اردو، ہندی اور مراٹھی میں بسمل ؔصاحب کی تقریباً 18کتابیں آچکی ہیں۔پونا کے ادبی ماحول کے پیش نظر یہ تعدادقابل ذکر ہی نہیں، قابل فخر بھی ہے۔‘‘
(ادھو مہاجن بسمل کے نام پچاس خطوط،نذیر فتح پوری، 2025 دہلی، ص 8-9)
ادھو مہاجن بسمل کی شاعری میں احساس کی گہرائی اور فکر کی بلندی وہ نمایاں عناصر ہیں جو قارئین کو متوجہ کرتے ہیں۔اردو کے غیر مسلم شعرا میں بسمل اپنی سوچ و فکر اور شاعرانہ فہم و شعور کے اعتبار سے اپنا ایک الگ مقام رکھتے تھے۔اشعار پیش ہیں ؎
جب کوئی درد مرے دل سے جدا ہوتاہے
جانے کیوں سارے زمانے کو گلہ ہوتاہے
کر ستم شوق سے اف تک نہ کروں گا میں بھی
کیا کسی پھول کو شبنم سے گلہ ہوتا ہے
مجھ کو محفل میں بلاتا ہے ہمیشہ لیکن
میں پہنچتا ہوں تو جانے کیوں خفا ہوتا ہے
یہ ستم بھی مجھے بسمل ہے گوارہ اس کا
کردے رْسوا مجھے اس کا جو بھلا ہوتا ہے
تاثیر ،فصاحت ،سلاست ،نادر تشبیہات بسمل کی شاعری میں جگہ جگہ نظر آتے ہیں۔زبان کی شستگی اور برجستگی بھی بہت خوب ہے۔فطرت سے انھوںنے شاعری کے لیے موزوں طبیعت پائی تھی ۔قدرت نے انھیں نہایت شستہ و سلیم ذوق سخن عطا کیا تھا ۔ایک اچھے سخنور کی تمام خوبیاں ان میں موجود تھیں۔انھوں نے اپنے کلام میں شعری صنعتوں ،تشبیہات و استعارات کو انتہائی حسین اور دلکش انداز میں استعمال کرکے دلچسپ بنادیااور اپنے مشاہدات کو شعری سانچوں میں ڈھال کر صفحہ قرطاس پر بکھیر دیا۔مثلاً ؎
ترے دل پر میں کچھ تحریر کرلوں
کہ تجھ کو میں اپنی تقدیر کرلوں
کہیں سے آ گلے مجھ کو لگا لے
کہ غم کی دور میں تصویر کرلوں
ہو کوئی خواب تو مجھ کو بتا دے
ترا ہر خواب میں تعبیر کرلوں
کہ میں بھی یاد میں بسمل کسی کی
کہیں ایک مقبرہ تعمیر کرلوں
ادھو مہاجن بسمل نے صرف شاعری ہی نہیں کی بلکہ اپنی شاعری سے مذہبی رواداری کا ثبوت بھی دیا ہے۔انھوں نے شاعری کے دوران کبھی اپنے مذہب کو حائل نہیں ہونے دیا۔وہ دیگرمذاہب کااتنا ہی احترام کرتے تھے۔اپنی شاعری سے انھوںنے مذہبی معاملات کی بھر پور عکاسی کی ہے۔اشعار ملاحظہ ہوں ؎
جہاں کہیں بھی رہو جب اذان تک پہونچو
یہ التجا ہے خدا کے مکان تک پہونچو
جو زلزلوں سے سونامی سے تم کو بچنا ہے
رضائے حق میں اسی کی امان تک پہونچو
اس لیے تو ہوں بسمل ہے میرا کام یہی
اک امتحان سے اک امتحان تک پہونچو
بسمل کا شعری احساس انسانی جذبات کے اظہار سے عبارت ہے۔ حسن و عشق کے دائرے میں رہتے ہوئے ان کی شاعری سادگی اور پرکاری کا عمدہ نمونہ ہے۔اچھی شاعری کی جو خصوصیات ناقدین ادب نے طے کی ہیں ان کی شاعری ان پر پورا اترتی ہیں۔ان کے کلام میں سوز و گداز کی جھلک بھی نمایاں ہے ۔ان کے قلب کے درد کی کیفیت ان اشعار سے واضح ہوتی ہے ؎
ادھر سے وہ ادھر کیوں ہو رہی ہے
محبت در بہ در کیوں ہورہی ہے
وہ آنکھوں آنکھوں سے کہتے ہیں جب بھی
زمانے کو خبر کیوں ہورہی ہے
یہ دنیا زخم بھی جو دیتی تھی ہر دم
بتائو چارہ گر کیوں ہو رہی ہے
دعا میری ترے ہی حق میں بسمل
نہ جانے بے اثر کیوں ہورہی ہے
نعت گوئی میں ادھو مہاجن بسمل نے اپنی انفرادیت کو برقرار رکھا ہے۔بسمل کی نعتوں میں شاعرانہ تصنع نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے محسن انسانیت نبی کریم سے عقیدت کا اظہار ہوتا ہے ۔بارگاہِ رسالت میں گلہائے عقیدت کو اشعار کے ذریعہ موثر پیرائے میں پیش کیا ہے ؎
وہ نورانی باتیں ہی سب بولتا ہے
زبان محمد سے رب بولتا ہے
اٹھو بہر تعظیم سر کو جھکا دو
کہ آقا کے در پر ادب بولتا ہے
محمد کے شیدائی کی کچھ نہ پوچھو
وہ سچ بولتا ہے وہ جب بولتا ہے
محمد سے بڑھ کر نہیں کوئی بسمل
عجم بولتا ہے عرب بولتا ہے
’محمدسب کے لیے‘ بسمل کی نعتوں کا مجموعہ ہے۔ بسمل کی نعت گوئی کے نمایاں پہلوئوں پر روشنی ڈالتے ہوئے نذیر فتح پوری نے لکھا ہے:
’’ مسلمانوں کے دوش بدوش ہندوئوں نے بھی کثرت سے حضرت محمدکی شان میں نعت کے نذرانے پیش کیے ہیں۔
ایک دفتر ایسی نعتوں سے بھرا ہوا ہے جن کے خالق ہندو ہیں۔ پنڈت جوش ملسیانی ،جگن ناتھ آزاد کالی داس گپتا رضا جیسے ادبی طور پر بلند کردار کے حامل شعرا نے بہت عقیدت اور محبت میں ڈوب کر حضرت محمد کی شان میں بے پناہ نعتیہ نذرانے پیش کیے ہیں ۔ ادھو مہاجن بسمل اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔کڑی سے کڑی ملتی ہے تو ہار بنتا ہے۔ اس ہار میں اور پھول جڑتے جائیں گے اور اس کی خوشبو پھیلتی جائے گی اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔‘جناب اْدھو مہاجن بسمل نے شہرت اور ناموری حاصل کرنے کے لیے نعت نہیں لکھی بلکہ انھوں نے خالص عقیدت اور محبت کے اظہار کا وسیلہ نعت کو بنایا۔ وہ عقیدت وہ محبت جو رسالت مآب حضرت محمد کے لیے بسمل صاحب کے دل میں جاں گزیں ہے۔اس کا پرتو ان کے کلام میں ہر جگہ نمایاں ہے۔‘‘
(محمد سب کے لیے، ادھو مہاجن بسمل، جنوری 2018، پونے، ص 7-8)
ادھو مہاجن بسمل کی شاعری دل کی شاعری ہے، اس لیے دامن شعر و ادب میں ان کا نام ایک گل تازہ کی طرح ہمیشہ مہکتا رہے گا۔شخصیت و شاعری کے تعین میں لوگ عمریں گزار دیتے ہیں لیکن بسمل ان خوش نصیب شعرا میں سے تھے جن کی شاعری کا ہر کسی نے اعتراف کیا۔اردو شاعری کے اہم ستون کی حیثیت سے وہ ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے او ر اہل اردو ان کی شاعری پر اتنا ہی ناز کریں گے جتنا آج کرتے ہیں۔

Dr.Shaikh Imran
Assistant Professor Urdu
Vasantrao Naik Govt.Instt.of Arts & Social Sciences,
Nagpur (Maharashtra)
Mob. 9921986904
Email:shaikhimranvas@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

میں کیسے لکھتاہوں ،مضمون نگار: خوشونت سنگھ، مترجم:جاویدعالم

اردودنیا،فروری 2026: مجھےان لوگوں پر رشک آتا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ لکھنے میں انھیں کیف و سرور حاصل ہوتا ہے۔ میرے ساتھ ایسا بالکل نہیں ہے۔ اگر میں

ڈاکٹربشریٰ رحمن کی ادبی خدمات،مضمون نگار: ذاکر حسین ذاکر

اردودنیا،جنوری 2026: ڈاکٹربشریٰ رحمن(1940-2009) شہر گورکھپور کے ایک ایسے روشن خیال اور اعلیٰ تعلیم یافتہ خاندان سے تعلق رکھتی تھیں، جو عالمی شہرت کا حامل ہے۔ ان کے والد عبد القدوس

اسد رضا کی ادبی و فکری شخصیت ،مضمون نگار: محمد نوشاد عالم ندوی

اردو دنیا، مئی 2026: اردو ادب میں طنز و مزاح کی روایت ہمیشہ سے فکری گہرائی اور سماجی شعور کی حامل رہی ہے۔ مرحوم اسد رضا اسی روایت کے ایک