اردو دنیا،اگست 2026:
تقسیم ہند و پاک نے صوبہ پنجاب کو بھی دو حصوں، مشرقی پنجاب (ہندوستان) اور مغربی پنجاب (پاکستان) میںتقسیم کر دیا۔اس صوبے کا سب سے بڑا شہر اور دارالحکومت لاہور مغربی پنجاب کا حصہ ہوگیا۔ نتیجتاً مشرقی پنجاب لاہور جیسے خوبصورت شہر کے ساتھ ساتھ دارالحکومت سے بھی محروم ہو گیا۔ مشرقی پنجاب کے لیے دارالحکومت کے طور پر ایک نئے شہرکی ضرورت محسوس ہوئی۔ ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے مشرقی پنجاب کے دارالحکومت کے طور پر ایک منصوبہ بند شہر کا خواب دیکھا، جس کی زندہ تعبیرکی صورت میں سوِز-فرینچ معمار لی کاربوزئیر (Le Corbusier) نے چنڈی گڑھ کے منصوبے کی صورت میں پیش کی، جو ہندوستان کا پہلا منصوبہ بند شہر اور پنجاب کا دارالحکومت ہوا۔عام طور پر کسی بھی خطے میں لوگوں کی بڑھتی ہوئی آبادی ہی اس خطے کو شہر یا قصبے کی شکل دیتی ہے۔ شہر کے مقامی لوگوں کی اپنی ایک زبان، تہذیب و ثقافت ہوتی ہے مگر چنڈی گڑھ چونکہ ایک منصوبے کے تحت تشکیل دیا جانا تھا اس لیے علاقے میں بسنے والے لوگوں کوجو پنجابی زبان کی شاخ پوادی بولتے تھے انھیں منتقل کر کے نواح میں بسا دیا گیا۔ لہٰذا اس شہر کی کوئی ایک زبان، تہذیب یا ثقافت نہ بن سکی۔ تقسیم کے بعد مغربی پنجاب سے آنے والے مہاجرین اور مشرقی پنجاب سے کاروبار یا ملازمت کے سلسلے سے آنے والوں کی ایک بڑی تعداد اس علاقہ میں آباد ہوگئی۔ جن میں پنجابی،ہندی ،اردواور پہاڑی (ہماچل کی مختلف بولیاں) بولنے والے لوگ شامل تھے۔ ان لوگوں میں درج بالا زبانوں کے ایسے ادیب بھی شامل تھے جنھوں نے نہ صرف یہ کہ اس شہر یا قومی سطح پرشہرت حاصل کی بلکہ عالمی منظر نامے پر بھی ان زبانوں کی نمائندگی کی۔ اس شہر نے جہاں دوسری زبانوں کی آبیاری کی وہیں اردو کی نشو نما میں بھی اہم کردار ادا کیا۔اردو کو اظہار خیال کا وسیلہ بنانے والوں کی ایک اچھی تعداد یہاں ابتدا ہی سے موجودتھی۔ اس مقالے میں چنڈی گڑھ کی تشکیل کے بعد کے انھیں ادیبوں کی فہرست میں شامل اردو کو اظہار خیال کا ذریعہ بنانے والے (میری نظر میں) سب سے پہلے شاعر و ادیب ڈاکٹر موہن سنگھ اوبرائے دیوانہ ہیں، جنھوں نے پہلی بار 1933 میں History of Punjabi Literature کے نام سے اس زبان و ادب کی تاریخ لکھی۔ اس طرح یہ پنجابی کی پہلی اور مفصل تاریخ لکھنے والے سب سے پہلے ادیب ہوئے۔ان کی ہندی، انگریزی،پنجابی اور اردو چاروں زبانوں میں کئی کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ اردو میں ان کی شعری اور نثری تخلیقات کے ساتھ ساتھ کئی تراجم بھی موجود ہیں۔ان میں گورو گرنتھ صاحب کے حصّہ ’جپ‘ کا منظوم اردو ترجمہ ’ نغمہ دیدار الٰہی‘ کے نام سے ،خاص طور پر قابل ذکر ہے۔
موہن سنگھ اوبرائے دیوانہ غیر منقسم پنجاب کے گاؤں دیوی ضلع راولپنڈی میں 17مارچ1899 کوپیدا ہوئے۔گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی آنرز میں بی-اے، کلکتہ یونیورسٹی سے، ایم،اے اور پھر1931 میں یہیں سے’جدید اردو شاعری کے رجحانات‘ کے موضوع پر مقالہ لکھ کر پی، ایچ، ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ 1933 میں ہی پنجاب یونیورسٹی لاہور کی جانب سے پنجابی ادب کی تاریخ پر پہلی اور مفصل کتاب لکھنے پر ڈی، لٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازے گئے۔ اس کے بعد اورینٹل کالج لاہور میں انگریزی اور پنجابی کے استاد رہے۔ 1928 کو پنجاب یونیورسٹی لاہور میں پنجابی کے لیکچرر کی حیثیت سے ملازم ہوئے اور 1944 میں ریڈر ہو گئے۔ 1959 تک انھوں نے پنجاب یونیورسٹی لاہور کے شعبہ پنجابی میں بحیثیت صدر خدمات انجام دیں۔ تقسیم کے بعد ہندوستان آگئے اور زندگی کا بقیہ حصہ چنڈی گڑھ میں ہی گزارا۔ دیوانہ نے 1914 میں پہلی بار ایک افسانہ لکھ کر ادبی زندگی کا آغاز کیا، اس کے بعد یکے بعد دیگرے کئی تحقیقی و تنقیدی مضامین، ڈرامے،ترجمے اور شعری مجموعے شائع کیے۔ دیوانہ جس دور میں لکھ رہے تھے اس زمانے میں اردو شاعری اور خاص طور پر صنف غزل کی نمائندگی وہ لوگ کر رہے تھے جنھوں نے اردو غزل کونئی سمت و رفتار بخشی۔ ان میں مولانا حسرت موہانی،فانی بدایونی،اصغر گونڈوی اور جگر مرادآبادی جیسے شعرا شامل تھے جنھیں اردو غزل کے عناصر اربعہ کہا گیا۔ اس دور کا لکھنے والاہر شاعر ان شعرا سے اثر قبول کرتا رہا۔یہی وجہ ہے کہ دیوانہ کے کلام میں بھی تشبیہات و تلمیحات،استعارات و محاورات کے باوجود بات کہنے کا ایک خوبصورت انداز پایا جاتا ہے۔ ان کی شاعری میں عام فہم الفاظ کے استعمال کے ساتھ مشکل الفاظ و تراکیب کوبھی برتا گیا ہے۔ ان کے 5 شعری مجموعے شائع ہو کر منظر عام پر آئے جن میں، ’دوشیزہ‘ (نظم) 1926، ’کیفیات‘ (غزل)1937، ’نئی دنیا‘ (نظم)1944 ’سفینہ‘ (نظم و غزل) 1970اور ’جپ ،بنام نغمہ دیدار الٰہی‘ (گرو نانک جی کی تخلیق، گرو گرنتھ صاحب کے حصہ، جپ جی کا منظوم اردو ترجمہ)شامل ہیں، ذکر کیا جا چکا ہے۔ انھوں نے ہندی،انگریزی اور پنجابی میں بھی اہم تخلیقی کارنامے نجام دیے ہیں،بلکہ پنجابی زبان و ادب کی تاریخ دیوانہ کے ذکر کے بغیر ادھوری ہے،اس کے باوجود دیوانہ کو اردو زبان سے والہانہ محبت تھی، اس زبان کو اجداد کی وراثت تسلیم کرتے اور اپنی محبوب ترین زبان بھی سمجھتے ، شعر دیکھیں ؎
اردوئے معلیٰ جسے کہتا ہے زمانہ
وہ ورثۂ اسلاف ہے وہ میری زباں ہے
(سفینہ از موہن سنگھ دیوانہ، کھنہ لیتھیو پریس، دہلی، 1970، ص 39)
دیوانہ
منور لکھنوی ان کی شعری قابلیت کے حوالے سے لکھتے ہیں:
’’محبت پرستی کے باریک ترین رمزوں کو اہل دل کے سامنے کلیجہ چیر کر رکھنے والا۔علم و ادب کا پُجاری۔ صنم خانہ شعر و سخن کا یہ عظیم المرتبت اور مستحکم الایمان کافر…دیوانہؔ ایک خاص نظریہ کا مالک ہے،اردو شاعری میں اس کا طرز بیان اور اس کا تخیل سب سے جدا اور انوکھا ہے۔ ‘ ‘
(نئی دنیا، موہن سنگھ دیوانہ، رام لال پوری، 1944، ص 89)
دیوانہ کی غزلوں کو پڑھ کر منور لکھنوی کے یہ تاثرات بالکل سچ معلوم ہوتے ہیں،حالانکہ دیوانہ کے ہاں موضوعات کا تنوع ہے اور انھوں نے جس بھی موضوع کو اظہار کے لیے الفاظ کا جامہ پہنایا ہے اس کے ساتھ انصاف کیا ہے مگر عشق و محبت کے باریک ترین موضوع کو انھوں نے نہایت خوبصورتی سے پیش کرتے ہوئے محبت کی پریشانیاں انسان کے ذہن و دل پر جس طرح اثر انداز ہوتی ہیں ان کیفیات کو بھی بڑی بے تکلفی سے برتا ہے،چند شعر دیکھیں ؎
بہت پٹکا ہے سر دل کی پریشانی نہیں جاتی
جہان کشمکش کی فتنہ سامانی نہیں جاتی
بہت پچھتا رہے ہیں حضرتِ دیوانہ دل دے کر
تعجب ہے کہ داناؤں کہ نادانی نہیں جاتی
(سفینہ از موہن سنگھ دیوانہ، کھنہ لیتھیو پریس، دہلی، 1970، ص 32)
یہ غزل دیوانہ کے مجموعہ سفینہ ،اشاعت 1970 میں چھپی تھی مگر اسی زمین میں عصر حاضر کے شاعر ابرار احمد کاشف کی ایک غزل بہت مشہور ہوئی جس کے شعر اس طرح سے ہیں ؎
یہ منظر دیکھ کر ساحل کی حیرانی نہیں جاتی
مجھے چھو کر بھی کوئی موج طوفانی نہیں
غم دنیا سے پہلو تو مرا آباد رہتا ہے
مگر دل ہے کہ اس کی خانہ ویرانی نہیں جاتی
اسی طرح عصر حاضر کے ایک اور شاعر عبدالحفیظ ساحل قادری کی اسی زمیں یہ غزل بھی دیکھیں ؎
فسردہ دل ہے نظروں کی پریشانی نہیں جاتی
کہ اب تصویر میری مجھ سے پہچانی نہیں جاتی
پیام مرگ دیتے ہیں ہزاروں حادثے پھر بھی
ہماری قوم کی ساحل تن آسانی نہیں جاتی
مراد یہ کہ جدیدیت کا جو رنگ ہمیں آج کے شعرا کے ہاں دیکھنے کو ملتا ہے یہ دیوانہ کے ہاں اُس زمانے میں ہی موجود تھا۔اس میں دورائے نہیں کہ دیوانہ نے ترقی پسندی کے عروج کا زمانہ دیکھا ہے اور ان کی شاعری میں جگہ جگہ یہ رنگ نمایاں طور پر دیکھا بھی جا سکتا ہے البتہ انھوں نے روایت سے ہٹ کر بات کہنے کو فوقیت بھی دی ہے جس کا اندازہ درج بالاشعروں سے لگایا جا سکتا ہے۔غزل ملاحظہ ہو ؎
تعلقات کی دنیا کا حال کیاکہیے
کہ مرنا سہل ہے جینا محال کیاکہیے
ادب کی محفلوں اور دین کی مجالس میں
نہ کیف حال نہ لطف مقال کیاکہیے
حرام ہو گئی انگور و جو کی سادہ کشید
لہو غریب کا ٹھہرا حلال کیاکہیے
تمام چیزیں ہڑپنے کے بعد بھی بھوک ایسی
سیاست ایسی ہے لعنت مآل کیاکہیے
بس ایک نقش ہے چربے اسی کے اٹھتے ہیں
فسانہ ہائے عروج و زوال کیا کہیے
(سفینہ از موہن سنگھ دیوانہ، ص 42)
انھوں نے اپنی شاعری میں انسان اور انسانی اقدار کو نمایاں طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ان کی بیشتر شاعری میں پیش کیا گیا خیال محض ایک شخص اور اس کے دل کی کیفیات کا عکاس ہی نہیں ہوتا بلکہ سماج کی تمام تر برائیوں کو پیش کرتا ہے۔سماج کے ان تمام امور کو موضوع بناتے ہیں جو ایک بہتر سماج کو تشکیل دے سکیں۔یہ ترقی پسندی کا اثر بھی ہو سکتا ہے۔ درج بالا غزل میں جہاں دل کی حالت کا بیان کرتے ہیں وہاں کسی خاص رشتے یا تعلق تک ہی محدود نہیں رکھتے بلکہ تعلقات کی دنیا کہتے ہیں اور تعلقات کی دنیا میں گھر،رشتہ دار،دوست،عاشق معشوق، حتیٰ کہ مکمل سماج آتا ہے کیونکہ جس سماج میں ہم زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیںاس کا ہر شخص اور ہر شعبہ ہم سے منسلک ہوتا ہے۔ وہیں دوسرے شعر میں زبان و ادب کی بدلتی ہوئی صورت حال پر افسوس کرتے ہیں۔اس شعر سے یہ اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اس زمانے سے زبان کے صحیح استعمال اور لفظوں کی غلط ادائیگی کی بنیاد ہو چکی تھی۔ تیسرے اور چوتھے شعر میں انھوں نے مکمل ترقی پسندانہ جذبے کا اظہار کیا ہے اور سماج کے دبے کچلے اور مظلوم بے زبانوں کی زبان بننے کی کوشش ہے۔اس تعلق سے عبد القادر سروری یوں رقم طراز ہیں ؎
’’وہ دیوانہ ایک خاص طرز فکر اور مخصوص انداز بیان کے مالک ہیں…اسلوب کی بداعت میں دیوانہ ہمارے موجودگی شعرا میں کسی سے پیچھے نہیں…..جنابِ دیوانہ کو شاعری کے اس گُر پر اتنا قابُو حاصل ہے کہ ہمارے زمانہ کے بہت سے امور جن پر صاف اظہارِ خیال ممکن نہ تھا۔‘‘
(کیفیات از موہن سنگھ دیوانہ، آتما رام اینڈ سنز، ص 10)
یہ بات سچ ہے کہ جس دور میں دیوانہ لکھ رہے تھے یہ اردو شاعری کے عروج کا زمانہ تھامگر چونکہ جس علاقے میں یہ آبسے تھے یہاں اس زبان اور اس کے ادب کی کوئی خاص نشو نما نہیں ہوئی تھی۔اس کی دو وجہیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ شہر چنڈی گڑھ کی تشکیل کے لیے یہاں کی بستیوں کو اجاڑ کر نواحی علاقوں میں منتقل کر دیا گیا تھا اور یہاں کی کوئی اپنی تہذیب و ثقافت نہ رہی تھی اور دوسرا یہ کہ اس علاقے میں بسنے والے تمام لوگ پنجابی زبان کی بولی پوادی بولنے والے تھے۔ایسا بھی نہیں تھا کہ ان علاقوں میں اردو یا کسی دوسری زبان کا ادب تخلیق کرنے والے بڑے ادبا موجود ہوں۔جس وقت دیوانہ کی چنڈی گڑھ آمد ہوئی اسی زمانے میں زیادہ تر لوگ یہاں آرہے تھے۔ممکن ہے اس دور میں اردو بولنے والے کئی لوگ یہاں آباد ہوئے ہوں مگر میری تحقیق کے مطابق ایسے کسی تخلیقی نمونے کے سراغ نہیں ملتے جن کا ذکر کیا جا سکے۔اس طرح اگر یہ نہ بھی کہا جائے کہ دیوانہ اس علاقے میں اردو کے پہلے ادیب ہیں تاہم یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ ان سے پہلے یا ان کا ہم عصر کوئی دوسرا شخص بھی اردو شعر و ادب تخلیق کر رہا تھا۔
دیوانہ غزل اور نظم دونوں کہتے تھے ،ان کی نظموں میں بھی غزل کی طرح دلکشی ہوتی ہے۔مولانا حسرت موہانی ان کی نظموں کے حوالے سے لکھتے ہیں:
’’ اردو زبان میں اس قسم کے نئے خیالات کا جدید انداز بیان و زبان میں شائع ہونا ایک نئی بات ہے۔ فقیر کے نزدیک اردو کی روز افزوں ترقی کے لحاظ سے اسمیں کوئی بات قابل ِ اعتراض نہیں بلکہ مستحق ستائش ہے۔‘‘
(دوشیزہ از موہن سنگھ دیوانہ مطبع انتظامی کانپور، 1926، ص 33، سنہ اشاعت درج نہیں ہے، البتہ دیوانہ نے پیش لفظ کے بعد یہ تاریخ لکھی ہے)
نظم ملاحظہ ہو ؎
نظم (کشمکش حیات)
کشمکش حیات کا شر سے بھرا شراریہ
دوسروں کی بھی موت ہے تیرا بھی اختتام ہے
جہد بقا میں لاکھ پڑ،تری فنا ہے لابدی
برق کا ہے نہ باد کا خاک کا جو مقام ہے
تو ہی نہیں ہے منتظم تو ہی نہیں ہے منقسم
وہ بھی شریک کار ہے جس کا یہ کُل نظام ہے
ہم کو ملا نہ آج تک طعنہ کُفر کا جواب
دین ہے خاص کس طرح فیض جب اس کا عام ہے
زال جہاں کے دام میں بندہ اب آنے کا نہیں
رنج و نشاط دونوں کو دور سے اب سلام ہے
موہن سنگھ دیوانہ کے کلام کا مطالعہ کرنے کے بعد اس بات کا اندازہ ہوتا ہے یہ ماضی کی ادبی روایتوںسے جتنے قریب ہیں اتنے ہی حال سے آشنا بھی۔ انسان جس شدت احساس سے سن سکتا ہے ان کا قلم اسی شدت جذبات کے ساتھ قلم بند کرنے کی قوت رکھتا ہے۔ انھوں نے کسی خاص نظریے،فکر یا کسی ایک طرز تحریر یا میلان کو بنیاد نہیں بنایا،انھوں نے ادب کو شہرت یا قبولیت کے لیے استعمال نہیں کیا بلکہ جب جس طرح ان کے ذہن میں خیال نے دستک دی ہے اسی صورت میں منظر عام پر لے آتے ہیں۔محسوس ہوتا ہے انھوں نے اپنے کلام کو سجانے سنوارنے کی طرف توجہ نہیں دی شاید یہی وجہ ہے کہ ان کا کلام صاف ستھرا معلوم ہوتا ہے۔ان کی غزلوں میں ماضی کے روایتی موضوعات تو ملیں گے مگر تعداد اتنی کم ہے کہ بغور مطالعہ کیے بغیر اندازہ ہی نہیں ہوتا۔ انھوں نے جو زمینیں اور جو حالات پیش کیے ہیں وہ ہماری آنکھوں دیکھے معلوم ہوتے ہیں۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ قدیم موضوعات کو بھی جدید رنگ میں ڈھال دیا ہے۔چند اشعار ملاحظہ ہوں ؎
محبت غزل ہے عبادت غزل ہے
غزل معرفت ہے شریعت غزل ہے
حریفوں سے یہ قول دیوانہ کہہ دو
غزل ہے جو حسرت تو حسرت غزل ہے
(سفینہ از موہن سنگھ دیوانہ، 1970، ص 3)
بیٹھا ہوں سر راہ تماشائے رواں ہے
سمٹا ہوا پیری کی نگاہوں میں جہاں ہے
پایا تجھے جس نے تجھے ہر چیز میں پایا
پانے کی یہی ایک دلیل ایک نشاں ہے
اس شخص کی مٹھی میں ہے صد نوع کرامات
دیوانہ کہ ہے خندہ جبیں عذب بیاں ہے
(سفینہ از موہن سنگھ دیوانہ، 1970، ص 39)
جو عشق کو کھیل سمجھتے ہیں وہ غم کی لذت کیا جانیں
جو کھوئے گئے ہیں وحدت میں عرفان کثرت کیا جانیں
منکر ہیں خدا کی ہستی سے جو آپ خدا بن بیٹھے ہیں
ایمان کی رفعت کیا جانیں مستی کی وسعت کیا جانیں
بازیِ حیات و موت مجھے عاری نہیں مقصد اولیٰ سے
پردے کے پیچھے کیا کیا ہے بے نور بصیرت کیا جانیں
ہر قول و فعل دو عالم کا وہ ایک محرک و ناظم ہے
حسنات نظم سے بے بہرہ شعریت خلقت کیا جانیں
ہر موسم کا حسن اپنا ہے ہر دین کا نشہ اپنا ہے
ہر عہد کی اپنی قیمت ہے ہم فرق کی عظمت کیا جانیں
(ایضاً، ص 49)
اے زلف و رخ یار تری شعبدہ بازی
محمود سا فاتح بھی ہے مفتوح ایازی
شرمندۂ معنی نہ ہوا حرف محبت
با ایں ہمہ تفسیر حقیقی و مجازی
دیوانہ کے تعلق سے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ انھوں نے مذہبی روایتوں کو ترک کر کے دنیا کو ہی جہان جاوداں جان لیا تھا۔ یہ کہنا صحیح ہو گا کہ دیوانہ کسی بھی مذہب کے عام رواجوں سے گریزاں ضرور تھے مگر انھوں نے خالق حقیقی کی وحدانیت کامکمل طور پر جابجا اظہار کیا ہے۔ ان کی پیدا ئش ہندو گھرانے میں ہوئی تھی، بت پرستی ترک کرچکے تھے،بظاہران کی پہچان سکھ مذہب کے پیروکار کی تھی دستار ہمیشہ پہنتے تھے،مگراس مذہب کے ضابطوں کا سرے سے انکار کرتے تھے۔ انھوں نے اپنی تمام کتابوں کے پیش لفظ میںخُدا وند متعال کی شان میں حمدیہ اشعار کہنے کے بعد ہی کلام پیش کیا ہے۔ مثال کے طور پر شعر پیش ہے ؎
جس نے جہاں بنایا اُس نے مجھے بنایا
کیا کیا نشہ ہے اس میں کیا کیا ہو ناز اس پر
تیرا آستانہ ہے تیری جبیں ہے
کہیں بھی سوا تیرے کوئی نہیں ہے
(ایضاً، ص 1)
دیوانہ کے ہاں بات کہنے کا ایک خوبصورت انداز ہے۔مشکل الفاظ،تشبیہات و استعارات و تلمیحات کے باوجود ان کی شاعر بوجھل نہیں معلوم ہوتی بلکہ قاری کو اپنے مفہوم تک لے جاتی ہے۔ ظاہر ہے جس زمانے میں دیوان لکھ رہے تھے اس وقت غزل اپنے عہد زریں سے گزر رہی تھی اس لیے اس زمانے کے کسی بھی شاعر سے بہتر کی توقع ہی کی جا سکتی ہے اور دیوانہ اس پہ کھرے اترتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ خوبصورت شعر قاری کے ذہن کا عکاس ہوتا ہے مگر دیوانہ کے ہاں اکثر و بیشتر قاری اپنے اندرونی جذبات کے ساتھ ساتھ سماج کوبھی کھلی آنکھوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ حالانکہ جس علاقے سے دیوانہ کا تعلق تھا اس کے نواحی علاقوں کو تاریخی یا ادبی کسی بھی لحاظ سے فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے۔ یہاں کے ادبا نے اس زبان و ادب کی آبیاری میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ البتہ چنڈی گڑھ کے حوالے سے جب بھی بات ہو گی دیوانہ کو اولیت حاصل رہے گی۔ ان کی غزلیں اور نظمیں دونوں ہی معیاری ہیں۔ ان کی اردو شاعری پنجابی آمیز ڈکشن کی وجہ سے بھی خوب سراہی جاتی ہے۔ ان کا مطالعہ وسیع ہونے کے ساتھ ساتھ حسرت موہانی جیسے استاد شاعر کی صحبت کا فیض بھی حاصل رہا۔ جس کے نتیجہ میں معیاری تخلیقات کا وجود میں آنا لازمی تھا۔علاقہ چنڈی گڑھ میں اس نوعیت کی تخلیق کرنے والوں میں دیوانہ پہلے شخص ہیں۔ جن کے تعلق سے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہ اس علاقہ کے اردو ادب کی مضبوط بنیاد ہیں۔اور بنیاد بھی ایسی جسے کسی بھی زاویے سے کمزور نہیں کہا جا سکتا۔ اگرچہ دیوانہ بہت معیاری شاعر نہ بھی ہوتے تاہم اس علاقے میں اولیت کا درجہ انھیں کو حاصل ہوتا۔
Khaliq ur Rehman Awan
Research Scholar
Panjab University
Chandigarh- 160014 (Punjab)
Mob: 8899210914
Email: khaliqawan165@gmail.com