بر صغیر ہندکی اولین خانقاہ اور اس کے کتبہ کی تاریخی اہمیت:محمد مظفور الحق
اسلامی ہند کی سلطنت عہد کے مشہور وقائع نگاراور مورخ منہاج الدین سراج، جس نے سلطان ناصر الدین محمود (1206/1198 تا 1246)کے دربار سے وابستہ ہونے کے باعث اپنی تصنیف
اسلامی ہند کی سلطنت عہد کے مشہور وقائع نگاراور مورخ منہاج الدین سراج، جس نے سلطان ناصر الدین محمود (1206/1198 تا 1246)کے دربار سے وابستہ ہونے کے باعث اپنی تصنیف
دارا شکوہ 29 مارچ 1615 کو اجمیرکے قریب پیدا ہوا۔1 وہ شاہ جہاں کا سب سے بڑا بیٹا تھا۔وہ اپنے والد کو دوسرے شہزادوں کے مقابلے کہیں زیادہ عزیزرکھتا تھا
ادب فی نفسہ تنقید حیات کا نام ہے۔ جس کا مقصد تخلیق گم شدہ انسانیت کی تلاش ہے۔ یہ تلاش جب صحیح سمت اختیار کرتی ہے تو میر غالب اور
زبیر شفائی کااصل نام زبیر احمد قریشی تھا۔ وہ 10دسمبر 1944کو کانپورمیں پیدا ہوئے۔ کم وبیش پچاس سال کی مشق سخن کے بعد ان کا انتقال 27فروری 2008 کو
داراشکوہ کسی ناخواندہ شہزادے کا نام نہیں ہے بلکہ علم و معرفت کے حوالے سے آل تیمور میں کوئی اس کا ہمسر نہیں ہے۔ اس کی تصنیفات اس کے علم
اس بات میں شک کی گنجائش نہیں کہ تذکرے ہماری ادبی اور تنقیدی روایت کا بیش قیمت حصہ اور اثاثہ ہیں۔ تذکروں کے بغیر نہ توہم ادب کی تخلیق اور
’تانیثی تنقید‘ کا باقاعدہ آغاز بیسویں صدی کی چھٹی دہائی کے بعد کے دور کو مانا جاتاہے۔عالمی سطح پر بیسویں صدی کے وسط سے ’تانیثیت کی تحریک‘کا فروغ ہونے
نفس ہے وہم و گمان اور یقین نفس ہے انسان کی فطرت کا امین نفس نہ ہو تو مقدر ہے شکست نفس کی قید میں ہے فتح مبین اس میں
ہماری زندگی کا ناگزیر عمل بن چکا ہے۔ زندگی کے مختلف اوقات میں ہم مختلف طرح کا سفر کرتے ہیں۔ کبھی یہ مختصر ہوتا ہے اور کبھی طویل۔ اس میں
نئی دہلی: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے صدر دفتر میں معروف شاعر و ادیب امیر احمد خاں امیر نہٹوری کی کتاب’اربابِ ادب‘ کا کونسل کے ڈائریکٹر پروفیسر