خواجہ احمد عباس اور عورت کی تصویر کشی: معراج احمد
ممتاز صحافی، ناول نگار، افسانہ نگار، ڈرامہ نگار، کالم نویس، فلم ساز، ہدایت کار، منظر نامہ نگار، مکالمہ نگار، خواجہ احمد عباس 7جون 1916 کو پانی پت میں پیدا
ممتاز صحافی، ناول نگار، افسانہ نگار، ڈرامہ نگار، کالم نویس، فلم ساز، ہدایت کار، منظر نامہ نگار، مکالمہ نگار، خواجہ احمد عباس 7جون 1916 کو پانی پت میں پیدا
جدید اردو غزل اور نظم میں ایک منفرد مقام و مرتبہ کے مالک ہیں۔ زندگی کو ایک خاص انداز سے دیکھنا اور سادہ اسلوب میں اپنے دلی جذبات کی ترجمانی
نیاز فتح پوری(1884-1966) کا شمار ان فنکاروں میں ہوتا ہے جنھوں نے اپنے خون جگر سے گلشن ادب کی آبیاری کی۔ وہ مختلف الجہات شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی
ہندوستان کی آزادی کی تحریک یوں تو 1857 کی جدوجہد سے ہی شروع ہو گئی تھی، مگر انگریزوں کی بڑھتی ہوئی طاقت اور چالاکیوں نے اس تحریک کو اپنے ظلم
’’دیدی کی طبیعت کیسی ہے؟‘‘ ’’کون سی دیدی؟‘‘ ’’دوچاردیدیاں ہیں کیا؟‘‘ ’’میری تو دو دیدی ہیں نا۔‘‘ ’’بڑی دیدی، روہنی دیدی۔‘‘ ’’کیوں انھیں کیا ہوا؟ٹھیک ہی ہوں گی۔‘‘ ’’تم تو
مجھے سوئٹزرلینڈ جانے کا اتفاق ہوا۔ میرے والد بیمار تھے،ان کا علاج وہاں ہونا طے پایا تھا،اہل خانہ نے فیصلہ کیا کہ ان کی تیمار داری کے لیے میں
نواب یوسف علی خاں ناظم ریاست رام پور کے سربراہ بھی تھے اور کہنہ مشق شاعر بھی۔ آپ کے والد نواب محمد سعید بہادر اور والدہ فتح النسا بیگم تھیں۔
پریم بھکتی کے سمندر میں غرق میرا بائی بغاوت اور آزادی کا استعارہ تھی۔ نسائی احساس کی ایک حسین علامت ، عطوفت اور ایثار کا ایک رمز جس کے وجود
بنگال کی دنیائے شعرو ادب میں قیصر شمیم کا نام محتاجِ تعارف نہیں۔ قیصر شمیم کا شمار بنگال کی ان اعلیٰ ہستیوں میں ہوتا ہے، جن کی بے لوث کوششوں