فروغ اردو میں مشائخ الہ آباد کا کردار،مضمون نگار:طالب اکرام

August 27, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،اگست2026:

برصغیر میں اردو زبان کا فروغ کسی ایک طبقے کی کوششوں کا نتیجہ نہیں بلکہ مختلف تہذیبی، مذہبی اور سماجی عناصر کی مشترکہ کاوشوں کا ثمرہ ہے۔ ان عناصر میں مشائخ عظام کوبنیادی حیثیت حاصل ہے۔ خصوصاً الہ آباد (پریاگ راج) ایک ایسا مرکز رہا جہاں علم و ادب اور تصوف نے مل کر اردو زبان کو پروان چڑھایا۔ تصوف کی تعلیمات ہمیشہ سادگی ،محبت اور انسان دوستی پر مبنی رہی ہیں اور یہی خصوصیات اردو زبان میں بھی نمایاں نظر آتی ہیں۔ اس لیے مشائخ الہ آباد نے اردو کو اپنی تعلیمات کے اظہار کے لیے استعمال کیا۔ سرزمین الہ آباد گنگا جمنی تہذیب کا سنگم قرار دیا گیا ہے۔ قدیم دور سے یہاں صوفیوں ،سنتوں اور درویشوں کی آمد و رفت رہی ہے۔ کبیر، تلسی، سور، خسرو، جائسی، ابوالفضل، فیضی، ابن بطوطہ اورالبیرونی سب الہ آباد کی کنگا جمنی تہذیب اوردلکشی پر فریفتہ رہے۔ دور قدیم سے ہی یہ سرزمین تہذیبی، ثقافتی، مذہبی اور علمی مرکز بنی رہی ہے۔ مغلیہ دور میں اس عہد کو ترقی ملی اور یہاں مختلف سلاسلِ تصوف کے بزرگوں نے قیام کیا۔ چشتیہ، نقشبندیہ، قادریہ اور سہروردیہ سلاسل کے مشائخ نے خانقا ہیں قائم کیں جو نہ صرف روحانی تربیت کا مرکز تھیں بلکہ علمی و ادبی سرگرمیوں کا بھی گہوارہ تھیں۔ ان خانقاہوں میں عوام کی رہنمائی کے لیے اردو زبان کو اختیار کیا گیا۔یہ مشائخ اپنی خانقاہوں میں وعظ،نصیحت اور تعلیم کے لیے اردو کو ذریعہ بنایا تاکہ عوام الناس بھی ان کی باتوں کو سمجھ سکیں اور فیوض و برکات حاصل کرسکیں۔ رفتہ رفتہ یہ زبان مقبولیت حاصل کرتی گئی اور عوام و خواص کے دلوں میں اپنی جگہ بنالی۔ان مشائخ کے وعظ و ملفوظات اور مکتوبات کو ان کے مریدین ومتوسلین اور عاشقین نے قلم بند کر کتابی شکل دی۔ جس سے اردو ادب کا فروغ ہوا۔ جس طرح سے الہ آباد گنگ و جمن کے میل سے سنگم بنا ہے، من و عن اردو زبان عربی اورفارسی کے علاوہ کئی زبانوں کے اشتراک سے وجود میں آئی۔ اس ضمن میں مشائخ الہ آباد کا بہت بڑا رول رہا ہے۔جن میں شاہ محب اللہ فاروقی ،علامہ اسحاق عباسی شاہ،سالار احمد غازی عباسی،قاضی رکن الدین عباسی ،حسینی میاں معروف چھیتے میاں عباسی،افضل عباسی، اجمل عباسی، سید منور علی شاہ،سید رفیع الزماں،شیخ غلام علی،شیخ زین الدین، شیخ محمد علیم،مولانا کمال الدین صدیقی،شیخ تاج الدین ،صوفی عبدالخالق عباسی ،صوفی اکرام الحق عباسی، مولوی عظیم الدین اور سید باسط علی قلندر وغیرہ کے اسمائے گرامی قابل ذکر ہیں۔ جن سے الہ آباد اور اس کے اطراف واکناف میں اردو زبان کی اشاعت و تبلیغ ہوئی۔ ان مشائخ کی تعلیمات نے اردو شعر وادب پر گہرے اثرات مرتب کیے،جس سے اردو نثرونظم میں سادگی اور روانی پیدا ہوئی اور شاعری میں صوفیانہ موضوعات شامل ہوئے۔اخلاقی اور روحانی مضامین کو فروغ حاصل ہوا جو بعد کے شعرا و ادباکے کلام میں نمایاں طور پر نظر آتے ہیں۔ ان مشائخ نے خانقاہوں کو محض عبادت گاہ نہیں بنایا بلکہ تعلیم اور تربیت گاہ بھی بنایا۔ ان کی تعلیمات کا بنیادی مقصد انسان کو انسان سے جوڑنا اور دلوں میں محبت پیدا کرنا تھا۔
یہ درست ہے کہ مشائخ کے افعال زیادہ تر خانقاہوں تک محدود رہے لیکن ان کی خدمات اور قربانیوں کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ان مشائخ عظام نے اردو کو عوامی زبان بنانے میں بنیادی کردارادا کیا۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مشائخ الہ آباد نے اپنے پندونصائح میں اردو زبان کو اختیار کیا جس سے یہ زبان جلدہی عوام الناس میں مقبول ہو گئی۔ مشائخ الہ آباد نے اردو زبان کو محض ایک لسانی وسیلہ نہیں بلکہ روحانیت، اخلاقیات اور انسانی اقدار کے فروغ کا ذریعہ بنایا۔ان کی خدمات اردو ادب کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہاں مشائخ نے مختلف مقامات پر خانقاہیں قائم کیں اوراپنے پندو نصائح کے ذریعے بنی نوع انسان کی اصلاح کے لیے ہمہ تن گوش ہو گئے۔ اپنی روحانیت، اخلاق اور محبت کے ذریعے امن کو عام کیا اور مختلف مذاہب کے درمیان رواداری کو فروغ دیا،جس کی وجہ سے اردوزبان کو بھی ترقی نصیب ہوئی ۔ان میں علامہ اسحاق عباسی شاہ کانام سرفہرست ہے، جو 7؍ویں صدی ہجری میں پریاگ راج (الہ آباد)کے شمال مغرب ایک دیہی علاقہ ’چھیتے مئو ‘میں وارد ہوئے تھے۔ وہ محدث، مفسر ،فقیہ، مورخ، ادیب، خطیب، اور صوفی تھے۔ عباسی خاندان کے چشم و چراغ تھے جن کا سلسلہ نسب بالواسطہ 18؍ویں پشت پرسیدنا عباس بن عبد المطلب عم رسول سے جا ملتا ہے۔ 1تا ریخ میں جس طرح خلافت عباسیہ کو عہد زریں کہاگیا اسی طرح ان کو اپنے عہد کا امام علم و عمل تسلیم کیا گیا ۔ علمی ،روحانی اور اخلاقی رہنمائی کے حوالے سے وہ اپنے دور میں ممتاز تھے۔
ان کی خانقاہوں میں مذہب و مشرب کا کوئی امتیاز نہ تھا۔ سب کے ساتھ یکساں سلوک تھا۔امیروغریب اوررنگ و نسل کاہرگز تفریق نہ تھا۔ ان کی بارگاہ میں آنے والاہر شخص بلا کسی تفریق ایک ہی دستر خوان پر نیاز تناول کرتا تھا۔ گیارہویں صدی ہجری اور عہد شاہ جہانی کے معروف بزرگ شیخ محب اللہ الہ آبادی کا نام اردو زبان کے فروغ میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ ان کا سلسلہ نسب بابافرید الدین گنج شکر سے ہوتا ہوا اکتالیس واسطوں پر فاروق اعظم سے جا ملتا ہے۔وہ سلسلہ چشتیہ کے عظیم صوفی تھے۔شیخ ابوسعید گنگوہی کے دست حق پر بیعت تھے۔مرشد نے اجازت و خلافت سے سرفراز کر انھیں الہ آباد کی سرزمین کے لیے وقف کیا تھا۔ وہ بلند پایہ عالم تھے۔عربی اور فارسی کے ساتھ ساتھ کئی زبانوں پر مہارت رکھتے تھے۔ نظریہ وحدت الوجود کے مقلد تھے اور ابن عربی کی معرکہ آ لآرا تصنیف ’فصوص الحکم‘کی شرح عربی اور فارسی دونوں زبانوں میں کی تھی، جن کے اردو ترجمے شاہ غلام مصطفیٰ مہرونڈوی اورشاہ باقر الہ آبادی نے کیے۔اس کے علاوہ ان کی تصانیف ترجمۃ الکتاب، حاشیہ ترجمۃ القرآن،انفاس الخواص، اخص الخواص، التسویہ، المغالطہ العامہ، عقائد الخواص، رسالہ غایۃ الخایات، عبادات الخواص، رسالہ مقدمۃ المعارف، مناظر اخص الخواص، تجلیۃ الفصوص، مراتب الوجود، سیر الٰہی، اعانۃ الا خوان، رسالہ وجود مطلق، رسالہ توحیداور امالۃ القلوب وغیرہ ہیں۔2 اس کے علاوہ ان کے۱۸؍ مکتوبات موجود ہیں۔جو مکتوبات شاہ محب اللہ الہ آبادی کے نام سے موسوم ہے۔ یہ 433 صفحات پر مشتمل ہے۔
اکبر الہ آبادی کے پیر بھائی سید محمد اکبر ابوالعلائی شاہ 1857کے بعد جب دانا پورسے سرزمین الہ آباد نزول اجلال کیے، تو شیخ وحید الدین کڑہ مانک پوری(الہ آباد) سے بیعت حاصل کی۔ وہ زبردست عالم اور عظیم صوفی تھے۔بنی نوع انسان کی خدمت شعاری ان کا مشغلہ تھا۔شاعری میں بھی ید طولیٰ رکھتے تھے۔اپنی شاعری اوروعظ و نصیحت سے عوام الناس کے بہت قریب تھے۔ ان کے دودیوا ن ملتے ہیں۔ تجلیات عشق اور جذبات اکبر، جو مقبول خاص و عام ہیں۔’ تجلیات عشق‘ سے ایک رباعی ملاحظہ ہو ؎
کیاجانیے کس جگہ پہ کھویا ہوں میں
اک عمر سے آپ اپنا جویا ہوں میں
کھلتی نہیں اپنی شور محشر سے بھی آنکھ
کیسی غفلت کی نیند سویا ہوں میں3
اسی طرح’ جذبات اکبر‘سے ایک رباعی ملاحظہ ہو ؎
شاگرد وحید کے ہیں دونوں اکبر
ہم مشق بھی ہم دونوں رہے ہیں اکبر
لیکن قسمت کا صاد ان پر ہی ہوا
پتھر پتھر ہے اور جوہر جوہر4
ان کے علاوہ متعدد کتابیں بھی ملتی ہیں۔ اشرف التواریخ تین جلدوں میں ملتی ہے۔ پہلی جلد 667صفحات پر، دوسری جلد 800صفحات پر اور تیسری جلد 400صفحات پرمشتمل ہے۔ اس کے علاوہ چراغ کعبہ، ادراک، رکن رکیں اور دل در تصوف تصانیف بھی ملتی ہیں۔شاہ محمد حسین نے جب والد محترم سید محمد اکبر ابوالعلائی سے بیعت و خلافت حاصل کی تو محلہ چک نیا حجرہ الہ آباد میں قیام پذیر ہوئے۔ یہاں خلوص و محبت اور رواداری کو عام کیا۔ ایک با عمل عالم و فاضل صوفی اور اچھے شاعر تھے۔ کئی کتابیں بھی منظرعام پر آئیں۔ ان کی خانقاہ میں علم و عمل کے جو چراغ روشن تھے اس کی شعائیں ڈاکٹر سید شمیم گوہرابوالعلائی کے ذریعہ آج بھی موجود ہیں۔ اس کے علاوہ شیخ محمد حسن اشرف کا نام بھی اردو ادب کے فروغ میں قابل ذکر ہے۔وہ اردو شاعری کے ذریعہ عوام کے بہت قریب تھے۔ عشق حقیقی میں غوطہ زن ہوکراشعار کہتے تھے۔ سیدرفیع الزماںشاہ ان کے جد اعلی تھے۔ جو سلسلہ قادریہ کی اشاعت کے لیے وقف تھے۔ ان کا نعتیہ دیوان’کلام اشرف‘ کے نا م سے ملتاہے۔ اس کے علاوہ مثنوی معدن فیض،ماحریفاں اشرف اور غزلوں کا مجموعہ موجود ہے۔غزل کا ایک شعر ملاحظہ ہو ؎
چاندنی رات میں ہر شخص کو ہوتا ہو سرور
پرمزہ گھات کی راتوں کا شب تار میں ہے5
شیخ حسن اشرف کے بعد ان کے فرزند اور جانشین شاہ فخر الدین احمد المعروف حکیم بادشاہ نے اس علمی، ادبی اور مذہبی روایت کو آگے بڑھایا۔یوں تو ان کی متعدد تصانیف عربی اورفارسی زبان میں ہیں لیکن اردو زبان میں تقسیم میراث،مناسک حج،ستر عورت،اثبات مولد نبینااورمیلاد شریف وغیرہ تصانیف بڑی اہم ہیں۔جن سے اردو ادب کا فروغ ہوا۔شاہ محمد افضل عباسی بانی دائرہ شاہ اجمل کا شمار سرخیل علما میں ہوتا تھا۔ وہ سلسلہ چشتیہ، سہروردیہ ا ور قادریہ کے عظیم بزرگ تھے۔ حکم مرشد پرغازی پور سے الہ آباد ہجرت کی اور یہیں تاعمرخدمت خلق میں مصروف رہے۔ جس دائرہ میں وہ سکونت پذیر ہوئے علم و عمل کا خصوصی مرکز اور تہذیب و تمدن کا گہوارہ بنا۔ یہی وجہ کہ ادبی و تمدنی تاریخ میں اس دائرہ کا منفرد مقام ہے۔ صاحب ’تاریخ مشائخ الہ آباد‘ ان کے علمی، ادبی اور متصوفانہ عظمت کو نمایاں کرتے ہوئے ایک جگہ رقم طراز ہیں:
’’حضرت شاہ محمد افضل عباسی الہ آبادی اپنے وقت کے نہ صرف بہت بڑے صوفی اور بزرگ کامل گذرے ہیں بلکہ مشاغل خدمت خلق، رشدو ہدایت کے بعد ان کی زندگی کا بیشتر حصہ علم و ادب کی خدمت میں بسر ہوتا تھا۔ انھیں عربی وفارسی کے بلند ادیب اورشاعر کی حیثیت حاصل ہے۔ محقر تخلص فرماتے تھے ۔ مختلف تذکرہ نگاروں نے آپ کو صاحب تصانیف کثیرہ کہا ہے۔ قاموس المشاہیر کے مصنف نظامی بدایونی نے انھیں پچاس کتابوں کا مصنف بتایا ہے۔‘‘ 6 اس کے علاوہ صوفی امین عباسی کے بیٹے اور صوفی افضل عباسی کے بھتیجے اور خلیفہ صوفی محمد یحییٰ عباسی المعروف شاہ خوب اللہ الہ آبادی نے اپنے پندونصائح اور علمی و ادبی خدمات سے اردو ادب کو تقویت بخشی۔ وہ ایک عظیم شاعر اور کامل صوفی تھے۔اَلْخَلْقُ عَیَالُ اللہ (تمام مخلوق اللہ کا کنبہ ہے) پر کامل یقین رکھتے تھے زہدو تقوی کے خوگر اور عبادت و ریاضت کے پیکر تھے۔ اعتدال پسندی، رواداری اور اخوت و محبت کے مقلد تھے۔ یحییٰ تخلص اختیار کرتے تھے۔ ان کے دیوان کا بیشتر حصہ غزلیات پر منحصر ہے۔جن پر تصوف کا رنگ غالب ہے۔ان کی نثری تصانیف بھی اہمیت کی حامل ہیں۔ان کے مکتوبات چار جلدوں میں ملتے ہیں جس میں اس دور کے سماجی، اقتصادی اور سیاسی حالات کا علم ہوتا ہے۔ یہ مکتوبات ادبی، علمی، مذہبی اور ثقافتی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے بعد ان کے بیٹے شاہ محمد طاہرطاہر ،شاہ محمد فاخر زائر اور شاہ ناصر افضلی اردو شعر و ادب کو جلا بخشی۔ شاہ طاہرنے ایک دیوان اور مکتوبات یادگار چھوڑے۔ شاہ زائر بڑے علم اور فاضل تھے۔اردو شعرو ادب سے شغف رکھتے تھے۔ فن شاعری میں کمال حاصل تھا۔ شاہ افضل عباسی سے بیعت تھے۔ مرزا مظہر جان جاناں جیسے بلند پایہ صوفی شاعر ان سے مستفیض ہوتے تھے۔ شاہ خوب اللہ کے فرزند اصغر شاہ محمد فاخر کو بھی شاعری ورثہ میں ملی تھی۔ اچھے شاعر تھے۔ تین دیوان اور متعدد تصانیف ان کے ورثہ میں آئی۔ منتخب الاعمال، جواہر نفسیہ اوررسالہ اذکار جیسی متعدد تصانیف کے مالک تھے۔ اس کے بعد یہ علمی ورثہ ان کے بیٹے شاہ غلام قطب کو نصیب ہوا۔ بڑے عابد و زاہد اور فاضل ادب تھے۔ صوفیانہ ماحول میں آنکھ کھولی۔ اس لیے تصوف ان کے دل و جان میں گردش کر رہا تھا۔ صوفیانہ کلام کہنے میں مہارت تامہ حاصل تھا۔ وہ مکہ معظمہ میں حضرت خدیجۃ الکبریٰ کے مزار کے دائیں جانب مدفون ہوئے۔وہ عربی ،فارسی اور اردو زبان میں بیک وقت شعر کہتے تھے۔بطور نمونہ اردو کے دو شعر ملاحظہ ہوں ؎
شب فرقت میں تری او ظالم
ہوگیا خواب خواب آنکھوں میں
کون گلشن میں کہو مشک کی بو لاتی ہے
کہتے ہیں زلف کے کوچے میں صبا لاتی ہے 7
اس کے بعدشاہ افضل عباسی کے سجادہ نشین اور شاہ ناصر کے لخت جگرصوفی محمد اجمل الہ آبادی کا نام نامی اسم گرامی قابل ذکر ہے۔ جنھوں نے شعر و ادب کی روایت کو بام عروج تک پہنچایا۔ وہ عوام وخواص کے اس قدر دلدادہ تھے کہ دایرہ کا نام (دائرہ شاہ اجمل) انھیں کے نام سے منسوب ہوا۔ ان کی خانقاہ میں علما و مشائخ اور صوفیا کا اژدہام ہوتا تھا۔ ملک اور بیرون ملک کے ادبااور شعراکا آمد ورفت رہتا تھا۔ شاہ عبد العزیز دہلوی، مدن لکھنوی، علامہ تفضل حسین خاں کشمیری، علامہ احمد الیمینی، عبد العلیٰ ارکائی شیخ علی حزیں، فاخر مسکیں، انشاء اللہ خاں انشا اور نورالعین واقف وغیرہ سے اچھے مراسم تھے۔ انھوں نے جہاں فارسی زبان میں کلام کہے وہیں اردو زبان میں بھی طبع آزمائی کی۔’دیوان اجملی اردو‘ خاص و عام میں بہت مقبول ہے۔کلام میں معرفت اور عشق حقیقی کا رنگ غالب ہوتا تھا۔ چراغ محفل فصاحت (ص52)سے محض دو شعر ملاحظہ ہوں ؎
شاد تھا دل ہر طرف سے بر میں جب جانا نہ تھا
ہائے کیسی رات تھی جس رات وہ ہم خانہ تھا
ہوگیا تھا کہتے کہتے ان دنوں کچھ ہوشیار
پھر جو دیکھا کل میں اجمل کو وہی دیوانہ تھا
ناسخ لکھنوی کو یہاں سے بڑی انسیت تھی۔اکثر و بیشتر یہاں آتے اورعقیدت کے پھول نچھاور کرتے۔ برسوں یہاں رہ کر فیوض برکات بھی حاصل کرتے ۔ ایک جگہ عقیدت میں غوطہ زن ہو کر کہتے ہیں ؎
ہر پھر کے دائرہ ہی میں رکھتا ہوں میں قدم
آئی کہاں سے گردش پرکار پاؤں میں8
شاہ غلام اعظم افضل خلف شاہ ابوالمعانی تھے اور شاہ ابوالمعانی شاہ اجمل کے فرزند تھے۔ وقت کے اکابر اصفیا میں ان کا شمار ہوتا تھا۔اردو کے بڑے مصنف اور اچھے شاعر تھے۔ناسخ کے شاگرد تھے۔دور دور تک ان کاشہرہ تھا۔ چار دیوان اور ایک مثنوی یادگارچھوڑے ہیں۔ منیر نے ان کے ایک مصرعہ پر طرح لگاتے ہوئے فخر کا اظہار کیا ہے۔شعر ملاحظہ ہو ؎
ہے یقیں نور بصارت ہو زیادہ افضل
سرمۂ خاک مدینہ لگے گر آنکھوں میں 9
اسی طرح آتش کے شاگرداور شاہ اجمل کے نواسے شاہ محمد کبیربھی ایک بڑے شاعر تھے۔قدسی تخلص اختیار کرتے تھے۔ان کے دیوان سے ایک شعر ملاحظہ ہو ؎
یاد آتی ہیں کافر جو ملاقات کی راتیں
کٹتی کسی عنوان نہیں برسات کی راتیں10
اسی خانقاہ اجملی سے وابستہ سید زاہد اجملی المعروف شاہ جی جان بھی اپنی شاعری کے ذریعہ اردو شعرو سخن کو ترقی دی۔ ان بڑے صاحب زادے اور سجادہ نشین فاخر بیخود بھی شاعری میں ید طولیٰ رکھتے تھے۔ 20جولائی 1920میں آزادی ہند کے جرم میں تختہ دار پر چڑھ کے جام شہادت نوش کیے۔ اس کے علاوہ سید منور علی شاہ قادری خادم شیخ عبد القادر جیلانی غوث الثقلین کے گدی نشین شاہ فیضان اللہ عباسی کی کتاب ’آفتاب الہ آباد‘ بھی قابل ذکر ہے، جسے فروغ اردو میں ایک اہم مقام حاصل ہے۔ صوفی سلطان میاں گدی نشین چودہوں پیراں ہائی کورٹ آف الہ آبادبھی اس ضمن میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یقینا ان کے ملفوظات، تصنیفات اور مجموعہ کلام سے اردو شعر و ادب کو استحکام حاصل ہوا۔
فروغ زبان اردو میں الہ آباد ضلع کے قصبہ مئوآئمہ اور اس کے اطراف کے عباسی صوفیا میں قاضی رکن الدین عباسی صوفی سالار احمد عباسی اورمولانا کمال صدیقی کے نام بھی قابل ذکرہیں۔’مئو آئمہ ‘ جس کا پرانا نام مئو بھر،مئو کمال آباداورمئو قاضی طیب تھا۔چوں کہ یہاں بھر قوم آباد تھی۔ 11 اس لیے یہ قصبہ ’مئوبھر‘ سے معروف تھا۔ لیکن 8ویں صدی ہجری کے آغاز میں شیخ نصیر الدین فاروقی چراغ دہلوی اپنے حقیقی ماموں شیخ تقی علم بخش اودھی(جن کا مزار ایودھیا’چھوٹی کٹیا‘ نامی مندر کے قریب واقع ہے 12) کے فرزند مولانا کمال الدین صدیقی کو تصوف کے اسرارو رموز سے آراستہ کیااور نگاہ خاص سے سلوک کے مدارج طے کرائے۔ اس کے بعد خدمت دین اور فروغ اسلام کی غرض سے ’مئو بھر ‘بھیجا۔آپ کے ساتھ صوفیا کی ایک جماعت تھی جو تصوف اورگھوڑ سواری میں مہارت رکھتی تھی۔ یہاں آکر اپنے مشن میں گامژن ہوگئے، لوگ جوق درجوق آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے اورفیوض و برکات سے مالامال ہوتے۔حتیٰ کہ’ مئو بھر‘ سے اس کا نام’ ’مئو کمال آباد پڑگیا۔ جسے بھرقوم برداشت نہ کر سکی اورجنگ کے لیے آمادہ ہوگئی۔ چوں کہ شیخ نصیر الدین چراغ دہلوی نے لوگوں کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آنے کی تلقین کی تھی۔ انھیں صلہ رحمی کا درس دیا تھااور جنگ سے گریز کرنے کا حکم دیا تھا۔اس لیے ان کے ساتھ شفقت سے پیش آئے۔ لیکن بھرقوم جنگ کے لیے مجبور کر رہی تھی۔ چناں چہ آپ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ دہلی واپس آ گئے۔ بعد ازاںمولانا کمال الدین صدیقی کے ہمراہ 757ھ میں سالار شہاب الدین، سالار تاج الدین، سالار قاضی رکن الدین اور سالار احمد سالار غازی کو امام بناکر صوفیا کاایک قافلہ بھیجا۔ 13قافلہ یہاں پہنچ کر اولاً اپنا اثر قایم کیا اور عوام و خواص کے دلوں میں جگہ بنائی۔ ایک ساتھ کئی امام کے قیام پذیر ہونے پر اس قصبے کا نام ’مئو ائمہ‘ پڑگیا۔ پھر اسی کے مخفف سے اس کا نام’ مئو آئمہ ‘ہو گیا۔ واضح ہوشیخ نصیر الدین چراغ دہلوی کے بھانجے علامہ کمال الدین فاروقی کا مزار نصیر الدین چراغ دہلوی کے مزار کے قریب واقع ہے،جب کہ ان کے یعنی نصیر الدین چراغ دہلوی کے ماموں کے بیٹے مولانا کمال الدین صدیقی کا مزارالہ آباد کے شمال جانب مئوآئمہ اسٹیشن کے لب روڈمرجع خلائق ہے۔ مولانا کمال الدین صدیقی (ماموں زاد شیخ نصیر الدین چشتی چراغ دہلوی )ابن تقی الدین اودھی علم بخش کا سلسلہ نسب 19 ویں پشت پر بالواسطہ امیر المومنین حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے اورعلامہ کمال الدین فاروقی ابن محمدعرف عبدالرحمن کا سلسلہ نسب 22 واسطوں پر حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے متصل ہوجاتا ہے۔ان دونوں کا سلسلہ نسب راقم الحروف (ڈاکٹر طالب اکرام) کے پاس محفوظ ہے۔ مولانا کمال الدین صدیقی کا شماراکابر اولیا میں ہوتا ہے۔ وہ بہت بڑے عالم و فاضل تھے۔سلسلہ چشتیہ کو فروغ دینے میں اہم رول ادا کیا۔ اپنے وعظ و نصیحت سے عوام و خواص کے قلوب کو موم کر دیتے تھے۔ لوگ جوق درجوق ان کی خدمت میں حاضر ہوتے اور مستفیض ہوتے تھے۔چوں کہ آپ کی گفتگو عوامی ہوتی تھی۔ سادہ اور عام الفاظ کا استعمال کرتے تھے۔جس سے اردو زبان کا فروغ ہوا۔ علاوہ ازیںسالار احمد عباسی شاہ بڑے جاںباز اور نڈر تھے اور معرفت کے رازو نیاز سے بھی آشنا تھے۔ شیخ نصیر الدین چراغ دہلوی کے دست حق پر سلسلہ چشتیہ میں بیعت تھے ۔ خود مرشد نے اپنے زیر سایہ ان کی تربیت کی تھی۔ سلسلہ چشتیہ کے فروغ و اشاعت میں ہمہ وقت ہمہ تن گوش رہے۔
قاضی رکن الدین غوری کا مزار قضیانہ کلاں قصبہ مئو آئمہ میں مرجع خلائق ہے۔ جہاں ان کی نسل شادوآباد ہے۔ انھیں کی نسل سے آٹھویں پشت پرقاضی طیب عباسی کا نام ملتا ہے۔ 14 جن کا مزار اقدس مصطفیٰ باد قصبہ مئو آئمہ میں واقع ہے، جہاں سے مخلوق خدا آج بھی فیضیاب ہو رہی ہے۔ ان کا شمار اکابر صوفیا میں ہوتا تھا۔ وہ بیک وقت حافظ، قاری، عالم اور عظیم مفکر تھے۔ 1934میں جمیعت الاحناف ہند کا جب مئوآئمہ کی سرزمین پر کل ہند کانفرنس کا انعقاد ہوا تواس کی صدارت کی ذمہ داری انھوں نے سنبھالی۔
صوفی سالار احمد غازی عباسی کے فرزند اور جانشین صوفی حسینی میاں عباسی معروف چھیتے میاں عباسی کا اگر ذکر نہ کیا جایے تو یقیناًناانصافی ہوگی مگر طوالت کے خدشے کی بنیاد پر اختصار کو ملحوظ خاطر رکھنا مناسب سمجھتا ہوں۔ صدیاں گذر جانے کے بعد بھی ان کا مزاراپنے اسی حالت میں من و عن موجود ہے۔ والد کی طرح آپ نے بھی ایک مسواک زمین میں لگائی، جس نے بعد میں ایک تناور درخت کی شکل اختیار کر لی او رپھر مجمع عام میں اپنے فرزند اور جانشین کو نصیحت کی کہ والد مکرم کی طرح اس خاکی بدن کو بھی اسی درخت کے چھاؤں میں دفن کرنا۔پھر یہ روایت عام سی بن گئی۔ ملک بھر میں جہاں بھی ان کے جانشین اور نسلیں آباد ہوئیں، حسب دستور انھوں نے نیم کے درخت کی سایہ دار فضا میں اپنی آرام گاہ بنایا۔ حتیٰ کہ جب ان کی نسلوں کا قیام لکھنؤ کے کاکوری علاقہ میں ہوا تو وہاں بھی یہی سلسلہ برقرار رہا۔ ان کا شجرہ نسب 27 واسطوں سے ہوتا ہوا براہ راست عم رسولؐ سیدنا عباس ابن عبد المطلب رضی اللہ عنہما تک متصل ہوتا ہے۔ 15اگرچہ ان کا نام ’’حسینی میاں‘‘ تھا، مگر والدبزرگوار (سالار احمد غازی میاں)نے ان کو دیگر فرزندان سے زیادہ محبت دی، اسی وجہ سے عقیدت مند آپ کو’ چہیتے میاں‘ کہہ کر پکارتے تھے۔ وقت کے ساتھ یہ نام مخفف اور تحریری غلطی کے باعث ’’چھیتے میاں‘‘ بن گیا اور پھر یہی لقب عام طور پر رائج ہوگیا۔ وہ بچپن سے ہی بڑے ذہین تھے۔ کم عمری میں والد بزرگوار نے آپ کو معرفت کے اسرارو رموز سے روشن کردیاتھااور تصوف کے گہرے معانی سے ان کو آشنا کر دیا تھاجس نے ان کے دل کو ایک نورانی چمک بخشی۔ اکابر صوفیا اور جید علما میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ عربی، فارسی اور اردو زبان پر مہارت حاصل تھی۔ فن شعر و ادب کووسعت دی۔ علم و عمل کی خوشبو سے فضا کو معطر کیا۔
صوفی عبد الخالق ابن عبد الحی عباسی برصغیر کے جلیل القدر بزرگ تھے۔ 1905بمطابق 1322ھ میں الہ باد کے موضع ’چھیتے مئو‘ میں تولد کیے۔ مزاج صوفیانہ اور گھر کا ماحول عارفانہ تھا جس کے باعث کم عمری میں ہی سید سمیع اللہ الہ آدی سے سلسلہ چشتیہ صابریہ میں بیعت ہو گیے تھے۔ اپنے مرشد گرامی سے والہانہ عقیدت رکھتے تھے۔ سید قاسم علی شاہ کلکتوی سے سلسلہ ناصریہ صابریہ چشتیہ اور ناصریہ شطار قادریہ میں خلافت عظمہ سے آراستہ تھے۔ ان کا روحانی مرکز ضلع پریاگ راج کے چھیتے مئو میں آج بھی واقع ہے۔ جو دریاے گنگ کے شمالی حصہ کا ایک دیہی علاقہ ہے۔ بنی نوع انسان کی بندہ پروری ان کا شعار تھا۔ عربی، فارسی، ہندی، اردو، بنگالی اور انگریزی زبانوں پر مکمل عبور حاصل تھا۔ ان کے علم و عمل اور انسان دوستی کا اثر محض الہ آباد تک محدود نہیں تھا بلکہ اس کااثر اطراف و اکناف میں بھی پھیلا ہوا تھا۔ ہر مکتب فکر اور متعدد مذاہب کے لوگ ان سے عقیدت رکھتے تھے۔ یہی سبب تھاکہ کلکتہ کی سرزمین پربھی کئی انگریز حکمران ان کے دلدادہ نظر آتے تھے وہ بغیر کسی تفریق و امتیازہر انسان سے یکساں سلوک کرتے تھے۔ ان کے ساتھ خنداں پیشانی سے پیش آتے تھے۔ چنانچہ صدیاں گذر جانے کے بعد بھی ان کانام عقیدت سے لیا جاتا ہے۔
ان کو’ تصانیف کثیرہ‘ اور’ عمدۃالشاعر‘ کے لقب سے بھی ملقب کیا جاتا تھا۔ متعدد موضوعات پر انھوں نے قلم فرسائی کی۔ خالق اپنا تخلص استعمال کرتے تھے۔ ان کے خلیفہ اور جانشین ماسٹر شاہ اکرام عباسی کے ذیعہ 2015میں راقم الحروف کوان کے کچھ کلام دستیاب ہوئے تھے۔ یہاں اختصار کو ملحوظ خاطررکھتے ہوئے محض ایک شعرپر اکتفا کرتا ہوں،ملاحظہ ہو ؎
یا رازق العباد یا خالق النجوم
بندوں پہ ترا فضل و کرم ہو علی العموم 16
یہاں تخلص ذو معنی میں استعمال ہواہے جس سے کلام کا حسن دوبالا ہو جاتا ہے۔ عمر کے آخری حصہ میں وہ ایک مجذوب کامل بن گئے تھے، جن کا سارا وجود عشق الٰہی کے نور میں ڈوب گیا تھا۔ بالآخر 9ربیع الثانی1403ھ بمطابق 14جنوری 1948،بروز جمعہ اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔ انھوں نے ہمیشہ انسانیت اور محبت کا درس دیا۔ جس سے عوام و خواص آپ کے قریب ہوئے۔ زبان سادہ اور عوامی ہونے کے باعث اردو کا فروغ ہوا۔ اسی طرح 21ویں صدی عیسوی کے بزرگ صوفی اکرام الحق عباسی بچپن سے ہی زہدو تقویٰ اور حسن اخلاق کا نمونہ تھے، خاکساری ان کے مزاج کا جزو لا ینفک تھی۔ عارفانہ ماحول میں آنکھ کھولی ۔سرکاری دستاویزات کے مطابق یکم جنوری 1945( چھیتے مئو) میں تولد کیے ۔اسی بودو باش میں پلے بڑھے۔ تصوف ان کے گھرکا اوڑھنا اور بچھونا تھا۔ تصوف میں نظریہ شہودی کے مقلد تھے لیکن وجودی نظریہ کے مخالف بھی نہیں تھے۔ وہ سلسلہ چشتیہ نظامیہ سراجیہ اشرفیہ اور قادریہ جلالیہ اشرفیہ میں صوفی سید مشتاق علی حاجی پیر گجراتی کے دست اقدس پر بیعت تھے۔ خلافت ان کو اپنے والد بزرگوار صوفی عبد الخالق عباسی ابن عبد الحی عباسی شاہ سے سلسلہ ناصریہ صابریہ چشتیہ اور ناصریہ شطار قادریہ میں حاصل تھی۔ انھوں نے ہمیشہ سچائی ،انصاف ،عاجزی اور خدمت خلق کی تعلیم دی۔ اس سے معاشرے میں اخلاقی بہتری آئی اور لوگوں کے درمیان امن و سکون پیدا ہوا۔ ان کی تعلیمات اور خدمات سے ہندوستان کی سا لمیت اور اردو زبان کو استحکام حاصل ہوا۔ ان 17 اگست 2024 بروز پیر بوقت تہجد اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔ ان کامزاراحاطہ درگا چھیتے میاں میں مرجع خلائق ہے۔ ان کو متعدد زبانوں پر مہارت حاصل تھی۔ اپنے وقت کے ایم۔ اے۔ بی ٹی سی تھے۔ عربی، فارسی اردو، ہندی اور انگریزی زبان پر عبور حاصل تھا۔ سنسکرت زبان سے بھی اچھی واقفیت تھی۔ سائنس، حساب اور پی ٹی میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ جونیر ہائی اسکول میں ہیڈ ماسٹر کے عہدے پرفایز تھے۔ علمی صلاحیت، خاکساری اور ایمان داری کے باعث اعلی افسران قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ ضلعی سطح پر ہر مذہب و مسلک کے اساتذہ احترام کرتے تھے۔ اردو کی بنیادی تعلیم پر بہت زور دیتے تھے۔ مکتب انوار العلوم مئو آئمہ، مکتب چشم صمدمئوآئمہ ،مدرسہ اسلامیہ مئو آئمہ، مکتب نور الاسلام چھیتے مئو اورمدرسہ مکتب اسلامیہ مہرونڈہ کا حقیقی وجود ان ہی کی کاوش کا ثمرہ ہے۔ اور تمام مکاتب و مدارس میں ان کا تیار کردہ نصاب ہوتا تھا جس میں اردو شعر وادب پر خاص توجہ دی جاتی تھی۔
مختصر یہ کہ مشائخ الہ آبادنے نہ صرف اردو زبان کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا، بلکہ تہذیب، ثقافت اور فکری بیداری کے فروغ میں بھی نمایاں اثرات چھوڑے۔ ان کی تعلیمات میں صوفیانہ اخلاقیات، روحانی جذبے اور انسانی ہم آہنگی کا جو پیغام تھا،وہ اردو کے نازک اور نفیس لہجے کو فروغ دینے کا سبب بنا۔ان کی مجالس اور وعظ کی محفلوں نے ایک ایسی زبان کو جنم دیا جو دلوں کو چھوتی تھی اور بعد میں اردو شاعری اور نثر میں ایک مضبوط بنیاد بنی۔ مشائخ الہ آباد (پریاگ راج) کی کاوشوں نے اردو کے فروغ کو نہ صرف زندہ رکھا بلکہ اس کی جڑیں مزیدگہری کردیں۔ آج بھی یہ تحریک زندہ ہے اور اردو کو عالمی زبان بنانے میں اپنا کردار ادا کررہی ہے۔
حواشی
1۔ رجسٹرشجرۃ الشیوخ و السادات مئو آئمہ ،ظہیر الدین ثاقب عباسی،قضیانہ کلاں مئو آئمہ الہ آباد، 1939، ص13
2۔ تاریخ مشائخ الہ آباد،محمد نظام الدین،سرسوتی آفسیٹ پریس الہ آباد،1999،ص65-69
3۔ ایضاً،ص94
4۔ ایضاًص94
5۔ ایضاً،ص110
6۔ ایضاً،ص133
7۔ ایضاً،ص136
8۔ ایضاً،ص138
9۔ ایضاً،ص139
10۔ ایضاً،ص139
11۔ خطبہ مجلس استقبالیہ جمیعت الاحناف ہند،شیخ طفیل احمد ،اسرار کریمی پریس الہ آباد،1943،ص4-5
12۔ لطایف اشرفی،ح۱،نظام یمنی،مخدوم اشرف اکیڈمی امبیڈکر نگر،1962،ص569
13۔ رجسٹرشجرۃ الشیوخ و السادات مئو آئمہ ،ظہیر الدین ثاقب عباسی،قضیانہ کلاں مئو آئمہ الہ آباد،1939،ص5
14۔ ایضاً،ص13
15۔ خطبہ مجلس استقبالیہ جمیعت الاحناف ہند ،شیخ طفیل احمد ،اسرار کریمی پریس الہ آباد،1943،ص4
16۔ بال جبریل ،علامہ محمد اقبال ،ایجوکیشنل پبلی شنگ ہاؤس دہلی،2005،ص57
17۔ رجسٹر شعاع عباسیہ،اکرام الحق عباسی،گلشن فیض چھیتے مئو، مئوآئمہ ،الہ آباد،2005، ص 21

Dr. Talib Ikram Abbasi
S/O Master Ikramul Haque
Chhitay Mau, Mau Aima, Prayagraj-212507, UP
Mob. 7800812595
Email: talibikram3@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

شمیم کرہانی کی انقلابی شاعری – مضمون نگار: اعظم عباس شکیل

  بیسویں صدی کے ادائل میں ایسے شعرا کی لمبی فہرست ہے جو آزادی ملنے سے پہلے اپنے قلم سے وار کرتے رہے اور آزادی کے بعد بھی عوام میں

اختر مسلمی کا انداز شعر و سخن مضمون نگار: سلطانہ فاطمہ واحدی

اختر مسلمی کا انداز شعر و سخن سلطانہ فاطمہ واحدی کاروانِ اردو غزل کے فن کاروں میں کچھ ایسے پیش رو رہے ہیں جن کے نام اردو ادب میں روزِ

اردو کا صوتی ذخیرہ اور صوتی نظام لاثانی ہے، پروفیسر رئیس انور

خان محمد رضوان:پروفیسر رئیس انور صاحب، یوں تو آ پ کی تحریریں رسالوں میں ایک عرصے سے دیکھ رہا ہوں مگر ذاتی طور پر آپ کے متعلق میری واقفیت کم