تلخیص
سنجیدہ ادبی اصناف کے تراجم میں سب سے زیادہ مشکل کام کسی زبان کی شاعری کا کسی دوسری زبان میں منظوم ترجمہ ہے۔اس کا سبب یہ ہے کہ شاعری جن عناصر سے تشکیل پاتی ہے وہ نثری ادب میں پائی جانے والی معنوی قطعیت سے یکسر مختلف ہوتے ہیں یعنی رمزوکنایہ ،تشبیہ واستعارہ اورابہام و اشاریت۔یہ وہ دنیا ہے جہاں الفاظ کے لغوی و حقیقی معنیٰ سے زیادہ ان کے مجازی معنی مراد ہوتے ہیں۔ شاعر اپنے جذبات واحساسات، مشاہدات و تجربات اور احوال وافکار کو ایک ایسا اسلوب اظہار عطا کرتا ہے جو مناسب و موزوں الفاظ وعلائم اوربرمحل تشبیہات واستعارات کی بہترین ترتیب وتنظیم سے وجود میں آتا ہے۔ظاہر ہے کہ ان فنکارانہ ادبی وشعری التزامات کے پس پشت وہ تہذیب اور اس کی تمام ادبی، فکری، لسانی اور تمدنی روایات بھی شامل ہوتی ہیں جو کسی دوسری زبان کے سرمایۂ شعروادب سے اسے ممتاز وممیز کرتی ہیں اور جنھیں ہدفی زبان میں منتقل کرنا ایک بے حد مشکل کام ہے۔ ادبی ترجمے کے ذریعہ تہذیبی عناصر کی ترسیل ایک پیچیدہ اور اہم کام ہے۔ تہذیب، ان تجربات کا مجموعہ ہے جو زندگی کے روزمرہ کے معمولات پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ تہذیب میں تاریخ، معاشرتی نظام، مذہب، روایتی طورطریق اور روزمرہ کے معمولات شامل ہیں۔ ایک تہذیب دوسری تہذیب سے مختلف ہوتی ہے اوراختلاف کی ان صورتوں کی تفہیم اکثر و بیشتر ایک امرمحال ہوتی ہے ۔ ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا کوئی اس شعری ترجمے کو پڑھنے والا بھی ہوگاجو اس کی اپنی زبان اورثقافت سے کسی طرح کا لسانی وتہذیبی تعلق نہ رکھتا ہو۔ شعری وادبی ترجمے کے ضمن میں چندایسے مسائل تہذیب وثقافت کے تعلق سے سامنے آتے ہیں جنھیں ہندوستانی تناظر میں سمجھناانتہائی ضروری ہے۔
تہذیبی افتراقات کے علاوہ ایک اہم مسئلہ اصل زبان اور ترجمہ کی زبان کی عدم مماثلتوں اور شعری ہیئتوں کے فرق کا ہے۔فارسی،عربی،انگریزی وغیرہ زبانوں کی شعری ہیئتوں ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں اور دوران ترجمہ ان سے نبردآزما ہوناخاصا مشکل کام ہے۔اس مسئلہ کو اردو، فارسی یاعربی اور انگریزی زبانوں کی شعری ہیئتوں کے تقابل سے واضح کیا جاسکتا ہے۔اس کے ساتھ ہی شعری ترجمے میں اس موسیقیت اور لحن کو برقرار رکھنا بے حد مشکل ہے جو ردیف وقوافی کے ساتھ بحور واوزان کی پابندی کے نتیجے میں وجود پذیرہوتا ہیں۔ زیرنظر مقالے میں ادبی وشعری ترجمے کے انہی مسائل پر گفتگو کی جائے گی۔
کلیدی الفاظ
ہدفی زبان، صوتی توازن، لسانی افتراقات، ہیئت، لحن، غنائیت، صوتی آہنگ، نبرہ، بازتخلیق۔
———
سنجیدہ ادبی اصناف کے تراجم میں سب سے زیادہ مشکل کام کسی زبان کی شاعری کا کسی دوسری زبان میں منظوم ترجمہ ہے۔اس کا سبب یہ ہے کہ شاعری جن عناصر سے تشکیل پاتی ہے وہ نثری ادب میں پائی جانے والی معنوی قطعیت سے یکسر مختلف ہوتے ہیں یعنی رمز و کنایہ، تشبیہ واستعارہ اورابہام و اشاریت۔یہ وہ دنیا ہے جہاں الفاظ کے لغوی و حقیقی معنیٰ سے زیادہ ان کے مجازی معنی مراد ہوتے ہیں۔شاعر اپنے جذبات واحساسات،مشاہدات و تجربات اور احوال وافکار کو ایک ایسا اسلوب اظہار عطا کرتا ہے جو مناسب و موزوں الفاظ وعلائم اوربرمحل تشبیہات واستعارات کی بہترین ترتیب وتنظیم سے وجود میں آتا ہے۔ظاہر ہے کہ ان فنکارانہ ادبی وشعری التزامات کے پس پشت وہ تہذیب اور اس کی تمام ادبی،فکری،لسانی اور تمدنی روایات بھی شامل ہوتی ہیں جو کسی دوسری زبان کے سرمایۂ شعروادب سے اسے ممتاز وممیز حیثیت عطاکرتی ہیں اور جنھیں ہدفی زبان میں منتقل کرنا ایک بے حد مشکل کام ہے۔ دراصل شاعری کا منظوم ترجمہ کرنے میں مترجم کو نظم کی ہیئت، خوش آہنگی (صوتی توازن) معنی اور تخیل کو دوسری زبان میں منتقل کرنے میں جو مشکلات پیش آتی ہیں ان پر سنجیدگی سے غورکرنے کی ضرورت ہے۔ یہ مسائل تہذیب وثقافت کی انفرادیت،لسانی افتراقات اور شعری ہئیتوں میں عدم مماثلت کے نتیجے میں وجودپذیرہوتے ہیں۔کوئی بھی دوزبانیں اوران میں تخلیق کیاگیاادب عام طورپرانہی بنیادوں پرایک دوسرے سے مختلف ہوتاہے۔
ادبی ترجمے کے ذریعہ تہذیبی عناصر کی ترسیل ایک پیچیدہ اور اہم کام ہے۔ تہذیب، ان تجربات کا مجموعہ ہے جو زندگی کے روزمرہ کے معمولات پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ تہذیب میں تاریخ، معاشرتی نظام، مذہب، روایتی طورطریق اور روزمرہ کے معمولات شامل ہیں۔ایک تہذیب دوسری تہذیب سے مختلف ہوتی ہے اوراختلاف کی ان صورتوں کی تفہیم اکثروبیشترایک امرمحال ہوتی ہے۔ ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا کوئی اس شعری ترجمے کو پڑھنے والا بھی ہوگاجو اس کی اپنی زبان اورثقافت سے کسی طرح کا لسانی وتہذیبی تعلق نہ رکھتاہو۔شعری وادبی ترجمے کے ضمن میں چندایسے مسائل تہذیب وثقافت کے تعلق سے سامنے آتے ہیں جنھیں ہندوستانی تناظر میں سمجھناانتہائی ضروری ہے۔
سب سے پہلے نام یعنی اسم کو ہی لے لیجیے جوایک انتہائی اہم لسانیاتی اور تہذیبی رکن ہے۔ چونکہ اس کاتعلق ایک مخصوص تہذیب سے ہوتا ہے اس لیے یہ ترجمے میں مزاحم ہوتا ہے اور دوران ترجمہ اس کی تاثراتی قدر ختم ہوجاتی ہے۔ ہندوستانی تہذیب میں لوگ دوران گفتگو اپنے بزرگوں کے لیے ضمیر کی جمع کا صیغہ استعمال کرتے ہیںجس کامقصد صرف یہ ہوتاہے کہ ان کے تئیں ادب واحترام کاتصور پیداہو۔ بعض وقت یہ طنزاً ومزاحاً بھی استعمال ہوتا ہے،مثلاً نوح ناروی مرحوم کا یہ مشہور ومعروف شعر ؎
آپ ہیں آپ، آپ سب کچھ ہیں
اور ہیں اور، اور کچھ بھی نہیں
اگراس شعر کوانگریزی یااورکسی ایسی زبان میں منتقل کیاجائے جہاں ’صیغہ تعظیم‘ کی یہ روایت نہ پائی جاتی ہوتواس شعر کالطف ہی غارت ہوجائے گا۔انگریزی ترجمہ ملاحظہ ہو:
“You are, and you are all that is; beyond you, there is nothing—nothing whatsoever.”
اصل شعر میں’آپ‘ اور’اور‘ کی تکرار نیز ’آپ‘ کے استعمال میں استہزائی اسلوب اظہار کی زیریں لہر نے شعرمیں جو لطف پیداکیاہے، انگریزی ترجمے میں اس کی منتقلی نہیں ہوسکی۔ جہاں تک معاشرتی رشتوں کا تعلق ہے۔ بیشتر ہندوستانی، بڑے کنبوں کے ساتھ رہنے کے عادی ہیں اس لیے ہر رشتہ دار کو مخاطب کرنے کی ضرورت لاحق ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ تمام ہندوستانی زبانوں میں ہر رشتہ دار کو مخاطب کرنے کے لیے مختلف الفاظ پائے جاتے ہیں۔ بیوی کے والد اور والدہ، بیوی کی بہن یا بھائی، شوہر کے بھائی یا بہن، والدہ کے بہن یا بھائی کو مخاطب کرنے کے لیے مختلف الفاظ دستیاب ہیں۔ مغربی ممالک میں مشترکہ خاندان کا تصور نہیں ہے۔ اس لیے انگریزی زبان میں ان رشتوں کے لیے متبادل الفاظ نہیں ہیں۔ کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ مشترکہ خاندان کا طرز زندگی کئی خاندانی اقدار کو زندہ رکھتا ہے۔ بعض متون میں معاشرہ یا خاندان کی اقدار پر اصرار کرنا چاہیے۔ ان اقدار کے لسانیاتی اظہارات کا کسی ایسی زبان میں ترجمہ نہیں کیا جاسکتا جس کے سامعین ان اقدار سے آگہی نہیں رکھتے۔
لباس اور زیورات اور ان سے متعلق علامات بھی مترجم کے لیے مسئلہ پیدا کرتی ہیں۔ بعض زیورات ایسی عورت کے لیے ہوتے ہیں جس کے شوہر زندہ ہیں۔ بیوہ کے لیے چند تحدیدات ہیں۔ بیوگی کا تصور مغرب میں موجود نہیں ہے۔ بیوگی کا غم ایسے سامعین کو سمجھانا ممکن نہیں ہے۔ جہاں تک غذا کا تعلق ہے کسی غذا کا ذائقہ اور اس کی مہک یا اس کی اہمیت کا ترجمہ کسی ایسے سامع کے لیے ناقابل فہم ہے جس نے اس کے متعلق کبھی سنا ہی نہیں۔ مثال کے طورپر کھانے کی بعض چیزیں چند تہواروں کے موقع پر تیار کی جاتی ہیں اور ایسی چیزیں ہندوستانی قاریوں کو کسی موسم یا کسی مذہبی کہانی، قصہ یا موقع کی یاد دلاتی ہیں۔ دوسری تہذیب کے سامع کو اس نوعیت کے تجربے سے دو چار ہونا نہیں پڑتا۔ رسوم و رواج کسی تہذیب کا حصہ ہیں چاہے وہ شادی ہو یا مردے کی آخری رسومات، تہوار ہو یا کسی دیوتا کی نذر و نیاز کی تقریب، اور اس کی چھپی ہوئی اہمیت یا علامت، مترجم کے لیے سد راہ بن جاتی ہے۔ مثال کے طورپر عیسائیوں کی شادی کے موقع پر بوسوں کا تبادلہ، اس تقریب کا ایک حصہ ہے۔ ہندوستانی ماحول میں یہ ایک نامناسب بات ہوگی۔ یہاں تک کہ عام لوگوں کے سامنے اپنے جذبات کا اظہار بھی یہاں بد اخلاقی ہے۔
ایک تہذیب کے عقائد اور احساسات، دوسری تہذیب سے مختلف ہوتے ہیں۔ ہندوستانی تناظر میں سفید رنگ پاگیزگی اورکالا رنگ، بدی کا ترجمان ہے۔ لیکن دوسری تہذیب میں شاید ایسا نہ ہو۔ کسی واقعہ، چرند و پرند سے منسوب کسی ایک تہذیب کا اچھا شگون، دوسری تہذیب میں شاید اس سے مشابہ احساسات کی ترجمانی نہ کرسکے۔ مذہبی ارکان، اساطیری قصے، کہانیاں اور اسی طرز کی دوسری چیزیں کسی تہذیب کے اہم اجزا ہیں۔ کسی متن کے ترجمے میں ایسی چیزیں رکاوٹ بنتی ہیں۔ یہ حساس مسئلہ، مترجم کی مکمل توجہ کا طالب ہے۔
شعروادب کے ترجمے کے وقت مترجم کی حیثیت سے ہمیں ایک ایسی اجنبی تہذیب سے سابقہ پڑتا ہے جو اس بات کی متقاضی ہے کہ اس کے پیغام کی ترسیل ایک نئے انداز سے کی جائے۔ کسی ایک زبان کے ادب کا انوکھا پن اس کی تہذیب سے مربوط ہوتاہے۔ اس کی لفظی تراکیب، ضرب الامثال اور محاورے جن کا استعمال فطری طورپر متعلقہ تہذیب سے اخذ کیا گیا ہے۔مثلاً انگریزی فقرہ ‘Ray of hope’ جس کا ترجمہ اردو میں ’ امید کی کرن‘ ہے۔یہاں پر اتفاق سے اردواورانگریزی میں ایک ہی تصور رائج ہے اس لیے اجنبیت کااحساس نہیں ہوا لیکن ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا اس لیے دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ترجمہ کی زبان کی تحدیدات کے دائرہ میں رہ کر اصل زبان کے تصور کو ترجمہ کی زبان میں اس کے مشابہ تصور کو ظاہر کرنے والے الفاظ سے بدل دیا جائے۔ جیسے انگریزی زبان کا محاورہ ہے۔ My Life Hangs on a Thread (میری زندگی ایک تار یا دھاگہ پر لٹکی ہوئی ہے) اس محاورے کا استعمال کرتے ہوئے اردو زبان میں اس طرح کہا جاسکتا ہے۔’میری زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں‘۔اگلا طریقہ یہ ہے کہ اصل زبان کے تخیلی تصور کو برقرار رکھتے ہوئے استعارہ کا ترجمہ، تشبیہ سے کیا جائے۔ اس طریقے کے استعمال سے کسی بھی قسم کے استعارہ کو تشبیہ میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اس طریقے کا استعمال کرنے سے انگریزی زبان کے محاورے My Life Hangs on a Thrad کا ترجمہ اردو میں اس طرح ہوگا ؎
ہستی اپنی حباب کی سی ہے
غالب کا مصرعہ ہے ’پیتا ہوں روز ابروشب ماہتاب میں ‘ لفظی ترجمہ مصرعہ کو غارت کردے گا۔ ادبی ترجمہ کچھ اس طرح ہوناچاہیے ؎
“I drink in a day beneath the clouds and under the moonlit sky.”
شاعری کے مترجمین کے لیے اصل زبان اور ترجمہ کی زبان کی عدم مماثلتوں اور شعری ہیئتوں کا فرق مسائل پیدا کرتاہے۔ فطری طورپر ہر زبان کی شعری ساختیں مختلف ہوتی ہیں، ان کو اردو، فارسی یاعربی اور انگریزی زبانوں کی شعری ہیئتوں کے تقابل سے واضح کیا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر عربی شاعری کی تقسیم اس کی ساخت کے اعتبار سے نہیں ہے۔اس کے بجائے اس کی درجہ بندی نفسِ موضوع کے لحاظ سے ہوتی ہے، ہیئت اس کا پیمانہ نہیں ہے۔ اسی طرح قدیم عربی شاعری کی درجہ بندی اس کے صوتی آہنگ سے کی جاتی ہے جسے اہل یورپ غنائی شاعری کہتے ہیں۔ عربی شاعری عام طورپر قصیدے کی ہیئت پر مشتمل ہے جس میں نہ بند ہوتے ہیںاورنہ ہی اشعار کی تعداد طے ہوتی ہے۔ہاںیہ ضرورہے کہ عام طورپر سو سے زائد اشعار نہیں ہوتے۔ اسمٰعیل النجار کے مطابق:
’’ شعر کے وزن کے لحاظ سے قصیدہ تیس صوتِ رکن پر مشتمل ہوتا ہے جو دو مصرعوں میں تقسیم ہوتے ہیںاور اس کا پہلا نصف حصہ پست آواز میں اور دوسرا حصہ بلند آواز میں ہوتا ہے۔قصیدے کے دو مصرعوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہوتا ہے جتنا دو الفاظ کے درمیان میں ہوتا ہے اور ہر مصرعے کے ختم پر قافیہ کی تکرار ہوتی ہے،اس کے علاوہ شروع کے مصرعے اکثر ہم وزن ہوتے ہیں۔‘‘1؎
جہاں تک اردو کی اصناف شعر کا تعلق ہے موضوع و ہئیت دونوں کے اعتبار سے ان کا تعین کیا جاتا ہے،مثال کے طور پر غزل کی ہیئت متعین ہے لیکن موضوعات نہیں۔ حیات و کائنات کا کوئی بھی مسئلہ غزل کا موضوع ہوسکتا ہے، ہاںغزل کے فنی التزامات کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ یعنی موضوع کوئی بھی ہو لیکن غزل کے اشعار کو رمزیت و ایمائیت،داخلیت و دروں بینی اور تاثر و کیفیت کا حامل ہونا چاہیے۔اب آئیے قصیدے کی طرف کہ جس کا موضوع اور ہیئت دونوں ہی طے شدہ ہیں،قصیدے کی ہیئت کم وبیش وہی ہے جوغزل کی ہے۔رباعی کی ہیئت اوروزن متعین ہے لیکن موضوع نہیں،جدید نظم کا معاملہ اور بھی پیچیدہ ہے کہ جس میں موضوعات و ہیئت کے لحاظ سے بے پناہ تنوع پایاجاتا ہے یعنی نظم معریٰ، آزاد نظم، نثری نظم وغیرہ، اس کے ساتھ ہی موضوع کی کوئی قید نہیں ہے۔اردو کی شعری اصناف میں مرثیہ کو ہم موضوع و ہیئت دونوں کے لحاظ سے دو مختلف زمروں میں تقسیم کرسکتے ہیں،شخصی مرثیے اور واقعہ کربلاپر لکھے گئے مرثیے۔ عام طور پرجن مرثیوں کے فنی معیارات پر ہمارے یہاں گفتگو ہوتی ہے وہ وہی مرثیے ہیں جو واقعہ کربلا پر لکھے گئے ہیں۔یہ صحیح ہے کہ مرثیہ گو میر ضمیر نے ’طرزنوی ‘ کا جو دعویٰ واقعہ کربلاسے متعلق مرثیے کو مسدس کی ہیئت میں لکھ کر اور اسے چہرہ، سراپا، رخصت، آمد، رجز، جنگ، شہادت اور بین جیسے عناصر ترکیبی میں تقسیم کرکے کیا تھا اس سے قبل اور اس کے بعد بھی کربلا سے متعلق مرثیے مختلف ہئیتوں میں لکھے جاتے رہے ہیںلیکن میرضمیر کے اس ’طرزنوی‘ کے بعد عام طور پر وہ تمام مرثیے مسدس کی ہئیت میں ہی لکھے گئے جن کا موضوع واقعۂ کربلا ہے۔یہ اوربات ہے عصر حاضر میں پاکستان کے کئی مرثیہ گو شعرا مثلاً رئیس امروہوی اور آل رضا وغیرہ نے مرثیے میں مخمس اور ترجیح بند جیسے ہیئتی تجربے بھی کیے ہیں۔
اسی طرح انگریزی میں غنائی شاعری کی کئی اقسام ہیں جیسے سانیٹ ( چودہ مصرعوں والی نظم) افسانوی یا عشقیہ گیت، حز نیہ، مرثیہ،مقفیٰ غنائی گیت۔ان میں سے ہر ایک کی ایک مخصوص ساخت و ہیئت ہے۔ مثلاً شیکسپیئر کا سانیٹ(Sonnet) عام طور پرچودہ سطروںکا ہوتا ہے جو تین رباعیوں اور ایک بیت (دو مصرعے) پر مشتمل ہوتا ہے اور جس کی تقطیع ہمیشہ متعین ہوتی ہے۔ جہاں تک انگریزی میںقطعات کی ساخت کا سوال ہے، ا س کی کئی اقسام ہیں۔ اطالوی زبان کی شعری اصناف میں Terza rima تین ابیات والا مقفیٰ کلام ہوتا ہے،دانتے کی شہرہ ٔ آفاق تخلیق’ نغمہ طربیہ‘ (اسی شعری ہئیت میں ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور اطالوی شعری صنف Ottava rima ہے جوآٹھ مصرعوں پر مشتمل ایک بند کی شکل میں ہوتی ہے۔انگریزی اور کئی دیگر مغربی زبانوں میں بیانیہ اور غنائی نظموں میں ایک بند چھ یا سات ابیات پر مشتمل ہوتا ہے۔ سولہویں صدی کے انگریزی شاعر اسپنسر کی نظم’فیری کوین ‘ میں استعمال ہونے والا بند، آٹھ پنچ رکنی مصرعوں کے ساتھ ایک شش رکنی مصرع پر مشتمل ہوتا ہے جسے انگریزی میں Stanza Spenserian کہتے ہیں۔اس کے علاوہ انگریزی زبان کی غنائی یا عشقیہ شاعری میں تین تا چار صوت رکن ہوتے ہیں اور ان میں درمیان میںوقفہ ہوتا ہے۔ عام طور پر انگریزی کی بحروںمیں دو الفاظ اس وقت ہم وزن ہوتے ہیں جب لفظ کے آخری مصوتہ پر بل یعنی نبرہ ہو اور اس کے بعد ہم وزن آواز یں تسلسل کے ساتھ آئیں جیسے گیم (Game) اور فیم (Fame)۔
یہی وہ فنی نزاکتیں ہیں جو اس امر کی متقاضی ہیں کہ منظوم شعری ترجمے کے لیے مترجم کا نہ صرف یہ کہ شاعر ہونا ضروری ہے بلکہ اس کو اصل زبان اور ترجمے کی زبان کی شعری ہیئتوں کا مکمل ادراک ہونا چاہیے۔ چونکہ زبانوں کی تہذیبیں اور ان کا لسانی مزاج ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے اس لیے مترجم کو قوافی کی تلاش کے دوران اکثروبیشترناکام و نامراد رہناپڑتا ہے۔ایسی صورت میں بہتر یہی ہے کہ وہ پہلے ہی یہ طے کر لے کہ کسی بھی شعری تخلیق کا منظوم ترجمہ آزاد نظم میں یاپھر مقفیٰ شاعری میں کیا جائے۔
ترجمے کے دوران شعری ہئیت کے تعلق سے جن مسائل کا ذکر اوپرکیا گیا ہے وہ کسی بھی منظوم ترجمے میں صوتی آہنگ کی منتقلی کا راستہ بھی روکتے ہیں کیونکہ کسی بھی صنف شاعری کا ہئیتی نظام ایک خاص قسم کے صوتی آہنگ کی تشکیل کرتاہے جسے ترجمے کی زبان میں منتقل کرنا آسان نہیں ہے یہی سبب ہے کہ فارسی یا اردوشاعری کا انگریزی زبان میں ترجمہ کرتے وقت اس کے صوتی آہنگ کی نقل کرنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ الفاظ کے شروع میں ایک ہی آواز کی تکرار یا متصل واقع ہونے والے الفاظ میں حرف صحیح کی تکرارسے جو آہنگ پیدا ہوتاہے اسے تر جمے میں منتقل نہیں کیا جاسکتامثلاً ؎
کاو کاو سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ
صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا
دل کا اجڑنا سہل سہی بسنا سہل نہیں ظالم
بستی بسنا کھیل نہیں ہے بستے بستے بستی ہے
ان اشعار کا صوتی آہنگ ترجمے کی زبان میں منتقل کرنا ایک مسئلہ ہے،شاید اسی لیے جانسن نے کہا تھا کہ ’’کسی زبان کی شاعری کا حسن اسی زبان میں محفوظ رہ سکتا ہے۔‘‘ غالب کا مشہور زمانہ شعر(مطلع)ملاحظہ کیجیے ؎
آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک
کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک
اب اس کا انگریزی ترجمہ دیکھیے جو جے اے کول نے کیا ہے :
I konw the lover may sigh the livelong day
To touch the loved one’s heart;
It takes too long to win thy love, and
Can death outlive and hope to quell thy curs?
اب اسی شعر کا وہ ترجمہ دیکھیے جو رالف رسل نے کیا ہے :
My sigh will a lifetime to
touch your unfeeling heart
Who lives so long a life
that he can hope to conquer you?
مندرجہ بالا دونوں تراجم اصل شعر کے عروض کے ضیاع کو ظاہر کرتے ہیں۔ دونوں مترجمین معنی کے لحاظ سے اصل شعرسے پوری طرح وفادار ی کے باوجود اس کے تاثر کو منتقل کرنے میں ناکام رہے۔اس کے علاوہ ایک اور فرق بھی واضح طور پر سامنے آتا ہے۔کول کا ترجمہ ہندوستانیت کا حامل ہے،زبان ضرور انگریزی ہے لیکن اسلوب اظہار انگریزی کا نہیں ہے۔اس کے برعکس رسل کا ترجمہ انگریزی ذوق کی عکاسی کرتا ہے۔بہرحال یہ دونوں ترجمے اچھے ہیں لیکن اس قوت اظہار سے محروم ہیں جو غالب کے مندرجہ بالاشعر میں پائی جاتی ہے۔ صوتی آہنگ اور قوت تخیل کے لحاظ سے غالب کی شاعری جس قدر مالا مال ہے اسے ترجمے میں منتقل کرنا ایک دشوار گذار عمل ہے۔
اسی طرح غنائی شاعری کے معنی و مفہوم کے ابلاغ کے لیے اس کی موسیقی ایک اہم عنصر ہے۔ اس میں وہ معنی پوشیدہ ہوتے ہیں جن کی اہمیت الفاظ کے معانی سے کم نہیں ہے۔ بعض دفعہ لغوی معنی سے زیادہ اس کی موسیقی اور اس کا صوتی آہنگ زیادہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر گیتوں کو ہی لے لیجیے،جہاںالفاظ سے زیادہ اہمیت لحن یا تان کی ہوتی ہے۔ عنانی اپنی تصنیف’ الترجمۃ الأدبیۃ بین النظریۃ والتطبیق‘ میں رقم طراز ہے :
’’نغموں کا ہیئت کے لحاظ سے ترجمہ چاہے کتنا ہی صحیح کیوں نہ ہو، اگراس میں صوتی آہنگ اور غنائیت نہ ہوتو وہ شعر کے مفہوم یا اس کی روح کو ختم کردیتا ہے۔‘‘ 2؎
غنائی شاعری میں الفاظ سے زیادہ لحن کی اہمیت ہوتی ہے۔لحن کا انحصار الفاظ کی ترتیب پربھی ہوتا ہے،مترنم الفاظ کی مناسب وموزوں ترتیب وتنظیم ایک خاص قسم کی موسیقیت کو جنم دیتی ہے۔اب اگر ایسے کلام یا نظم کو موسیقی کے اتار چڑھائو کے ساتھ پیش کیا جائے تو اس کی نغمگی میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔بنجامن اس بات پر اصرار کرتا ہے کہ مترجم کو چاہیے کہ وہ ترجمے کے دوران اس صوتی آہنگ یا لحن کوہرگز فراموش نہ کرے جو اساسی زبان کی شاعری میں الفاظ کی مخصوص ترتیب و تنظیم سے پیدا ہوا ہے۔اسی ضمن میں اس کا مزید کہنا ہے کہ مترجم کو غنائی نظموں کا ترجمہ کرتے وقت مفہوم سے زیادہ صوتی آہنگ پر زور دینا چاہیے۔مثال کے طورپر فارسی کے اس مصرعہ اور پھر اس کے منظوم اردو ترجمے پرایک نظر ڈالیے ؎
چرا کارے کند عاقل کہ باز آید پشیمانی
ترجمہ ؎
کرو تم کام کیوں ایسا کہ جس سے ہو پشیمانی
قطع نظراس سے کہ لفظ عاقل کاترجمہ نہیںکیاگیا ہے،آپ نے دیکھا کہ مترجم نے ’بازآید پشیمانی‘ کا ترجمہ ’ جس سے ہو پشیمانی ‘ کیا ہے جو فارسی الفاظ کے لغوی ترجمے سے کسی قدر انحراف کا حامل ہے۔لیکن مفہوم کی سطح پر اس لفظی انحراف سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ ’باز آید پشیمانی‘ یعنی پشیمانی واپس آئے فارسی کا روزمرہ ہے اردو کا نہیںاس لیے لفظی ترجمے کاتوسوال ہی نہیں پیدا ہوتا اس کے برعکس ’شرمندگی یا پشیمانی ہو‘یہ اردو کا روز مرہ ہے اس لیے یہاں اس کا استعمال ہی بہتر ہے اور اس کے ساتھ ہی وہ صوتی آہنگ یا غنائیت جوفارسی مصرعے میں پائی جاتی ہے،اس منظوم اردو ترجمے میں بھی بدرجہ ٔ اتم موجود ہے۔یہی وہ اسباب ہیں جن کی بنا پر ترجمے سے متعلق مشہور پرتگالی نظریہ ساز کان سی لوزا کاوال ترجمے میں غنائی شاعری کے لیے یا لحن کی منتقلی کی اہمیت پر ان الفاظ میں زور دیتاہے :
’’یہ لحن ہی ہے جوخیال کو سماعت عطا کرتا ہے یا حافظے میں گونجتا ہے۔اسے اگر محسوس بھی کرنا چاہیں تو الفاظ کم پڑ جاتے ہیں۔اپنی سماعت کو لحن کے مطابق بنانا شاعری کے مترجم کااہم کارنامہ ہوتا ہے۔اسے ہی اس کی اولین ترجیح ہونا چاہیے۔‘‘ 3؎
مندرجہ بالا اقتباس میں کان سی لوزا کاوال نے غنائی شاعری کے ایک اہم وصف کی جانب اشارہ کیا ہے کہ اکژوبیشتر وہ خیال جو الفاظ کے ذریعے پورے طورپر ظاہر نہیں ہوتا،اس لے یا لحن سے سامع تک پہنچ جاتا ہے جو غنائی شاعری میں پائی جاتی ہے۔اس کے مطابق لحن دراصل ان خیالات کو ہم تک پہنچاتا ہے جو بظاہر غنائی شاعری کے الفاظ سے مترشح نہیں ہوتے۔ لیکن سارا مسئلہ تو یہی ہے کہ شاعری کی یہ غنائیت و نغمگی ترجمے کی زبان میں کس طرح منتقل ہوسکتی ہے کیونکہ شاعری میں یہ غنائیت ان اوزان وبحور کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے جو ہر زبان کی شاعری کے لیے ہی مخصوص ہوتے ہیں اور کسی دوسری زبان میں انھیں منتقل کرنا بے حد مشکل ہوتا ہے۔یہی سبب ہے کہ منظوم شعری ترجمے کے دوران اصل زبان اور ترجمے کی زبان کے اوزان اور بحور کی عدم مطابقت بھی اشعار کا ترجمہ کرنے میں مسائل پیدا کرتی ہے۔مثال کے طور پر اردوکے بحوراور اوزان عربی اور فارسی کی طرح قابل پیمائش ہوتے ہیں یعنی ان میں ماتراؤں کی تعداد معین ہوتی ہے اس کا انحصار شعر میں استعمال کیے گئے مصوتوں اور مصمتوں پر ہے۔ عام طورپر ہر صوت رکن، مصمۃ سے شروع ہوتا ہے، بحر کے ارکان، صوت رکن کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں اور باہم مل کر شعر کے وزن و آہنگ کو وجود میںلاتے ہیں۔ اس کے بر خلاف انگریزی زبان کے شعر کا وزن صفاتی ہوتا ہے جس کا انحصار صوت رکن کے تلفظ کی ادائیگی پر ہوتا ہے نہ کہ صوت رکن کی تعداد پر۔ انگریزی زبان کے اشعارکی بحر کا انحصار صوت رکن اور نبرہ یعنی لفظ کے بَل پر ہے۔ یہ صحیح ہے کہ عربی،فارسی یااردو زبانوں کی طرح ہی انگریزی زبان کے اشعار میں بھی وزن یا بحر کا استعمال ہوتا ہے۔ لیکن یہ بحرحامل نبرہ صوت رکن اور خفیف صوت رکن کے ایک مخصوص تسلسل کا مجموعہ ہوتی ہے۔ شعر کے وزن کی ماتراؤں کے لحاظ سے انگریزی کی غنا ئی شاعری میںاستعمال ہونے والی بحرصوتی اعتبار سے دو طرح کی ہوتی ہے، پہلی قسم کی بحر میں آواز کی لہریں گرتی ہوئی بحر سے ابھرتی ہوئی بحر کی طرف منتقل ہوتی ہیں جب کہ دوسری قسم کی بحر میں آوازیں ابھرتی ہوئی بحر سے گرتی ہوئی بحر کی طرف سنائی دیتی ہیں۔ اس کو بنیادی صوتی آہنگ کہا جاتا ہے،ذیل میں ایسے رکن بحر کی مثال پیش ہے۔
The/ cur/few tolls/ the knell/ of par/ting day
چونکہ انگریزی کے مندرجہ بالا مصرعے میں پانچ جگہوں پر نبرہ یا بَل(Stress) آیا ہے اس لیے اس کو Iambic pentameter کہتے ہیں۔یہ انگریزی شاعری کی ایک معروف بحر ہے جو مختلف شعری ہئیتوں خاص طور پر نظم معریٰ میں استعمال کی جاتی ہے۔ شیکسپیئر نے بھی اپنے ڈراموں کے منظوم حصوں اور سانیٹس میں اسے برتا ہے۔
ہیئت، بحراوراوزان سے متعلق اس مختصرسی بحث سے یہ نتیجہ نکالنا غلط نہ ہوگا کہ مترجم کسی زبان کے صوتی آہنگ کا دوسری زبان میں ترجمہ نہیں کرسکتا چاہے وہ کتنا ہی ماہر کیوں نہ ہو۔ درحقیقت اسے ایساکرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے کیونکہ اصل زبان کا صوتی آہنگ ترجمہ کی گئی زبان کے قاری کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اس کے بجائے مترجم کو چاہیے کہ وہ فنی طورپر اصل زبان کے صوتی آہنگ کو اس سے مشابہ ہدفی زبان کے صوتی آہنگ میں منتقل کرے تا کہ ہدفی زبان کا قاری اس سے محظوظ ہوسکے۔شیکسپیئر کے سانیٹس(Sonnets) کے مترجم کواردو زبان کی شاعری کے صوتی آہنگ اور عروض سے واقفیت ہونی چاہیے تا کہ شیکسپیئر کے اشعار کے صوتی آہنگ کو اس طرح پیش کیا جاسکے جو اردو زبا ن کے قاری کے لیے موزوں ہو۔ دراصل منظوم شعری ترجمے کے دوران مناسب و موزوںبحروں کے انتخاب کا انحصار اس بات پر ہے کہ مترجم نظم کے سیاق و سباق کا کس طرح ادراک کرتا ہے۔ اگر وہ اصل زبان کے ساتھ ہی ہدفی زبان کے شعری نظام سے پوری طرح واقف ہے تو بحروں کے انتخاب میںذہانت کا ثبوت دے گاورنہ پوری طرح ناکام ہو جائے گا۔بنیادی طورپر شاعری کا ترجمہ معنوی ترجمہ ہونا چاہیے، کیونکہ کسی بھی زبان کی شاعری جمالیاتی اور تاثراتی اقدار کا مثالی نمونہ ہوتی ہے۔ اس کا ترجمہ کرتے وقت مترجم کو لسانیاتی، ادبی، جمالیاتی، معاشرتی اور تہذیبی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لسانیاتی مسائل میں الفاظ کی ترتیب اور مبہم نحوی ساخت شامل ہیں۔ جمالیاتی مسائل کا تعلق، شعر کی ہیئت، استعاراتی جملوں اور اصوات سے ہے۔ جہاں تک معاشرتی و تہذیبی مسائل کا تعلق ہے یہ اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب مترجم چار بڑے معاشرتی تصورات و نظریات یعنی تخیلات، ماحولیات، طرز عمل اور عملی نتائج کے حامل جملوں کا ترجمہ کرتا ہے۔
چند ناقدین کا یہ خیال ہے کہ شاعری ترجمے میں ’ گم‘ ہوجاتی ہے یا اشعار ’ ناقابل ترجمہ ‘ ہوتے ہیں۔ لیکن اس کے برعکس ایک دوسرا نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ اشعار کا تحفظ کیا جاسکتاہے، مثالوں کے ذریعے انھیں سمجھا یا جاسکتا ہے، اگر معیاری تحریر لکھی جائے تو ان کی توضیح و تشریح کی جاسکتی ہے۔ کیونکہ مترجم کے ذریعے شاعری کی یا اشعار کی بڑی حد تک باز تخلیق کی جاسکتی ہے۔ یقینا اس میں اصل شاعری کا رنگ نہیں ملے گا۔ہوسکتاہے کہ کبھی یہ رنگ اصل سے زیادہ رنگین اور تابناک نظر آئیںاور کبھی اصل کے مقابلے میں بالکل پھیکے،بہرحال اصل تو نہیں ہوں گے۔کاپ (Kopp) 4؎کے مطابق اچھا ترجمہ، شاعری کے محرکات تو تلاش کرلیتا ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہ اس کے طریق عمل سے بھی واقف ہو۔ یہاں پر جو نکتہ غور کرنے کے قابل ہے وہ یہ ہے جیسا کہ ادبی ترجمہ مترجم کے لیے ایک مسلسل آزمائش ہے جس میں وہ اس وقت تک مبتلارہتاہے جب تک کہ ترجمہ مکمل نہ ہوجائے۔ جیکسن(Jackson) نے تو ادبی ترجمہ کوایک علحدہ صنف قراردیاہے۔وہ یہ دعویٰ کرتاہے کہ ادبی ترجمہ، ایک طرف مقصد اور نتیجے کی تشریح کا بڑی حد تک تقاضا کرتا ہے، دوسری جانب، ادبی مترجم ادبی تحویل حرفی میں اتنی دلچسپی نہیں لیتا جتنی کہ اس کی فروعیات جیسے فعل کی خاص صورتیں، لہجہ، طور(معروف و مجہول) صوت، جواب وغیرہ میں اس کی دلچسپی ہوتی ہے۔ اپنے اس نقطۂ نظر کی مزیدوضاحت کے لیے جیکسن نے پیٹراک (Petravch) کے الفاظ مستعار لیے ہیں:
’’ ایک مقلد ( طرز تحریر کی نقل کرنے والا) کو یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ جو لکھ رہا ہے وہ مماثلت رکھتاہے لیکن اس میں یکسانیت نہیں ہے اور مماثلت، تصویر یا مجسمے کی طرح نہ ہو بلکہ بیٹے میں باپ کی مشابہت کی طرح ہو، جہاں اکثر جسم کی وضع قطع اور خط و خال میں فرق ہوتا ہے لیکن پھر بھی کچھ نہ کچھ جھلک ضرور ہوتی ہے خاص طورپر چہرہ اور آنکھوں میں۔ ہمیں بھی چاہیے کہ مماثلت کے ساتھ زیادہ تر عدم یکسانیت بھی پیش کریں۔ ایسی کہ اس کی نشان دہی ناممکن ہو صرف قریب سے دیکھ کر پہنچاننے سے فرق محسوس ہو۔ یہ ایسی خاصیت ہے جس کی تشریح کرنے کی بجائے اسے محسوس کیا جاسکتا ہے۔‘‘5؎
پیٹراک کی مندرجہ بالارائے بالکل درست ہے۔ادبی ترجمہ بطورخاص شاعری کاترجمہ تخلیقی عمل کااس طرح حصہ بننا چاہیے کہ اصل فن پارے کی ادبی وفنی جھلکیاں بھی نظرآئیں اور ہدفی زبان کے ادبی وشعری اسلوب کابھی پوری طرح خیال رکھا جائے۔یہ کام آسان نہیں ہے اسی لیے ادبی و شعری ترجمے کوہدفی زبان میں ایک طرح کی بازتخلیق قرار دیاجاتا ہے۔اردومیں اس طرح کے تخلیقی ترجمے کی ایک اچھی مثال نظم طباطبائی کاوہ منظوم ترجمہ ہے جوانھوں نے مشہور انگریزی شاعر تھامس گرے کی شہرۂ آفاق نظم An Elegy in a Country Churchyard کا ’گور غریباں‘ کے عنوان سے کیاہے۔یہاں اسی منظوم ترجمے سے ایک سادہ سی مثال دی جارہی ہے جس سے یہ واضح ہوگا کہ ترجمے میں نظم کی شعری ساخت (Poetic Structure)کو برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ جیسے جیسے ہم نظم کی اگلی سطریں پڑھتے جائیں گے ہمیں اس بات کا اندازہ ہوگا کہ نظم کے حسن کو برقرار رکھنے کے لیے اس کے اشعار کی ساخت کو برقرار رکھنے کی جو کوشش کی گئی ہے وہ کتنی اہمیت کی حامل ہے۔ ہیئت کے اعتبارسے ٹامس گرے کی نظم چارسطری بند پر مشتمل ہے۔ ہر بند کاپہلا اورتیسرا نیز دوسرااورچوتھا مصرعہ ہم قافیہ ہے۔ مترجم نے اس نظم کے منظوم ترجمے میں بھی اسی ساخت کوبرقراررکھاہے۔یہاں بھی چارسطری بند کے چاروں مصرعے اسی ترتیب سے آتے ہیں یعنی پہلااورتیسرا نیزدوسرااورچوتھا مصرعہ ہم قافیہ ہے۔ صرف دو بند اوران کاترجمہ ملاحظہ ہو:
The curfew tolls the knell of parting day
The lowing herd wind slowly o’er the lea,
The plowman homeward plods his weary way
And leaves the world to darkness and to me.
وداع روز روشن ہے گجر شام غریباں کا
چراگاہوں سے پلٹے قافلے وہ بے زبانوں کے
قدم گھر کی طرف کس شوق سے اٹھتا ہے دہقاں کا
یہ ویرانہ ہے، میں ہوں اور طائر آشیانوں کے
Now fades the glimm’ring landscape on the sight,
And all the air a solemn stillness holds,
Save where the beetle wheels his droning flight,
And drowsy tinklings lull the distant folds;
اندھیرا چھاگیا دنیا نظر سے چھپتی جاتی ہے
جدھر دیکھو اٹھاکر آنکھ ادھر اک ہوکا ہے عالم
مگس لیکن کسی جا بھیرویںبے وقت گاتی ہے
جر س کی دور سے آواز آتی ہے کہیں پیہم
جہاں تک انگریزی سے اردومیں مفہوم کی منتقلی کاتعلق ہے مترجم نے اصل مفہوم بے کم وکاست اردومیں منتقل کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔البتہ پہلے بند کے آخری مصرعہ میں اس نے قدرے آزادی سے کام لیا ہے۔مصرعہ کااصل مفہوم یوں ہے کہ گھر کو لوٹتے مویشی اور دن بھر کاتھکاہاراکسان تاریکی اور دنیایعنی ماحول کوشاعر کے حوالے کرکے جارہے ہیں۔ یہ ایک شعری طرزاظہارہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ شاعر کوتاریکی وتنہائی کے حوالے کرکے کسان اوراس کے مویشی اپنے گھر واپس چلے گئے۔ اس مصرعہ میں کہیں بھی آشیانوں میں محوخواب پرندوں کاذکر نہیں ہے۔مترجم نے کسان اوراس کے جانوروں کے چلے جانے سے اس مقام کے ویران ہوجانے کاذکر توکیاہے لیکن ماحول کی تاریکی کوآشیانوں میں موجود طائروں کاذکرکرکے ابھارنے کی کوشش کی ہے۔ ظاہر ہے کہ پرندے شام کے دھندلکے میں اپنے آشیانوں کو لوٹ جاتے ہیں۔دوسرے بند کے چوتھے مصرعہ میں بھی مترجم نے دوران ترجمہ مفہوم کی منتقلی میں اسی تخلیقیت کاثبوت دیاہے۔لفظ ’جرس‘ عربی الاصل لفظ ہے جو گھنٹی کے لیے استعمال ہوتا ہے اورعام طورپراس سے مراد وہ گھنٹیاں ہوتی ہیں جو جانوروں کے گلے میں باندھی جاتی ہیں۔ قافلے کے کوچ کیے جانے کے وقت جو ناقوس یاطرحی بجائی جاتی تھی اسے بھی جرس کہتے ہیں۔ ٹامس گرے کے مصرعہ میںایک لطیف سااشارہ بوقت شام چراگاہوں سے اپنے باڑے کی طرف واپس جاتے مویشیوں کے گلے میں بندھی ہوئی گھنٹیوں کی آواز کی جانب ہے اوراسے ہی مترجم نے لفظ ’جرس‘ کے استعمال سے اردومیں منتقل کیاہے۔ یہی وہ تخلیقیت ہے جس سے ایک باشعورمترجم ادبی وشعری ترجمے کے دوران کام لیتا ہے۔اگر مترجم کے پاس یہ شعور نہ ہوتو شعروادب کاترجمہ یکسر ناکام ہوجائے گا۔
شعروادب کے ترجمے کی یہی وہ دشواریاں ہیں جنھیں ماہرفن مترجم باز تخلیقی عمل کے ذریعے حل کرتاہے اوراس طرح ایک کامیاب ادبی ترجمہ وجودمیں آتاہے۔ اس کامیاب ترجمے کے لیے مترجم کا ادب شناس ہونااور شعروادب کے اسرارورموز سے واقف ہوناضروری ہے۔ اگر مترجم خودہی شاعر وادیب ہے توادبی ترجمہ ہدفی زبان میں ایک تخلیقی ادب پارے کی حیثیت اختیار کرلے گااوریہی اس کی کامیابی کی ضمانت ہوگا۔
حواشی
- The Problematic Areas in Literary Translation by Ismail El-naggar, pg 07
- Al-Tarjuma Al-Adabbiyya by Mohammed Enani, pg 64
- A Little Conversation about Tone and Translation by Vasconcelos de Carvalho, pg 38
- Kopp, M (1998). Poetry in Translation. Retrived March 12. 2003 from the world wide web:
http://www.geocities.com/paris/bistro/2207/apoe - Jackson, R (2003). From translation to imitation Retrived March 12, 2003 form the worldwide web:
http://www.ut.edu/~engldept/pm/ontransl.htm.
Prof. Syed Mahmood Kazmi
LQ-Staff Quarters
Maulana Azad National Urdu University
Gachibowli
Hyderabad- 500032 (Telangana)
Mob.: 9949060358, sm_kazmi@yahoo.com