تمل ناڈو میں نثری اردو تراجم کا ارتقائی سفر،مضمون نگار: حیات افتخار

September 1, 2026 0 Comments 0 tags

تلخیص

ترجمہ دو زبانوں کے درمیان حسین پل کی تعمیر کا کام انجام دیتا ہے۔ تملنا ڈو میں اردو نثر کی تاریخ تقریباً تین صدیوں پر محیط ہے۔ انگریزوں کی آمد سے قبل یہ صوبۂ کرنا ٹک کہلاتا تھا۔ اس کے بعد انگریزوں کے زیر اقتدار مدراس پریسیڈنسی کہلانے لگا۔جس کے زیراثر جنوبی ہند کے دراوڑی زبانوں کے تقریباً تمام تر علاقے شامل تھے۔ کلکتہ میں فورٹ ولیم کالج کے قیام سے بہت پہلے یہاں کی مقامی زبانوں کی تعلیم انگریزی افسران کو دینے کے لیے فورٹ سینٹ جارج کالج قائم ہو چکا تھا۔ اس ادارہ کو اس ریاست میں ار دو تراجم کی اولیت کا امتیاز حاصل ہے۔ دکنی زبان ( قدیم اردو) میں نثر اور تراجم کو فروغ دینے میں اس کالج کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ اس کے زیر اہتمام جو تراجم شائع ہوئے ان میں انوار سہیلی،حکایات الجلیلہ، اخوان الصفا اور اخلاق ہندی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
فورٹ سینٹ جارج کالج سے باہر ریاست کے بعض ادیبوں نے اردو شاعری کے دوش بدوش نثری ادب اور تراجم کو فروغ دیا۔ ان میں قاضی بدر الدولہ کا نام نمایاں ہے۔ بیسویں صدی کے دوران اس میں تیزی آئی اور بے شمار قلمکار منظر عام پر آئے۔ نثری ادب کی ترجمہ نگاری کے باب میں اہم خدمات انجام دینے والوں میں ڈاکٹر عبد الحق، محمد یوسف کو کن عمری، حسرت سہروردی، مختار بد ری، ایس ایم – حیات، علیم صبا نویدی، حیات افتخار، سید سجاد حسین،احمد بادشاہ، فیض قادری اور ایم بی امان اللہ و غیر قابل ذکر ہیں۔
کلیدی الفاظ
از سر نو تخلیق، صوبہ کرناٹک، دکنی زبان ( قدیم اردو)،نثری ادب، نثری تراجم، انوار سہیلی، حکایات الجلیلہ،کلیلہ و دمنہ،فیض الکریم، تروکرل، سلاطین معبر (مدورے کا قدیم نام) تولکا پیئم۔
———
کسی زبان کے متن کے معانی اور مفاہیم کو دوسری زبان میں منتقل کرنے کا عمل ترجمہ کہلاتا ہے۔ یہ لفظ اردو میں عربی زبان کی دین ہے جس کے معنی دوسری زبان میں کلام کی تعبیرو تشریح کرنا ہے۔ انگریزی میں اس کو ٹرانسلیشن(Translation)کہا گیا۔ یہ لفظ لاطینی سے ماخوذ ہے اور اس کے معنی ہیں پارلے جانا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک لسانی متن کو دوسرے لسانی مواد میں تبدیل کر کے اس کو ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک پار لگانا ہے۔
ترجمہ د راصل از سر نو تخلیق (Transcreation) کا عمل بھی ہے کیونکہ ترجمہ میں محض الفاظ کا متبادل نہیں ڈھونڈا جاتا ہے بلکہ کسی ایک زبان کے سماجی اور تہذ یبی سیاق وسباق کے مطابق الفاظ کو اس کے قریب ترین مفہوم کے ڈھانچے میں ڈھالا جاتا ہے چنانچہ ترجمہ ہی وہ ذریعہ ہے جو سماجی اور تہذیبی امتیازات کو قربت میں بدل دیتا ہے۔ یہ دراصل دو زبانوں کے درمیان ایک ایسے حسین پل کی تعمیر کا فریضہ انجام دیتا ہے جس سے دو مختلف تہذیبیں اور ثقافتیں ایک دوسرے کے اتنے قریب آجاتی ہیں کہ اجنبیت کا احساس ختم ہو کر یگانگت کا رنگ پیدا ہو جاتا ہے۔
تملناڈو میں اردو نثر کی تاریخ تقریباً تین صدیوں پر محیط ہے۔ بقول علیم صبانویدی:
’’مدراس(تملناڈو) میں اردونثر کی ابتدا حضرت شاہ سلطان (ولادت 1606) کی تصانیف ’دار الاسرار‘ اور ’زنجیر‘ سے ہوتی ہے مذکورہ دونوں کتابیں قدیم اردو میں تصوف کے موضوع پر ہیں اور یہ دونوں کتابیں ادارہ ادبیات اردو، حیدر آباد میں موجود ہیں۔‘‘1؎
ریاست تملناڈو، آزادی سے قبل مدراس پریسیڈنسی(Madras Presidency) کے نام سے جانا جاتا تھاجس میںتمل، تیلگو، کنڑ اور ملیالم بولنے والوں کی کثیر آبادی کے علاقے شامل تھے۔ مدر اس اس کا صدر مقام تھا۔ انگریزوں کی آمد کے وقت یہ صوبۂ کرناٹک کہلاتا تھا۔ کلکتہ میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی جانب سے فورٹ ولیم کالج کے قیام سے بہت پہلے صوبۂ کرناٹک میں انگریز افسران کو مقامی زبان اردو( د کنی) سے شناسائی کے لیے ایک تعلیمی ادارہ کا قیام (1717) میں عمل میں آیا جو پہلے پہل رائٹرس کالج (Writers College) کے نام سے جانا جاتا تھا پھر آگے چل کر یہ فورٹ سینٹ جارج کالج کے نام سے مشہور ہوا کیونکہ یہ ساحل مدراس پر واقع انگریزی حکمرانوں کے مرکز فورٹ سینٹ جارج (قلعہ سینٹ جارج) کے احاطہ میں واقع تھا۔
اس کی ابتدائی تاریخ سے متعلق ڈاکٹر محمد افضل الدین اقبال نے اپنی تصنیف ’مدراس میں اردو ادب کی نشوونما، مطبوعہ 1979‘میں لکھا ہے کہ :
’’مدراس کے گورنر مسٹر جوزف کلیکٹ(Joseph Collect) نے 1717میں فورٹ سینٹ جارج اسکول کی بنیاد ڈالی تھی جو بعد میں رائیٹرس کالج کے نام سے مشہور ہوا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کا یہ پہلا ادارہ تھا جس میں مدراس پریسیڈنسی کے علاوہ کلکتہ اورممبئی کے سول ملاز مین دیسی زبانوں کی تعلیم حاصل کرتے تھے۔ موصوف نے اپنی اسی تصنیف میں اس کے قیام کا سنہ1812 بتایا ہے۔ کالج بننے سے قبل اسکول کے نام سے (1717)میں قائم ہوا تھا اور فورٹ سینٹ کا لج مدراس اور فورٹ ولیم کالج، کلکتہ کے قیام کے مقاصد ایک تھے۔ ‘‘2؎
ڈاکٹر رفیعہ سلطانہ کے بیان کے مطابق :
’’ایسٹ انڈیا کمپنی نے جنوبی ہند کی زبانوں میں اردو کی اس قدیم شکل کو دکنی کا نام دے کر اس کی توسیع و اشاعت میں خاطر خواہ حصہ لیا۔ جہاں کلکتہ میں ہندوستانی زبان کی کتابیں تیار کی جا رہی تھیں وہیں مدراس میں اردو کی قدیم شکل دکنی کا پرچار ہو رہا تھا۔‘‘3؎
اس کالج میں ایک شعبہ تصنیف و تالیف کا بھی تھا۔ اساتذہ میں تراب نامی، حسن علی ماہلی، سید حسین شاہ وغیرہ کو کلکتہ اور شمال سے بلایا گیا۔ ان کے علاوہ شمس الدین احمد، محمد ابراہیم بیجا پوری، قاضی ارتضیٰ علی خان، مہدی واصف، غلام حسین خانی او رسید تاج الدین وغیرہ بھی اس کالج کے اساتذہ میں شامل تھے۔ ان اساتذہ سے تدریس کے علاوہ اسباق کی کتابیں تیار کرنے کا کام بھی لیا جاتا تھا۔ جن میں بیشتر ترجمے ہوا کرتے تھے۔ اس کالج کے سر پرست، ان اساتدہ سے دکنی زبان میں کتابیں لکھواتے اور ترجمے کرواتے تھے۔
اس طرح اس ادارہ کو تملنا ڈو میں اردو تراجم میں پہل کرنے کا امتیاز حاصل ہے اور اسی کے زیر اہتمام اس ریاست کا پہلا اردو ترجمہ با قاعدہ طور پر کتابی صورت میں شائع ہوا۔ نہ صرف تملناڈو بلکہ ایک اندازہ کے مطابق یہ ہندوستان کا پہلا ایسا اردو ترجمہ (دکنی اردو) تھا جو ٹائپ کے حروف میں 1824 میں اشاعت پذیر ہوا۔اس کتاب کا نام تھا ’ انوار سہیلی‘جسے دراصل محمد ابراہیم بیجاپوری نامی مصنف نے اسی نام کی حامل فارسی کتاب سے ترجمہ کیا تھا۔’ انوار سہیلی‘ کا اصل پنچ تنتر ہے یہ سنسکرت میں لکھی گئی تھی۔ اس کے جس قدر بھی ترجمے دنیا میں ملتے ہیں وہ اس کے عربی ترجمہ ’کلیلہ و دمنہ ‘سے کیے گئے ہیں۔
’کلیلہ و دمنہ ‘کا پہلا اردو ترجمہ 1803 میں شیخ حفیظ الدین نے’خرد افروز‘ کے نام سے کیا تھا وہ فورٹ ولیم کالج کلکتہ سے وابستہ تھے۔ اس کے بعد کئی اور تراجم اردو میں ہوئے لیکن جو اہمیت دکنی انوار سہیلی کو حاصل ہوئی کسی اور ترجمہ کو نہیںہوئی۔ ڈاکٹر افضل الدین اقبال کے قول کے مطابق:
’’ دکنی انوار سہیلی‘ اگرچہ ایک ترجمہ ہے لیکن مترجم نے اس محنت اور خوبی کے ساتھ اس کو اردو کا جامہ پہنایا ہے کہ انھیں مترجم کے بجائے مولف کا درجہ دیا جا سکتا ہے۔‘‘ 4؎
اس کے بعد مفتی شمس الدین احمد نے فورٹ سینٹ جارج کے زیر اہتمام پہلی بار’الف لیلیٰ‘ کی دو سو راتوں کا اردو میں ترجمہ ’حکایات الجلیلہ‘ کے نام سے شائع کیا۔سوسو راتوں پر مشتمل دو جلدیں شائع ہوئیں پہلی جلد 1836 میں اور دوسری جلد 1839 میں طبع ہوئی۔ یہ بھی الف لیلہ کا سب سے پہلا ترجمہ کہا جا سکتا ہے حالانکہ مکمل صورت میں نہیں شائع ہوا۔
اس موضوع پر داد تحقیق دیتے ہوئے ڈاکٹر افضل الدین اقبال رقم طراز ہیں؛ ’’ الف لیلہ کا پہلا عربی ترجمہ ہندوستان میں کلکتہ سے1814 میں دو جلدوں میں شائع ہوا۔ جو شیخ احمد بن محمود الشیرانی یمنی کا لکھا ہوا ہے۔ اس میں بھی 200 راتوں کا تذکرہ ہے اور جو سند باد کی کہانی پر ختم ہو جاتا ہے۔ اسی عربی داستان کاپہلا اردو ترجمہ مدراس سے 1836 میں شائع ہوا۔ اس کے مترجم شمس الدین احمد تھے۔‘‘ 5؎
’حکایات الجلیلہ‘ فورٹ سینٹ کالج کے زیر اہتمام شائع ہونے والے تراجم میں اس وجہ سے بھی اہمیت کی حامل ہے کہ یہ’الف لیلہ‘ جیسی مشہور زمانہ داستان کا پہلا اردو ترجمہ ہے دکنی نثر میں لکھا گیا جو اردو ہی کی ایک قدیم شکل ہے۔
ان کے علاوہ فورٹ سینٹ جارج کالج کے زیر اہتمام جو تراجم شائع ہوئے اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اردو زبان وادب کی بنیادی تعلیم کے فروغ میں تراجم نے نہایت ہی اہم کردار ادا کیا اور اس سے اردو ادب کے سرمایے میں بھی گرانقدر اضافہ ہوا۔ بعض اہم تراجم اور ان کے مصنفین کے نام حسب ذیل ہیں۔
.1 اخوان الصفا( علم الاخلاق پر عربی تصنیف) ترجمہ اکرام علی(مطبوعہ 1845)
.2 اخلاق ہندی، مفتی سید تاج الدین کی کتاب’ مفرح القلوب‘کااردو ترجمہ ہے۔ مصنف – میر بہادر علی حسینی،(مطبوعہ 1845)
.3 دکنی سنگھاسن بتیسی (غیر مطبوعہ – مصنف نا معلوم)
ان سب کتابوں کی اشاعت سے قبل 1791 میں کپتان ہنری ہیریس(Capt. Henry Harris) نے مدراس ہی سے ہندوستانی زبان کی ایک جامع لغت Analysis,Grammar and Dictionary of the Hindustani language کے نام سے شائع کی تھی۔ 6؎
فورٹ سینٹ کالج نے تقریباً چار د ہوں تک دکنی زبان میں ترجموں کی اشاعت میں جو کارہائے نمایاں انجام دیے ان کا اجمالی تذکرہ اس بات کا شاہد ہے۔ جس طرح شمالی ہند میں فورٹ ولیم کالج اردو زبان وادب اور خصوصاً نثری ادب کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اسی طرح جنوبی ہند میں فورٹ سینٹ جارج کالج کو بھی نثری ادب کے تراجم میں ایک اہم نشانِ راہ کا درجہ حاصل ہے۔ بقول ڈاکٹر رفیعہ سلطانہ:
’’ یہ دکنی زبان وادب کا وہ اہم ادارہ تھا جس کو تاریخ ادب میںجگہ نہیں ملی لیکن جس نے اردو کی مشاطگی میں حسب حیثیت حصہ لیا تھا۔‘‘7؎
فورٹ سینٹ جارج کا لج تقریباً 1854 تک خدمات انجام دیتا رہا۔فورٹ سینٹ کالج سے باہر بھی ریاست کے ادیبوں نے اردو شاعری کے دوش بدوش نثری ادب کے شعبہ میں طبع زاد تصانیف کے علاوہ تراجم کے ذریعہ اپنی ادبی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ اس دور کے نثری ادب کے موضوعات زیادہ تر مذہب اور تصوف سے متعلق ہوتے تھے تراجم میں بھی تفاسیر کوزیادہ اہمیت دی گئی۔
تفسیر فیض الکریم:
یہ قاضی بدر الدولہ کی لکھی ہوئی تفسیر قرآن ہے۔ ان کا سنہ پیدائش1792 اورسنہ وفات 1863 ہے۔ قیاس کیا جاتا ہے کہ انھوں نے اپنی عمر کے آخر10 سالوں میں یہ تفسیر لکھی ہوگی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ تفسیر نا مکمل ہے اور قرآن شریف کے ساتویں پارہ کے آٹھویں رکوع تک ہی مکمل ہو سکی ہے اس کے بعد ان کے فرزندوں نے اس کی تکمیل کی۔8؎
یہ تفسیر اس لحاظ سے اہمیت کی حامل ہے کہ ان کے زمانہ میں شاہ رفیع الدین اور شاہ عبد القادر نے قرآن کے اردوتراجم تو پیش کردیے تھے لیکن اردو میں تفاسیر کا سلسلہ شروع نہیں ہوا تھا۔ واضح رہے کہ شاہ رفیع الدین کے اردو ترجمہ کا سنہ تصنیف1788 بتایا جاتا ہے اور شاہ عبدالقادر کے ترجمہ کا سنہ تصنیف 1790 کہا جاتا ہے۔ 9؎
سرسید کے تفسیر القرآن کی پہلی جلد1880 میں شائع ہوئی وہ بھی مکمل قرآن کی تفسیر شائع نہ کر سکے۔ ساتویں جلد جس میں سورۃ الانبیاء تک تفسیر لکھی کہ1898 میں آپ کا انتقال ہوگیا۔
ویسے اس سے قبل رؤف احمد رافت نقش بندی مجددی کا ترجمہ اور تفسیر بعنوان تفسیر مجددی یا تفسیر رئوفی کے نام سے ملتا ہے اور ان کا تعلق رام پور سے تھا۔ ڈاکٹر سیدوہاج الدین ہاشمی کے بیان کے مطابق انھوں نے اس تفسیر کا آغاز 1823 میںکیا اور اختتام 1832 میں ہوا۔ ان کی تاریخ پیدائش 1786 بتائی گئی ہے۔
بہر حال مذکورہ بالا تاریخی حوالوں کے پیش نظر یہ دعویٰ بے جانہ ہوگا کہ قاضی بدرالدولہ کی تفسیر فیض الکریم کو جنوبی ہند کی پہلی تفسیر تسلیم کر لیا جائے جس کا اعزاز صوبہ تملناڈو قدیم نام صوبہ کرناٹک کو حاصل ہے۔
اس سے قطع نظر جن نثر نگاروں نے بیسویں صدی میں اپنی طبع زاد تصانیف اور تخلیقات کے علاوہ نثری ادب کے تراجم کے ذریعہ تملناڈو کے ادبی سرمایہ میں اضافہ کیا۔ ان میں سے چند اہم شخصیتوں کے کارہائے نمایاں کا ذکر فرداً فرداً آگے چل کر کیا جائے گا۔ یہاں یہ بات واضح کر دینی ضروری ہے کہ تراجم کے میدان میں غیر افسانوی ادب کے مقابلے میں افسانوی ادب کا پلہ بھاری ہے۔
غیر افسانوی ادب کے تراجم کے معاملے میں حسب ذیل دو شخصیتوں کو اہمیت حاصل ہے۔
ڈاکٹر عبد الحق(1900-1958)
بابائے اردو مولوی عبد الحق کے ہم نام افضل العلما ڈاکٹر عبد الحق جنھیں اپنی علمی واد بی خدمات کے پیش نظر جنوب کا بابائے اردو اور سرسید ثانی بھی کہا جاتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے ہم عصر تھے اور باہمی روابط اور مراسلاتی تعلقات بھی تھے دونوں کے درمیان اہم مراسلات کو عبدالحق بنام عبد الحق کے نام سے شائع بھی کیا گیا ہے۔ آپ کے انشائیوں مقالوں اور خاکوں کو’انشائے حق‘ کے عنوان سے دو جلدوں میں شائع کیا گیا ہے۔جہاں تک تراجم کا تعلق ہے آپ کا ایک مضمون ’حالات مصر اور اسکندریہ‘ کے عنوان سے ملتا ہے جو ابن حجرکے عربی مضمون کا ترجمہ ہے اور جس کی اشاعت ار دور سالہ’ شفق‘ دسمبر 1922 کے شمارہ میں عمل میں آئی۔
محمد یوسف کو کن عمری(1966-1990)
آپ اردو، عربی اور فارسی کے جید عالم تھے۔ مدر اس یونیورسٹی کے شعبہ اردو، عربی و فارسی کے سربراہ رہے۔ ان کی طبع زاد تصانیف انگریزی، فارسی، عربی اور اردو زبان میں ملتی ہیں۔ ان کے علاوہ آپ نے دو انگریزی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا۔ ایک کتاب کا نام ہے ’مختصر تاریخ ہند‘ جو مورلینڈ اور چٹرجی کی مشترکہ انگریزی تصنیف کا اردو ترجمہ ہے۔ دوسری کتاب کا عنوان ہے ’نامعلوم انسان‘ جو ڈاکٹر ایکس کیرل کی مشہور زمانہ انگریزی تصنیف (The Man Unknown) کانثری ار دو ترجمہ ہے۔ اس ترجمہ کی خوبیوں کے متعلق ڈاکٹر احمد بادشاہ یوں رقم طراز ہیں:
’’ نامعلوم انسان‘ خالص فلسفیانہ انداز کی کتاب ہے اس میں جو انگریزی اصطلاحیں استعمال ہوئی ہیں ان کو اردو میں منتقل کرنا آسان کام نہیں تھا لیکن مولانا بڑی آسانی سے اس مرحلے سے گزرے ہیں۔ اس کتاب میں جتنے نیم سائنسی، نیم نفسیاتی اصطلاحات استعمال ہوئی ہیں ان کا بدل تلاش کیا اور انھیں استعمال کیا۔‘‘10؎
اس اردو ترجمہ کی اشاعت 1954 میں عمل میں آئی تھی۔
آزادی کے بعد تملنا ڈو کے ادیبوں نے اپنی ریاست کی علاقائی زبان تمل کے ادب کو اردو قارئین تک پہنچانے کا بیڑہ اٹھایا۔ اس سلسلے میں مرکزی سرکاری اداروں جیسے ساہتیہ اکادمی، نیشنل بک ٹرسٹ اور پبلی کیشنز ڈیوژن و غیرہ کی سپرستی اور ان کی مالی امداد نے اس کاز کو آگے بڑھانے اور تمل زبان و ادب سے اردو میں تراجم کے رجحان کو فروغ دیا۔
آزادی کے حصول کے چند سال بعد لسانی بنیادوں پر ریاستوں کی تقسیم نے اردو کے لیے ایسے حالات پیدا کردیے کہ وہ صرف اردو پر اکتفا کر کے خود کو ایک جزیرے میں مقید رہ کر جس ریاست کے وہ باشندے ہیں وہاں کی علاقائی زبان سے رشتہ نہ جوڑناان کے لیے ایک غیر دانشمندانہ فعل ثابت ہو سکتا تھا۔ چنانچہ اس دور کے حالات کے تقاضوں کے پیش نظر اردو اور دیگر علاقائی زبانوں کے درمیان حائل خلیج کو پاٹنے کی ضرورت کا احساس پیدا ہوا تو اردو ادیبوں نے اس چلنج کو قبول کیا۔ اس کے زیر اثر ایسے ادیب جو اپنی علاقائی زبان اور مادری زبان دونوں زبانوں سے کما حقہ واقف تھے اور دونوں زبانوں کے ادب پر جن کی نظر گہری تھی،انھوں نے تمل زبان و ادب کے بعض ادبی شاہکاروں کو اردو میں ترجمہ کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ ایسی ہی چند نمائندہ شخصیات میں حسرت سہروردی، مختار بدری، ایس ایم – حیات، علیم صبا نویدی، حیات افتخار، سید سجاد حسین، احمد بادشاہ،فیض قادری اور امان اللہ ایم بی وغیرہ شامل ہیں جنھوں نے تمل کے نثری ادب کے بعض ادبی شہ پاروں کو اردو کے قالب میں ڈھالا۔جنھوں نے صرف تمل شعری ادب کو اردو میں منتقل کیا۔ یہاں پر ان کے ذکر سے صرف نظر کیا جا رہا ہے ہاں البتہ بعض ایسے اردو ادیب جنھوں نے تمل کے علاوہ انگریزی اور دیگر زبانوں کے نثری ادب کو اردو کا جامہ پہنایا یہاں پر ان کا ذکر ناگزیر ہوگا۔ ایسے ادبا میں صلاح الدین باشا برق، سیدابوالحسنات اور مظہر اشفاق وغیرہ قابل ذکرہیں۔
حسرت سہروردی(1936-2003)
حسرت سہروردی،تملنا ڈو کی ادبی دنیا کے ان نابغہ روزگار شخصیتوں میں سے ہیں جنھوں نے درس وتدریس، شاعری، نثر نگاری اور ترجمہ نگاری کے میدان میں بیش بہا خدمات انجام دیں۔ وہ تملناڈو کے ایک ضلع تروچنا پلی میں واقع مشہور و معروف تعلیمی ادارہ، جمال محمد کالج میں تقریباً 28سال تک بحیثیت صدر شعبہ اردو، تدریسی خدمات انجام دینے کے بعد 1988میں وظیفہ یاب ہوئے۔
وہ تملناڈو کے پہلے ایسے ادیب و شاعر ہیں جنھوں نے ترجمے کو اپنا خاص میدان منتخب کیا۔ ویسے ان کا پہلا ترجمہ تمل زبان کی کلاسیکی شعری ادب کے شاہکار تر وکرل کا ترجمہ تھا اور انھوں نے تمل زبان کے اس اخلاقی صحیفہ کا ترجمہ نثر میں کیا اور اس کی اشاعت ساہتیہ اکادمی، نئی دہلی کے زیر اہتمام 1965میں عمل میں آئی۔ اس کے بعد انھوں نے تمل افسانوی ادب کے منتخب شہ پاروں کو اردو میں منتقل کیا۔ نیشنل بک ٹرسٹ نے ان منتخب تمل افسانوں کے تراجم کو’تمل افسانے ‘ کے عنوان سے 1971 میں شائع کیا۔
’تمل افسانے ‘نامی اس مجموعہ میں حسرت سہروردی نے تمل زبان میں منتخب کہانیوں کا ترجمہ صاف، رواں اور شستہ زبان میں کیا ہے۔ جن میں مشہورتمل افسانہ نگاروں مثلاً پُد ومائی پِتّن، مونی، جانکی رامن، ڈی جئے کا نتن، راجم کرشنن، نا پچا مورتی، اکیلن، کلکی اور نا۔پار تا سار تھی کے افسانے شامل ہیں۔
ممتاز تمل کہانی کار پُد و مائی پِتّن کا افسانوی اسلوب خاصہ مشکل سمجھا جاتا ہے لیکن حسرت سہروردی کس طرح اس منزل سے بہ سلامت گزرے ہیں اس کا اندازہ پُدومائی پِتّن کی کہانی بعنوان ’بد دعا سے نجات ‘ کے اس اقتباس سے ہو سکتا ہے:
’’لب سڑک پتھر کی ایک مورتی پڑی تھی۔ ایسا لگتا ہے کہ اس کا بنانے والا اس دنیا کا فنکار نہیں وہ کسی دوسری دنیا کا فنکار ہوگا۔ ورنہ پتھر کی مورتی میں ایسا حسن بھلا کون بھر سکتا ہے ایک ایسی کشش جو ہر شے کو اپنی طرف کھینچتی ہے ‘‘ 11؎
اسی مجموعہ میں گیان پیتھ انعام یافتہ تمل ادیب جئے کا نتن کی کہانی بھی شامل ہے۔ جسے مترجم نے ’خاموشی بھی ایک زبان‘ کا عنوان دیا ہے۔ اس میں روی کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور وہ ایک انگریز لڑکی کے عشق میں گرفتار ہو کر اس سے شادی کر لیتا ہے۔ ماں باپ، بیٹے کے اس اقدام سے ناراض ہیں اس کی وجہ سے ماں خاموش رہنے لگتی ہے۔ اس کی خاموشی کا سبب بیٹے کا مذکورہ اقدام سمجھاجاتا ہے لیکن آگے چل کر یہ بھید کھلتا ہے کہ وہ 60سال کی عمر تجاوز کرنے کے بعد ماں بننے والی ہونے کی بنا پر شرمندگی کا احساس اس کی خاموشی کا سبب ہے جس کی وجہ سے وہ خود کشی کا بھی ارادہ کرتی ہے لیکن اس کا بیٹا جو روشن خیال ہے اس کی ڈھارس بندھاتا ہے۔روی کے مکالموں کا ترجمہ مترجم نے کس کمال فن سے کیا ہے ملاحظہ کیجیے:
’’ماں یہاں… جو لوگ تیرا مذاق اڑا رہے ہیں آخر وہ کون سی زبان ہے یہاں تو خاموشی کی زبان سے لوگ نفرت کا اظہار کرتے ہیں۔ کیا یہ لوگ ایسی خاموشی سے عزت اورمحبت کا اظہار نہیں کر سکتے۔ ماں نفرت یا محبت کرنے کے لیے کسی خاص زبان کی ضرورت نہیں ہوتی۔‘‘12؎
حسرت سہروردی نے ایک اور گیان پیتھ انعام یافتہ تمل ادیب اکیلن کے ناول ’چترا پا وائی‘ کا ترجمہ کرتے ہوئے اپنے عمدہ مترجم ہونے کی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔اس ناول کے عنوان کا ترجمہ ’تصویر بتاں ‘کے نام سے کیا ہے جو کتنا شاعرانہ اور تخلیقی نوعیت کا حامل ہے۔ ترجمے کو از سر نو تخلیق بھی قرار دیا گیا ہے اور ان کا یہ ترجمہ نہ صرف عنوان کے لحاظ سے بلکہ سارے متن کی بنیاد پر از سر نو تخلیق سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ اس کی اشاعت بھی نیشنل بک ٹرسٹ کے زیر اہتمام 1977 میں عمل آئی اور اس کی خوب پذیرائی ہوئی۔
1990 میں انھوں نے تمل زبان کے عظیم شاعر سبرامنیم بھارتی کے متعلق مونوگراف کا اردو میں ترجمہ کیا جسے تمل زبان میں پریما نندا کمارنے تحریر کیا تھا۔جسے ’ہندوستانی ادب کے معمار‘ نامی سیریز کے تحت ساہتیہ ا کا دمی نے شائع کیا تھا۔
اس طرح ہم بجا طو رپرکہہ سکتے ہیں کہ حسرت سہروردی کو آزادی کے بعدتمل سے اردو میں ترجمہ کرنے والوں میں پیش رو کی حیثیت حاصل ہے اور وہ اپنے ان لازوال ادبی تراجم کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔
مختار بدری(1938-2025)
آپ کا تعلق تملناڈو کے ضلع کر شناگری سے ہے لیکن عمر کا بڑا حصہ ممبئی میں گزارا۔ ممبئی میں قیام کے دوران خواجہ احمد عباس کے ساتھ ان کے تعلقات اتنے گہرے رہے کہ انھوں نے ان کے تقریباً سارے ناول اور بہت سارے مختصر افسانے تمل زبان میں ترجمہ کر دیے۔
خواجہ احمد عباس کے علاوہ انھوں نے اردو زبان کے دیگر مشہور و معروف ادیبوں مثلاً کرشن چندر، عادل رشید، مہندر ناتھ، عصمت چغتائی، رام لعل، ستیہ پال آنند،پشکرنا تھا اور جیلانی بانو کے ناولوں اور افسانوں کو تمل زبان میں منتقل کیا۔
محمد یعقوب اسلم اپنی تصنیف ’مٹی کی خوشبو ‘ میں مختار بدری کا خاکہ تحریر کرتے ہوئے یوں رقم طراز ہیں:
’’ان کی منتخب مترجم کہانیوں کا پہلا مجموعہ1954 میں شائع ہوا۔1957 میں عادل رشید کی منتخب کہانیوں کا تمل ترجمہ شائع ہوا۔ ناولوں اور کہانیوں پر مشتمل خواجہ احمد عباس کی 27 کتابیں انھوں نے تمل زبان میں ترجمہ کر کے شائع کرائی ہیں۔ اسی طرح انھوں نے اردوزبان کی جملہ 80 کتابیں تمل میں ترجمہ کر کے تمل دنیا کو فراہم کی ہیں۔ یہ ساری کتابیں اردو کے نہایت عظیم فنکاروں کے شہ پاروں پر مشتمل ہیں۔تمل ادب کی دنیا میں ان کے ترجموں کو بڑی وقعت اور مقبولیت کی نگاہوں سے دیکھا اور پڑھا جاتا ہے۔‘‘ 13؎
اس کے بعد کئی تمل کہانیوں کے تراجم مختلف رسائل میں شائع ہوئے۔اس کے علاوہ آپ نے تمل ناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ ایم کرونا ندھی کے مشہور ڈرامہ’سقراط‘ کو اردو کا جامہ پہنایا اور ا سے دہلی کے ایک ہفت روزہ رسالہ ’للکار‘ میں شائع کیا۔
آپ کا سب سے بڑا کارنامہ تمل اردو لغات کی اشاعت ہے۔ انھوں نے اس کام کو تن تنہا انجام دیا جب کہ اس کی ترتیب واشاعت کی ذمہ داری اداروں اور اکیڈمیوں کی تھی لیکن انھوں نے ا پنے صرف خاص سے اس ذمہ داری کو بحسن و خوبی نبھایا۔ اس کی کافی پذیرائی بھی ہوئی اور اس کا اجرا اس وقت کے تملناڈو کے گورنر سرجیت سنگھ برنالہ کے ہاتھوں ہوا۔ ان کی قابلیت سے متاثر ہو کر گورنر موصوف نے اپنی اس انگریزی کتاب کے اردو ترجمہ کی ذمہ داری انھیں سپرد کی جو انھوں نے اپنی دو منھ بولی بیٹیوں کے متعلق لکھی تھی (جن کا تعلق کشمیر سے تھا) اور وہ ٹی بی اور کینسر کی شکار ہو گئی تھیں۔ یہ کتاب اردو میں ’میری اور دو بیٹیاں‘ کے نام سے شائع ہوئی۔
انھوں نے تمل زبان کی منتخب مختصر کہانیوں (افسانچوں) کا اردو ترجمہ دو حصوں میں کیا ہے اور اس کتاب کا عنوان ہے’’ کہانیاں ہماری اور آپ کی ‘‘۔
بہرحال تمل افسانوی ادب کو اردو زبان میں اور اردو افسانوں کو تمل زبان میں منتقل کرنے کے لیے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ وقف کر دینے والوں میں مختار بدری کا کوئی نعم البدل نہیں ہے نہ صرف مقدار کے لحاظ سے بلکہ معیار کے اعتبار سے بھی ان کے تراجم قابل قدر اور وقیع حیثیت کے حامل ہیں۔
ایس ایم حیات(1937-1989)
ایس۔ ایم۔ حیات نے اپنے ادبی سفر کا آغاز طبع زاد افسانوں سے کیا لیکن جلد ہی آپ طبع زاد تخلیق سے از سر نو تخلیق یعنی ترجمے کی جانب مائل بہ طبع ہو گئے۔1965 تک آپ کے طبع زاد افسانے مختلف رسائل میں چھپتے رہے پھر اچانک آپ کا رجحان ترجمے کی جانب بڑھنے لگا۔ ان کی اس تبدیلی کے متعلق ڈاکٹر غیاث اقبال یوں رقم طراز ہیں:
’’حیات ترجمے اور کہانی میں اور کہانی و ترجمہ حیات میں اس قدر گھل مل جاتے ہیں کہ آبشار کے ساتھ جیسے عظمت اور جلال۔‘‘ 14؎
آپ نے تمل افسانوں کا ترجمہ براہ راست تمل زبان سے کیا اور دیگر زبانوں مثلاً ملیالم، بنگالی اور سند ھی وغیرہ کے افسانوں کے تراجم انگریزی زبان کے ذریعہ کیے۔ یہ افسانے ماہنامہ بیسویں صدی، تحریک، سب رس، آجکل، نگار، چنگاری، کتاب، نیا دور، شب خون، شاعر اور الفاظ جیسے رسائل میں شائع ہو چکے ہیں۔
بنگالی افسانوں سے آپ کی دلچسپی زیادہ تھی چنانچہ آپ کے ز یادہ ترترجمے بنگالی افسانوں سے کیے گئے۔ آپ کے بنگالی زبان سے ترجمہ شدہ افسانوں کا مجموعہ ’ویٹنگ روم‘کے عنوان سے 1984 میں منظر عام پر آیا۔ جس میں چودہ بنگالی افسانہ نگاروں کے افسانوں کے تراجم شامل ہیں۔ مثلاً ا آشا پور نا دیوی،بمل مترا، سنتوش کمار گھوش و غیرہ۔
آپ خود بھی افسانہ نگار تھے اور اس کی تخلیقی خوبیوں سے بخوبی واقف تھے لہٰذا آپ نے ترجموں کے لیے معیاری افسانوں کا انتخاب کیا اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کی بنا پر ان کو از سر نوتخلیق کا حامل بنا دیا۔
جہاں تک اپنی علاقائی زبان تمل سے ترجمے کا تعلق ہے انھوں نے اس زبان کے افسانوں کو بھی اردو میںمنتقل کیا۔ تمل افسانہ نگاروں میں انھوں نے گیان پیٹھ انعام یافتہ تمل ادیبوں مثلاً اکیلن اورجئے کا نتن کی تخلیقات کو منتخب کیا یہ تراجم مختلف ادبی رسائل میں اشاعت پذیر ہوئے لیکن کتابی صورت میں شائع کرنے کی مہلت ان کی مختصر زندگی میں نہ ملی۔ ان کا انتقال 52سال کی عمر میں ہی ہو گیا۔
ان کے دو افسانوں کا حوالہ ان کے تراجم کی خوبیوں کو اجاگر کرنے کے لیے پیش کرنا چاہوں گا۔ یہ دونوں افسانے ماہنامہ ’آجکل ‘ کے مشہور زمانہ’تملناڈونمبر‘( جون جولائی 1977) میں شامل ہیں۔ایک افسانہ گیان پیٹھ انعام یافتہ ادیب اکیلن کی کہانی کا ترجمہ بعنوان ’کافی کے دھبّے‘ ہے اور دوسرا افسانہ ڈی جئے کا نتن کا ہے جس کا عنوان’آج اور کل‘ ہے۔ جنھیں آگے چل کر گیان پیٹھ ایوارڈ سے نوازا گیا۔
اکیلن کی کہانی ’کافی کے دھبّے‘ دو سہیلیوںکنّما اور شانتا کی باہمی رفاقت کی کہانی ہے دونوں شادی شدہ ہیں ایک دوسرے کی مدد کرنے کا جذبہ بیان کرنے میں مترجم کے زبان کی شگفتگی ملاحظہ ہو :
’’انہی دنوں کنما کے گلشن حیات میں پہلی کلی چٹکنے والی تھی۔شانتا نے گھر کا سارا کام کاج اپنے سر لے لیا – کنما کو معمولی سے معمولی کام نہ کرنے دیتی، اسے آرام کرنے کی ہدایت کرتی۔ اس طرح شانتا، رام سنگم کے گھر میں رہنے لگی اور اس کے ساتھ اس کے حسن کی تجلی بھی۔ ‘‘
کہانی کے اختتام پر وہ معنی خیز الفاظ ملاحظہ ہوں جو با شعور قاری کے لیے پنچ لائن Punch line کی حیثیت رکھتے ہیں:
’’ کافی کے وہ دھبّے جو رام لنگم کی دھوتی اور شانتا کی ساڑی پر پڑے تھے وقت کی رفتار کے ساتھ مٹ گئے۔‘‘
دوسری کہانی جئے کا نتن کی تخلیق ہے جس کا عنوان ہے ’آج اور کل‘ جس میں بدلتے ہوئے زمانے کے مطابق اونچی ذات کے بدلتے ہوئے تصورات کو بڑی خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار ایک ایسی عورت ’گیتا‘ہے، جو شادی ہونے کے چند ماہ بعد ہی بیوہ ہو جاتی ہے۔ ماں باپ اس کی دوسری شادی کے خلاف ہیں لیکن بیٹی اپنی پسندسے شادی کر لیتی ہے تو خاندانی عزت کا سوال پیدا ہو جاتا ہے۔خاندانی روایات اس بات کی اجازت نہیں دیتے لیکن ایسے موقع پر اس لڑکی کی دا دی جو خود بیوگی کا داغ سہ چکی ہے۔ وہ اپنی پوتی کے اس اقدام کی تائید کرتی ہے اور وہ اپنے بیٹے سے کہتی ہے :
’’تمھارا دل مان جائے تو اچھا نہیں تو بیٹا سمجھ لینا گیتا کے ساتھ میں بھی مرگئی اچھا میں چلی۔ ‘‘
بہرحال ایس ایم حیات کی شخصیت تمل افسانوی ادب کے اردو تراجم کے شعبے میں انفرادی اور امتیازی حیثیت کی حامل ہے۔
علیم صبا نویدی (1923-2024)
تمل افسانوی ادب سے اردو دانوں کو روشناس کرانے والوں میں ایک اور نمایاں نام علیم صبا نویدی کا ہے۔ وہ بنیادی طور پر شاعر ہونے کے علاوہ تحقیق و تنقید اور ترجمے کے میدان میں بھی انھوں نے اپنے نقوش ثبت کیے ہیں۔
آپ نے تمل زبان کے مشہور ناول نگار پارتا سا ر تھی کے ناول’سموگا ویدی‘کو’ سماج کی گلیاں‘ کے عنوان سے ترجمہ کیا ہے جس میںسماجی مسائل کو موضوع بنایا گیا ہے۔ اسے ساہتیہ اکادمی نئی دہلی نے 1998 میں شائع کیا۔ اس کے علاوہ ساہتیہ اکادمی کی جانب سے’عصری ہندوستانی کہانیاں‘ کے نام سے ہندوستان کی مختلف زبانوں کے افسانوں کے تراجم جو شائع ہوئے ان میںتمل افسانہ کا ترجمہ’مکان‘کے عنوان سے شامل ہے۔ یہ اندر پار تا سارتی کے تمل افسانے ’ویڈو‘ کااردو ترجمہ ہے انھوں نے ترجمے کا حق ادا کرنے کی بھر پور کوشش کی ہے۔
صلاح الدین باشا برق(1944-2021)
تمل ناڈو کے جدید افسانہ نگاروں میں آپ کا شمار ہوتا ہے۔آپ پیشے کے لحاظ سے وکیل تھے آپ نے جدیدیت کے رجحان کو اختیار کیا۔ آپ کے طبع زاد افسانے کئی رسائل کے زینت بنے۔ طبع زاد افسانوں کے علاوہ آپ نے انگریزی سے فلسفیانہ مضامین کے ترجمے کیے۔ خلیل جبران کے فلسفیانہ افکار کو اردو کے قالب میں ڈھالا۔ حیدر آباد سے شائع ہونے والے اس زمانے کے مشہور ادبی رسالے ’برگ آوارہ‘ خلیل جبران کے مضامین کے اردو تراجم کو 1971 سے1975 تک سلسلہ وار شائع کیا۔ آپ کی لا ابالی طبیعت نے کبھی کتابی صورت میں انھیں شائع کرنے کی جانب مائل نہیں کیا، ورنہ خلیل جبران کے ترجمان کی حیثیت سے وہ ملک گیر شہرت حاصل کر سکتے تھے۔ وکالت کے پیشے کی ذمہ داری اور مزید یہ کہ سرکاری وکیل ہونے کے ناتے وہ کبھی اس جانب ملتفت نہیں ہو سکے۔ بہر حال تملناڈو کی اردو ادب کی تاریخ میں انھیں ایک عمدہ افسانہ نگار ہونے کے علاوہ خلیل جبران کے ترجمان ہونے کی حیثیت سے فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
مظہر اشفاق(1949-2015)
مظہر اشفاق کا آبائی وطن و انم باڑی ضلع شمالی ارکاٹ رہا ہے جسے ریاست میں اردو کے مرکز کی حیثیت حاصل ہے۔ حکومت تملناڈو کے اعلیٰ عہدوں پر فائزر ہے اور تملناڈو کی ریاستی اردو اکیڈمی کے اعزازی سکریٹری کی حیثیت سے بیش بہا خدمات انجام دیں۔ وہ بنیادی طور پر شاعر تھے ان کی شاعری کے دو مجموعے شائع ہو چکے ہیں لیکن جہاں تک مترجم ہونے کا تعلق ہے انھوں نے انگریزی کے مقبول عام ناول نگاروں کے ناولوں کو اردو کا جامہ پہنایا، انھوں نے انگریزی کے مشہور جاسوسی ناول نگارجیمس ہیڈلے چیز کے دو ناولوں کا ترجمہ کیا۔ ہیڈلے چیز کے ایک ناول A Hippie on the Highway کا ترجمہ’ایک ہیّپی شاہراہ پر‘کے عنوان سے اور دوسرے انگریزی ناول’No Orchids for Miss Blandish” کا ترجمہ’بد نصیب حسینہ‘ کے نام سے کیا۔ ان دونوں ناولوں کو نسیم بک ڈپو، لکھنونے بڑے اہتمام سے شائع کیا اور ان کی خوب پذیرائی بھی ہوئی۔
سید ابو الحسنات(وفات 1998)
شہر مدراس کے مشہور عالم شاعر اور بزرگ ادیب مولوی ابوالبر کات انور کے فرزند تھے وہ محکمہ ڈاک و تار میں ملازم تھے لیکن ادبی ذوق ورثے میں پایا تھا۔ روزنامہ مسلمان میں جزوقتی طور پر مترجم کے فرائض بھی انجام دیتے تھے۔ ترجمہ کے فن سے بخوبی واقف تھے چنانچہ انھوں نے دو انگریزی ناولوں کا ترجمہ کیا۔ جن میں سے ایک انگریزی ناول کا ترجمہ ’ حویلی‘ کے نام سے کیا جو ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ ادیب رما مہتا کے انگریزی ناول Inside the Haveli کا براہ راست ترجمہ تھا۔ جسے 1977 میں ساہتیہ اکا دمی نئی دہلی نے شائع کیا۔ یہ ناول راجستھان ریاست کی تہذیب کا خوبصور ت مرقع ہے۔
اس کے علاوہ ہندوستانی ادب کے معماروں کی سیریز کے تحت ساہتیہ اکادمی کے لیے بنگالی ادیب ’ شرت چندر چٹرجی – شخصیت اور فن‘ پر لکھی گئی انگریزی کتاب کا ترجمہ بھی کیا۔
بیسویں صدی کے نصف آخراور اکیسویں صدی کی ابتدا میں جواں سال نثر نگاروں اور مترجمین کا ایک گروہ تملناڈو کے ادبی منظر نامہ پر ابھر کر آیا۔ جن میں ڈاکٹر حیات افتخار، ڈاکٹر سید سجاد حسین، ڈاکٹرپی احمد بادشاہ، فیض قادری اور ڈاکٹر امان اللہ ایم بی کی خدمات ترجمے کے شعبے میں ناقابل فراموش قرار دی جا سکتی ہیں۔
ڈاکٹر حیات افتخار (پ : 1955 بقید حیات)
جن کا اصل نام حیات بادشاہ ہے اور حیات افتخار کے قلمی نام سے اردو دنیا میں متعارف ہیں۔ ویسے وہ ایک محقق اور نقاد کی حیثیت سے بھی جانے جاتے ہیں لیکن انھوں نے ترجمے کو اپنی خصوصی شناخت کا ذریعہ بنایا۔اس سلسلے میں ان کا سب سے پہلا کارنامہ مو – ورد را جن کی تحریر کردہ ضخیم تاریخ تمل ادب کو اردو میں منتقل کرنا ہے جو 400سے زائد صفحات پر مشتمل تمل ادب کی تاریخ کابراہ راست تمل زبان سے ترجمہ ہے جسے ساہتیہ اکادمی نے1991 میں شائع کیا۔تمل زبان میں ’ تمل الکِّیہ ور لارو‘کے نام سے لکھی گئی یہ تصنیف تمل زبان و ادب کی تاریخ کے سلسلہ میں بنیادی حوالے اور ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے اور اسے استناد کا درجہ حاصل ہے بقول ڈاکٹر سلیمان اطہر جاوید:
’’ا ردو میں اس کا ترجمہ تمل شعر و ادب کو ارد والوں سے متعارف کرانے میں اس کتاب کا گراں قدر حصہ ہے۔ ‘‘ 15؎
ڈاکٹر احمد بادشاہ نے اپنی تصنیف’تملناڈو میں اردو نثر کا ارتقا‘ میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اس ترجمے کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ ترجمہ براہ راست تمل زبان سے کیا گیا ہے اور ترجمے کی زبان پر اصل کا دھوکہ ہوتا ہے عبارت میں متانت اور سنجیدگی کو کہیں ہاتھ سے جانے نہ دیا ہے۔ تمل ادب کی شعری تخلیقات کا ترجمہ با محاورہ اردو میں کیا گیا ہے۔16؎
تاریخ تمل ادب کا اردو ترجمہ جہاں اردو دانوں کوتمل ادب سے روشناس کرانے کے لیے کیا گیا تھا اسی طرح تمل والوں کو اردو افسانوی ادب کے شہ پاروں سے متعارف کرانے کے لیے انھوں نے اردو کے بعض شاہکار افسانوں کو بھی اردو کا جامہ پہنایا۔ اس سلسلہ کی پہلی کڑی سعادت حسن منٹو کے افسانہ ’ ٹوبہ ٹیک سنگھ‘کاتمل ترجمہ ہے جو تمل ماہنامہ ’منجری ‘ مئی 1984 کے شمارہ میں’سوندنا ڈو‘ کے عنوان سے اشاعت پذیر ہوا۔ اس کے علاوہ اردو کے جدید افسانہ نگار شوکت حیات کا افسانہ ’آگ‘ کا ترجمہ ’تی‘ کے نام سے کیا جوتمل ماہنامہ ’انّم وِڈو ُتو دو‘ (دسمبر 1984) کے شمارہ میں شائع ہوا۔ ہندی کے مشہور افسانہ نگار پر کاش کانت کے افسانے کا جو اردو ترجمہ ماہنامہ’ شاعر‘ میں ’پاپا ہم ہندوستاں لیں گے‘ کے عنوان سے شائع ہوا تھا اس کا تمل ترجمہ انھوں نے ’ ولا ئیا ٹّو بو مائی‘ کے نام سے شائع کیا اور وہ بھی تمل ماہنامہ ’ منجری ‘ میں شائع ہوا۔
حال ہی میںانھوں نے گیان پیتھ انعام یافتہ تمل ادیب اور فلمی نغمہ نگار ’وائیر مُتّو‘ کے ناول ’ کلی کا ٹّو اتہا سم‘ کا ترجمہ ’کلِّی کا ڈو کی داستان‘ کے عنوان سے کیا جسے ساہتیہ اکادمی، نئی دہلی نے 2021 میں شائع کیا۔ اس ناول پر مصنف کو2003 میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ اس ناول میں جدید ہندوستان کے کسان کے دکھ درد، خوشی و مسرت، مسائل اور مصائب کی اس طرح ترجمانی کی گئی ہے کہ یہ ہندوستانی کسانوں کی تاریخی داستان بن گیا ہے۔ اسی لیے ناول نگار نے دانستہ طور پر اس کا عنوان تمل زبان میں کلِّی کا ٹّواتہا سم رکھا ہے یعنی ناگ پھنی کے جنگل میں واقع کلی کا ڈو نامی گاؤں کا تاریخی رزمیہ۔ ملک کی آزادی کے بعد پنچ سالہ منصوبے کے تحت مدورے ضلع میں واقع ’و یگئی‘ ندی پر بند باندھنے کے لیے اطراف و اکناف کے بارہ قریوں کو خالی کرانے کی وجہ سے جو صورت حال پیدا ہوئی اس پس منظر میں اس ناول کی کہانی بیان کی گئی ہے۔جدید ہندوستان کی تعمیر میں یہاں کے کسانوں کو جن جدید مسائل کا سامنا کرنا پڑا اسی کی داستان ہے یہ ناول اور یہ ناول ہمیں پریم چند کے ناول’گئود ان‘ کی یاد دلاتا ہے۔
ڈاکٹر سید سجاد حسین (پ: 1956 بقید حیات)
سید سجاد حسین، مدراس یونیورسٹی کے شعبہ اردو میںتقریباً 35سال تک خدمات انجام دینے کے بعد حال ہی میں وظیفہ یاب ہوئے ان کا اصل میدان تنقید و تحقیق ہے درس و تدریس سے وابستہ ہونے کے باعث اپنے منصبی فرائض انجام دیتے ہوئے کئی تنقیدی اور تحقیقی مضامین تحریر کیے، کتابوں کے مقدمے بھی لکھے اور تحقیقی مقالوں کی نگرانی کا فریضہ بھی ادا کیا۔
جہاں تک ترجمے کا تعلق ہے انھوں نے انگریزی کے ذریعہ ملیالم ادب کی تاریخ کو اردو میں منتقل کیا اور یہ ترجمہ ساہتیہ اکادمی، نئی دہلی سے شائع ہوا۔ یہ ان کا سب سے بڑا کارنامہ ہے انھوں نے ترجمے کو مستقل طور پر اختیار نہیں کیا۔ چنانچہ مذکورہ تصنیف کے سوا ترجمہ کے طور پر ان کی کوئی تصنیف یا تحریر منظر عام پر نہیں آئی ہاں البتہ ان کا شمار تملناڈو کے نمائندہ نقادوں اور محققین میں کیا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر امان اللہ ایم بی(پ:1983)
ڈاکٹر امان اللہ مدراس یونیورسٹی کے شعبہ اردوسے وابستہ ہیں اس طرح درس و تدریس آپ کا پیشہ ہے اور ترجمہ آپ کا شوق اور ادبی مشغلہ۔ نئی نسل کے مترجموں میںآپ کو نمایاں مقام حاصل ہے۔تمل کے کلاسیکی ادب کو اردو میں منتقل کرنا ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ چنانچہ اسی مقصد کے تحت پہلے پہلے تمل زبان کے منظوم اخلاقی کلاسیکی شاہکار ’تروکرل‘ کامنظوم ترجمہ کیاجسے سینٹرل انسٹی ٹیوٹ آف کلاسیکل تمل نے بڑے اہتمام کے ساتھ شائع کیا۔ اس کے بعد اسی مرکزی ادارہ کے تحت تمل زبان کی سب سے قدیم قواعد’ تول کاپیئم‘ کو اردو نثر میں ڈھالنے کا منصوبہ خوش اسلوبی سے انجام دیا۔
تمل زبان کی سب سے قدیم قواعد’تو ل کاپیئم‘ تیسری صدی قبل مسیح کی تصنیف ہے اس کے مصنف کا نام تو ل کا پیئر بتایا جاتا ہے۔ پیش روؤں کے زبانی ارشادات اور قدیم کتابوں کے حوالے جو ا س کتاب میں جگہ جگہ ملتے ہیں۔ ان کی تعداد ڈھائی سو سے زائد ہے۔جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس سے قبل بھی تمل زبان میں قواعد کی کتابیں اور ادبی تصنیفات موجود تھیں۔ یہ تمل زبان کی سب سے قدیم کتاب اور اس پر طرہ یہ کہ اس کا موضوع قواعد ہے اور اس میں بالکل سائنٹفک انداز میں لسانی نقطہ نظر سے زبان کی صرف ونحو سے بحث کی گئی ہے اسی لیے تمل عالموں کا دعویٰ ہے کہ تمل اس سے بھی قبل ارتقا کی منزلیں طے کر چکی تھی اورجس کا ثبوت اس دستیاب قواعد کی تصنیف سے ملتا ہے۔ ظاہر ہے یہ تاڑ کے پتوں پر لکھی گئی ہو گی جسے لسانی ماہرین نے دریافت کیا اور اس کی تشریح و تعبیر کے لیے تمل او را نگریزی وغیرہ میں مختلف شرحیں لکھی گئیں۔ آج بھی اس کا سلسلہ جاری ہے۔
بہرحال مترجم امان اللہ نے اس کتاب کے ترجمہ میں سخت محنت و مشقت کے ساتھ صبر و استقلال کا ثبوت دیتے ہوئے مختلف شرحوں سے استفادہ کیا ہے اور اس سلسلے میں راقم کو بھی تعاون کا شرف حاصل رہا۔ اس کے اردو ترجمہ کا اجرا دسمبر2025 میں وارانسی میں واقع کاشی تمل سنگم کے زیر اہتمام عمل میں آیا اور جس میں ریاست کے وزیر اعلیٰ کے علاوہ مرکزی وزرا بھی شامل رہے۔
اردو سے تمل تراجم
ایم۔اے۔سلام(1947-2021)
اردو سے تمل زبان میں ترجمہ کرنے والوں میں آپ کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ آپ کا سب سے بڑا کارنامہ مثنوی مولانا روم کا تمل زبان میں ترجمہ ہے جو 7 جلدوں میں شائع ہوا ہے جس کی تمل ادبی حلقوں میں کافی پذیرائی ہوئی۔ اس کے علاوہ علامہ اقبال اور امجد حیدر آبادی کی منتخب شاعری کا ترجمہ کیا۔ جہاں تک اردو نثری ادب کو تمل میں منتقل کرنے کا تعلق سے انھوں نے تمل ناڈو کے ایک ممتاز ادیب محمد یعقوب اسلم کے افسانوی مجموعے ’چہروں کی دیوار‘ کا تمل میں ترجمہ ’مُدانئی ملرگل‘ کے عنوان سے کیا جس کی اشاعت 2010 میں عمل میں آئی۔ترجمے کے شعبہ میں آپ کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انجمن ابنائے قدیم برائے اردو، مدراس یونیورسٹی کی جانب سے ’خادم اردو ایوارڈ برائے2019 ‘ سے نوازا گیا۔
ڈاکٹر احمد بادشاہ (1956-2021)
ڈاکٹر احمد بادشاہ کا تعلق درس و تدریس سے تھا وہ تروچی میں واقع جمال محمد کالج میں صدر شعبہ اردو کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کے بعد2014 میں وظیفہ یاب ہوئے۔ تنقید و تحقیق کے علاوہ ترجمے سے آپ کو خاص شغف تھا۔ اس سلسلے میں انھوں نے دو اہم ادبی کارنامے انجام دیے۔سب سے پہلے شمس اللہ قادری کی تاریخی اردو تصنیف ’سلاطین معبر‘ کا تمل زبان میں ترجمہ کیا۔ جس میں مصنف نے، تملناڈو میں مسلمانوں کی 700 قبل کی تاریخ کو پیش کرتے ہوئے ریاست میں اردو زبان کی آمد کا تاریخی ثبوت فراہم کیا ہے۔
ترجمے کے شعبہ میں آپ کی دوسری اہم ادبی کاوش کرشن چندر کے مشہور اردو ڈرامہ ’دروازے کھول دو‘ کاتمل ترجمہ ہے جسے انھوں نے تمل زبان میں’ کدو گل ترند و و ڈنگل‘ کے نام سے شائع کیا۔ قومی یکجہتی کے موضوع پر اس ڈرامہ کے مترجم نے کرشن چندرکے جاندار مکالموں کا ترجمہ بڑی چابکدستی کے ساتھ کیا ہے۔
فیض قادری(پ:1978)
فیض قادری کا تعلق ضلع کو ئمبتور سے ہے انھیں تمل اور اردو دونوں زبانوں پر عبور حاصل ہے فن خطاطی کے ہنر سے بھی بخوبی واقف ہیں۔ انھوں نے اردو شاعری اور نثر کے مضامین کوتمل زبان میں نہایت ہی مہارت اور ادبی چاشنی کے ساتھ پیش کیا ہے۔2007 میں علامہ اقبال کی حیات اور شاعری سے تمل ادبی حلقے کو متعارف کرانے کے لیے ایک تصنیف ’اِور دان اُلگا مہا کوی علامہ اقبال‘(آپ ہی ہیں دنیا کے عظیم شاعر علامہ اقبال ) شائع کی جس کی کافی پذیرائی ہوئی۔ اس کے علاوہ انھوں نے اردو زبان کی مختصر تاریخ (تملنا ڈو کے خصوصی حوالے سے) کو تمل زبان میں’اُردو الکِّیم ووراَری مُگم ‘( اردو ادب ایک تعارف) کے عنوان سے ایک تصنیف پیش کی ہے جو نہایت ہی مقبول ثابت ہوئی اس کے بعض ابواب مشہور اردو نقاد احتشام حسین کی تصنیف ’اردو کی کہانی ‘ سے من وعن ترجمہ ہیں۔
اردو افسانوی ادب کے باب میں انھوں نے قدرت اللہ شہاب کے ناول ’یا خدا ‘کا تمل ترجمہ’ ارائیوا‘ کے عنوان سے کیا جو2021 میں شائع ہوا۔فی الحال وہ اردو کی منتخب غزلوں کے اشعار کو تمل زبان میںمنظوم ترجمہ کرنے کے بعد اسے ’مان کن‘(ہرنی کی آنکھ) شائع کروا رہے ہیں ابھی یہ کتاب طباعت کے مراحل سے گزر رہی ہے۔ اس طرح تمل ادبی حلقوں میں اردو ادب کے نثری اور شعری شاہکاروں کو متعارف کرانے کے مستحسن عمل میں مصروف ہیں۔
تمل سے اردو میں ترجمہ کرنے والوں میں یہاں پر ایک اور نوجوان مترجم ابو بکر ابراہیم عمری کا ذکر بے محل نہ ہوگا۔ وہ مولانا آزاد اردو یونیورسٹی کے شعبہ ترجمہ سے وابستہ رہے۔ انھوں نے حال ہی میں ریزرو بینک آف انڈیا کے سابق ریجنل ڈائرکٹر چنئی ڈاکٹر جے صداقت اللہ کی تمل میں تحریر کردہ خود نوشت کو باران رحمت کے عنوان سے اردو کا جامہ پہنایا۔ اس طرح ترجمہ نگاری کے میدان میں ایک نئی نسل بھی ابھر کر آرہی ہے اور اس سے کئی امیدیں وابستہ ہیں توقع ہے کہ وہ ان پر کھرے اتریں گے۔ بقول اقبال ؎
نہ ہونا امید اے اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
میں اپنے اس مقالے کے اختتام پر اس بات کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں کہ تمل زبان کے ادب سے اردو میں کیے گئے بعض تراجم ایسے بھی ہیں جو براہ راست تمل کی بجائے انگریزی سے کیے گئے۔ یہاں ان کے ذکر سے اس لیے صرف نظر کیا گیا کہ اس طرح کے تراجم علیحدہ مقالے کے متقاضی ہیں اور مقالے کو مزید طوالت سے محفوظ رکھنا بھی مقصود راقم تھا۔ بہر حال راقم سے جو کچھ ممکن ہو سکا وہ پیش کیا گیا کسی کا ذکر ہونے سے رہ گیا ہو تو اس کے لیے معذرت خواہ ہوں۔
حواشی
.1 تاریخ ادب اردوتملناڈو،علیم صبا نویدی، مطبوعہ، 2017 ،ص 32
.2 تفصیل کے لیے ملا حظہ ہو موصوف کی تصنیف بعنوان ’ ایسٹ انڈیا کمپنی کے علمی ادارے‘
.3 ہماری زبان، علی گڑھ، 8 ستمبر (1970)
.4 مدراس میں اردو ادب کی نشو و نما، ڈاکٹر افضل الدین اقبال،ص231۔
.5 ایضاً :ص:236
.6 بحوالہ تاریخ ادب اردو تملناڈو علیم صبا نویدی ، ص47
.7 مدراس میں اردو ادب کی نشو و نما، ڈاکٹر افضل الدین اقبال، ص:232
.8 تاریخ نثر اردو تملناڈو، ڈاکٹر سید صفی اللہ، ص10
.9 ملاحظہ ہو۔ اردو میں ترجمۂ قرآنی کی تاریخ از سید وہاج الدین ہاشمی ، ص138 اور ص144
.10 آزادی کے بعد تملنا ڈو میں اردو نثر کا ارتقا، ڈاکٹر پی احمد بادشاہ، ص52
.11 تمل افسانے، ترجمہ از حسرت سہروردی،ص22
.12 ایضاً ، ص120
.13 مٹی کی خوشبو، محمد یعقو ب اسلم
.14 مضمون بعنوان ایس ’ایم حیات شخصیت اور فن‘ مشمولہ کتاب ’ویٹنگ روم،ص17
.15 مقدمہ از ڈاکٹر سلیمان اطہر جاوید، تقابلی ادبی مطالعہ، ڈاکٹر حیات افتخار2010
.16 آزادی کے بعد تملنا ڈو میں اردو نثر کا ارتقا، ڈاکٹر پی احمد بادشاہ، ص159


Dr. Hayath Iftekhar
Former Head, Department of Urdu,
Quaide Milleth College, Medavakkam,
Chennai – 600100 (TN)
Mob.:9884733619

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

اکیسویں صدی کی شاعرات بنگالہ اور تانیثی ڈسکورس – مضمون نگار: سعدیہ صدف

  عورت قدرت کا حسین شاہکار ہے ۔ اس کا وجود فطرت کی دلکشی کا مظہر ہے۔ عورت، خاندان میں پائیدار ترقی اور معیار زندگی کی کلید ہے۔ انسان کو

ایک وضع دار شخصیت: سحر سعیدی – عظیم راہی

  ڈاکٹرسحرسعیدی مرحوم پرانی تہذیب کے علمبردار تھے۔ نہایت وضعدار اور اصول پسند شخص تھے۔ اپنی اصول پسندی کی وجہ سے کئی بار انھیں نقصان بھی اٹھانا پڑا، لیکن وہ

حفیظ میرٹھی کی شعری کائنات – مضمون نگار: راحت علی صدیقی قاسمی

  حفیظ میرٹھی بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں، ان کی شعری کائنات میں غزل کی حکمرانی ہے، غزل گوئی ہی ان کی شناخت کا باعث ہے۔انھوں نے جس