تمل اور اردو زبان کے مابین تخلیقا ت کے تراجم،مضمون نگار:امان اللہ ایم بی

September 2, 2026 0 Comments 0 tags

تلخیص

تمل ناڈو کی سرزمین صرف دراوڑی تہذیب و ثقافت کا گہوارہ نہیں، بلکہ یہاں ترجمہ نگاری کی ایک شاندار اور قدیم روایت موجود ہے۔ تمل زبان کو کلاسیکی زبان کا درجہ حاصل ہے اور اس کی ادبی وسعت نے ہمیشہ دوسری زبانوں سے مکالمے کی راہ ہموار کی ہے۔ نیشنل بک ٹرسٹ اور ساہتیہ اکادمی نے ہندوستانی زبانوں کے شاہکار تمل میں منتقل کیے۔ ٹی ایس ایلیٹ کی ’ویسٹ لینڈ‘ تمل شاعر سبرمنیہ بھارتی کی ’پاژ ندی‘ ٹیگور کی ’گیتانجلی‘ جیسی تخلیقات کے کئی تمل ترا جم منظر عام پر آئے۔پر یم چند، منٹو، کرشن چندر کے اردو افسانے تمل میں مقبول ہوئے۔ قرۃ العین حیدر کے ’آگ کا دریا‘ کا ’تیی ندی ‘ کے نام سے ترجمہ ہوا۔ سبرمنیہ نے روسی ادب کے ترجمے، خاص کر چیخوف اور گورکیٹی کو منتقل کیا ہے۔ عربی سے ’الف لیلہ‘ کا مکمل تمل ترجمہ کے۔ دُرئی سامی نے کیا ہے۔ جدید عالمی فکشن کے تراجم کا کام ایس۔ رام کرشنن نے انجام دیا ہے۔ اردو سے تمل ترجمے، خاص کر منٹو اور بیدی کو ایچ۔ پییومل نے تمل میں کیا ہے۔
دیگر زبانوں سے اثرات قبول کرنے میں دراوڑی خاندان کی قدیم ترین زبان تمل اور ہندآ ریائی خاندان کی جدید ترین زبان اردو کی روش کئی اعتبار سے ہم آہنگ ہے۔ ہیئت، تہذیب، تاریخ اور تمدن میں گویہ دونوں زبانیں متضاد ہیں لیکن رواداری، وسیع النظری اور ملنساری کے اعتبار سے دونوں زبانوں میں ایک ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ دونوں زبانوں کی تاریخ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ہر مرحلے میں یہ ایک دوسرے سے اثر پذیر رہی ہیں۔ تمل اور اردو کے اسی اثر پذیر مزاج نے دونو ں زبانوں کو قریب لانے میں معاونت کی ہے۔ اردو کی بیشتر تخلیقات کا جہاں تمل زبان میں براہ راست ترجمہ ہوا ہے تو کہیں انگریزی یا دیگر زبانوں کے توسط سے تمل میں ترجمے ہوئے ہیں۔ میں نے اپنے مقالے کو تمل ناڈو میں ترجمہ نگاری کی روایت، تمل شعری تخلیقات کے اردو تراجم،اردو شعری تخلیقات کے تمل تراجم، فکشن کے تراجم اور مذہبی تراجم کے تحت الگ الگ بحث کرتے ہوئے تمل اور اردو، اردو اور تمل کے ترجمے کے مسائل اور امکانا ت کی نشاندہی بھی کی ہے۔
کلیدی الفاظ
تمل اردو تراجم،تول کاپیئم، تروکرل، نالڈیار، پتن، کالتِّن نِرم، اردو لغت نویسی، عربی مدارس میں تراجم، مذہبی تراجم، فکشن کے تراجم، ترجمے کے مسائل، ذو لسانی لغات، سہ لسانی لغات، رنگ زمانہ، مخزن حیات، تقابلی ادبی مطالعہ، تمل ناڈو میں اردو، بھارتی یار، بھارتی داسن، دیوان غالب، کہکشاں، مجذوب، تمل غزل، پگوتھ اریو، وِڈودلئی،آلوار، ناینار،کمب رامائنم، صوفی، بھکتی، ولی ویلوری، روضۃ الشہدا، نوابان آرکاٹ، ’سُتنتر پلّو‘، نغمہ کوئل،تمل اِئیکّم، پا ل ویدی،تصویر درد،ترانۂ ملی، ترانۂ ہندی، رباعیات امجد،چوتھا آسماں،غالبن کوی دیکل، تمبیران ونکم،لفظ لفظ گہر۔
———
اردو شاعری کا باوا آدم ولی دکنی کو کہاجاتا ہے جبکہ تمل ناڈو میںاردو ترجمہ نگاری کا باوا آدم کے طور پر ہم ولی ویلوری کو قرار دے سکتے ہیںجنھوں نے سب سے پہلے تمل ناڈو میں ترجمہ نگاری کی بیج ڈالی انھوں نے ملک محمد جائسی کی ’پدماوت‘ کا منظوم ترجمہ ’رتن پدم‘ (چار ہزار ابیات پر مشتمل مثنوی)دکنی زبان میں کیا ہے۔ ولی ویلوری کی دوسری مشہور مثنوی ’روضۃ الشہدا‘ جو پانچ سو ابیات پر مشتمل ایک طویل دکنی مثنوی ہے یہ بھی ملا حسین واعظ کاشفی کی نثری کتاب ’روضۃ الشہدا‘ کا منظوم ترجمہ ہے۔ یہ دس مجلسوں پر مشتمل ہے اور ’دہ مجلس‘ کے نام سے مشہور ہے۔ ’روضۃ الشہدا‘ کے ایک شعر سے ا س کی سن تصنیف 1141ھ ظاہر ہوتی ہے جو مطابق 1728 ہے۔ آخری مصرعے میں اس کی تاریخ کا مستخرج اس طرح ہے ؎
ہوا ہے ختم جب یو درد کا حال
گیا را سو پوتھا اکتا لیسواں سال
کہاہاتف نے یو تاریخ معقول
’ـولی کا ہے سخن حق پاس مقبولـ‘

1141ھ
تمل شعری تخلیقات کے اردو تراجم
’ تروکرل ‘ کے اردو تراجم
’تروکرل‘ کے تعلق سے قیاس ہے کہ وہ تقریباً 2000 سال پرانی تصنیف ہے اور اہل تمل اسے’ دنیا کا صحیفہ ٔعام ‘ مانتے ہیں۔’تروکرل‘کو شروع ہی سے عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ بادشاہوں اور عوام نے اس سے قلبی رشتہ قائم رکھا۔ تروکرل کی اہمیت و افادیت سے ایک عالم واقف و باخبر ہے۔ افسوس یہ کہ تروکرل کے مصنف تروولور کے احوال زندگی، محل ولادت، موقع وفات اور دوسرے واقعات پرتاریخ پر ہنوز تاریکیاں چھائی ہوئی ہیں۔ بعض نے اس تعلق سے اپنی قیاس آرائیوں سے کام لیا ہے جو غیر مثمر اور غیر مفید ثابت ہوچکی ہیں۔تروکرل کی افادیت اور مقبولیت میں دن بہ دن اضافہ ہی ہوتا جارہاہے۔ تروکرل تمل زبان کی ایک اہم صنف سخن ہے، اس صنف سخن کے موجد تروولور تھے۔ تروولور سے پہلے کسی نے اس صنف میں طبع آزمائی نہیں کی۔ کرل کی ہیئت دوہوں کی طرح دو مصرعوں پر مشتمل ہے لیکن اس کی انفرادیت یہ ہے کہ اس کے پہلے مصرعے میں چار ارکان یا لفظ اوردوسرے مصرعے میں تین منجملہ سات ارکان یا لفظ ہوتے ہیں۔ شاعر انھیں سات لفظوں میں اپنی بات کی تکمیل کرتا ہے۔ جس طرح اردو میں غزل کا ہر شعر اپنے مفہوم کو پورا کرتا ہے اسی طرح ’کرل‘ ایک مکمل اور مخصوص مزاج اور خیال کا حامل ہے۔
مولانا اسمعیل رفیعی پیارم پیٹی نے تروکرل کے منتخب ابواب کا ترجمہ ثلاثیات کی ہیئت میں کیا ہے جس کا تذکرہ علیم صبا نویدی کی کتاب’تمل ناڈو میںاردو’میں ملتاہے۔تروکرل کے منظوم ترجمہ کی اولین کوشش پروفیسر سید عظمت اللہ سرمدی نے کی تھی۔ سرمدی نے صرف ڈیڑھ سو کرل ہی کا ترجمہ کیا تھا کہ داعی اجل نے انھیں آواز دے دی۔ آپ کے ترجمہ کردہ سو کرل ‘آج کل ‘ نئی دہلی کے خصوصی شمارہ ‘تمل ناڈو نمبر’ میں شائع ہوچکے ہیں۔ جلال مدنی نے تمل ناڈو کے اردو مراکز سے دور سیلم کی سنگلاخ زمین میں اردو کی شمع روشن رکھی تھی۔ آپ نے تروکرل کے پہلے حصے کے دس کرل کا منظوم ترجمہ پیش کیا ہے جو مولانا یعقوب اسلم عمری کی مرتب کردہ کتاب ‘افکار جلال مدنی’ میں شامل ہیں۔ کرشنگری کے مختار بدری نے اردو کے مشہورادیبوں کرشن چندر، عادل رشید، مہندر ناتھ، جیلانی بانو، عصمت چغتائی، علامہ اقبال اور خواجہ احمد عباس کی تخلیقات کا تمل زبان میں ترجمہ کیا ہے۔ آپ نے ’تمل اردو‘ اور ’اردو تمل‘ لغات ترتیب دے کر اردو اور تمل کے لسانی اشتراک اورباہمی استفادے کے لیے راہیں ہموار کیں(جس کا ذکر اگلے صفحات میں شامل ہے)۔ آپ نے تروکرل کا منظوم ترجمہ ’لفظ لفظ گہر‘ کے نام سے کیا ہے۔ در اصل انھوں نے کرل کا ترجمہ شعر کی شکل میں کرنے کے بجائے ہر کرل کو ایک قطعہ کے طور پر پیش کرنے کی سعی کی ہے جس سے کرل کے معنی اور مفہوم میں تفریق پیداہوجاتی ہے یا تو تروولور نے جو بات کہی ہے اس سے کہیں زیادہ مترجم نے اپنی بات کو آگے رکھنے کا مظاہرہ کرلیا ہے۔ اس ضمن میں مولوی محمد یعقوب اسلم عمری کا یہ بیان ملاحظہ ہو:
’’تروکرل کے مترجمین نے ہر کرل کا ترجمہ ایک شعر کی شکل میں پیش کیا ہے جس کی وجہ سے اکثر اشعار گنجلک ہو کر رہ گئے ہیں اور مفہوم پوری طرح واضح نہیں ہوتا۔ اس لیے وضاحت و صراحت کے لیے انھیں بسا اوقات فٹ نوٹس اور حاشیوں کا بھی سہارا لینا پڑا۔ مختار بدری نے سرمدی صاحب کی طرح فاعلن، فاعلن، مفاعیلن کی آسان اور رواں بحر اختیار کی ہے لیکن ہر کرل کو ایک شعر میں پیش کرنے کی بجائے قطعے کی شکل میں دو دو اشعار میں پیش کیا ہے۔‘‘ (فکر و تحقیق، ص:121)
باوجود اردو کے مختلف تراجم کے تروکرل کا منظوم اردوترجمہ وقت کا تقاضہ تھا اس لیے راقم نے تروکرل کا تمل زبان سے براہ راست اردو میں منظوم ترجمہ کا بیڑا اٹھایا اور اسے پایہ تکمیل کو بھی پہنچایا۔ تمل کا شمار دنیا کی قدیم تر زبانوں میں ہے اور تروکرل کی تخلیق بھی زمانی اعتبار سے اسی قدامت سے منسوب ہے۔ البتہ تروولور نے اپنے کلام میں جدت پسندی اختیار کی ہے۔ آج بھی تروکرل وہی آب و تاب کے ساتھ پڑھا اور سمجھا جاتا ہے جس طرح وہ قدیم دور میں اپنا لوہا منوالیا تھا۔ تروکرل کی پہچان اس کی ہیئت سے ہوتی ہے۔ اس کی ایک خاص ہیئت جسے تمل میںکرل وینبا کہتے ہیں اس ہیئت میں ترولورکے علاوہ کسی نے بھی طبع آزمائی نہیں کی ہے اگر کیا ہے تو انھیں اتنی شہرت نہیں ملی جو ترو ولور کے حصہ میں آئی۔ تروکرل ترولور ہی کے نام سے مشہور ہے۔ جس طرح اصل تخلیق تروکرل اپنی مثال آپ ہے اسی طرح آج تک دنیا کی کسی بھی زبان میں تروکرل کی اسی ہیئت پر ترجمہ نہیں ہوا ہے یہی حال اردو کا بھی ہے۔ اردو زبان میں مختلف ادیب و شعرا نے اپنے اپنے طور پر منظوم و منثور ترجمے پیش کیے ہیں لیکن کسی نے بھی تروکرل کی اس ہیئت یعنی دو مصرعے مصرع اولیٰ جس میں 4 الفاظ اور مصرع ثانی میں 3 الفاظ منجملہ 7الفاظ یا رکن یا فعل یا حرکتیں جو بھی کہہ لیجئے اس ہیئت کو برقرار رکھنے سے قاصر ہیں۔ البتہ تروکرل کے مفہوم کو وہی آب و تاب کے ساتھ اردو زبان میں منتقل کرنے کی کامیاب کوشش ضرور ہوئی ہے۔ یہاں میں تروکرل کے اردو مترجمین کے ترجموں کے نمونے پیش کرنا چاہوں گا؛
’خدا کی تعریف ‘ کے زیر عنوان تروولور کا یہ پہلا کرل یوں ہے:
اکرہ مدلہ یژتیلاّم آدی بھگون
ُمدٹرے اُلہ کو
Akara Mudhala Ezhuththellaam Aadhi
Pakavan Mudhatre Ulaku
جسے جلال مدنی نے اس طرح منظوم ترجمہ کیا ہے ؎
ابجد ہر اک کی جیسے الف سے ہے ابتدا
آغاز کائنات کا ہے ذات کبریا
اسی کرل کا حسرت سہروردی نے نثر میں ترجمہ پیش کیا ہے:
‘آ’ سے جس طرح ہر زبان کے حروف تہجی کی ابتدا ہوئی ہے اسی طرح موجودات عالم کی ابتدا ذاتِ خداوندی سے ہوئی ہے۔
پھر پروفیسر عظمت اللہ سرمدی نے اس کا منظوم ترجمہ اس طرح پیش کیا ہے کہ ؎
ابتدا ہے الف سے ابجد کی
یوں ازل سے ہے جلوہ باری
مختار بدری نے کرل کا یہی ترجمہ چار مصرعوں میں پیش کرنے کی سعی کی ہے۔ترجمہ ملاحظہ ہوں ؎
جیسے ابجد زباں کی ہے بنیاد
لفظ زورِ بیاں کی ہے بنیاد
ویسے ذاتِ خدائے عز و جل
ہر مکاں لامکاں کی ہے بنیاد
حسرت سہروردی کرل نمبر 3جس میں حواس خمسہ پر قابو پانے کا ذکر ہے اس کرل کا منثور ترجمہ اس طرح پیش کیا ہے:
’’وہ لوگ ‘جو اس خدا کے’ جو حواسِ خمسہ پر قادر ہے، سچے راستے پر گامزن ہوجاتے ہیں وہ دیر تک زندہ رہتے ہیں۔‘‘
اس ترجمہ میں حسرت سہروردی نے ’جو اس خدا کے‘کا اضافہ کردیا ہے۔ تروولور نے لفظ ’خدا‘’ کا استعمال کیا ہے بلکہ ’ اُس یا اِس خدا‘ کا اصل متن میں نہیں ہے۔اسی طرح پروفیسر سرمدی نے بھی حواس خمسہ کو قابو پانے کے بجائے اپنے ترجمہ میں حواس کے بند کرنے کا مفہوم پیش کردیا ہے ان کا ترجمہ ملاحظہ ہو ؎
پانچ پٹ حِس کے جس نے بند کیے
جو چلے اس کی راہ دیر جیے
مختار بدری نے اپنے ترجمہ میں مزید اضافہ یوں کیا ہے کہ زاہد نیک و باصفا جیسے الفاظ کا ترجمہ میں در آنا اصل متن کے خلاف ہے ؎
جس نے قابو حواسِ خمسہ پر
پالیا محنت و ریاضت سے
زاہدِ نیک و باصفا بن کر
ہستی جاودانی وہ پائے
لیکن جلال مدنی نے اس کا تروولور کے بیت سے قریب ترجمہ یوں پیش کیا ہے ؎
گرفاتحِ حواس کی رہ پر چلے کوئی
عمر درازپا کے وہ آفاق میں رہے
در اصل تروولورکا کہنا ہے کہ خدا کی رضا کی خاطر جس نے بھی اپنے حواس خمسہ پر قابو پالیا وہ راہ راست پر آگیا۔ تروولور کا اصل متن یوں ہے؛راقم نے اس کرل کا ترجمہ یوں پیش کیا ہے ؎
پائیں حواسِ خمسہ پہ قابو جو مرد و زن
وہ سیدھی سچی راہ پہ ہوتے ہیں گامزن
تروولور نے انسان کو ترغیب دی ہے کہ وہ خدائے تعالیٰ پر ایمان رکھے، اور کہا کہ زندگی ایک بحر ذخار ہے جسے ہر ایک انسان کو پار کرنا ہے۔ زندگی ان لوگوں کے لیے آسان ہے جو خدا پر ایمان لائے اوراس کی اطاعت کی۔ اس کا مفہوم جب مترجمین نے اپنے ترجمہ میں پیش کرنے کی کوشش کی تو صرف لفظی معنوں کا انھوں نے سہارا لیا ہے جس سے مفہوم میں کچھ تبدیلیاں بھی رونما ہوگئی ہیں۔ جلال مدنی کا یہ منظوم ترجمہ دیکھیے ؎
جس نے لیا نہ پائے الٰہی کا آسرا
کیا وہ کرے گا پار سمندر حیات کا
حسرت سہروردی کا منثور ترجمہ یہ کہتا ہے کہ :
’’زندگی کے سمندر کو صرف وہی پار کرسکتے ہیں جو ذاتِ اقدس (خدا) کے قدموں کا سہارا لیتے ہیں۔‘‘
پروفیسر سرمدی کا منظوم ترجمہ بھی ملاحظہ ہو ؎
کب وہ بحر جنم کو پار کریں
جو خدا کے قدم کو چھوڑ چلیں
مختار بدری نے قریب المفہوم ادا کرنے کی سعی کی ہے۔ تروولور نے زندگی کو بحر ذخار سے تعبیر کیا ہے اور اسے پار کرنے کی بات کہی ہے جب کہ مختار بدری نے ’گہرے ساگر سے باہر آنے کی بات کہی ہے‘ ؎
اپنے جنموں کے گہرے ساگر سے
صرف نادان نہ آسکے باہر
معرفت سے جو ہوگئے آگاہ
اس بھنور سے نکل گئے باہر
راقم نے اس کرل کا منظوم ترجمہ ایک شعر میں یوں پیش کیا ہے ؎
ناداں تو بحر زیست کے باہر نہ آسکے!!
رب کی جو نعمتیں ہیں معارف ہی پاسکے
تارکِ دنیا کی بڑائی؛
’’جو لوگ دنیا کی خواہشات کو چھوڑ کر سچائی کی راہ پر گامزن ہوتے ہیں ان کے کارناموں کو محفوظ کرلینا ہی ‘صحیفوں’ کا کام ہے۔‘‘
مختار بدری نے اس کا منظوم ترجمہ کیا ہے ؎
ہوگئے بعدِ ترکِ حرص و ہوس
نیک اصولوں پہ گامزن جو لوگ
یہ کہے ہر صحیفہ اقدس
قربِ خالق کے اہل ہیں وہ لوگ
سرمدی کا ترجمہ یہ کہتا ہے کہ جو لوگ تروکرل کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں گے وہی ہیں جو دنیا میں تارک دنیا ہوں گے۔ یہاں مفہوم اصل متن کے قریب نہیں پہنچتا بلکہ اس سے مختلف معنی دیتا ہے۔ ترجمہ ملاحظہ ہوں ؎
جو ہیں دنیا میں تارکِ دنیا
رتبہ زیب کتاب ہو ان کا
محبت کے باب میں ترولور کے چند کرل کے اردو تراجم کا موازنہ پیش کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ تروکرل کے مترجمین نے کس طرح اپنے فہم و فراست کی بنیاد پر تمل سے اردو میں منتقل کرنے کی کوششیں کیں۔حسرت سہروردی نے اپنا منثورترجمہ اس طرح پیش کیا ہے ؎
’’جو لوگ جذبہ محبت سے ناآشنا ہوتے ہیں وہ خوداپنے لیے زندہ رہتے ہیں اور وہ لوگ جو اس سے شناسا ہوتے ہیں وہ اپنی زندگیوں کو بھی دوسروں پر نچھا ور کرنے سے نہیں گھبراتے۔ ‘‘
اسماعیل رفیعی نے اس کا ترجمہ تین مصرعی نظم کی شکل میں کیا ہے ملاحظہ ہو ؎
خود غرض ہے عشق کا ہر بے شعور
خلق کی خدمت میںلگ رہنے کے تئیں
عاشقوں کی ہڈیاں ہیں چور چور
سرمدی نے اس کرل کا ترجمہ ایک شعر میں پیش کیا ہے ؎
بے غرض یوں ہو راہ الفت کی
ہڈیاں بھی ہوں وقتِ غیر اپنی
مختار بدری نے اس کرل کا ترجمہ چوپائی کی ہیئت میں کیاہے ؎
پیار جس میں نہیں وہ کہتا ہے
ساری چیزوں پہ حق اسی کا ہے
پیار والا ہر استخواں اپنا
دوسرے کو خوشی سے دیتا ہے
اسماعیل رفیعی نے ایک اور کرل کا ترجمہ یوں کیا ہے ؎
یہ خوش نصیبی کی کہتے ہیں خوش نصیبی ہے
کہ جس کے حق میں نوازش ہے دیوتاؤں کی
جنم جنم سے طبیعت میں دل گدازی ہے
جب کہ مذکورہ بالا کرل کو مختار بدری نے چار مصرعوں میں یوں پیش کرنے کی کوشش کی ہے ؎
جس کسی نے خدا کی دنیا میں
لمحے لمحے کو کیف زا پایا
زندگی بھر کیا ہے پیا ر اس نے
بس اسی پیار کا صلہ پایا
مذکورہ بالا کرل کانثری ترجمہ حسرت سہروردی نے اس طرح کیا ہے:
’’انھیں کو جنت کی تمام خوشیاں نصیب ہوتی ہیں جو سچے دل سے محبت کرتے ہیں۔ جنت خدا کی طرف سے ایک عطیہ ہے جو دو محبت کرنے والوں کو ان کی پاک محبت کے صلے میں دیا جاتا ہے۔‘‘
’تروکرل ‘دنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ ان تراجم کے شائع ہونے کے باوجود، اصل زبان کی گہری شاعرانہ اور فلسفیانہ اقدار کو مکمل طور پر حاصل کرنے میں کچھ تنقیدی چیلنجز باقی ہیں۔’تروکرل ‘ کا سب سے پہلے کانسٹنٹائن جوزف بیسکی المعروف ویر ما منیور (1730 عیسوی) نے لاطینی زبان میں ترجمہ کیا۔جی یو پوپ، V.V.S. ائیر،کے ایم بال سبرامنیم کے انگریزی ترجمے قابل ذکر ہیں۔معاصرانگریزی تراجم میں Thomas Hitoshi Pruiksma کا ترجمہ بہتر مانا جاتاہے۔اردو کے جتنے بھی تراجم ہوئے ہیں ان میں کہیںتفہیم میں مغالطہ ہوا ہے تو کہیں ترسیل میں کمی واقع ہوئی ہے۔ جب اصل تصورات سے روحانی اور ثقافتی اصطلاحات کو ہدف کی زبان کے سیاق و سباق کے مطابق ڈھال لیا جاتا ہے، تو کچھ بنیادی خیالات مسخ ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر، محققین نے نشان دہی کی ہے کہ ویرمامنیور کے لاطینی ترجمے میں، ‘پیدائش کا وسیع سمندر’ جیسی اصطلاحات کو عیسائی عقائد کے مطابق تبدیل کیا گیا ہے تو اردو مترجمین نے زندگی کو بحر ذخار سے استعارہ لیا ہے۔ تروکرل کی مخصوص دو سطری ’وینبا‘ ساخت کے مختصر الفاظ میں شامل فلسفے کو طویل انگریزی جملوں میں پیش کیا جائے تو اختصار اور جمالیاتی کشش دونوں ہی کم ہوجائے ہیں۔یہی معاملہ اردو ترجمے کے لیے بھی لاحق ہوتا ہے کہ اردو کی شعری روایات تمل شعری روایت سے مختلف ہے جس سے شعریت میں کمی واقع ہونے کے امکانات نظر آتے ہیں۔ترجمہ کرنے والوں کے لیے اپنے خیالات کو ’تروکرل‘میں مخل ہونے دینا یا غلط فہمی کی بنیاد پر ترجمہ کرنا ترجمہ کے ضمن میں’ ایک بڑی خامی‘ سمجھا جاتا ہے۔ معاصر ناقدین نے مشاہدہ کیا ہے کہ G.U. پوپ کا ترجمہ نوآبادیاتی نقطہ نظر سے تشکیل دیا گیاہے۔اسی طرح اردو مترجمین میں مختار بدری نے شعری ہیئت کے پیش نظر اصل متن سے منحرف اپنے خیالات کو پیش کرنے کی سہو یقینا کی ہے جبکہ حسرت سہروردی اورعظمت اللہ سرمدی دونوں کرل کی غلط فہمی کا شکار ہیں۔ ایسے میں راقم کا ترجمہ کہاں تک اصل متن کے ساتھ انصاف کرتا ہے یہ قاری ہی بتا سکتا ہے۔
تمل کلاسیکی ادبی و اخلاقی شعری مجموعہ ’نالڈیار‘ کا اردو ترجمہ
نالڈیار (Naladiyar) تمل زبان کا ایک قدیم اور مشہور ترین کلاسیکی ادبی و اخلاقی شعری مجموعہ ہے۔ اس کا شمار سنگم دور کے بعد کے تمل ادب کی اہم ترین کتب پتنین کیلکنکو Patinenkeezhkanakku)) میںشامل تخلیقات میںہوتاہے۔ لفظ ’نالڈیار‘ تمل میں (نالو+اڈی+یار)سے بنا ہے۔ ’نالو‘ کا مطلب چار اور ’اڈی‘ کا مطلب شعری وزن یا سطرکا ہے جب کہ ’یار‘ اس کی تقدیس کے لیے اضافہ ہے۔یہ ایسا شعری مجموعہ ہے جس کی ہر نظم چار مصرعوں پر مشتمل ہوتی ہے، اس لیے اسے ‘نالڈی’ کہا جاتا ہے، چونکہ اس میں کل چار سو نظمیں موجود ہیں اس لیے اسے ‘نالڈی نانور’ بھی کہا جاتا ہے۔ہیئت کے اعتبار سے یہ نظمیں ’وینبا‘کی شکل میں ہیں مواد کے اعتبار سے یہ نظمیں زیادہ تر اخلاقیات، سماجی آداب اور روحانی تعلیمات پر مبنی ہیں۔ان نظموں کی تخلیق کے متعلق مانا جاتا ہے کہ اس کے خالق مختلف اوقات میں جین مت سے تعلق رکھنے والے متعدد تقریباً 400 تمل سنتوں نے تخلیق کیں۔
نالڈیار کا اردو میں ترجمہ حامد اللہ خاں غازی، (I.A.S) نے کیا ہے جو ترقی اردو بیورو نئی دہلی سے 1980 کو طبع ہوکر منظر عام پر آگیا تھا پھر اس کی دوسری اشاعت 2003 میں قومی کونسل برائے فروغ اردو نئی دہلی سے ہوئی۔ اس کے مترجم کی شخصیت سے متعلق تفصیلی معلومات راقم کو میسر نہیں ہوئی۔
نالڈیار میں جو مضامین نظم کیے گئے ہیں وہ سب اخلاقیات سے متعلق ہیں اورکہیں ہجر و فراق کا ذکر بھی موجود ہے۔ نالڈیار کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں دنیا کی بے ثباتی کو ادبی چاشنی کے پیرائے میںڈھالا گیا ہے۔ انسانی جسم کی ناپائداری، ترکِ علائق، گذشتہ اعمال کا اجر، صبر کی تلقین، انکساری، سخاوت، قرابت داروں کے ساتھ سلوک، استقلال اور دانشمندی اور دیگر اخلاقی موضوعات کا بیان خوبصورتی سے کیا گیا ہے۔ استعارے اور تشبیہات مقامی رنگ لیے ہوئے ہیں۔
نالڈیار کی چند نظمیںجس میں جین مذہب کا فلسفہ نمایاں ہے اردو ترجمہ ملاحظہ ہوں:
’’جہاں تک دوستی کا تعلق ہے سب سے ادنیٰ قسم کے لوگ چھالیہ کے درخت جیسے ہوتے ہیں۔ درمیانی طبقے کے لوگ ناریل کے درخت جیسے ہوتے ہیں اور ان رئیسوں سے دوستی جن سے پرانے تعلقات ہوں تاڑ کے درخت جیسی ہوتی ہے کہ جب اس نے دیا تو ہمیشہ کے لیے دیا۔‘‘
جیسا کہ پہلے کہا جاچکا ہے کہ نالڈیار تروکرل کے بعد دوسرا سب سے زیادہ قابل قدر تمل مذہبی ادب ہے۔ اس کا ہندوستانی زبانوں سنسکرت، ہندی، تیلگو اور ملیالم میں نہ صرف ترجمہ کیا گیا ہے بلکہ تروکرل کی طرح، نالڈیار کی اخلاقی تعلیمات کا موازنہ دوسری زبانوں کے ادب سے کیا گیا ہے۔پی کے کے بال سبرامنیم نے نالڈیار کا ایک مستند ہندی ترجمہ کیا ہے جسے سنٹرل انسٹی ٹیوٹ آف کلاسیکل تمل نے شا ئع کیا ہے۔ پراکرت بھارتی اکیڈمی کے زیر اہتمام ’نالڈیار‘کے ہندی اور سنسکرت دونوں میں منظوم تراجم شائع ہوئے ہیں۔Exotic India Art نے ’نالڈیار‘کا ’ چار چرن پادیا‘ کے عنوان سے ایک جامع ایڈیشن شائع کیا، جس میں اصل تمل متن، دیوناگری نقل حرفی، اور ہندی میںمنظوم ترجمہ شامل ہے۔پروفیسر جے پرکاش کا تیلگو ترجمہ سنٹرل انسٹی ٹیوٹ آف کلاسیکل تمل (CICT) نے شائع کیا ہے۔ پروفیسر پرکاش نے قدیم جین انتھولوجی کو تیلگو قارئین تک پہنچا کر تمل اور تیلگو ادبی روایات کے درمیان ایک جامع پل فراہم کیا ہے۔تو حامد اللہ خاں غازی نے تمل اخلاقی ادب کو اردو کے قالب میں ڈال کر قدیم و جدید لسانی دوریوں کو پاٹ کر ادب کو قریب کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے جس کے لیے و ہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔
تمل جدید شعری مجموعہ ’ پا ل ویدی‘کا اردو ترجمہ
جدید تمل شاعری میں’ کوی کو‘ ڈاکٹر سیدعبدالرحمن کا نام فخر سے لیا جاتا ہے۔ آپ کا پہلا شعری مجموعہ ’پا ل ویدی‘ کے نام سے 1974 میں شائع ہوا۔جن دِنوں آپ اسلامیہ کالج، وانمباڑی کے شعبۂ تمل سے وابستہ تھے، حسنِ اتفاق کہ اُسی زمانہ میں پروفیسر مظفر شہ میری بھی شعبۂ اردو میں تدریس پر مامو ر تھے۔ آپ نے جب اس شعری مجموعے کامطالعہ کیا‘ تو اس دلنشیں شاعری سے بہت متاثر ہوکر اس کا تمل سے اردو میں ترجمہ پیش کیا۔ ’پال ویدی‘ کامنظوم ترجمہ ’ کہکشاں ‘ کے نام سے1993کو منظر عام پر آیا۔ ’کہکشاں ‘ کی خوبی یہ ہے کہ اِس میں شاعر کے افکار وخیالات، اس کے تجربے اور اس کی تکنیک کوبھی ملحوظ رکھا گیا ہے۔ تمل تخلیق کو اردو شاعری کے مزاج و معیار کے مطابق ترجمے کی کوشش کی گئی ہے۔پروفیسر شہ میری نے نہ صرف لسانی نزاکتوں اور فنّی باریکیوں کو ملحوظِ خاطر رکھا بلکہ تمل اساطیر کے کرداروں اور دیومالائی کرداروں کی وضاحت ‘ حاشیہ میں درج کردی۔نیز انھوں نے اپنے منظوم ترجمہ میں کسی بحر یا رکن کی پابندی کے بجائے شاعر ہی کے طریقۂ کار کی پیروی کرتے ہوئے فطری لَے کی پابندی کی ہے۔ ماخذ زبان سے مقصود زبان تک منتقلی کے عمل میں مترجم نے اپنے حدود سے آگے بڑھنا مناسب نہیں سمجھا۔ مترجم کا کہنا کہ ہے کہ:
’’ کہکشاں کی بیشتر تخلیقات اردو شاعری کے مزاج ومعیار کے مطابق ہیں۔ تاہم ایسی نظمیں بھی ہیں‘ جن کا تامل ادب سے گہرا تعلق ہے۔ میرے لیے یہ امر دِقت طلب نہ تھا کہ میں ان کو اردو رنگ میں رنگ دیتا، مگر مجھے ایسا کرتے ہوئے تأمل تھا۔ کیونکہ یہ کام شاعر کی امانت میں خیانت ہوتا۔ مجھے علم تھاکہ ایک مترجم کے پر کہاں جل جاتے ہیں۔ چناں چہ میں نے اپنے حدود سے آگے بڑھنا مناسب نہ سمجھا۔ کچھ اس لیے بھی کہ میں ان نئی شعری تکنیکوں کو آپ تک پہنچانا چاہتا تھا‘ جو شاعر کے اظہار وابلاغ کا اہم وسیلہ ہیں۔‘‘(کہکشاں،ص24)
’پال ویدی‘ میں شامل نظموں‘ ’عریانیت پہن کر‘، ’گورِ مردمک چشم‘، ’اجتماعِ ضدین‘، ’جب تک چابی ہے‘،’ لتا منگیشکر‘،’ آرٹ،ٹائم پیس‘،’ الحاد کا مندر‘،’ دھوبی گھاٹ‘،’ قبرستان کے باسی‘،’ پسینہ کا منگل سوت‘،’ کجلگکا اتہاس‘، کا مطالعہ ہمیں تمل شاعری کی زندگی، توانائی اور تازگی کا احساس دیتا ہے۔اتنا ہی نہیں بلکہ کوی کو عبد الرحمن کے اسلوب کی ندرت، پیش کش کا انوکھا انداز، خیالات کی تازہ کاری، تلمیحات اور استعارات کا برتائو منفرد معلوم ہوتاہے۔طوالت کے خدشہ سے ہم نمونہ کے لیے دو مختصر نظموں ’سلگتا ہوا پھل ‘اور ’جوش پیکر‘ کا ترجمہ نقل کردیتے ہیں جو کچھ اس طرح ہے ملاحظہ ہوں ؎
’’سلگتا ہوا پھل ‘
شاخِ شمع کا پھل /کھانے آیا تھا وہ/حیف/ پھل نے کھا لیا/ پروانہ کو… (کہکشاں:ص 40)
’جوش پیکر‘
زنداں نے شور مچایا/’ آزادی حقِ پیدا ئش مرا‘/ اندر جو رہتا تھا عمر قیدی/ مسکرادیا …( کہکشاں:ص92)
منظوم ترجمے کی چند مثالیں ملاحظہ ہوں ؎
l. ہر روز/آئینے میں/اپنا چہرہ تلاش کرتا ہوں
2. جذبات کے مہورت میں/میں الفاظ کی/شادی رچاتا ہوں
3. زخمی پتھر ہی/حسین مجسمہ/ بنتا ہے
4. تیری مسکراہٹ کا/میری لغت نے/غلط مطلب بتا دیا
5. زخمی بانس ہی/ بانسری /بنتی ہے
6. میرے گیت میں/موجود ہے/روشنی کار از
7. بھکاری رات کی/میلی چادر پر/ستاروں کے سکے!
8. ابھی تک میں/پہنچ نہ سکا/اپنے آپ تک
9. شہرت/اک خوشگوار/حادثہ ہے
10. ہم/عریاں تھے/لباس بن گئی/محبت
11. آنسو نہ ہوتے/تو محبت/خشک ہو چکی ہوتی
’کوی کو‘ کا ایک اور شعری مجموعہ ’پتن‘ جو 1998 کو شائع ہوا تھا اس شعری مجموعے کا اردو میں پروفیسر مظفر شہ میری نے ’مجذوب‘ کے عنوان سے ترجمہ کیا ہے جو نیشنل پبلشرز، چنئی سے 2019 کو منظر عام پر آچکاہے۔
اردو شعری تخلیقات کے تمل تراجم
علامہ اقبال کی نظمیں ’شکوہ‘ اور ’جواب شکوہ‘ کا تمل زبان میں ’مُرَئی اٖیڈُمْ‘ ’بَدِلُمْ (Muraiyeedum Badilum)‘ کے عنوان سے اے ایم یوسف اور ایم اے حنیف نے منظوم ترجمہ کیا ہے جسے 1992 میں ’مَرُ مَلَرچّی پَدِپَّگَم‘ ترچنا پلی نے شائع کیا ہے۔ اقبال کے اردو اشعار کے ساتھ ساتھ ان کا تمل ترجمہ بھی پیش کیا گیا ہے۔ مترجمین نے اقبال کی فکر اور ان کے احساسات کی ترسیل کو تمل زبان میں منتقل کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ ’شکوہ‘ کے کل 31 بند اور ’جواب شکوہ‘ کے 36بند منجملہ 67 بندوںکا مکمل ترجمہ کرنے کے بعد اسی کتاب میں اقبال کی مشہور نظم’تصویر درد‘ کا ’نَاٹَّئی یَنِّپَّارْ‘ (Naattai Ennippaar) کے عنوان سے اور اقبال کے ترانے ’ترانہ ٔ ملی‘ اور ’ترانۂ ہندی‘ کا ’سَمُدَایَپْ پَاڈَلْ‘(Samudaayap Paadal) اور ’نَاٹُّپْ پَنْ‘ (Naattup Pann)کے زیر عنوان ترجمہ کیا ہے۔ ان تراجم میں مترجمین نے وہی روش اختیار کی ہے جو نظم ’شکوہ و جواب شکوہ‘ میں اختیار کی گئی ہے۔ان نظموں کے ترجمے سے قبل مترجمین نے اقبال کی فکر انگیز شاعری اور اقبال کی شخصیت کا مختصر تعارف پیش کیا ہے اور ان نظموں کی تخلیق سے متعلق اقبال کے نقطہ نظر کو واضح بھی کیا ہے۔مترجم نے اس بات کو بھی ملحوظ رکھا ہے کہ قارئین شکوہ کے بعد جواب شکوہ کو ضرور پڑھیں تاکہ اقبال کے مقصد و منشا تک رسائی ہوسکے۔ اس ترجمے کے آخر میں ’ماحصل‘ کے طور پر اس نظم کا نچوڑ بھی پیش کردیا گیا ہے۔ نریم پیٹ ایم اے سلام نے بھی اقبال کی نظموں ’شکوہ‘ اور ’جواب شکوہ‘ کا تمل زبان میں ترجمہ کیا جو تمل روزنامہ ’اسمی‘ میں شائع ہوا۔
نظم’ تصویر درد‘کا تمل زبان میں منظوم ترجمہ یوسف اور حنیف نے کیا ہے اور بڑی خوبصورتی سے اس نظم کے تاثر کو اول تا آخر برقرار بھی رکھا ہے۔ ایک شعر ملاحظہ ہو ؎
نہ سمجھو گے تو مٹ جائو گے اے ہندوستاں والو!
تمھاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
پُرِنْد دُ کولَّوِلَّئی یَاناَلْ اِنْدِیَہ پیرُ مَکَّلے نٖینْگ گَلْ اَژِنْددُ پووٖیرْ گَلْ!
وَرَلَاٹْرُچْ چُوَڈُگَ لِلْ اُنْگ گَلَئیپْ پَٹْرِیَہ وَڈِوَمْ کٗوْڈَ اِلَّامَلَاگِوِڈُمْ
اقبال کے ترانہ ملی اور ترانہ ہندی کے تمل ترجموں میں بھی وہی جوش و خروش ملتا ہے جو اقبال کے اردو ترانوں میں موجود ہے۔ ’ترانہ ملی‘ اور ’ترانہ ہندی‘ سے ایک ایک شعر ملاحظہ ہو ؎
مغرب کی وادیوں میں گونجی اذاں ہماری
تھمتا نہ تھا کسی سے سیل رواں ہمارا
میلَئی نَاڈُگَلِنْ پَلَّتْ تَاکُّگَلِلُمْ یَنْگ گَلْ بَانْگ گولِی مُژَنْگ گِیَدُ!
اَلَئی یَائیپْ پَائنْد دَ نَمْ اُنَرْچِّی یَوَرْکُّمْ اَڈَنْگ گِڈَوِلَّئی!
——
مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا
مَدَمْ اورُوَرُکّورُوَرْ کُرودَتَّئی بودِکَّ وِلَئی
نَامْ اِنْددِیَرْ گَلْ! نَمْنَاڈُ اِنْددِیَا
رباعیات امجدحیدرآبادی کا تمل ترجمہ
امجد حیدر آبادی کی 300 منتخب رباعیات کا تمل میں ترجمہ ’نیانَ وِڈِیَلْ(Gnana Vidiyal) کے نام سے1994میں نریم پیٹ ایم اے سلام نے کیا۔ یہ منتخب رباعیات کے ترجمے در اصل تمل ماہنامہ ’مسلم مُرسو‘ (Muslim Murasu)میں سلسلہ وار شائع ہوتے رہے اور تمل عوام میں اس کے تئیں پسندیدگی کا اظہار کیا گیا تو سلام صاحب نے اسے مستقل کتاب کی شکل دے دی۔
علیم صبا نویدی کی ہائیکو نظموں کا تمل ترجمہ
تمل ناڈو کے بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر، ادیب و نقاد جناب علیم صبا نویدی کی تخلیقات میں ہائیکو کی نظمیں بھی شامل ہیں۔آپ کا ہائیکو کی نظموں کا مجموعہ ’تشدید‘ کے نام سے شائع ہوچکا ہے جس کا براہ راست تمل زبان میں ترجمہ تمل ناڈو اردو اکیڈمی کے سابق وائس چیرمین مرحوم سجاد بخاری صاحب نے ’پے سُمْ وِرَلْ گَلْ‘ کے نام سے کیا ہے۔ اس کتاب کا مقدمہ تمل کے مشہور شاعر ’تمِژَنْ بَنْ‘(Tamilanban) نے لکھا ہے۔ اس کتاب میں کل 172 نظمیں شامل ہیں۔ علیم صبا نویدی نے اردو شاعری کی مختلف اصناف میںہیئتی تجربے کیے ہیں اسی طور ہائیکو میں بھی آپ نے 5-7-5والی ہیئت کو نہایت ہی خوش اسلوبی سے برتا ہے۔ تمل زبان میں ہائیکونظمیں لکھنے والوں میں کوی کو عبد الرحمن کا نام نمایاں ہے۔ تمل زبان میں ہائیکونظموں کو رواج دینے کا سہرا آپ کے سر باندھا جاتا ہے۔ سجاد بخاری نے علیم صبا نویدی کے اردو ہائیکو کا ترجمہ کرتے ہوئے تمل ہائیکو نظم نگار کوی کو عبدالرحمن، تَمِژَنْ بَنْ، اَرِوٗ مَدِی، اَمُدَ بھارتی، مُو۔میتا کی ہائیکو نظموں کا موازنہ علیم صبا نویدی کی ہائکو نظموں کے ساتھ بھی کیا ہے۔مترجم لکھتے ہیں کہ’’علیم صبا نویدی کی ہائیکو (اردو تخلیق) کا جو اثر ہے وہ تمل زبان میں منتقل ہونے کے بعد ماند پڑجاتا ہے جس سے مفہوم بھی اردو ہائیکو نظموں سے قدرے مختلف ہوجاتا ہے۔‘‘ علیم صبا نویدی کی ہائیکو نظمیں اپنے مفہوم و معنی کے لحاظ سے بھی اور گہرائی و گیرائی کے لحاظ سے بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ آپ کی ایک ہائیکو جس میں انگلیوں کی گفتگو کرنے کا انداز تمل قالب میں اس طرح پیش کیا گیا ہے ؎
پیسُم وِرَلْ گَلْ
تَالْ مٖیدو اولِی مَژَئی
تُلُّمْ نَدِگَلْ
ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ یافتہ محمد علوی کا شعری مجموعہ ’چوتھا آسماں‘ جو 1991 میں شائع ہوا اس کا تمل ترجمہ ’نَانگاوَدُ وَانَمْ‘ (Naangavadu Vaanam)کے عنوان سے مَگَرَنْد دَنْ نے کیا ہے۔مگرند دن چونکہ اردو سے واقف نہیں تھے اس لیے اس ترجمے کے لیے انھیں انگریزی کا سہارا لینا پڑا۔’چوتھا آسماں‘ سے ایک نظم ’کتبہ‘ جس کا تمل میں ’نِنَئیوٗ کَّلْ‘ (Ninaivuk Kal) کے عنوان سے ہوا ہے۔
کوی کو عبدا لرحمن کے تمل تراجم
کوی کو عبدا لرحمن تمل زبان کے جدید شعرا میں اپنی ایک علاحدہ شناخت رکھتے ہیں۔ آپ کی مادری زبان اردو ہے۔آپ نے تمل کو اپنے اظہار کا وسیلہ بنایا اور اپنی تمل شاعری کی بدولت ملک الشعرا کاخطاب حاصل کیا۔آپ نے علامہ اقبال، بہادرشاہ ظفر اور فیض احمد فیض جیسے مشہور شعرا کے منتخب کلام کا تمل میںترجمہ کیا ہے۔علاوہ ازیں‘ تمل شاعری میں صنف ِ غزل اورہائیکو کو رواج دینے کا سہرا بھی آپ ہی کے سر جاتا ہے۔ عبدالرحمن نے اردو غزل کو تمل میںمتعارف تو کرایا ہے لیکن انھوں نے اردو غزل کی ہیئت اور اس کے مزاج کو قائم نہیں رکھا اور اس کی ہیئت کو سرے سے بدل دیا ہے۔ البتہ موضوعات کے ساتھ ساتھ غزل کے تلازموں کو جوں کا توں قائم رکھ کر تمل غزل کی بنیاد رکھی۔ علاوہ ازیں، غزل کے معروف تصوارت کو نہ صرف تمل غزل میں جاری رکھا بلکہ ان تصورات کوتمل نظموں میں بھی استعمال کیا۔ عبدالرحمن نے اردو غزل کے بعض کلاسیکی استعاروں کو بالکل نئے ڈھنگ سے استعمال کیا ہے نیز کوی کو عبدالرحمن کی شعری تخلیقات سے تمل میں اردو شاعری کے کئی تصورات عام ہوئے ہیں۔
فیض احمد قادری کے تمل تراجم
فیض احمد قادری (جن کا تعلق جنوب بعید کے ضلع کوئمبتور سے ہے) نے علامہ اقبال کی منتخب نظموں کا براہ راست اردو سے تمل زبان میں منظوم ترجمہ کیا ہے۔ انھوں نے اردو شعری مزاج کو ملحوظ رکھتے ہوئے اقبال کی قومی نظموںاور ترانوں کا تمل کے ثقافتی پس منظر میں ترجمہ کیا اور 2007 میں ’اِوَرْدان اُلَگَ مہا کوی علامہ اقبال‘ کے عنوان سے شائع کیا۔ فیض قادری کو دونوں زبانوں اردو اور تمل میں مہارت حاصل ہے۔ آپ کے والد اور دادا اردو کے اچھے شاعر تھے۔ آپ کے والد نے اقبال کی نظموںکا ترجمہ تمل زبان میں کیا تھا جو وقتاً فوقتاً مختلف رسائل و جرائد میں شائع ہوتے رہے لیکن وہ اب دستیاب نہیں ہیں۔ فیض احمد قادری نے جب اردوکی منتخب غزلوںکے اشعار کا ترجمہ تمل زبان میں ’مان کَن‘ (Maan Kann) (غیر مطبوعہ)کے نام سے پیش کیا ہے اس سے تمل شعرا کے اندر اردو غزل سے بھی دلچسپی بڑھنے لگی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تمل کے شعرا نے اردو کے کلاسیکی اور جدید شعرا مثلاًمیر،مومن، غالب، بہادرشاہ ظفرر، داغ، شیفتہ، علامہ اقبال، سیماب اکبر آبادی، ناصر کاظمی، جگر، آنند نرائن ملا اور فیض کامنظوم ترجمہ پیش کیا ہے۔ مشاہیر کے چند اشعارکا ترجمہ ملاحظہ ہوں ؎
یہ عشق نہیں آساں اتنا سمجھ لیجے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
کادَلْ یَنْ بدُ سُلَبَ مَانَدُ اِلَّئی اِوَّلَوٗ مَٹُّمْ تیرِنْد دُ کولُّنْگ گَلْ
اَدُو اورُ نیرُپُّکْ کَڈَلْ اَدِلْ موژْگِتْ تان کَرَئی ایرَ وینْڈ ڈُمْ
Kaadal Enbnadu Sulabamanadu Illai Ivvalavu Mattum Terindukollungal
Adhu Ore Neruppuk Kadal adhil muuzhgith thaan karai yera vendum
———
بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
یَنْد دَ اورُ سیَلُم سُلَبَ مَاوَدُ یَنْ بَدُ کَڈِنَمَانَدُ دان
مَنِدَنُکُّم مَنِدَنَاگُم بَاکِّیَمْ کِڈَئیپَّ دِلَّئی یے
Endha Oru Seyalum Sulabamawadu Enbadu Kadinamaanadu thaan
Manidanukkum Manidanagum Baakiyam Kidaippathillaiye
اس کے علاوہ فیض قادری نے اقبال کی ایک اور مشہور نظم’بچے کی دعا ‘ کا تمل زبان میں منظوم ترجمہ ’کُژَنْد دَئیِّنْ پِرَارْتَّنَئی‘ (Kuzhandaiyin Piraarthanai) کے عنوان سے کیا ہے۔
کلام غالب کے تمل تراجم
مرزا غالب اردو کے آفاقی شاعر ہیں۔ غالب کی شاعری کچھ ایسی سچائیوں کو بھی اجاگر کرتی ہے جن کا تمل دنیا کو ابھی تک علم نہیں ہے۔غالب کی شاعری کے دنیا کی کثیر زبانوں میں تراجم ہوچکے ہیں۔ تمل ایک قدیم ترین دراوڑی زبان ہے لیکن اس میں بہت دیر بعد غالب کے اردو منتخب کلام کاترجمہ ہوا ہے۔ غالب کے فارسی کلام کا انگریزی زبان میں جناب موسی رضا نے ترجمہ کیا ہے انگریزی کی وساطت سے تمل میں لتا رام کرشنن نے ‘مرزا غالب : تویئرن اِدَژ’کَلِل وِرِی یمُ پُن نَگئی’ کے نام سے ترجمہ کیا ہے جو2018 کو کویتا پبلی کیشنز چنئی سے کتاب شائع ہوچکی ہے۔ غالب کی سوانح حیات کا تمل زبان میں سی ایس دیو نادھن نے ‘اردو غزل اَرَسر مرزا غالب’ کے عنوان سے شائع کیا ہے۔ جہاں تک اردو کلام کا سوال ہے ‘دیوان غالب ‘ کا راست ترجمہ ہے جو ’غالب کاویدئی کل‘ (Ghalib Kavithaikal) ہے جسے ڈاکٹر رفیق پاشا حسینی، سابق ڈائرکٹر، دوردشن کیندرا، تمل ناڈو نے ‘تمل میںکیا ہے۔ایک اور ترجمہ جسے پروفیسر شری نواس رنگن، سابق پروفیسر، شعبہ انگریزی، و او چدمبرنار کالج، توتوکڈی، تمل ناڈو نے ‘اردو کوینجر کوی کوئل غالبن کوی دیکل’ کے نام سے کیا ہے۔ آخر الذکر ترجمہ میں غالب کے منتخب کلام کی تشریح بھی شامل ہے۔یہ کتاب 2014 کو نیو سینچری بک ہاوز چنئی سے شائع ہوئی۔
انگریزی کے بڑے ادیبوں نے غالب کی شاعری کے تراجم اس طرح ترتیب دیے جیسے وہ انگریزی میں ہی تخلیق کیے گئے ہوں۔ آپ بیتی، ناامیدی کو آئینہ بنانا مگرامید کو غالب رکھنا، زندگی کو ہر ممکن حد تک حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کرنا، سوچنے پر آمادہ کرنا، وصل کی ہوس کوعشق کی تقدیس میں بدلنا، سوز و گداز، تخیل سے بھرپور، انفرادیت،یہ تمام غالب کی شاعری کی وہ خصوصیات ہیںجنھیں مترجم نے ان پہلوؤں کی عکاسی کرتے ہوئے غالب کے اشعار کو تمل کے قالب میں ڈھالا ہے۔ جہاں تک دیوان غالب کا تعلق ہے ڈاکٹر رفیق پاشا حسینی نے غالب کے اشعار کو تمل رسم الخط میں منتقل کردیا ہے تاکہ اہل تمل غالب کے اشعار کو وہی آب و تاب کے ساتھ پڑھیں جیسے اردو والے اسے پڑھتے ہیں۔ حسینی صاحب کے ترجمہ کی خوبی یہ ہے کہ انھوں نے اشعار کا ترجمہ تمل زبان میں تمل کی تہذیب سے قریب تر کیا ہے۔ اردو میں بحر، قافیہ وردیف کی پابندی ہے جبکہ تمل شاعری ان روایات سے مبرا ہے۔ انھوں نے اپنے ترجمہ میں اس بات کو ملحوظ رکھتے ہوئے غالب کے کلام کو تمل کا جامہ پہنانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ چند اشعار یہاں بطور نمونہ زیر بحث لائے گئے ہیں ملاحظہ ہوں ؎
نقش فریادی ہے کس کی شوخئیِ تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویرکا
تمل ترجمہ ؎
وَرَینْتَ چِتِّرَمْ …
یَارُٹَییَ پَٹَیپُّچْ چیرُکَّے ایتِرْتُّ
مُرَییِٹُکِرَتُ؟
اووّورُ اووِیَمُمْ،
کَاکِتَ آٹَییَے اَنِنْتِرُکِّرَتُ؟
اس شعر کے ترجمہ میں ’کاغذی پیرہن‘ کو تمل میں حاشیہ لکھ کر سمجھایاگیاہے کہ قدیم زمانے میں کچہری کو کاغذی لباس پہن کر جانے کا رواج تھا۔دنیا بے ثبات ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ کاغذی تخلیق کرنے والے کے خلاف مقدمہ لڑ رہے ہیں۔
کاوکاوِ سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ
صبح کرنا شام کا، لانا ہے جوئے شیر کا
تمل ترجمہ:
اُیِرْ پَرِکُّمْ کَٹُمَیپْ پَرِّ کیٹْکَاتے!
اِرَوَیپْ پَکَلَاکَّ…
مَلَییَیکْ کُٹَیتُّ آرَّیپْ پَایَوِٹَوینْٹُمْ؟
’جوئے شیرلانا‘ اس محاورے کا تمل خوب ترجمہ کیا گیا ہے۔’ تنہائی ‘میں ’رات کو کاٹنے‘ کو پہاڑ توڑ کر ندی کو راستہ بنانے کے کام انجام دینے کے مترادف قرار دیا ہے ؎
آگہی دامِ شیندن جس قدر چاہے بچھائے
مدعا عنقا ہے اپنے عالمِ تقریرکا
تمل ترجمہ ؎
اَرِوُ ایوَّلَوُتَانْ وَلَییَے وِرِتَّالُمْ
اینْ اُرَییِنْ آلَمْ
چِکَّاتَ اَنْہکَا – ‘‘ویرُمَیپَّرَوَے ”، !
’عنقا‘کو تمل میں حاشیہ لکھ کر سمجھایا گیا ہے کہ عنقا ایک خیالی پرندہ ہے جو اپنا بسیرا وہاں رکھتا ہے جو نظروں سے دور تخلیقی دنیا سے تجاوز منتہا جہاں کچھ نہ ہوتا جسے ’عدم‘ کہتے ہیں۔ شاعری میں علامت کے طور پر مستعمل ہے۔ غالب کے کلام کو سمجھنا ایسا ہے کہ جیسے دنیا سے تجاوز منتہاکو عبور کرنا جہاں’عنقا‘موجود ہے۔
جراحت تحفہ،الماس ارمغاں، داغ جگر ہدیہ
مبارکباداسد!غم خوارجان دردمند آیا
تمل ترجمہ ؎
پَرِچَایْ کَایَنْکَلْ،
چَنْمَانَمَایْ وِشَمْ،
کَانِکَّییَایْ اِتَیَتِّنْ اِرَنَنْکَلْ……
اَسدے، وَالْتُّکَّلْ
اُنْ ویتَنَیکَلُکَّانَ اَرُمَرُنْتُ وَنْتُوِٹَّتُ…!
’مبارکباداسد!‘ کا ترجمہ مترجم نے وہی تاثر کے ساتھ تمل میں ’اَسدے، وَالْتُّکَّلْ‘خوب کیا ہے۔ یہاں یہ بات بھی واضح کردی گئی ہے کہ ’اسد‘ غالب کا تخلص ہے۔ اردو شاعری میں تخلص کی روایت کوسمجھادیا گیا ہے ؎
جز قیس اور کوئی نہ آیابرو ئے کا ر
صحرا مگر بہ تنگئیِ چشمِ حسود تھا
تمل ترجمہ ؎
مَجْنُووَیتْ تَوِرَ، –
مَرّیوَرُمْ وینْرُ کَٹَکَّ مُٹِوِلَّے!
آنَالْ، پَرَنْتَ پَالَیوَنَمُمْ
اِوِّشَیَتِّلْ،
پورَامَیکَّارَنِنْ کَنَّایْ اِرُکِپْ پونَتُ…
قیس کو تمل میں ’مجنو‘ کہا جاتاہے۔ تمل میں ’لیلیٰ مجنو‘ فلم بہت کامیابی سے سنیماگھروں میں چلتی رہی۔ مترجم نے ’مجنو‘ کی وضاحت حاشیہ میں لکھ دی ہے۔صحرا کی تنگ دامنی کے شکار کو مترجم نے تمل میں’ پَرَنْتَ پَالَیوَنَمُمْ پورَامَیکَّارَنِنْ کَنَّایْ اِرُکِپْ پونَت‘ خوب ترجمہ کیا ہے ؎
آشفتگی نے نقشِ سویدا کیا درست
ظاہر ہوا کہ داغ کا سرمایہ دود تھا
تمل ترجمہ:
اِتَیَتِّنْ کَرُمْپُلِّکُّ –
اِرُتِ وَٹِوَمْ کوٹُتَّتُ مَنَکَّلَوَرَمْ۔
اونْرُپْ ویلِپَّٹَییَانَتُ! – اِنْتَپْ پُکَیچَّلْ،
اورُ تِیتَّلُمْپِنْ مُولَتَّنَمْ
مترجم نے حاشیہ میں لکھا ہے کہ ’ نقشِ سویدا‘دل میں پڑنے والا کالا دھبا ہے جو ’دل سے نکلنے والے دھواں ‘ کا سبب بنتا ہے۔ جسے شاعری میںدل کی کیفیت کو اظہار کرنے کے لیے استعال کیا جاتا ہے۔ ’داغ کا سرمایہ دود تھا‘کو ’اِنْتَپْ پُکَیچَّلْ، اورُ تِیتَّلُمْپِنْ مُولَتَّنَم بامحاورہ ترجمہ کیا ہے ؎
تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ
جب آنکھ کھل گئی، نہ زیاں تھا، نہ سود تھا
تمل ترجمہ:
کَنَوِلْ…..ینَّنْکَلُکُّ –
اُنُّٹَنْ وَرْتَّکَ وِوَکَارَمْ!
‘کَنْ وِلِتَّپوتُ….’،
لَاپَمُمْ اِلَّ…! نَٹَّمُمْ اِلَّے…!
مترجم نے’معاملہ‘ کو ٹھیک تمل ترجمہ’ْ وَرْتَّکَ وِوَکَارَمْ‘ بمعنی تجارتی معاملات کے کیا ہے۔ ’سود ‘و’زیاں ‘ کو ’لَاپَمُمْ اِلَّے۔۔! نَٹَّمُمْ اِلَّے…!خوب ترجمہ کیا ہے جس سے بات واضح ہوجاتی ہے ؎
عشق سے طبیعت نیزیست کا مزاپایا
درد کی دوا پائی درد بے دوا پایا
تمل ترجمہ:
کَاتَلَالْ اینْ اِیَلْپُ نِلَے
وَالْکَّییِنْ چُوَے کِٹَیکَّپْ پیرَّتُ
اَتُ وَلِکَّانَ نِوَارَنَمْ…!
نِوَارَنَمْ اِلَّاتَ وَلِ!
’کننہ داسن‘ تمل کے مشہوعر شاعر گزرے ہیںجنھوں نے زندگی کے ہر جذباتی لمحے کے لیے تمل زبان میں گیت لکھے ان سے متعلق کہاجاتا ہے کہ’کننہ داسن‘ اگر تمل ناڈو کے بجائے یورپ یا امریکہ میں پیدا ہوا ہوتا تو شاید وہ ادب میں نوبل انعام یافتہ بن جاتا اور بین الاقوامی سطح پراپنی پہچان بناتا‘۔ کننہ داسن کی مشہور زمانہ گیت ہے تمل میں تییْوَمْ تَنْتَ وِیٹُ وِیتِیِرُکُّ(خدا کا دیا ہوا گھر سڑک ہے) کچھ حد تک غالب کے شعر سے قریب نظر آتا ہے ؎
حیف اس چار گرہ کپڑے کی قسمت غالب
جس کی قسمت میں ہو عاشق کا گریباں ہونا
پورندرداسر نے کہا ’’ایلّورُمْ اُلَیپَّتُ ایتَرْکَاکَ ؟ ‘‘ سب کس کے لیے کام کرتے ہیں؟ اورُ چَانْ وَیِرُّکَّاکَ، اورُ چَانْ تُنِکَّاکَ” ایک بالشت پیٹ کے لیے کھانا، ایک بالشت کپڑے کے لیے۔ اوویئار نے کہا ‘اُنْپَتُ نَالِ اُٹُپَّتُ نَانْکُمُلَمْ’ بھوک مٹانے کے لیے ایک مٹھی کھانا جسم چھپانے کے لیے چارگرہ کپڑا’۔ سنگم دور کی شاعری ہے کہ” اُنْپَتُ نَالِ اُٹُپَّوَے اِرَنْٹے” پیٹ کے لیے دو دانے جسم کے لیے دو کپڑے “۔
اس شعر کی وضاحت میں مترجم کا کہنا ہے کہ’’ غالب اس کپڑے کی قدر میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔ تمل کی کہا وت ہے ‘کپڑا آدھا آدمی ہے’۔ ‘آٹَے پَاتِی آلْپَاتِی’۔ یعنی شخصیت سازی میں نصف آدمی تو نصف لباس ہے۔ غالب نے محبوب کی دھڑکن کو محبوبہ کے لباس پر مقوف کیا ہے۔ عاشق کی دھڑکنوں کا سبب محبوب کا زیب تن ہے، اور اگر وہ چمک دمک، انداز اور دلکش رنگوں میں آرائش و زیبائش نہیں تو عاشق کیا لطف اٹھائے؟ ایک ہاتھ کپڑا ہی تو محبوب کی عصمت و ذلت پر قادر ہے۔‘تمل میں یوں ترجمہ کیا ہے ؎
کَاتَلِیِنْ اُٹَلِلُلَّ
کَینِیلَتْ تُنِ اِتُتَانْ،
کَاتَلَنِنْ کَورَوَتَّیکْ
کَچِّتَمَایْ اَٹَکِّٹُتے
مترجم کا کہنا ہے کہ ’غالب کے متذکرہ بالا شعرکی نزاکت کا لطف اٹھائیں کہ عشق کے اظہار میںاس کے انداز بیان کی تعریف کریں۔شعر پڑھنے کے بعد، اس کی شعریت سے لطف اندوز ہوں یا شاعر کے کمال کی داد دیں ہمارے بس کی بات نہیں ہے۔ ‘
خون کے آنسو
’رَتّہ کنّیر‘1954 کی ایک تمل فلم ہے جس کی ہدایت کاری کرشنن پنجو نے کی تھی، در اصل یہ تمل ڈرامہ ہے جسے تھنگراج نے لکھا تھا۔ تھنگراج کے اسی نام کے ڈرامے پر مبنی، فلم میں ایم آر رادھا، سری رنجانی اور ایس ایس راجندرن، چندرابابو، ایم این راجم اور ایس آر جانکی کے ساتھ معاون کردار ادا کیاہے۔ یہ فلم تمل سنیما میںبہت پسند کی گئی۔اس فلم کے ٹائٹل اورغالب کے شعر سے متاثر مترجم غالب کے شعر کی توضیح میں یوں گویا ہیں :
’’انسانی زندگی میں خون کی بڑی اہمیت ہے، محنت کی کمائی میں خون پسینہ ایک کرنا،خون شہیداں رنگ لائے گا، دوستی میں تیرے لیے خون بہنا بھی گوارا ہے، خون سے خط لکھ کر اپنا اعتماد جتاتے ہیں، جب لڑکا بہادری کا کام کرتا ہے تو لوگ اسکے باپ سے سرد لہجے میں کہتے ہیں کہ یہ تمہارا خون ہے نا؟ بدلہ لینے کا بھی یہی حال ہے۔ اس جسم میں تیرا خون ہی تو دوڑتا ہے ’ میری جان بھی چلی جائے تو میں اس شخص کو بے ضرر نہیں چھوڑوں گا جس نے تمھیں نقصان پہنچایا ہے‘۔ یہاں ایک سیاسی پارٹی ’ہم شیربھائیو‘ سے مخاطب ہے تو دورسی پارسٹی ’میرے خونی رشتہ بھائیو‘ جیسے خطاب سے جذبہ ابھارتے ہیں تو خون کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔ رگوں میںتو خون ہی دوڑتا ہے مگر غالب ایک الگ زاویہ اختیار کرتے ہیں۔ تاہم، خون نالیوں میں ہی بہتا ہے۔ حقیقی خون تو آنکھ میں ہے۔ یعنی جب آنسو آتے ہیں تو جذبات کی حقیقی شکل بن جاتی ہے۔ غالب کے نزدیک نالیوں میں بہنے والے خون کی کوئی اہمیت نہیں بلکہ جذبات میںنکلنے والے آنسوؤں کو زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ شاید اس کی وجہ ان کی زندگی کے وہ دن جورنج و غم سے اشک بار تھے جسے ہم ‘خون کے آنسو’ کہہ سکتے ہیں۔‘‘(غالبن کوی دیکل)
’رَتّہ کنیر‘ کا مطلب بھی خون کے آنسوہے۔ اس نام کے ساتھ تمل میں آنے والی فلم ”اِرَتَّکَّنِّیرْ”کا موضوع بھی جذبات کا اظہار ہے۔ غالب گویا ہیں ؎
رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے
میں رگوں میں بہتے خون کو خون نہیں سمجھتا۔ خون کا حقیقی کردار تو یہ کہ وہ جذبہ و احساس کی نمائندگی کرے اور آنسو بن کر مقدس آنکھ سے ٹپکے ور نہ تووہ لہوکیا ہے؟یہ شعرنہ صرف اردو والوں کے لیے بلکہ اب اہل تمل کے لیے بھی بہت جذباتی طور پر دل کو چھو لینے والا ہے۔ اس شعر کا تصور یہ ہے کہ آنسو خوشی ہوں یا غم کے دونوں جذبات کی حدوں کو چھوتے ہیں۔اسی کیفیت کو کم و بیش ترو ولور نے یوں کہا ہے ؛ “اَنْبرکُّمْ اُنْٹو اَٹَیکُّمْتَالْ آرْوَلَرْ پُنْکَنِیرْ پُوسَلْ تَرُمْ”(دل میں محبت کو بند نہیں کیا جا سکتا، وہ اذیت میں پیارے کے آنسوؤں سے نکلتا ہے۔)غالب کے شعر کا تمل ترجمہ یوں ہے کہ ؎
اِرَتَّ نَالَتِّلْ اوٹُکِنْرَتُ
اُنْمَے اِرَتَّمَا؟- اِلَّے! اِلَّے!
اُنَرْچِّ مِکُتِیِلْ وَلِیُمْ کَنِّیرے
اُنْمَے اِرَتَّمْ!
غالب کے اشعار کے تمل تراجم اور تشریح سے ہمیں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اہل تمل نے غالب کے اشعار جوآلام و مصائب،مشقتوں، مصیبتوں، مایوسیوں اور اداسیوں پر مرکوز ہیں،دور حاضر کے تناظر میں اس بات کا کھوج لگاتے ہیں کہ اس دور میں غربت کی زندگی گزارنے والے عام آدمی کے لیے کیا کیا احساسات رہ گئے ہیں، اوراس ضمن میں غالب کے اشعار ایک انمٹ نقوش نظر آتے ہیں۔تمل مترجمین اور شارح کے دل میں ایسی صورتحال پیدا ہو رہی ہے کہ آج کی دنیا میں اصول پسند لوگ کا رہنا مشکل معلوم ہوتا ہے۔ ایمانداری اور سچائی سے زندگی گزارنا بے سود ہوتا جا رہا ہے۔ ایک قسم کی منافقت معاشرے میں اور سیاسی میدان میں بھی پھیلی ہوئی ہے۔ غالب کے اشعار شارح کو خود تمل میں ایک گیت لکھنے پر مجبور کرتے ہیں وہ غالب کی زمین میں شاعری تخلیق کرنے پر آمادہ نظر تا ہے۔
فکشن کے تراجم
بر سبیل تذکرہ بعض فکشن کے تراجم کا جائزہ سرسری طور پر لیا جارہا ہے اس لیے کہ ڈاکٹر حیافت افتخار کا باقاعدہ ایک مضمون فکشن کے تراجم اوردیگرتخلیقات کے نثری تراجم پر مشتمل ہے اسی رسالہ میں شامل ہے۔اتمام حجت کے لیے یہاں پر اجمالاً بحث شامل ہے۔ ساہتیہ اکیڈمی نے اردو کی تخلیقات کو تمل کا جامہ پہنانے کی جو کوشش کی ہے اس کے نتیجہ میں راجندر سنگھ بیدی کا ناول ’ایک چادر میلی سی‘، انتظار حسین اور آصف فرخی کا مرتب کردہ افسانوی مجموعہ ’پاکستانی کہانیاں‘، قرۃ العین حیدر کے افسانوی مجموعہ ’پت جھڑ کی آواز‘ اور گلزار کا افسانوی مجموعہ ’راوی ندی‘ کا تمل زبان میں ترجمہ ہوا ہے۔ ناول ’ایک چادر میلی سی‘ کا ترجمہ تمل زبان میں ’پولیوٗ اِژَنْدَ پورْوَئی‘ (Polivu Izandha Porvai)کے نام سے ٹی۔ راجن نے کیا ہے جسے ساہتیہ اکیڈمی نے 1986 میں شائع کیا۔ ’پاکستانی کہانیاں‘کا ترجمہ تمل میں ’پاکستان سِرُو کَدَئیگَلْ‘ (Pakistan Sirukathaikal)کے عنوان سے ما۔رامَ لِنْگَمْ نے کیااور 2010 میں یہ مجموعہ ائی ایس بی این نمبر کے ساتھ شائع ہوا۔ قرۃ العین حیدر کے افسانوی مجموعہ ’پت جھڑ کی آواز‘ کا ’اُدِرُمْ اِلَئی گَلِنْ اوہ سَئی‘(Uthirum Ilaigalin Osai)کے نام سے تمل ناڈو کی مشہور قلمکار اور سابق ڈی جی پی محترمہ تِلَگَوَتی ائی پی ایس نے ترجمہ کیا ہے اور گلزار کا افسانوی مجموعہ ’راوی ندی‘ کا ’راوی نَدِئِلْ‘ کے عنوان سے شیو شنکری نے تمل کے قالب میں ڈھالا ہے۔ خورشید عالم خاں کی تصنیف ’ڈاکٹر ذاکر حسین‘ کا ترجمہ ’ڈاکٹر ذاکر حسین-اردو کَلْوِیَالَرْ‘ Dr. Zakir Husain – Urdu Kalviyaalar))کے عنوان سے سدھارتن نے ترجمہ کیا ہے۔ یہ تمام تراجم کی اشاعت کا کام ساہتیہ اکیڈمی کے زیر اہتمام ہوا ہے۔
پریم چند کا نمایاں افسانہ ’کفن‘ کا بزبان تمل ’ سَوَتْ تُنی‘ (Sava Thuni)کے نام سے فیض قادری نے ترجمہ کیا ہے۔ یہ افسانہ ’اردو اِلَکِّیَمْ اورْ اَرِمُگَم‘ (Uruthu Ilakkiyam Ore Arimukam)کتاب میں شامل ہے جو 2007 میں منطر عام پر آئی۔ مترجم نے پریم چند کے افسانے کو اسی انداز اور اثر کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ پریم چند کا مختصر تعارف پیش کرنے کے بعد اس افسانے کا بامحاورہ تمل زبان میں ترجمہ کیا گیا ہے جس سے تمل قاری کو پریم چند کی افسانہ نگاری اوران کے فن کو سمجھنے میںمدد ملتی ہے۔
اردو فکشن کے مشہور نام کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی اور عصمت چغتائی کے منتخب افسانوں کا ترجمہ را۔وٖیژِی نادن نے ’اردو کَدَئی گَلْI-‘ ((Uruthu Kathaikalکے نام سے کیا ہے جو نیشنل بک ٹرسٹ، انڈیا، نئی دہلی سے پہلی مرتبہ 1978 میں شائع ہوا جس کی دوسری اشاعت 1987 میںعمل میں آئی۔اس کتاب سے یہ اندازہ ہوا کہ پروفیسر اختر اورینوی نے ’اردو افسانے حصہ اول‘ کے نام سے تین مشہور افسانہ نگاروں کا انتخاب پیش کیا تھا جسے را۔وٖیژِی نادن نینیشنل بک ٹرسٹ، انڈیا کے زیر اہتمام اسے تمل کے قالب میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے۔ اس میں کہیں بھی اردوافسانے کے انتخاب کا نام نہیں لکھا گیا ہے۔ بہر کیف جن افسانوں کا ترجمہ ہوا ہے زبان و بیان کے لحاظ سے اور پیش کش کے لحاظ سے بھی قابل اعتنا ہے۔ کرشن چندر کے افسانے ’پورے چاند کی رات‘ کا ’مُژُو نِلَوُٗ‘، اور دیگر افسانے ’کُپَّئچْ چامیار‘، ’غالیجہ‘ کا ’جَمُکَّالَم‘، ’نَارْ چندک کِنَرُ‘،’ نو اُمْ یس اُمْ‘ کے نام سے ترجمہ کیا ہے۔ راجندر سنگھ بیدی کے افسانے ’لمبی لڑکی ‘ کا ’اِنَئی‘، ’اپنے دکھ مجھے دے دو‘ کا ’تَنْگ گَلْ تُیَرَئی یَنَکْ کُتَّارُنْگ گَلْ‘،’افسانہ ’لاجونتی‘ کا ’ توٹَّار چُرُنْگ گِی‘، ’ببل‘ کا ’بپَّل‘ اور ٹرمینس سے پرے‘ کا ’یَلَئیکُّو اَپَّالْ‘ کے عناوین سے ترجمہ کیا ہے۔عصمت چغتائی کے افسانے کا ’اورُ چِنَّ وِشَیَمْ‘،’ چوتھی کا جوڑا‘ کا ’مَنَچ چیلَئی‘، ’امر بیل ‘ کا ’اَمَرَوَلِّی‘،’دو ہاتھ‘ کا ’اِرَنْڈ ڈُ کَئی گَلْ‘ اور افسانہ ’بچھو پھوپی‘ کا ’بچو اَتَئی ‘ کے نام سے ترجمہ ہوا ہے۔ یہاں مترجم نے ان افسانوں کا براہ راست اردو سے تمل میں ترجمہ کرنے کے بجائے انگریزی کے توسط سے تمل زبان میںمنتقل کرنے کی کوشش کی ہے جس کے سبب لفظ’بچھو‘ کا انھوں نے ’بچو‘ کے معنی میں ترجمہ کیا ہے جوبچی پھوپی کے معنی رکھتا ہے۔ یہ غلطی در اصل مترجم کی اردو سے ناواقفیت کے سبب ہوئی ہے جس کا انھیں احساس ہے۔
ڈاکٹر حیات افتخار نے تمل ادب کی تاریخ کا براہِ راست ترجمہ تمل زبان سے اردو میں کیا جسے ساہتیہ اکیڈمی، نئی دہلی نے 1991 میں شائع کیا۔ مو۔ورداراجن کی اصل تمل تصنیف ’تمل الکیہ ورلارو‘ (Tamil Ilakkiya Varalaru)کاشمار تاریخ تمل ادب پر لکھی گئی بہترین تصنیفات میں ہوتاہے اور تمل زبان وادب کی تاریخ کے سلسلے میں یہ بنیادی حوالے اور ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے اور اسے استناد کا درجہ حاصل ہے۔ اس کتاب کا ترجمہ اردو دانوں کو تمل زبان وادب کے متعلق جانکاری حاصل کرنے کے لیے بنیادی ماخذ کا کام دیتاہے،تاریخ تمل ادب کا اردوترجمہ جہاں اردو دانوں کو تمل ادب سے روشناس کرانے کے لیے کیاگیاتھا اسی طرح تمل والوں کو اردو ادب خاص طور پر اردو افسانوی ادب کے شہ پاروں سے متعارف کرانے کے لیے آپ نے اردو کے بعض عمدہ اور شاہکار افسانوں کو تمل زبان میں منتقل کیا۔ اس سلسلے کی پہلی کڑی، سعادت حسن منٹو کے افسانہ ’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘ کا تمل ترجمہ تھا جو تمل ماہنامہ ’منجری‘ مئی 1984 میں’سونددَناڈو‘ (Sontha Naadu)کے نام سے شائع ہوا۔ اس کی دوبارہ اشاعت منٹو کی صدسالہ سالگرہ کے موقع پردسمبر 2012 میں جب شعبہ عربی فارسی و اردو مدراس یونیورسٹی نے منٹو صدی تقریبات کے سلسلے میں ایک شاندار بین الاقوامی سیمینار منعقد کیا تھا جس میںمنٹو کو خراج عقیدت کے طور پر آپ نے ’سعادت حسن منٹو اُم اردو سِرُ کَدَئی یُم‘ (Saadat Hasan Mantoum Uruthu Sirukathiyum) کے عنوان سے ایک کتابچہ شائع کیا تھا جس میں منٹو کی افسانہ نگاری سے متعلق بسیط مضمون ’منٹو اور اَرِمُگَم‘ لکھ کر منٹو کا تعارف پیش کرتے ہوئے ان کے مشہورافسانہ ’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘ کا براہ راست اردوسے تمل میں ترجمہ پیش کیا ہے۔اس کے علاوہ اردو کے جدید افسانہ نگار شوکت حیات کا افسانہ ’’آگ ‘‘کا ترجمہ’ تیی‘ کے نام سے کیا جو تمل ماہنامہ’ انّم وِڈوتودُو‘ (دسمبر84ء) میں شائع ہوا۔ ہندی کے مشہور افسانہ نگار پرکاش کانت کے افسانے کا اردو ترجمہ ماہنامہ ’شاعر‘ میں ’پاپا ہم ہندوستان لیں گے‘ شائع ہوا تو اس کا تمل ترجمہ آپ نے ’وِلَئیَّاٹُّو بومَّئی‘ کے نام سے کیا اور وہ بھی تمل ماہنامہ ’’منجری‘‘ میں شائع ہوا۔حال ہی میں آپ کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ’تقابلی ادبی مطالعہ‘ کے نام سے شائع ہوا جو دراصل تمل اور اردو زبان کے ادیبوں پر لکھے گئے مضامین پر مشتمل ہے جس میں پانچ مضامین تمل شعراء اور ادباء پر شامل ہیں۔مثلاً تروکرل : تمل ادب کا اخلاقی شاہکار، سبرامنیہ بھارتی: تمل زبان کا عظیم شاعر، بھارتی داسن:تمل زبان کا انقلابی شاعر، جے کانتن: ایک ہمہ جہت تخلیقی فنکار اور علامہ اقبال اور سبرامینم بھارتی ایک تقابلی مطالعہ شامل ہیں۔بہر حال ڈاکٹر حیات افتخار نے تمل اور اردو ادب کے تراجم اور دونوں زبان کے تقابلی ادبی مطالعے کے ذریعہ ان زبانوں کے درمیان لسانی وادبی ارتباط واشتراک کا جو حسین پُل تعمیر کیاہے وہ ان دونوں زبانوں کے رشتوں کو مضبوط اور مستحکم بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔ڈاکٹر حیات افتخار نے ’قائد ملت :حیات اور خدمات ‘ کے زیر عنوان ایک سمینار منعقد کیا تھا اور اس سمینار میں پڑھے گئے ان مقالوں کا براہ راست اردو سے تمل میں ترجمہ کرنے کا بیڑا اٹھایا اور مرحوم سجاد بخاری کے تعاون سے ان مقالات کے تراجم کو ترتیب دے کر ’قائد ملت:واژْ کَئیُم سیوَئی گَلُمْ‘ کے عنوان سے 2010 میں شائع کیا۔
تمل ناڈو کے مشہور افسانہ نگار، شاعر و ادیب، محقق و استاد مرحوم یعقوب اسلم عمری کے افسانوی مجموعہ ’چہروں کی دیوار‘ جس میں کل 15افسانے شامل ہیں کا ایم اے سلام نے ’مُندْ دَانَئی مَلَرْ گَلْ‘( Munthaanai Malarkal)کے نام سے 2010 میں ترجمہ کر کے شائع کیا ہے۔ یعقوب اسلم عمری تمل ناڈو کے افسانوی ادب کے حوالے سے ایک نمایاں نام ہے۔ آپ کے دیگر افسانوی مجموعے ’دو ندیوں کے پار‘ اور ’امر کہانیاں‘ منظر عام پر آکر قارئین ادب سے داد و تحسین بھی حاصل کرچکے ہیں۔ یہ افسانوی مجموعہ ’چہروں کی دیوار‘ کے تمل ترجمہ کا محرک محترمہ کَنی موژِی، ممبر پارلیمنٹ ہیں۔ محترمہ خودبھی تمل کی شاعرہ ہیں آپ نے ایک کتاب کی رسم اجرا میں اس بات کا اظہار کیا تھا کہ انھیں اردو زبان سے لگائو ہے، وہ اردو کے ادبی سرمایہ سے والہانہ دلچسپی رکھتی ہیں اور ان کی مجبوری ہے کہ وہ اردو زبان پڑھنا نہیں جانتیں اس لیے اگر اردو کی تخلیقات کا تمل زبان میں ترجمہ ہوجائے تو اس ادبی سرمایہ سے خاطر خواہ استفادہ ہوسکتا ہے۔ اس تشنگی کو محسوس کرتے ہوئے یعقوب اسلم صاحب نے جناب ایم اے سلام صاحب جو اردو اور تمل دونوں زبانوں کے لیے ایک پل کی حیثیت رکھتے ہیں سے رجوع کیا اوراس طرح ایک افسانوی مجموعہ ’مُند دَانَئی مَلَرْ گَلْ‘ کے عنوان سے منظر عام پر آگیا۔ یہ کوشش قابل تحسین اورخوش آئند ہے۔
مختاربدری تمل ناڈوکے ممتازشاعر،معروف ادیب وبہترین مترجم کی حیثیت سے اپنی پہچان رکھتے ہیں۔مختاربدری کی ادبی کاوشوں کی بساط کافی وسیع ہے۔ تقریباََ سات دہائیوں سے وہ لکھ رہے ہیں۔انھیں ملال ہے کہ درمیانی پچیس برس خوابوں کے تعاقب میں گذر گئے۔جب منزل آسان ہوئی توان کے اندرکافن کار لوٹ آیا۔ان کے نزدیک ایک فن کار کے لیے سیرابی نہیں بلکہ تشنگی ضروری ہے۔مختاربدری نے جس زمانے میں ترجمہ نگاری کی طرف توجہ دی، ترقی پسند تحریک زوروں پر تھی۔ انھوں نے اردوکہانیوں کو تمل میں ترجمہ کرنا شروع کیا۔ ہفتہ وار’کلئی منرم‘، ماہنامہ ’کلئی ارنگم‘، ہفت روزہ’ کلکی‘،ماہنامہ ’امودہ سُرَبی‘ وغیرہ میں یہ کہانیاں متواترشائع ہونے لگیں۔ کرشن چندر، خواجہ احمد عباس، عصمت چغتائی، رام لعل، کرتارسنگھ دُگل،انورجلال، عادل رشید، عائشہ حکیم، سہیل عظیم آبادی، پرکاش پنڈت، ذکی انور، اخترعادل روپ، یوسف منان جیسے نامور ادیبوں کے افسانوں کو اردو زبان سے تمل کا روپ دیا۔خواجہ احمد عباس کی کہانیوں کے دومجموعوں ’مصور‘اور’لوٹ آئوبابو‘ کو مختاربدری نے ’اووِیَنْ‘(Oviyan)اور ’’تِرُمبی وارُنگل بابُو‘‘(Thirumbi vaarungal Baabu)کے نام سے سری’ مگل کمپنی‘ سے شائع کیے۔ چند ہی برسوں میں خواجہ احمد عباس کے ناول اور افسانوں کے مجموعے تمل زبان میں منظر عام پر آنے لگے۔دوایک سال تو ایسے بھی گذرے کہ اردوکامسودہ صاف بھی نہیں ہوپاتاتھا کہ اس کا تمل ترجمہ کتابی شکل میں عباس صاحب کے ہاتھوں میں ہوتا۔مختاربدری نے خواجہ احمد عباس کے ناولوں اور کہانیوں کے مجموعوں کو تمل زبان میں شائع کیا۔ مختار بدری نے خود ایک اچھے ناول نگار ہونے کا ثبوت بھی دیا انھوں نے تمل زبان میں اپنی تخلیق ’نَاگَ سَانْتِی‘ شائع کی اور پھر نیشنل بک ٹرسٹ، نئی دہلی کے لیے جیلانی بانو کے ناول’’ایوانِ غزل‘‘ کاتمل زبان میں ’کَوِدَالَیَم‘ (Kavithaalayam) کے نام سے ترجمہ کیا۔مختاربدری نے کل اڑتالیس(48) سے زیادہ کتابیں ترجمہ کیں، آپ نے تمل زبان سے بھی کئی شاہکار افسانوں کااردومیں ترجمہ کیا۔ اردو سے تمل میں جو تراجم ہوئے ان میں سے چندکے نام ملاحظہ ہوں۔او وِیَنْ(مصور)، تِرُمْبِی وَارُنْگ گَلْ بابو (لوٹ آئو بابو)، سِرُمِیُمْ سَمُتِّرَمُمْ، اِرُلُمْ اولِی یُمْ اِرَوِنْ کَرَنْگ گَلْ، اَرُنودَیَمْ، مَنِدَنْ وَاژْگِرَانْ، نَمْبِکَّئی نَٹْچَتْ تِرَمْ)اس میں بیس اردوافسانہ نگاروں کی کہانیاں ہیں)، آرُ اِنْد دِیَرْ گَلْ، نکسلَائٹُّکَلْ، کَنَّاڈِچْ چُوَرْگَلْ، مُوْنْرُ چَکَّرَنْگ گَلْ، اِرُ تُلِی نٖیرْ، نَانْگُو نَنْبرَگَلْ، لیلہ مجنو، عباسِنْ کَدَئی گَلْ،گودُمَئیُّمْ روسا اُمْ، کَادَلْ سیئی گرِایا کادَلْ وغیرہ۔
تمل زبان میں عادل رشید کی کہانیوں کامجموعہ ’کَدَئی سولَّٹْ ٹُما؟اور ناول ’روپ‘دیانندورماکے نفسیاتی مضامین کا ایک مجموعہ’آپ اور آپ کے مسائل‘کا ’نٖینْگ گَلُمْ اُنْگ گَلْ پِرَچِّنَئی گَلُمْ‘ منظرِعام پر آئے۔ مہندرناتھ کاناول’رات اندھیری ہے‘بھی شائع ہوا۔ ترجمہ نگاری کی دشواریوں کا مختاربدری کو بخوبی احساس ہے۔ انھوں نے تمل سے اردواور اردوسے تمل لغات ترتیب دے کر ایک بڑا کارنامہ انجام دیاہے۔جس سے اردو اور تمل دونوں زبانوں میں تبادلہ ادب کے لیے راہیں ہموار ہوئیں۔ غرض فکشن کا ایک متعدبہ حصہ تمل زبان سے اردو میں اور اردو سے تمل زبان میں منتقل ہوچکا ہے۔ اور یہ بڑی خوش آئند بات ہے۔ مختار بدری نے تمل کہانیوں کو اردو میں پیش کیا ہے، اور اردو کی بہت سی نگارشات کو تمل کا قالب عطا کیا ہے۔
تمل اور اردو ترجمہ کی بنیادی باتیں
تمل زبان میں حروفِ تہجی کی تعداد اور صوتی نظام اردو سے کافی مختلف ہے۔ معیاری تمل میں سنسکرت الفاظ کا استعمال بھی ہوتا ہے، جبکہ اردو عربی، فارسی اور ہندی کے امتزاج سے بنی ہے زبان و بیان کے اس بنیادی فرق کو جاننا اشد ضروری ہے۔کامیاب ترجمہ کے لیے لفظی ترجمے کے بجائے مفہوم اور ثقافتی پہلوؤں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے، تاکہ اصل متن کی روح برقرار رہے۔
تمل منظوم ترجمے کے اہم اصول اور چیلنجز
تمل خصوصیت
اردو میں ترجمہ کا مسئلہ
امکانات
تروکرل کی دو مصرعی ہئیت جو اصل میں دو مکمل مصرعے نہیں بلکہ پہلے مصرعے میں 4 الفاظ ہوتے ہیں جب کہ دوسرے مصرعے میں صرف 3 الفاظ ہوتے ہیں۔ اسی ہیئت پر 1330 ابیات شامل ہیں۔
اردو میں شعر 2 مصرعوں پر مشتمل ہوتا ہے مگر بحر لازم ہے۔
قطعہ یا رباعی کی ہیئت میں ڈھالنے سے مفہوم کی عدم ترسیل میں اصل متن سے حذف و اضافے کا باعث بن جاتا ہے۔ یہاں پر شعر کی ہیئت کو قائم رکھتے ہوئے ممکنہ مفہوم ادا کرنا چاہیے۔
تمل شعری تخلیقات میں قافیہ ردیف کا ہونا لازمی نہیں
اردو میں قافیہ ردیف ضروری ہے
معنوی قافیہ کا التزام ممکن ہے یا آزاد نظم کے طور ترجمہ ہوسکتا ہے۔
مقامی استعارے’کاویری‘، ’مدورائی میناکشی‘
مقامی استعاروں سے اردو قاری کو واقفیت نہیں ہوتی اسے سمجھنادشوار ہے
تفہیم کے لیے حاشیہ میں واضح کردینا چاہیے یا اس کا متبادل استعارہ: ’گنگا‘، ’مندر‘ مزار جیسی مناسبات سے کام لینا چاہیے۔
پورنمی، م روگن، کَنّگی کا واقعہ جیسے سنگم ادب کی تلمیحات کا اردو میں براہ راست ترجمہ نہیں کیا جا سکتا۔

ترجمے سے پہلے ایک دو سطروں میں اس کا مختصر تعارف کردینا افہام و تفہیم میں معاون ہوگا۔
وہ الفاظ جو تمل ثقافت کامظہر ہیں مثلاً،تالی، پونگل، کولم، تینائی وغیرہ۔
کا اردو میں براہ راست ترجمہ نہیں کیا جا سکتا۔
ثقافتی اصطلاحات کے آگے یا حاشیہ میں ضروری وضاحتیں فراہم کردینا چاہیے۔
‘تینائی’ کے حوالہ جات اور سنگم ادب میں پائے جانے والے مناظر کی خصوصیات
کو اردو زبان کے تناظر میں ڈھالنا ایک اہم چیلنج ہے۔
اصل نظم کا لفظ بہ لفظ ترجمہ کرنے کی بجائے اسے اردو زبان کی جمالیات اور شاعرانہ باریکیوں کے مطابق ڈھالنا چاہیے۔
مآخذ و مراجع
2- مدراس میں اردو ادب کی نشو و نما، افضل الدین اقبال، ناشر: معین پبلیکیشنز، حیدرآباد، 1979
3- تمل ناڈو میں اردو(1924 تا 1986)،علیم صبا نویدی، طابع و ناشر:ٹمل ناڈو اردو پبلی کیشنز، مدراس۔2،1997
5- ’نالڈیار‘ مترجم حمید اللہ خاں، ترقی اردو بیورو، نئی دہلی 1980
6- ’ نالڈیار‘، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی، 2003
7- تمل شعری مجموعہ ’ پا ل ویدی‘ کوی کو عبد الرحمن، یونیورسل پبلشنگ، چنئی، 1974
8- ’کہکشاں‘ مترجم: پروفیسر مظفر شہ میری، ناشر:نیشنل پبلشرز، چنئی، 2019
11- تاریخِ ادبِ اردوٹمل ناڈو، علیم صبا نویدی، مرتبہ : ڈاکٹر جاویدہ حبیب، ناشر: میل وشارم مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی، تیسرا ایڈیشن دسمبر 2016
12- تقابلی ادبی مطالعہ، (اردو اور تمل زبان و ادب پر مضامین کا مجموعہ ) ڈاکٹر حیات افتخار، مطبع: جے۔ایم۔پراسس، چنئی، 2010
13- اردو، تمل، انگلش ڈکشنری، ملکہ خورشید، مطبع:نعمانی پریس، لکھنو 2016
15- جنوب کا شعر و ادب، علیم صبا نویدی کے تحقیقی و تنقیدی مضامین کا انتخاب، مرتبہ: ڈاکٹر محمد علی اثر، طابع و ناشر:ٹمل ناڈو اردو پبلی کیشنز، مدراس۔2، 1993 م 1413ھ
17- اردو ٹمل لغت، مختار بدری، ناشر: مُلائی پدیپکم، چنئی، 2005
20- A Brief History of Urdu Language and Literature in Tamil Nadu by Aleem Saba Naveedi, Dr. Jaweeda Habeeb, Tamilnadu Urdu Publications, Chennai, 2002
21- شمالی آرکاٹ میں اردو، ڈاکٹر جاویدہ حبیب، مطبع: :ٹمل ناڈو اردو پبلی کیشنز، مدراس۔2،دوسرا ایڈیشن 2007
24- بزم نووانم باڑی کا ادبی سفر نامہ، محمد یعقوب اسلم، ناشر: دی مسلم سوسائٹی،محمد علی بازار، وانم باڑی، مطبع: تاج پرنٹرس، وانم باڑی، فروری 2008
26 -History of Hazrath Makan Vellore, Aleem Saba Naveedi, compiled by Dr. Jaweeda Habeeb, Tamilnadu Urdu Publications, Chennai, November 2012
27- حضرت قطب ویلور کے علمی و ادبی کارنامے، ڈاکٹر بشیر الحق قریشی، مطبع: :ٹمل ناڈو اردو پبلی کیشنز، مدراس۔2008
28- مکمل تامل ترجمہ دیوانِ غالب‘ (Ghalib Kavithaigal) مترجم : ڈاکٹر سید رفیق پاشاہ حسینی، غالب انسٹی ٹیوٹ، دہلی،۔2024
29- اردو شاعری کا تنقیدی مطالعہ،1999سنبل نگار، ایجوکیشنل بک ہائوس، علی گڑھ۔
30- The Smile on Sorrow’s Lips: Selected Verses from Ghalib’s Persian Poems With Urdu and English Poetic Translations, Translated by Moosa Raza, Published by Createspace Independent Pub (24 June 2015)
31- ‘مرزا غالب : تویئرن ادژکلل وری یمُ پُن نگئی’ لتا رام کرشنن،2018ء ناشر کویتا پبلی کیشنز چنئی۔
32- ‘اردو غزل ارسر مرزا غالب’ سی ایس دیو نادھن۔2017، یونی ورسل پبلی کیشنز، چنئی۔
33- ‘اردو کوینجر کوی کوئل غالبن کوی دیکل’، شری نواس رنگن، مطبوعہ2014، ناشر: نیو سینچوری بک ہائوزلمیٹڈ، چنئی۔
35- تمل زبان میں اردو تخلیقات کے تراجم، ڈاکٹر امان اللہ ایم بی، ’اردو دنیا‘ ستمبر 2017۔
38- تاریخ ِادبِ اردوتمل ناڈو (حصہ دوم)،علیم صبا نویدی، طابع و ناشر:ٹمل ناڈو اردو پبلی کیشنز، چنئی۔2، فروری2018


Dr. Amanulla M.B
Chairman of Urdu,
Dept. of Arabic, Persian and Urdu
University of Madras, Chennai – 600005.
Mob:9841817272
Email:dramanullashah2@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

سنت شاعرہ: بہینا بائی – مضمون نگار – بانو سرتاج

  مہاراشٹر کی سنت شاعرات میں مہادسییا، مکتا بائی، بیابائی وغیرہ کے ساتھ بہینا بائی چودھری ایک اہم نام ہے۔ وہ سنت تکارام کی شاگر د تھیں۔ ان کی پیدائش

راجندرسنگھ بیدی کی تخلیقات میں پنجابیت کی جھلک – مضمون نگار: ڈاکٹر رشید جہاں انور

            اردو ادب کے مراکز ہمیشہ سے ہی لکھنؤ اور دہلی گردانے جاتے رہے ہیں مگر اس زبانِ شیریں کی ترقی میں جتنا اہم رول خطۂ

رسائل اور خواتین کی خدمات مضمون نگار:۔ مہرین قادر حسین

رسائل اور خواتین کی خدمات مہرین قادر حسین اردو میں صحافت کی عمر کوئی دو سو برس کے عرصے پر محیط ہے۔مگر جہاں تک خاتون صحافی یا خاتون کی صحافت